Ayahs 82:1–31۔ ابن المنذر نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ اذا السماء انفطرت جب آسمان پھٹ جائے یعنی پھٹ جائے گا۔
Ayah 82:42۔ ابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم والبیہقی نے البعث میں عکرمہ کے طریق سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت واذا لبحار فجر اور جب سمندر ابل پڑیں یعنی بعض سمندر بعض میں بہہ جائیں گے آیت واذا القبور بعثرت اور جب قبریں اکھاڑ دی جائیں یعنی الٹ بلٹ کردی جائیں گی۔
3۔ عبد بن حمید نے ربیع بن خیثم (رح) سے آیت واذا البحار فجرت کے بارے میں روایت کیا کہ بعض سمندر بعض میں بہہ جائیں گے اور ان کا پانی ختم ہوجائے گا۔
4۔ ابن المنذر نے ابن جریج (رح) سے آیت واذا القبور بعثرت کے بارے میں روایت کیا وہ مردے جو قبروں میں ہیں ان کو نکالا جائے گا۔
Ayah 82:55۔ ابن المبارک فی الزہد وعبد بن حمید وابن ابی حاتم نے ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ آیت علمت نفس ما قدمت واخرت۔ تب ہر شخص جان لے گا کہ کیا اس نے آگے بھیجا اور کیا پیچھے چھوڑ آیا یعنی جو اس خیر اور نیکی کے اعمال آگے بھیجے تھے اور جو اچھا طریقہ اس نے پیچھے چھوڑا کہ اس کے بعد اس پر عمل کیا جاتا ہے و اس کے لیے اس پر عمل کرنے والے کے برابر اجر ہوگا اور ان کے اور ان کے اجروں میں کوئی کمی نہیں کی جائے گی یا کوئی برا طریقہ پیچھے چھوڑ آیا کہ جس پر اس کے بعد عمل کیا جاتا ہے تو عمل کرنے والے کے برابر اس کے لیے گناہ ہوگا۔ اور ان کے گناہوں میں ذرا بھی کمی نہیں کی جائے گی۔
6۔ عبد بن حمید نے ابن عباس ؓ سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا کہ ہر شخص جان لے گا جو خیر یا شر اس نے آگے بھیجا اور جو طریقہ اس نے پیچھے چھوڑآیا کہ اس کے بعد اس پر عمل کیا جائے گا۔
اچھا راستہ ایجاد کرنے کی فضیلت
7۔ الحاکم وصححہ نے حذیفہ ؓ سے روایت کیا کہ نبی مکرم ﷺ نے فرمایا جس شخص نے کوئی اچھا طریقہ نکالا اور اس پر عمل کیا جاتا ہے تو اس کے لیے اس کا اجر ہوگا۔ اور جنہوں نے اس پر عمل کیا ان کے برابر بھی اس کو اجر ملے گا اور ان کے اجور میں کوئی کمی نہ ہوگی اور جس شخص نے کوئی براطریقہ نکالا اور اس پر عمل کیا جاتا ہے تو اس پر اس کا گناہ ہوگا اور جنہوں نے اس پر عمل کیا ان کے برابر بھی اس کو گناہ ملے گا ان کے گناہوں میں کوئی کمی نہ ہوگی۔ اور حذیفہ ؓ نے یہ آیت تلاوت کی۔ آیت علمت نفس ما قدمت واخرت۔
8۔ سعید بن منصور وعبد بن حمید وابن المنذر نے عکرمہ (رح) سے آیت علمت نفس ما قدمت واخرت کے بارے میں روایت کیا کہ ہر شخص ان امور کو دیکھ لے گا۔ جن کا اسے حکم دیا گیا اور اس نے اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے ادا کیے اور وہ بھی جو اس ضائع کردئیے۔
9۔ عبد بن حمید نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت ما قدمت یعنی جو اس نے آگے بھیجا خیر میں سے اور آیت واخرت اور جو پیچھے چھوڑا اللہ تعالیٰ کے حقوق میں سے اور ان کے مطابق عمل نہیں کیا۔
10۔ عبد بن حمید نے سعید بن جبیر (رح) سے روایت کیا کہ آیت ما قدمت یعنی جو اس نے آگے بھیجا خیر میں سے آیت واخرت جو پیچھے چھوڑا یعنی وہ امور جن کے بارے میں اس کے دل میں کچھ پیدا ہوا اور ان کے مطابق عمل نہ کیا۔
11۔ عبد بن حمید نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت ماقدمت من خیر واخرت سے مراد ہے کہ جو نیکی اس نے آگے بھیجی اور جن کاموں کے بارے میں اسے عمل کرنے کا حکم دیا گیا لیکن اس نے وہ چھوڑدئیے ہر شخص ان سب کو دیکھ لے گا۔
12۔ عبد بن حمید نے عطا (رح) سے روایت کیا کہ آیت ما قدمت سے مراد ہے جو اس نے اپنے سامنے کیے آیت واخرت سے مراد ہے کہ جو طریقہ اس نے پیچھے چھوڑا اور جس کے مطابق اس کے بعد عمل کیا جائیگا۔
Ayahs 82:6–713۔ سعید بن منصور وابن ابی حاتم وابن المنذر نے عمر بن خطاب ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے یہ آیت پڑھی آیت یا ایہا الانسان ما غرک بربک الکریم اے انسان تجھے اپنے رب کریم کے بارے میں کس چیز نے مغرور کردیا اور فرمایا اللہ کی قسم غرہ کا معنہ ہے کس نے اسے جاہل رکھا۔
14۔ ابن المنذر نے عکرمہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت یا ایہا الانسان ماغرک سے ابی بن خلف مراد ہے۔
15۔ عبد بن حمید نے صالح بن مسمار (رح) سے روایت کیا کہ مجھ کو یہ بات پہنچی ہے کہ نبی ﷺ نے یہ آیت یا ایہا الانسان ماغرک بربک الکریم تلاوت فرمائی پھر فرمایا کہ کس چیز نے انسان کو جاہل بنا رکھا ہے۔
16۔ ابن ابی شیبہ نے ربیع بن خیثم (رح) سے روایت کیا کہ آیت ما غرک سے جہل مراد ہے یعنی کس نے تجھے جاہل بنا رکھا ہے۔
17۔ ابن المنذر والحاکم وصححہ نے سعید بن المسیب کے طریق سے ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ نبی مکرم ﷺ یوں پڑھتے تھے آیت فسوک فعدلک یعنی تشدید کے ساتھ۔
Ayah 82:8صورت گری کی کیفیت
18۔ البخاری فی تاریخہ وابن جریر وابن المنذر وابن شاہین وابن قانع الطبرانی وابن مردویہ نے موسیٰ بن علی بن رباح (رح) کے طریق سے روایت کیا اور وہ اپنے باپ دادا سے روایت کرتے ہیں کہ نبی ﷺ نے ان سے فرمایا تیری اولاد نہیں ؟ عرض کیا یارسول اللہ ! قریب ہے کہ میرے ہاں اولاد پیدا ہوجائے وہ لڑکا یا لڑکی فرمایا وہ کس کے مشابہ ہوگا۔ عرض کیا یارسول اللہ ! قریب ہے کہ وہ اپنے باپ یا اپنی ماں کے مشابہ ہوگا۔ نبی ﷺ نے فرمایا اس کی موت کے وقت تو اس بات کو نہیں کہے گا۔ کیونکہ نطفہ جب رحم میں قرار پذیر ہوتا ہے تو اللہ تعالیٰ تعالیٰ اس کے ہر نسب کو اس کے اور آدم (علیہ السلام) کے درمیان حاضر کردیتے ہیں پھر ان صورتوں میں سے کسی صورت میں اس کو تخلیق کو مرتب فرماتے ہیں کیا تو نے اس آیت کو اللہ کی کتاب میں نہیں پڑھا ہے یعنی آیت فی ای صورۃ ما شاء رکبک جس صورت میں چاہاتیرے اعضاء کو جو ڑدیا یعنی تیری اس نسل میں سے جو تیرے اور آدم ﷺ کے درمیان ہے۔
19۔ الحکیم الترمذی والطبرانی وابن مردویہ بسند جید اور بیہقی نے الاسماء والصفات میں مالک بن حویرث ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جب اللہ تعالیٰ نے ارادہ فرمایا کس ذی روح کے پیدا کرنے کا تو مرد عورت سے جماع کرتا ہے تو مرد کا پانی عورت کی ہر رگ اور پٹھے میں جا پہنچتا ہے جب ساتواں دن ہوتا ہے تو اللہ تعالیٰ ہر رگ کو اس کے اور آد ﷺ کے درمیان حاضر کردیتے ہیں پھر یہ آیت پڑھی آیت فی ای صورۃ ماشاء رکبک۔
20۔ الحکیم الترمذی نے عبداللہ بن بریدہ ؓ سے روایت کیا کہ انصار میں سے ایک آدمی کی بیوی نے ایک کالا لڑکا جنا۔ اس نے اپنی بیوی کے ہاتھ کو پکڑا اور اس کو رسول اللہ ﷺ کے پاس لے آیا اس عورت نے کہا اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے تحقیق آپ نے میری شادی جبکہ میں کنواری تھی۔ اور میں نے اس کے بیٹھنے کی جگہ پر کسی کو نہیں بٹھایا۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تو نے سچ کہا۔ بیشک تیرے لیے ننانوے رگیں ہیں۔ اور اس بچے کے لیے بھی اسی طرح ہیں۔ جب بچہ ہوتا ہے تو ساری رگیں حرکت کرتی ہیں ان میں سے کوئی رگ نہیں ہوتی مگر وہ اللہ تعالیٰ سے سوال کرتی ہے کہ وہ اسے اس کے مشابہ بنادے۔
21۔ عبد بن حمید وابن المنذر نے مجاہد (رح) سے آیت فی ای صورۃ ما شاء رکبک کے بارے میں روایت کیا کہ جس صورت میں چاہا۔ بدصورت یا خوبصورت یا باپ کے مشابہ یا ماں کے یا ماموں کے مشابہ یا چچا کے اس نے تجھے ترکیب دے دیا۔
22۔ عبد بن حمید وابن المنذر والرمہرمزی نے الامثال میں ابو صالح (رح) آیت فی ای صورۃ ماشاء رکبک کے بارے میں روایت کیا کہ اگر اللہ تعالیٰ چاہے گدھا بنا دے اگر چاہے سور بنادے اگر چاہے گھوڑا بنادے اور اگر چاہے انسان بنادے۔
23۔ عبد بن حمید نے عکرمہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت فی ای صورۃ ماشاء رکبک سے مراد ہے اگر چاہے بندر بنادے اور اگر چاہے سور کی شکل بنادے۔ واللہ تعالیٰ اعلم۔
Ayah 82:924۔ عبد بن حمید نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت کلا بل تکذبون بالدین ہرگز نہیں بلکہ تم جزا کو نہیں مانتے یعنی حساب کو نہیں مانتے آیت وان علیکم لحفظین کراما کاتبین حالانکہ تم پر نگران فرشتے مقرر ہیں جو معزز ہیں حرف بحرف لکھنے والے ہیں۔
Ayah 82:10دو نگران فرشتوں کا ذکر
25۔ ابن جریر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ اللہ تعالیٰ نے ابن آد م پر نگران فرشتے مقرر کیے ہیں رات کے وقت بھی اور دن کے وقت بھی وہ اس کے عمل کیھی نگرانی کرتے ہیں اور اس کا اثر یعنی انجام بھی لکھتے ہیں۔
26۔ البزار نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا بیشک اللہ تعالیٰ نے تم کو ننگا ہونے سے منع فرمایا اللہ کے فرشتوں سے حیا کرو جو تمہارے ساتھ ہیں اور معزز ہیں اور سب کچھ لکھنے والے جو تم سے جدا نہیں ہوتے مگر تین حاجات کے وقت پیشاب پاخانے کے وقت۔
Ayahs 82:11–16جنابت کے وقت اور غسل کے وقت۔
27۔ ابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ دوپہر کے وقت باہر تشریف لائے ایک آدمی کو کھلی زمین میں ننگا غسل کرتے ہوئے دیکھا۔ آپ نے اللہ کی حمد اور اس کی ثنا بیان کرنے کے بعد فرمایا اما بعد اللہ سے ڈروا اور ان کراماکاتبین فرشتوں کی عزت و تکریم کرو جو تمہاے ساتھ ہیں تم سے جدا نہیں ہوتے مگر دو حالتوں میں سے ایک حالت میں ایک وہ حالت جب آدمی بیت الخلاء میں ہوتا ہے اور دوسری وہ حالت جب بندہ اپنی بیوی کے پاس ہوتا ہے یعنی ہم بستری میں ہوتا ہے اور وہ معزز ہیں جیسے اللہ تعالیٰ نے ان کا نام رکھا۔ پس تم میں سے ہر کوئی دیوار یا اپنے اونٹ کے وجود کے ساتھ بھی ایسی صورت میں پردہ کرسکتا ہے۔ کیونکہ وہ اس کی طرف نہیں دیکھا رہے ہوتے۔
28۔ البزار نے انس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا دونوں نگرانی کرنے والے فرشتے جب وہ لے کر اللہ تعالیٰ کے ہاں پیش ہوتے جو کچھ انہوں نے دن کے وقت میں لکھا ہوتا ہے اور اللہ تعالیٰ اس کے اعمال نامے کی شروع میں اور اس کے آخر میں استغفار کو دیکھتے ہیں تو اللہ تعالیٰ ارشد فرماتے ہیں کہ میں نے اپنے بندے کی مغفرت کردی جو اس اعمال نامے کے دونوں طرفوں یعنی اول وآخر کے درمیان ہے۔
Ayahs 82:17–1929۔ عبد بن حمید وابن المنذر نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت وما ادرک ما یوم الدین اور تجھے کیا معلوم انصاف کا دن کیا ہے یہ قیامت کے دن کی تعظیم کے لیے ہے کہ اس دن لوگ اپنے اعمال کے مطابق بدلہ دئیے جائیں گے۔ آیت والامر یومئذ للہ۔ اور اس دن اللہ ہی کا حکم ہوگا۔ یعنی اس دن سوائے رب العالمین کے کوئی بھی نہ کسی چیز کا فیصلہ کرسکے گا اور نہ کچھ بنا سکے۔