Ayah 81:1(81:1) اذا الشمس کورت : اذا شرطیہ (جب) الشمس فعل محذوف کا فاعل۔ کورت اسی فعل محذوف کی تفسیر ہے۔ کورت۔ ماضی مجہول صیغہ واحد مؤنث غائب۔ تکویر (تفعیل) مصدر سے بمعنی تہ کرکے لپیٹنا۔ سر پر عمامہ باندھنے کے لئے تکویر العمامۃ کے لفظ بولے جاتے ہیں۔ (اکار العمامۃ علی رأسہ اس نے پگڑی کو اپنے سر کے گرد لپیٹا) ۔ کیونکہ عمامہ پھیلا ہوا ہوتا ہے اور پھر سر کے گرد اس کو لپیٹا جاتا ہے اسی نسبت سے اس روشنی کو جو سورج سے نکل کر سارے نظام شمسی میں پھیلتی ہے عمامہ سے تشبیہ دی ہے اور بتایا گیا ہے کہ قیامت کے روز یہ پھیلا ہوا عمامہ سورج پر لپیٹ دیا جائے گا۔ یعنی اس کی روشنی کا پھیلنا بند ہوجائے گا۔
آیت یکور الیل علی النھار ویکور النھار علی الیل (39:5) وہی رات کو دن پر لپیٹتا ہے اور دن کو رات پر لپیٹنا ہے میں مطالع شمسی کے تبدیل ہونے سے دن رات کے بڑھنے اور گھٹنے کو تکویر سے تعبیر کیا گیا ہے۔
حضرت ابن عباس ؓ نے کورت بمعنی اظلمت (تاریک ہوجائے گا) فرمایا ہے۔ اذا شرطیہ جہاں جہاں آیا ہے اس کا جواب آیت نمبر 14 (علمت نفس ما اخضرت) میں دیا گیا ہے۔
Ayah 81:2(81:2) واذا النجوم انکدرت۔ اس کا عطف آیت سابقہ پر ہے۔ انکدرت ماضی کا صیغہ واحد مؤنث غائب انکدار (انفعال) مصدر سے انکدار اس تغیر کو کہتے ہیں جو کسی چیز کے بکھر کر بےنور ہوجائیں گے۔
الکدر (مادہ ک د ر) کے معنی کسی چیز میں گدلاپن کے ہیں ۔ اور یہ صفاء کی ضد ہے۔ الکدرۃ کے معنی بھی گدلا پن کے ہیں۔ مگر اس کا استعمال خصوصیت کے ساتھ رنگ میں ہوتا ہے اور کدورۃ کا پانی اور زندگی میں۔
Ayah 81:3(81:3) واذا الجبال سیرت اس کا عطف بھی آیت نمبر 1 پر ہے ترکیب بھی وہی ہے۔ سیرت ماضی مجہول کا صیغہ واحد مؤنث غائب۔ تسییر (تفعیل) مصدر ۔ وہ چلائی جائے گی وہ (پہاڑ) چلائے جائیں گے۔ سیر بمعنی چلنا، سیر کرنا۔
الجبال جمع الجبل واحد۔ پہاڑ۔
Ayah 81:4(81:4) واذا العشار عطلت : اس کا عطف بھی آیت نمبر 1 پر ہے۔ اور ترکیب بھی وہی ہے۔ العشار دس ماہ کی گابھن اونٹنیاں۔ ایسی اونٹنی اہل عرب کے نزدیک ایک نفیس ترین سمجھی جاتی ہے اس کا واحد عشراء ہے۔
علامہ فیومی کے نزدیک اس طرح کے واحد اور جمع کی نظیر صرف نفساء اور نفاس ہی ہے اور ان دونوں کے علاوہ تیسری نظیر موجود نہیں ہے۔ عطلت ماضی مجہول صیغہ واحد مؤنث غائب تعطیل (تفعیل) مصدر، جس کا مطلب ہے یوں ہی چھوڑ دینا۔ دیکھ بھال نہ کرنا۔ نفع نہ اٹھانا۔ بےکار چھوڑ دینا۔
ترجمہ ہوگا :۔ اور جب دس ماہ کی گابھن اونٹنیاں یوں ہی آوارہ پھریں گی۔
Ayahs 81:5–6(81:5) واذا الوحوش حشرت۔ عطف حسب بالا۔
الوحوش وحش کی جمع، صحرائی جانور، جنگلی جانور، حشرت ماضی مجہول واحد مؤنث غائب حشر (باب نصر) مصدر سے، جب جنگلی جانور یک جا کر دئیے جائیں گے۔
Ayah 81:7(81:7) واذا النفوس زوجت : عطف علی آیۃ نمبر 1 ۔
النفوس جمع ہے النفس کی اشخاص ، لوگ۔ زوجت ماضی مجہول واحد مؤنث غائب ، تزویج (تفعیل) مصدر سے۔ اس کا جوڑا ملا دیا جائے گا۔ تزویج کے معنی ہیں ایک شے کا دوسری شے کی جفت و قریں کردینا۔ اسی اعتبار سے مرد اور عورت کے عقد کرنے کے معنی بھی آتے ہیں ۔
بیہقی (رح) نے حضرت نعمان بن بشیر ؓ کے حوالہ سے حضرت عمر بن خطاب ؓ کا قول نقل کیا ہے کہ :۔ آیت اذا النفوس زوجت میں وہ شخص مراد ہیں جو ایک ہی کام کیا کرتے تھے جس کی وجہ سے دونوں جنت یا دوزخ میں چلے جائیں گے۔ امام راغب (رح) نے تین قول نقل کئے ہیں :۔
(1) ہر گروہ کو اس کے گردہ کے ساتھ جنت یا دوزخ میں ملا دیا جائے گا۔
(2) ارواح کو اجساد کے ساتھ ملا دیا جائے گا۔
(3) نفوس کو اپنے اعمال کے ساتھ ملا دیا جائے گا۔
Ayah 81:8(81:8) واذا الموء ودۃ سئلت عطف حسب بالا۔ الموء ودۃ۔ واد (باب ضرب) مصدر سے اسم مفعول کا صیغہ واحد مؤنث۔ زندہ دفن کی ہوئی۔ اسلام سے پہلے زمانہ جاہلیت میں عرب کے بعض قبائل مفلسی اور عار کی وجہ سے لٹکیوں کو پیدا ہوتے ہیں زندہ دفن کردیا کرتے تھے کسی کو داماد بنانا باعث عار جانتے تھے لڑکی کمائی تو کر نہیں سکتی تھی اس لئے اس کو کھلانا دشوار تھا۔
حضرت ابن عباس ؓ سے بروایت عکرمہ مروی ہے کہ گڑھا کھود کر حاملہ عورت اس کے کنارہ پر بیٹھ جاتی تھی اگر لڑکا ہوا تو خیر۔ اگر لڑکی ہوتی تو فورا گڑھے میں پھینک کر اوپر سے مٹی پاٹ دی جاتی تھی۔
ترجمہ :۔ اور جب زندہ گاڑی ہوئی لڑکی سے پوچھا جائے گا۔
صاحب تفسیر مظہری لکھتے ہیں :۔ آیت میں مدفونہ سے سوال کرنے کی غرض یہ ہے کہ دفن کرنے والے کی تذلیل کی جائے جیسے آیت یعیسی ابن مریم انت قلت للناس اتخذونی وامی الھین من دون اللہ (5:116) میں نصاری کی تذلیل مقصود ہے۔
یا یوں کہا جائے کہ موء دۃ کی طرف سوال کی نسبت مجازی ہے یعنی آیت میں مراد اس سے سوال کرتا نہیں بلکہ اس کے متعلق سوال کرنا ہے۔ جیسا کہ آیت ان العھد کان مسئولا (17:34) کہ عہد کے بارے میں ضرور پرستش ہوگی۔ میں عہد سے سوال کیا جانا مقصود نہیں بلکہ صاحب عہد سے عہد کے متعلق باز پرس کی جانی مقصود ہے۔
یا موء دۃ بمعنی دائدۃ ہے۔ یعنی دفن کرنے والی سے باز پرس کی جائے گی۔ اسم مفعول کو بمعنی اسم فاعل بولا جاتا ہے جیسے آیت انہ کان وعدہ ماتیا (19:61) ہے بیشک اس کا وعدہ نیکو کاروں کے سامنے آنے والا ہے۔
یا الموء دۃ سے مراد الموء دۃ لہا (مدفونہ کی ماں اور دائی جن کی سازش سے بچی کو دفن کیا جاتا تھا) ہیں۔ جیسا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا الوائدۃ والموء دۃ لہا فی النار۔ یعنی وائدہ (دفن کرنے والی دائی) اور موء دۃ لہا جس کی طرف سے دائی جاکر بچی کو دفن کرتی تھی (یعنی ماں) دونوں دوزخی ہیں۔
اس حدیث کو ابو داؤد نے اچھی سند کے ساتھ حضرت ابن مسعود ؓ کی روایت سے نقل کیا ہے اور سوائے مذکورہ بالا تاویل کے کوئی صورت مفہوم حدیث کی صحت کی نہیں ہے۔
Ayah 81:9(81:9) بای ذنب قتلت : کسی گناہ کے مارے قتل کی گئی تھی۔
Ayah 81:10(81:10) واذا الصحف نشرت اس کا عطف بھی اذا الشمس کورت پر ہے الصحف صحیفۃ کی جمع ہے۔ نیز ملاحظہ ہو 80:13 ۔ نشرت ماضی مجہول واحد مؤنث غائب نشر (باب ضرب مصدر سے) کھولے جائیں گے۔ یعنی جب اعمال نامے حساب کے لئے کھولے جائیں گے۔ یا جن کے اعمالنامے ہوں گے ان کو تقسیم کئے جائیں گے۔
Ayah 81:11(81:11) واذا السماء کشطت : کشطت ماضی مجہول واحد مؤنث غائب کشط (باب نصر) مصدر۔ بمعنی برہنہ کردینا۔ جگہ سے ہٹا دینا۔ گھوڑے کے اوپر سے جھول ہٹا دینا۔ اونٹ وغیرہ کی کھال اتار دینا۔ کسی چیز کو ہٹا کر لپیٹ دینا۔
یہاں بمعنی آسمانوں کو اپنی جگہ سے ہٹا کر لپیٹ دیا جائے گا۔
Ayah 81:12(81:12) واذا الجحیم سعرت : الجحیم : دوزخ ، دہکتی ہوئی آگ۔ جحم کے معنی آگ کے سخت بھرکنے کے ہیں۔ جحیم اسی سے مشتق ہے بروزن فعیل بمعنی فاعل ہے۔ امام ابن جریح سے مروی ہے کہ جن ہم کے سات طبقے ہیں :۔
(1) جہنم۔ (2) نطیٰ ۔ (3) حطمہ۔ (4) سعیر۔
(5) سقر۔ (6) جحیم۔ (7) ہاویہ۔
سعرت ماضی مجہول کا صیغہ واحد مؤنث غائب تسعیر (تفعیل) مصدر سے وہ دھکائی گئی۔ وہ بھڑکائی گئی۔ جب دوزخ کو خوب بھڑکا یا جائے گا۔
Ayah 81:13(81:13) واذا الجنۃ ازلفت : ازلفت ماضی مجہول کا صیغہ واحد مؤنث غائب ازلاف (افعال) مصدر سے جس کے معنی قریب لانے کے ہیں۔ جب جنت قریب لائی جائے گی۔
اور جگہ قرآن مجید میں ہے وازلفت الجنۃ للمتقین غیر بعید (50:31) اور بہشت پرہیزگاروں کے قریب کردی جائے گی کہ (مطلق) دور نہ ہوگی۔
مزدلفۃ بھی اسی سے ہے :۔ لیلۃ المزدلفۃ (مزدلفہ کی رات) کو اس نام سے اس لئے پکارتے ہیں کہ حجاج عرفات سے لوٹنے کے بعد اس رات منیٰ کے قریب پہنچ جاتے ہیں اور حدیث میں ہے ازدلفوا الی اللہ برکعتین کہ دو رکعت نماز سے اللہ کا قرب حاصل کرو۔
Ayah 81:14(81:14) علمت نفس ما احضرت۔ آیت 1 سے لے کر 13 تک جہاں جہاں اذا شرطیہ آیا ہے یہ آیت سب کے لیے جواب ہے۔
اس وقت ہر شخص اپنی کی ہوئی اچھائی یا برائی کو جان لے گا۔ احضرت ماضی معروف واحد مؤنث غائب احضار (افعال) مصدر سے۔ اس نے حاضر کیا۔ وہ ساتھ لایا۔
Ayah 81:15(81:15) فلا اقسم بالخنس اس میں الفاء تفریح کے لئے ہے۔ (تفریع المسائل من الاصل) ۔ اصل سے استباط کرکے فروعی مسائل نکالنا۔
یہاں اس (فاء تفریح) کا مطلب یہ ہے کہ :۔ جب ہم نے احوال قیامت کے متعلق آیات نازل کردیں تو (آئندہ کی خبریں دینے سے ہی) سمجھ لو کہ یہ اللہ کا کلام ہے اس پر کوئی دروغ بیانی نہیں کی گئی ۔ میں قسم کھاتا ہوں۔ لا اقسم کی مندرجہ ذیل صورتیں ہیں :۔
(1) لا زائدہ ہے۔ مطلب ہے اقسم میں قسم کھاتا ہوں۔
(2) بعض کے نزدیک لا زائدہ ہے بلکہ نافیہ ہے تب اس کے معنی یہ ہوں گے کہ میں ان ستاروں کی قسم نہیں کھاتا ہوں کیونکہ غور کرنے والے کے نزدیک خود بخود قرآن کی صداقت ظاہر ہے۔
(3) لا اقسم : میں لا کا الف زائدہ ہے اصل میں لاقسم ہے اس صورت میں لام تاکید کا ہوگا۔
بالخنس : المقسم بہ۔ (جس کی قسم کھائی گئی ہو) ۔ خنس (باب ضرب و نصر) مصدر سے اسم فاعل کا صیغہ جمع مذکر ہے۔ جس کے معنی ہیں چھپ جانے والے۔ پیچھے ہٹ جانے والے۔ پھرجانے والے ۔ رک کانے والے۔ خانس کی جمع۔
(1) بعض کے نزدیک اس سے مراد سیارے ہیں۔ کیونکہ وہ دن میں چھپ جاتے ہیں ۔
(2) بعض کے نزدیک چاند اور سورج کے علاوہ پانچوں سیارے کہ جن کو خمسہ متحیرہ کہتے ہیں ، مراد ہے : یہ پانچ سیارے۔ مریخ، زحل، عطارد، زیرہ، مشتری۔ ان کو خمسہ متحیرہ (حیران کردینے والے۔ سیارے) اس لئے کہتے ہیں کہ ان کی چال کچھ اس ڈھب کی ہے کہ کبھی یہ مشرق سے مغرب کی طرف چلتے ہیں اور کبھی یہ ٹھٹھک کر الٹے پھرتے ہیں۔ اور کبھی یہ سورج کے قریب آکر غائب رہتے ہیں۔
(3) اور بعض کے نزدیک نیل گائے مراد ہے کیونکہ اس میں بھی پیچھے ہٹ جانے ، پھرجانے رکنے اور چھپنے کی صفت موجود ہے۔
یہ تینوں تفسیریں سلف صحابہ اور تابعین سے مروی ہیں۔ خناس بھی اسی سے ہے یہ خانس سے مبالغہ کا صیغہ ہے اور شیطان کا لقب بھی ہے۔
Ayah 81:16(81:16) الجوار الکنس یہ دونوں الخنس کی صفت ہیں الجوار جمع ہے جاریۃ کی یعنی جاری ہونے والی۔ یعنی سیدھا چلنے والی۔
الکنس : کانس کی جمع ہے۔ کناس (باب ضرب) مصدر سے اسم فاعل کا جمع مذکر کا صیغہ ہے۔ کناس ہرن کے رہنے کی جھاڑی کو بھی کہتے ہیں اور اس میں ہرن کے چھپنے کو بھی۔ یہاں چھپنے والے سیارے مراد ہیں۔
بعض کے نزدیک عام ستارے مراد ہیں جو رات کو نکلتے ہیں اور دن کو نمودار نہیں ہوتے ۔ ترجمہ ہر دو آیات کا یہ ہوگا :۔ پس میں قسم کھاتا ہوں خنس کی جو الجوار اور الکنس ہیں۔
Ayah 81:17(81:17) والیل اذا عسعس : واؤ قسمیہ الیل المقسم بہ۔ اذا ظرف زمان۔
عسعس ماضی واحد مذکر غائب ۔ عسعسۃ بروزن فعللۃ مصدر سے۔ یہ کلمہ اضداد میں سے ہے اور اس کے معنی اقبل اور ادبر دونوں کے ہیں یعنی رات کا اندھیرا چھا جانے کے بھی اور چھٹ جانے کے بھی۔ اور یہ کیفیت رات کی ابتداء میں بھی ہوتی ہے اور انتہا میں بھی ۔ ترجمہ ہوگا :۔ اور قسم ہے رات کی جب وہ ڈھلنے لگے یا چھا جائے۔
Ayah 81:18(81:18) والصبح اذا تنفس واؤ قسمیہ ہے الصبح المقسم بہ۔ اذا ظرف زمان ۔ تنفس ماضی واحد مذکر غائب تنفس (تفعل) مصدر سے جس کا معنی سانس کی آمد و شد۔ مطلب ہے کہ اس نے سانس لیا۔ اس نے دم کھینچا۔ صبح کے تنفس کا مطلب ہے پوپھٹنا۔ قسم ہے صبح کی جب وہ سانس لے۔
Ayah 81:19(81:19) انہ لقول رسول کریم : یہ جملہ ہر سہ قسم اول و دوم و سوم کا جواب ہے۔ قسم اول : اقسم بالخنس۔ قسم دوم : والیل اذا عسعس۔ قسم سوم : والصبح اذا تنفس۔
ان حرف مشبہ بالفعل ہے ہ ضمیر شان واحد مذکر غائب۔ کا مرجع قرآن حکیم ہے باقی جملہ ان کی خبر ہے۔ لقول میں لام تاکید کا ہے قول مضاف رسول کریم موصوف و صفت مل کر مضاف الیہ۔ بیشک یہ (قرآن) ایک معزز رسول کی زبانی ہے۔ رسول کریم سے مراد حضرت جبرائیل (علیہ السلام) ہیں۔ جو اللہ سے اس کا کلام لے کر بنی کریم ﷺ کو پہنچاتے تھے۔
Ayah 81:20(81:20) ذی قوۃ عند ذی العرش مکین : اس آیت اور اس سے اگلی آیت میں رسول کریم کی چند صفات بیان کی گئی ہیں کہ وہ رسول کریم بڑا طاقت ور ہے مالک عرش کی جناب میں اس کا رتبہ بڑا بلند ہے اور تمام ملائکہ اس کے حکم کی تعمیل کرتے ہیں اور ان کی امانت میں کسی کو ادنیٰ واہمہ بھی نہیں۔ (جب لانے والا ان اوصاف عالیہ سے متصف ہو اور ان مراتب رفیعہ پر فائز ہو تو کون یہ خیال کرسکتا ہے کہ اس نے اس کلام میں کوئی کمی بیشی کی ہوگی) ۔
ذی قوۃ یہ رسول کریم کی دوسری صفت ہے پہلی صفت آیت سابقہ میں کریم آئی ہے۔ رسول بوجہ مضاف الیہ مجرور ہے چونکہ صفت اعراب میں اپنے موصوف کے تابع ہوتی ہے اس لئے کریم مجرور آیا ہے۔ ذی قوۃ مضاف مضاف الیہ مل کر رسول کریم کی دوسری صفت ہے لہٰذا اعراب میں اپنے موصوف رسول کے تابع ہونے کی وجہ سے مجرور ہے۔ ذی قوۃ بڑی طاقت والا (بےشک یہ قرآن ایک معزز رسول کی زبانی ہے جو بڑی طاقت والا ہے) ۔
عند : نزدیک ، پاس۔ (اس کے) ہاں ۔ ظرف زمان ظرف مکان دونوں طرح آیا ہے جیسے عندی مال۔ ّمیرے پاس مال ہے) عند طلوع الشمس : سورج طلوع ہونے کے قریب۔ بطور مضاف استعمال ہوتا ہے۔ عند مضاف ذی العرش مضاف مضاف الیہ مل کر مضاف الیہ۔ اپنے مضاف (عند) کا۔
صاحب عرش کے نزدیک ۔ مکین : کون (باب نصر) مصدر سے صفت مشبہ کا صیغہ واحد مذکر۔ عزت والا۔ مرتبہ والا۔ جو صاحب عرش یعنی اللہ کے نزدیک بڑی عزت اور مرتبہ والا ہے یہ رسول کی تیسری صفت ہے۔
Ayah 81:21(81:21) مطاع ثم امین : اطاعۃ (افعال) مصدر سے۔ اسم مفعول کا صیغہ واحد مذکر۔ (طلوع مادہ) اطاعت کیا گیا۔ وہ جس کی دوسرے تابعداری کریں۔ مراد حضرت جبرائیل جو سید الملائکہ ہیں۔ اور فرشتے ان کی اطاعت کرتے ہیں۔ یہ رسول کی چوتھی صفت ہے۔
ثم اسم اشارہ ہے مکان بعید کے لئے آتا ہے اور باعتبار اصل کے ظرف ہے بمعنی وہاں۔ وہیں۔ اس جگہ۔ ای فی السموت آسمانوں میں (جلالین) ۔
امین : امانت دار۔ معتبر۔ امن والا۔ امانۃ باب کرم مصدر سے ۔ بمعنی امانت دار ہونا۔ ا میں ہونا۔ اور امن باب سمع مصدر بمعنی امن میں ہونا۔ مطمئن ہونا۔ محفوظ ہونا سے اسم فاعل کا صیغہ بھی ہوسکتا ہے اور اسم مفعول کا بھی کیونکہ فعیل کا وزن دونوں میں مشترک ہے یہ رسول کی پانچویں صفت ہے اور وہ وہاں کا امین ہے۔ پر اعتماد ہے۔
Ayah 81:22(81:22) وما صاحبکم بمجنون اس آیت کا عطف انہ لقول رسول کریم پر ہے اور یہ بھی جواب القسم ہے۔ وھو عطف علی جواب القسم (مدارک التنزیل) ۔ وھذا ایضا جواب القسم (جلالین)
واؤ عاطفہ ہے صاحبکم مضاف مضاف الیہ ، تمہارا رفیق، تمہارا ساتھی۔ اور کم ضمیر کا مرجع کفار مکہ ہیں صاحب سے مراد رسول کریم ﷺ ہیں۔
یہاں صاحب کہہ کر کفار کو اس امر پر متنبہ کرنا ہے کہ تم ان کے ساتھ رہ چکے ہو ان کا تجربہ کرچکے ہو۔ ان کے ظاہر و باطن کو پہچان چکے ہو۔ پھر بھی تم نے ان میں کوئی خرابی یا دیوانگی نہیں پائی ہے۔
کافروں نے رسول اللہ ﷺ کے متعلق کہا تھا افتری علی اللہ کذبا ام بہ جنۃ (34:8) یا تو اس نے خدا پر جھوٹ باندھا ہے یا اسے جنون ہے۔ یہ آیت (زیر مطالعہ) اس قول کفار کا رد ہے۔
Ayah 81:23(81:23) ولقد راہ بالافق المبین۔ اللام جواب قسم محذوف ای وت اللہ لقد رای محمد ﷺ جبریل بالافق المبین (تفسیر حقانی) لام جواب قسم محذوف کے لئے ہے یعنی خدا کی قسم محمد ﷺ نے جبریل کو مطلع صاف میں دیکھا۔
راہ میں ضمیر فاعل باتفاق علماء رسول کریم کی طرف راجع ہے ہ ضمیر مفعول واحد مذکر غائب یا تو ذی العرش (خدا) کی طرف راجع ہے یا رسول کریم (جبریل) کی طرف راجع ہے۔ ذی العرش کا مرجع ہونے کے متعلق متعدد اقوال ہیں۔ جیسا کہ اوپر مذکور ہوا ہ کی ضمیر جبریل کی طرف راجع ہے۔ روح المعانی میں ہے :۔
ای وباللہ تعالیٰ لقد رای صاحبکم رسول اللہ ﷺ الرسول الکریم جبریل (علیہ السلام) علی کرسی بین السماء والارض بالصورۃ التی خلقہ اللہ تعالیٰ علیہا لہ ست مائۃ جناح۔ (خدا کی قسم تمہارے رفیق رسول خدا ﷺ نے رسول کریم یعنی جبریل (علیہ السلام) کو زمین و آسمان کے درمیان کرسی پر بیٹھے دیکھا اس صورت میں کہ جس میں خدا تعالیٰ نے اس کو پیدا کیا اس کے چھ سو پر تھے۔
بالافق المبین موصوف و صفت، روشن افق ، کنارہ آسمان۔ افاق جمع افق اصل میں آسمان کے اس کنارہ کو کہتے ہیں جہاں زمین و آسمان ملے ہوئے ہیں۔
بعض نے اس کے معنی مطلع آفتاب کے لیے ہیں ۔ المبین ابانۃ (افعال) مصدر (بین مادہ) سے اسم فاعل کا صیغہ واحد مذکر بمعنی ظاہر، کھلا ہوا۔ ظاہر کرنے والا۔ مصدر تبیین (تفعیل) اسم فاعل کا صیغہ واحد مذکر مبین کھول کر بیان کرنے والا۔ کھلا ہوا۔
ترجمہ :۔ بیشک انہوں نے (حضرت رسول کریم ﷺ نے) اس پیغام بر (حضرت جبریل علیہ السلام) کو آسمان کے روشن کنارے پر دیکھا تھا۔ یا دیکھ چکے ہیں۔
فائدہ : کافروں کے دل میں شک تھا کہ اگرچہ آپ سچے ہیں اور دیوانہ بھی نہیں ہیں لیکن ممکن ہے کہ آپ نے جبریل سے کلام نہ سنا ہو اور جبریل کو دیکھا بھی نہ ہو کوئی اور شیطان آکر ان سے کہہ جاتا ہو اور وہ اس کو جبریل سمجھتے ہوں ان کے اس شک کو رد کرنے کے لئے یہ آیت نازل ہوئی۔
سورة النجم میں بھی اسی مضمون پر ارشاد باری تعالیٰ ہے :۔ والنجم اذا ھوی (1) ما ضل صاحبکم وما غوی (2) ۔۔ ۔ ما کذب الفواد ما رای (11) (53: 1 تا 11)
علماء فرماتے ہیں کہ افق الاعلی اور افق المبین ایک ہی جگہ ہے یعنی مشرقی کنارا ۔
Ayah 81:24(81:24) وما ھو علی الغیب بضنین : واؤ عاطفہ ما نافیہ ہے ضنین : ظن (باب ضرب، سمع) مصدر سے صفت مشبہ کا صیغہ ہے بمعنی بخیل ، کنجوس، فیقصر فی تبلیخہ (کلمات القرآن) یعنی غیب سے جو اس پر وحی آتی ہے اس کی تبلیغ میں وہ کسی قسم کی کوتاہی یا کمی بیشی نہیں کرتا۔ غیب کے جو حقائق بھی اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس پر کھولے جاتے ہیں وہ سب کچھ تمہارے سامنے بلا کم وکاست بیان کردیتا ہے (تفہیم القرآن) ۔
اور وہ وحی پر بخیل نہیں کہ جو ثیز ان کو وحی سے معلوم ہو وہ کسی کو نہ پہنچائیں نہ سکھائیں۔ (مظہری)
Ayah 81:25(81:25) وما ھو بقول شیطن رجیم اور نہ یہ (قرآن) کسی شیطان مردود کا کلام ہے کہ چوری سے سن کر اپنے دوست کا ہن کے دل میں ڈال دیا ہو۔
Ayah 81:26(81:26) فاین تذھبونسببیہ ہے اور جملہ استفہام انکاری پے پس تم کہاں جا رہے ہو۔
مراد یہ ہے کہ :۔ جب وحی کا بھیجنے والا برحق ہے اور وحی لانے والا صادق و امین ہے اور جس پر وحی نازل ہوئی ہے وہ وحی لانے والے کو اچھی طرح جانتا پہچانتا ہے اور وہ نہ شاعر ہے نہ مجنون ہے نہ کاہن ہے تو وہ وحی منزل من اللہ جو ایک سچا اور مستقیم راستہ بتلاتی ہے اور جسے وہ (جس پر یہ وحی نازل ہوئی ہے) بےکم وکاست اس کے ظاہر و باطن مضامین کو واضح طور پر بیان کردیتا ہے تو وحی کے بتائے ہوئے راہ راست کو چھوڑ کر تم اور کس راستہ پر چل پڑے ہو، ایسا نہ کرو۔
Ayah 81:27(81:27) ان ھو الا ذکر للعلیم : ان نافیہ بمعنی ما ھو ای القران الا حرف استثناء ذکر مستثنیٰ مفرغ (جس کا مستثنیٰ منہ مذکور نہ ہو) کلام غیر موجب (جس میں نفی نہی۔ یا کہ استفہام موجود ہو) لہٰذا ذکر مرفوع آیا ہے :۔ للعلمین میں لام تملیک کا ہے یا تخصیص کا (سارے جہاں کے لئے) ۔
عالمین عالم کی جمع ہے۔ اللہ تعالیٰ کے علاوہ تمام مخلوق کو خواہ وہ زمین پر ہو یا آسمانوں میں ہو یا ان کے درمیان ہمارے علم میں ہو یا باہر۔ اس کو عالم کہتے ہیں۔ (تفصیل کے لئے ملاحظہ ہو لغات القرآن جلد پنجم زیر لفظ عالمین) ۔
ترجمہ ہوگا :۔ نہیں ہے یہ (قرآن) مگر نصیحت، بیان، یاداشت۔
Ayah 81:28(81:28) لمن شاء منکم ان یستقیم : یہ جملہ العلمین سے بدل ہے ان مصدریہ ہے۔ یستقیم ن تاویل مصدر شاء کا مفعول ہے۔
ای لمن شاء منکم الاستقامۃ تم میں سے ان کے لئے جو استقامت کا خواستگار ہو یہ قرآن نصیحت ہے۔
یستقیم مضارع منصوب (بوجہ عمل ان) واحد مذکر غائب استقامۃ (استفعال) مصدر سے۔ سیدھا چلنا۔ راہ مستقیم پر چلنا۔ راہ راست پر چلنا اور اس پر ثابت قدم رہنا۔
چناچہ ارشاد باری تعالیٰ ہے :۔ ان الذین قالوا ربنا اللہ ثم استقاموا۔ (41:30) جن لوگوں نے کہا کہ ہمارا پروردگار اللہ ہے اور پھر اس پر قائم رہے۔
صحیح مسلم میں ہے :۔ سفیان بن عبد اللہ ثقفی نے بیان کیا کہ میں عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ مجھ سے اسلام کی کوئی ایسی بات کہہ دیجئے کہ آپ کے بعد مجھے اس کے متعلق کسی سے نہ پوچھنا پڑے۔ فرمایا۔ کہو امنت باللہ ثم استقم۔ کہ میں خدا پر ایمان لایا اور پھر اس پر ثابت قدم رہ۔
یہ ق و م سے مشتق ہے اس مادہ سے کثیر التعداد مشتقات مختلف المعانی میں مستعمل ہے۔
Ayah 81:29(81:29) وما تشاء ون الا ان یشاء اللہ رب العالمین۔ ما نافیہ ہے ۔ تشاء ون مضارع جمع مذکر حاضر۔ مشیئۃ (باب فتح) مصدر (ش ی ء مادہ) ما تشاء ون تم نہیں چاہو گے یا نہیں چاہ سکتے بجز اسکے کہ اللہ چاہے ان مصدریہ ہے ای الا بمشیۃ اللہ تعالیٰ
رب العالمین مضاف مضاف الیہ، جو سارے جہانوں کا پروردگار ہے۔ یہ جملہ معترضہ تذییلی ہے۔ اللہ کی بڑائی کے لئے لایا گیا ہے۔ صاحب تفسیر ضیاء القرآن رقمطراز ہیں :۔
اور یہ حقیقت تو یہ ہے کہ تم از خود اس کی خواہش بھی نہیں کرسکتے جب تک کہ توفیق الٰہی دست گیری نہ کرے فہم و خرد کے سارے چراغ بجھے رہتے ہیں۔ راہ راست پر ایک قدم بھی نہیں اٹھ سکتا۔ اور جب اس کی نظر لطف چارہ سازی کرتی ہے تو سب حجاب اٹھ جاتے ہیں اور ساری روکاوٹیں دور ہوجاتی ہیں اور انسان پوری یکسوئی کے ساتھ اس منزل کی طرف رواں دواں ہوجاتا ہے۔