Ayah 81:1یعنی جب یہ ہولناک امور ظاہر ہوں گے تو مخلوق جدا جدا ہوجائے گی۔ ہر ایک کو علم ہوجائے گا کہ اس نے اپنی آخرت کے لیے کیا آگے بھیجا ہے اور آخرت میں اس نے کیا بھلائی اور برائی پیش کی ہے یہ اس وقت ہوگا جب قیامت کے روز سورج بےنور ہوجائے گا اس کو اکٹھا کرکے لپیٹ دیا جائے گا اور چاند گرہن لگ جائے گا اور دونوں کو آگ میں ڈال دیا جائے گا۔
Ayah 81:2(وَاِذَا النُّجُوْمُ انْكَدَرَتْ ) اور جب تارے بےنور ہوجائیں گے۔ یعنی متغیر ہوجائیں گے اور اپنے افلاک سے ٹوٹ کر بکھر جائیں گے۔
Ayah 81:3(وَاِذَا الْجِبَالُ سُيِّرَتْ ) اور جب پہاڑ چلائے جائیں گے یعنی ریت کے بھر بھرے ٹیلے بن جائیں گے پھر دھنکی ہوئی رنگ دار اون کے مانند بن جائیں گے پھر بدل کر اڑتا ہوا غبار بن جائیں گے اور ان کو اپنی جگہوں سے ہٹا دیا جائے گا۔
Ayah 81:4(وَاِذَا الْعِشَارُ عُطِّلَتْ ) اور جب دس ماہ کی حاملہ اونٹنیاں چھوڑ دی جائیں گی یعنی جب لوگ اپنے بہترین اموال کو بےکار چھوڑ دیں گے جن کا ہر وقت بہت اہتمام اور دھیان رکھا کرتے تھے پس ان پر ایسا وقت آئے گا جو ان کو ان اموال سے غافل کردے گا عشارا ایسی اونٹیوں کو کہا جاتا ہے جن کے پیچھے ان کے بچے ہوتے ہیں یہ عربوں کا بہترین مال تصور کیا جاتا ہے جو اس وقت ان کے پاس ہوتا تھا اس معنی کے مطابق ہر نفس مال۔
Ayah 81:5(وَاِذَا الْوُحُوْشُ حُشِرَتْ ) اور جب وحشی جانور اکٹھے کیے جائیں گے۔ یعنی قیامت کے دن جمع کیے جائیں گے تاکہ اللہ تعالیٰ ان میں سے ایک کو دوسرے سے قصاص لے کر دے اور بندے اس کے کمال عدل کا مشاہدہ کریں حتی کہ وہ بےسینگ بکری کو سینگ والی بکری سے قصاص دلائے گا پھر اس سے کہا جائے گا کہ مٹی ہوجا۔
Ayah 81:6(وَاِذَا الْبِحَارُ سُجِّرَتْ ) اور جب سمندر بھڑکا دیے جائیں گے یعنی ان کو گرم کیا جائے گا اور تنے بڑے ہونے کے باوجود وہ آگ بن بھڑکا اٹھیں گے۔
Ayah 81:7(وَاِذَا النُّفُوْسُ زُوِّجَتْ ) اور جب روحیں ملا دی جائیں گی یعنی ہر صاحب عمل کو اسی جیسے صاحب عمل کا ساتھی بنادیا جائے گا پس ابرابر کو ابرار کے ساتھ، فجار کو فجار کے ساتھ جمع کردیا جائے گا اہل ایمان کو حوروں کے ساتھ جوڑے جوڑے بنادیا جائے گا اور کفار کو شیاطین کے ساتھ۔ یہ اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کے مانند ہے (وسیق الذین کفروا الی جھنم زمرا۔ الزمر 71) اور کفار کو گروہ درگروہ بنا کر جہنم کی طرف لے جایا جائے گا۔ (وسیق الذین اتقوا ربھم الی الجنۃ زمرا۔ الزمر 73) ۔ اور ان لوگوں کو جو اپنے رب سے ڈرتے رہے، گروہ گروہ بنا کر جنت کی طرف لے جایاجائے گا۔ (احشروالذین ظلموا وازواجھم۔ الصافات 22) ان لوگوں کو جنہوں نے ظلم کا ارتکاب کیا اور ان کے ہم جنسوں کو اکٹھا کرو۔
Ayahs 81:8–9(وَاِذَا الْمَوْءٗدَةُ سُىِٕلَتْ ) زمانہ جاہلیت کے جہلا بیٹیوں کو فقیری کے ڈر سے کسی سبب کے بغیر زندہ دفن کردیا کرتے تھے پس اس زندہ دفن کی گئی لڑکی سے پوچھا جائے گا۔ (بِاَيِّ ذَنْۢبٍ قُتِلَتْ ) کہ وہ کس گناہ کی وجہ سے قتل کی گئی ؟ اور یہ بات معلوم ہے کہ ان بیٹیوں کا کوئی گناہ نہیں تھا مگر اس کے ذکر میں بیٹیوں کے قاتلین کے لیے زجر وتوبیخ اور جھڑکی ہے۔
Ayah 81:10(وَاِذَا الصُّحُفُ نُشِرَتْ ) اور جب وہ اعمال نامے جو عمل کرنے والوں کے اچھے برے اعمال پر مشتمل ہوں گے۔ ان کو الگ الگ کرکے عمل کرنے والوں کو تقسیم کردیا جائے گا۔ پس کسی نے اپنا نامہ اعمال دائیں ہاتھ میں لے رکھا ہوگا اور کسی نے بائیں ہاتھ میں لے رکھا ہوگا یا اپنی پیٹھ پیچھے چھپا رکھا ہوگا۔
Ayah 81:11(وَاِذَا السَّمَاۗءُ كُشِطَتْ ) اور جب آسمان کی کھال کھینچ لی جائے گی۔ یعنی آسمان کو زائل کردیا جائے گا۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (یوم یشقق السمآء بالغمام۔ (الفرقان 25) جس روز آسمان بادلوں کے ساتھ پھٹ جائے گا۔ نیز فرمایا (یوم نطوی السماء کطی السجل للکتب۔ الانبیا 104) ۔ جس روز ہم آسمانوں کو یوں لپیت دیں گے جس طرح اوراق کا دفتر لپیٹ دیتے ہیں۔ اور فرمایا (والارض جمیعا قبضتہ یوم القیامۃ والسموات مطویت بیمینہ۔ الزمر 67) قیامت کے روز تمام زمین اس کی مٹھی میں ہوگی اور آسمان اس کے د ائیں ہاتھ پر لپٹے ہوئے ہوں گے۔
Ayah 81:12(وَاِذَا الْجَــحِيْمُ سُعِّرَتْ ) جب جہنم میں آگ جلائی جائے گی اور جہنم بھڑک کر اتنا شعلہ زن ہوجائے گا کہ اس سے پہلے کبھی اتنا نہ تھا۔
Ayah 81:13(وَاِذَا الْجَنَّةُ اُزْلِفَتْ ) یعنی جنت اہل تقوی کے قریب کردی جائے گی۔
Ayah 81:14(عَلِمَتْ نَفْسٌ) تو ہر نفس جان لے گا، ، نَفْسٌ، کا لفظ عام ہے کیونکہ اسے شرط کے سیاق میں نکرہ لایا گیا ہے۔ (مَّآ اَحْضَرَتْ ) یعنی وہ اعمال جو اس کے پاس موجود ہوں گے اور جو اس نے آگے بھیجے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا (ووجدوا ما عملوا حاضرا۔ الکھف 49) اور انہوں نے جو عمل کیے ان کو وہ موجود پائیں گے۔
یہ اوصاف جن سے اللہ تعالیٰ نے قیامت کے دن کو موصوف کیا ہے ایسے اوصاف ہیں جن سے دل دہل جاتے ہیں کرب میں شدت آجاتی ہے جسم کانپنے لگتا ہے خوف چھا جاتا ہے یہ اوصاف خرد مند لوگوں کو اس دن کے لیے تیاری کرنے پر آمادہ کرتے ہیں اور اس کام سے روکتے ہیں جو ملامت کا موجب ہے اسی لیے سلف میں سے کسی کا قول ہے جو کوئی قیامت کے دن کو اسی طرح دیکھنا چاہے، گویا وہ اسے اپنی آنکھوں سے دیکھ رہا ہے تو وہ سورة تکویر میں تدبر کرے۔
Ayahs 81:15–16اللہ تبارک وتعالی نے پیچھے ہٹنے والے ستاروں کی قسم کھائی (بِالْخُنَّسِ ) اس سے مراد وہ ستارے ہیں جو مشرق کی جہت میں، کواکب کی عادی رفتار سے پیچھے ہٹ جاتے ہیں اور ہفت سیارگان یہ ہیں، سورج، چاند، زہرہ، مشتری، مریخ، زحل اور عطارد۔ ان ساتوں سیاروں کا چلنا دو جہتوں میں ہے۔ ایک چلنا مغرب کی جہت میں تمام کواکب اور فلک کے ساتھ اور ایک چلنا اس جہت کے برعکس مشرق کی جہت میں، یہ چلنا صرف انہی سات سیاروں کے ساتھ مختص ہے۔ پس اللہ تعالیٰ نے ان ستاروں کے پیچھے ہٹنے کے حال میں ان کے چلنے اور ان کے چھپ جانے، یعنی دن کے وقت مستور ہونے کے حال کی قسم کھائی ہے اور اس میں یہ احتمال بھی ہے کہ اس سے مراد تمام کواکب اور سیارے وغیرہ ہوں۔
Ayah 81:17(وَالَّيْلِ اِذَا عَسْعَسَ ) یعنی رات کی قسم جب وہ جانے لگے اور کہا جاتا ہے کہ اس کے معنی یہ بھی ہیں جب رات آنے لگے۔
Ayah 81:18(وَالصُّبْحِ اِذَا تَنَفَّسَ ) یعنی صبح جب اس کی علامات ظاہر ہونے لگیں اور روشنی تھوڑی تھوری پھوٹنے لگی یہاں تک کہ مکمل ہوجائے اور سورج نکل آئے۔ یہ بڑی بڑی نشانیاں جن کی اللہ تعالیٰ نے قسم کھائی ہے قرآن کی سند کی قوت اس کی جلالت اور ہر شیطان مردود سے اس کی حفاظت کی بنا پر ہے۔
Ayah 81:19اس لیے فرمایا (اِنَّهٗ لَقَوْلُ رَسُوْلٍ كَرِيْمٍ ) بیشک یہ معزز فرشتے کا قول ہے اور وہ ہے جبرائیل جو اللہ کی طرف سے اسے لے کر نازل ہوئے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا (وانہ لتنزیل رب العالمین۔ تا۔۔ المنذرین۔ الشعراء 192 تا 194) ۔ اور یہ قرآن رب کائنات کی طرف سے نازل کردہ ہے اسے روح الامین لے کر نازل ہوئے آپ کے قلب پر تاکہ آپ تنبیہ کرنے والوں میں سے ہوجائیں اللہ تعالیٰ نے اسے اس کے اچھے اخلاق اور قابل تعریف خصائل کی وجہ سے (کریم) کی صفت سے موصوف کیا ہے کیونکہ یہ فرشتوں میں سب سے ا فضل اور اپنے رب کے ہاں سب سے بڑے رتبے کا حامل ہے۔
Ayah 81:20(ذِيْ قُوَّةٍ ) اللہ تعالیٰ نے اسے جو حکم دیا اس کی تعمیل کی قوت اور طاقت رکھنے والا ہے۔ یہ جبرائیل کی قوت تھی انہوں نے حضرت لوط کی قوم کی بستیوں کو ان پر الٹ کر ان کو ہلاک کر ڈالا۔ ( عِنْدَ ذِي الْعَرْشِ ) عرش والے کے پاس۔ یعنی جبرائیل (علیہ السلام) اللہ تعالیٰ کے ہاں بہت مقرب ہیں اللہ تعالیٰ کے ہاں ان کی خاص اور بلند وقدر ومنزلت ہے جس سے اللہ تعالیٰ نے ان کو مختص کیا ہے ( مَكِيْنٍ ) یعنی تمام ملائکہ سے بڑھ کر ان کی قدرومنزلت ہے۔
Ayah 81:21(مُّطَاعٍ ثَمَّ ) یعنی ملا اعلی میں جبرائیل کی اطاعت کی جاتی ہے ان کے پاس مقرب فرشتوں کی ایک جماعت ہے جن پر ان کا حکم نافذ ہوتا ہے اور ان کی رائے کی اطاعت کی جاتی ہے۔ ( اَمِيْنٍ ) یعنی امانت دار ہیں ان کو جو حکم دیا جاتا ہے اس کی تعمیل کرتے ہیں اس میں کمی بیشی نہیں کرتے اور جو حدود ان کے لیے مقرر کی گئی ہیں ان سے تجاوز نہیں کرتے۔
یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کے ہاں قرآن کریم کے شرف پر دلالت کرتا ہے کیونکہ اس کے ساتھ ایک عالی مرتبہ فرشتے کو بھیجا جو ان صفات کاملہ سے موصوف ہے عام عادت یہ ہے کہ بادشاہ کسی عالی مرتبہ ہستی کو اہم ترین مہم اور بلند مرتبہ پیغام ہی کے لیے بھیجا کرتے ہیں۔
Ayah 81:22اللہ تبارک وتعالی نے رسول ملکی کی، جو قرآن لے کر آیا فضیلت بیان کرنے کے بعد رسول بشری کی فضیلت کا ذکر کیا ہے جس پر قرآن نازل ہوا اور جس کی طرف اس نے لوگوں کو دعوت دی چناچہ فرمایا (وَمَا صَاحِبُكُمْ ) اور تمہارے ساتھی نہیں ہیں۔ اور وہ ہیں محمد مصطفیٰ ﷺ (بِمَجْنُوْنٍ ) مجنون۔ جیسا کہ آپ کی رسالت کو جھٹلانے والے، آپ کی رسالت کو جھٹلانے والے آپ کے دشمن کہتے ہیں آپ کے بارے میں طرح طرح کے جھوٹ گھڑتے ہیں جن کے ذریعے سے وہ اس نور کو بجھا دینا چاہتے ہیں جسے لے کر آپ آئے ہیں بلکہ آپ تو عقل میں سب سے زیادہ کامل رائے میں سب سے زیادہ صائب اور قول میں سب سے زیادہ سچے ہیں۔
Ayah 81:23(وَلَقَدْ رَاٰهُ بِالْاُفُقِ الْمُبِيْنِ ) یعنی محمد مصطفیٰ ﷺ نے جبرائیل کو دیکھا جبوہ آسمان کے کھلے افق پر تھے جو اتنا بلند ہوتا ہے کہ آنکھ کو واضح نظر آتا ہے۔
Ayah 81:24(وَمَا هُوَ عَلَي الْغَيْبِ بِضَنِيْنٍ ) اور وہ پوشیدہ باتوں کے بتانے میں بخیل نہیں یعنی اللہ تعالیٰ نے جو آپ کی طرف وحی کی ہے آپ اس کے بارے میں بخیل نہیں ہیں کہ اس میں سے کچھ چھپا لیں بلکہ آپ تو آسمان والوں اور زمین والوں کے امین ہیں جس نے اپنے رب کی رسالت کو کھلے طور پر پہنچا دیا بلکہ آپ نے رسالت میں سے کسی چیز کو پہنچانے میں مال دار، کسی محتاج، کسی رئیس، کسی رعیت، کسی مرد، کسی عورت، کسی شہری اور کسی دیہاتی سے کبھی بخل سے کام نہی لیا۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے آپ کو ایک ان پڑھ اور جاہل امت میں مبعوث کیا۔ جب آپ نے وفات پائی تو یہ لوگ علمائے ربانی اور دانش مندی ڈی فراست بن چکے تھے تمام علوم کی غایت وانتہا یہی لوگ تھے اور دقئق ومفاہیم کے استخراج میں یہی منتہی تھے یہ لوگ اساتذہ تھے اور دیگر لوگوں کی انتہا یہ تھی کہ وہ ان کے تلامذہ تھے۔
Ayah 81:25(وَمَا هُوَ بِقَوْلِ شَيْطٰنٍ رَّجِيْمٍ ) اور یہ شیطان مردود کا کلام نہیں ہے۔ چونکہ اللہ تعالیٰ نے اپنے ان دو مکرم رسولوں کا ذکر کرکے اپنی کتاب کی جلالت اور فضیلت کا ذکر کیا اور ان کی مدح وثنا کی جن کے ذریعے سے یہ کتاب لوگوں کے ہاتھوں تک پہنچی اس لیے اس نے اس کتاب سے ہر آفت اور ہر نقص کو دور ہٹا دیا جو اس کی صداقت میں قادح ہوسکتا ہے بنابریں فرمایا (وَمَا هُوَ بِقَوْلِ شَيْطٰنٍ رَّجِيْمٍ ) اور یہ شیطان مردود کا کلام نہیں ہے جو اللہ تعالیٰ اور اس کے قرب سے بہت دور ہے۔
Ayah 81:26(فَاَيْنَ تَذْهَبُوْنَ ) پھر تم کدھر جارہے ہو ؟ یعنی تمہارے دل میں یہ بات کیسے آئی اور تمہاری عقل کہاں چلی گئی کہ تم نے حق کو جو صداقت کے بلندترین درجے پر ہے۔ بمنزلہ جھوٹ قرار دے دیا جو سب سے گھٹیا، سب سے رذیل اور سب سے اسفل باطل ہے کیا یہ حقائق کو بدلنے کے سوا کچھ اور ہے۔ ؟
Ayah 81:27(اِنْ هُوَ اِلَّا ذِكْرٌ لِّلْعٰلَمِيْنَ ) یہ تو جہان والوں کے لیے نصیحت ہے۔ یعنی جس کے ذریعے سے وہ اپنے رب، اس کی صفات کمال اور ان صفات کو یاد رکھتے ہیں جن کے ذریعے سے تمام نقائص، رذائل اور امثال سے اس کی تنزیہہ ثابت ہوتی ہے، اور اس کے ذریعے سے وہ اوامر ونواہی اور ان کے حکم کو یاد رکھتے ہیں اور اس کے ذریعے سے احکام قدریہ، احکام شرعیہ اور احکام جزائیہ کو یاد رکھتے ہیں وہ بالجملہ دنیا وآخرت کے مصالح کو یاد رکھتے ہیں اور عمل کے ذریعے سے دنیا اور آخرت کی سعادت کو پالیتے ہیں۔
Ayahs 81:28–29( لِمَنْ شَاۗءَ مِنْكُمْ اَنْ يَّسْتَــقِيْمَ ) اس کے لیے جو تم میں سے سیدھی چال چلنا چاہے۔ گمراہی میں سے رشد اور ضلالت میں سے ہدایت کے واضح ہوجانے کے بعد (وَمَا تَشَاۗءُوْنَ اِلَّآ اَنْ يَّشَاۗءَ اللّٰهُ رَبُّ الْعٰلَمِيْنَ ) اور تم بغیر پروردگار عالم کے چاہے کچھ نہیں چاہ سکتے۔ پس اس کی مشیت نافذ ہے ممکن نہیں کہ اس کی مشیت کی مخالفت کی جاسکے یا اس کو روکا جاسکے۔ اس آیت کریمہ اور اس جیسی دیگر آیات میں، دو فرقوں، یعنی قدریہ اور جبریہ جو اللہ تعالیٰ کی مشیت کا انکار کرتے ہیں کا رد ہے جیسا کہ اس کی مثالیں گزرچکی ہیں۔ واللہ اعلم۔