Ayah 81:15 گویا اس کی لمبی شعاعیں جن سے دھوپ پھیلتی ہے لپیٹ کر رکھ دی جائیں اور آفتاب بےنور ہو کر پنیر کی چکی کی مانند رہ جائے یا بالکل نہ رہے۔
Ayah 81:26 یعنی ستارے ٹوٹ کر گرپڑیں اور ان کا نور زائل ہوجائے۔
Ayah 81:37 یعنی ہوا میں اڑتے پھریں۔
Ayah 81:48 اونٹ عرب کا بہترین مال ہے اور دس مہینے کی گابھن اونٹنی جو بیانے کے قریب ہو دودھ اور بچہ کی توقع پر بہت زیادہ عزیز ہوتی ہے۔ لیکن قیامت کے ہولناک زلازل کے وقت ایسے نفیس و عزیز مال کو کوئی نہ پوچھے گا نہ مالک کو اتنا ہوش ہوگا کہ ایسے بڑھیا مال کی خبر گیری کرے۔ باقی یہ کہنا کہ ریل نکل جانے کی وجہ سے اونٹنیاں بیکار ہوجائیں گی، محض ظرافت ہے۔
Ayah 81:59 یعنی جنگل کے وحشی جانور جو آدمی کے سایہ سے بھاگتے ہیں مضطرب ہو کر شہر میں آگھسیں اور پالتو جانوروں میں مل جائیں جیسا کہ اکثر خوف کے وقت دیکھا گیا ہے۔ ابھی چند سال ہوئے گنگا جمنا میں سیلاب آیا تھا تو لوگوں نے دیکھا کہ ایک چھپر بہتا جا رہا ہے اس پر آدمی بھی ہیں اور سانپ وغیرہ بھی لپٹ رہے ہیں ایک دوسرے سے کچھ تعرض نہیں کرتا۔ نفسی نفسی پڑی ہوئی ہے بلکہ زیادہ سردی کے زمانہ میں بعض درندے جنگل سے شہر میں گھس آتے ہیں۔ (تنبیہ) بعض مفسرین نے " حُشِرَتْ " کے معنے مارنے کے اور بعض نے مار کر اٹھانے کے لئے ہیں۔ واللہ اعلم۔
Ayah 81:610 یعنی سمندروں کا پانی گرم ہو کر دھواں اور آگ بن جائے جو نہایت گرم ہو کر محشر میں کافروں کو دکھ پہنچائے اور تنور کی طرح جھونکنے سے ابلے۔
Ayah 81:711 یعنی کافر کافر کے اور مسلم مسلم کے ساتھ پھر ہر قسم کا نیک یا بد عمل کرنے والا اپنے جیسے عمل کرنے والوں کے ساتھ جوڑ دیا جائے اور عقائد، اعمال، اخلاق وغیرہ کے اعتبار سے الگ جماعتیں بنادی جائیں یا یہ مطلب ہے کہ روحوں کو جسموں کے ساتھ جوڑ دیا جائے۔
Ayahs 81:8–912 عرب میں رسم تھی کہ باپ اپنی بیٹی کو نہایت سنگدلی اور بےرحمی سے زندہ زمین میں گاڑ دیتا تھا بعض تو تنگدستی اور شادی بیاہ کے اخراجات کے خوف سے یہ کام کرتے تھے اور بعض کو یہ عار تھی کہ ہم اپنی بیٹی کسی کو دیں گے وہ ہمارا داماد کہلائے گا۔ قرآن نے آگاہ کیا کہ ان مظلوم بچیوں کی نسبت بھی سوال ہوگا کہ کس گناہ پر اس کو قتل کیا تھا۔ یہ مت سمجھنا کہ ہماری اولاد ہے، اس میں ہم جو چاہیں تصرف کریں بلکہ اولاد ہونے کی وجہ سے جرم اور زیادہ سنگین ہوجاتا ہے۔
Ayahs 81:10–1113 جیسے جانور کا بعد ذبح کے پوست اتار لیتے ہیں۔ اس سے تمام اعضاء اور رگ و ریشہ ظاہر ہوجاتے ہیں۔ اسی طرح آسمان کے کھل جانے سے اس کے اوپر کی چیزیں نظر آئیں گی اور غمام کا نزول ہوگا۔ جس کا ذکر انیسویں پارہ میں آیت " ویوم تشقق السماء بالغمام " سے ہوا ہے۔
Ayahs 81:12–1314 یعنی دوزخ بڑے زور شور کے ساتھ دہکائی جائے اور بہشت متقیوں کے نزدیک کردی جائے جس کی رونق و بہار دیکھنے سے عجیب مسرت و فرحت حاصل ہو۔
Ayah 81:1415 یعنی ہر ایک کو پتہ لگ جائے گا کہ نیکی یا بدی کا کیا سرمایہ لے کر حاضر ہوا ہے۔
Ayahs 81:15–161 کئی سیاروں (مثلاً زحل، مشتری، مریخ، زہر، عطارد) کی چال اس ڈھب سے ہے کہ کبھی مغرب سے مشرق کو چلیں یہ سیدھی راہ ہے، کبھی ٹھٹک کر الٹے پھریں اور کبھی سورج کے پاس آکر کتنے دنوں تک غائب رہیں۔
Ayah 81:172 یا جب جانے لگے۔ اس لفظ کے دونوں معنی آتے ہیں۔
Ayah 81:183 حضرت شاہ عبدالعزیز لکھتے ہیں گویا آفتاب کو دریا میں تیرنے والی مچھلی سے تشبیہ دی اور طلوع سے پہلے اس کے نور کے منتشر ہونے کو دم ماہی سے نسبت کی۔ جیسے مچھلی دریا میں آنکھوں سے پوشیدہ گزرتی ہے اور اس کے سانس لینے سے پانی اڑتا اور منتشر ہوتا ہے۔ اسی طرح آفتاب کی حالت قبل طلوع اور قبل روشنی پھیلنے کے ہے۔ اور بعضوں نے کہا کہ دم صبح کنایہ ہے نسیم سے جو طلوع صبح کے قریب موسم بہار میں چلتی ہے (تنبیہ) ان قسموں کی مناسبت آیندہ مضمون سے یہ ہے کہ ان ستاروں کا چلنا، ٹھہرنا، لوٹنا، اور چھپ جانا ایک نمونہ ہے اگلے انبیاء پر باربار وحی آنے اور ایک مدت دراز تک اس کے نشان باقی رہنے پھر منقطع ہو کر چھپ جانے اور غائب ہوجانے کا۔ اور رات کا آنا نمونہ ہے اس تاریک دور کا جو خاتم المرسلین ﷺ کی ولادت باسعادت سے پہلے دنیا پر گزرا کہ کسی شخص کو حق و باطل کی تمیز نہ رہی تھی۔ اور وحی کے آثار بالکل مٹ چکے تھے اس کے بعد صبح صادق کا دم بھرنا حضور ﷺ کا اس جہان میں تشریف لانا اور قرآن کا اترنا ہے کہ ہر چیز کو ہدایت کے نور سے دن کی مانند روشن کردیا۔ گویا اگلے انبیاء کا نور ستاروں کی طرح تھا اور اس نوراعظم کو آفتاب درخشاں کہنا چاہئے۔ ولنعم ما قیل۔ فانہ شمس فضلھم کواکبھا یظھرن انوارھا للناس فی الظلم حتیٰ اذاطلعت فی الکون عم ھداھا العالمین واحیت سائر الامم اور بعض علماء نے فرمایا کہ ستاروں کا سیدھا چلنا اور لوٹنا اور چھپ جانا، فرشتے کے آنے اور واپس جانے اور عالم ملکوت میں جاچھپنے کے مشابہ ہے اور رات کا گزرنا اور صبح کا آنا، قرآن کے سبب ظلمت کفر دور ہوجانے اور نور ہدایت کے پوری طرح ظاہر ہوجانے کے مشابہ ہے۔ اس تقریر کے موافق مقسم بہ کی مناسبت مقسم علیہ سے زیادہ واضح ہے۔ واللہ اعلم۔
Ayahs 81:19–214 یہ حضرت جبرائیل کی صفات بیان ہوئیں۔ مطلب یہ ہے کہ قرآن کریم جو اللہ کے پاس سے ہم تک پہنچا اس میں دو واسطے ہیں۔ ایک وحی لانے والا فرشتہ ( جبرائیل) اور دوسرا پیغمبر عربی ﷺ دونوں کی صفات وہ ہیں جن کے معلوم ہونے کے بعد کسی طرح کا شک و شبہ قرآن کے صادق اور منزل من اللہ ہونے میں نہیں رہتا۔ کسی روایت کی صحت تسلیم کرنے کے لئے اعلیٰ سے اعلیٰ راوی وہ ہوتا ہے جو اعلیٰ درجہ کا ثقہ، عادل، ضابط، حافظ اور امانتدار ہو۔ جس سے روایت کرے اس کے پاس عزو حرمت کے ساتھ رہتا ہو۔ بڑے بڑے معتبر ثقات اس کی امانت وغیرہ پر اعتماد کلی رکھتے ہوں۔ اور اسی لئے اس کی بات بےچون و چرا مانتے ہوں۔ یہ تمام صفات حضرت جبرائیل میں موجود ہیں وہ کریم (عزت والے) ہیں جن کے لئے اعلیٰ نہایت متقی اور پاکباز ہونا لازم ہے (اِنَّ اَكْرَمَكُمْ عِنْدَ اللّٰهِ اَتْقٰىكُمْ ) 49 ۔ الحجرات :13) وفی الحدیث " الکرم التقویٰ " قوت والے ہیں جس میں اشراہ ہے کہ حفظ و ضبط اور بیان کی قوت بھی کامل ہے۔ اللہ کے ہاں ان کا بڑا درجہ ہے۔ سب آسمانوں کے فرشتے ان کے امین اور معتبر ہونے میں کسی کو شبہ نہیں۔ یہ تو رسول ملکی کا حال تھا آگے رسول بشری کا حال سن لیجئے۔
Ayah 81:225 یعنی بعثت سے پہلے چالیس سال تک وہ تمہارے اور تم اس کے ساتھ رہے اتنی طویل مدت تک اس کے تمام کھلے چھپے احوال کا تجربہ کیا۔ کبھی ایک مرتبہ اس میں جھوٹ فریب یا دیوانہ پن کی بات نہ دیکھی۔ ہمیشہ اس کے صدق و امانت اور عقل و دانائی کے معترف رہے۔ اب بلاوجہ اسے جھوٹا یا دیوانہ کیونکر کہہ سکتے ہو۔ کیا یہ وہ ہی تمہارا رفیق نہیں ہے جس کے رتی رتی احوال کا تم پہلے سے تجربہ رکھتے ہو۔ اب اس کو دیوانہ کہنا بجز دیوانگی کے کچھ نہیں۔
Ayah 81:236 یعنی مشرقی کنارہ کے پاس اس کی اصلی صورت میں صاف صاف دیکھا۔ اس لئے یہ بھی نہیں کہہ سکتے کہ شاید دیکھنے یا پہچاننے میں کچھ اشتباہ و التباس ہوگیا ہوگا جس کو فرشتہ سمجھ لیا وہ واقع میں فرشتہ نہ ہوگا۔ سورة " نجم " میں پہلے آچکا (فَاسْتَوٰى ۙ وَهُوَ بالْاُفُقِ الْاَعْلٰى ) 53 ۔ النجم :6-7)
Ayah 81:247 یعنی یہ پیغمبر ہر قسم کے غیوب کی خبر دیتا ہے ماضی سے متعلق ہوں یا مستقبل سے۔ یا اللہ کے اسماء وصفات سے یا احکام شرعیہ سے یا مذاہب کی حقیت و بطلان سے یا جنت و دوزخ کے احوال سے یا واقعات بعدالموت سے اور ان چیزوں کے بتلانے میں ذرا بخل نہیں کرتا نہ اجرت مانگتا ہے۔ نہ نذرانہ، نہ بخشش، پھر کاہن کا لقب اس پر کیسے چسپاں ہوسکتا ہے، کاہن محض ایک جزئی اور نامکمل بات غیب کی سو جھوٹ ملا کر بیان کرتا ہے اور اس کے بتلانے میں بھی اس قدر بخیل ہے کہ بدون مٹھائی یا نذرانہ وغیرہ وصول کئے ایک حرف زبان سے نہیں نکالتا پیغمبروں کی سیرت سے کاہنوں کی پوزیشن کو کیا نسبت۔
Ayah 81:258 بھلا شیطان ایسی نیکی اور پرہیزگاری کی باتیں کیوں سکھلانے لگا جس میں سراسر بنی آدم کا فائدہ اور خود اس ملعون کی تقبیح و مذمت ہو۔
Ayah 81:269 یعنی جب جھوٹ، دیوانگی، تخیل و تو ہم اور کہانت وغیرہ کے سب احتمالات مرفوع ہوئے تو بجز صدق و حق کے اور کیا باقی رہا۔ پھر اس روشن اور صاف راستہ کو چھوڑ کر کدھر بہکے جا رہے ہو۔
Ayah 81:2710 قرآن کی نسبت جو احتمالات تم پیدا کرتے ہو، سب غلط ہیں۔ اگر اس کے مضامین و ہدایات میں غور کرو تو اس کے سوا کچھ نہ نکلے گا کہ یہ سارے جہان کے لئے ایک سچا نصیحت نامہ اور مکمل دستور العمل ہے جس سے ان کی دارین کی فلاح وابستہ ہے۔
Ayah 81:2811 یعنی بالخصوص ان کے لئے نصیحت ہے جو سیدھا چلنا چاہیں۔ عناد اور کجروی اختیار نہ کریں۔ کیونکہ ایسے ہی لوگ اس نصیحت سے منتفع ہوں گے۔
Ayah 81:2912 یعنی فی نفسہ قرآن نصیحت ہے لیکن اس کی تاثیر مشیت الہٰی پر موقوف ہے جو بعض لوگوں کے لئے متعلق ہوتی ہے۔ اور بعض کے لئے کسی حکمت سے ان کے سوء استعداد کی بناء پر متعلق نہیں ہوتی۔