81. Surah At-Takwir

التكويرThe Overthrowing · 29 ayahsتفسیرِ حقانی

Ayah 81:1

اِذَا الشَّمْسُ كُوِّرَتْ۪ۙ Open ayah 81:1 in the Quran reader

جبکہ سورج دھندلا ہوجاوے

ترکیب ¦ اذا شرطیۃ وکذاما بعدھا و جواب الکل علمت ‘ نفس الخ الشمس مرفوع بفعل محذوف یفسرہ مابعدہ لأن اذا تطلب الفعل وھذا عند البصرییں و صاحب الکشاف وعند الاخفش والکوفیین یجوزرفعہ بالابتداء وقس علیہ البواقی والتکویر الجمع۔ ماخوذ من کارالعمامۃ علی راسہ یکورھا والمراد ذھاب نورھا ولذاقیل فی التفسیر ای طمست وقال الآخرون انکشفت۔ وقیل معنی التکویر الطرح والسقوط قال الاصمعی یقال طعنہ فکورہ اذا صرعہ فقولہ اذا الشمس کورت ای القیت ورمیت عن الفلک وقیل انھا ما خوذۃ من الفارسیۃ یقال للاعمیٰ کور۔ کورت ای جعلت اعمی انکدرت ای تساقطت وانقضت یقال انکدر الطائر من الھوی اذا انقض واصل الانکدار الانصباب۔ العشار جمع عشراء کنفساء جمع نفاس وھی التی اتی علی حملھا عشرۃ اشہر وھی النفس الاموال عند العرب عطلت ای ترکت ھملا بلاراع وبلا حلب حشرت جمعت من کل ناحیۃ وکل شیء من دواب البرلایستانس فھو وحش والجمع و حوش سجرت قریٔ بالتخفیف والتشدید قال القشیری ھومن سجرت التنورا سجرہ سجراً اذا احمیتہ نشرت ای فتحت وبسطت للحساب لانھا تطوی عند الموت وتنشر عند الحساب کشطت والکشیط القلع عند شدۃ کشط برہنہ کردن وجل از پشت ستور برگر فتن قشط لغۃ فیہ صراح سعرت سعرافروختن آتش و حرب ازلفت زلف پیش شدن صراح۔ تفسیر ¦ یہ سورة بھی بالاتفاق مکہ میں نازل ہوئی۔ ابن عباس وابن عمرو ابن زبیرو عائشہ ؓ یہی فرماتے ہیں۔ اس سورة کی انتیس آیات ہیں۔ نبی ﷺ نے فرمایا کہ جس کو یہ منظور ہو کہ قیامت کو آنکھ سے دیکھے تو اس کو چاہیے کہ اذا الشمس کورت اور اذا السماء انفطرت اور اذا السماء انشقت پڑھے۔ (اخرجہ احمد والترمذی وحسنہ وابن المنظر والطبرانی والحاکم) یعنی ان سورتوں میں قیامت کا پورا پورا نقشہ کھینچ کر دکھا دیا گیا ہے۔ ربط اس سورة کا سورة عبس سے یہ ہے کہ اس میں قیامت کا ہولناک واقعہ اخیر میں بیان ہوا تھا کہ اس روز بھائی بھائی سے اور بیٹا باپ سے اور ماں سے اور خاوند جورو سے اور باپ بیٹوں سے بھاگے گا۔ اب اس سورة میں بیان کیا جاتا ہے کہ وہ صاخہ کہ جس روز یہ ہوگا کب ہوگا اور اس مصیبت کے اسباب کیا ہوں گے ؟ اوّل حادثہ : فقال اذا الشمس کورت جبکہ آفتاب لپیٹا جاوے یعنی اس کی روشنی جو پھیلی ہوئی اور تھان کی طرح دنیا میں سفید چادر بچھی ہوئی ہے تہ کردی جاوے اور آفتاب بےنور پنیر کی چکتی سی رہ جاوے استعارہ ہے۔ اس کے بےنور ہونے سے یا یہ معنی کہ پھینک دیا جاوے اور توڑ دیا جاوے کس لیے کہ تکویر لپیٹنے اور پھینکنے کو بھی کہتے ہیں۔ واضح ہو کہ تخریب عالم کے لیے بارہ نشان بتائے گئے ہیں کہ جب یہ بارہ چیزیں ہوں گی تب علمت نفس ما احضرت ہر ایک جان لے گا کہ وہ کیا لے کر آیا ہے۔ ان بارہ میں سے چھ تو وہ ہیں جو صور اول کے بعد ہوں گے اور چھ صور دوم کے بعد ہوں گے اور ان بارہ حوادث کے بعد اس دنیا کا کچھ بھی نام و نشان باقی نہ رہے گا اور نفوس انسانیہ کا اس منزل سے یک لخت تعلق منقطع ہوجاوے گا اور یہی تعلقات اس کے جہل و بیخبر ی کے اسباب ہیں۔ پھر جب یہ نہ رہیں گے تو انکشاف تام اور ظہور کلی ہوجانے کے سبب ہر ایک کو معلوم ہوجائے گا کہ اس نے اس دنیا کی اندھیری رات میں کیا کیا تھا۔ کوئی بات مخفی نہ رہے گی۔ یہ ہے ان حوادث دوازدہ سے علمت نفس ما احضرت کا تعلق اور شرط سے جزا کا ارتباط ان چھ میں سے جو نفخ صور اول کے بعد واقع ہوں گے۔ سب سے بڑا حادثہ آفتاب کا بےنور ہو کر گر پڑنا اور نیست و نابود ہوجانا ہے۔ کس لیے کہ اس دنیا کی بنیاد آفتاب کے نور اور اس کے وجود پر ( قائم) ہے۔ روشنی میں انسان ہر چیز کو دیکھتا ہے اور محسوسات میں امتیاز کرتا ہے اور یہی سبب ہے کہ دن میں اس کے حواس منتشر زیادہ ہوتے ہیں اور اسی سبب سے رات میں اہل مراقبہ و اہل ریاضت اپنی نسبت باطنی کی ترقی کیا کرتے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ رات میں عشاق اور بیماروں کو اور ہر ایک مبتلائے مصیبت کو اپنا درد زیادہ معلوم ہوتا ہے اور یہی باعث ہے کہ ساحر اور تاثیرات نفسانیہ کے عامل اپنا عمل رات میں زیادہ موثر پاتے ہیں۔ اس کے سوا آفتاب کی حرارت اور تاثیر سے سینکڑوں چیزیں پیدا ہوتی ہیں۔ انقلابات عظیمہ واقع ہوتے ہیں۔ تغیرات ظہور کرتے ہیں۔ اشیاء کی عمر اور لڑکپن اور جوانی اور بڑھاپا آفتاب ہی کے سبب سے ہے۔ یہ دنیا کا چراغ ہے یہ نہ ہو تو اندھیرا ہے اور انہیں باتوں کو مستقل تاثیر سمجھ کر بہت سی قوموں نے پرستش شروع کردی اور سورج دیوتا کہنے لگے اور ہزاروں منتر اس کی مدح میں بن گئے۔ ہنود کا گا تری منت اس کی بےحد مدح میں ہے جو عمدہ عبادت خیال کی جاتی ہے۔ ہنود کے علماء کو اقرار ہے کہ آفتاب کیا بلکہ عناصر کی مدح اور احکام پرستش سے وید بھرے پڑے ہیں۔ آریہ فرقہ وید کو چھپا کر جو تاویلات رکیکہ کرتا ہے اس پر وہ پنڈت ہنستے ہیں اور کہتے ہیں کہ اس شرمناک دھبہ کو یہ تاویلات مٹا نہیں سکتیں۔ اس میں آفتاب پرستوں اور نیز ان طبیعتوں اور دہریوں کا بھی کامل رد ہے جو آفتاب کو پوجتے اور دہر میں اسی کو علت فاعلیہ سمجھتے ہیں اور اس کو قدیم اور ابدی خیال کرتے ہیں کہ تمہارا معبود ایک روز یوں لپیٹ کر دھر دیا جائے گا۔ آفتاب زمین سے لاکھوں بڑا حصہ ہے۔ جب یہ خراب ہوا تو پھر زمین کی خیر نہیں۔ دوسرا حادثہ : آفتاب کے بعد اور ستارے ہیں۔ ان کے اجرام کی عظمت بھی زمین سے سینکڑوں بلکہ ہزاروں درجہ زیادہ ہے لیکن وہ آفتاب سے کم ہیں۔ اگر آفتاب نظر نہ آوے تو یہ ستارے بھی آسمان کی زینت اور روشنی کے قناویل اور تاثیر مختلفہ پیدا کرنے کے اسباب ہیں۔ اس لیے کہ ان کی حالت بھی بیان فرماتا ہے واذا النجوم انکدرت اور جبکہ تارے جھڑ پڑیں گر جاویں یہ دوسرا حادثہ ہے نجم کے لفظ سے روشنی اور ظہور سمجھا جاتا ہے۔ اس لیے ان کے لیے لفظ انکدرت استعمال ہوا جس میں تیرگی کے معنی ہیں یعنی بےنور اور دھندلے ہوجاویں اور کو کب بھی تارے کو کہتے ہیں مگر اس لفظ میں جڑے رہنے اور جمے رہنے کے معنی ہیں۔ اس لیے کو کب کے ساتھ انتثرت کا لفظ استعمال کیا جس کے ظاہر معنی ہیں جھڑ پڑیں واذا الکواکب انتثرت۔ تیسرا حادثہ : جب آفتاب اور ستارے نہ رہیں گے تو کرہ زمین بھی رخصت ہوگا۔ اس لیے یہ تیسرا حادثہ بیان فرماتا ہے۔ فقال واذا الجبال سیرت اور جبہ پہاڑ چلائے جائیں یعنی وہ اکھڑ کر روئی کے گالوں کی طرح ادھر ادھر اڑتے پھریں۔ چوتھا حادثہ : جب آفتاب کی یہ حالت اور ستاروں کی یہ نوبت ہوگی تو گویا دنیا کی چھت برباد ہوچکے گی اور زمین کا فرش جس کے لنگر یا میر فرش پہاڑ ہیں وہ یوں اڑتے پھریں گے تو پھر اہل زمین کو کس جائیداد اور کس تجارت اور کس مال کی آرزو باقی رہ جاوے گی اور کس کی حفاظت اور روک تھام کریں گے ؟ کسی کی بھی نہیں بلکہ اپنی ہی پڑی ہوگی۔ اس مضمون کو اس جملہ میں ادا کرتا ہے واذا العشار عطلت اور جبکہ حاملہ اونٹنیاں جو بچہ دینے کے قریب ہوں یوں ہی بیکار و بےمہار ماری ماری پھریں گی۔ کوئی پرسان حال بھی نہ ہوگا۔ اونٹ عرب کے نزدیک بڑا مال ہے اور خصوصاً گابھن اونٹنی جو بچہ دینے کو ہو اور بھی نفیس اور مرغوب مال ہے۔ اس کی حفاظت و نگہداشت بہت کچھ کیا کرتے ہیں۔ اس لیے گابھن اونٹنیوں کے بےکار رہنے کا ذکر کیا۔ یہ چوتھا حادثہ ہے۔ اس میں ایما ہے کہ جس مال کے جمع کرنے میں یوں عقبیٰ برباد کر رہے ہو اس کی ایک روز یہ حالت ہوگی اور یہ طبعی بات ہے۔ دنیا میں جب کوئی سخت بیمار یا مبتلائے مصیبت ہوجاتا ہے ایسا کہ بےکل ہوجاوے اور چین نہ پڑے۔ اس وقت نہ روپیہ اچھا معلوم ہوتا ہے نہ عورت کی طرف رغبت رہتی ہے نہ گھوڑے بیل اچھے معلوم ہوتے ہیں نہ مکان و جائیداد کا دھیان رہتا ہے۔ بعض مفسرین کہتے ہیں کہ عشار سے مراد پانی بھرے بادل ہیں کہ اس روز وہ معطل ہوں گے۔ پانچواں حادثہ ¦ اور جب یہ حالت ہوجاوے گی تو انسان کیا وحشی جانوروں کے بھی ہوش و حواس بجا نہ رہیں گے۔ واذا الوحوش حشرت اور جبکہ جنگلی جانور جو آج انسانوں سے دور بھاگتے ہیں اور آپس میں بھی ایک دوسرے غیر جنس سے گریز کرتا ہے۔ ہرن شیر سے ‘ بکری بھیڑیئے سے۔ ان سب پر بوقت نفخ صوریہ ہول و دہشت طاری ہوگی کہ سب جنگل اور پہاڑ چھوڑ کر آبادی میں پناہ لینے کے لیے آجمع ہوں گے اور اب بھی جب رو آتی ہے یا جنگل میں آگ لگتی ہے ایسے جانور جو انسان سے بھاگتے ہیں امن کی جگہ جمع ہوجاتے ہیں۔ شیر اور جنگلی ہرن وغیرہ کو ایک جا دیکھا گیا ہے۔ مصیبت میں نفرت اور باہمی عداوت کافور ہوجاتی ہے۔ بعض مفسرین کہتے ہیں کہ اس سے مراد یہ ہے کہ حشر کے روز وحوش بھی ان کے باہمی قصاص و فیصلہ کے لیے جمع ہوں گے۔ ابن عباس ؓ سے یہ بھی منقول ہے کہ وحوش کے حشر سے مراد ان کا مرنا ہے۔ عرب کہتے ہیں حشرتہم السنۃ جبکہ لوگوں کے مال اور جان قحط سے تلف ہوں۔ چھٹا حادثہ ¦ یہ پانچواں حادثہ ہے۔ اس کے بعد چھٹے حادثہ کو بیان فرمایا ہے۔ واذا البحا رسجرت اور جبکہ دریا گرم کئے جاویں۔ دریا کا گرم ہونا اور جوش میں آنا اس کی طغیانی سے عبارت ہے۔ پھر جبکہ صور پھنکے گا اور زمین ہلے گی اور پہاڑ اڑیں گے تو جس طرح ارض پر سمندر ہے وہ کب ساکت ہوگا۔ اس کا تموج اور جوش بھی بےحد ہوگا کہ خشکی پر پھیل پڑے گا اور زمین کے حیوانات و انسان بلکہ بڑی بڑی بلند چیزوں کو ڈبو دے گا۔ بعض مفسرین کہتے ہیں کہ بےحد تموج سے اس میں ایسی مفرط حرارت پیدا ہوگی کہ پانی مستحیل ہو کر ہوا ہوجاوے گا اور ہوا مستحیل ہو کر آگ بن جائے گی۔ پانی نے تو آفت برپا کی ہی ہوگی۔ پھر ہوا ہو کر اور بھی دنیا کو درہم برہم کر دے گا اور پھر آگ ہو کر اور بھی ستیاناس کر دے گا۔ الغرض یہ تینوں عنصر جو آج دنیا کی آبادی کا باعث ہیں یہی خرابی کا باعث ہوجاویں گے۔ نہ آسمان رہا نہ ستارے ‘ نہ سورج نہ پہاڑ ‘ نہ انسان و حیوان نہ سمندر۔ گویا ان چھ حادثوں سے جو نفخ صور اول سے ہوں گے۔ دنیا کا اور اہل دنیا کا خاتمہ ہوجائے گا۔ اعتراض ¦ مگر ان چھ حوادث کی ترتیب ذکر میں بعض نکتہ چینوں کو اعتراض ہے کہ جب یہ معاملہ نفخ صور اول کا ہے اور ستارے بےنور ہوجاویں گے اور پہاڑ اڑتے پھریں گے تو اس وقت عشار یعنی گابھن اونٹنیاں اور وحوش موجود ہی کب ہوں گے جو ان کو معطل و محشور ہونا کہا جاوے۔ جواب : اس کا جواب بہت آسان ہے۔ وہ یہ کہ ان حوادث میں خدائے پاک نے ترتیب وقوع کا اظہار نہیں فرمایا کہ اول یہ ہوگا ٗ پھر یہ ہوگا اور محض ایک کے بعد دوسرے کے ذکر کرنے سے یہ نہیں لازم آتا کہ دوسری شے اول کے بعد ہی واقع ہو۔ چونکہ سورج کا بےنور ہونا ایک بڑی عظیم الشان بات تھی اس لیے اول اس کو ذکر کیا گو وقوعہ اس کا آیندہ مذکور چیزوں کے بعد ہو۔ اسی طرح اس کے بعد ستاروں کا جھڑنا ‘ بےنور ہونا بڑی بات تھی۔ اس کو ذکر کیا کہ جب علویات کے ذکر فساد سے فراغت ہوئی تو اس کے بعد سفلیات کا بطلان و فساد ذکر فرمایا اور سفلیات میں پہاڑ بلند اور بڑے مستحکم اور ثابت القدم معلوم ہوتے ہیں۔ ان کی بےثباتی اور اڑا پھرنا ذکر کیا حالانکہ یہ ممکن ہے کہ پہاڑ پہلے اڑ چکیں اور زمین کے وحوش و طیور مر چکیں تب آفتاب اور ستارے بےنور ہوں اور اس کے بعد انسان کا بدحواس ہونا اور اپنے مرغوب مال سے بیخبر ہوجانا اور وحوش میں کھل بلی پڑجانا اور سب کا مجتمع ہونا بہ نسبت پہاڑوں کے اڑتے پھرنے کے ایک کم مرتبہ چیز ہے۔ اس لیے اس کا ذکر پیچھے کیا حالانکہ یہ انسان کی بدحواسی اور وحوش کی بدحواسی پہلے ہوگی۔ کس لیے جب صور کی آواز قدرے بھی بلند ہوگی انسان تو جب ہی بدحواس ہو کر اونٹ اونٹنیوں سے بیخبر ہوجائے گا اور حیوانات اور جنگلی جانوروں میں رول پڑجائے گی۔ پھر ذرا اور آواز بلند ہوگی تو یہ سب مرجائیں گے۔ پھر آواز بلند ہوگی تو دریائوں میں تموج ہوگا اور ابل پڑیں گے۔ چونکہ دریا کا گرم ہونا کسی قدر اب بھی بعض مواقع پر ہوتا ہے۔ گویا ایک معمولی سی بات ہے۔ حالانکہ اس روز اس سے بدرجہا بڑھ کر ہوگا۔ اس لیے اس کو انسان کی بدحواسی اور وحوش کی کھل بلی کے بعد ذکر کیا اور یہ بھی ممکن ہے کہ تموج بحری کے بعد انسان و حیوانات کی موت اور بدحواسی ہو۔ پھر جب اور بھی زیادہ بدحواسی ہوگی تو زمین لرزے گی اور پہاڑ ٹوٹ جاویں گے اور ٹوٹ کر ریزہ ریزہ ہوا کے تموج سے ہوجاویں گے۔ پھر زمین کا خاتمہ ہوچکے گا تو علویات کی بربادی ہوگی۔ آفتاب بےنور ہو کر گر پڑے گا ٗ پھر ستارے گر پڑیں گے۔ پھر جب سب فنا ہوجائیں گے اور ایک معلوم المقدار عرصہ فنا کا گزر چکے گا تو حق سبحانہ پھر اسرافیل کو صور پھونکنے پر مامور کرے گا اور پھر بار دیگر ہر چیز ایک نئے وجود سے زندہ ہوگی اور یہ وجود ہمیشہ باقی رہے گا۔ اس لیے اس وقت کے ان چھ حوادث کو ذکر کرتا ہے جن کا ذکر نفوس انسانیہ کو اکتساب حسنات و تحصیل سعادت کی طرف ابھارتا ہے۔ اول : واذا النفوس زوجت اور جبکہ نفوس انسانیہ کے جوڑے لگیں۔ اول حادثہ : اول تو نفوس یعنی ارواح کا ان کے اجسام سے پھر جوڑا لگے۔ پھر جسموں میں روح پھونکی جاوے اور گویا روح کی جسم سے پھر ایسی شادی اور بیاہ ہو کہ باہم پھر جدائی نہ ہوگی۔ اس کے بعد ہر ایک جنس اور نوع کا باہم جوڑا لگے۔ نیک جدے کھڑے ہوں تو بدجدے۔ پھر نیکوں میں نمازیوں کی قطار ‘ مجاہدوں کی قطار ‘ جدا جدا ہو علی ہذا القیاس اور سب سے اول تین جماعتیں قائم ہوں۔ کما قال وکنتم از واجا ثلثہ ایک اصحاب الیمین کی دوسری اصحاب الشمال کی تیسری سابقین کی۔ اس کے بعد نفوس انسانیہ کا نفوس سماویہ و ارضیہ سے جوڑا لگے تاکہ قوت ادراک خیر و شر کا پورا بدلہ پاوے اور ہر نفس اپنے اعمال خیر و شر کی صورت مثالیہ سے بیاہا جاوے اور ہر نیک کا حورالعین سے جوڑا لگے۔ تمام جزاء و سزائے آخرت کو یہ ایک لفظ وسیع المعنی حاوی ہے مگر اس کے بعد چند مہتم بالشان امور کو بیان فرماتا ہے۔ دوسرا حادثہ : واذا الموودۃ سئلت اور جبکہ زندہ گاڑی ہوئی لڑکی پوچھی جاوے بای ذنب قتلت کہ کس گناہ میں ماری گئی تھی ! خواہ سوال مظلوم لڑکی سے ہو ٗ خواہ قاتل۔ ظالم سے بہرحال اس کی بازپرس ہوگی۔ عرب کے جاہل اور مغرور لوگ ننگ دامادی یا خوف افلاس سے لڑکیوں کو زندہ گڑھے میں ڈال کر مٹی دے دیا کرتے تھے۔ ان کو سنایا جاتا ہے کہ ایک روز تم سے پوچھا جائے گا کہ کس جرم پر اس معصوم کو قتل کیا یا اس مظلوم دادخواہ سے دریافت ہوگا۔ یہ ایسا پراثر بیان ہے کہ اس کے بعد عرب سے یہ رسم یک لخت موقوف ہوگئی۔ یہ دوسرا حادثہ ہے۔ تیسرا حادثہ : واذا الصحف نشرت اور جبکہ نامہ اعمال کھولے جاویں اور حساب شروع ہو اور کہا جاوے کہ پڑھ یہ صحائف ان معمولی کاغذوں پر معمولی رسم الخط سے نہ ہوں گے بلکہ ایک انجلاء وانکشاف صور اعمالیہ کا ہوگا جس کا مجموعہ ایک صحیفہ ہے یا جو کچھ اس کی حقیقت عند اللہ ہو برحق ہے۔ یہ تیسرا حادثہ ہے۔ چوتھا حادثہ : واذا السماء کشطت اور جبکہ وہ آسمان جو بادیگر نفخ صور ثانی کے بعد قائم ہوگا اس کو کھولا جاوے یعنی جس طرح جانور مذبوح کی کھال کھینچ لینے سے اس کا گوشت و اندرونی اعضاء ظاہر ہوجاتے ہیں اسی طرح آسمان کا حجاب مرتفع ہوجاوے اور مکنونات خیالات فلک کہ اشیاء کی صورت مثالیہ ہیں۔ متجلی و منکشف ہوجاویں اور ملائکہ نازل ہونے شروع ہوں جو عدالت حشر کے کارندے ہوں گے۔ یہ چوتھا حادثہ ہے۔ امام رازی کشطت کے معنی اسی کے قریب قریب بیان فرماتے ہیں۔ حیث قال ای کشفت وازیلت عما فوقھا وھوالجنۃ و عرش اللہ کما یکشط الاھاب عن الذبیحۃ والغطاء عن الشیء یعنی کھولا جاوے اور اس کے اوپر کی چیز جو جنت اور عرش الٰہی ہے ٗ ظاہر کیا جاوے۔ جیسا کہ کھال ذبیحہ سے اتاری جاتی ہے اور پردہ کسی چیز سے دور کیا جاتا ہے۔ فائدہ : لفظ کشطت کو ابن مسعود ؓ نے قشطت قاف سے بھی پڑھا ہے اور کاف کی جگہ قاف کا استعمال زبان عرب میں بہت جگہ ہوتا ہے جیسا کہ کافور۔ قافور اور لبکت الثرید ولبقۃ۔ پانچواں حادثہ : جب آسمان کھل جاوے گا اور جو کچھ عالم بالا میں ہے (جو خزانہ غیب ہے) ظاہر ہوگا اور انسان کے اعمال نیک و بد کی صور مثالیہ بھی ظاہر ہوں گی تو اول بدوں کے لیے واذا الجحیم سعرت دوزخ دہکائی جاوے۔ بنی آدم کے گناہوں کا ایندھن جو اس میں پڑا سلگ رہا تھا ٗ اب جزا کا وقت آگیا۔ غضبِ الٰہی کا شعلہ اس کو بھڑکا دے گا اور عدل و انتقام کی آگ اس ایندھن کو دہکا وے گی پھر تو وہ جوش مارے گی کہ الٰہی توبہ اس کے جوش و خروش اور شعلوں کی لپٹ کی آواز دور دور سے سنائی دے گی۔ کما قال وہی تفور تکاد تمیز من الغیظ اور بڑے بڑے انگارے اور چنگاریاں باہر آ آپڑیں گے۔ کما قال انہا ترمی بشرر کا لقصر کانہا جمالات صفر اس کے دیکھنے سے لوگوں کی جان پر بن جاوے گی اور بالخصوص مجرم تو اس حالت کو دیکھ کر حواس باختہ ہوجاویں گے اور دنیا کے چند روزہ لذات و شہوات پر ہزاروں نفرینیاں کریں گے۔ کما قال و اسرو الندامۃ لما راو العذاب یہ جانکاہ پانچواں حادثہ ہوگا۔ چھٹا حادثہ : اور اسی طرح اہل حشر کے لیے جنت سامنے لائی جائے گی۔ کما قال واذا الجنۃ ازلفت اور جنت قریب لائی جاوے گی۔ اب جو عالم غیب میں آنکھوں سے اوجھل ہے اور اسی لیے کور باطن اس کا انکار کرتے ہیں۔ اس روز وہ حاضر ہوجاوے گی اور تخت عدالت کے قریب لا کر رکھی جاوے گی۔ یہاں تک کہ اس کے نعیم اور دہانے کے بےحد اسبابِ آسائش و تجمل نظر آویں گے۔ بدوں کو اور بھی مصیبت ہوگی کہ حسرتیں کریں گے اور اس سلطنت جاودانی کے ہاتھ سے جاتے رہنے کا الم دلوں کو عذاب جہنم سے کم نہ ہوگا۔ خصوصاً جبکہ ان غریبوں مفلسوں کو کہ جن کی عبادت وتقویٰ پر تمسخر کیا کرتے اور ان کو بہت ہی ذلیل و خوار سمجھتے تھے۔ یہ دیکھیں گے کہ کس اکرام و اعزاز سے جنت کے لیے منتخب کئے جا رہے ہیں اور ان دنیا کے عزت داروں ٗ سرداروں ناز و نعم میں پرورش پانے والوں پر جوتیاں پڑ رہی ہیں۔ ملائکہ گھسیٹتے ہوئے جہنم کی طرف مارتے ہوئے چلے جاتے ہیں۔ اب نہ کوئی دنیاوی یار ہے جو حمایت کرے نہ مال و زر ہے جو کام آوے۔ یہ چھٹا حادثہ اور بھی جانکاہ ہوگا۔ تب علمت نفس ما احضرت ہر ایک شخص جان لے گا کہ وہ دنیا سے کیا لایا ؟ کیا اعمال نیک و بد کئے یہ حجاب اٹھ جاوے گا۔ فائدہ : بعض مفسرین نے ان بارہ حوادث کو انسانی حالات پر محمول کیا ہے جو بوقت مرگ ظاہر ہوں گے اور مرگ قیامت صغریٰ ہے۔ اس وقت اس کو نیک و بد معلوم ہوجاوے گا۔ آفتاب کا بےنور ہونا ‘ روح کا تعلقات جسمانیہ سے دست بردار ہونا ہے اور ستاروں کا بےنور ہونا اس کے حواس اور قوٰی کا بیکار ہونا ہے اور پہاڑوں کا اڑنا اس کے بنیاد جسم کا ہل جانا اور اس کے بڑے بڑے ارادوں کا باطل ہونا ہے اور گابھن اونٹنیوں کے بیکار ہونے سے مراد انسان کی قریب الحصول تمنائوں کا بیکار ہونا ہے اور وحوش کا جمع ہونا اس کے نفرت انگیز کاموں کا تصور اور ان کی صورتیں سامنے آنا ہے اور دریائوں کا گرم ہونا اور جوش مارنا اس کے حسرات و آرزوئوں کا بطلان اور خیالات کا انتشار ہے کہ ہر ایک بےکنار دریا ہے اور نفوس کا جوڑا لگنے سے مراد ملکات مکسوبہ کا ان کے مناسب چیزوں سے ارتباط ہے۔ ظلمانی ملکات کا ظلمانی چیزوں سے اور نورانی ملکات اور علوم و معارف کا نورانی چیزوں سے جوڑا لگایا جاتا ہے اور موؤدہ سے مراد وہ انسانی قوٰی و مدارک ہیں جو اس کے اندر ودیعت ہیں جن کو زندہ گاڑ دینا کہنا استعارہ ہے۔ ان سے سوال ہوگا کہ ان کو برمحل صرف کیا تھا یا بےمحل جس نے بےمحل اور بےموقع خداداد قوت کو صرف کیا گویا زندہ معصوم بچہ کو قبر میں ڈال دیا۔ مثلاً قوت شہوانیہ ایک اس کی عطا کردہ امانت ہے۔ اگر اس کو اپنی بیوی پر اور حلال چیزوں کے کھانوں میں صرف کیا تو مضائقہ نہیں ورنہ عتاب و عقاب ہے۔ اسی طرح قوت غضبیہ ایک ودیعت ہے۔ اگر اس کو غیرت دینیہ و ملتیہ کے لیے اور ظالموں کے مقابلے میں اپنے ناموس اور ملت کے محفوظ رکھنے میں صرف کیا تو بہت خوب۔ اگر زیر دستوں کے ستانے اور لوگوں پر ظلم و جفا کرنے میں صرف کیا تو عتاب اور عذاب ہے۔ اسی طرح نطق یعنی گویائی ایک امانت ہے۔ اگر اچھی باتیں کیں خدا کی حمد وثناء اور امر بالمعروف و نہی المنکر و اصلاح بین الناس میں صرف کی تو اجر ہے ورنہ وزر۔ پس جس نے اس کو بےہودہ گوئی فحش گوئی اور جھوٹے قصوں کے سنانے اور لوگوں میں فساد کرانے اور نقصان دینے میں صرف کیا تو عذاب ہے اور صحائف کے کھولے جانے سے مرادقوٰی اور نفوس کے وہ صحائف ہیں کہ جن میں اعمال کی ہیئت ہے اور آسمان کے کھولنے سے مراد احکام روحی کا ظہور ہے جو بوقت مرگ ہوتا ہے اور دوزخ کے دہکائے جانے سے مراد وہ شدائد و احوال ہیں جو موت کے بعد ظاہر ہوں گے اور بہشت کے نزدیک لائے جانے سے مراد وہ روح و ریحان ہیں جو عالم برزخ میں ایمانداروں کے سامنے آتے ہیں۔ یہ کہنا کہ ان بارہ چیزوں سے یہ چیزیں مراد ہیں تفسیر نہیں بلکہ تاویل ہے۔ ہاں اس کہنے کا مضائقہ نہیں کہ ان چیزوں کی طرف بھی الفاظ قرآنیہ میں اشارہ ہے۔ ٹھیک بات ہے کس لیے کہ قرآن مجید کے لیے ظہرو بطن ہے۔ اس کے اندرونی پردوں میں جو کچھ معانی مخفی ہیں وہ ایک دریائے بےکنار ہے جس کو وہاں تک رسائی ہو وہ سمجھے۔ اسی طرح بعض صوفیہ کرام فرماتے ہیں اذا الشمس کورت میں اشارہ ہے تجلی ذات وصفات کے ظہور کی طرف جو قلوب عارفین پر ہوتی ہے۔ پس اس وقت ان کی ارواح کے آفتاب بےنور ہوجاتے ہیں اور ان کے عقول کے ستارے دھندلے ہوجاتے ہیں۔ بسبب غلبہ نور ذات وصفات کے اور اس وقت ان کے دلوں کے پہاڑ یعنی واردات محبت سخت ہوائوں سے اڑتے پھرتے ہیں اور ٹکڑے ٹکڑے ہوجاتے ہیں اور ان کے نفوس کی باردار اونٹنیاں اس کے سطوت جلال کے سامنے بیکار ہوجاتی ہیں۔ پھر اس وقت توحید کے دریا گرم ہوجاتے ہیں اور وحوش تفرید مجتمع ہوجاتے ہیں اور بجز ذات پاک ذوالجلال والاکرام کے اور کچھ باقی نہیں رہتا اور ہر عارف کے ان احوال میں ایک قیامت ہے اور اسی طرح روح ناطقہ کا نفس مطمئنہ سے جوڑا لگا دیا جاتا ہے۔ پھر وہ دونوں ہمیشہ قرب کے باغوں اور وصال کے بہشتوں میں رہا کرتے ہیں۔ جیسا کہ دنیا میں مقامات مراقبات میں رہا کرتے تھے اور اسی طرح مشاہدات کے باغ قریب کئے جاتے ہیں۔ واللہ اعلم باسرار کلامہ
Ayahs 81:2–3

وَ اِذَا النُّجُوْمُ انْكَدَرَتْ۪ۙ Open ayah 81:2 in the Quran reader

اور جبکہ ستارے دھندلے 1 ؎ ہوجاویں

وَ اِذَا الْجِبَالُ سُیِّرَتْ۪ۙ Open ayah 81:3 in the Quran reader

اور جبکہ پہاڑ اڑتے پھریں

1 ؎ جھڑپڑیں
Ayahs 81:4–10

وَ اِذَا الْعِشَارُ عُطِّلَتْ۪ۙ Open ayah 81:4 in the Quran reader

اور جبکہ گابھن 2 ؎ اونٹنیاں چھٹی پھریں

وَ اِذَا الْوُحُوْشُ حُشِرَتْ۪ۙ Open ayah 81:5 in the Quran reader

اور جبکہ جنگلی جانوروں میں رول پڑے

وَ اِذَا الْبِحَارُ سُجِّرَتْ۪ۙ Open ayah 81:6 in the Quran reader

اور جبکہ دریائوں میں جوش ہو

وَ اِذَا النُّفُوْسُ زُوِّجَتْ۪ۙ Open ayah 81:7 in the Quran reader

اور جبکہ جانوروں کے جوڑے لگائے جاویں

وَ اِذَا الْمَوْءٗدَةُ سُئِلَتْ۪ۙ Open ayah 81:8 in the Quran reader

اور جبکہ زندہ گاڑی ہوئی لڑکی پوچھی جاوے

بِاَیِّ ذَنْۢبٍ قُتِلَتْۚ Open ayah 81:9 in the Quran reader

کہ کس گناہ پر ماری گئی تھی

وَ اِذَا الصُّحُفُ نُشِرَتْ۪ۙ Open ayah 81:10 in the Quran reader

اور جبکہ نامہ اعمال کھولے جاویں

2 ؎ العشار دس مہینے کی گابھن اونٹنیاں۔ 12 منہ
Ayahs 81:11–14

وَ اِذَا السَّمَآءُ كُشِطَتْ۪ۙ Open ayah 81:11 in the Quran reader

اور جبکہ آسمان کی (نیلی 3 ؎) چادر اتاری جاوے

وَ اِذَا الْجَحِیْمُ سُعِّرَتْ۪ۙ Open ayah 81:12 in the Quran reader

اور جبکہ دوزخ دہکائی جاوے

وَ اِذَا الْجَنَّةُ اُزْلِفَتْ۪ۙ Open ayah 81:13 in the Quran reader

اور جبکہ بہشت پاس لائی جاوے

عَلِمَتْ نَفْسٌ مَّاۤ اَحْضَرَتْؕ Open ayah 81:14 in the Quran reader

(تب) ہر شخص جان لے گا کہ وہ کیا لے کر آیا ہے۔

3 ؎ یعنی اب جو نیلی چادر اوڑھے ہوئے ہے نیلا دکھائی دیتا ہے یہ اتار لی جائے اور آثار قہر سے سرخ ہوجائے۔ 12 منہ
Ayahs 81:15–29

فَلَاۤ اُقْسِمُ بِالْخُنَّسِۙ Open ayah 81:15 in the Quran reader

سو ہم کو قسم ہے ان ستاروں کی

الْجَوَارِ الْكُنَّسِۙ Open ayah 81:16 in the Quran reader

جو چلتے چلتے پیچھے ہٹنے لگتے ‘ غائب ہوجاتے ہیں

وَ الَّیْلِ اِذَا عَسْعَسَۙ Open ayah 81:17 in the Quran reader

اور قسم ہے ڈھلتی رات کی

وَ الصُّبْحِ اِذَا تَنَفَّسَۙ Open ayah 81:18 in the Quran reader

اور صبح کی جبکہ روشن ہو

اِنَّهٗ لَقَوْلُ رَسُوْلٍ كَرِیْمٍۙ Open ayah 81:19 in the Quran reader

کہ یہ قرآن ایک معزز رسول (جبرئیل) کی زبانی ہے

ذِیْ قُوَّةٍ عِنْدَ ذِی الْعَرْشِ مَكِیْنٍۙ Open ayah 81:20 in the Quran reader

جو بڑی قوت والا عرش والے کے پاس رتبہ رکھتا ہے۔

مُّطَاعٍ ثَمَّ اَمِیْنٍؕ Open ayah 81:21 in the Quran reader

وہاں کا سردار ‘ امانت دار ہے

وَ مَا صَاحِبُكُمْ بِمَجْنُوْنٍۚ Open ayah 81:22 in the Quran reader

اور تمہارا پیغمبر دیوانہ نہیں ہے

وَ لَقَدْ رَاٰهُ بِالْاُفُقِ الْمُبِیْنِۚ Open ayah 81:23 in the Quran reader

اور البتہ انہوں نے اس (جبرئیل) کو مطلع صاف میں دیکھ بھی لیا ہے

وَ مَا هُوَ عَلَى الْغَیْبِ بِضَنِیْنٍۚ Open ayah 81:24 in the Quran reader

اور وہ غیب کی بات پر بخل کرنے والا بھی نہیں

وَ مَا هُوَ بِقَوْلِ شَیْطٰنٍ رَّجِیْمٍۙ Open ayah 81:25 in the Quran reader

اور یہ قرآن شیطان مردود کا کلام نہیں۔

فَاَیْنَ تَذْهَبُوْنَؕ Open ayah 81:26 in the Quran reader

پھر تم کہاں (بہکے) چلے جا رہے ہو۔

اِنْ هُوَ اِلَّا ذِكْرٌ لِّلْعٰلَمِیْنَۙ Open ayah 81:27 in the Quran reader

یہ تو جہان بھر کے لیے نصیحت ہی نصیحت ہے۔

لِمَنْ شَآءَ مِنْكُمْ اَنْ یَّسْتَقِیْمَؕ Open ayah 81:28 in the Quran reader

اس کے لیے جو تم میں سے راست ہونا یعنی قائم ہونا چاہے

وَ مَا تَشَآءُوْنَ اِلَّاۤ اَنْ یَّشَآءَ اللّٰهُ رَبُّ الْعٰلَمِیْنَ۠ Open ayah 81:29 in the Quran reader

اور تم تو جب ہی چاہو گے کہ جب اللہ چاہے گا جو تمام جہان کا رب ہے۔

ترکیب ¦ فلما الفاء للتفریع اوالتعقیب ولا زائدۃ کما مر تحقیقھا فی سورة القیامۃ بالخنس المقسم بہ وھی جمع خانس و خانستہ من خنس اذا تاخروفی الصحاح الخنس الکواکب کلھا انھا تخنس فی المغیب اولانھا تخفی نھاراً وقیلھی الکواکب الخمس زحل والمشتری والمریخ والزھرۃ و عطارد و فی الکبیر الخنس 1 ؎ جمع خانس والخنوس الانقباض والاستخفاء تقول خنس من بین القوم وتخنس و فی الحدیث الشیطان یوسوس ای العبد فاذا ذکر اللہ خنس ولذاسمی الخناس۔ الجوار جمع جاریۃ وھی السیارات لانھا تجری۔ وھی صفۃ الخنس۔ الکنس جمع کانس وکانستہ یقال کنس اذا دخل الکناس وھو مقرالوحش کنس کناس بالکسر خواب جائے آہو و پنہان شدن اودر آنجا (عع1 ک 2) کنس خانہ روفتن مکنسہ جاروب کناسہ بالضم جارو بہ وخانہ روبہ (صراح) والمراد بھا لکواکب لانھا تکنس ای تختفی بالنھار۔ وھی ایضا صفۃ لھا واللیل الواو للقسم اذا ظرف العامل فیھا معنی القسم عسعس من الاضداد یقال عسعس اللیل اذا اقبل وعسعس اذا ادبر والمرادھنا اقبال اللیل وقیل الادباروالصبح ھذہ الواوایضا للقسم۔ تنفس ای اسفرو امتدو فلق شبہ اللیل المظلم بالمکروب المخرون الذی جلس بحیث لایتحرک واجتمع الحزن فی قلبہ فاذا تنفس وجدراحۃ فھنا لما طلع الصبح فکانہ تخلص من ذلک الحزن فعبر عنہ بالتنفس وھوا ستعارۃ لطیفۃ۔ و جواب القسم الاول والثانی والثالث قولہ انہ لقول رسول کریم ثم وصف الرسول المذکور باوصاف محمودۃ (1) ذی قوۃ (2) عند ذی العرش مکین (3) مطاع ثم۔ قراء الجہور بفتح ثم علی انھا ظرف مکان والعامل فیہ مطاع وامین والمعنی انہ مطاع فی الملاء الاعلی اوامین ھھنا و قریٔ بالضم علی انھا عاطفۃ وکان العطف بھا للتراخی فی الرتبۃ لان مابعدھا اعظم مما قبلھا وماصاحبکم ھذہ الجملتہ داخلۃ فی جواب القسم ولقدراہ اللام جواب قسم محذوف ای وتا للہ لقدر آی محمد ﷺ جبرئیل بالافق المبین بمطلع الشمس من قبل المشرق لان ھذا الافق لطلوع الشمس منہ مبین فالمبین صفۃ الافق وقیل صفۃ لمن راہ قالہ مجاھد وت اللہ لمن شاء بدل من العالمین باعادۃ الجار و معفول شاء ان یستقیم بتاویل المصدر ای لمن شاء الاستقامۃ۔ تفسیر ¦ چونکہ یہ واقعات ہولناک کہ جن کی اذا اذا کرکے خبر دی گئی ہے امور بدیہہ نہیں تھے نہ ایسے تھے کہ عقول متوسطہ ان کو کسی برہان یا دلیل سے بےکھٹکے مان لیتے اور اگر ایسے ہوتے تو ان میں عقلاء کا اختلاف اس درجہ نہ ہوتا اور اسی لیے شرع میں ان چیزوں پر ایمان لانے کو ایمان بالغیب کہتے ہیں۔ ان کا ثبوت محض نبی کے بیان پر موقوف ہے جس نے نبی کو سچا مان لیا ہے اس کے نزدیک ان امور کے سچے ہونے میں سرموتفاوت 1 ؎ نہیں۔ اس لیے ان کے بعد ضرور ہوا کہ نبی کریم ﷺ کی نبوت و صداقت اور نبی کے ذریعہ سے جو کتاب آسمانی ظاہر ہوئی ہے اور جس میں یہ باتیں مذکور ہیں۔ اس کی سچائی بھی ثابت کی جاوے اور عرب کے نزدیک جھوٹی قسم کھانا ہلاکت کا باعث تھا۔ اس لیے اس آیندہ کلام کو قسم سے صادر کیا اور قسم ہی پر موقوف نہیں رکھا بلکہ بعد میں وہ دلائل بھی بیان فرمائے کہ جن سے قرآن کا کتاب الٰہی اور آنحضرت ﷺ کا نبی ہونا ثابت ہوتا ہے۔ 1 ؎ واما جمع خنساء واخنس خنس بالسکون والتخفیف منہ فقال فلا اقسم بالخنس الجوار الکنس کہ پس میں قسم کھاتا ہوں خنس کی ایسے خنس جو جوار اور کنس ہیں۔ ان تینوں لفظوں کا مصداق ایک ہی چیز ہے۔ تین چیزیں جدا جدا نہیں۔ جوار کنس اسی خنس کے صفات ہیں ان الفاظ کے معانی یہ ہیں۔ (1) خنس خانس اور خانسہ کی جمع ہے اور خنوس ان کا مصدر ہے جس کے معنی مخفی ہونا اور ہٹنا ہیں۔ خنس پیچھے ہٹ آنے والی چیزیں۔ (2) جوار جاری ہونے والی چیزیں یعنی سیدھا چلنے والیاں (3) کنس۔ کانس اور کانسہ کی جمع کنس چھپ جانا۔ کنس تشدید کے ساتھ چھپ جانے والی چیزیں۔ جمہورمفسرین کہتے ہیں کہ خنس اور جوار اور کنس سے پانچ ستارے مراد ہیں جن کو اہل ہیئت خمسہ متحیرہ کہتے ہیں یعنی زحل ‘ مشتری ‘ مریخ ‘ زہرہ ‘ عطارد اور انگریزی میں سیسٹرین ‘ جو پیٹر ‘ مارز ‘ ڈینس ‘ مرکیوری کہتے ہیں۔ فارسی میں کیوان ‘ برجیس ‘ ترک فلک ‘ ناہید ‘ دبیر فلک ‘ ہندی میں سنیچر ‘ برہسپت ‘ منگل ‘ سکر ‘ بدھ کہتے ہیں۔ ان پانچوں ستاروں کی عجیب حیرت ناک چال ہے۔ یہ کبھی سیدھے چلتے ہیں۔ اس لحاظ سے ان کو جوار کہتے ہیں اور کبھی الٹے چلتے ہیں۔ جدھر سے گئے تھے پھر لوٹ کر ادھر ہی آجاتے ہیں۔ اس لحاظ سے ان کو خنس کہتے ہیں اور کبھی غائب ہوجاتے ہیں یا حرکت منقطع ہوجاتی ہے۔ اس لحاظ سے ان کو کنس کہتے ہیں۔ انہیں ستاروں کے یہ تین حال ہیں۔ ان کی ہمیشہ ایک رویہ پر چال نہیں۔ جیسا کہ کوئی حیرت زدہ سیدھا جاتا ہے ٗ پھر لوٹ آتا ہے۔ ادھر ادھر مارا مارا پھرتا ہے۔ اسی لیے ان کو متحیرہ کہتے ہیں یا تو مغرب سے مشرق کی طرف بترتیب بروج چل رہے تھے کہ حمل سے ثور اور ثور سے جوزا برج کو طے کر رہے تھے یا یکایک حرکت بند ہوگئی اور پھر الٹے مشرق سے مغرب کی طرف چلنے لگے۔ پہلی حالت کو استقامت دوسری کو وقوفؔ و اقامتؔ تیسری کو رجعتؔ کہتے ہیں۔ ان ستاروں کا اس میدان میں اسی طرح سے ہیر پھیر کرکے دوڑنا صریح دلیل ہے کہ ان کی ڈوری کسی قادر مطلق کے ہاتھ میں ہے جو بڑا قادر اور بڑا حکیم ہے۔ یہ ستارے اس لحاظ سے اس کی قدرت و عظمت جبروت وکبریائی کی روشن ضمیر کے نزدیک بڑے روشن دلائل ہیں۔ اس لیے ان کی قسم کھائی اور ان کے پرستش کرنے والوں کے خیالات فاسدہ کا بطلان بھی کردیا۔ فائدہ : حضرت نوح و ابراہیم (علیہما السلام) کے عہد میں تو ایک فرقہ صابیہ تھا جو ان ستاروں کی پرستش کیا کرتا تھا۔ پھر بمرور دہر اس کے متعدد فرقے ہوگئے اور ہر فریق نے اپنے ملکوں میں ایک جدا رنگ پیدا کیا۔ چناچہ روم و یونان کے لوگ جو یورپ بلکہ ایشیا کی حکمت و فلسفہ کے استاد مانے گئے ہیں جو پیٹر کو پوجا کرتے تھے اور اس کے نام کا بڑا مندر بنا رکھا تھا اور ستاروں کی پرستش بھی کیا کرتے تھے۔ پارسیوں کی دساتیر میں تو ناہید کی بہت کچھ مدح اور پرستش کے دستورات موجود ہیں۔ یہی حال ہنود کا ہے۔ بعض مفسرین فلا اقسم میں لا زائدہ نہیں کہتے بلکہ نافیہ مانتے ہیں۔ تب یہ معنی ہوں گے کہ میں ان ستاروں کی قسم نہیں کھاتا کس لیے کہ غور کرنے والوں کے نزدیک خود بخود قرآن مجید کی صداقت ظاہر ہے۔ 1 ؎ یا یوں کہو کہ مسئلہ معاد کے بعد مسئلہ نبوت کا ثابت کرنا اس لیے مناسب معلوم ہوا کہ مسئلہ نبوت کے ثبوت پر مسئلہ معاد کا ثبوت منحصر ہے اور نبوت کا اثبات بھی اس لطف سے کیا کہ قرآن مجید کی صداقت ثابت کی جس میں یہ امور مذکور ہیں اور قرآن جس کے نزدیک کتاب الٰہی ہے تو آنحضرت ﷺ کی نبوت بھی اس کے نزدیک قطعی ہے۔ 12 منہ فائدہ : ان خمسہ متحیرہ کی اس حرکت کے حکماء نے اسباب تلاش کئے تو حکمائِ قدیم نے جو ہیئت میں بطلیموس کے پیرو ہیں ٗ یہ کہا کہ آسمان کے ثخن (دل مٹائی) میں ایک اور دوسرا آسمان ہے۔ اس کو حامل کہتے ہیں اور حامل میں ایک گول پہیہ سا لگا ہوا ہے جس کو تدویر کہتے ہیں۔ اس تدویر میں ستارہ جڑا ہوا ہے۔ پھر وہ تدویر اس میں ستارہ کو لے کر گھومتی ہے اور گھومتی ہوئی تدویر کو لے کر حامل گھومتا ہے اور اس گھومنے میں تدویر اور حامل کی حرکت موافق ہے تو ستارہ سیدھا چلتا ہوا معلوم ہوتا ہے اور اگر مخالف ہے تو بطی حرکت محسوس ہوتی ہے۔ پھر وہ مخالفت اگر اس درجہ تک ہے کہ جس قدر ستارہ ایک کی حرکت سے آگے بڑھتا ہے تو اسی قدر مخالف حرکت سے ہٹتا ہے۔ اس لیے اس وقت یہ ستارہ ٹھہرا ہوا معلوم ہوتا ہے اور اگر مخالف حرکت غالب آکر اس کو الٹا ادھر ہی واپس کر لانے لگے کہ جدھر سے وہ چلا تھا تو اس وقت وہ ستارہ الٹا حرکت کرتا ہوا معلوم ہوتا ہے۔ حامل اور آسمان اور تدویر اور ستارہ کا نقشہ ¦ اس لیے ہر ایک ستارہ کے لحاظ سے سات آسمان تسلیم کرنے پڑے۔ پانچ تو یہی ستارے اور دو چاند اور سورج ان کو بھی سیارہ کہتے ہیں۔ سبع سیارات یہی ہیں۔ پھر ہر ایک سیارہ کا مقام ایک ایک آسمان قرار دیا ہے اور دیگر ستاروں کا مقام جو حرکت کرتے نظر نہیں آتے اور ایک ہی جگہ ثابت رہتے ہیں) اور اسی لیے ان کو ثوابت کہتے ہیں) آٹھواں آسمان قرار دیا۔ اس کے اوپر نواں آسمان اور تجویز کیا ہے جس کو فلک اطلس کہتے ہیں اور علمائے اسلام نے آٹھویں آسمان کو عرش اور نویں کو کرسی سے تعبیر کیا ہے اور حکمائِ حال (جو آسمانوں کی سیر کے قائل ہی نہیں وہ) ان ستاروں کی اس حرکت کا سبب ان کا میلان ذاتی بیان کرتے ہیں جو کچھ ہو بہرحال اس میں قدرت کاملہ کا پورا پورا ثبوت ہے۔ فائدہ : بعض مفسرین کہتے ہیں کہ خنس۔ جوار۔ کنس کل ستاروں پر صادق آتا ہے۔ رات میں مشرق سے مغرب کی طرف چلتے ہیں۔ دن میں غائب ہوجاتے ہیں اور الٹے مشرق کی طرف چلتے ہیں جہاں سے اگلے روز نمودار ہو کر چلے تھے۔ آج پھر وہیں سے چلنے لگے۔ الغرض علویات کا انقلاب اس کی قدرت کی دلیل ہے۔ اس کے بعد عالم میں ایک اور تصرف روزانہ سے اپنی قدرت کاملہ کا ثبوت دیتا ہے اور اس کو بھی وثوق دلانے کے لیے اسی قسم کے عنوان سے صادر فرماتا ہے۔ فقال واللیل اذا عسعس اور قسم ہے۔ رات کی جبکہ وہ ڈھلنے پر آنے لگے۔ عسعس کے معنی رات ڈھلنے کے ہیں۔ (عسعس اللیل اذا ادبر کشاف) اور آنے کے بھی ہیں۔ رات ڈھلنا بھی اس کی قدرت کا نمونہ ہے یا تو دنیا پر اندھیرا چھایا ہوا تھا یا اب سمٹنے لگا اور یہ وقت بسبب ظہور نور کے برکت کا بھی وقت ہے اور صبح سے مناسبت رکھتا ہے۔ اس لیے اس کی بھی قسم کھائی۔ اسی طرح رات کا آنا اور دنیا پر چھا جانا بھی ایک تغیر عظیم ہے یا تو روشنی تھی یا اندھیرا ہونے لگا۔ والصبح اذا تنفس اور قسم ہے صبح کی جبکہ روشن ہونے لگے۔ یہ تیسری قسم ہے تنفس سانس لینا گویا رات ایک غمگین شخص دم گھونٹے بیٹھا تھا۔ پھر سانس لیا تو راحت پائی اور یہ وقت راحت ہے۔ یہ ایک لطیف استعارہ ہے۔ پہلے ان پانچ ستاروں کی قسم کھائی کہ جن کی حرکت و رفتار اس کی کبریائی کی روشن دلیل ہے۔ جس میں اس طرف ایما تھا کہ دنیا میں یہ پانچ اولوالعزم نبی ان پانچ ستاروں کی طرح روشنی پھیلانے والے تھے مگر ان کی روشنی یعنی شریعت اقوام کے تغیرات کے لحاظ سے سدا کے لیے ایک چال پر نہ تھی اور وہ پانچ ستارے یہ ہیں حضرت آدم (علیہ السلام) ‘ حضرت نوح (علیہ السلام) ‘ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) ‘ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) ‘ حضرت عیسیٰ علیہ السلام۔ ان پانچ ستاروں نے ہرچند دنیا کو مذاہب باطلہ سے پاک کیا۔ ان کے جھگڑے نبی ڑے مگر جہل و کفر و بت پرستی کی تاریکی نے جہان کو گھیر لیا تھا۔ یہاں تک کہ رات اٹھتی چلی آتی تھی۔ یہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے بعد سے ہوا پھر تورات پھیل گئی۔ یہ زمانہ حضرت عیسیٰ ( علیہ السلام) کے حواریوں کے بعد سے لے کر آنحضرت ﷺ کی بعثت تک کا ہے مگر اس رات کے بعد اس رحیم و کریم نے جو اپنی حکمت بالغہ سے دنیا میں رات دن بدلتا ہے۔ ستاروں کو چلاتا ہے۔ آنحضرت ﷺ کو مبعوث کیا مگر آپ کی بعث سے کچھ آگے وہ کفر و بدکاری کی اندھیری رات ڈھل چل تھی اس لیے لوگوں کو کچھ کچھ غیبی آثار نمودار ہونے لگے تھے کہیں کسی کو بتوں میں سے آواز سنائی دی گئی کہ ہماری پرستش کا زمانہ ختم ہوا جاتا ہے جہاں کا ہادی آتا ہے۔ آخر وہ آفتاب ہدایت مکہ کے پہاڑوں میں طلوع ہوا اور دنیا کو روشن کردیا۔ ان ہدایت کے ستاروں اور ڈھلتی رات اور ہدایت کی صبح کی قسم کھا کر فرماتا ہے کہ انہ لقول رسول کریم کہ یہ قرآن جو صبح صادق کی طرح روشنی پھیلا رہا ہے از خود محمد ﷺ نے دل سے نہیں بنا لیا ہے جیسا کہ اور شعراء یا مصنفین بنا لیا کرتے ہیں بلکہ یہ ایک معزز رسول کی زبانی پہنچا ہے یعنی جبرئیل آپ کے پاس وحی لاتے ہیں اور پڑھ کر سناتے ہیں تب آپ اس کو تم لوگوں کو سناتے ہیں۔ اس مطلب کی طرف اور بہت سی آیات میں ایماء و تصریح ہوئی ہے۔ علمہ شدید القویٰ ذومرۃ بس یہ ہیں لقول رسول کریم کے معنی اب اس پر یہ شبہ پیش کرنا (کہ جب یہ رسول کریم کا قول ہوا تو اللہ کا کلام کیونکر ہوا حالانکہ بالاتفاق قرآن مجید کلام اللہ ہے اس کا کوئی مسلمان بھی منکر نہیں) محض لغو ہے کس لیے کہ قول سے یہ مراد نہیں کہ جبرئیل کی تصنیف بلکہ یہ کہ جبرئیل نے کہا خدا کی طرف سے جیسا کہ اور آیات میں ان معنی کی تصریح ہے۔ اسی جگہ سے بعض علماء اس کے بھی قائل ہوئے ہیں کہ قرآن مجید کی عبارت جبرئیل (علیہ السلام) کی طرف سے ہے اور معنی خدا کی طرف سے جبرئیل کو القاء ہوتے اور جبرئیل وہ عبارت مع الفاظ آنحضرت ﷺ کو سناتے تھے مگر یہ بھی ایک لغو بات ہے کس لیے کہ جس جبرئیل (علیہ السلام) کو خدا کی طرف سے معنی القاء ہوتے تھے اسی کو الفاظ کی بندش بھی القاء ہوتی تھی۔ کیا خدائے پاک کو الفاظ کی بندش نہیں آتی تھی اور جبرئیل (علیہ السلام) کی کونسی بات اپنی طرف کی ہے۔ ہر حرکت و سکون خدائے تعالیٰ کے حکم سے ہے وہ تو اسی طرح تابع ہیں کہ جس طرح انسان کی زبان تابع ہے۔ زبان ازخود کیا بولتی ہے وہی جو انسان بولنا چاہتا ہے پھر جبرئیل (علیہ السلام) کے چند اوصاف بیان فرماتا ہے جن سے وحی کی مضبوطی اور استحکام متعلق ہے۔ اول کریم کہ وہ معزز فرشتہ ہے ایسا ویسا نہیں بلکہ ناموس اکبر ہے اور حضرات انبیاء (علیہم السلام) چونکہ جامہ بشریت میں ہیں ٗ ان کا تجرد ایسا نہیں کہ ہر وقت حق سبحانہ سے بغیر اس واسطے کے کلام کرسکیں۔ اس لیے وحی لاتے ہیں۔ یہ نورانی شخص کہ جس کا تجرد اس مرتبہ پر پہنچا ہوا ہے کہ بلاواسطہ حق سبحانہ سے کلام کرسکتا ہے ٗ واسطہ قرار دیا گیا۔ (2) ذی قوۃ قوت والا۔ تار برقی میں اگر قوت نہ رہے تو کبھی پیغام بسرعت ادا نہ کرسکے اور یہی قوت جبرئیلیہ ہے کہ جب یہ کسی نبی کی طرف متوجہ ہوتی ہے تو اس کے جمیع تخیلات و توہمات کو جو غلطی میں پڑنے کے اسباب ہیں یک لخت باطل کردیتی ہے اور اس وقت ان میں کوئی اثر قوائے بہیمیہ کا باقی نہیں رہتا۔ پھر جو کچھ وہ بولتے ہیں وہی بولتے ہیں اور جو کچھ کہتے ہیں وہی کہتے ہیں جو کوئی ان کے سر چڑھ کر بلواتا یا کہلواتا ہے جس طرح بانسری آپ نہیں بولتی اس میں کوئی اور بولنے والا ہوتا ہے۔ یہی حال حضرات انبیاء بلکہ اولیاء کا ہے۔ (3) عند ذی العرش مکیں عرش والے کے پاس جانے والا یعنی یہ نہیں کہ اس کو تخت تک رسائی نہیں وہ اوروں سے سن کر لاتے ہیں بلکہ ان کو بارگاہ قدس میں صرف رسائی ہی نہیں بلکہ (4) مطاع ثم وہاں وہ سردار بھی ہیں بیشمار ملائکہ ان کے زیر فرمان ہیں اور کسی نیک بندے کو کوئی نیک بات الہام و القاء کرنی ہوتی ہے تو جبرئیل (علیہ السلام) ان ملائکہ میں سے کسی ایک کو معین کردیتے ہیں جیسا کہ حضرات اولیاء کرام کے الہام میں ہوا کرتا ہے اور یہ فرق ہے الہام انبیاء والہام اولیاء میں۔ حدیث صحیح میں آیا ہے ان للشیطان لمۃ بابن آدم و للملک لمۃ فامالمۃ الشیطان فایعاد بالشر و تکذیب بالحق واما لمۃ الملک فایعادبالخیر و تصدیق بالحق الحدیث راوہ الترمذی کہ شیطان بنی آدم کے دل میں القاء کرتا ہے اور فرشتہ بھی سو شیطان تو برائی ڈالتا ہے اور حق بات سے انکار کراتا ہے اور فرشتہ کا القاء نیکی پر ابھارنا اور حق کا تسلیم کرنا ہے (5) امین کہ جبرئیل امین بھی ہیں۔ یعنی اس وحی میں کوئی کمی زیادتی نہیں کرتے۔ کوئی آمیزش نہیں ہونے پاتی۔ چونکہ کلام الٰہی کے بندوں تک پہنچنے میں دو واسطہ ہیں۔ ایک جبرئیل (علیہ السلام) یہاں تک تو ان کے محامد بیان فرمائے تاکہ عدالت و حفظ جو شرط راوی ہے بدرجہ کمال ان میں متحقق ہوجائے اور یہ بھی ثابت ہوجائے کہ ان کا اعتبار ملائِ اعلیٰ میں بھی از حد ہے اور راوی گوثقہ اور صحیح الحافظہ ہو مگر پھر بھی فرق ہے۔ ایک تو بادشاہ کا چوبدار یا خواص گوثقہ اور صحیح الحافظہ ہو بادشاہ کا پیغام لائے اور ایک امیر کبیر بڑا راز دار بڑا معتبر ثقہ صحیح الحافظہ خبر لاوے دونوں میں فرق ہے۔ اس لیے حضرت جبرئیل (علیہ السلام) کا بارگاہ قدس میں سردار ‘ مطاع ہونا بھی بیان فرما دیا۔ دوسرا واسطہ پیغمبر ہے۔ اب ان کی نسبت اس قدر کہنا کافی ہے کہ ان کی عدالت اور تقویٰ اور راستبازی پر تو کفار مکہ بھی ایمان لائے ہوئے تھے۔ پھر ایسا سچا اور نیک آدمی کہ جس نے تمام عمر کبھی جھوٹ نہیں بولا۔ کبھی کوئی طمع نفسانی اس سے سرزد نہیں ہوئی جس کے بزرگانہ اخلاق اور صداقت ضرب المثل ہوں وہ خدا پر بلامنفعت دنیا کوئی ایسا جھوٹ باندھے کہ جس سے ہزاروں مصائب سر پر آپڑیں ٗ مار دھاڑ ہونے لگے۔ قوم اور کنبہ چھٹے ‘ دنیاوی فوائد یک قلم موقوف ہوجاویں۔ عقلا کی شان سے بعید ہے۔ اس لیے قسم کھانے کے بعد اس جملہ کو بھی ارشاد فرماتا ہے۔ وما صاحبکم بمجنون کہ تمہارا صاحب یعنی دوست اور بہی خواہ محمد ﷺ دیوانہ نہیں جو ایسی جھوٹی بات کہہ کر مفت اپنے سر پر مصیبت لیتا۔ یہ بھی تم خود جانتے ہو کہ بڑے عاقل ہیں۔ دنیا کے بڑے بڑے عاقل ان سے عقل سیکھتے ہیں۔ پھر جب یہ بھی نہیں تو اس واسطے کے سچے ہونے میں بھی کوئی کلام باقی نہیں رہا۔ اس کے بعد ان کو یہ شبہ باقی تھا کہ آپ سچے بھی ہیں دیوانہ بھی نہیں مگر ممکن ہے کہ جبرئیل سے آپ نے یہ کلام نہ سنا ہو اور جبرئیل کو دیکھا بھی نہ ہو۔ کوئی اور شیطان ان سے آکر کہہ جاتا ہو اور وہ اس کو جبرئیل سمجھتے ہوں۔ اس کا جواب دیتا ہے ولقدر آہ بالافق المبین کہ محمد ﷺ نے جبرئیل کو آنکھ سے مشرقی کنارہ پر دیکھا ہے۔ وہ ان کو پہچانتے ہیں۔ سورة نجم میں فرمایا تھا کہ جبرئیل کو آنحضرت ﷺ نے افق اعلیٰ پر دیکھا اور یہاں افق مبین پر دیکھنا فرمایا۔ قول محققین ¦ علماء فرماتے ہیں کہ وہی افق اعلیٰ اور وہی افق مبین ہے۔ مشرقی کنارہ مجاہد کہتے ہیں کہ جبرئیل کو اجیاد کی طرف دیکھا تھا اور وہ مکہ سے مشرق رخ ایک میدان ہے اور یہ دیکھنا ابتدائِ زمانہ نبوت میں ہوا تھا۔ بعض کہتے ہیں جب وحی آکر بند ہوگئی تھی تب کا یہ واقعہ ہے اور بعض کہتے ہیں جبکہ آپ غار حرا میں تشریف رکھتے تھے اور سورة اقراء نازل ہوئی تب کا واقعہ ہے کہ اول تو شرقی کنارہ پر آنحضرت ﷺ کو جبرئیل (علیہ السلام) ایک زرین کرسی پر بیٹھے ہوئے دکھائی دیے۔ اپنی اصلی صورت میں نہایت عظمت و جلال کی صورت تھی اور کنارہ بھرا ہوا تھا۔ اس لیے جب اوپر کے کنارہ پر تھے تو اس کو افق اعلیٰ سے تعبیر کیا اور ثم دنی فتدتیٰ فکان قاب قوسین او ادنیٰ پھر حضرت جبرئیل ( علیہ السلام) نیچے اترے اور آنحضرت ﷺ کے قریب ہوتے گئے (اس وقت کے لحاظ سے افق مبین کہا گیا) اور دونوں مل گئے۔ بعض کہتے ہیں دوبارہ دیکھا تھا۔ بعض محققین فرماتے ہیں کہ عالم مثال کے دو افق ہیں۔ ایک افق اعلیٰ جو عالم تجرد و تقدس سے ملی ہوئی ہے اور دوسری ادنیٰ جو عالم شہود سے ملی ہوئی اور اسی سبب سے اس کو افق مبین کہتے ہیں کہ عالم شہود کے قریب ہونے سبب ظہور و ابانت اس میں ہویدا ہے پھر جبکہ جبرئیل (علیہ السلام) نے چاہا کہ اپنے کمالات کے مناسب شکل میں آنحضرت ﷺ کو دکھائی دیں تو اول افق اعلیٰ پر جسم و شکل مثالی کا لباس پہنے ہوئے نظر آئے اور پھر آہستہ آہستہ نزدیک ہوئے یہاں تک کہ افق ادنیٰ کے قریب پہنچ گئے اور عالم شہود کے کنارہ پر آرہے اور آنحضرت ﷺ سے بالکل مل گئے۔ پس افق اعلیٰ اور افق مبین سے یہ افق مراد ہیں استعارہ کے طور پر۔ یہ اس لیے کہ عوام غیبیہ غالباً اہل کشف و شہود کی نظروں میں دوائر کی صورت میں نمودار ہوتے ہیں۔ الحاصل جب آپ پر حقیقت جبرئیلیہ منکشف ہوگئی اور کئی بار عالم شہود میں بھی آپ ان کو دیکھ چکے ولقدر آہ نزلہ اخریٰ عند سدرۃ المنتہیٰ اور سدرۃ المنتہیٰ کے پاس بھی شب معراج میں دیکھ چکے تو اب اشتباہ شیاطین و جنات کا شبہ پیدا کرنا محض حمق ہے۔ ہم اپنے وجدانیات میں کبھی اشتباہ نہیں پاتے اور نہ محسوسات میں تو پھر ادراک تام حضرات انبیاء (علیہم السلام) کا تو کیا کہنا ہے جن کے سامنے حقائق الاشیاء منکشف ہیں۔ اب ایک شبہ یہ باقی رہ جاتا تھا کہ ممکن ہے کہ پیغمبر (علیہ السلام) کا ہن ہوں۔ کاہن بھی غیب کی باتیں جنوں سے سن کر بیان کیا کرتے ہیں۔ اس کا جواب یہ ہے کہ وما ھو علیٰ الغیب بضنین کہ قرآن مجید غیب کی باتیں بتانے میں بخل اور کمی نہیں کر رہا ہے۔ برخلاف کلام کاہن کے کہ وہ نہ آخرت بیان کرسکتا ہے۔ نہ انسان کی سعادت و شقاوت کا رستہ بتا سکتا ہے۔ نہ مرضیاتِ الٰہی اور اس کے نزدیک ناپسند باتوں کی خبر دے سکتا ہے۔ نہ پہلی امتوں اور اگلے انبیاء (علیہم السلام) کے گزشتہ حالات بیان کرسکتا ہے جن میں عبرت و نصیحت کوٹ کوٹ کر بھری ہے۔ نہ آیندہ آنے والے واقعات ہولناک کی خبر دے سکتا ہے جن پر مطلع ہونا انسان کو ایک آنے والی زندگیِ دائمی کے لیے ضرور پر ضرور ہے۔ صرف دنیاوی معاملات پیش آنے والوں کا کچھ بےتکا حال بیان کیا کرتا ہے۔ وہ بھی پورا نہیں ایک بات سچ تو سو غلط محض مجمل طور پر کہ جس کے حواشی اور متعلقات محض قیاسی ہوا کرتے ہیں اور یہی بات نجوم و رمل و جفر وغیرہ علوم میں ہوتی ہے اور اسی طرح خواب کے انکشاف ہوتے ہیں اور ذرا اس سے بڑھ کر مکاشفات غیر انبیاء (علیہم السلام) کا حال ہے۔ برخلاف الہام انبیاء اور خصوص اس وحی کے جو بذریعہ جبرئیل امین آتی ہے یعنی قرآن مجید اس میں علوم خمسہ پورے پورے ہیں اور چھٹا عالم بیکار ہے۔ اس میں سے بھی بقدر ضرورت بہت ہے۔ باقی زید بکر کے مریض ہونے ‘ شفا پانے ‘ دولتمند ہونے ‘ فقیر ہونے کسی کام میں کامیابی حاصل کرنے یا ناکامی ہونے ‘ بارش ہونے یا ہوا چلنے سے جو منصب نبوت سے دور تھا در گزر کیا۔ اس لیے قرآن مجید غیب کی باتیں بتانے میں کمی نہیں کرتا، برخلاف کاہن اور اس کے کلام کے کہ وہ ان باتوں میں کمی کرتا ہے پورا بخیل ہے۔ ابن کثیر وابو عمرو اور کسائی نے لفظ بضنین کو بظنین ظاء سے پڑھا ہے جس کے معنی یہ ہیں کہ وہ قرآن یا محمد ﷺ غیب کی باتیں بتانے میں مہتم نہیں قیاسی باتیں نہیں کہتے۔ گویا یہ جملہ پہلی دلیل کا نتیجہ ہے یعنی جب دونوں واسطہ ثقہ اور معتبر ہیں تو مہتم نہیں بلکہ جو کچھ وہ اللہ کی طرف سے روایت کرتے ہیں اس میں ثقہ ہیں۔ ابن مسعود ؓ کی بھی یہی قرأت ہے اور عائشہ ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم بھی ظ ہی سے پڑھا کرتے تھے۔ روایت کیا اس کو دارقطنی نے افراد میں اور حاکم نے باقی قراء نے ضاد سے پڑھا ہے جس کے معنی ہیں کہ وہ بخیل نہیں۔ وحی کے پہنچانے میں بخل نہیں کرتے۔ ابن عباس ؓ یہی معنی لیتے ہیں۔ 1 ؎ اس کے بعد ایک اور دلیل بیان کرکے اس بحث کا خاتمہ کرتا ہے۔ فقال وما ھو بقول شیطان الرجیم کہ یہ قرآن شیطان رجیم کا کلام نہیں یعنی جب تم یہ کہتے ہو کہ قوت بشریہ سے تو یہ کلام بڑھ کر ہے پھر یا تو کاہن کا کلام کہتے ہو۔ سو یہ بھی نہیں کس لیے کہ کاہن غیب کے بیان میں مہتم ہے۔ کچھ سچ ہے تو زیادہ جھوٹ اور یا اس کو شیطان یا جن خبیث کا کلام کہتے ہو ان کے اعجوبہ افعال پر نظر کرکے تو یہ بھی نہیں تم خود اس کلام میں غور کرلو۔ کس لیے کہ پھل سے درخت پہچانا جاتا ہے نہ درخت سے پھل۔ اس قرآن مجید میں بیشتر یہ مطالب ہیں۔ توحید باری تعالیٰ ذات وصفات بلکہ افعال میں بھی بت پرستی اور توہمات پرستی کی مذمت ‘ اچھے کاموں کی ترغیب ‘ خیرات و صدقات ‘ صلہ رحمی ‘ عبادت ‘ عفت ‘ صداقت ‘ رحمدلی ‘ راستبازی ‘ صبر و علم کی تعلیم مکارم اخلاق کی خوبی ‘ برے کاموں سے نفرت ‘ خصوصاً افعال شہوت و غضب و کبرو غرور اور 1 ؎ صاحب کشاف کہتے ہیں واتقان بین الظاء والضاد واجب الخ کہ ان دونوں حرفوں میں فرق کرنا ضروری ہے۔ ض اور ظ میں اکثر عجم فرق نہیں کرتے حالانکہ ان کے مخرج جدا جدا ہیں ظ کنارے زبان اور اگلے دانتوں کی جڑ سے نکلتی ہے اور ض دائیں یا بائیں ڈاڑھ اور زبان کی جڑ سے۔ ایک کی جگہ دوسرا پڑھنا ایسا ہی ہے جیسا دال کی جگہ جیم اور ت کی جگہ شین۔ 12 منہ سخت دلی ‘ ظلم ‘ ایذا رسانی ‘ مکرو زور کی مذمت اور ان کے خراب نتائج بیان فرمائے۔ دنیا اور اس کے تجملات سے نفرت دلائی۔ حیات جاودانی اور دار آخرت کا شوق دلایا۔ خدا کے اسماء وصفات ذکر فرمائے۔ پہلی قوموں کے عبرت انگیز حالات بیان کئے۔ صادقوں کی خوبی ‘ بدکاروں نافرمانوں کی مذمت میں ان کے قصص ارشاد ہوئے۔ باہمی عدل و انصاف کے قانون بتائے۔ معاملات میں ظلم وتعدی روکنے کے لیے مسائل ارشاد ہوئے۔ زمین و آسمان دیگر مخلوقات کے حالات سے اپنی قدرت و رحمت کے نشان بتلائے وغیرہ بھلا ان مضامین سے شیطان کو کیا واسطہ یہ تو اس کی آنکھوں میں خار ہیں۔ خصوصاً جبکہ شیطان کی تمام سرگزشت ہی بیان کردی کہ اس نے تکبر کیا اور یوں وہاں سے دھکے دے کر نکال دیا گیا۔ ان حالات کو تو وہ سن بھی نہیں سکتا۔ آپ بیان کرنا تو کجا فاین تذھبون پھر اے نادانو ! تم کدھر جا رہے ہو۔ کیوں راستی کی طرف نہیں آتے۔ ان ھو الاذکر للعالمین یہ قرآن تو بلحاظ مضامین مذکورہ بالا اور دیگر خوبیوں اور روحانی تاثیروں کے جہاں والوں کے لیے نصیحت و ہدایت ہے۔ لازم کہ اس کو یاد کریں اس پر چلیں مگر جہان والوں میں سے وہی اس سے فائدہ اٹھا سکتا ہے اور اسی کے لیے یہ ذکر ہے لمن شاء منکم ان یستقیم کہ جو تم میں سے سیدھا ہونا چاہے اور اپنے امراض نفسانیہ کا علاج کرنا چاہے اور جس کا یہ قصد نہیں بلکہ حجت آرائی اور کج بخشی تو اس کو اس سے نفع نہیں بلکہ مضرت ہے اور یہ ارادہ کسی کے بس کا نہیں وما تشائون الا ان یشاء اللہ رب العالمین جس کے لیے اللہ سدھرنے کا ارادہ کرتا ہے تو وہی اپنے سدھرنے کا بھی ارادہ کرسکتا ہے۔ یہ توفیق اس کی طرف سے ہے۔ انسان قضاء و قدر کی زنجیروں میں جکڑا ہوا ہے۔ صرف اتنی بات ہے کہ جو کچھ قضاء و قدر اس سے کراتی ہے وہ اسی کے ارادہ و اختیار سے کراتی ہے اور اسی ارادہ و اختیار کے سبب بندہ ثواب و عقاب ‘ مدح و دم کا مستحق ہوتا ہے۔ فائدہ : اس آیت میں جبر و قدر دونوں کا ابطال ہے۔ جبر کا لمن شاء منکم ان یستقیم سے اور قدر یعنی تقدیر کے انکار اور بندہ کے فاعل مختار ہونے کا ابطال جیسا کہ وہ معتزلہ کا مذہب ہے اور فرقہ قدریہ کی ایک شاخ ہے۔ اس آیت سے وما تشائون الا ان یشاء اللہ رب العالمین اور لفظ رب العالمین میں اشارہ ہے کہ بندہ کی ہدایت کے اسباب پیدا کرنا اور اس کی سعادت کی راہیں بتانا برے کاموں سے روکنا یہ بھی اس کی شان ربوبیت ہے ورنہ اس کو کیا پڑی کوئی بدراہی اختیار کرے جہنم میں جائے اپنا سر کھپائے۔ اس سورة کے ابتداء اور وسط اور مقطع کو غور کیا جائے تو صدہا اسرار بلاغت پائے گا جو اس میں رکھے ہوئے ہیں۔ ولہ الحمد اولاً و آخراً و ظاہراً و باطناً