82. Surah Al-Infitaar

الإنفطارThe Cleaving · 19 ayahsتفسیرِ حقانی

Ayahs 82:1–5

اِذَا السَّمَآءُ انْفَطَرَتْۙ Open ayah 82:1 in the Quran reader

جبکہ آسمان پھٹ جاوے

وَ اِذَا الْكَوَاكِبُ انْتَثَرَتْۙ Open ayah 82:2 in the Quran reader

اور جبکہ تارے جھڑ پڑیں

وَ اِذَا الْبِحَارُ فُجِّرَتْۙ Open ayah 82:3 in the Quran reader

اور جبکہ دریا پھیل پڑیں

وَ اِذَا الْقُبُوْرُ بُعْثِرَتْۙ Open ayah 82:4 in the Quran reader

اور جبکہ قبریں اکھیڑی جاویں

عَلِمَتْ نَفْسٌ مَّا قَدَّمَتْ وَ اَخَّرَتْؕ Open ayah 82:5 in the Quran reader

تب ہر شخص جان لے گا کہ کیا آگے بھیجا اور کیا پیچھے چھوڑ آیا۔

ترکیب ¦ اذا شرطیۃ السماء فاعل فعل محذوف یدل علیہ انفطرت و الجملۃ معطوفۃ علیھا واذا الکواکب الخ عطف علیھا وکذاما بعدھامن الجملتین علمت الجملۃ جواب الشرط نفس فاعل علمت ‘ ما قدمت و اخرت مفعول یقال بعثر 1 ؎ یبعثر بعثرۃ اذا قلب التراب وقال الفر 1 اء اخرجت مافیھا من الدفائن وذلک من اشراط القیامۃ ان تخرج الارض ذھبا وفض تھا۔ ؎ وبعثرو بحثر بمعنی واحد وھما مرکبان من البعث والبحث مع راء مضمومۃ الھما والمعنٰی ایثرت وقلب اسفلھا اعلاہا وباطنھا ظاہر ھاکبیر۔ 12 تفسیر ¦ یہ سورة بھی مکہ میں نازل ہوئی۔ ابن عباس و ابن زبیر ؓ کا بھی یہی قول ہے۔ نسائی نے روایت کی ہے کہ معاذ ؓ نے جب عشاء کی نماز میں بڑی سورة پڑھی تو آنحضرت ﷺ نے فرمایا تھا کہ تو فتنہ میں ڈالنے والا ہے۔ کیوں سبح اسم ربک الاعلیٰ اور اذا السماء انفطرت نہیں پڑھ لیا کرتا۔ یہ حدیث صحیحین میں بھی ہے مگر وہاں اذا السماء انفطرت کا ذکر نہیں صرف نسائی نے روایت کی ہے۔ ربط ¦ اس سورة کے اول سے ظاہر ہے کہ جس طرح اس میں اسباب تخریب عالم کو اذا اذا کرکے بیان فرمایا تھا اور ان کے بعد جزا میں نفوس انسانیہ کا اپنے کئے پر مطلع ہونا بیان فرمایا تھا۔ اسی طرح اس سورة میں اس مضمون کو دوسرے عنوان سے شروع کیا اور بعد میں انسانی سعادت و شقاوت کی ایک دلکش انداز سے تصویر کھینچی ہے۔ فرماتا ہے اذا السماء انفطرت جبکہ آسمان پھٹ جائے تب کیا ہوگا اس کا اور اس کے بعد اذا الکواکب وغیرہا سب جملوں کا جو اس مضمون کے ہیں۔ آپ ہی جواب دیتا ہے کہ علمت نفس ما قدمت و اخرت ہر شخص جان لے گا کہ کیا لے کر آیا اور کیا چھوڑ کر آیا۔ آسمان کے پھٹنے کا مضمون متعدد آیات میں واقع ہے۔ کہیں یہ ہے السماء منفطر بہ اور کہیں فاذا انشقت السماء ‘ فکانت وردۃ کالدھان اور کہیں یہ ہے ویوم تشقق السماء بالغمام اور کہیں اذا السماء انشقت اور کہیں وفتحت السماء فکانت ابوابا ہے۔ غرض بیان یہ ہے کہ ایک روز ایسا آنے والا ہے کہ یہ عالم خراب ہوجاوے گا اور ایک دوسرا عالم ابدی قائم ہوگا جس کے لیے انسان اس دار فانی میں چند روزہ مہمان ہے کہ وہاں کے لیے حسنات حاصل کرکے لے جائے کہ پھر اس کی تمامی عمر عافیت و آرام سے بسر ہو اور اس عالم کی خرابی کا شروع اس کی چھت سے ہوگا یعنی آسمان سے کس لیے کہ جب مکان بناتے ہیں تو شروع بنیاد سے کرتے ہیں۔ اس لیے زمین کا اول بنانا بیان فرما کر یہ فرمایا تھا ثم استویٰ الیٰ السماء اور جب گراتے ہیں تو شروع چھت سے کرتے ہیں۔ پس جب آسمان لپٹ جائے گا اور ٹوٹ پھوٹ جائے گا تو ستارے بھی جھڑ پڑیں گے۔ اس لیے اس کے بعد فرماتا ہے واذا الکواکب انتثرت اور جبکہ ستارے جھڑ پڑیں۔ ٹوٹ پھوٹ جاویں یہاں تک علویات کی بربادی مذکور ہوچکی۔ اب اس کے بعد عالم سفلی کی بربادی بیان فرماتا ہے۔ فقال واذا البحار فجرت اور جبکہ دریا بہہ پڑیں۔ بحر عربی زبان میں دریائے شور کو کہتے ہیں ( سمندر) اور دریائے رواں کو خواہ وہ کیسا ہی عریض و عمیق ہو جیسا کہ دجلہ ٗ فرات ٗ نیل ٗ گنگا ٗ جمنا سب کو نہر کہتے ہیں۔ اب سمندر تین حصہ زمین کو حاوی ہے اور ایک چوتھائی کے قریب کھلا ہوا ہے جس پر یہ تمام اقلی میں اور جنگل اور پہاڑ واقع ہیں۔ قیامت کے قریب جبکہ یہ دنیا برباد ہونے کو ہوگی اب خواہ پہلے چھت یعنی آسمان اور ستارے برباد ہوں یا زمین برباد ہو کر پھر علویات برباد ہوں کس لیے کہ یہ بات آیات سے صاف معلوم نہیں ہوتی کہ پہلے کون برباد ہوگا۔ ہاں ترتیب ذکر وغیرہ قراین سے جو چاہو قرار دے لو تب زلزلہ عظیم ہوگا جس سے پہاڑ اور بڑی بڑی عمارات بھی زیر و زبر ہوجاویں گی اور دریائے شور جو اب ایک جگہ ٹھہرا ہوا ہے آبادی پر پھیل پڑے گا اور دنیا کو اور بھی تہ وبالا کر دے گا اور سورة تکویر میں جو واذا البحار سجرت آیا تھا اس سے بھی یہی مراد تھی۔ دونوں جملوں کے ایک ہی معنی ہیں جیسا کہ ان دونوں جملوں کے ایک معنی ہیں واذا النجوم انکدرت اور واذا الکواکب انتثرت۔ جب ایسا زلزلہ عظیم ہوگا تو زمین بھی جا بجا سے شق ہوجاوے گی اور زمین کی مدفون چیزیں نکل پڑیں گی۔ اس بات کو اس جملہ میں ذکر کرتا ہے۔ واذا القبور بعثرت اور جبکہ قبریں اکھیڑی جاویں اور بعض کہتے ہیں کہ یہ نفخ صور دوم کا واقعہ ہے یعنی اس وقت کہ مردے قبروں سے زندہ کرکے اٹھائے جاویں اور جو زمین میں مدفون ہے باہر آپڑے زلزلہ میں ایسا ہوتا ہے۔ یہ واقعات ہولناک تھے اس لیے ہر ایک کو اذا کے لفظ سے یاد کیا تاکہ ان کی عظمت شان معلوم ہو۔ ان واقعات کے بعد کیا ہوگا۔ آپ ہی فرماتا ہے۔ علمت نفس ما قدمت و اخرت تب ہر شخص جان لے گا کہ اس نے کیا عمل کیا تھا اور کیا نہیں کیا تھا۔ ماقدمت سے مراد تقدیم فی العمل ہے۔ وما اخرت سے مراد پیچھے ہٹنا۔ کام نہ کرنا۔ پس جس نے اعمال صالحہ کی تقدیم کی یعنی عمل میں لایا اور کبائر سے کوتاہی کی تو اس کا ٹھکانا جنت ہے اور جس نے اس کے برخلاف کیا اس کا ٹھکانا جہنم ہے۔ بعض کہتے ہیں کہ ماقدمت سے مراد وہ اعمال ہیں کہ جو اس نے اول عمر میں کئے۔ وما اخرت سے مراد وہ جو اخیر عمر میں کئے۔ یہ ابو مسلم کا قول ہے۔ بعض علماء اس کے معنی یوں بیان فرماتے ہیں کہ ما قدمت سے مراد وہ اعمال ہیں جو اس سے سرزد ہوئے اور ما اخرت سے وہ رسوم مراد ہیں کہ جن کی اس نے بنیاد ڈالی تھی جن کاموں کی یہ بنیاد ڈال کر دنیا سے گیا ہے۔ اگر وہ نیک کام ہیں تو اس کو بھی ایسا ہی اجر ملتا رہتا ہے جیسا کہ اس پر عمل کرنے والوں کو ملتا ہے اور اگر بری رسم قائم کرکے گیا تھا تو اس کے لیے بھی اسی قدر گناہ ہے جس قدر کہ اس پر عمل کرنے والوں کو ہے۔ یہ مضمون ایک حدیث میں وارد ہے کہ جس کو حذیفہ ؓ سے حاکم نے بسند صحیح نقل کیا ہے۔ بعض مفسرین کہتے ہیں کہ ما قدمت سے مراد اعمال ہیں نیک و بد وما اخرت سے مراد وہ مال و زر ہے جو اس نے وہاں چھوڑا تھا۔ سوال : یہ واقعات تو نفخ صور اول کے ہیں۔ پھر اس وقت تو انسان یا مردے ہوں گے یا قریب مردنی مصیبت میں مبتلا ان کو اعمال خیر و شر کیونکر معلوم ہوں گے ؟ جواب : یہ ہے کہ اذا سے وہی متصل زمانہ مراد نہیں بلکہ وسیع زمانہ جس کی ابتداء یہ حوادث اور انتہا نفخ صور ثانی ہے۔
Ayahs 82:6–12

یٰۤاَیُّهَا الْاِنْسَانُ مَا غَرَّكَ بِرَبِّكَ الْكَرِیْمِۙ Open ayah 82:6 in the Quran reader

اے انسان ! بھلا تم کو کس چیز نے اپنے رب کریم سے غافل کردیا

الَّذِیْ خَلَقَكَ فَسَوّٰىكَ فَعَدَلَكَۙ Open ayah 82:7 in the Quran reader

جس نے تجھے بنایا پھر تجھے برابر کیا پھر تجھے اعتدال پر کیا

فِیْۤ اَیِّ صُوْرَةٍ مَّا شَآءَ رَكَّبَكَؕ Open ayah 82:8 in the Quran reader

جس صورت میں چاہا تیرے اعضاء کو جوڑ دیا۔

كَلَّا بَلْ تُكَذِّبُوْنَ بِالدِّیْنِۙ Open ayah 82:9 in the Quran reader

نہیں نہیں بلکہ تم جزا کو ہی نہیں مانتے۔

وَ اِنَّ عَلَیْكُمْ لَحٰفِظِیْنَۙ Open ayah 82:10 in the Quran reader

حالانکہ تم پر بزرگ لکھنے والے محافظ ہیں

كِرَامًا كَاتِبِیْنَۙ Open ayah 82:11 in the Quran reader

(فرشتہ) کراماً کاتبین

یَعْلَمُوْنَ مَا تَفْعَلُوْنَ Open ayah 82:12 in the Quran reader

جو کچھ تم کیا کرتے ہو ان کو معلوم رہتا ہے۔

ترکیب ¦ الکریم صفۃ اولی للرب الذی الخ صفۃ ثانیۃ مقررۃ للربوبیۃ مبنیۃ للکرم فسواک فعدلک عطف صلۃ الذی ای خلقک فی ای صورۃ الجار متعلق برکبک وما مزیدۃ وشاء صفۃ لصورۃ ای رکبک فی ای صورۃ شاء ھا وقیل یتعلق مجذوف علی انہ حال ای رکبک حاصلا فی ای صورۃ شاء ھا وانما لم یعطف الجملۃ ما قبلہا لانھا بیان لعدلک وان علیکم خبران لحافظین اسمھا کراما صفۃ للحافظین وکذا کاتبین وکذایعلمون وقیل ھذا حال من الکاتبین فان مع اسمھا و خبرہا وصفات الاسم جملۃ اسمیۃ فی محل النصب علی الحال من فاعل تکذبون ای تکذبون والحال ان علیکم من یردتکذیبکم وقیل مستانفۃ مسوقۃ لبیان ما یبطل تکذیبھم۔ تفسیر ¦ جب یہ حالت ہے کہ ایک روز قیامت آنے والی ہے انسان اس روز اپنے نیک و بد اعمال کا ملاحظہ کرکے افسوس کرے گا۔ ہاتھ ملے گا تو آج اے بنی آدم ! تم کس خواب خرگوش میں پڑے ہوئے ہو اور خدا تعالیٰ کی کریمی کے سبب (کہ جلد دنیا میں افعالِ بد کی سزا نہیں دیتا اور نیک و بد کو اپنی نعمتوں سے بھرپور کر رکھا ہے) نیکی میں کوشش کرنا تو درکنار بلکہ اس کے رسولوں سے مقابلہ کر رہے ہو ٗ اس جانگداز مضمون کو ان آیات میں دلکش اور پراثر الفاظ میں ارشاد فرماتا ہے۔ فقال یا ایھا الانسان ماغرک بربک الکریم کہ اے انسان ! تجھے اپنے رب کریم سے کس نے مغرور کردیا ؟ فائدہ 1 : بعض علماء فرماتے ہیں کہ انسان سے مراد کافر ہے کیونکہ وہی قیامت کا منکر ہے اور یہ انکار قیامت اور اس پر دلیرانہ گناہ کرنا اس کا اللہ سے غرور ہے یعنی سزا کی کچھ پروا نہیں کرتا شتر بےمہار بنا ہوا ہے۔ کسی کی نہیں سنتا۔ عطاء فرماتے ہیں کہ یہ ولید بن مغیرہ کے حق میں ہے۔ کلبی اور مقاتل کہتے ہیں یہ ابن الاسد بن کلدہ بن اسید کافر کے حق میں ہے کہ اس نے آنحضرت ﷺ کی گستاخی کی مگر اس پر خدا نے دنیا میں اس کو سزا نہ دی جس سے وہ اور بھی اترا گیا تب یہ آیت نازل فرمائی۔ اقسام غرور : اور علماء فرماتے ہیں کہ کافر اور گنہگار مومنوں سب کو شامل ہے مومن ہی سہی مگر جب وہ ایک گناہ کرتا ہے اور باز نہیں آتا تو گویا اس کا حال سزاء و جزاء کا برپا ہونا نہیں مانتا اور سزا کا اندیشہ دل میں نہیں اور یہ اندیشہ نہ ہونا غرور اور عدالت آسمانی کا انکار ہے۔ احیاناً گناہ ہوجانا اور اس پر تائب و نادم ہونا منافی شان ایمان نہیں۔ ایسے ہی شفاعت کے مستحق ہیں نہ کہ عیسائیوں کی طرح یہ دل میں ٹھان لینا کہ ہمارے گناہوں کا تو حضرت مسیح (علیہ السلام) کفارہ ہوچکے اب جو چاہو کرو دل کھول کر حرام کاری ‘ مے نوشی ‘ مکرو فریب کرو ‘ جھوٹ بولو۔ لوگوں پر ظلم کرو کچھ پروا نہیں۔ یہ بھی رب کریم سے غرور ہے اور بڑا دھوکا ہے۔ اس قسم کے خیالات فاسدہ یہود میں بھی تھے۔ وہ حضرت ابراہیم و اسحاق (علیہما السلام) کی اولاد سے ہونا کافی جانتے تھے۔ ولن تمسنا النار الا ایا مامعدودۃ وسیغفرلنا کہا کرتے تھے جیسا کہ جاہل بزرگ زادے اور جاہل سیدیہ کہہ دیا کرتے ہیں کہ ہمارے بزرگ یعنی باپ دادا فلاں ولی یا غوث و قطب تھے ہم سب کو گناہ معاف ہیں مواخذہ نہ ہوگا اور ہوا تو وہ چھڑا لیں گے اور بنی فاطمہ 1 ؎ پر تو آگ حرام ہے اور اسی لیے بعض جاہل دنیاوی آگ میں کود کر سالم نکلنا فاطمیت کی دلیل سمجھا کرتے ہیں۔ یہ بھی رب کریم سے غرور اور بڑا دھوکا ہے۔ خود آنحضرت ﷺ نے اس یہودی اور نصرانی خیال کو باطل کردیا جبکہ اپنی پیاری بیٹی حضرت فاطمہ زہرا ؓ سے فرما دیا تھا کہ دنیا کا مال و اسباب جو میرے پاس ہے لے اور قیامت کے بارے میں یہ غرور نہ کرنا کہ میں محمد ﷺ کی بیٹی ہوں۔ میں خدا کے مقابلہ میں کچھ کام نہ آئوں گا۔ یہ مضمون احادیث میں موجود ہے اور نیز آیندہ آیات میں بھی یہی مضمون ہے۔ اسلام اس بات پر فخر کرتا ہے کہ اس نے خدا اور بندے کے مرتبے کو ایسا الگ کرکے بتایا کہ جس میں کوئی شائبہ اشتراک کا لگا نہیں رکھا اور پھر بندوں میں بھی موروثی اعزاز قائم نہیں رکھا بلکہ تقویٰ اور ایمان پر اور یہی شایان شان دین حق ہے۔ ہنود میں برہمنوں کا بھی یہی خیال ہے کہ ہم برہما جی کی اولاد ہیں۔ برہمن دوزخ میں نہ جائے گا۔ وہ جو چاہے کرے اس کو کچھ گناہ نہیں۔ الغرض یہ غرور اور یہ دھوکا بنی آدم میں وبائے عام کی طرح پھیلا ہوا تھا جس کو اسلام نے رد کیا اور اسی طرح انکار قیامت اور باز پرس تو ان غروروں سے بھی زیادہ خطرناک غرور تھا جو بیشتر عرب میں پھیلا ہوا تھا۔ فائدہ 2: غرور کو رب اور پھر کریم کے ساتھ متعلق کرنے میں اشارہ ہے کہ اپنے رب یعنی وقتاً فوقتاً پرورش کرنے والے سے غرور (جس کی طرف ہر وقت حاجت پڑتی رہتی ہے اور پھر اس کی پرورش بھی کریمانہ ہو ہر بات میں کرم و فضل کرتا ہو) انسانیت کا مقتضیٰ نہیں ایسا انسان جو ایسا احسان فراموش ہو انسان نہیں بلکہ حیوان سے بھی بدتر ہے۔ اس کو عقل بھی نہیں کہ جس سے ہر دم حاجت متعلق ہو اس سے بگاڑے اور چند عطا کردہ نعمتوں پر ایسا مغرور ہو کہ اپنے آقا اور محسن کی طرف ذرا بھی نہ جھکے۔ سر نیاز اس کے آگے نہ رکھے کیسی نالائقی ہے مگر لفظ کریم میں بھی بتلا دیا کہ اس اکڑفوں کا سبب ہمارا کرم ہے۔ اگر فوراً سزا دے دیا کریں یا اپنے کرم کو باز رکھیں حاجت روا نہ کریں تو سارا غرور خاک میں مل جاوے ؎ 1 ؎ اگر یہی وجہ ہے تو حضرت امام حسن و امام حسین ؓ و دیگر اہل بیت اس بات کا زیادہ گھمنڈ کرتے جن کے فاطمی ہونے میں کسی کو کلام نہیں تھا۔ برخلاف اس کے وہ تو راتوں تہجد میں رویا کرتے تھے اور ایک ادنیٰ گناہ کو بھی مہلک سمجھتے تھے۔ پھر اس زمانہ کے سیدزادے ‘ پیرزادے اس نام کی سیادت پر یہ کلمات زبان سے نکالتے ہیں۔ اگر یہ اپنے ہمسایہ برہمنوں سے نہیں سیکھا تو پھر کہاں سے لائے ہیں۔ کوئی سند ہے ؟ یہ کہنا کہ حسن اعتقاد اور محبت و عظمت سیادت اسی کی مقتضٰی ہے۔ غرور ہے۔ 12 منہ لطفِ حق باتو مواساھا کند چونکہ از حد بگزرد رسوا کند بدکار ؔبدی کر رہا ہے اور وہ جانتا ہے کہ میرا اقبال اور جاہ و بخت اسی میں ہے۔ بتؔ پرستی بت پرست کر رہا ہے اور سمجھ رہا ہے کہ یہ نعمتیں میرے خیالی معبود دے رہے ہیں۔ گمراہؔ گمراہی میں اڑا ہوا ہے اور اس گمراہی کو راہ راست سمجھ رہا ہے۔ یہ بھی غرور ہے اور سینکڑوں خیالی اور فرضی عقائد ہیں کہ جن پر فلاح وسعادت کا انحصار سمجھ رہا ہے۔ یہ بھی غرور ہے۔ یہ غرور اس کے جہل اور شیطان کے بہکانے کا نتیجہ ہے۔ جہل کا اس لیے کہ اس کے قہر اور صفت انتقام کو نہ جانا اور شیطان نے دل میں یہ ڈالا کہ یہ جو تو کر رہا ہے یہی اس کی رضامندی کا سبب ہے۔ کسبن کہہ دیا کرتی ہے کہ اگر وہ ہمارے کام سے ناراض ہوتا تو ہم کو یہ دولت و ثروت کیوں دیتا۔ چور اور ظالم بھی یہی کہا کرتے ہیں۔ بت پرست اور توہمات باطلہ کے بندے بھی یہی کہا کرتے ہیں اور غضب یہ کہ الٹے اور قیامت میں جزائے خیر کے مستحق اپنے آپ کو ان بد باتوں پر سمجھتے ہیں۔ نعوذ باللہ من الغرور بہ۔ غرور ‘ تمنیٰ رجا کا فرق ¦ واضح ہو کہ غرور اور تمنی اور رجاء یا امید میں فرق ہے۔ غرور اور تمنا مذموم ہیں۔ غرور کی بابت یہ ہے ولا یغیر نکم باللہ الغرور اور تمنی کی مذمت یہ ہے تلک اما نیہم ولیس با مانیکم ولا امانی اھل الکتاب۔ اور امید کی مدح آئی ہے اولئک یرجون رحمۃ اللہ سو امید یا رجاوہ ہے کہ ایک مرغوب چیز کا انتظار کیا جاوے۔ اس کے اسباب مناسب بہم پہنچانے کے بعد جیسا کہ زمین عمدہ کو خوب بوجوت کر کاشتکار غلہ کی انتظاری کرے یا نوکر آقا کی خدمت بجا لا کر انعام کی توقع کرے یا نیک کام کرکے ایمان و اعمال صالحہ میں کوشش کرکے نجات آخرت کی توقع رکھے۔ سو یہ عمدہ بات ہے اور جب اس پر کچھ کامیابی کا اشارہ ہوجاتا ہے تو اسی کو اطمینان کہتے ہیں جو بوقت اخیر 1 ؎ اہل اللہ کو نصیب ہوتا ہے اور دنیا میں حاصل ہو تو یقین کہلاتا ہے اور اس آیت (واعبدربک حتی یاتیک الیقین کہ اپنے رب کی عبادت کر یہاں تک کہ تجھے یقین آجاوے) میں یہی یقین مراد ہے۔ رہا غرور سو وہ ایسی چیز کی توقع کرنا ہے کہ اس کے برخلاف اسباب بہم پہنچا چکا ہے۔ مثلاً آقا کی بغاوت کرکے بخشش کی امید رکھے یا مال برباد کرکے نفع کی امید رکھے۔ کھیت اجاڑ کر غلہ کی آرزو کرے۔ برے کام کرکے نجات کی امید کرے ؎ ہر آنکہ تخم بدی کشت و چشم نیکی داشت دماغ بیہدہ پخت و خیال باطل بست اور تمنی وہ ہے کہ کسی قدر اسباب بہم پہنچا کر کامیابی کی توقع کرے یا اسباب کے حصول میں شک ہو تب امید کرے۔ حاصل کلام اسباب بہم پہنچا کر توقع کرنا رجا ہے اور شکی حالت میں تمنّٰی ہے اور اسباب بالکل نہ پہنچائے ہوں یا برخلاف اسباب جمع کئے ہوں تب توقع نیک نتیجہ کی کرنا غرور یعنی دھوکا ہے۔ دنیا کے لوگ اس اندھیری رات میں کہ جس کو حیات کہتے ہیں دھوکے میں پڑے ہوئے ہیں مگر وہ کہ جن کو روشنی عطا ہوئی ہے۔ اس کے بعد رب کریم کی تفصیل سناتا ہے تاکہ اس مغرور کی آنکھیں کھلیں اور معلوم ہو کہ میں کس کے ساتھ غرور کر رہا ہوں۔ فقال الذی خلقک وہ کہ جس نے تجھ کو پیدا کیا عدم سے ہستی میں اپنے کرم سے لایا نہ تیرا سوال تھا نہ تیری دعا تھی۔ پھر یوں ہی بیڈول اور اینڈ نہیں پیدا کردیا بلکہ اس طور سے کہ فسواک تجھے برابر کیا۔ اعضائِ جسم میں تناسب رکھا۔ کان کی جگہ کان ‘ ناک کی جگہ ناک ‘ آنکھ کی جگہ آنکھ رکھی اور فعدلک قویٰ و مزاج میں بھی تعدیل ملحوظ رکھی جس عضو میں جس قدر گرمی درکار تھی اتنی ہی عطا کی جس کو جس قدر رطوبت درکار تھی اتنی ہی عطا فرمائی۔ 1 ؎ اور اسی اطمینان کے لحاظ سے بوقت مرگ اہل اللہ سے فرشتے کہتے ہیں۔ یایھا النفس المطمئنۃ ارجعی الی ربک۔ الخ 12 منہ تسویہ اور تعدیل کا فرق : یہ دو وصف ہیں ایک تسویہ جو ظاہری بناوٹ سے متعلق ہے سو پہلے ماں کے پیٹ میں تسویہ اعضائِ جسم ہولیتا ہے۔ تب ہر ایک میں اس کی قوت ودیعت رکھی جاتی ہے اور دوسرا وصف تعدیل ہے جو اس کی باطنی استحکام سے متعلق ہے۔ مزاج کی تعدیل سے لے کر اس کی جمیع قویٰ کی تعدیل تک شامل ہے۔ اس لیے خلق کی تفصیل میں اول تسویہ کو ذکر کیا۔ فسواک فرمایا پھر تعدیل کو فعدلک فرمایا۔ ان دونوں باتوں کے بعد اور کوئی حالت منتظر باقی نہیں رہتی بلکہ معاً ایک صورت خاصہ عطا ہوتی ہے جس کو صورت شخصیہ کہتے ہیں خواہ مرد کی خواہ عورت کی۔ پھر ان میں بھی ایک خاص نقشہ خوبصورت بدصورت جیسا واہب العطا یا کی طرف سے عطا ہو دیا جاتا ہے۔ اس لیے اس بات کو بغیر عطف کے یوں فرمایا فی ای صورۃ ماشاء رکبک کہ جس صورت خاص میں چاہا اے انسان تجھے مرکب کردیا۔ ان میں سے کوئی بات بھی تیرے اختیار کی نہیں۔ نہ تیرے سوال پر عطا ہوئی ہے۔ یہ اسی کا کرم ہے جو آج تو اپنی صورت اور حسن و جمال پر اتنا غرور کرتا ہے۔ کیا خوب ہے کہا ہے کسی نے ؎ تناسب یہ اعضاء کے اتنا تبختر بگاڑا تجھے خوبصورت بنا کے اکثر انسان کے غرور کے اسباب تین ہیں۔ ایک حسب و نسب ‘ دوسرا حسن ‘ تیسرا مال و زر۔ حکومت و شوکت ان تینوں کی حقیقت اسی ایک جملہ میں بیان فرما دی۔ اب اس انسان کے کرتوت بیان فرماتا ہے کہ جس کو اس رب کریم نے یہ کچھ دیا یہ اس کے مقابلہ میں کیا شکر گزاری کرتا ہے ؟ فقال کلا ہرگز نہیں بل تکذبون بالدین بلکہ اے بنی آدم تم جزا کا انکار کر رہے ہو۔ شتر بےمہار بن کر حصول لذات و شہوات میں غرق ہو اور جانتے ہو کہ اس میں مزا اڑانے کے لیے پیدا کئے گئے ہیں نہ مر کر جینا ہے نہ حساب کتاب ہے۔ نہ اعمال کی جزا ہے نہ سزا ہے۔ وان علیکم لحافظین حالانکہ اس نے اپنے کرم سے تم پر نگہبان مقرر کر رکھے ہیں۔ ان کی محافظت نہ ہو تو تلف ہوجائو۔ وہی تمہارے دل میں حفاظت کے علوم القاء کرتے ہیں یعنی صرف پیدا ہونے ہی میں اس کی محتاجی نہ تھی بلکہ پیدا ہونے کے بعد بھی بقاء اور وجود میں بھی احتیاج باقی ہے۔ سوتے میں وہی سانپ بچھو وغیرہ مہلکات سے بچاتے ہیں۔ یہ محافظت بڑی شرح طلب ہے اور صرف وہ محافظت ہی نہیں کرتے بلکہ کراماً کاتبین کرم کرتے ہیں۔ مباشرت کے وقت اور شرمناک کاموں کے وقت تمہارے روبرو نہیں ہوتے۔ کسی پر افشائے راز نہیں کرتے لیکن جو کچھ نیک و بد تم کرتے ہو اس کو دفتر غیب میں لکھ لیتے ہیں۔ حدیث شریف میں آیا ہے کہ دو فرشتے شام کو آتے ہیں صبح تک رہتے ہیں۔ پھر صبح کو اور دو آتے ہیں شام تک رہتے ہیں 1 ؎۔ پہرہ بدلتا رہتا ہے اور یہ لکھنا ان کا بیخبر ی سے نہیں بلکہ یعلمون ماتفعلون جو کچھ تم کرتے ہو اس کو جانتے ہیں۔ ان سے تم کچھ چھپا نہیں سکتے۔ پھر جب یہ ہے تو یہ سمجھ لو کہ تم کو اس رب کریم نے شتر بےمہار نہیں پیدا کیا بلکہ اس جہان میں نیکی کمانے کے لیے اس لیے ہر ایک کام کی جزاء و سزا ہے۔ 1 ؎ اور یہی سر ہے صبح و شام کی عبادت کی طرف اہل اللہ زیادہ متوجہ ہوا کرتے ہیں ان قرآن الفجر کان مشھودا میں اسی طرف اشارہ ہے۔ 12 منہ
Ayahs 82:13–19

اِنَّ الْاَبْرَارَ لَفِیْ نَعِیْمٍۚ Open ayah 82:13 in the Quran reader

یقینا نیک بندے تو نعمتوں میں

وَ اِنَّ الْفُجَّارَ لَفِیْ جَحِیْمٍۚۖ Open ayah 82:14 in the Quran reader

اور بدکار دوزخ میں ہوں گے۔

یَّصْلَوْنَهَا یَوْمَ الدِّیْنِ Open ayah 82:15 in the Quran reader

انصاف کے دن اس میں داخل ہوں گے

وَ مَا هُمْ عَنْهَا بِغَآئِبِیْنَؕ Open ayah 82:16 in the Quran reader

اور وہ اس دوزخ سے کہیں جانے نہ پاویں گے۔

وَ مَاۤ اَدْرٰىكَ مَا یَوْمُ الدِّیْنِۙ Open ayah 82:17 in the Quran reader

اور تجھے کیا معلوم کیا ہے انصاف کا دن۔

ثُمَّ مَاۤ اَدْرٰىكَ مَا یَوْمُ الدِّیْنِؕ Open ayah 82:18 in the Quran reader

پھر (کہتے ہیں) تجھے کیا خبر کہ انصاف کا دن کیا ہے ؟

یَوْمَ لَا تَمْلِكُ نَفْسٌ لِّنَفْسٍ شَیْئًا١ؕ وَ الْاَمْرُ یَوْمَئِذٍ لِّلّٰهِ۠ Open ayah 82:19 in the Quran reader

جس دن کسی کا کسی کے لیے کچھ بھی بس نہ چلے گا اور اس دن اللہ ہی کی حکومت ہوگی۔

ترکیب ¦ ان الابرار الجملۃ وما ہو معطوف علیھا اعنی الجملتہ الثانیہ مستانفۃ لبیان نتیجہ الحفظ والکتاب من الثواب والعذاب یصلونھا الجملۃ اما صفۃ لجحیم اومستانفۃ جواب لسوال مقدر کانہ قیل ماحالھم فقال یصلونھا الخ وقیل حال من الضمیر فی متعلق الجار والمجرور ویوم منصوب بیصلون قراء الجمہور مخففا مبنیاللفاعل وقریٔ مشدد مبنیا للمفعول وماھم الخ وھذہ الجملۃ ایضا صفۃ لحجیم وما ادراک تفخیم لشان یوم الدین ولذاکرہ یوم لا تملک قریٔ یوم بالرفع قرء ھا ابن کثیر وابو عمرو علی انہ بدل من یوم الدین او خبر مبتداء محذوف وقراء ابو عمروفی روایۃ عنہ بالتنوین والقطع عن الاضافۃ وقراء الباقون بفتحہ وفیہ وجوہ الاول باضما ریدانون لان الدین یدل علیہ والثانی باضمارا ذکروا والثالث قول الزجاج وھوان یکون فی موضع رفع الاانہ مبنی علی الفتح لاضافۃ الی قولہ لا تملک والمضاف الی غیر المتمکن یبنٰی علی الفتح وان کان فی موضع رفع وجرقال الواحدی قول الزجاج انما یجوز عند الخلیل وسیبویہ اذا کانت الاضافۃ ای الفعل الماضی نحو قولک علی حین عاتبت واما اذا کانت الاضافۃ الی المستقبل فلا یجوز عند الکوفیین الرابع قول ابو علی وھوان الیوم لما جری فی اکثر الامر ظرفاترک علی حالۃ الاکثریۃ والدلیل علیہ قول العرب۔ والامر مبتداء یومئذ للہ خبرہ رفع ابن کثیر یوم علی البدل من یوم الدین او خبر لمحذوفٍ ۔ تفسیر ¦ اب یہاں سے اس جزا کی تفصیل و تشریح فرماتا ہے کس لیے کہ پہلے اس کو ثابت کرلیا فقال ان الابرار لفی نعیم کہ بیشک نیک بندے نعمت میں ہوں گے یعنی بہشت میں کس لیے کہ بہشت سے زیادہ اور کیا نعمت ہے۔ جہاں کھانے اور پینے اور مکان و لباس و ہم جلیس کے متعلق سب دلخواہ سامان ہیں اور اس پر حیات ابدی بھی ہے اور کوئی مرض ‘ رنج ‘ موت ‘ بڑھاپا نہیں اور سب سے بڑھ کر وہاں دیدارِ الٰہی بھی ہے۔ یہ جگہ کسی ملک کے باشندوں یا کسی قوم یا خاندان کے لوگوں کا حصہ نہیں بلکہ ابرار کا ہے کوئی ہو۔ بر کی تفصیل : بر یعنی نیکی کی تفسیر خود خدا تعالیٰ نے اپنی کتاب میں فرما دی ہے۔ لیس البر الخ کہ نیکی یا نیک کون ہے جو ایمان لاوے اور پھر نیک کام کرے۔ ایمان و عمل صالح ہوں تو نیک ہے ورنہ دنیا کی مشہور نیکی کسی کام کی نہیں۔ یہ تو نیکوں کا انجام کار تھا۔ اب بدوں کا انجام کار بیان فرماتا ہے۔ فقال وان الفجار لفی جحیم اور بد یعنی جو ایمان اور عمل صالح دونوں نہیں رکھتے یا ان دونوں میں سے ایک نہیں رکھتے۔ اگر ایمان نہیں تو بھی فاجر ہے اور ایمان ہے مگر نیک کام نہیں بلکہ گناہ کرتا ہے۔ چوری ٗ زنا ٗ شراب خواری ٗ ترک صوم و صلوٰۃ ‘ حج و زکوٰۃ ‘ ظلم و دغا ‘ ناچ و رنگ میں مبتلا ہے تو بھی فاجر ہے مگر اولیٰ سے کم کس لیے کہ ایمان کی بدولت آخرکار اس کی نجات ہے۔ فاجر بھی کوئی ہو امیر ہو غریب ہو ‘ بادشاہ ہو ‘ عزت دار ہو خواہ ذلیل ہو کسی بزرگ کی اولاد ہو۔ کسی مقدس شہر کا رہنے والا ہو سب کے لیے حکم عام ہے۔ فائدہ 1: علمائِ بدیع کہتے ہیں کہ اس آیت میں کئی صفتیں موجود ہیں۔ اول جمع و تقسیم وہ یہ کہ اول چند اشیاء کو جمع کرلیا جاوے اور پھر تقسیم کیا جاوے سو یہاں بھی ایسا ہی ہوا ہے جمع وان علیکم لحافظین الخ میں تھا کہ سب کو ایک حکم میں جمع کرلیا کہ سب پر محافظ کراماً کاتبین مقرر ہیں۔ پھر یہاں تفریق کردی کہ ان میں سے نیک نعیم میں اور بدجحیم میں ہوں گے۔ دوم صنعت ترصیع ہے اور کلام مرصع وہ ہے کہ دونوں فقروں میں ایسے الفاظ استعمال ہوں کہ جن کا وزن برابر ہو سجع یعنی اخیر کا حرف ایک ہو۔ یہاں یہ بات بھی ہے۔ ابرار کے مقابلہ میں فجار نعیم کے مقابلہ میں جحیم میں ہم وزن ہے۔ سوم صنعت تضاد بھی ہے جس کو اطباق و تطبیق کہتے ہیں کس لیے کہ ابرار کی ضدفجار اور نعیم کی ضد جحیم ایک کلام میں جمع ہے۔ اس کے بعد کسی قدر جحیم کے ہولناک احوال بیان فرماتا ہے تاکہ ان کو سن کر لوگ فجور سے باز آویں (اول) یصلونہا یوم الدین کہ اس جحیم میں جزا کے دن فاجر داخل ہوں گے یعنی جس طرح دنیا میں حیلہ بہانہ سے یا بھاگ کر قید خانہ سے بچ جاتے ہیں یا قید خانہ کے حکام کو رشوت دے کر خوشامد و منت کرکے بچ جاتے ہیں۔ ایسا وہاں نہ ہوگا وہ قید خانہ ایسا نہیں کہ جو مجرم اس سے بچ سکے۔ معاذ اللہ دوم۔ وما ھم عنہا بغائبین۔ کہ اس جحیم سے وہ غائب بھی نہ ہو سکیں گے۔ قید خانہ سے خلاصی کی ایک یہ بھی صورت ہوتی ہے کہ قیدی مرجائے اور مر کر چھوٹ جاوے اور دوسری صورت یہ بھی ہوتی ہے کہ کسی تدبیر سے داخل ہو کر نکل جائے ٗ دیوار پھاند کر بھاگ جائے یا نگہبانوں سے چھپ کر نکل جائے یا زبردستی سے نکل جاوے یا رشوت دے کر نکل جاوے۔ سو یہ بھی وہاں نہ ہوگا ان سب باتوں کی نفی اس ایک جملہ وما ھم عنہا بغائبین میں کردی کہ وہاں یہ باتیں نہ ہونے پاویں گی۔ معتزلہ کا مذہب اور اس کا رد : اس جگہ سے معتزلہ نے یہ ثابت کیا ہے کہ مسلمان کبیرہ گناہ کرنے والے بھی ہمیشہ جہنم میں رہیں گے۔ کس لیے کہ وہ بھی فاجر ہیں اور فاجروں کی نسبت آگیا ہے۔ وما ھم عنہا بغائبین کہ وہ وہاں سے غائب نہ ہوں گے یعنی کبھی نہ نکلیں گے جیسا کہ ایک جگہ آیا ہے۔ وما ھم بخارجین منہا اس کا جواب امام رازی (رح) نے یوں دیا ہے کہ یہ تمہارا عقیدہ قطعی ہے اور الفاظ کی عموم پر دلالت ظنیہ ہے۔ پھر اس سے ثبوت کرنا بیکار ہے اور ظن اس لیے کہ استعمال جمع معرف باللام کا معہود سابق میں اکثر ہوا کرتا ہے۔ پس محتمل ہے کہ یہاں الفجار سے مراد کافر ہوں جن کا ذکر چلا آتا ہے جو روز جزا کی تکذیب کرتے ہیں۔ اگر عموم کو قطعی بھی مان لیا جاوے تو ہم یہ تسلیم نہیں کرتے کہ اہل کبیرہ فاجر ہیں۔ کس لیے کہ پہلے آچکا ہے اولئک ھم الکفرۃ الفجرۃ کہ کفار ہی کافر و فاجر ہیں اس لیے یہ بات کہ اصحاب الکبائر ہی علی الاطلاق فاجر ہیں غیر مسلم ہے اور اگر یہ بھی تسلیم کرلیا جاوے تو وما ھم عنہا بغائبین کے صدق کے لیے ان فاجروں میں سے کفار کا خلود کافی ہے مگر راقم الحروف کہتا ہے کہ معتزلہ کا اس آیت سے استدلال ہی صحیح نہیں کس لیے کہ مراد یہ ہے کہ وہ ازخود کسی مکر و تدبیر سے وہاں سے نہ نکل سکیں گے۔ نہ یہ کہ خود خدا تعالیٰ انہیں نہ نکالے گا سو یہ ممکن ہے کہ وہ ان میں سے اہل الکبائر کو رہائی دے دے ممکن ہے کہ ایک مدت کے بعد اپنے فضل و کرم سے یا شفاعت سے انہیں رہائی دے۔ جیسا کہ احادیث صحیحہ میں موجود ہے۔ واللہ اعلم۔ اس کے بعد اس روز کی شدت کے اظہار کے لیے آپ ہی پوچھتا ہے وما ادراک ما یوم الدین کہ اے انسان ! تو کیا جانے کہ کیا ہے جزا کا دن ؟ پھر اس کا اعادہ کرتا ہے۔ ثم ما ادراک ما یوم الدین پھر تو کیا جانے کہ کیا ہے جزا کا دن ؟ یہ اس لیے کہ دنیا کے جس قدر مصائب ہیں اس روز کے مصائب کے آگے کچھ بھی نہیں پھر انسان اس کی حقیقت سے کیونکر واقف ہو سکے۔ اس کے سوا جزا کا معاملہ بھی عقل میں اچھی طرح سے نہیں آسکتا کہ انسان کے اعمال کیونکر اپنی مناسب اشکال میں متشکل ہو کر راحت و رنج کا باعث ہوں گے ؟ خیر حقیقت جزا تو کیا جانیں گے اس لیے وہاں کی ایک ہی بات پر سخن تمام کرتے ہیں یوم لا تملک نفس لنفس شیئا کہ اس روز کوئی کسی کے لیے کچھ بھی اختیار نہ رکھے گا نہ بھائی نہ باپ نہ یار نہ کوئی اور اہل قرابت کچھ کام آئے گا جیسا کہ دنیا میں شریک ہوجاتے ہیں اور دفع مصیبت میں کوشش کرتے ہیں وہاں یہ نہ ہوگا۔ فائدہ 2: نفس نکرہ لنفس نکرہ شیئا نکرہ تینوں نکروں کے عموم نے یہ بات بتا دی کہ اس روز کسی کا بھی اختیار نہ ہوگا والامر یومئذ للہ اس روز اللہ ہی کا اختیار ہوگا۔ برخلاف دنیا کے کہ بیوی پر میاں کی حکومت ہوتی ہے۔ آقا کو نوکر اور غلام پر بادشاہ کی رعیت پر مگر اس روز بجز اس کے اور کسی کی حکومت نہ ہوگی۔ فائدہ 3: اس آیت سے شفاعت کا رد کرنا جیسا کہ معتزلہ کرتے ہیں غلط فہمی ہے کس لیے کہ شفاعت اپنا اختیار نہیں بلکہ خدا کی طرف سے اور اس کے حکم سے سو وہ بھی اسی کا امر ہے۔