81. Surah At-Takwir

التكويرThe Overthrowing · 29 ayahsجواھر القرآن

Ayahs 81:1–5

اِذَا الشَّمْسُ كُوِّرَتْ۪ۙ Open ayah 81:1 in the Quran reader

جب سورج کی2 دھوپ تیز ہوجائے

وَ اِذَا النُّجُوْمُ انْكَدَرَتْ۪ۙ Open ayah 81:2 in the Quran reader

اور جب تارے میلے ہوجائیں

وَ اِذَا الْجِبَالُ سُیِّرَتْ۪ۙ Open ayah 81:3 in the Quran reader

اور جب پہاڑ چلائے جائیں

وَ اِذَا الْعِشَارُ عُطِّلَتْ۪ۙ Open ayah 81:4 in the Quran reader

اور جب بیاتی اونٹنیاں چھٹی پھریں

وَ اِذَا الْوُحُوْشُ حُشِرَتْ۪ۙ Open ayah 81:5 in the Quran reader

اور جب جنگل کے جانوروں میں رول پڑجائے

2:۔ حضرت ابی بن کعب ؓ فرماتے ہیں وفزعت الجن الی الانس، والانس الی الجن واخلطت الدواب والطیر والوحوش ماجوا بعضہم فی بعض (ابن جریر ج 30 ص 63) ۔ حضرت علامہ شبیر احمد عثمانی (رح) فرماتے ہیں۔ یعنی جنگل کے جانور جو آدمی کے سایہ سے بھاگتے ہیں مضطرب ہو کر شہر میں آ گھسیں اور پالتو قسم کے جانوروں میں مل جائیں جیسا کہ اکثر خوف کے وقت دیکھا گیا ہے۔
Ayahs 81:6–14

وَ اِذَا الْبِحَارُ سُجِّرَتْ۪ۙ Open ayah 81:6 in the Quran reader

اور جب دریاف 3 جھونکے جائیں

وَ اِذَا النُّفُوْسُ زُوِّجَتْ۪ۙ Open ayah 81:7 in the Quran reader

اور جب جیون کے جوڑے باندھے جائیں

وَ اِذَا الْمَوْءٗدَةُ سُئِلَتْ۪ۙ Open ayah 81:8 in the Quran reader

اور جب بیٹی جیتی گاڑ دی گئی کو پوچھیں

بِاَیِّ ذَنْۢبٍ قُتِلَتْۚ Open ayah 81:9 in the Quran reader

کہ کس گناہ پر وہ ماری گئی

وَ اِذَا الصُّحُفُ نُشِرَتْ۪ۙ Open ayah 81:10 in the Quran reader

اور جب اعمالنامے کھولے جائیں

وَ اِذَا السَّمَآءُ كُشِطَتْ۪ۙ Open ayah 81:11 in the Quran reader

اور جب آسمان کا پوست اتارلیں

وَ اِذَا الْجَحِیْمُ سُعِّرَتْ۪ۙ Open ayah 81:12 in the Quran reader

اور جب دوزخ دہکائی جائے

وَ اِذَا الْجَنَّةُ اُزْلِفَتْ۪ۙ Open ayah 81:13 in the Quran reader

اور جب بہشت پاس لائی جائے

عَلِمَتْ نَفْسٌ مَّاۤ اَحْضَرَتْؕ Open ayah 81:14 in the Quran reader

جان لے گا ہر ایک جی جو لے کر آیا

3:۔ ” واذا البحار سجرت “ اور جب دریا پانی سے بھر دئیے جائیں۔ زلزلہ قیامت کی وجہ سے سمندر میں ایسا ابال آئے گا کہ تمام دریا پانی سے بھر جائیں گے، بلکہ خشکی بھی زیر آب ہوجائے گی۔ یہاں تک وہ چھ احوال مذکور ہوئے جو نفخہ اولی کے بعد ظاہر ہوں گے آگے ان احوال کا بیان ہے جو نفخہ ثانیہ کے بعد ظہور پذیر ہوں گے۔ ” واذا النفوس زوجت “ اور جب روحیں بدنوں سے ملا دی جائیں گی اور تمام مردے زندہ ہوجائیں گے یہ نفخہ ثانیہ کے بعد کے احوال میں سے پہلا حال ہے۔ ” واذا الموء ودۃ سئلت “ اور جب زندہ درگور لڑکی کے بارے میں اس کو زندہ دفن کرنے والے سے پوچھا جائے گا کہ اس کو کس جرم میں قتل کیا گیا۔ ” واذا الصحف نشرت “ اور جب اعمالنامے حساب کتاب کے لیے کھولے جائیں گے یا مومنوں اور کافروں کے درمیان ان کے اعمالنامے تقسیم کیے جائیں گے۔ ” واذا السماء کشطت “ اور جب آسمان چھیل دئیے جائیں گے۔ ” واذا الجحیم شعرت “ اور جب دوزخ بھڑکا دیا جائے گا۔ ” واذا الجنۃ “ اور جب جنت نزدیک کردی جائیگی۔ ” علمت نفس ما احضرت “ یہ تمام قسموں کا جواب ہے جب مذکورہ بالا امور ظاہر ہوں گے یعنی قیامت قائم ہوجائے گی اس وقت ہر شخص کو اپنے اعمالِ خیر و شر معلوم ہوجائیں گے جو اس نے دنیا میں کیے تھے۔
Ayahs 81:15–18

فَلَاۤ اُقْسِمُ بِالْخُنَّسِۙ Open ayah 81:15 in the Quran reader

سو قسم4 کھاتا ہوں پیچھے ہٹ جانے والوں

الْجَوَارِ الْكُنَّسِۙ Open ayah 81:16 in the Quran reader

سیدھے چلنے والوں دبک جانے والوں کی

وَ الَّیْلِ اِذَا عَسْعَسَۙ Open ayah 81:17 in the Quran reader

اور رات کی جب پھیل جائے

وَ الصُّبْحِ اِذَا تَنَفَّسَۙ Open ayah 81:18 in the Quran reader

اور صبح کی جب دم بھرے

4:۔ ” فلا اقسم “ یہ تخویف اخروی ہے سورة عبس کے مقابلہ میں بطور ترقی اور دن رات اور تاروں کے احوال سے قیامت کے دن لوگوں کے مختلف احوال پر شواہد پیش کیے گئے ہیں۔ ” الخنس “ خانس اور خانسۃ کی جمع ہے سیدھے چل کر پھر واپس آنے والے۔ ” الجوار “ جاریۃ کی جمع ہے۔ تیزی کے ساتھ رواں دواں۔ ” الکنس “ کانس اور کانسۃ کی جمع ہے یعنی روشنی دکھانے کے بعد تحت الشعاع آکر چھپ جانے والے۔ ” عسعس “ ای ادبر، جب رات اپنی تاریکی کے ساتھ پیٹھ پھیرتی ہے۔ ” تنفس “ ای اسفر، جب صبح کا اجالا نمودار ہوتا ہے جس طرح خمسہ متحیرہ، زحل، مشتری مریخ زہرہ اور عطارد ابتداء سفر میں سیدھے چلتے ہیں پھر الٹے چل کر واپس اپنے مقام میں پہنچ جاتے ہیں اسی طرح تم بھی دنیوی زندگی کا سفر ختم کر کے پھر الٹے پاؤں چل کر جہاں سے آئے تھے وہیں واپس پہنچ جاؤ گے۔ ” الجوار “ تیزی کے ساتھ سیدھے چلنے والے، اسی طرح تم بھی اپنے مقاموں کی طرف سیدھے چلو گے اور جس طرح تارے روشنی دکھانے کے بعد چھپ جاتے ہیں اسی طرح تم دنیا میں زندگی بسر کرنے کے بعد مرجاؤ گے۔ اور جس طرح رات جاتی ہے اور اس وقت مختلف حالات پیدا ہوتے ہیں اور صبح ہوتی ہے اور مختلف حالات آتے ہیں۔ اسی طرح تم بھی مختلف احوال سے گذرو گے۔ جواب قسم محذوف ہے ای لترکبن طبقا عن طبق بقرینۃ فلا اقسم بالشفق الخ (انشقاق) ۔
Ayahs 81:19–21

اِنَّهٗ لَقَوْلُ رَسُوْلٍ كَرِیْمٍۙ Open ayah 81:19 in the Quran reader

مقرر5 یہ کہا ہے ایک بھیجے ہوئے عزت والے کا

ذِیْ قُوَّةٍ عِنْدَ ذِی الْعَرْشِ مَكِیْنٍۙ Open ayah 81:20 in the Quran reader

قوت والا عرش کے مالک کے پاس درجہ پانے والا

مُّطَاعٍ ثَمَّ اَمِیْنٍؕ Open ayah 81:21 in the Quran reader

سب کا مانا ہوا وہاں کا معتبر ہے

5:۔ ” انہ لقول “ یہ زجر کے لیے تمہید ہے اور دلیل وحی کی طرف اشارہ ہے یعنی عقلی نمونہ اور دلیل وحی کی طرف اشارہ ہے یعنی عقلی نمونہ تو تم نے سن لیا اب یہ بھی سن لو کہ میں جو کچھ کہتا ہوں اپنی طرف سے نہیں کہتا بلکہ وحی سے کہتا ہوں اور وحی وہ فرشتہ لاتا ہے جو بڑی قوت کا مالک اور عرش والے بادشاہ کے نزدیک بڑی عزت اور بڑے مرتبے والا اور امین ہے۔ وہ ساتوں آسمانوں کے فرشتوں میں حاکم مطاع ہے تمام فرشتے اس کے احکام کی تعمیل کرتے ہیں مراد جبریل (علیہ السلام) ہیں۔
Ayahs 81:22–23

وَ مَا صَاحِبُكُمْ بِمَجْنُوْنٍۚ Open ayah 81:22 in the Quran reader

اور یہ6 تمہارا رفیق کچھ دیوانہ نہیں

وَ لَقَدْ رَاٰهُ بِالْاُفُقِ الْمُبِیْنِۚ Open ayah 81:23 in the Quran reader

اور اس نے دیکھا ہے اس فرشتہ کو آسمان کے کھلے کنارہ کے پاس

6:۔ ” وما صاحبکم “ یہ مشرکین کے لیے زجر ہے جو آنحضرت ﷺ کو مجنون کہتے تھے فرمایا آپ مجنون نہیں ہیں۔ قرآن ایسا فصیح وبلیغ اور حکمت و معرفت سے لبریز کلام کسی مجنون کی زبان پر جاری نہیں ہوسکتا۔ آپ وحی لانے والے فرشتے کو بھی افق پر اس کی اصلی شکل میں دیکھ چکے ہیں۔
Ayahs 81:24–28

وَ مَا هُوَ عَلَى الْغَیْبِ بِضَنِیْنٍۚ Open ayah 81:24 in the Quran reader

اور7 یہ غیب کی بات بتانے میں بخیل نہیں

وَ مَا هُوَ بِقَوْلِ شَیْطٰنٍ رَّجِیْمٍۙ Open ayah 81:25 in the Quran reader

اور یہ کہا ہوا نہیں کسی شیطان مردود کا

فَاَیْنَ تَذْهَبُوْنَؕ Open ayah 81:26 in the Quran reader

پھر تم کدھر چلے جا رہے ہو

اِنْ هُوَ اِلَّا ذِكْرٌ لِّلْعٰلَمِیْنَۙ Open ayah 81:27 in the Quran reader

یہ تو ایک نصیحت ہے جہان بھر کے واسطے

لِمَنْ شَآءَ مِنْكُمْ اَنْ یَّسْتَقِیْمَؕ Open ayah 81:28 in the Quran reader

جو کوئی چاہے تم میں سے کہ سیدھا چلے

7:۔ ” وما ھو “ ” ضنین “ کے معنی بخیل کے ہیں یعنی اللہ کی طرف سے جو علوم و معارف آپ پر نازل ہوتے ہیں، ان کی تعلیم و تبلیغ میں آپ بخل نہیں کرتے۔ یہ قرآن وحی الٰہی ہے۔ شیطانی کلام یا شیطانی القاء نہیں ہے۔ ” فاین تذھبون “ تم کدھر جارہے ہو اور کس قدر بےعقلی کی باتیں کرتے ہو، ایسی عظیم الشان کتاب میں غور و فکر کر کے اس سے ہدایت حاصل نہیں کرتے ہو۔ حالانکہ یہ کتاب تمام جہانوں کے لیے ہدایت اور نصیحت ہے۔ تم میں سے ہر اس شخص کے لیے نصیحت ہے جو سیدھی راہ پر اور دین اسلام پر چلنا اور اس پر قائم رہنا چاہے۔ قرآن بیشک تمام بنی آدم کے لیے ہدایت نامہ ہے مگر اس سے فائدہ صرف وہی اٹھائیں گے جو ضد و تعصب سے بالا تر ہو کر انصاف کی نظر سے اس کا مطالعہ کریں گے اور حق و صداقت کی جستجو کا جذبہ بھی ان کے سینوں میں موجزن ہوگا۔
Ayah 81:29

وَ مَا تَشَآءُوْنَ اِلَّاۤ اَنْ یَّشَآءَ اللّٰهُ رَبُّ الْعٰلَمِیْنَ۠ Open ayah 81:29 in the Quran reader

اور8 تم جبھی چاہو کہ چاہے اللہ سارے جہان کا مالک

8:۔ ” وما تشاءون “ لیکن تمہارے ارادے اللہ تعالیٰ کی مشیت کے تابع ہیں اور ہدایت و ضلالت اللہ کے اختیار میں ہے۔ ہدایت صرف ان کو نصیب ہوتی ہے جو خدا کی طرف نابت اور رجوع کرنے والے ہوں اور ہدایت حاصل کرنا چاہتے ہوں لیکن جو لوگ حق کو سمجھ کر محض ضد وعناد کی وجہ سے حق کو ٹھکراتے ہیں ان کے دلوں پر مہر جباریت لگا دی جاتی ہے اور ان کو ہدایت کی توفیق سے محروم کردیا جاتا ہے۔ سورة التکویر ختم ہوئی