وَاِذَا الْوُحُوْشُ حُشِرَتْ ۟وَاِذَا الۡوُحُوۡشُ حُشِرَتۡ
اور جب وحشی جانور جمع اکٹھے ہو جائیں گے
— Fateh Muhammad Jalandhari
And when the wild beasts are gathered
— Saheeh International
Juz 30 · Ruku 1 of surah · Ruku 6 of juz
وَاِذَا الْوُحُوْشُ حُشِرَتْ ۟وَاِذَا الۡوُحُوۡشُ حُشِرَتۡ
اور جب وحشی جانور جمع اکٹھے ہو جائیں گے
— Fateh Muhammad Jalandhari
And when the wild beasts are gathered
— Saheeh International
Juz 30 · Ruku 1 of surah · Ruku 6 of juz
Read the whole surah · Surah At-Takwir
اور جب جنگلی جانور سمیٹ کر اکٹھے کر دیے جائیں گے
اور جب وحشی جانور جمع اکٹھے ہو جائیں گے
اور جب وحشی جانور اکھٹے کیے جائیں گے
اور جب وحشی جانور اکٹھے کردیے جائیں گے۔
اور جب وحشی جانور جمع کیے جائیں
اور جب وحشی جانور (خوف کے مارے) جمع کر دیئے جائیں گے،
اور جب جنگلی جانور اکٹھے کیے جائیں گے۔
اور جنگلی جانور اکٹھے کردیئے جائیں گے
وحشی جانور اکٹھے ہوجائیں گے
اور جب اکٹھا کردیا جائے گا وحشی جانوروں کو
اور جب وحشی جانور اکھٹے کردیئے جائیں
اور جب وحشی جانور جمع کردیے جائیں گے۔
اور جب وحشی جانور سمیٹ کر جمع کئے جائیں گے
when the savage beasts shall be brought together,
and when the wild beasts will be gathered together,
and when the wild beasts will be gathered together,
And when the wild beasts are gathered together.
And when the wild beasts are herded together,
— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran
And when the wild beasts are gathered
the wild beasts are herded together,
And when the wild animals are made to go forth,
And when the wild beasts shall be gathered together,
When the wild beasts are herded together (in the human habitations);
— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary
Explained with ayahs 1–14
یعنی سوج بےنور ہوجائیگا، جاتا رہے گا اوندھا کر کے لپیٹ کر زمین پر پھینک دیا جائیگا ابن عباس ؓ فرماتے ہیں سورج چاند اور ستاروں کو لپیٹ کر بےنور کر کے سمندروں میں ڈال دیا جائیگا اور پھر مغربی ہوائیں چلیں گی اور آگ لگ جائیگی ایک مرفوع حدیث میں ہے کہ اس کو تہہ کر کے جہنم میں ڈال دیا جائیگا (ابن ابی حاتم) اور ایک حدیث میں سورج کے ساتھ چاند کا ذکر بھی ہے لیکن وہ ضعیف ہے صحیح بخاری میں یہ حدیث الفاظ کی تبدیلی سے مروی ہے، اس میں ہے کہ سورج اور چاند قیامت کے دن لپیٹ لیے جائیں گے امام بخاری اسے کتاب بدء الخلق میں لائے ہیں لیکن یہاں لانا زیادہ مناسب تھا یا مطابق عادت وہاں اور یہاں دونوں جگہ لاتے جیسے کہ…
Read the full tafseer →سورة التَّكْوِیْر 5 دنیا میں جب کوئی عام مصیبت کام موقع آتا ہے تو ہر قسم کے جانور بھاگ کر ایک جگہ اکٹھے ہوجاتے ہیں۔ اس وقت نہ سانپ ڈستا ہے، نہ شیر پھاڑتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–5
وَاِذَا الْعِشَارُ عُطِّلَتْ ، یہ عرب کی عادت کے مطابق بطور مثال کے فرمایا ہے کیونکہ اسکے پہلے مخاطب عرب لوگ تھے انکے نزدیک دس مہینے کی گابھن اونٹنی ایک بڑی دولت سمجھی جاتی تھی کہ اس سے دودھ اور بچے کا انتظار ہوتا تھا اور وہ اس کی دم سے لگے پھرت تھے، کسی وقت اس کو آزاد نہ چھوڑتے تھے۔
Read the full tafseer →وحشی جانوروں کا حال: یعنی انسان تو انسان اس دن کے ہول سے وحشی جانوروں پر بھی ایسی نفسی نفسی کی حالت طاری ہو گی کہ ان کو جس جگہ پناہ ملنے کی توقع ہو گی، آپس کی فطری دشمنیاں بھول کر سب اکٹھے ہو جائیں گے۔ جنگل میں آگ لگ جائے یا سیلاب کا پانی پھیل جائے تو جنگلی جانور سراسیمگی کی حالت میں ٹیلے اور ٹیکرے پر ان کو پناہ ملنے کی توقع ہو وہاں اکٹھے ہو جاتے ہیں اور مشترک مصیبت کا ہول ان پر ایسا طاری ہوتا ہے کہ بکری، شیر اور بھیڑیے پاس پاس کھڑے ہوتے ہیں لیکن کسی کو ہوش نہیں رہتا کہ اس کا حریف یا شکار اس کی بغل میں ہے۔ یہی صورت حال خوفناک ترین شکل میں ظہور قیامت کے وقت پیش آئے گی۔ آگے والی آیت: ’وَإِذَا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–6
5۔ 1 یعنی انہیں بھی قیامت والے دن جمع کیا جائے گا
Read the full tafseer →3: حُشِرَتْ : قیامت کے ہولناک منظر کو دیکھ کر سارے وحشی جانور بھی گھبراہٹ کے عالم میں اکھٹے ہوجائیں گے، جیسے کہ کسی عام مصیبت کے موقع پر تنہا رہنے کے بجائے دوسروں کے ساتھ رہنے کو پسند کیا جاتا ہے۔
Read the full tafseer →واذا .................... حشرت (5:81) ” اور جب جنگلی جانور سمیٹ کر اکٹھے کردیئے جائیں گے “۔ یہ وحوش جو انسانوں سے اور خود ایک دوسرے سے دور بھاگتے ہیں۔ ایسے خوفزدہ ہوں گے اور اس طرح ایک جگہ جمع ہوجائیں گے بجائے پہاڑوں میں بکھرنے کے اور اپنے اپنے سوراخوں ، غاروں اور بلوں میں گھسنے کے ، جو ان کا معمول ہوتا ہے ، ایک جگہ جمع ہوں گے ، نہ ان کو انسانوں سے خوف ہوگا اور نہ ایک دوسرے سے۔ درندے اپنے شکار کو بھول جائیں گے ، ادھر ادھر بھاگتے پھریں گے اور اپنے غاروں میں پناہ نہ لیں گے جیسا کہ بالعموم وہ ایسے بلوں میں گھس جانے کے عادی ہوتے ہیں۔ نہ شکاری درندہ شکار کے پیچھے بھاگے گا اور یہ حالت اس لئے ہوگی…
Read the full tafseer →9 یعنی جنگل کے وحشی جانور جو آدمی کے سایہ سے بھاگتے ہیں مضطرب ہو کر شہر میں آگھسیں اور پالتو جانوروں میں مل جائیں جیسا کہ اکثر خوف کے وقت دیکھا گیا ہے۔ ابھی چند سال ہوئے گنگا جمنا میں سیلاب آیا تھا تو لوگوں نے دیکھا کہ ایک چھپر بہتا جا رہا ہے اس پر آدمی بھی ہیں اور سانپ وغیرہ بھی لپٹ رہے ہیں ایک دوسرے سے کچھ تعرض نہیں کرتا۔ نفسی نفسی پڑی ہوئی ہے بلکہ زیادہ سردی کے زمانہ میں بعض درندے جنگل سے شہر میں گھس آتے ہیں۔ (تنبیہ) بعض مفسرین نے " حُشِرَتْ " کے معنے مارنے کے اور بعض نے مار کر اٹھانے کے لئے ہیں۔ واللہ اعلم۔
Read the full tafseer →آیت 5{ وَاِذَا الْــوُحُوْشُ حُشِرَتْ۔ } ”اور جب وحشی جانور جمع کردیے جائیں گے۔“ عام طور پر جنگلی جانور ایک دوسرے سے دور بھاگتے ہیں ‘ لیکن اس دن خوف کے مارے ان کی وحشت بھی جاتی رہے گی اور مختلف اقسام کے جانور بھی اکٹھے ہوجائیں گے۔
Read the full tafseer →6 یہ بھی قیامت کی دہشت کا اثر ہوگا اور اس دہشت کا اثر جانوروں پر یہ ہوگا کہ مثلاً سانپ کو ڈسنے کا ہوش نہ رہے گا اور شیر کو پھاڑ کھانے کا۔ یہ سب وحشی جانور انسانوں کی آبادیوں اور شہروں کی طرف نکل آئیں گے اور اپنے بل اور کچھار وغیرہ چھوڑ دیں گے۔ ایسا منظر سیلاب کے دنوں میں دیکھنے میں آیا ہے کہ لکڑیوں کے سیلاب کے پانی پر تیرتے ہوئے ایک گٹھے پر انسان بھی پناہ لیے بیٹھے ہیں اور سانپ بھی۔ سانپ انسانوں کو کچھ نہیں کہتے اور انسان سانپوں کو بس ہر ایک کو اپنی اپنی پڑی ہوتی ہے۔ قیامت کے وقت بھی یہی حال ہوگا کہ کیا درندے کیا مویشی اور دوسرے جانور اور کیا انسان سب اپنے گھروں سے نکل کر میدانوں میں آ اکٹھے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–6
1۔ یعنی ان کا پانی آگ اور بھاپ میں تبدیل ہوجائے، یہ سارے واقعات و کیفیات صور قیامت کے نفخہ اول کے بیان ہورے ہیں۔ عالم کائنات جو اس وقت تک آباد ہوگا، صور کی پہلی آواز پر یوں ہلاک وبرباد ہونا شروع ہوگا۔ اور اس کی بڑی بڑی مضبوط ومستحکم موجودات یوں درہم وبرہم اور ریزہ ریزہ ہونا شروع ہوں گی۔ (آیت) ” اذا الشمس کورت “۔ یعنی کرۂ آفتاب کی لمبی لمبی شعاعیں جو سارے علم کو منور کرتی رہتی ہیں، لپیٹ کر رکھ دی جائیں یا بےنور ہوجائیں، جس سے عالم تیرہ وتار ہوجائے۔ آفتاب جو محسوسات ومرئیات میں آسمان ہی کی طرح اعظم ترفین مخلوق ہے، جب وہ فناء پر مجبور ہوجائے تو پھر دوسری اور اس سے ادنی مخلوقات کا کیا ذکر ہے !…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–5
وذا العشار عطلت، عربوں کو کسی چیز کی سختی اور ہولناکی کا تصور دلانے کے لئے یہ بہترین طرز بیان تھا، اس زمانہ میں عرب کے نزدیک دس مہینے کی گابھن اونٹنی سے زیادہ قیمتی اور کوئی مال نہیں ہوتا تھا، ایسی اونٹنی کی بہت زیادہ حفاظت اور دیکھ بھال کی جاتی تھی، ایسی اونٹنی سے لوگوں کا غافل ہوجانا گویا یہ معنی رکھتا تھا کہ اس وقت کچھ ایسی سخت افتاد لوگوں پر پڑے گی کہ انہیں اپنے اس عزیز ترین مال کی حفاظت کا بھی ہوش نہ رہے گا۔
Read the full tafseer →واذا الوحوش حشرت . حضرت ابی بن کعب نے فرمایا : حشرت کا معنی یہ ہے کہ ان میں ایک موجی حرکت پیدا ہوگی اور باہم ایک دوسرے میں گھس پڑے گا۔ یہ مطلب بھی کہا گیا ہے کہ چوپایوں کو زندہ کر کے اٹھایا جائے گا اور باہمی قصاص کے لیے جمع کیا جائے گا جیسا کہ آیت : یٰلَیْتَنِیْ کُنْتُ تُرَابًا کی تفسیر کے ذیل میں گزر چکا ہے۔ عکرمہ کی روایت سے حضرت ابن عباس کا قول آیا ہے کہ جانوروں کا حشر ان کی موت ہے۔ یہ بھی فرمایا کہ سوائے جن و انس کے ہر چیز کا حشر اس کی موت ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–7
(3۔ 7) اور جب پہاڑ زمین پر سے ہٹا دیے جائیں گے اور جب گابھن اونٹنیوں کے مالک اپنی مشغولیت کی بنا پر ان سے غافل ہوجائیں گے اور جب قصاص کے لیے تمام جانوروں کو جمع کیا جائے گا، یا یہ کہ گھبراہٹ کی وجہ سے جمع ہوجائیں گے اور جب کھارے دریا کا پانی شیریں میں ملا کر ایک کردیا جائے گا، یا یہ کہ آگ ہوجائیں گے اور جس وقت ایک ایک قسم کے لوگ اکٹھے کیے جائیں گے یعنی اپنے ساتھیوں سے مل جائیں گے کہ نیک نیک کے ساتھ اور گنہگار گنہگار کے ساتھ۔
Read the full tafseer →واذا الوحوش حشرت : جنگلی جانور جو ایک دوسرے سے بھاگتے ہیں، اس گھبراہٹ میں جمع ہوجائیں گے، کوئی کسی کو کچھ نہیں کہے گا۔
Read the full tafseer →واذالوحوش حشرت۔ جب وحشی جانور جمع کیے جائیں گے، حشر کا معنی ہے جمع کرنا۔ یہ حضرت حسن بصری اور قتادہ اور دوسرے علماء کا نقطہ نظر ہے۔ حضر تابن عباس سے مروی ہے کہ حشر کا معنی ہے موت۔ عکرمہ نے ان سے یہ روایت نقل کی ہے کہ حشر سے مراد جنوں اور انسانوں کے علاوہ کی موت ہے۔ کیونکہ یہ دونوں قیامت کے روز پورا پورا حق لیں گے۔ حضرت ابن عباس سے مروی ہے : ہر شی کو دوبارہ اٹھایاجائے گا یہاں تک کہ مکھیوں کو بھی دوبارہ اٹھایاجائے گا، حضرت ابن عباس نے فرمایا، قیامت کے روز وحشی جانوروں کو جمع کیا جائے گا یہاں تک کہ ان سے ایک دوسرے کا قصاص لیاجائے گا، سینگ والے جانور سے بےسینگ جانور کا بدلہ لیاجائے گا پھر انہیں…
Read the full tafseer →20۔ ابن المنذر وابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت واذا الوحوش حشرت سے مراد ہے کہ ہر چیز کو اٹھایا جائے گا حتی کہ مکھیوں کو بھی اکٹھا کیا جائے گا۔
Read the full tafseer →[وَاِذَا الْوُحُوْشُ حُشِرَتْ؛اور جب وحشی جانور اکٹھا کیے جائیں گے ] و ح ش [وَحْشًا : (ض) انسیت نہ پانا۔ وحشت محسوس کرنا۔] [ وَحْشٌ ج وُحُوْشٌ۔ وہ جانور جو انسان سے مانوس نہ ہو۔ وحشی جانور۔ زیر مطالعہ آیت۔ 5 ۔] نوٹ۔ 3: آیت۔ 5 ۔ میں وحشی جانوروں کے اکٹھا ہونے کا مطلب یہ ہے کہ انسان تو انسان، اس دن کے حول سے وحشی جانوروں پر بھی ایسی دہشت طاری ہوگی کہ ان کو جہاں بھی پناہ ملنے کی توقع ہوگی وہ سب وہیں اکٹھا ہوجائیں گے اور آپس کی فطری دشمنیاں بھول جائیں گے۔ جنگل میں آگ لگ جائے یا سیلاب آجائے تو جنگلی جانور جس ٹیلے پر پناہ ملے اکٹھے ہوجاتے ہیں اور اس آفت کا حول ان پر ایسا طاری ہوتا ہے کہ بکری، شیر…
Read the full tafseer →خامساً ﴿ وَ اِذَا الْوُحُوْشُ حُشِرَتْ۪ۙ005﴾ اور جب وحشی جانور جمع کردیئے جائیں۔ مفسرین نے اس کے کئی معنی لکھے ہیں بعض حضرات نے اس کا یہ معنی لیا ہے کہ وحشی جانوروں کو موت آجائے گی اور بعض حضرات نے فرمایا کہ اس سے قیامت کے دن کا محشور ہونا مراد ہے جیسا کہ سورة ٴ نباء کی آخری آیت کی تفسیر میں گزر چکا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ قیامت کے دن ضرور تم حقوق ادا کرو گے یہاں تک کہ بےسینگ والی بکری کو سینگوں والی بکری نے مارا ہوگا تو اس کو بھی بدلہ دلوایا جائے گا، اس میں بطور مثال بکری کا ذکر ہے لیکن دوسرے جانوروں کو حال بھی اسی سے معلوم ہو رہا ہے جس میں وحشی جانور بھی آجاتے ہیں، صاحب روح المعانی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–29
ہولناک مناظر روز قیامت و پیشی اعمال و فیصلہ جزاء وسزا : قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” اذا الشمس کورت ....... الی ...... الا ان یشآء اللہ رب العلمین “۔ (ربط) سورة عبس کا مضمون دراصل اثبات قیامت کے موضوع ہی پر مشتمل تھا اور مقصد بیان یہ تھا کہ انسان کی سعادت و فلاح اور عزت و عظمت اپنی زندگی اپنے پروردگار کے ساتھ وابستہ رکھنے اور فکر آخرت میں ہے، اس کے برعکس وہ مغرور ومتکبر جو نہ خدا پر ایمان لاتا ہے اور نہ ہی اس کو آخرت کی فکر ہے وہ خدا کی نظروں میں ذلیل و حقیر ہے، طالب حق اور سعادت کی فکر میں لگے رہنے والا انسان ہی بارگاہ رسالت میں ہر عزت واکرام کا مستحق ہے، آخر میں قیامت کے روز کی پریشانی اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–5
2:۔ حضرت ابی بن کعب ؓ فرماتے ہیں وفزعت الجن الی الانس، والانس الی الجن واخلطت الدواب والطیر والوحوش ماجوا بعضہم فی بعض (ابن جریر ج 30 ص 63) ۔ حضرت علامہ شبیر احمد عثمانی (رح) فرماتے ہیں۔ یعنی جنگل کے جانور جو آدمی کے سایہ سے بھاگتے ہیں مضطرب ہو کر شہر میں آ گھسیں اور پالتو قسم کے جانوروں میں مل جائیں جیسا کہ اکثر خوف کے وقت دیکھا گیا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–13
(نام و کوائف) اس سورة کا نام سورة تکویر ہے ۔ اس کی پہلی آیت میں کورت کا لفظ آیا ہے جس سے سورة کا نام تکویر ہے ۔ یہ سورة مکی زندگی میں نازل ہوئی ۔ اس کی انتیس 29 آیات ہیں ۔ یہ سورة ایک 104 سو چار الفاظ اور 5202 پانچ ہزار 2 حروف پر مشتمل ہے (موضوع اور گذشتہ سورة سے ربط) اس سورة میں اللہ تعالیٰ نے قیامت کا ذکر اس نسبت سے کیا ہے ۔ کہ کائنات کی ارضی اور سماوی اشیاء پر قیامت کے کیا اثرات مرتب ہوں گے۔ سورة کے آخر میں قرآن کریم کی طرف دعوت دی گئی ہے۔ اور اسکی صداقت وحقانیت کا بیان ہے سابقہ کئی سورتوں میں قیامت کا ذکر مختلف انداز سے آرہا ہے۔ کہ قیامت کا اثر مختلف چیزوں پر کیا ہوگا۔ سورة عبس میں قیامت…
Read the full tafseer →وَاِذَا الْوُحُوْشُ حُشِرَتْ 5 وحش الوحش : خلاف الإنس، وتسمّى الحیوانات التي لا أنس لها بالإنس وحشا، وجمعه : وُحُوش . قال تعالی: وَإِذَا الْوُحُوشُ حُشِرَتْ [ التکوير/ 5] ، والمکان الذي لا أنس فيه : وَحْش، يقال : لقیته بوحش إصمت أي : ببلد قفر، وبات فلان وحشا : إذا لم يكن في جو فه طعام، وجمعه أوحاش، وأرض مُوحِشَة : من الوحش، ويسمّى المنسوب إلى المکان الوَحِش وحشيّا، وعبّر بالوحشيّ عن الجانب الذي يضادّ الإنسيّ ، والإنسيّ هو ما يقبل منهما علی الإنسان، وعلی هذا وحشيّ القوس وإنسيّه . ( و ح ش ) الوحش یہ الانس کی ضد ہے اروی جانور جو انسان سے مانوس نہیں ہوتے ۔ انہیں وحش کہا جاتا ہے ۔ اس کی جمع وحوش…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–10
2 ؎ العشار دس مہینے کی گابھن اونٹنیاں۔ 12 منہ
Read the full tafseer →وَاِذَا الْوُحُوْشُ حُشِرَتْ ۔ (التکویر : 5) (جب وحشی جانور اکٹھے ہوجائیں گے۔ ) وحشی جانوروں کا حال انسانوں میں رنج و غم کو محسوس کرنے کی صلاحیت زیادہ ہے۔ اس لیے وہ ایسے ہر موقع پر شدید تأثر کی گرفت میں آجاتے ہیں۔ لیکن قیامت کی ہولناکی کا عالم یہ ہوگا کہ صرف انسان ہی نہیں، وحشی اور جنگلی جانور بھی بری طرح اس کی گرفت میں ہوں گے۔ وحشی جانوروں کی سرشت یہ ہے کہ وہ کبھی اپنی وحشت اور درندگی سے باز نہیں آتے۔ بچھو کو ڈوبتے ہوئے نکال کر ہتھیلی پر رکھ لیا جائے تو وہ اس حال میں بھی ڈنک مارنے سے باز نہیں آتا۔ اور جن درندوں کی گزربسر گوشت خوری پر ہے وہ کبھی اپنے شکار کو دیکھ کر صبر نہیں کرسکتے۔ لیکن جب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–6
فہم القرآن ربط سورت : سورت عبس کا اختتام اس بات پر کیا گیا کہ جو لوگ قیامت کا انکار کرتے ہیں ان کے چہروں پر ذلّت اور سیاہی چھائی ہوگی۔ التکویر میں قیامت کے ابتدائی مراحل ذکر فرما کر بتلایا ہے کہ انسان نے دنیا میں رہ کر جو کچھ کیا ہوگا وہ قیامت کے دن اس کے سامنے پیش کردیا جائے گا۔ اس حالت میں کہ اس کے ایک طرف جہنم دھک رہی ہوگی اور دوسری طرف جنت مہک رہی ہوگی۔ اس سورة کی ابتدا میں قیامت کے پہلے ہولناک مرحلہ کا منظر پیش کیا گیا ہے اسرافیل جونہی پہلی صور پھونکے گا تو زمین و آسمانوں میں ہلچل مچ جائے گی۔ ہر جاندار موت کے گھاٹ اتر جائے گا یہاں تک کہ سورج اپنی روشنی اور حرارت کھو بیٹھے گا۔ جس کے لیے ”…
Read the full tafseer →5 : وَاِذَا الْوُحُوْشُ حُشِرَتْ ( اور جب وحشی جانور سب جمع ہوجائیں گے) ہر جانب سے جمع ہوجائیں گے۔ قولِ قتادہ (رح) : ہر چیز یہاں تک کہ مکھیوں کو بھی قصاص کیلئے اٹھایا جائے گا۔ جب ان کے مابین فیصلہ ہوچکے گا تو ان کو مٹی کردیا جائے گا۔ ان میں صرف وہ باقی رہ جائے گا۔ جس میں بنی آدم کے لئے خوش کن پہلو ہیں مثلاً مور وغیرہ۔ قول ابن عباس ؓ : ان کا حشر ان کی موت ہے عرب کہتے ہیں جب سال لوگوں اور ان کے اموال کیلئے پریشانی والا ہوتا ہے ‘ تو کہتے ہیں : حشرتہم السنۃ۔ سال نے ان کو ہلاک کردیا۔
Read the full tafseer →4 ۔” واذا العشار عطلت “ اور وہ حاملہ اونٹنیاں جن کے حمل دس ماہ پورے ہوگئے ہوں اس کا واحد عشراء ہے۔ پھر یہ نام اس کا تب تک رہتا ہے جب وہ مکمل سال ہونے پر بچہ پیدا کرے اور یہ عرب کے ہاں عمدہ ترین مال ہے۔ ” عطلت “ بغیرچرواہے کہ چھوڑی گئی ہوگی، اس کے مالکوں نے اس کو چھوڑ دیا ہوگا حالانکہ وہ تو اس کی دم کو چمٹے رہتے تھے اور ان کے ہاں اس سے زیادہ اچھا اور عمدہ کوئی مال نہ تھا تو جب ان پر قیامت کی ہولناکیاں آئیں گی تو اس کو بھی چھوڑ دیں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–14
1۔ 14۔ صحیح بخاری وغیرہ میں حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا قیامت کے دن سورج اور چاند کو لپیٹ کر دوزخ میں ڈال دیا جائے گا اس حدیث کی شرح میں علماء نے لکھا ہے کہ دنیا میں بعض لوگ سورج اور چاند کو پوجا کرتے ہیں ان کے ذلیل کرنے کے لئے سورج اور چاند کو دوزخ کی آگ میں جھونکا جائے گا۔ مسند امام احمد ترمذی 2 ؎ مستدرک حاکم طبرانی وغیرہ میں حضرت عبد اللہ بن عمر سے جو روایتیں ہیں ان کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ جس شخص کو یہ منظور ہو کہ قیامت کو دنیا میں بھی اپنی آنکھوں کے سامنے دیکھ لے تو اس کو چاہئے کہ اذا الشمس کورت و اذا السماء انفطرت و اذالسماء انشقت…
Read the full tafseer →(وَاِذَا الْوُحُوْشُ حُشِرَتْ ) اور جب وحشی جانور اکٹھے کیے جائیں گے۔ یعنی قیامت کے دن جمع کیے جائیں گے تاکہ اللہ تعالیٰ ان میں سے ایک کو دوسرے سے قصاص لے کر دے اور بندے اس کے کمال عدل کا مشاہدہ کریں حتی کہ وہ بےسینگ بکری کو سینگ والی بکری سے قصاص دلائے گا پھر اس سے کہا جائے گا کہ مٹی ہوجا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–6
(5) وحشی جانوروں کی یکجائی کا ذکرو بیان : چناچہ ارشاد فرمایا گیا " اور جب اکٹھا کردیا جائے گا وحشی جانوروں کو " یعنی وہ خوف و دہشت کے مارے ایک ہی مقام پر اس طرح اکٹھے ہوں گے کہ نہ کوئی کسی کو ڈسے گا نہ کاٹے گا اور نہ چیر پھاڑ کرے گا "۔ سو یہ تصویر ہے اس وقت کی انتہائی ہولناکی کہ وحشی اور درندے بھی اپنی خو خصلت کو اس روز بھول جائیں گے، والعیاذ باللہ العظیم۔ یعنی انسان تو انسان اس دن کے ہول سے وحشی جانوروں پر بھی نفسا نفسی کی ایسی کیفیت طاری ہوگی کہ ان کو جس جگہ پناہ ملنے کی توقع ہوگی یہ آپس کی فطری دشمنیاں بھول کر سب وہاں اکٹھے ہوجائیں گے، جیسا کہ آج بھی جب کبھی کہیں جنگل میں آگ لگ جاتی ہے یا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–14
قیامت کیسی ہوگی ؟ اور بعد میں کیا ہوگا ؟ تشریح : آیت 1 سے 6 تک قیامت کا نقشہ کھینچا گیا ہے۔ جس میں نظام کائنات کے درہم برہم ہونے میں اجرام سماوی کا ذکر ہے۔ '' کُوّرت '' تکویر سے ہے یعنی لپیٹا جانا مطلب یہ ہے کہ سورج اپنی موت کو پہنچ کر بےنور مردہ ہوجائے گا۔ جس کی وضاحت ڈاکٹر دلدار صاحب یوں کرتے ہیں۔ '' جب ستارے کا ایندھن (ہائیڈروجن) ختم ہوجاتا ہے تو وہ ٹھنڈا ہونے لگتا ہے۔ چناچہ کشش ثقل حر کی توانائی پر غالب آجاتی ہے۔ اور ستارہ سکڑنے لگتا ہے اور بالآخر موت سے ہمکنار ہوجاتا ہے۔ ستاروں کی موت مندرجہ ذیل تین حالتوں میں سے کسی ایک حالت کی طرف لے جاتی ہے۔ 1 ۔ سفید بونا White Dwosf 2 ۔ نیوٹران ستارہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–29
سورة التکویر۔ آیات 1 تا 29۔ اسرار ومعارف۔ جب سورج بےنور ہوجائے گا اور ستارے ٹوٹ کر گرجائیں گے اور جب پہاڑ اکھیڑ کر اڑادیے جائیں گے اور لوگوں کو مال و دولت بھول جائے گا کہ عربوں کے نزدیک دس ماہ کی گابھن اونٹنی سب سے قیمتی اثاثہ سمجھی جاتی ہے ہر وقت دم کے ساتھ لگے پھرتے تھے کہ صحرا میں اس کادودھ نعمت غیر مترقہ ہوتا تھا مگر وہ بھی آوارہ پھر رہی ہوں گی یعنی لوگوں کو مال وزر کا ہوش نہ رہے گا اور نفخہ اولی سے گھبرا کر جنگلی جانور اور درندے آبادیوں میں آگھسیں گے اور دریا سمندر میں مل جائیں گے کہ زمین شق ہوجائے گی اور پھر ان میں اجرام فلکی گریں گے تو بھاپ بن کر اڑجائیں گے اور پھر فضا میں وہ بھاپ آگ…
Read the full tafseer →ف 5 یعنی انہیں زندہ کیا جائے گا تاکہ ایک دوسرے سے قصاص دلایا جائے۔ جیسا کہ صحیح حدیث میں ہے کہ اس دن انتہائی انصاف ہوگا۔ حتیٰ کہ بےسینگ بکری کو سینگ والی بکری سے بدلہ دلایا جائے گا۔ یا مطلب یہ ہے کہ جنگلی جانور مارے مصیبت کے آبادیوں میں آگھسیں گے۔ یا یہ کہ وہ مارڈالے جائیں گے۔ (شوکانی)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–6
(81:5) واذا الوحوش حشرت۔ عطف حسب بالا۔ الوحوش وحش کی جمع، صحرائی جانور، جنگلی جانور، حشرت ماضی مجہول واحد مؤنث غائب حشر (باب نصر) مصدر سے، جب جنگلی جانور یک جا کر دئیے جائیں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–29
لغات القرآن۔ کورت۔ لپیٹ دے گیا۔ انکدرت۔ ماند پڑگئی۔ (پڑ گئے) سیرت۔ چلا دی گئی۔ العشار۔ گابھن اونٹنیاں۔ عطلت۔ چھٹ کر پھری۔ الوحوش (وحش) ۔ جنگلی جانور۔ حشرت۔ آپس میں گڈ مڈ ہوجائیں۔ سجرت۔ جھونکے گئے۔ زوجت۔ جوڑے جوڑے بنا دئیے گئے۔ الموئو دۃ ۔ زمین میں گاڑدی گئی لڑکی۔ سئلت۔ پوچھا گیا۔ الصحف۔ اعمال نامے۔ نشرت۔ پھیلا دئیے۔ کشطت۔ پرت کے پرت اتا رلئے گئے۔ کھال کھینچ لی گئی۔ سعرت۔ بھڑکائی گئی۔ ازلف۔ قریب کردی گئی۔ احضرت۔ وہ لے کر حاضر ہوا۔ الخنس۔ پیچھے ہٹ جانے والے۔ الکنس۔ چھپ جانے والے۔ عسعس۔ پھیل گیا۔ تنفس۔ روشن ہوا۔ مکین۔ مرتبہ والا۔ مطاع۔ جس کی اطاعت کی جائے۔ کہا مانا جائے۔ الافق۔ کنارہ۔ بضنین۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–6
علامات قیامت اور حال۔ (1) تفسیر ابن جریر اور ابن ابی حاتم میں ، اذالشمس کورت سے واذالبحار سجرت تک کی تفسیر میں ابی بن کعب سے جو روایتیں ہیں ان کا حاصل یہ ہے کہ پہلے صور کی چھ نشانیاں ہیں۔ آفتاب کی روشنی جاتے رہی گی، تارے بارش کی طرح آسمان سے زمین پر گرپڑیں گے اور کوئی تارا اپنی جگہ باقی نہ رہے گا، پہاڑ غبار کی طرح ہوا میں اڑتے پھریں گے۔ حاملہ اونٹیوں کو چھوڑ دیں گے کیونکہ اونٹ عرب کا بہترین مال ہے اور دس مہینے جن کے حمل کے گذرچکے ہوں اور بیاہنے کے قریب ہودودھ اور بچے کی توقی پر بہت زیادہ عزیز ہوتی ہے لیکن قیامت کے ہولناک زلازل کے وقت ایسے نفیس و عزیز مال کو کوئی نہ پوچھے گا، نہ مالک کو اتنا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–6
[3] یعنی انسان تو انسان اس دن کے ہول سے وحشی جانوروں پر بھی ایسی نفسا نفسی کی حالت طاری ہوگی کہ ان کو جس جگہ پناہ ملنے کی توقع ہوگی آپس کی فطری دشمنیاں بھول کر سب وہاں اکٹھے ہوجائیں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–7
واذا العشارعطلت سے غرض یہ ہے کہ وہ وقت اتنا ہولناک ہوگا کہ چوپایہ کی وہ قسم جو مالک کو بہت عزیز ہوتی ہے ، وہ اس سے بھی بےپرواہ ہوجائیگا ۔ واذالوحوش حشرت یعنی وحشی جانور بھی گھبراجائیں گے اور مارے وحشت اور اضطراب کے جنگلوں میں جمع ہونے شروع ہوجائیں گے ۔
Read the full tafseer →(5) اور جب وحوش یعنی وحشی جانور گھبرا کر اکٹھے ہوجائیں - یعنی وحشی جانور جو آبادیوں سے دور رہتے ہیں اور انسانوں سے گھبراتے ہیں اس دن سب میں ردل پڑجائے اور وہ شہروں کی طرف گھبرا کر بھاگیں اور آبادیوں میں آکر پالتو جانوروں سے مل جائیں دوسری طرف انسان بھاگے۔ غرض یہ کہ شیر بکری اور چوہا بلی سب ایک جگہ جمع ہوجائیں گے جیسا کہ اب بھی سیلاب اور سردی کے موسم میں دیکھا جاتا ہے کہ جنگلی جانور وحشت ونفرت کو چھوڑ کر آبادیوں کی طرف بھاگ آتے ہیں۔ ہوسکتا ہے کہ حشرت کے معنی وحوش صحرائی کا جمع کرنا ہو اور ہوسکتا ہے کہ جانوروں کو مار کر دوبارہ قصاص کے لئے زندہ کرنا ہو کیونکہ بعض …موذی جانوروں کا جہنم میں ہونا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–6
ف 1۔ یہ چھ واقعے تو نفخہ اولی کے وقت ہوں گے جبکہ دنیا آباد ہوگی اور اس نفخہ سے یہ تغیرات و تبذلات ہوں گے اور اس وقت اونٹنیاں وغیرہ بھی اپنی اپنی حالت پر ہوں گی جن میں بعض وضع حمل کے قریب ہوں گی جو کہ اہل عرب کے نزدیک عزیز ترین اموال ہیں مگر اس وقت ہلچل میں کسی کو کہیں کا ہوش نہ رہے گا، اور وحوش بھی مارے گھبراہٹ کے سب گڈ مڈ ہوجائیں گے، اور دریاوں میں اول طغیانی پیدا ہوگی اور زمین میں شقوق واقع ہوجائیں گے، جس سے سب شیریں اور شور دریا ایک ہوجائیں گے، پھر شدت حرارت سے سب کا پانی مستحیل بآتش ہوجائے گا۔ اس کے بعد عالم فنا ہوجائے گا اور اگلے چھ واقعات بعد نفخہ ثانیہ کے ہوں گے۔
Read the full tafseer →اور جب وحشی جانور اکٹھے کیے جائیں گے 5 ؎ ( الوحوش) جمع ہے الوحش کی الوحش صحرائی جانور کو کہتے ہیں لیکن اس کا استعمال جنگل جانوروں کے علاوہ غم ، ڈر ، خوف ، تنہا اور خشک زمین پر بھی ہوتا ہے اور اسی طرح تو حش ( تفعل) گھر کا ویران اور اجاڑ ہوجانا ، پیٹ خالی ہونا اور پیٹ خالی کرنا ( استیحاش) ( استفعال) غمگین ہونا ، وحشت محسوس کرنا اور وحشت سے بھری ہوئی زمین ( حشرت) وہ اکٹھا کی گئی ۔ وہ اکٹھے کیے گئے ۔ وہ جمع کیے گئے۔ حشر سے ماضی کا صیغہ واحد مؤنث غائب یہ ہول قیامت کا ذکر ہے تو بلا شبہ یہ بات اپنی جگہ محقق ہے کہ جب بھی کسی کی جان پر بن جاتی ہے یا اس کو جان جانے کا خطرہ لا حق ہوجاتا ہے تو وہ وقت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–5
وَإِذَا الْعِشَارُ عُطِّلَتْ (and when the ten-months pregnant she-camels will be abandoned...81:4). The Arabic word ` ishar is the plural of the word ` ushara' and is applied to she-camels having ten months pregnancy. Such she-camels were considered by the Arabs to be a very valuable asset, because they expected her to give birth to more camels and abundant milk. As such, they used to protect her and never left her free. The verse referring to this custom of the Arabs, who were the immediate addressees, depicts the horrible scene of the Doomsday when even the most favorite wealth, like such…
Read the full tafseer →5 When a general calamity befalls the world, all kinds of beasts and animals gather together in one place. then neither the snake bites, nor the tiger kills and devours.
Read the full tafseer →