وَاِذَا الْعِشَارُ عُطِّلَتْ ۟وَاِذَا الۡعِشَارُ عُطِّلَتۡ
اور جب بیانے والی اونٹنیاں بےکار ہو جائیں گی
— Fateh Muhammad Jalandhari
And when full-term she-camels are neglected
— Saheeh International
Juz 30 · Ruku 1 of surah · Ruku 6 of juz
وَاِذَا الْعِشَارُ عُطِّلَتْ ۟وَاِذَا الۡعِشَارُ عُطِّلَتۡ
اور جب بیانے والی اونٹنیاں بےکار ہو جائیں گی
— Fateh Muhammad Jalandhari
And when full-term she-camels are neglected
— Saheeh International
Juz 30 · Ruku 1 of surah · Ruku 6 of juz
Read the whole surah · Surah At-Takwir
اور جب دس مہینے کی حاملہ اونٹنیاں اپنے حال پر چھوڑ دی جائیں گی
اور جب بیانے والی اونٹنیاں بےکار ہو جائیں گی
اور جب دس ماه کی حاملہ اونٹنیاں چھوڑ دی جائیں
اور جب دس مہینے کی گابھن اونٹنیوں کو بھی بیکار چھوڑ دیا جائے گا۔
اور جب تھلکی (گابھن) اونٹنیاں چھوٹی پھریں
اور جب حاملہ اونٹنیاں بے کار چھوٹی پھریں گی (کوئی ان کا خبر گیر نہ ہوگا)،
اور جب دس ماہ کی حاملہ اونٹنیاں بےکار چھوڑ دی جائیں گی۔
اور دس ماہ کی حاملہ اونٹنیاں اپنے حال پر چھوڑ دی جائیں گی
اور دس ماہہ گابھن اونٹنیاں آوارہ پھریں گی۔
اور جب آوارہ پھرتا چھوڑ دیا جائے گا دس ماہ کی گابھن اونٹنیوں کو
اور جب اونٹنیاں چھٹی پھرنے لگیں
اور جب گابھن اونٹنیاں چھٹی پھریں گی۔
اور جب دس مہینے کی حاملہ اونٹنیاں اپنے حال پر چھوڑ دی جائیں گی
when the ten-months pregnant camels shall be abandoned,
and when the ten-months pregnant she-camels will be abandoned,
and when the ten-months pregnant she-camels will be abandoned,
And when the pregnant she-camels are neglected;
And when the camels big with young are abandoned,
— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran
And when full-term she-camels are neglected
the young barren camels are abandoned,
And when the camels are left untended,
And when the she-camels big with young shall be abandoned,
When the she-camels, ten months with young, are left untended;
— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary
Explained with ayahs 1–14
یعنی سوج بےنور ہوجائیگا، جاتا رہے گا اوندھا کر کے لپیٹ کر زمین پر پھینک دیا جائیگا ابن عباس ؓ فرماتے ہیں سورج چاند اور ستاروں کو لپیٹ کر بےنور کر کے سمندروں میں ڈال دیا جائیگا اور پھر مغربی ہوائیں چلیں گی اور آگ لگ جائیگی ایک مرفوع حدیث میں ہے کہ اس کو تہہ کر کے جہنم میں ڈال دیا جائیگا (ابن ابی حاتم) اور ایک حدیث میں سورج کے ساتھ چاند کا ذکر بھی ہے لیکن وہ ضعیف ہے صحیح بخاری میں یہ حدیث الفاظ کی تبدیلی سے مروی ہے، اس میں ہے کہ سورج اور چاند قیامت کے دن لپیٹ لیے جائیں گے امام بخاری اسے کتاب بدء الخلق میں لائے ہیں لیکن یہاں لانا زیادہ مناسب تھا یا مطابق عادت وہاں اور یہاں دونوں جگہ لاتے جیسے کہ…
Read the full tafseer →سورة التَّكْوِیْر 4 عربوں کو قیامت کی سختی کا تصور دلانے کے لیے یہ بہترین طرز بیان تھا۔ موجودہ زمانہ کے ٹرک اور بسیں چلنے سے پہلے اہل عرب کے لیے اس اونٹنی سے زیادہ قیمتی مال اور کوئی نہ تھا جو بچہ جننے کے قریب ہو۔ اس حالت میں اس کی بہت زیادہ حفاظت اور دیکھ بھال کی جاتی تھی تاکہ وہ کھوئی نہ جائے، کوئی اسے چرا نہ لے، یا اور کسی طرح وہ ضائع نہ ہوجائے۔ ایسی اونٹنیوں سے لوگوں کا غافل ہوجانا گویا یہ معنی رکھتا تھا کہ اس وقت کچھ ایسی سخت افتاد لوگوں پر پڑے گی کہ انہیں اپنے اس عزیز ترین مال کی حفاظت کا بھی ہوش نہ رہے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–5
وَاِذَا الْعِشَارُ عُطِّلَتْ ، یہ عرب کی عادت کے مطابق بطور مثال کے فرمایا ہے کیونکہ اسکے پہلے مخاطب عرب لوگ تھے انکے نزدیک دس مہینے کی گابھن اونٹنی ایک بڑی دولت سمجھی جاتی تھی کہ اس سے دودھ اور بچے کا انتظار ہوتا تھا اور وہ اس کی دم سے لگے پھرت تھے، کسی وقت اس کو آزاد نہ چھوڑتے تھے۔
Read the full tafseer →محبوب چیزوں کی کس مپرسی: ’عِشَارٌ‘ جمع ہے ’عُشَرَاءٌ‘ کی۔ یہ لفظ اس اونٹنی کے لیے آتا ہے جو دس ماہ کی گابھن یعنی بچہ جننے کے قریب ہو۔ عظیم چیزوں کی بے ثباتی کے بعد یہ محبوب چیزوں کی بے وقعتی واضح فرمائی ہے کہ اس دن کی ہلچل لوگوں پر ایسی نفسی نفسی کی حالت طاری کر دے گی کہ کسی کی نظروں میں اس کے محبوب سے محبوب مال کی بھی کوئی وقعت باقی نہیں رہے گی۔ یہ بات قرآن کے اولین مخاطب، اہل عرب کے خاص مذاق طبیعت کو پیش نظر رکھ کر فرمائی گئی ہے۔ ان کے مال میں سب سے زیادہ قدر کی جگہ ان کے اونٹوں کو حاصل تھی۔ خاص طور پر وہ اونٹنیاں ان کو نہایت عزیز و محبوب تھیں جن کے حمل پر دس ماہ گزر چکے ہوں اور بچہ جننے کا…
Read the full tafseer →4۔ 1 جب قیامت برپا ہوگی تو ایسا ہولناک منظر ہوگا کہ اگر کسی کے پاس اس قسم کی حاملہ اور قیمتی اونٹنی بھی ہوگی تو وہ ان کی پرواہ نہیں کرے گا اور چھوڑ دے گا۔
Read the full tafseer →اونٹنی اس وقت عرب کے لوگوں کے لئے سب سے بڑی دولت سمجھی جاتی تھی، اور اگر اونٹنی گابھن یعنی حاملہ ہو تو اس کی قیمت اور بڑھ جاتی تھی، اور دس مہینے کی گابھن ہو تو اسے سب سے زیادہ قیمتی سمجھا جاتا تھا، اس آیت میں یہ فرمایا گیا ہے کہ قیامت کے وقت ہر شخص پر ایسی حالت طاری ہوگی کہ اسے اتنی بڑی دولت کو بھی سنبھالنے کا ہوش نہیں رہے گا، اس لئے ایسی اونٹنیاں بھی بیکار چھٹی پھریں گی۔
Read the full tafseer →واذا ................ عطلت (4:81) ” اور جب دس مہینے کی حاملہ اونٹنیاں اپنے حال پر چھوڑ دی جائیں گی “۔ العشار ، ان اونٹنیوں کو کہتے ہیں جو حاملہ ہوں اور حمل کے دس مہینے ہوچکے ہیں۔ عربوں کے نزدیک اس سے بہتر اور کوئی ملکیت نہ تھی۔ اس کی وہ بہت زیادہ دیکھ بھال کرتے تھے کیونکہ وہ قریب زمانے میں بچہ دینے والی ہوا کرتی تھی اور پھر دودھ دیتی اور اس کی افادیت قریب ہوتی۔ جس دن یہ عظیم انقلابات ہوں گے لوگ گھبراہٹ کے وجہ سے ایسے قیمتی مال کو بھی چھوڑ کر بھاگ نکلیں گے۔ کوئی بھی ایسے قیمتی مال کی طرف متوجہ نہ ہوگا۔ جس دور کے لوگوں سے قرآن مخاطب تھا ، خصوصاً عرب ، وہ ایسے مال کو ہرگز نہ چھوڑتے تھے الا یہ کہ…
Read the full tafseer →8 اونٹ عرب کا بہترین مال ہے اور دس مہینے کی گابھن اونٹنی جو بیانے کے قریب ہو دودھ اور بچہ کی توقع پر بہت زیادہ عزیز ہوتی ہے۔ لیکن قیامت کے ہولناک زلازل کے وقت ایسے نفیس و عزیز مال کو کوئی نہ پوچھے گا نہ مالک کو اتنا ہوش ہوگا کہ ایسے بڑھیا مال کی خبر گیری کرے۔ باقی یہ کہنا کہ ریل نکل جانے کی وجہ سے اونٹنیاں بیکار ہوجائیں گی، محض ظرافت ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–4
آیت 4{ وَاِذَا الْعِشَارُ عُطِّلَتْ۔ } ”اور جب گابھن اونٹنیاں چھٹی پھریں گی۔“ العِشار سے دس مہینوں کے حمل والی اونٹنیاں مراد ہیں ‘ یعنی ایسی اونٹنیاں جن کے وضع حمل کا وقت بہت قریب ہو۔ عربوں کے ہاں ایسی اونٹنی بہت قیمتی سمجھی جاتی تھی اور اس لحاظ سے وہ لوگ اس کی خصوصی حفاظت اور خدمت کرتے تھے۔ آیت میں اس حوالے سے قیامت کی ہولناک کیفیت کی تصویر دکھائی گئی ہے کہ جب قیامت برپا ہوگی تو بہت قیمتی اونٹنیاں بھی لاوارث ہوجائیں گی ‘ انہیں کوئی سنبھالنے والا نہیں ہوگا۔ ظاہر ہے اس وقت جبکہ خود عورتوں کو اپنے حمل کی کوئی فکر نہیں ہوگی تو اونٹنیوں کی کسے ہوش ہوگی۔
Read the full tafseer →5 اہل عرب کے نزدیک اونٹ ایک قیمتی متاع سمجھا جاتا تھا اور دس ماہ کی حاملہ اونٹنی تو ان کے ہاں نہایت عزیز متاع تھی اس لیے کہ وہ ایک دو ماہ بعد بچہ بھی جنے گی اور دودھ بھی دیا کرے گی۔ اس آیت میں بتایا یہ جارہا ہے کہ قیامت کی دہشت اتنی زیادہ ہوگی کہ انسان کو اپنی قیمتی متاع سنبھالنے کا بھی ہوش نہ رہے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–6
1۔ یعنی ان کا پانی آگ اور بھاپ میں تبدیل ہوجائے، یہ سارے واقعات و کیفیات صور قیامت کے نفخہ اول کے بیان ہورے ہیں۔ عالم کائنات جو اس وقت تک آباد ہوگا، صور کی پہلی آواز پر یوں ہلاک وبرباد ہونا شروع ہوگا۔ اور اس کی بڑی بڑی مضبوط ومستحکم موجودات یوں درہم وبرہم اور ریزہ ریزہ ہونا شروع ہوں گی۔ (آیت) ” اذا الشمس کورت “۔ یعنی کرۂ آفتاب کی لمبی لمبی شعاعیں جو سارے علم کو منور کرتی رہتی ہیں، لپیٹ کر رکھ دی جائیں یا بےنور ہوجائیں، جس سے عالم تیرہ وتار ہوجائے۔ آفتاب جو محسوسات ومرئیات میں آسمان ہی کی طرح اعظم ترفین مخلوق ہے، جب وہ فناء پر مجبور ہوجائے تو پھر دوسری اور اس سے ادنی مخلوقات کا کیا ذکر ہے !…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–5
وذا العشار عطلت، عربوں کو کسی چیز کی سختی اور ہولناکی کا تصور دلانے کے لئے یہ بہترین طرز بیان تھا، اس زمانہ میں عرب کے نزدیک دس مہینے کی گابھن اونٹنی سے زیادہ قیمتی اور کوئی مال نہیں ہوتا تھا، ایسی اونٹنی کی بہت زیادہ حفاظت اور دیکھ بھال کی جاتی تھی، ایسی اونٹنی سے لوگوں کا غافل ہوجانا گویا یہ معنی رکھتا تھا کہ اس وقت کچھ ایسی سخت افتاد لوگوں پر پڑے گی کہ انہیں اپنے اس عزیز ترین مال کی حفاظت کا بھی ہوش نہ رہے گا۔
Read the full tafseer →واذا العشار عطلت . العشار جمع ہے۔ العشراء اس کا واحد ہے۔ دس ماہہ گابھن اونٹنیاں۔ پورے سال میں اگر اونٹنی کے بچہ ہو تب بھی بچہ پیدا ہونے سے پہلے پہلے عرب اس کو عشراء کہتے تھے۔ عرب کے نزدیک عشراء اونٹنی نفیس ترین مال سمجھا جاتا تھا وہ لوگ ایسی اونٹنیوں کی دمیں پکڑے ہی رہتے تھے (یعنی ہمیشہ ان کی نگہداشت کرتے تھے) عُطِّلَتْ یعنی بغیر چرواہے کی نگرانی کے چھوڑ دی جائیں گی۔ قیامت کی ہیبت کی وجہ سے عشراء اونٹنیوں کے مالک ان کو یونہی چھوڑ دیں گے یا العشار سے مراد بادل ہیں یعنی بادل بارش سے خالی ہوجائیں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–7
(3۔ 7) اور جب پہاڑ زمین پر سے ہٹا دیے جائیں گے اور جب گابھن اونٹنیوں کے مالک اپنی مشغولیت کی بنا پر ان سے غافل ہوجائیں گے اور جب قصاص کے لیے تمام جانوروں کو جمع کیا جائے گا، یا یہ کہ گھبراہٹ کی وجہ سے جمع ہوجائیں گے اور جب کھارے دریا کا پانی شیریں میں ملا کر ایک کردیا جائے گا، یا یہ کہ آگ ہوجائیں گے اور جس وقت ایک ایک قسم کے لوگ اکٹھے کیے جائیں گے یعنی اپنے ساتھیوں سے مل جائیں گے کہ نیک نیک کے ساتھ اور گنہگار گنہگار کے ساتھ۔
Read the full tafseer →(واذا العشار عظلت :”العشار“ ”عشرائ“ کی جمع ہے، دس ماہ کی حاملہ اونٹنیاں جو عربوں کے ہاں نہایت عزیز ہوتی تھیں۔ صور پھونکے جانے کی ابتدا میں جو گھبراہٹ پیدا ہوگی اس میں اتنی نفیس اور عزیز چیزوں کو بھی کوئی نہیں سنبھالے گا، ہر ایک کو اپنی پڑی ہوگی۔
Read the full tafseer →واذالعشار عطلت۔ عشار سے مراد حاملہ اونٹنیاں ہیں عشار کا واحد عشراء ہے یعنی وہ اونٹیاں جن کے حمل کو دس ماہ ہوچکے ہوں پھر اس کا یہی نام رہتا ہے یہاں تک کہ وہ بچے کو جن دے اور بچہ جننے کے بعد اس کا یہی نام رہتا ہے عربوں کی عادت ہے وہ چیز کو پہلے والے نام سے یاد کرتے ہیں اگرچہ اس پر وقت گزرچک اہو ایک آدمی اپنے گھوڑے کو کہتا ہے جبکہ پانچ سال کی عمر پوری کرنے والا، ھاتو مھری، قربومھری ،۔ مھر کا معنی بچھیرا ہوتا ہے اسے یہ نام سابقہ اسم کی وجہ سے دیتے ہیں۔ عشرہ نے کہا : لاتذکری مھری وما اطعمتہ۔ تو میرے گھوڑے کا ذکر نہ کر اور جو میں نے اسے کھلایا ہے اس کا ذکر نہ کر۔ مزید یہ کہا : حملت مھری وسطھا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–4
آیت واذا النجوم انکدرت۔ جب ستارے بکھر جائیں گے۔ آیت واذا الجبال سیرت۔ یعنی پہاڑ اپنی جگہ سے اڑ جائیں گے آیت واذالعشار عطلت۔ یعنی اونٹنیوں کو نہ دوھا جائے گا۔ نہ ان کے تھن باندھے جائیں گے۔ اور ان کے مالک ان کو چھوڑدیں گے۔ آیت واذالوحوش حشرت۔ یعنی جب ان پر اللہ کا حکم آئے گا۔ آیت واذا لبحار سجرت۔ جب سمندر بہہ جائیں۔ آیت واذا النفوس زوجت۔ یعنی ہر آدمی اپنے عمل کے ساتھ ہوگا۔ آیت واذا الموء ودۃ سئلت۔ یعنی رب کے لوگ اس کام کو بہت کرنے والے تھے۔ آیت واذا الجحیم سعرت۔ یعنی جہنم کو جلادیا جائے گا آیت واذا الجنۃ ازلفت یعنی قریب کردیا جائے گا۔ یہاں تک کہ حدیث ختم ہوگئی ایک فریق جنت میں ہوگا اور ایک فریق…
Read the full tafseer →[وَاِذَا الْعِشَارُ عُطِّلَتْ : اور جب حاملہ اونٹنیاں چھوڑ دی جائیں گی ] نوٹ۔ 2: آیت۔ 4 ۔ میں حاملہ اونٹنی کو چھوڑ دینے کی بات عربوں کو قیامت کی سختی کا تصور دلانے کے لیے ایک بہترین طرز بیان ہے۔ موجودہ زمانے کے ٹرک اور بسیں چلنے سے پہلے اہل عرب کے لیے اس اونٹنی سے زیادہ قیمتی مال اور کوئی نہ تھا جو بچہ جننے کے قریب ہو۔ اس حالت میں اس کی بہت زیادہ حفاظت اور دیکھ بھال کی جاتی تھی۔ ایسی اونٹنیوں سے لوگوں کا غافل ہوجانا یہ معنی رکھتا ہے کہ اس وقت کچھ ایسی سخت افتاد پڑے گی کہ انھیں اپنے عزیز ترین مال کی حفاظت کا بھی ہوش نہ رہے گا۔ (تفہیم القرآن)
Read the full tafseer →رابعاً ﴿ وَ اِذَا الْعِشَارُ عُطِّلَتْ۪ۙ004﴾ (اور جب حمل والی اونٹنیاں بیکار کردی جائیں) اس میں لفظ العشار عشراء کی جمع ہے جس اونٹنی کو دس ماہ کا حمل ہو اسے عشراء کہتے ہیں اور بیکار کرنے کا مطلب یہ ہے کہ ان کا نہ کوئی طالب رہے گا نہ چرانے والا، نہ سواری کرنے والا، عرب کے لوگ حمل والی اونٹنیوں کو اپنے لیے بہت بڑا سرمایہ سمجھتے تھے اور قرآن کے اولین مخاطبین وہی تھے اس لیے اونٹنیوں کے بیکار ہونے کا تذکرہ فرمایا کہ تم جن چیزوں کو اپنی مرغوب ترین چیز سمجھتے ہو ان پر ایک ایسا دن بھی آنے والا ہے کہ ان کی طرف ذرا بھی کوئی توجہ نہ کرے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–29
ہولناک مناظر روز قیامت و پیشی اعمال و فیصلہ جزاء وسزا : قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” اذا الشمس کورت ....... الی ...... الا ان یشآء اللہ رب العلمین “۔ (ربط) سورة عبس کا مضمون دراصل اثبات قیامت کے موضوع ہی پر مشتمل تھا اور مقصد بیان یہ تھا کہ انسان کی سعادت و فلاح اور عزت و عظمت اپنی زندگی اپنے پروردگار کے ساتھ وابستہ رکھنے اور فکر آخرت میں ہے، اس کے برعکس وہ مغرور ومتکبر جو نہ خدا پر ایمان لاتا ہے اور نہ ہی اس کو آخرت کی فکر ہے وہ خدا کی نظروں میں ذلیل و حقیر ہے، طالب حق اور سعادت کی فکر میں لگے رہنے والا انسان ہی بارگاہ رسالت میں ہر عزت واکرام کا مستحق ہے، آخر میں قیامت کے روز کی پریشانی اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–5
2:۔ حضرت ابی بن کعب ؓ فرماتے ہیں وفزعت الجن الی الانس، والانس الی الجن واخلطت الدواب والطیر والوحوش ماجوا بعضہم فی بعض (ابن جریر ج 30 ص 63) ۔ حضرت علامہ شبیر احمد عثمانی (رح) فرماتے ہیں۔ یعنی جنگل کے جانور جو آدمی کے سایہ سے بھاگتے ہیں مضطرب ہو کر شہر میں آ گھسیں اور پالتو قسم کے جانوروں میں مل جائیں جیسا کہ اکثر خوف کے وقت دیکھا گیا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–13
(نام و کوائف) اس سورة کا نام سورة تکویر ہے ۔ اس کی پہلی آیت میں کورت کا لفظ آیا ہے جس سے سورة کا نام تکویر ہے ۔ یہ سورة مکی زندگی میں نازل ہوئی ۔ اس کی انتیس 29 آیات ہیں ۔ یہ سورة ایک 104 سو چار الفاظ اور 5202 پانچ ہزار 2 حروف پر مشتمل ہے (موضوع اور گذشتہ سورة سے ربط) اس سورة میں اللہ تعالیٰ نے قیامت کا ذکر اس نسبت سے کیا ہے ۔ کہ کائنات کی ارضی اور سماوی اشیاء پر قیامت کے کیا اثرات مرتب ہوں گے۔ سورة کے آخر میں قرآن کریم کی طرف دعوت دی گئی ہے۔ اور اسکی صداقت وحقانیت کا بیان ہے سابقہ کئی سورتوں میں قیامت کا ذکر مختلف انداز سے آرہا ہے۔ کہ قیامت کا اثر مختلف چیزوں پر کیا ہوگا۔ سورة عبس میں قیامت…
Read the full tafseer →وَاِذَا الْعِشَارُ عُطِّلَتْ 4 عشر العَشْرَةُ والعُشْرُ والعِشْرُونَ والعِشْرُ معروفةٌ. قال تعالی: تِلْكَ عَشَرَةٌ كامِلَةٌ [ البقرة/ 196] ، عِشْرُونَ صابِرُونَ [ الأنفال/ 65] ، تِسْعَةَ عَشَرَ [ المدثر/ 30] ، وعَشَرْتُهُمْ أَعْشِرُهُمْ : صِرْتُ عَاشِرَهُمْ ، وعَشَرَهُمْ : أَخَذَ عُشْرَ مالِهِمْ ، وعَشَرْتُهُمْ : صيّرتُ مالهم عَشَرَةً ، وذلک أن تجعل التِّسْعَ عَشَرَةً ، ومِعْشَارُ الشّيءِ : عُشْرُهُ ، قال تعالی: وَما بَلَغُوا مِعْشارَ ما آتَيْناهُمْ [ سبأ/ 45] ، وناقة عُشَرَاءُ : مرّت من حملها عَشَرَةُ أشهرٍ ، وجمعها عِشَارٌ. قال تعالی: وَإِذَا الْعِشارُ عُطِّلَتْ [ التکوير/ 4] ، وجاء وا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–10
2 ؎ العشار دس مہینے کی گابھن اونٹنیاں۔ 12 منہ
Read the full tafseer →وَاِذَا الْعِشَارُ عُطِّلَتْ ۔ (التکویر : 4) (جب دس مہینے کی گابھن اونٹنیاں آوارہ پھریں گی۔ ) الْعِشَارُ ، عُشَرَائُکی جمع ہے۔ اس اونٹنی پر بولا جاتا ہے جو دس ماہ کی گابھن ہو، یعنی بچہ جننے کے بالکل قریب ہو۔ محبوب چیزوں سے غفلت جس طرح کائنات کی عظیم اور مضبوط مخلوقات اپنا وزن کھو دیں گی اور اپنے مدار سے نکل جائیں گی اسی طرح اس دن قیامت کی ہولناکی کا عالم یہ ہوگا کہ انسان اپنی محبوب سے محبوب چیزوں سے بھی غافل ہوجائے گا اور اس کے دل سے ان کی وقعت نکل جائے گی۔ کیونکہ یہ انسان کی فطرت ہے کہ جب اس کی اپنی جان کے لالے پڑتے ہیں تو وہ قیمتی متاع سے بھی لاپرواہ ہوجاتا ہے۔ چناچہ اسی فطری اصول کے تحت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–6
فہم القرآن ربط سورت : سورت عبس کا اختتام اس بات پر کیا گیا کہ جو لوگ قیامت کا انکار کرتے ہیں ان کے چہروں پر ذلّت اور سیاہی چھائی ہوگی۔ التکویر میں قیامت کے ابتدائی مراحل ذکر فرما کر بتلایا ہے کہ انسان نے دنیا میں رہ کر جو کچھ کیا ہوگا وہ قیامت کے دن اس کے سامنے پیش کردیا جائے گا۔ اس حالت میں کہ اس کے ایک طرف جہنم دھک رہی ہوگی اور دوسری طرف جنت مہک رہی ہوگی۔ اس سورة کی ابتدا میں قیامت کے پہلے ہولناک مرحلہ کا منظر پیش کیا گیا ہے اسرافیل جونہی پہلی صور پھونکے گا تو زمین و آسمانوں میں ہلچل مچ جائے گی۔ ہر جاندار موت کے گھاٹ اتر جائے گا یہاں تک کہ سورج اپنی روشنی اور حرارت کھو بیٹھے گا۔ جس کے لیے ”…
Read the full tafseer →دس ماہ کی گابھن اونٹنی : 4 : وَاِذَا الْعِشَارُ عُطِّلَتْ ( اور جب دس ماہ کی گابھن اونٹنیاں چھٹی پھریں گی) العشار جمع عشراء کی ہے یہ ایسی اونٹنی کو کہتے ہیں۔ جس کے حمل کو دس ماہ گزر جائیں پھر وضع حمل تک اس کا نام یہی رہتا ہے۔ عُطِّلَتْ (بیکارہو جائیں) ان کے مالکوں نے ان کو اپنے نفسوں میں مشغولیت کی وجہ سے بیکار چھوڑ دیا۔ اس حالت میں اونٹنی اہل عرب کے ہاں بڑی حفاظت سے رکھی جاتی ہے۔ بقیہ چیزوں کی طرف ان کا دھیان کم و بیش ہوتا ہے۔ قراءت : عطلت تخفیف سے بزی نے پڑھا ہے۔
Read the full tafseer →3 ۔” واذا الجبال سیرت “ زمین کے اوپر پھر اڑنے والے ذرات ہوجائیں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–14
1۔ 14۔ صحیح بخاری وغیرہ میں حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا قیامت کے دن سورج اور چاند کو لپیٹ کر دوزخ میں ڈال دیا جائے گا اس حدیث کی شرح میں علماء نے لکھا ہے کہ دنیا میں بعض لوگ سورج اور چاند کو پوجا کرتے ہیں ان کے ذلیل کرنے کے لئے سورج اور چاند کو دوزخ کی آگ میں جھونکا جائے گا۔ مسند امام احمد ترمذی 2 ؎ مستدرک حاکم طبرانی وغیرہ میں حضرت عبد اللہ بن عمر سے جو روایتیں ہیں ان کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ جس شخص کو یہ منظور ہو کہ قیامت کو دنیا میں بھی اپنی آنکھوں کے سامنے دیکھ لے تو اس کو چاہئے کہ اذا الشمس کورت و اذا السماء انفطرت و اذالسماء انشقت…
Read the full tafseer →(وَاِذَا الْعِشَارُ عُطِّلَتْ ) اور جب دس ماہ کی حاملہ اونٹنیاں چھوڑ دی جائیں گی یعنی جب لوگ اپنے بہترین اموال کو بےکار چھوڑ دیں گے جن کا ہر وقت بہت اہتمام اور دھیان رکھا کرتے تھے پس ان پر ایسا وقت آئے گا جو ان کو ان اموال سے غافل کردے گا عشارا ایسی اونٹیوں کو کہا جاتا ہے جن کے پیچھے ان کے بچے ہوتے ہیں یہ عربوں کا بہترین مال تصور کیا جاتا ہے جو اس وقت ان کے پاس ہوتا تھا اس معنی کے مطابق ہر نفس مال۔
Read the full tafseer →(4) محبوب چیزوں کی کسمپرسی اور بےوقعتی کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا " اور جب دس ماہ کی گابھن اونٹنیاں آوارہ پھریں گی " نہ کوئی ان کا پوچھنے والا ہوگا نہ خبر گیری کرنیو الا، حالانکہ یہ عربوں کا سب سے عمدہ اور سب سے زیادہ قیمتی مال سمجھا جاتا تھا، اور آج بھی ایسی اونٹنی کی ان کے یہاں بڑی قدروقیمت ہے، حالانکہ اب تو نقل و حمل کے لیے طرح طرح کے جدید ترین ذرائع و وسائل انسان کے پاس موجود ہیں، جبکہ اس زمانے میں ان کا سارا مدارو انحصار ہی اونٹوں پر تھا، سو جب اس وقت ایسے قیمتی مال کے بارے میں بھی لوگوں کا یہ حال ہوگا تو پھر عام اموال کے بارے میں لوگوں کی حالت کا کہنا ہی کیا ؟ " عشار " جمع ہے "…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–14
قیامت کیسی ہوگی ؟ اور بعد میں کیا ہوگا ؟ تشریح : آیت 1 سے 6 تک قیامت کا نقشہ کھینچا گیا ہے۔ جس میں نظام کائنات کے درہم برہم ہونے میں اجرام سماوی کا ذکر ہے۔ '' کُوّرت '' تکویر سے ہے یعنی لپیٹا جانا مطلب یہ ہے کہ سورج اپنی موت کو پہنچ کر بےنور مردہ ہوجائے گا۔ جس کی وضاحت ڈاکٹر دلدار صاحب یوں کرتے ہیں۔ '' جب ستارے کا ایندھن (ہائیڈروجن) ختم ہوجاتا ہے تو وہ ٹھنڈا ہونے لگتا ہے۔ چناچہ کشش ثقل حر کی توانائی پر غالب آجاتی ہے۔ اور ستارہ سکڑنے لگتا ہے اور بالآخر موت سے ہمکنار ہوجاتا ہے۔ ستاروں کی موت مندرجہ ذیل تین حالتوں میں سے کسی ایک حالت کی طرف لے جاتی ہے۔ 1 ۔ سفید بونا White Dwosf 2 ۔ نیوٹران ستارہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–29
سورة التکویر۔ آیات 1 تا 29۔ اسرار ومعارف۔ جب سورج بےنور ہوجائے گا اور ستارے ٹوٹ کر گرجائیں گے اور جب پہاڑ اکھیڑ کر اڑادیے جائیں گے اور لوگوں کو مال و دولت بھول جائے گا کہ عربوں کے نزدیک دس ماہ کی گابھن اونٹنی سب سے قیمتی اثاثہ سمجھی جاتی ہے ہر وقت دم کے ساتھ لگے پھرتے تھے کہ صحرا میں اس کادودھ نعمت غیر مترقہ ہوتا تھا مگر وہ بھی آوارہ پھر رہی ہوں گی یعنی لوگوں کو مال وزر کا ہوش نہ رہے گا اور نفخہ اولی سے گھبرا کر جنگلی جانور اور درندے آبادیوں میں آگھسیں گے اور دریا سمندر میں مل جائیں گے کہ زمین شق ہوجائے گی اور پھر ان میں اجرام فلکی گریں گے تو بھاپ بن کر اڑجائیں گے اور پھر فضا میں وہ بھاپ آگ…
Read the full tafseer →ف 4 یہ گابھن اونٹنیاں عربوں کی نظر میں انتہائی قابل قدر ہوتی تھیں اور وہ ان سے کسی حال میں غافل نہ ہوتے تھے لیکن قیامت کی ہولناکی ایسی ہوگی کہ کسی کو ان کا بھی ہوش نہ رہے گا۔ مطلب یہ ہے کہ آدمی کو اس دن اپنے قیمتی سے قیمتی اور پیارے سے پیارے مالک کا بھی ہوش نہ رہے گا۔
Read the full tafseer →(81:4) واذا العشار عطلت : اس کا عطف بھی آیت نمبر 1 پر ہے۔ اور ترکیب بھی وہی ہے۔ العشار دس ماہ کی گابھن اونٹنیاں۔ ایسی اونٹنی اہل عرب کے نزدیک ایک نفیس ترین سمجھی جاتی ہے اس کا واحد عشراء ہے۔ علامہ فیومی کے نزدیک اس طرح کے واحد اور جمع کی نظیر صرف نفساء اور نفاس ہی ہے اور ان دونوں کے علاوہ تیسری نظیر موجود نہیں ہے۔ عطلت ماضی مجہول صیغہ واحد مؤنث غائب تعطیل (تفعیل) مصدر، جس کا مطلب ہے یوں ہی چھوڑ دینا۔ دیکھ بھال نہ کرنا۔ نفع نہ اٹھانا۔ بےکار چھوڑ دینا۔ ترجمہ ہوگا :۔ اور جب دس ماہ کی گابھن اونٹنیاں یوں ہی آوارہ پھریں گی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–29
لغات القرآن۔ کورت۔ لپیٹ دے گیا۔ انکدرت۔ ماند پڑگئی۔ (پڑ گئے) سیرت۔ چلا دی گئی۔ العشار۔ گابھن اونٹنیاں۔ عطلت۔ چھٹ کر پھری۔ الوحوش (وحش) ۔ جنگلی جانور۔ حشرت۔ آپس میں گڈ مڈ ہوجائیں۔ سجرت۔ جھونکے گئے۔ زوجت۔ جوڑے جوڑے بنا دئیے گئے۔ الموئو دۃ ۔ زمین میں گاڑدی گئی لڑکی۔ سئلت۔ پوچھا گیا۔ الصحف۔ اعمال نامے۔ نشرت۔ پھیلا دئیے۔ کشطت۔ پرت کے پرت اتا رلئے گئے۔ کھال کھینچ لی گئی۔ سعرت۔ بھڑکائی گئی۔ ازلف۔ قریب کردی گئی۔ احضرت۔ وہ لے کر حاضر ہوا۔ الخنس۔ پیچھے ہٹ جانے والے۔ الکنس۔ چھپ جانے والے۔ عسعس۔ پھیل گیا۔ تنفس۔ روشن ہوا۔ مکین۔ مرتبہ والا۔ مطاع۔ جس کی اطاعت کی جائے۔ کہا مانا جائے۔ الافق۔ کنارہ۔ بضنین۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–6
علامات قیامت اور حال۔ (1) تفسیر ابن جریر اور ابن ابی حاتم میں ، اذالشمس کورت سے واذالبحار سجرت تک کی تفسیر میں ابی بن کعب سے جو روایتیں ہیں ان کا حاصل یہ ہے کہ پہلے صور کی چھ نشانیاں ہیں۔ آفتاب کی روشنی جاتے رہی گی، تارے بارش کی طرح آسمان سے زمین پر گرپڑیں گے اور کوئی تارا اپنی جگہ باقی نہ رہے گا، پہاڑ غبار کی طرح ہوا میں اڑتے پھریں گے۔ حاملہ اونٹیوں کو چھوڑ دیں گے کیونکہ اونٹ عرب کا بہترین مال ہے اور دس مہینے جن کے حمل کے گذرچکے ہوں اور بیاہنے کے قریب ہودودھ اور بچے کی توقی پر بہت زیادہ عزیز ہوتی ہے لیکن قیامت کے ہولناک زلازل کے وقت ایسے نفیس و عزیز مال کو کوئی نہ پوچھے گا، نہ مالک کو اتنا…
Read the full tafseer →[2] اونٹ عرب کا بہترین مال ہے اور دس مہینے کی گا بھن اونٹنی جو بچہ جننے کے قریب ہو بہت زیادہ عزیز ہوتی ہے۔ لیکن قیامت کی ہلچل ایسی سخت ہوگی کہ ایسے عزیز اور قیمتی مال کو کوئی نہ پوچھے گا، نہ مالک کو ہوش ہوگا کہ اس کی خبرگیری کرے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–7
واذا العشارعطلت سے غرض یہ ہے کہ وہ وقت اتنا ہولناک ہوگا کہ چوپایہ کی وہ قسم جو مالک کو بہت عزیز ہوتی ہے ، وہ اس سے بھی بےپرواہ ہوجائیگا ۔ واذالوحوش حشرت یعنی وحشی جانور بھی گھبراجائیں گے اور مارے وحشت اور اضطراب کے جنگلوں میں جمع ہونے شروع ہوجائیں گے ۔
Read the full tafseer →(4) اور جب گیا بھن اونٹنیاں جو بیاہنے کے قابل ہوں وہ توجہ کے قابل نہ رہیں۔ یعنی دس مہینے کی گیا بھن اونٹنیاں جو اہل عرب کے نزدیک بہترین مال سمجھاجاتا ہے اور ایسی اونٹنی کی بہت حفاظت کی جاتی ہے اور بہت دیکھ بھال کی جاتی ہے لیکن وہ وقت یعنی نفخہ اولیٰ ایسی ہلچل کا وقت ہوگا کہ ایسی اونٹنیاں جو بہت توجہ کے قابل ہوتی ہیں اس وقت ناقابل توجہ ہوجائیں گی اور کوئی ایسی بیش قیمت مال کو نگاہ اٹھاکر بھی نہیں دیکھے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–6
ف 1۔ یہ چھ واقعے تو نفخہ اولی کے وقت ہوں گے جبکہ دنیا آباد ہوگی اور اس نفخہ سے یہ تغیرات و تبذلات ہوں گے اور اس وقت اونٹنیاں وغیرہ بھی اپنی اپنی حالت پر ہوں گی جن میں بعض وضع حمل کے قریب ہوں گی جو کہ اہل عرب کے نزدیک عزیز ترین اموال ہیں مگر اس وقت ہلچل میں کسی کو کہیں کا ہوش نہ رہے گا، اور وحوش بھی مارے گھبراہٹ کے سب گڈ مڈ ہوجائیں گے، اور دریاوں میں اول طغیانی پیدا ہوگی اور زمین میں شقوق واقع ہوجائیں گے، جس سے سب شیریں اور شور دریا ایک ہوجائیں گے، پھر شدت حرارت سے سب کا پانی مستحیل بآتش ہوجائے گا۔ اس کے بعد عالم فنا ہوجائے گا اور اگلے چھ واقعات بعد نفخہ ثانیہ کے ہوں گے۔
Read the full tafseer →اور جب دس مہینے کا گابھن اونٹنیاں آوارہ چھوڑ دی جائیں گی 4 ؎ قرآن کریم نے مختلف اشارات و استعارات بیان کیے ہیں جن کا مفہوم محض ایک بات کو تفہیم کرانا ہوتا ہے تاکہ کسی نہ کسی طرح بات سمجھ میں آجائے اور خصوصاً جب انسان کسی طرف مصروف ہو اور جس میں مصروف ہو اس میں مصروف ہونا وہ اپنی ذات کے لیے فائدہ مند بھی سمجھتا ہو ۔ اس کی طرف سے اس کو موڑ کر ، پھیر کر کسی دوسری طرف رخ کردینا اگر ناممکن نہیں تو بہر حال مشکل ضرور ہے لیکن اگر اس کے لیے کوشش ضروری ہو تو وہ کوشش حکمت عملی سے ہوگی اور مصروف ہونے والا خود اپنی مرضی سے سمجھ کر مصروف رہتے ہوئے اپنا رخ بدل لے گا تو وہ اس پر پختگی کے ساتھ قائم رہے گا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–5
وَإِذَا الْعِشَارُ عُطِّلَتْ (and when the ten-months pregnant she-camels will be abandoned...81:4). The Arabic word ` ishar is the plural of the word ` ushara' and is applied to she-camels having ten months pregnancy. Such she-camels were considered by the Arabs to be a very valuable asset, because they expected her to give birth to more camels and abundant milk. As such, they used to protect her and never left her free. The verse referring to this custom of the Arabs, who were the immediate addressees, depicts the horrible scene of the Doomsday when even the most favorite wealth, like such…
Read the full tafseer →4 This was by far the best way of giving an idea of the severities and horrors of Resurrection to the Arabs. Before the buses and trucks of the present day there was nothing more precious for the Arabs than the she-camel just about to give birth to her young. In this state she was most sedulously looked after and cared for, so that she is not lost, stolen, or harmed in any way. The people's becoming heedless of such she-camels, in fact, meant that at that time they would be so stunned as to become unmindful of their most precious possessions.
Read the full tafseer →