وَاِذَا الْجِبَالُ سُیِّرَتْ ۟وَاِذَا الۡجِبَالُ سُيِّرَتۡ
اور جب پہاڑ چلائے جائیں گے
— Fateh Muhammad Jalandhari
And when the mountains are removed
— Saheeh International
Juz 30 · Ruku 1 of surah · Ruku 6 of juz
وَاِذَا الْجِبَالُ سُیِّرَتْ ۟وَاِذَا الۡجِبَالُ سُيِّرَتۡ
اور جب پہاڑ چلائے جائیں گے
— Fateh Muhammad Jalandhari
And when the mountains are removed
— Saheeh International
Juz 30 · Ruku 1 of surah · Ruku 6 of juz
Read the whole surah · Surah At-Takwir
اور جب پہاڑ چلائے جائیں گے
اور جب پہاڑ چلائے جائیں گے
اور جب پہاڑ چلائے جائیں گے
اور جب پہاڑوں کو چلایا جائے گا۔
اور جب پہاڑ چلائے جائیں
اور جب پہاڑ (غبار بنا کر فضا میں) چلا دیئے جائیں گے،
اور جب پہاڑ چلائے جائیں گے۔
اور پہاڑ چلائے جائیں گے
پہاڑ چلا دیئے جائیں گے
اور جب چلا دیا جائے گا (ان جمے ہوئے دیو ہیکل) پہاڑوں کو
اور جب پہاڑ چلا دیئے جائیں
اور جب پہاڑ چلادیے جائیں گے۔
اور جب پہاڑ چلائے جائیں گے
when the mountains shall be set in motion,
and when the mountains will be set in motion,
and when the mountains will be set in motion,
And when the mountains are made to pass away;
And when the hills are moved,
— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran
And when the mountains are removed
the mountains are scattered about as dust,
And when the mountains are made to pass away,
And when the mountains shall be made to pass away,
When the mountains vanish (like a mirage);
— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary
Explained with ayahs 1–14
یعنی سوج بےنور ہوجائیگا، جاتا رہے گا اوندھا کر کے لپیٹ کر زمین پر پھینک دیا جائیگا ابن عباس ؓ فرماتے ہیں سورج چاند اور ستاروں کو لپیٹ کر بےنور کر کے سمندروں میں ڈال دیا جائیگا اور پھر مغربی ہوائیں چلیں گی اور آگ لگ جائیگی ایک مرفوع حدیث میں ہے کہ اس کو تہہ کر کے جہنم میں ڈال دیا جائیگا (ابن ابی حاتم) اور ایک حدیث میں سورج کے ساتھ چاند کا ذکر بھی ہے لیکن وہ ضعیف ہے صحیح بخاری میں یہ حدیث الفاظ کی تبدیلی سے مروی ہے، اس میں ہے کہ سورج اور چاند قیامت کے دن لپیٹ لیے جائیں گے امام بخاری اسے کتاب بدء الخلق میں لائے ہیں لیکن یہاں لانا زیادہ مناسب تھا یا مطابق عادت وہاں اور یہاں دونوں جگہ لاتے جیسے کہ…
Read the full tafseer →سورة التَّكْوِیْر 3 دوسرے الفاظ میں زمین کی وہ کشش بھی ختم ہوجائے گی جس کی بدولت پہاڑ وزنی ہیں اور جمے ہوئے ہیں۔ پس جب وہ باقی نہ رہے گی تو سارے پہاڑ اپنی جگہ سے اکھڑ جائیں گے اور بےوزن ہو کر زمین پر اس طرح چلنے لگیں گے جیسے فضا میں بادل چلتے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–3
وَاِذَا النُّجُوْمُ انْكَدَرَتْ ، انکدار سے مشتق ہے اس کے معنے سقوط اور گرنے کے ہیں۔ سلف سے یہی تفسیر منقول ہے اور مراد یہ ہے کہ آسمان کے سب ستارے سمندر میں گر پڑیں گے جیسا کہ مذکورہ روایات میں اس کی تفصیل آچکی ہے۔
Read the full tafseer →پہاڑوں کا حال: آسمان کے بعد یہ زمین کی سب سے شان دار اور عظیم چیز۔۔۔ پہاڑوں۔۔۔ کی طرف اشارہ فرمایا کہ یہ پہاڑ جو زمینوں میں گڑے ہوئے ہیں، جن کو سمجھتے ہو کہ یہ بالکل غیر فانی اور اٹل ہیں، ان کی جگہ سے ان کو ہلایا نہیں جا سکتا،۱ یہ اس دن چلا دیے جائیں گے۔ یہاں صرف چلا دیے جانے کا ذکر ہے لیکن دوسرے مقامات میں اس کی تفصیل بھی ہے کہ وہ اس طرح اڑتے پھریں گے جس طرح بادل اڑتے پھرتے ہیں۔ ۱ یہ امر ملحوظ رہے کہ منکرین قیامت کو جب قیامت کی ہلچل سے ڈرایا جاتا تو وہ اس کا مذاق اڑانے کے لیے یہ سوال کرتے کہ قیامت آئے گی تو کیا وہ پہاڑوں کو بھی اکھاڑ پھینکے گی؟
Read the full tafseer →3۔ 1 یعنی انہیں زمین سے اکھیڑ کر ہواؤں میں چلا دیا جائے گا اور دھنی ہوئی روئی کی طرح اڑیں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
1: یہاں سے آیت نمبر 14 تک قیامت اور آخرت کے حالات بیان فرمائے گئے ہیں۔ سورج کو لپیٹنے کی کیا کیفیت ہوگی ؟ اس کی حقیقت تو اللہ تعالیٰ ہی کو معلوم ہے۔ البتہ یہ بات ظاہر ہے کہ اس کے نتیجے میں سورج بےنور ہوجائے گا۔ چونکہ لپیٹنے کو عربی میں تکویر کہا جاتا ہے۔ اس لیے اس سورت کا نام سورة تکویر ہے
Read the full tafseer →واذا .................... سیرت (3:81) ” جب پہاڑ چلائے جائیں گے “۔ پہاڑوں کے چلائے جانے کا ایک مفہوم تو یہ ہے کہ ان کو ٹکڑے ٹکڑے کرکے ، پیس کر ہوا میں بکھیر دیا جائے گا جیسا کہ دوسری سورت میں ہے۔ ویسئلونک ............................ نسفا (105:20) ” تم سے یہ لوگ پہاڑوں کے بارے میں پوچھتے ہیں تو کہہ دیں کہ تمہارا رب انہیں دھول بنا کر اڑادے گا “ اور دوسری جگہ ہے۔ وبست ............................ منبثا (6, 5:56) ” اور پہاڑ اس طرح ریزہ ریزہ کردیئے جائیں گے کہ پراگندہ غبار بن کر رہ جائیں گے “۔ وسیرت ........................ سرابا (20:78) ” اور پہاڑ چلائے جائیں گے یہاں تک کہ وہ سراب ہوجائیں گے…
Read the full tafseer →7 یعنی ہوا میں اڑتے پھریں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–4
آیت 4{ وَاِذَا الْعِشَارُ عُطِّلَتْ۔ } ”اور جب گابھن اونٹنیاں چھٹی پھریں گی۔“ العِشار سے دس مہینوں کے حمل والی اونٹنیاں مراد ہیں ‘ یعنی ایسی اونٹنیاں جن کے وضع حمل کا وقت بہت قریب ہو۔ عربوں کے ہاں ایسی اونٹنی بہت قیمتی سمجھی جاتی تھی اور اس لحاظ سے وہ لوگ اس کی خصوصی حفاظت اور خدمت کرتے تھے۔ آیت میں اس حوالے سے قیامت کی ہولناک کیفیت کی تصویر دکھائی گئی ہے کہ جب قیامت برپا ہوگی تو بہت قیمتی اونٹنیاں بھی لاوارث ہوجائیں گی ‘ انہیں کوئی سنبھالنے والا نہیں ہوگا۔ ظاہر ہے اس وقت جبکہ خود عورتوں کو اپنے حمل کی کوئی فکر نہیں ہوگی تو اونٹنیوں کی کسے ہوش ہوگی۔
Read the full tafseer →4 یعنی زمین کی کشش ثقل ختم ہوجائے گی تو پہاڑوں کی زمین میں جڑیں بھی ڈھیلی پڑجائیں گی۔ پہلے تو پہاڑ ٹوٹ ٹوٹ کر ریزہ ریزہ ہوجائیں گے۔ بعد ازاں ان کی بھر بھری ریت کو ہوا ادھر سے ادھر اڑاتی پھرے گی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–6
1۔ یعنی ان کا پانی آگ اور بھاپ میں تبدیل ہوجائے، یہ سارے واقعات و کیفیات صور قیامت کے نفخہ اول کے بیان ہورے ہیں۔ عالم کائنات جو اس وقت تک آباد ہوگا، صور کی پہلی آواز پر یوں ہلاک وبرباد ہونا شروع ہوگا۔ اور اس کی بڑی بڑی مضبوط ومستحکم موجودات یوں درہم وبرہم اور ریزہ ریزہ ہونا شروع ہوں گی۔ (آیت) ” اذا الشمس کورت “۔ یعنی کرۂ آفتاب کی لمبی لمبی شعاعیں جو سارے علم کو منور کرتی رہتی ہیں، لپیٹ کر رکھ دی جائیں یا بےنور ہوجائیں، جس سے عالم تیرہ وتار ہوجائے۔ آفتاب جو محسوسات ومرئیات میں آسمان ہی کی طرح اعظم ترفین مخلوق ہے، جب وہ فناء پر مجبور ہوجائے تو پھر دوسری اور اس سے ادنی مخلوقات کا کیا ذکر ہے !…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
ترجمہ : شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے، جب سورج لپیٹ دیا جائے گا اور اس کی روشنی ختم کردی جائے گی، اور جب تارے جھڑ جائیں گے اور زمین پر گرجائیں گے، اور جب پہاڑ چلائے جائیں گے، یعنی ان کو سطح زمین سے اکھاڑ دیا جائے گا تو وہ اڑتے ہوئے غبار کی مانند ہوجائیں گے اور جب دس ماہ کی گابھن اونٹنیاں اپنے حال پر چھوڑ دی جائیں گی (یعنی) بغیر نگران یا بغیر دوھے چھوڑ دی جائیں گی، اس لئے کہ ان کو ایک عظیم ہولناکی نے خوف زدہ کردیا ہوگا اور عرب کے نزدیک دس ماہہ گابھن اونٹنی سے زیادہ نفیس مال کوئی نہیں تھا، اور جب بعث کے بعد جنگلی جانور سمیٹ کر جمع کردیئے جائیں گے تاکہ بعض کا بعض…
Read the full tafseer →واذا الجبال سیرت . اور جب پہاڑ چلائے جائینگے یعنی زمین سے چلا کر ہوا میں پراگندہ ذرّات بنا دیئے جائینگے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–7
(3۔ 7) اور جب پہاڑ زمین پر سے ہٹا دیے جائیں گے اور جب گابھن اونٹنیوں کے مالک اپنی مشغولیت کی بنا پر ان سے غافل ہوجائیں گے اور جب قصاص کے لیے تمام جانوروں کو جمع کیا جائے گا، یا یہ کہ گھبراہٹ کی وجہ سے جمع ہوجائیں گے اور جب کھارے دریا کا پانی شیریں میں ملا کر ایک کردیا جائے گا، یا یہ کہ آگ ہوجائیں گے اور جس وقت ایک ایک قسم کے لوگ اکٹھے کیے جائیں گے یعنی اپنے ساتھیوں سے مل جائیں گے کہ نیک نیک کے ساتھ اور گنہگار گنہگار کے ساتھ۔
Read the full tafseer →(واذا الجبال سیرت): اللہ تعالیٰ نے پہاڑوں کو زمین کے اندر گاڑ رکھا ہے اور زمین میں وہ کشش رکھی ہے جو انہیں باندھ کر رکھے ہوئے ہے۔ اللہ کے حکم سے قیامت کے دن وہ کشش ختم ہوجائے گی اور یہ جامد پہاڑ ڈھنی ہوئی اون کی طرح ذرہ ذرہ ہو کر بادلوں کی طرح چل پڑیں گے، حتیٰ کہ سراب کی طرح ہوجائیں گے، جیسا کہ فرمایا :(و سیرت الجبال فکانت سراباً) (النبا : 20)”اور پہاڑ چلائے جائیں گے تو وہ سراب بن جائیں گے۔“ مزید تفصیل کیلئے سورة نبا کی اسی آیت کی تفسیر دیکھیے۔
Read the full tafseer →واذالجبال سیرت۔ جب پہاڑوں کو زمین سے اکھاڑ دیا جائے گا اور ہوا میں چلایاجائے گا یہ بھی اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کی طرح ہے، ویوم نسیر الجبال وترالارض بارزۃ، (کہف 47) جس روز پہاڑوں کو چلایاجائے گا اور آپ زمین کو عیاں دیکھیں گے، ایک قول یہ کیا گیا ہے یہاں ان کے چلنے سے مراد پتھر کی حیثیت سے بدل جانا ہے تو وہ مجتمع مٹی کی طرح ہوجائیں گے یعنی وہ بہنے والی ریت ہوجائیں گے اور وہ دھنکی ہوئی اون ہوجائیں گے وہ بکھرے ہوئے ذرات ہوجائیں گے، وہ سراب کی طرح ہوجائیں گے اس سراب کی طرح جو کچھ بھی چیز نہیں، زمین کھلا زمیدان ہوجائے گی اس میں آپ کوئی اونچ نیچ نہیں دیکھیں گے یہ بحث اس کے علاوہ کئی مواقع پر موجود…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–4
آیت واذا النجوم انکدرت۔ جب ستارے بکھر جائیں گے۔ آیت واذا الجبال سیرت۔ یعنی پہاڑ اپنی جگہ سے اڑ جائیں گے آیت واذالعشار عطلت۔ یعنی اونٹنیوں کو نہ دوھا جائے گا۔ نہ ان کے تھن باندھے جائیں گے۔ اور ان کے مالک ان کو چھوڑدیں گے۔ آیت واذالوحوش حشرت۔ یعنی جب ان پر اللہ کا حکم آئے گا۔ آیت واذا لبحار سجرت۔ جب سمندر بہہ جائیں۔ آیت واذا النفوس زوجت۔ یعنی ہر آدمی اپنے عمل کے ساتھ ہوگا۔ آیت واذا الموء ودۃ سئلت۔ یعنی رب کے لوگ اس کام کو بہت کرنے والے تھے۔ آیت واذا الجحیم سعرت۔ یعنی جہنم کو جلادیا جائے گا آیت واذا الجنۃ ازلفت یعنی قریب کردیا جائے گا۔ یہاں تک کہ حدیث ختم ہوگئی ایک فریق جنت میں ہوگا اور ایک فریق…
Read the full tafseer →[وَاِذَا الْجبالُ سُيِّرَتْ : اور جب پہاڑ چلائے جائیں گے ]
Read the full tafseer →ثالثاً ﴿ وَ اِذَا الْجِبَالُ سُيِّرَتْ۪ۙ003﴾ (اور جبکہ پہاڑ چلا دیئے جائیں) پہاڑوں کا اپنی جگہ سے ہٹنا، سورة النمل، سورة طٰہٰ ، سورة مزمل میں بھی مذکور ہے، پہاڑ ریت کی طرح ہوجائیں گے اور اپنی اپنی جگہوں سے چل دیں گے جیسے بادل چلتے ہیں (وھی تمر مر السحاب) ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–29
ہولناک مناظر روز قیامت و پیشی اعمال و فیصلہ جزاء وسزا : قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” اذا الشمس کورت ....... الی ...... الا ان یشآء اللہ رب العلمین “۔ (ربط) سورة عبس کا مضمون دراصل اثبات قیامت کے موضوع ہی پر مشتمل تھا اور مقصد بیان یہ تھا کہ انسان کی سعادت و فلاح اور عزت و عظمت اپنی زندگی اپنے پروردگار کے ساتھ وابستہ رکھنے اور فکر آخرت میں ہے، اس کے برعکس وہ مغرور ومتکبر جو نہ خدا پر ایمان لاتا ہے اور نہ ہی اس کو آخرت کی فکر ہے وہ خدا کی نظروں میں ذلیل و حقیر ہے، طالب حق اور سعادت کی فکر میں لگے رہنے والا انسان ہی بارگاہ رسالت میں ہر عزت واکرام کا مستحق ہے، آخر میں قیامت کے روز کی پریشانی اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–5
2:۔ حضرت ابی بن کعب ؓ فرماتے ہیں وفزعت الجن الی الانس، والانس الی الجن واخلطت الدواب والطیر والوحوش ماجوا بعضہم فی بعض (ابن جریر ج 30 ص 63) ۔ حضرت علامہ شبیر احمد عثمانی (رح) فرماتے ہیں۔ یعنی جنگل کے جانور جو آدمی کے سایہ سے بھاگتے ہیں مضطرب ہو کر شہر میں آ گھسیں اور پالتو قسم کے جانوروں میں مل جائیں جیسا کہ اکثر خوف کے وقت دیکھا گیا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–13
(نام و کوائف) اس سورة کا نام سورة تکویر ہے ۔ اس کی پہلی آیت میں کورت کا لفظ آیا ہے جس سے سورة کا نام تکویر ہے ۔ یہ سورة مکی زندگی میں نازل ہوئی ۔ اس کی انتیس 29 آیات ہیں ۔ یہ سورة ایک 104 سو چار الفاظ اور 5202 پانچ ہزار 2 حروف پر مشتمل ہے (موضوع اور گذشتہ سورة سے ربط) اس سورة میں اللہ تعالیٰ نے قیامت کا ذکر اس نسبت سے کیا ہے ۔ کہ کائنات کی ارضی اور سماوی اشیاء پر قیامت کے کیا اثرات مرتب ہوں گے۔ سورة کے آخر میں قرآن کریم کی طرف دعوت دی گئی ہے۔ اور اسکی صداقت وحقانیت کا بیان ہے سابقہ کئی سورتوں میں قیامت کا ذکر مختلف انداز سے آرہا ہے۔ کہ قیامت کا اثر مختلف چیزوں پر کیا ہوگا۔ سورة عبس میں قیامت…
Read the full tafseer →وَاِذَا الْجِبَالُ سُيِّرَتْ 3 جبل الجَبَل جمعه : أَجْبَال وجِبَال، وقال عزّ وجل : أَلَمْ نَجْعَلِ الْأَرْضَ مِهاداً وَالْجِبالَ أَوْتاداً [ النبأ/ 6- 7] ( ج ب ل ) قرآن میں ہے : ۔ أَلَمْ نَجْعَلِ الْأَرْضَ مِهاداً وَالْجِبالَ أَوْتاداً [ النبأ/ 6- 7] کیا ہم نے زمین کو بچھونا نہیں بنایا " ۔ اور پہاڑوں کو ( اس کی میخیں ) نہیں ٹھہرایا ؟ سار السَّيْرُ : المضيّ في الأرض، ورجل سَائِرٌ ، وسَيَّارٌ ، والسَّيَّارَةُ : الجماعة، قال تعالی: وَجاءَتْ سَيَّارَةٌ [يوسف/ 19] ، يقال : سِرْتُ ، وسِرْتُ بفلان، وسِرْتُهُ أيضا، وسَيَّرْتُهُ علی التّكثير، فمن الأوّل قوله : أَفَلَمْ يَسِيرُوا[ الحج/ 46] ، قُلْ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–3
1 ؎ جھڑپڑیں
Read the full tafseer →وَاِذَا الْجِبَالُ سُیِّرَتْ ۔ (التکویر : 3) (اور جب پہاڑ چلائے جائیں گے۔ ) پہاڑوں کا حال جس طرح آسمان کی نمایاں اور شاندار مخلوقات سورج اور ستارے ہیں۔ اسی طرح زمین کی سب سے نمایاں شاندار اور پرہیبت مخلوق پہاڑ ہیں۔ یہ چونکہ زمین میں بہت مضبوطی سے گڑے ہوئے ہیں اس لیے عرب انھیں غیرفانی اور اٹل سمجھتے تھے۔ چناچہ جب انھیں قیامت کی تفصیلات بتائی جاتیں تو وہ حیران ہو کر پوچھتے کہ کیا قیامت آنے سے پہاڑ بھی اکھڑ جائیں گے۔ اور جب انھیں اثبات میں جواب دیا جاتا تو وہ اسے خلاف عقل سمجھتے ہوئے مذاق اڑاتے۔ اس لیے زمین کی اس نمایاں مخلوق کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے کہ وہ وقوع قیامت سے جب زمین کی کشش ختم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–6
فہم القرآن ربط سورت : سورت عبس کا اختتام اس بات پر کیا گیا کہ جو لوگ قیامت کا انکار کرتے ہیں ان کے چہروں پر ذلّت اور سیاہی چھائی ہوگی۔ التکویر میں قیامت کے ابتدائی مراحل ذکر فرما کر بتلایا ہے کہ انسان نے دنیا میں رہ کر جو کچھ کیا ہوگا وہ قیامت کے دن اس کے سامنے پیش کردیا جائے گا۔ اس حالت میں کہ اس کے ایک طرف جہنم دھک رہی ہوگی اور دوسری طرف جنت مہک رہی ہوگی۔ اس سورة کی ابتدا میں قیامت کے پہلے ہولناک مرحلہ کا منظر پیش کیا گیا ہے اسرافیل جونہی پہلی صور پھونکے گا تو زمین و آسمانوں میں ہلچل مچ جائے گی۔ ہر جاندار موت کے گھاٹ اتر جائے گا یہاں تک کہ سورج اپنی روشنی اور حرارت کھو بیٹھے گا۔ جس کے لیے ”…
Read the full tafseer →3 : وَاِذَا الْجِبَالُ سُیِّرَتْ (اور جب پہاڑچلائے جائیں گے) سطح زمین سے چلا کر دور کردیئے جائیں گے یا فضا میں بادلوں کی طرح چلائے جائیں گے۔
Read the full tafseer →2 ۔” واذالنجوم انکدرت “ یعنی آسمان سے ٹوٹ کر زمین پر گریں گے۔ کہا جاتا ہے ” انکدر الطائر “ جب وہ گرپڑے۔ کلبی اور عطاء رحمہما اللہ فرماتے ہیں اس دن آسمان ستاروں کی بارش برسائے گا۔ پس کوئی ستارہ باقی نہ بچے گا سب نیچے گرپڑیں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–14
1۔ 14۔ صحیح بخاری وغیرہ میں حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا قیامت کے دن سورج اور چاند کو لپیٹ کر دوزخ میں ڈال دیا جائے گا اس حدیث کی شرح میں علماء نے لکھا ہے کہ دنیا میں بعض لوگ سورج اور چاند کو پوجا کرتے ہیں ان کے ذلیل کرنے کے لئے سورج اور چاند کو دوزخ کی آگ میں جھونکا جائے گا۔ مسند امام احمد ترمذی 2 ؎ مستدرک حاکم طبرانی وغیرہ میں حضرت عبد اللہ بن عمر سے جو روایتیں ہیں ان کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ جس شخص کو یہ منظور ہو کہ قیامت کو دنیا میں بھی اپنی آنکھوں کے سامنے دیکھ لے تو اس کو چاہئے کہ اذا الشمس کورت و اذا السماء انفطرت و اذالسماء انشقت…
Read the full tafseer →(وَاِذَا الْجِبَالُ سُيِّرَتْ ) اور جب پہاڑ چلائے جائیں گے یعنی ریت کے بھر بھرے ٹیلے بن جائیں گے پھر دھنکی ہوئی رنگ دار اون کے مانند بن جائیں گے پھر بدل کر اڑتا ہوا غبار بن جائیں گے اور ان کو اپنی جگہوں سے ہٹا دیا جائے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–3
(2) اس روز ستاروں کا حال : سو سورج کے بعد ستاروں کے بارے میں ارشاد فرمایا گیا " اور جب بےنور ہوجائیں گے ستارے " کہ سورج جو کہ ان سب کی روشنی کا منبع و مرکز ہے جب اس کی بساط ہی کو لپیٹ دیا جائے گا اور اس کی روشنی کو ختم کردیا جائے گا۔ " انکدار " کے مفہوم میں تساقط اور گرنے کے معنی بھی پائے جاتے ہیں اور ماند پڑنے اور دھندلا جانے کے بھی، اس لیے عام تراجم میں اس لفظ کے یہ دونوں ہی ترجمے پائے جاتے ہیں کسی نے بےنور ہونے کے معنی کیے اور کسی نے گر پڑنے کے۔ " ولکل وجھۃ ھو مولیھا " اور ظاہر ہے جب کہ سورج ہی کی بساط ہی لپیٹ دی جائے گی تو اس کے نظام سے وابستہ جتنے بھی بلب اور قمقمے ہیں وہ سب آپ سے آپ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–14
قیامت کیسی ہوگی ؟ اور بعد میں کیا ہوگا ؟ تشریح : آیت 1 سے 6 تک قیامت کا نقشہ کھینچا گیا ہے۔ جس میں نظام کائنات کے درہم برہم ہونے میں اجرام سماوی کا ذکر ہے۔ '' کُوّرت '' تکویر سے ہے یعنی لپیٹا جانا مطلب یہ ہے کہ سورج اپنی موت کو پہنچ کر بےنور مردہ ہوجائے گا۔ جس کی وضاحت ڈاکٹر دلدار صاحب یوں کرتے ہیں۔ '' جب ستارے کا ایندھن (ہائیڈروجن) ختم ہوجاتا ہے تو وہ ٹھنڈا ہونے لگتا ہے۔ چناچہ کشش ثقل حر کی توانائی پر غالب آجاتی ہے۔ اور ستارہ سکڑنے لگتا ہے اور بالآخر موت سے ہمکنار ہوجاتا ہے۔ ستاروں کی موت مندرجہ ذیل تین حالتوں میں سے کسی ایک حالت کی طرف لے جاتی ہے۔ 1 ۔ سفید بونا White Dwosf 2 ۔ نیوٹران ستارہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–29
سورة التکویر۔ آیات 1 تا 29۔ اسرار ومعارف۔ جب سورج بےنور ہوجائے گا اور ستارے ٹوٹ کر گرجائیں گے اور جب پہاڑ اکھیڑ کر اڑادیے جائیں گے اور لوگوں کو مال و دولت بھول جائے گا کہ عربوں کے نزدیک دس ماہ کی گابھن اونٹنی سب سے قیمتی اثاثہ سمجھی جاتی ہے ہر وقت دم کے ساتھ لگے پھرتے تھے کہ صحرا میں اس کادودھ نعمت غیر مترقہ ہوتا تھا مگر وہ بھی آوارہ پھر رہی ہوں گی یعنی لوگوں کو مال وزر کا ہوش نہ رہے گا اور نفخہ اولی سے گھبرا کر جنگلی جانور اور درندے آبادیوں میں آگھسیں گے اور دریا سمندر میں مل جائیں گے کہ زمین شق ہوجائے گی اور پھر ان میں اجرام فلکی گریں گے تو بھاپ بن کر اڑجائیں گے اور پھر فضا میں وہ بھاپ آگ…
Read the full tafseer →ف 3 یعنی اپنی جگہ سے اکھاڑ کر ہوا میں اڑائے جائیں۔
Read the full tafseer →(81:3) واذا الجبال سیرت اس کا عطف بھی آیت نمبر 1 پر ہے ترکیب بھی وہی ہے۔ سیرت ماضی مجہول کا صیغہ واحد مؤنث غائب۔ تسییر (تفعیل) مصدر ۔ وہ چلائی جائے گی وہ (پہاڑ) چلائے جائیں گے۔ سیر بمعنی چلنا، سیر کرنا۔ الجبال جمع الجبل واحد۔ پہاڑ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–29
لغات القرآن۔ کورت۔ لپیٹ دے گیا۔ انکدرت۔ ماند پڑگئی۔ (پڑ گئے) سیرت۔ چلا دی گئی۔ العشار۔ گابھن اونٹنیاں۔ عطلت۔ چھٹ کر پھری۔ الوحوش (وحش) ۔ جنگلی جانور۔ حشرت۔ آپس میں گڈ مڈ ہوجائیں۔ سجرت۔ جھونکے گئے۔ زوجت۔ جوڑے جوڑے بنا دئیے گئے۔ الموئو دۃ ۔ زمین میں گاڑدی گئی لڑکی۔ سئلت۔ پوچھا گیا۔ الصحف۔ اعمال نامے۔ نشرت۔ پھیلا دئیے۔ کشطت۔ پرت کے پرت اتا رلئے گئے۔ کھال کھینچ لی گئی۔ سعرت۔ بھڑکائی گئی۔ ازلف۔ قریب کردی گئی۔ احضرت۔ وہ لے کر حاضر ہوا۔ الخنس۔ پیچھے ہٹ جانے والے۔ الکنس۔ چھپ جانے والے۔ عسعس۔ پھیل گیا۔ تنفس۔ روشن ہوا۔ مکین۔ مرتبہ والا۔ مطاع۔ جس کی اطاعت کی جائے۔ کہا مانا جائے۔ الافق۔ کنارہ۔ بضنین۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–6
علامات قیامت اور حال۔ (1) تفسیر ابن جریر اور ابن ابی حاتم میں ، اذالشمس کورت سے واذالبحار سجرت تک کی تفسیر میں ابی بن کعب سے جو روایتیں ہیں ان کا حاصل یہ ہے کہ پہلے صور کی چھ نشانیاں ہیں۔ آفتاب کی روشنی جاتے رہی گی، تارے بارش کی طرح آسمان سے زمین پر گرپڑیں گے اور کوئی تارا اپنی جگہ باقی نہ رہے گا، پہاڑ غبار کی طرح ہوا میں اڑتے پھریں گے۔ حاملہ اونٹیوں کو چھوڑ دیں گے کیونکہ اونٹ عرب کا بہترین مال ہے اور دس مہینے جن کے حمل کے گذرچکے ہوں اور بیاہنے کے قریب ہودودھ اور بچے کی توقی پر بہت زیادہ عزیز ہوتی ہے لیکن قیامت کے ہولناک زلازل کے وقت ایسے نفیس و عزیز مال کو کوئی نہ پوچھے گا، نہ مالک کو اتنا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
[1] یعنی سورج کی شعاعوں کو جن سے دھوپ پھیلتی ہے لپیٹ کر رکھ دیا جائے گا اور سورج بےنور ہو کر رہ جائے گا جس کی وجہ سے سارا عالم تیرہ و تار ہوجائے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
سورة التکویر 1: قرآن حکیم نے جن صداقتوں کو آج سے چودہ سو سال قبل بیان کیا تھا ۔ آج سائنس اور علوم جدیدہ اس کی تصدیق کررہے ہیں ۔ چناچہ تکویر شمس کا مسئلہ وہ ہے جس کو قیامت کی توضیح کے سلسلہ میں قرآن حکیم نے بوضاحت ذکر کیا اور آج بڑے بڑے ماہرین کہہ رہے ہیں کہ ایک وقت آئے گا جب کہ سورج کی حرارت اور روشنی کا خزانہ بالکل ختم ہوجائے گا اور یہ محض کرہ بےنور ہوکر رہ جائے گا ۔ اس وقت کے عقل مند اور نظریہ پر ہنستے تھے کہ کہیں کائنات کا چشمہ نور وضیاء بھی خشک ہوسکتا ہے ؟ مگر آج کے عقلا ان لوگوں کی عقل پر ہنستے ہیں جو اس نظام کو دائمی سمجھتے تھے ۔
Read the full tafseer →(3) اور جب پہاڑ چلادیئے جائیں - یعنی ریت بن کر ہوا میں اڑتے پھریں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–6
ف 1۔ یہ چھ واقعے تو نفخہ اولی کے وقت ہوں گے جبکہ دنیا آباد ہوگی اور اس نفخہ سے یہ تغیرات و تبذلات ہوں گے اور اس وقت اونٹنیاں وغیرہ بھی اپنی اپنی حالت پر ہوں گی جن میں بعض وضع حمل کے قریب ہوں گی جو کہ اہل عرب کے نزدیک عزیز ترین اموال ہیں مگر اس وقت ہلچل میں کسی کو کہیں کا ہوش نہ رہے گا، اور وحوش بھی مارے گھبراہٹ کے سب گڈ مڈ ہوجائیں گے، اور دریاوں میں اول طغیانی پیدا ہوگی اور زمین میں شقوق واقع ہوجائیں گے، جس سے سب شیریں اور شور دریا ایک ہوجائیں گے، پھر شدت حرارت سے سب کا پانی مستحیل بآتش ہوجائے گا۔ اس کے بعد عالم فنا ہوجائے گا اور اگلے چھ واقعات بعد نفخہ ثانیہ کے ہوں گے۔
Read the full tafseer →اور جب پہاڑ چلائے جائیں گے 3 ؎ ( سیرت) وہ چلائی گئی ، وہ چلائے گئے تیرق سے جس کے معنی چلانے کے ہیں ۔ معنی کا صیغہ واحد مؤنث غائب ۔ راغب لکھتے ہیں کہ تیسر کی دو قسمیں ہیں ایک وہ جو سائر چلنے والے کے امر و اختیار اور ارادہ سے ہو جیسے مو الذی یسیر کم ” وہی تو ہے جو تم کو پھراتا ہے “ اور دوسرے وہ جو بذریعہ قہر و تسخیر ہو جیسے کہ پہاڑوں کی تسخیر ہے واذا الجبال سیرت اور جب پہاڑ چلائے جائیں گے حالانکہ پہاڑ بالاختیار اور بالا ارادہ نہیں چلیں گے بلکہ ان کو چلانے والا چلائے گا ۔ جس کو دوسری جگہ اڑائے جانے سے تعبیر کیا گا ہے۔ جس چیز کو تم لوگ کشش ثقل کہتے ہو کیا وہ مخلوق نہیں ہے ؟ بلاشہ مخلوق ہے اور جب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–3
وَإِذَا النُّجُومُ انكَدَرَتْ (and when the stars will swoop down...81:2). The word inkadarat is derived from inkidar and it denotes 'to fall'. The righteous predecessors have interpreted it thus. It signifies that all the stars from the sky will fall into the oceans as explained in the preceding verses.
Read the full tafseer →3 In other words, the earth also will lose its force of gravity because of which the mountains have weight and are firmly set in the earth. Thus, when there is no more gravity the mountains will be uprooted from their places and becoming weightless will start moving and flying as the clouds move in the atmosphere.
Read the full tafseer →