At-Takwir 81:2

At-Takwir · from ayah 2

81:2

وَاِذَا النُّجُوْمُ انْكَدَرَتْ ۟وَاِذَا النُّجُوۡمُ انْكَدَرَتۡ

جب تارے بےنور ہو جائیں گے

— Fateh Muhammad Jalandhari

And when the stars fall, dispersing,

— Saheeh International

Juz 30 · Ruku 1 of surah · Ruku 6 of juz

Read the whole surah · Surah At-Takwir

All translations of 81:2

جب تارے بےنور ہو جائیں گے

— مولانا فتح محمد جالندہری

اور جب ستارے بے نور ہو جائیں گی

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور جب ستارے ٹوٹ ٹوٹ کر گریں گے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور جب تارے جھڑ پڑیں

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور جب ستارے (اپنی کہکشاؤں سے) گر پڑیں گے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور جب ستارے بےنور ہوجائیں گے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اور ستارے بےنور ہوجائیں گے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور ستارے بےنور ہوجائیں گے۔

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور جب بےنور ہوجائیں گے (یہ جھلمل جھلمل کرتے) ستارے

— مولانا اسحاق مدنی

اور جب ستارے بےنور رہ جائے

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور جب ستارے ماند پڑجائیں گے۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

جب تارے بےنور ہوجائیں گے

— محترمہ رفعت اعجاز

when the stars shall scatter away,

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

and when the stars will swoop down,

— Muhammad Taqi Usmani

and when the stars will swoop down,

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

And when the stars Inkadarat.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

And when the stars fall, dispersing,

— Saheeh International

the stars are made to fade away,

— Muhammad Sarwar

And when the stars darken,

— Muhammad Habib Shakir

And when the stars shall dart down,

— Abdul Majid Daryabadi

Tafseer of 81:2

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 1–14

یعنی سوج بےنور ہوجائیگا، جاتا رہے گا اوندھا کر کے لپیٹ کر زمین پر پھینک دیا جائیگا ابن عباس ؓ فرماتے ہیں سورج چاند اور ستاروں کو لپیٹ کر بےنور کر کے سمندروں میں ڈال دیا جائیگا اور پھر مغربی ہوائیں چلیں گی اور آگ لگ جائیگی ایک مرفوع حدیث میں ہے کہ اس کو تہہ کر کے جہنم میں ڈال دیا جائیگا (ابن ابی حاتم) اور ایک حدیث میں سورج کے ساتھ چاند کا ذکر بھی ہے لیکن وہ ضعیف ہے صحیح بخاری میں یہ حدیث الفاظ کی تبدیلی سے مروی ہے، اس میں ہے کہ سورج اور چاند قیامت کے دن لپیٹ لیے جائیں گے امام بخاری اسے کتاب بدء الخلق میں لائے ہیں لیکن یہاں لانا زیادہ مناسب تھا یا مطابق عادت وہاں اور یہاں دونوں جگہ لاتے جیسے کہ…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة التَّكْوِیْر 2 یعنی وہ بندش جس نے ان کو اپنے اپنے مدار اور مقام پر باندھ رکھا ہے، کھل جائے گی اور سب تارے اور سیارے کائنات میں منتشر ہوجائیں گے۔ اس کے علاوہ انکدار میں کدورت کا مفہوم بھی شامل ہے جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ وہ صرف منتشر ہی نہیں ہو گے بلکہ تاریک بھی ہوجائیں گے۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 2–3

وَاِذَا النُّجُوْمُ انْكَدَرَتْ ، انکدار سے مشتق ہے اس کے معنے سقوط اور گرنے کے ہیں۔ سلف سے یہی تفسیر منقول ہے اور مراد یہ ہے کہ آسمان کے سب ستارے سمندر میں گر پڑیں گے جیسا کہ مذکورہ روایات میں اس کی تفصیل آچکی ہے۔

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

ستاروں کا حال: ’اِنْکِدَارٌ‘ کے معنی دھندلے ہو جانے اور ماند پڑ جانے کے ہیں۔ یہاں اس سے مراد ستاروں کا بے نور ہو جانا ہے۔ ظاہر ہے کہ جب سورج ہی کی بساط لپیٹ دی جائے گی تو اس کے نظام سے وابستہ جتنے بھی بلب اور قمقمے ہیں وہ سب آپ سے آپ بے نور ہو جائیں گے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 1–3

1: یہاں سے آیت نمبر 14 تک قیامت اور آخرت کے حالات بیان فرمائے گئے ہیں۔ سورج کو لپیٹنے کی کیا کیفیت ہوگی ؟ اس کی حقیقت تو اللہ تعالیٰ ہی کو معلوم ہے۔ البتہ یہ بات ظاہر ہے کہ اس کے نتیجے میں سورج بےنور ہوجائے گا۔ چونکہ لپیٹنے کو عربی میں تکویر کہا جاتا ہے۔ اس لیے اس سورت کا نام سورة تکویر ہے

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

واذا ........................ انکدرت (2:81) ” اور جب تارے بکھر جائیں گے “۔ یعنی اس بندش کے نظام سے باہر نکل آئیں گے جو اس کائنات کے نظام میں موجود ہے اور جس نے سب کو باہم باندھا ہوا ہے۔ اور یہ کہ ان کی روشنی ختم ہوجائے گی اور وہ تاریک ہوجائیں گے۔ یہ اللہ ہی کو معلوم ہے کہ کن ستاروں کے ساتھ یہ حادثہ ہوگا۔ یہ تمام ستارے ہوں گے یا ستاروں کا ایک گروہ ہوگا جو ہمارے قریب ہے۔ مثلاً سورج کے قریبی ستاروں میں یہ عمل ہوگا یا ہماری کہکشاں میں یہ عمل ہوگا ، جس میں کروڑوں ستارے ہیں۔ یہ تمام ستاروں میں ہوگا جن کے مقامات ومدارات کا علم بھی اللہ کو ہے اور تعداد کا علم بھی اللہ کو ہے کیونکہ جہاں تک ہماری…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 1–4

آیت 4{ وَاِذَا الْعِشَارُ عُطِّلَتْ۔ } ”اور جب گابھن اونٹنیاں چھٹی پھریں گی۔“ العِشار سے دس مہینوں کے حمل والی اونٹنیاں مراد ہیں ‘ یعنی ایسی اونٹنیاں جن کے وضع حمل کا وقت بہت قریب ہو۔ عربوں کے ہاں ایسی اونٹنی بہت قیمتی سمجھی جاتی تھی اور اس لحاظ سے وہ لوگ اس کی خصوصی حفاظت اور خدمت کرتے تھے۔ آیت میں اس حوالے سے قیامت کی ہولناک کیفیت کی تصویر دکھائی گئی ہے کہ جب قیامت برپا ہوگی تو بہت قیمتی اونٹنیاں بھی لاوارث ہوجائیں گی ‘ انہیں کوئی سنبھالنے والا نہیں ہوگا۔ ظاہر ہے اس وقت جبکہ خود عورتوں کو اپنے حمل کی کوئی فکر نہیں ہوگی تو اونٹنیوں کی کسے ہوش ہوگی۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

3 اِنْکَدَرَ : کدر بمعنی گدلاپن (ضد صفائ) اور انکدر کا معنی کسی چیز کا خود گدلا ہونا۔ رنگ میلا اور ہلکا پڑجانا یا ماند پڑجانا، یعنی ستاروں اور چاند کو جو روشنی حاصل ہے وہ انعکاس نور کے نتیجہ میں سورج یا ایسے کسی دوسرے ستارے سے حاصل ہوتی ہے۔ پھر جب ان ستاروں کا باہمی ربط ختم ہوجائے گا تو ان میں چمک اور آب و تاب بھی نہ رہے گی۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 1–6

1۔ یعنی ان کا پانی آگ اور بھاپ میں تبدیل ہوجائے، یہ سارے واقعات و کیفیات صور قیامت کے نفخہ اول کے بیان ہورے ہیں۔ عالم کائنات جو اس وقت تک آباد ہوگا، صور کی پہلی آواز پر یوں ہلاک وبرباد ہونا شروع ہوگا۔ اور اس کی بڑی بڑی مضبوط ومستحکم موجودات یوں درہم وبرہم اور ریزہ ریزہ ہونا شروع ہوں گی۔ (آیت) ” اذا الشمس کورت “۔ یعنی کرۂ آفتاب کی لمبی لمبی شعاعیں جو سارے علم کو منور کرتی رہتی ہیں، لپیٹ کر رکھ دی جائیں یا بےنور ہوجائیں، جس سے عالم تیرہ وتار ہوجائے۔ آفتاب جو محسوسات ومرئیات میں آسمان ہی کی طرح اعظم ترفین مخلوق ہے، جب وہ فناء پر مجبور ہوجائے تو پھر دوسری اور اس سے ادنی مخلوقات کا کیا ذکر ہے !…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 1–3

ترجمہ : شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے، جب سورج لپیٹ دیا جائے گا اور اس کی روشنی ختم کردی جائے گی، اور جب تارے جھڑ جائیں گے اور زمین پر گرجائیں گے، اور جب پہاڑ چلائے جائیں گے، یعنی ان کو سطح زمین سے اکھاڑ دیا جائے گا تو وہ اڑتے ہوئے غبار کی مانند ہوجائیں گے اور جب دس ماہ کی گابھن اونٹنیاں اپنے حال پر چھوڑ دی جائیں گی (یعنی) بغیر نگران یا بغیر دوھے چھوڑ دی جائیں گی، اس لئے کہ ان کو ایک عظیم ہولناکی نے خوف زدہ کردیا ہوگا اور عرب کے نزدیک دس ماہہ گابھن اونٹنی سے زیادہ نفیس مال کوئی نہیں تھا، اور جب بعث کے بعد جنگلی جانور سمیٹ کر جمع کردیئے جائیں گے تاکہ بعض کا بعض…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

واذا النجوم انکدرت . اور جب ستارے ٹوٹ پڑیں گے۔ آسمان سے بکھر کر زمین پر آپڑیں گے۔ انکدر الطیرُ : پرندہ ٹوٹ کر گرپڑا۔ کلبی نے کہا : اس روز آسمان سے ستاروں کی بارش ہوگی ‘ کوئی تارہ بغیر گرے نہیں بچے گا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 1–2

(1۔ 2) جب سورج عمامہ کی طرح پلٹ جائے گا، یا یہ کہ بےنور ہوجائے گا، اور جب ستارے ٹوٹ پھوٹ کر روئے زمین پر گر پڑیں گے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

(واذا النجوم انکدرت :”انکدرت“ طبری نے اس کے دو معانی نقل فرمائے ہیں، پہلا ”تناثرت“ یعنی بکھر کر گرجائیں گے اور دوسرا ”تغیرت“ یعنی متغیر ہوجائیں گے۔ کدورت صفائی کی ضد ہے۔ دونوں ملحوظ رکھے جائیں تو مطلب یہ ہوگا کہ ستارے بکھر کر گرجائیں گے، ان کی روشنی اور صفائی ختم ہو جائیگی اور وہ بےنور ہوجائیں گے۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

واذالنجوم انکدرت۔ جب ستارے گرجائیں گے اور بکھرجائیں گے ابوعبیدہ نے کہا، وہ گرجائیں گے جس طرح عقاب گرپڑتا ہے، عجاج شکرہ کا وصف بیان کرتا ہے : ابصر خربان فضاء فانکدر۔ شکرہ نے کھلی فضا دیکھی تو وہ نیچے گرگیا ۔ ابوصالح نے حضرت ابن عباس سے روایت نقل کی ہے کہ رسول اللہ نے ارشاد فرمایا اس روز آسمان میں کوئی ستارہ باقی نہیں بچے گا مگر وہ گرجائے گا یہاں تک کہ ساتویں زمین والے اس وجہ سے خوفزدہ ہوجائیں گے جو اس زمین کو مصیبت پہنچی اور اوپر والی زمینوں کو مصیبت آئی۔ ضحاک نے حضر تابن عباس سے روایت نقل کی ہے کہ معنی ہے وہ گرجائیں گے اس کی وجہ یہ ہے قندیلیں آسمان اور زمین کے درمیان نور کی زنجیروں سے لٹکی…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 2–4

آیت واذا النجوم انکدرت۔ جب ستارے بکھر جائیں گے۔ آیت واذا الجبال سیرت۔ یعنی پہاڑ اپنی جگہ سے اڑ جائیں گے آیت واذالعشار عطلت۔ یعنی اونٹنیوں کو نہ دوھا جائے گا۔ نہ ان کے تھن باندھے جائیں گے۔ اور ان کے مالک ان کو چھوڑدیں گے۔ آیت واذالوحوش حشرت۔ یعنی جب ان پر اللہ کا حکم آئے گا۔ آیت واذا لبحار سجرت۔ جب سمندر بہہ جائیں۔ آیت واذا النفوس زوجت۔ یعنی ہر آدمی اپنے عمل کے ساتھ ہوگا۔ آیت واذا الموء ودۃ سئلت۔ یعنی رب کے لوگ اس کام کو بہت کرنے والے تھے۔ آیت واذا الجحیم سعرت۔ یعنی جہنم کو جلادیا جائے گا آیت واذا الجنۃ ازلفت یعنی قریب کردیا جائے گا۔ یہاں تک کہ حدیث ختم ہوگئی ایک فریق جنت میں ہوگا اور ایک فریق…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[وَاِذَا النُّجومُ انكَدَرَتْ : اور جب تارے بکھر کر بےنور ہوجائیں گے ] ک د ر [کَدْرًا : (ن) گدلا ہونا، میلا ہونا۔] [اِنْکِدَارًا : (انفعال) کسی چیز کا بکھر کر بجھ جانا۔ بےنور ہوجانا۔ زیر مطالعہ آیت۔ 2 ۔] دوسری آیت میں بتایا ہے کہ باہمی کشش ثقل کی وہ بندش جس نے اجرامِ فلکی کو اپنے اپنے مدار پر باندھ رکھا ہے وہ کھل جائے گی اور سب تارے اور سیارے کائنات میں منتشر ہوجائیں گے۔ اس کے علاوہ اِنْکِدَار میں کدورت کا مفہوم بھی شامل ہے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ صرف منتشر ہی نہیں ہوں گے بلکہ تاریک بھی ہوجائیں گے۔ (تفہیم القرآن)

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

ثانیاً ﴿ وَ اِذَا النُّجُوْمُ انْكَدَرَتْ۪ۙ002﴾ (اور جب ستارے گرپڑیں) ۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 1–29

ہولناک مناظر روز قیامت و پیشی اعمال و فیصلہ جزاء وسزا : قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” اذا الشمس کورت ....... الی ...... الا ان یشآء اللہ رب العلمین “۔ (ربط) سورة عبس کا مضمون دراصل اثبات قیامت کے موضوع ہی پر مشتمل تھا اور مقصد بیان یہ تھا کہ انسان کی سعادت و فلاح اور عزت و عظمت اپنی زندگی اپنے پروردگار کے ساتھ وابستہ رکھنے اور فکر آخرت میں ہے، اس کے برعکس وہ مغرور ومتکبر جو نہ خدا پر ایمان لاتا ہے اور نہ ہی اس کو آخرت کی فکر ہے وہ خدا کی نظروں میں ذلیل و حقیر ہے، طالب حق اور سعادت کی فکر میں لگے رہنے والا انسان ہی بارگاہ رسالت میں ہر عزت واکرام کا مستحق ہے، آخر میں قیامت کے روز کی پریشانی اور…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 1–5

2:۔ حضرت ابی بن کعب ؓ فرماتے ہیں وفزعت الجن الی الانس، والانس الی الجن واخلطت الدواب والطیر والوحوش ماجوا بعضہم فی بعض (ابن جریر ج 30 ص 63) ۔ حضرت علامہ شبیر احمد عثمانی (رح) فرماتے ہیں۔ یعنی جنگل کے جانور جو آدمی کے سایہ سے بھاگتے ہیں مضطرب ہو کر شہر میں آ گھسیں اور پالتو قسم کے جانوروں میں مل جائیں جیسا کہ اکثر خوف کے وقت دیکھا گیا ہے۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 1–13

(نام و کوائف) اس سورة کا نام سورة تکویر ہے ۔ اس کی پہلی آیت میں کورت کا لفظ آیا ہے جس سے سورة کا نام تکویر ہے ۔ یہ سورة مکی زندگی میں نازل ہوئی ۔ اس کی انتیس 29 آیات ہیں ۔ یہ سورة ایک 104 سو چار الفاظ اور 5202 پانچ ہزار 2 حروف پر مشتمل ہے (موضوع اور گذشتہ سورة سے ربط) اس سورة میں اللہ تعالیٰ نے قیامت کا ذکر اس نسبت سے کیا ہے ۔ کہ کائنات کی ارضی اور سماوی اشیاء پر قیامت کے کیا اثرات مرتب ہوں گے۔ سورة کے آخر میں قرآن کریم کی طرف دعوت دی گئی ہے۔ اور اسکی صداقت وحقانیت کا بیان ہے سابقہ کئی سورتوں میں قیامت کا ذکر مختلف انداز سے آرہا ہے۔ کہ قیامت کا اثر مختلف چیزوں پر کیا ہوگا۔ سورة عبس میں قیامت…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَاِذَا النُّجُوْمُ انْكَدَرَتْ۝ 2 نجم أصل النَّجْم : الكوكب الطالع، وجمعه : نُجُومٌ ، ونَجَمَ : طَلَعَ ، نُجُوماً ونَجْماً ، فصار النَّجْمُ مرّة اسما، ومرّة مصدرا، فَالنُّجُوم مرّة اسما کالقلُوب والجُيُوب، ومرّة مصدرا کالطُّلوع والغروب، ومنه شُبِّهَ به طلوعُ النّبات، والرّأي، فقیل : نَجَمَ النَّبْت والقَرْن، ونَجَمَ لي رأي نَجْما ونُجُوماً ، ونَجَمَ فلانٌ علی السّلطان : صار عاصیا، ونَجَّمْتُ المالَ عليه : إذا وَزَّعْتُهُ ، كأنّك فرضت أن يدفع عند طلوع کلّ نَجْمٍ نصیباً ، ثم صار متعارفا في تقدیر دفعه بأيّ شيء قَدَّرْتَ ذلك . قال تعالی: وَعَلاماتٍ وَبِالنَّجْمِ هُمْ يَهْتَدُونَ [ النحل/ 16] ،…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

وَاِذَا النُّجُوْمُ انْـکَدَرَت۔ (التکویر : 2) (اور جب ستارے بکھر جائیں گے یا بےنور ہوجائیں گے۔ ) ستاروں کا حال انکدارکا معنی منتشر ہوجانا بھی ہے اور تاریک ہوجانا بھی۔ اس لحاظ سے اس کا مفہوم یہ ہوگا کہ قیامت کے برپا ہونے سے جب نظام کی ہر بندش ڈھیلی پڑجائے گی اور ہر بندھن ٹوٹ جائے گا تو ستارے اپنے اپنے مدار اور مقام پر جس بندش میں بندھے ہوئے ہوں گے وہ کھل جائے گی۔ اور اس طرح سب ستارے اور سیارے کائنات میں منتشر ہوجائیں گے۔ اور بےنور ہوجانے کا مفہوم یہ ہے کہ جب سورج ہی کی بساط لپیٹ دی جائے گی تو جتنے بلب اور قمقمے اس کے نظام سے وابستہ ہیں وہ سب آپ سے آپ بےنور ہوجائیں گے۔

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 1–6

فہم القرآن ربط سورت : سورت عبس کا اختتام اس بات پر کیا گیا کہ جو لوگ قیامت کا انکار کرتے ہیں ان کے چہروں پر ذلّت اور سیاہی چھائی ہوگی۔ التکویر میں قیامت کے ابتدائی مراحل ذکر فرما کر بتلایا ہے کہ انسان نے دنیا میں رہ کر جو کچھ کیا ہوگا وہ قیامت کے دن اس کے سامنے پیش کردیا جائے گا۔ اس حالت میں کہ اس کے ایک طرف جہنم دھک رہی ہوگی اور دوسری طرف جنت مہک رہی ہوگی۔ اس سورة کی ابتدا میں قیامت کے پہلے ہولناک مرحلہ کا منظر پیش کیا گیا ہے اسرافیل جونہی پہلی صور پھونکے گا تو زمین و آسمانوں میں ہلچل مچ جائے گی۔ ہر جاندار موت کے گھاٹ اتر جائے گا یہاں تک کہ سورج اپنی روشنی اور حرارت کھو بیٹھے گا۔ جس کے لیے ”…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

1 ۔” اذا الشمس کورت “ علی بن ابی طلحہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے تاریک کردیا جائے گا اور قتادہ، مقاتل اور کلبی رحمہما اللہ فرماتے ہیں اس کی روشنی چلی گئی اور سعید بن جبیر (رح) فرماتے ہیں، غروب ہوجائے گا اور مجاہد (رح) فرماتے ہیں نیست ونابود ہوجائیں اور زجاج (رح) فرماتے ہیں عمامہ کی طرح لپیٹ دیا جائے گا۔ کہا جاتا ہے ” کورت العمامہ علی راسی اکورھا کورا وکور تھا تکویرا “ جب تو اس کو لپیٹ دے اور تکویر کی اصل ایک شے کو دوسرے شے کی طرف جمع کرنا۔ پس اس کا معنی کہ سورج کے بعض حصہ کو دوسرے بعض میں جمع کیا جائے گا، پھر اس کو لپیٹ دیا جائے گا۔ پس جب اس کے ساتھ یہ کیا جائے گا تو اس کی روشنی چلی جائے…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 1–14

1۔ 14۔ صحیح بخاری وغیرہ میں حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا قیامت کے دن سورج اور چاند کو لپیٹ کر دوزخ میں ڈال دیا جائے گا اس حدیث کی شرح میں علماء نے لکھا ہے کہ دنیا میں بعض لوگ سورج اور چاند کو پوجا کرتے ہیں ان کے ذلیل کرنے کے لئے سورج اور چاند کو دوزخ کی آگ میں جھونکا جائے گا۔ مسند امام احمد ترمذی 2 ؎ مستدرک حاکم طبرانی وغیرہ میں حضرت عبد اللہ بن عمر سے جو روایتیں ہیں ان کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ جس شخص کو یہ منظور ہو کہ قیامت کو دنیا میں بھی اپنی آنکھوں کے سامنے دیکھ لے تو اس کو چاہئے کہ اذا الشمس کورت و اذا السماء انفطرت و اذالسماء انشقت…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

(وَاِذَا النُّجُوْمُ انْكَدَرَتْ ) اور جب تارے بےنور ہوجائیں گے۔ یعنی متغیر ہوجائیں گے اور اپنے افلاک سے ٹوٹ کر بکھر جائیں گے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 2–3

(2) اس روز ستاروں کا حال : سو سورج کے بعد ستاروں کے بارے میں ارشاد فرمایا گیا " اور جب بےنور ہوجائیں گے ستارے " کہ سورج جو کہ ان سب کی روشنی کا منبع و مرکز ہے جب اس کی بساط ہی کو لپیٹ دیا جائے گا اور اس کی روشنی کو ختم کردیا جائے گا۔ " انکدار " کے مفہوم میں تساقط اور گرنے کے معنی بھی پائے جاتے ہیں اور ماند پڑنے اور دھندلا جانے کے بھی، اس لیے عام تراجم میں اس لفظ کے یہ دونوں ہی ترجمے پائے جاتے ہیں کسی نے بےنور ہونے کے معنی کیے اور کسی نے گر پڑنے کے۔ " ولکل وجھۃ ھو مولیھا " اور ظاہر ہے جب کہ سورج ہی کی بساط ہی لپیٹ دی جائے گی تو اس کے نظام سے وابستہ جتنے بھی بلب اور قمقمے ہیں وہ سب آپ سے آپ…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 1–14

قیامت کیسی ہوگی ؟ اور بعد میں کیا ہوگا ؟ تشریح : آیت 1 سے 6 تک قیامت کا نقشہ کھینچا گیا ہے۔ جس میں نظام کائنات کے درہم برہم ہونے میں اجرام سماوی کا ذکر ہے۔ '' کُوّرت '' تکویر سے ہے یعنی لپیٹا جانا مطلب یہ ہے کہ سورج اپنی موت کو پہنچ کر بےنور مردہ ہوجائے گا۔ جس کی وضاحت ڈاکٹر دلدار صاحب یوں کرتے ہیں۔ '' جب ستارے کا ایندھن (ہائیڈروجن) ختم ہوجاتا ہے تو وہ ٹھنڈا ہونے لگتا ہے۔ چناچہ کشش ثقل حر کی توانائی پر غالب آجاتی ہے۔ اور ستارہ سکڑنے لگتا ہے اور بالآخر موت سے ہمکنار ہوجاتا ہے۔ ستاروں کی موت مندرجہ ذیل تین حالتوں میں سے کسی ایک حالت کی طرف لے جاتی ہے۔ 1 ۔ سفید بونا White Dwosf 2 ۔ نیوٹران ستارہ…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–29

سورة التکویر۔ آیات 1 تا 29۔ اسرار ومعارف۔ جب سورج بےنور ہوجائے گا اور ستارے ٹوٹ کر گرجائیں گے اور جب پہاڑ اکھیڑ کر اڑادیے جائیں گے اور لوگوں کو مال و دولت بھول جائے گا کہ عربوں کے نزدیک دس ماہ کی گابھن اونٹنی سب سے قیمتی اثاثہ سمجھی جاتی ہے ہر وقت دم کے ساتھ لگے پھرتے تھے کہ صحرا میں اس کادودھ نعمت غیر مترقہ ہوتا تھا مگر وہ بھی آوارہ پھر رہی ہوں گی یعنی لوگوں کو مال وزر کا ہوش نہ رہے گا اور نفخہ اولی سے گھبرا کر جنگلی جانور اور درندے آبادیوں میں آگھسیں گے اور دریا سمندر میں مل جائیں گے کہ زمین شق ہوجائے گی اور پھر ان میں اجرام فلکی گریں گے تو بھاپ بن کر اڑجائیں گے اور پھر فضا میں وہ بھاپ آگ…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

“2 یا ” جب ستارے ماند پڑجائیں “۔ یعنی ان کے اپنی جگہوں سے زائل ہونے کی بنا پر۔ (قرطبی)

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(81:2) واذا النجوم انکدرت۔ اس کا عطف آیت سابقہ پر ہے۔ انکدرت ماضی کا صیغہ واحد مؤنث غائب انکدار (انفعال) مصدر سے انکدار اس تغیر کو کہتے ہیں جو کسی چیز کے بکھر کر بےنور ہوجائیں گے۔ الکدر (مادہ ک د ر) کے معنی کسی چیز میں گدلاپن کے ہیں ۔ اور یہ صفاء کی ضد ہے۔ الکدرۃ کے معنی بھی گدلا پن کے ہیں۔ مگر اس کا استعمال خصوصیت کے ساتھ رنگ میں ہوتا ہے اور کدورۃ کا پانی اور زندگی میں۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 1–29

لغات القرآن۔ کورت۔ لپیٹ دے گیا۔ انکدرت۔ ماند پڑگئی۔ (پڑ گئے) سیرت۔ چلا دی گئی۔ العشار۔ گابھن اونٹنیاں۔ عطلت۔ چھٹ کر پھری۔ الوحوش (وحش) ۔ جنگلی جانور۔ حشرت۔ آپس میں گڈ مڈ ہوجائیں۔ سجرت۔ جھونکے گئے۔ زوجت۔ جوڑے جوڑے بنا دئیے گئے۔ الموئو دۃ ۔ زمین میں گاڑدی گئی لڑکی۔ سئلت۔ پوچھا گیا۔ الصحف۔ اعمال نامے۔ نشرت۔ پھیلا دئیے۔ کشطت۔ پرت کے پرت اتا رلئے گئے۔ کھال کھینچ لی گئی۔ سعرت۔ بھڑکائی گئی۔ ازلف۔ قریب کردی گئی۔ احضرت۔ وہ لے کر حاضر ہوا۔ الخنس۔ پیچھے ہٹ جانے والے۔ الکنس۔ چھپ جانے والے۔ عسعس۔ پھیل گیا۔ تنفس۔ روشن ہوا۔ مکین۔ مرتبہ والا۔ مطاع۔ جس کی اطاعت کی جائے۔ کہا مانا جائے۔ الافق۔ کنارہ۔ بضنین۔…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 1–6

علامات قیامت اور حال۔ (1) تفسیر ابن جریر اور ابن ابی حاتم میں ، اذالشمس کورت سے واذالبحار سجرت تک کی تفسیر میں ابی بن کعب سے جو روایتیں ہیں ان کا حاصل یہ ہے کہ پہلے صور کی چھ نشانیاں ہیں۔ آفتاب کی روشنی جاتے رہی گی، تارے بارش کی طرح آسمان سے زمین پر گرپڑیں گے اور کوئی تارا اپنی جگہ باقی نہ رہے گا، پہاڑ غبار کی طرح ہوا میں اڑتے پھریں گے۔ حاملہ اونٹیوں کو چھوڑ دیں گے کیونکہ اونٹ عرب کا بہترین مال ہے اور دس مہینے جن کے حمل کے گذرچکے ہوں اور بیاہنے کے قریب ہودودھ اور بچے کی توقی پر بہت زیادہ عزیز ہوتی ہے لیکن قیامت کے ہولناک زلازل کے وقت ایسے نفیس و عزیز مال کو کوئی نہ پوچھے گا، نہ مالک کو اتنا…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 1–3

[1] یعنی سورج کی شعاعوں کو جن سے دھوپ پھیلتی ہے لپیٹ کر رکھ دیا جائے گا اور سورج بےنور ہو کر رہ جائے گا جس کی وجہ سے سارا عالم تیرہ و تار ہوجائے گا۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 1–3

سورة التکویر 1: قرآن حکیم نے جن صداقتوں کو آج سے چودہ سو سال قبل بیان کیا تھا ۔ آج سائنس اور علوم جدیدہ اس کی تصدیق کررہے ہیں ۔ چناچہ تکویر شمس کا مسئلہ وہ ہے جس کو قیامت کی توضیح کے سلسلہ میں قرآن حکیم نے بوضاحت ذکر کیا اور آج بڑے بڑے ماہرین کہہ رہے ہیں کہ ایک وقت آئے گا جب کہ سورج کی حرارت اور روشنی کا خزانہ بالکل ختم ہوجائے گا اور یہ محض کرہ بےنور ہوکر رہ جائے گا ۔ اس وقت کے عقل مند اور نظریہ پر ہنستے تھے کہ کہیں کائنات کا چشمہ نور وضیاء بھی خشک ہوسکتا ہے ؟ مگر آج کے عقلا ان لوگوں کی عقل پر ہنستے ہیں جو اس نظام کو دائمی سمجھتے تھے ۔

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(2) اور جب ستارے ٹوٹ کر گرپڑیں - یعنی ستارے بےنور اور میلے اور گدلے ہوجائیں اور لوٹ کر جھڑ پڑیں۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 1–6

ف 1۔ یہ چھ واقعے تو نفخہ اولی کے وقت ہوں گے جبکہ دنیا آباد ہوگی اور اس نفخہ سے یہ تغیرات و تبذلات ہوں گے اور اس وقت اونٹنیاں وغیرہ بھی اپنی اپنی حالت پر ہوں گی جن میں بعض وضع حمل کے قریب ہوں گی جو کہ اہل عرب کے نزدیک عزیز ترین اموال ہیں مگر اس وقت ہلچل میں کسی کو کہیں کا ہوش نہ رہے گا، اور وحوش بھی مارے گھبراہٹ کے سب گڈ مڈ ہوجائیں گے، اور دریاوں میں اول طغیانی پیدا ہوگی اور زمین میں شقوق واقع ہوجائیں گے، جس سے سب شیریں اور شور دریا ایک ہوجائیں گے، پھر شدت حرارت سے سب کا پانی مستحیل بآتش ہوجائے گا۔ اس کے بعد عالم فنا ہوجائے گا اور اگلے چھ واقعات بعد نفخہ ثانیہ کے ہوں گے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

جب ستارے دھندلے ہوجائیں گے 2 ؎ ( انکدرت) اور کا اصل مادہ ک د ر ہے لیکن اس مادہ کا صرف اور صرف یہ ایک ہی لفظ قرآن کریم میں صرف ایک ہی بار استعمال ہوا ہے۔ علاوہ ازیں اس کا استعمال قرآن کریم میں کہیں نہیں ہوا ۔ ( انکدرت) وہ میل ہوگئی ، وہ بکھر گئی۔ انکدار سے ماضی کا صیغہ واحد مؤنث غائب ۔ انکدار کے اصل معنی تو میلے ہونے کے ہیں مگر بکھر جانے اور پراگندہ ہونے پر بھی اس کا استعمال ہوتا ہے۔ قدرت خداوندی کا وہ قانون جس کو کشش کے نام سے موسوم کیا جاتا ہے اور اس قانون کے تحت یہ سیارے ، ستارے اور سورج و چاند اپنے اپنے مدار میں حرکت پذیر ہیں اور اپنے مدار کو نہ چھوڑنے پر مجبور ہیں لیکن قیامت کے روز صرف…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 2–3

وَإِذَا النُّجُومُ انكَدَرَ‌تْ (and when the stars will swoop down...81:2). The word inkadarat is derived from inkidar and it denotes 'to fall'. The righteous predecessors have interpreted it thus. It signifies that all the stars from the sky will fall into the oceans as explained in the preceding verses.

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

2 That is, when the force which is keeping them in their orbits and positions is loosened and alI the stars and planets will scatter in the universe. The word inkidar also indicates that they will not only scatter away but will also grow dark.

Read the full tafseer →