اِذَا الشَّمْسُ كُوِّرَتْ ۟اِذَا الشَّمۡسُ كُوِّرَتۡ
جب سورج لپیٹ لیا جائے گا
— Fateh Muhammad Jalandhari
When the sun is wrapped up [in darkness]
— Saheeh International
Juz 30 · Ruku 1 of surah · Ruku 6 of juz
The Overthrowing · Meccan · 29 ayahs · 1 ruku
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
اِذَا الشَّمْسُ كُوِّرَتْ ۟اِذَا الشَّمۡسُ كُوِّرَتۡ
جب سورج لپیٹ لیا جائے گا
— Fateh Muhammad Jalandhari
When the sun is wrapped up [in darkness]
— Saheeh International
Juz 30 · Ruku 1 of surah · Ruku 6 of juz
Read the whole surah · Surah At-Takwir
جب سورج لپیٹ دیا جائے گا
جب سورج لپیٹ لیا جائے گا
جب سورج لپیٹ لیا جائے گا
جب سورج لپیٹ دیا جائے گا۔
جب دھوپ لپیٹی جائے
جب سورج لپیٹ کر بے نور کر دیا جائے گا،
جب سورج لپیٹ دیا جائے گا۔
جب سورج لپیٹ لیا جائے گا
جب کہ سورج کی بساط لپیٹ دی جائے گی
جب لپیٹ دیا جائے گا (اس چمکتے دمکتے) سورج کی بساط کو
جب آفتاب لپیٹ لیا جائے
جب سورج لپیٹ لیاجائے گا۔
جب سورج لپیٹ لیا جائے گا
When the sun shall be folded up,
When the sun will be folded up,
When the sun will be folded up,
When the sun is Kuwwirat.
When the sun is overthrown,
— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran
When the sun is wrapped up [in darkness]
(On the day) when the sun is made to cease shining,
When the sun is covered,
When the sun shall be wound round,
When the sun (with its spacious light) is folded up;
— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary
Explained with ayahs 1–14
یعنی سوج بےنور ہوجائیگا، جاتا رہے گا اوندھا کر کے لپیٹ کر زمین پر پھینک دیا جائیگا ابن عباس ؓ فرماتے ہیں سورج چاند اور ستاروں کو لپیٹ کر بےنور کر کے سمندروں میں ڈال دیا جائیگا اور پھر مغربی ہوائیں چلیں گی اور آگ لگ جائیگی ایک مرفوع حدیث میں ہے کہ اس کو تہہ کر کے جہنم میں ڈال دیا جائیگا (ابن ابی حاتم) اور ایک حدیث میں سورج کے ساتھ چاند کا ذکر بھی ہے لیکن وہ ضعیف ہے صحیح بخاری میں یہ حدیث الفاظ کی تبدیلی سے مروی ہے، اس میں ہے کہ سورج اور چاند قیامت کے دن لپیٹ لیے جائیں گے امام بخاری اسے کتاب بدء الخلق میں لائے ہیں لیکن یہاں لانا زیادہ مناسب تھا یا مطابق عادت وہاں اور یہاں دونوں جگہ لاتے جیسے کہ…
Read the full tafseer →سورة التَّكْوِیْر 1 سورج کے بےنور کردیے جانے کے لیے یہ ایک بےنظیر استعارہ ہے۔ عربی زبان میں تکویر کے معنی لپیٹنے کے ہیں۔ سر پر عمامہ باندھنے کے لیے تکویر العمامہ کے الفاظ بولے جاتے ہیں کیونکہ عمامہ پھیلا ہوا ہوتا ہے اور پھر سر کے گرد اسے لپیٹا جاتا ہے۔ اسی مناسبت سے اس روشنی کو جو سورج سے نکل کر سارے نظام شمسی میں پھیلتی عمامہ سے تشبیہ دی گئی ہے اور بتایا گیا ہے کہ قیامت کے روز یہ پھیلا ہوا عمامہ سورج پر لپیٹ دیا جائے گا، یعنی اس کی روشنی کا پھیلنا بند ہوجائے گا۔
Read the full tafseer →خلاصہ تفسیر جب آفتاب بےنور ہوجاوے گا اور جب ستارے ٹوٹ ٹوٹ کر گر پڑیں گے اور جب پہاڑ چلائے جاویں گے اور جب دس مہینے کی گابھن اونٹنیاں چھٹی پھریں گی، اور جب وحشی جانور (مارے گھبراہٹ کے) سب جمع ہوجاویں گے اور جب دریا بھڑکائے جاویں گے (یہ چھ واقعے تو نفخہ اولیٰ کے وقت ہوں گے جبکہ دنیا آباد ہوگی اور اس نفخہ سے یہ تغیرات و تبدلات واقع ہوں گے اور اس وقت اونٹنیاں وغیرہ بھی اپنی اپنی حالت پر ہوں گی جنمیں بعضے وضع حمل کے قریب ہوں گی جو کہ عرب کے نزدیک سب سے زیادہ قیمتی مال ہے جس کی ہر وقت دیکھ بھال کرتے رہتے ہیں مگر اس وقت ہل چل میں کسی کو کسی کا ہوش نہ رہے گا اور وحوش بھی مارے گھبراہٹ کے سب گڈمڈ…
Read the full tafseer →’تَکْوِیْرٌ‘ کے معنی کسی شے کو لپیٹ دینے یا ایک گٹھڑ کی صورت باندھ لینے کے ہیں۔ ’کوّرَ العھامۃَ عَلٰی رَاْسِہ‘ کے معنی ہیں ’اس نے عمامہ اپنے سر پر لپیٹ لیا‘۔ قیامت کے ظہور کے وقت سورج کا حال: قیامت کے ظہور کے وقت آسمانوں بلکہ اس پوری کائنات کی سب سے زیادہ نمایاں اور شان دار چیز۔۔۔ سورج۔۔۔ کا جو حال ہو گا یہ اس کی تصویر ہے کہ اس کی بساط لپیٹ دی جائے گی۔ ظاہر ہے کہ جب سورج کی بساط ہی لپیٹ دی جائے گی تو وہ سارا عالم تیرہ و تار ہو جائے گا جو اس کی تابانی سے روشن ہے۔ اگرچہ سورج کے چھپنے کا مشاہدہ ہمیں آج بھی ہر روز ہوتا رہتا ہے لیکن اس کی نوعیت بالکل مختلف ہے۔ یہ صورت صرف اس وجہ سے پیش آتی ہے کہ…
Read the full tafseer →1۔ 1 یعنی جس طرح سر پر پگڑی کو لپیٹا جاتا ہے، اسی طرح سورج کے وجود کو لپیٹ کر پھینک دیا جائے گا جس سے اس کی روشنی از خود ختم ہوجائے گی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
1: یہاں سے آیت نمبر 14 تک قیامت اور آخرت کے حالات بیان فرمائے گئے ہیں۔ سورج کو لپیٹنے کی کیا کیفیت ہوگی ؟ اس کی حقیقت تو اللہ تعالیٰ ہی کو معلوم ہے۔ البتہ یہ بات ظاہر ہے کہ اس کے نتیجے میں سورج بےنور ہوجائے گا۔ چونکہ لپیٹنے کو عربی میں تکویر کہا جاتا ہے۔ اس لیے اس سورت کا نام سورة تکویر ہے
Read the full tafseer →یہ ایک منظر ہے جس میں اس پوری کائنات میں مکمل انقلاب کے نظارے کی عکاسی کی گئی ہے۔ تمام موجودات کے اندر انقلاب برپا ہے ، یہ انقلاب اجرام سماوی اور اس کرہ ارض کو اپنی لپیٹ میں لئے ہوئے ہیں۔ وحشی جانور اور خانگی جانور بھی اس سے متاثر ہیں ، نفس انسانی اور اس کی حرکات بدل چکی ہیں ، ہر نامعلوم حقیقت آنکھوں کے سامنے ہے اور ہر راز طشت ازبام ہوچکا ہے۔ اور انسان اپنی کمائی اور اپنے اس زادراہ کے سامنے کھڑا ہے اور حساب و کتاب شروع ہے اور حیران وپریشان ہے کہ اس کے ارد گرد ہر چیز اس عظیم طوفان کی زد میں آچکی ہے ، اور کائنات کا تمام نظام اتھل پتھل ہوچکا ہے۔ یہ عظیم کائناتی واقعات اس طرف اشارہ کررہے ہیں کہ…
Read the full tafseer →5 گویا اس کی لمبی شعاعیں جن سے دھوپ پھیلتی ہے لپیٹ کر رکھ دی جائیں اور آفتاب بےنور ہو کر پنیر کی چکی کی مانند رہ جائے یا بالکل نہ رہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–4
آیت 4{ وَاِذَا الْعِشَارُ عُطِّلَتْ۔ } ”اور جب گابھن اونٹنیاں چھٹی پھریں گی۔“ العِشار سے دس مہینوں کے حمل والی اونٹنیاں مراد ہیں ‘ یعنی ایسی اونٹنیاں جن کے وضع حمل کا وقت بہت قریب ہو۔ عربوں کے ہاں ایسی اونٹنی بہت قیمتی سمجھی جاتی تھی اور اس لحاظ سے وہ لوگ اس کی خصوصی حفاظت اور خدمت کرتے تھے۔ آیت میں اس حوالے سے قیامت کی ہولناک کیفیت کی تصویر دکھائی گئی ہے کہ جب قیامت برپا ہوگی تو بہت قیمتی اونٹنیاں بھی لاوارث ہوجائیں گی ‘ انہیں کوئی سنبھالنے والا نہیں ہوگا۔ ظاہر ہے اس وقت جبکہ خود عورتوں کو اپنے حمل کی کوئی فکر نہیں ہوگی تو اونٹنیوں کی کسے ہوش ہوگی۔
Read the full tafseer →2 کوّر بمعنی کسی چیز کو عمامہ یا پگڑی کی طرح لپیٹنا اور اوپر تلے گھمانا۔ اور اس میں گولائی اور تجمع کے دونوں تصور موجود ہوتے ہیں یعنی کسی چیز کو گولائی میں لپیٹنا اور جماتے جانا۔ مطلب یہ ہے کہ سورج کی شعاعیں، اس کی روشنی اور اس کی حرارت سب کچھ سمیٹ لیا جائے گا اور وہ بس ایک بےنور جسم رہ جائے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–6
1۔ یعنی ان کا پانی آگ اور بھاپ میں تبدیل ہوجائے، یہ سارے واقعات و کیفیات صور قیامت کے نفخہ اول کے بیان ہورے ہیں۔ عالم کائنات جو اس وقت تک آباد ہوگا، صور کی پہلی آواز پر یوں ہلاک وبرباد ہونا شروع ہوگا۔ اور اس کی بڑی بڑی مضبوط ومستحکم موجودات یوں درہم وبرہم اور ریزہ ریزہ ہونا شروع ہوں گی۔ (آیت) ” اذا الشمس کورت “۔ یعنی کرۂ آفتاب کی لمبی لمبی شعاعیں جو سارے علم کو منور کرتی رہتی ہیں، لپیٹ کر رکھ دی جائیں یا بےنور ہوجائیں، جس سے عالم تیرہ وتار ہوجائے۔ آفتاب جو محسوسات ومرئیات میں آسمان ہی کی طرح اعظم ترفین مخلوق ہے، جب وہ فناء پر مجبور ہوجائے تو پھر دوسری اور اس سے ادنی مخلوقات کا کیا ذکر ہے !…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
ترجمہ : شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے، جب سورج لپیٹ دیا جائے گا اور اس کی روشنی ختم کردی جائے گی، اور جب تارے جھڑ جائیں گے اور زمین پر گرجائیں گے، اور جب پہاڑ چلائے جائیں گے، یعنی ان کو سطح زمین سے اکھاڑ دیا جائے گا تو وہ اڑتے ہوئے غبار کی مانند ہوجائیں گے اور جب دس ماہ کی گابھن اونٹنیاں اپنے حال پر چھوڑ دی جائیں گی (یعنی) بغیر نگران یا بغیر دوھے چھوڑ دی جائیں گی، اس لئے کہ ان کو ایک عظیم ہولناکی نے خوف زدہ کردیا ہوگا اور عرب کے نزدیک دس ماہہ گابھن اونٹنی سے زیادہ نفیس مال کوئی نہیں تھا، اور جب بعث کے بعد جنگلی جانور سمیٹ کر جمع کردیئے جائیں گے تاکہ بعض کا بعض…
Read the full tafseer →اذا الشمس کورت . اذا شرطیہ ہے اور الشمس فعل محذوف کا فاعل ہے اور کورت اسی فعل محذوف کی تفسیر ہے۔ کورت : بیکار ہوجائے گا ‘ روشنی جاتی رہے گی ‘ تاریک ہوجائے گا۔ ابن جریر اور ابن ابی حاتم اور بیہقی نے بروایت ابو طلحہ بیان کیا ہے کہ حضرت ابن عباس ؓ نے کوّ رت کی تشریح میں فرمایا : اَظْلَمَتْ ‘ تاریک ہوجائے گا۔ ابن ابی حاتم نے اور کتاب ” فی البحر والاحوال “ میں ابن ابی الدنیا نے اور کتاب العظمۃ میں ابو الشیخ نے ان آیات کے ذیل میں حضرت ابن عباس کا قول اس طرح نقل کیا ہے کہ قیامت کے دن خدا تعالیٰ سورج ‘ چاند اور ستاروں کو بےنور کر کے سمندر میں ڈال دے گا اور ایک پچھمی ہوا بھیجے گا جو سمندر پر لگے گی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–2
(1۔ 2) جب سورج عمامہ کی طرح پلٹ جائے گا، یا یہ کہ بےنور ہوجائے گا، اور جب ستارے ٹوٹ پھوٹ کر روئے زمین پر گر پڑیں گے۔
Read the full tafseer →(اذا الشمس کورت :”کور العمامۃ و تکویریھا“ پگڑی لپیٹنا۔ ”تکویر المتاع“ سامان جمع کر کے باندھ دینا۔ (خلاصہ قاموس)”کو رث“ یعنی اتنی وسعت والے سورج، اس کی شعاعوں اور روشنی کو لپیٹ دیا جائے گا اور وہ بالکل بےنور ہوجائے گا۔ چاند کا بھی یہی حال ہوگا، چناچہ ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :(الشمس والقمر مکوران یوم القیامۃ) (بخاری، بدہ الخلق، باب صفۃ الشمس والقمر : 3200)”سورج اور چاند قیامت کے دن لپیٹ دیئے جائیں گے۔“
Read the full tafseer →اذالشمس کورت۔۔۔ تا۔۔۔ ما احضرت۔ اذالشمس کورت۔ حضرت ابن عباس نے کہا : تکویر سے مراد اسے عرش میں داخل کرنا ہے۔ حضرت حسن بصری نے کہا، اس کا معنی اس کی روشنی کا چلے جانا ہے، یہی قتادہ کا قول ہے اور مجاہد کا قول ہے۔ حضرت ابن عباس سے یہ بھی مروی ہے سعید بن جبیر نے کہا، اس کا معنی ہے اسے بےنور کردیا جائے گا ابوعبیدہ نے کہا، اسے لپیٹاجائے گا جس طرح پگڑی کو لپیٹا جاتا ہے اسے لپیٹ دیا جائے گا اور اسے مٹا دیا جائے گا، ربیع بن خثیم نے کہا، کورت کا معنی ہے اسے پھینک دیا جائے گا اسی معنی میں کورتہ، فتکور میں نے اسے گرایا تو وہ گرگیا ۔ میں کہتا ہوں : تکویر کا اصل معنی جمع کرنا ہے، یہ کارالعمامہ علی راسہ، سے…
Read the full tafseer →1۔ احمد والترمذی وابن المنذر والحاکم وصححہ ابن مردوی نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جس کو یہ بات خوش لگے کہ وہ قیامت کی طف اس طرح دیکھے گویا کہ وہ اسے سامنے دیکھ رہا ہے تو اس کو چاہیے کہ یہ سورتیں پڑھ لے اذا السمس کورت۔ اور اذا السماء النفرطرت۔ اور اذا اسلماء انشقت۔ 2۔ ابن ابی شیبہ نے المصنف میں ومسلم وابن ماجہ اور بیہقی نے اپنی سنن میں عمرو بن حوشب ؓ سے روایت کیا کہ نبی اکرم ﷺ نے فجر کی نماز میں آیت ولیل اذا عسعس پڑھی۔ 3 ا۔ ابن جریر وابن لمنذر وابن ابی حاتم اور بیہقی نے البعث میں علی کے طریق سے ابن عباس ؓ سے روایت کہ آیت اذا لشمس کورت جب سورج کی روشنی لپیٹی جائے یعنی…
Read the full tafseer →[اِذَا الشَّمْسُ كُوِّرَتْ : جب سورج لپیٹ دیا جائے گا ] ترکیب : آیات۔ 1 تا 13 ۔ میں تمام جملے اِذَاسے شروع ہو رہے ہیں اس لیے ان میں افعال ماضی کا ترجمہ مستقبل میں ہوگا اور اِذَا کی وجہ سے یہ تمام جملے شرط ہیں، جبکہ آیت۔ 14 ۔ میں عَلِمَتْ نَفْسٌ جواب شرط ہے اس لیے عَلِمَتْ (ماضی) کا ترجمہ بھی مستقبل میں ہوگا۔ (آیت۔ 7) نُفُوْسٌ جمع ہے نَفَسٌ کی جس کے معنی ہیں، ” سانس۔ “ زندگی کا مدار سانس پر ہے اس لیے یہ جان کے لیے بھی آتا ہے اور جان والے یعنی شخص کے لیے بھی آتا ہے۔ اس لحاظ سے اس آیت کے دو طرح ترجمے کیے گئے ہیں۔ اول یہ کہ جانوں کو ان کے جسموں کے ساتھ جوڑ دیا جائے گا۔ دوم یہ کہ ہم خیال اور ایک…
Read the full tafseer →اس سورت میں قیامت کے دن کے احوال اور اھوال بیان کیے گئے ہیں کچھ نفخہ اولیٰ کے وقت اور کچھ نفخہ ثانیہ کے وقت کے ہیں، نفخہ اولیٰ کے وقت کے چھ حالات بیان فرمائے ہیں۔ اولاً ﴿اِذَا الشَّمْسُ كُوِّرَتْ۪ۙ001﴾ (جب سورج کو لپیٹ دیا جائے) ۔ کورت لغوی ترجمہ یہ ہی ہے اس کا لپیٹ دینا بھی اللہ تعالیٰ کی قدرت سے باہر نہیں ہے اور بعض حضرات نے اس کا یہ مطلب بتایا کہ سورج کی روشنی لپیٹ دی جائے گی یعنی بےنور کردیا جائے گا۔ یہ مطلب حضرت ابن عباس ؓ ، حضرت حسن اور قتادہ اور مجاہد سے مروی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–29
ہولناک مناظر روز قیامت و پیشی اعمال و فیصلہ جزاء وسزا : قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” اذا الشمس کورت ....... الی ...... الا ان یشآء اللہ رب العلمین “۔ (ربط) سورة عبس کا مضمون دراصل اثبات قیامت کے موضوع ہی پر مشتمل تھا اور مقصد بیان یہ تھا کہ انسان کی سعادت و فلاح اور عزت و عظمت اپنی زندگی اپنے پروردگار کے ساتھ وابستہ رکھنے اور فکر آخرت میں ہے، اس کے برعکس وہ مغرور ومتکبر جو نہ خدا پر ایمان لاتا ہے اور نہ ہی اس کو آخرت کی فکر ہے وہ خدا کی نظروں میں ذلیل و حقیر ہے، طالب حق اور سعادت کی فکر میں لگے رہنے والا انسان ہی بارگاہ رسالت میں ہر عزت واکرام کا مستحق ہے، آخر میں قیامت کے روز کی پریشانی اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–5
2:۔ حضرت ابی بن کعب ؓ فرماتے ہیں وفزعت الجن الی الانس، والانس الی الجن واخلطت الدواب والطیر والوحوش ماجوا بعضہم فی بعض (ابن جریر ج 30 ص 63) ۔ حضرت علامہ شبیر احمد عثمانی (رح) فرماتے ہیں۔ یعنی جنگل کے جانور جو آدمی کے سایہ سے بھاگتے ہیں مضطرب ہو کر شہر میں آ گھسیں اور پالتو قسم کے جانوروں میں مل جائیں جیسا کہ اکثر خوف کے وقت دیکھا گیا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–13
(نام و کوائف) اس سورة کا نام سورة تکویر ہے ۔ اس کی پہلی آیت میں کورت کا لفظ آیا ہے جس سے سورة کا نام تکویر ہے ۔ یہ سورة مکی زندگی میں نازل ہوئی ۔ اس کی انتیس 29 آیات ہیں ۔ یہ سورة ایک 104 سو چار الفاظ اور 5202 پانچ ہزار 2 حروف پر مشتمل ہے (موضوع اور گذشتہ سورة سے ربط) اس سورة میں اللہ تعالیٰ نے قیامت کا ذکر اس نسبت سے کیا ہے ۔ کہ کائنات کی ارضی اور سماوی اشیاء پر قیامت کے کیا اثرات مرتب ہوں گے۔ سورة کے آخر میں قرآن کریم کی طرف دعوت دی گئی ہے۔ اور اسکی صداقت وحقانیت کا بیان ہے سابقہ کئی سورتوں میں قیامت کا ذکر مختلف انداز سے آرہا ہے۔ کہ قیامت کا اثر مختلف چیزوں پر کیا ہوگا۔ سورة عبس میں قیامت…
Read the full tafseer →اِذَا الشَّمْسُ كُوِّرَتْ 1 ۠ إذا إذا يعبّر به عن کلّ زمان مستقبل، وقد يضمّن معنی الشرط فيجزم به، وذلک في الشعر أكثر، و «إذ» يعبر به عن الزمان الماضي، ولا يجازی به إلا إذا ضمّ إليه «ما» نحو :إذ ما أتيت علی الرّسول فقل له ( اذ ا ) اذ ا ۔ ( ظرف زماں ) زمانہ مستقبل پر دلالت کرتا ہے کبھی جب اس میں شرطیت کا مفہوم پایا جاتا ہے تو فعل مضارع کو جزم دیتا ہے اور یہ عام طور پر نظم میں آتا ہے اور اذ ( ظرف ) ماضی کیلئے آتا ہے اور جب ما کے ساتھ مرکب ہو ( اذما) تو معنی شرط کو متضمن ہوتا ہے جیسا کہ شاعر نے کہا ع (11) اذمااتیت علی الرسول فقل لہ جب تو رسول اللہ کے پاس جائے تو ان سے کہنا ۔ اذا کی مختلف صورتیں…
Read the full tafseer →ترکیب ¦ اذا شرطیۃ وکذاما بعدھا و جواب الکل علمت ‘ نفس الخ الشمس مرفوع بفعل محذوف یفسرہ مابعدہ لأن اذا تطلب الفعل وھذا عند البصرییں و صاحب الکشاف وعند الاخفش والکوفیین یجوزرفعہ بالابتداء وقس علیہ البواقی والتکویر الجمع۔ ماخوذ من کارالعمامۃ علی راسہ یکورھا والمراد ذھاب نورھا ولذاقیل فی التفسیر ای طمست وقال الآخرون انکشفت۔ وقیل معنی التکویر الطرح والسقوط قال الاصمعی یقال طعنہ فکورہ اذا صرعہ فقولہ اذا الشمس کورت ای القیت ورمیت عن الفلک وقیل انھا ما خوذۃ من الفارسیۃ یقال للاعمیٰ کور۔ کورت ای جعلت اعمی انکدرت ای تساقطت وانقضت یقال انکدر الطائر من الھوی اذا انقض واصل الانکدار الانصباب۔ العشار جمع…
Read the full tafseer →اِذَا الشَّمْسُ کُوِّرَتْ ۔ (التکویر : 1) (جب سورج لپیٹ دیا جائے گا۔ ) وقوعِ قیامت کے وقت سورج کا حال تکویرکا معنی کسی شے کو لپیٹ دینا ہے۔ کَوَّرَالْعِمَامَۃُ عَلٰی رَاسِہٖ ” اس نے عمامہ اپنے سر پر لپیٹ لیا۔ “ لپیٹ لینا بےنور کردیئے جانے کا استعارہ ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ قیامت کے روز سورج کو بےنور کردیا جائے گا۔ سورج کائنات کی سب سے عظیم اور بینظیر مخلوق ہے۔ حادثہ ٔ قیامت کی وسعت اور اہمیت کا اندازہ اسی سے ہوتا ہے کہ کائنات کی سب سے عظیم چیز کی بساط کو لپیٹ دیا جائے گا۔ یعنی جس طرح عمامہ لپیٹے جانے سے پہلے پھیلا ہوا ہوتا ہے اور پھر سر کے گرد لپیٹے جانے سے اس کا پھیلائو ختم ہوجاتا ہے۔ اسی طرح…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–6
فہم القرآن ربط سورت : سورت عبس کا اختتام اس بات پر کیا گیا کہ جو لوگ قیامت کا انکار کرتے ہیں ان کے چہروں پر ذلّت اور سیاہی چھائی ہوگی۔ التکویر میں قیامت کے ابتدائی مراحل ذکر فرما کر بتلایا ہے کہ انسان نے دنیا میں رہ کر جو کچھ کیا ہوگا وہ قیامت کے دن اس کے سامنے پیش کردیا جائے گا۔ اس حالت میں کہ اس کے ایک طرف جہنم دھک رہی ہوگی اور دوسری طرف جنت مہک رہی ہوگی۔ اس سورة کی ابتدا میں قیامت کے پہلے ہولناک مرحلہ کا منظر پیش کیا گیا ہے اسرافیل جونہی پہلی صور پھونکے گا تو زمین و آسمانوں میں ہلچل مچ جائے گی۔ ہر جاندار موت کے گھاٹ اتر جائے گا یہاں تک کہ سورج اپنی روشنی اور حرارت کھو بیٹھے گا۔ جس کے لیے ”…
Read the full tafseer →نظارئہ قیامت : 1 : اِذَا الشَّمْسُ کُوِّرَتْ (جب آفتاب بےنور ہوجائے گا) اس کی روشنی جاتی رہے گی۔ یہ کورت العمامۃ سے لیا گیا کہ جب تم اس کو لپیٹ لو۔ یعنی اس کی روشنی کو بالکل لپیٹ دیا جائے گا۔ اطراف میں اس روشنی کا پھیلائو ختم ہوجائے گا۔ نحو : الشمس فعل مضمر کی وجہ سے مرفوع ہے جس کی تفسیر کورت کر رہا ہے کیونکہ اذاحرف شرط ہے یہ فعل کا طالب ہوتا ہے۔
Read the full tafseer →سورة التکویر مکی ہے اور اس کی انتیس 29 آیات ہیں۔ ابن عمر ؓ فرماتے ہیں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جس کو پسند ہو کہ وہ احوال قیامت میں نظر کرے تو چاہیے کہ وہ پڑھے ” اذا الشمس کورت “ بسم اللہ الرحمن الرحیم
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–14
1۔ 14۔ صحیح بخاری وغیرہ میں حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا قیامت کے دن سورج اور چاند کو لپیٹ کر دوزخ میں ڈال دیا جائے گا اس حدیث کی شرح میں علماء نے لکھا ہے کہ دنیا میں بعض لوگ سورج اور چاند کو پوجا کرتے ہیں ان کے ذلیل کرنے کے لئے سورج اور چاند کو دوزخ کی آگ میں جھونکا جائے گا۔ مسند امام احمد ترمذی 2 ؎ مستدرک حاکم طبرانی وغیرہ میں حضرت عبد اللہ بن عمر سے جو روایتیں ہیں ان کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ جس شخص کو یہ منظور ہو کہ قیامت کو دنیا میں بھی اپنی آنکھوں کے سامنے دیکھ لے تو اس کو چاہئے کہ اذا الشمس کورت و اذا السماء انفطرت و اذالسماء انشقت…
Read the full tafseer →یعنی جب یہ ہولناک امور ظاہر ہوں گے تو مخلوق جدا جدا ہوجائے گی۔ ہر ایک کو علم ہوجائے گا کہ اس نے اپنی آخرت کے لیے کیا آگے بھیجا ہے اور آخرت میں اس نے کیا بھلائی اور برائی پیش کی ہے یہ اس وقت ہوگا جب قیامت کے روز سورج بےنور ہوجائے گا اس کو اکٹھا کرکے لپیٹ دیا جائے گا اور چاند گرہن لگ جائے گا اور دونوں کو آگ میں ڈال دیا جائے گا۔
Read the full tafseer →(1) ظہور قیامت کے وقت سورج کا حال : سو ظہور قیامت کے موقع پر اس کائنات کی سب سے بڑی اور سب سے نمایاں چیز سورج کے حال کی تصویر پیش کرتے ہوئے ارشاد فرمایا گیا کہ " جب لپیٹ دیا جائے گا سورج کی بساط کو "۔ " تکویر " کے اصل معنی لپیٹنے کے آتے ہیں، چناچہ سر پر پگڑی باندھنے، لپیٹنے کو " تکویر العمامۃ " کہا جاتا ہے۔ اور " کور " کے معنی ہوتے ہیں کہ " اس نے لپیٹ لیا "، سورج کی روشنی کی جو عظیم الشان چادر آج دنیا ساری پر پھیلی ہوئی ہے اس روز اس کو لپیٹ دیا جائے گا، اور یہ دنیا اندھیرے میں ڈوب کر رہ جائے گی، کہ قدرت نے اس دنیا کی روشنی کے نظام کو بنیادی طور پر سورج ہی کے ساتھ وابستہ کر رکھا ہے۔ اور اس کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–14
قیامت کیسی ہوگی ؟ اور بعد میں کیا ہوگا ؟ تشریح : آیت 1 سے 6 تک قیامت کا نقشہ کھینچا گیا ہے۔ جس میں نظام کائنات کے درہم برہم ہونے میں اجرام سماوی کا ذکر ہے۔ '' کُوّرت '' تکویر سے ہے یعنی لپیٹا جانا مطلب یہ ہے کہ سورج اپنی موت کو پہنچ کر بےنور مردہ ہوجائے گا۔ جس کی وضاحت ڈاکٹر دلدار صاحب یوں کرتے ہیں۔ '' جب ستارے کا ایندھن (ہائیڈروجن) ختم ہوجاتا ہے تو وہ ٹھنڈا ہونے لگتا ہے۔ چناچہ کشش ثقل حر کی توانائی پر غالب آجاتی ہے۔ اور ستارہ سکڑنے لگتا ہے اور بالآخر موت سے ہمکنار ہوجاتا ہے۔ ستاروں کی موت مندرجہ ذیل تین حالتوں میں سے کسی ایک حالت کی طرف لے جاتی ہے۔ 1 ۔ سفید بونا White Dwosf 2 ۔ نیوٹران ستارہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–29
سورة التکویر۔ آیات 1 تا 29۔ اسرار ومعارف۔ جب سورج بےنور ہوجائے گا اور ستارے ٹوٹ کر گرجائیں گے اور جب پہاڑ اکھیڑ کر اڑادیے جائیں گے اور لوگوں کو مال و دولت بھول جائے گا کہ عربوں کے نزدیک دس ماہ کی گابھن اونٹنی سب سے قیمتی اثاثہ سمجھی جاتی ہے ہر وقت دم کے ساتھ لگے پھرتے تھے کہ صحرا میں اس کادودھ نعمت غیر مترقہ ہوتا تھا مگر وہ بھی آوارہ پھر رہی ہوں گی یعنی لوگوں کو مال وزر کا ہوش نہ رہے گا اور نفخہ اولی سے گھبرا کر جنگلی جانور اور درندے آبادیوں میں آگھسیں گے اور دریا سمندر میں مل جائیں گے کہ زمین شق ہوجائے گی اور پھر ان میں اجرام فلکی گریں گے تو بھاپ بن کر اڑجائیں گے اور پھر فضا میں وہ بھاپ آگ…
Read the full tafseer →ف 1 یا جب سورج لپیٹ لیا جائے
Read the full tafseer →(81:1) اذا الشمس کورت : اذا شرطیہ (جب) الشمس فعل محذوف کا فاعل۔ کورت اسی فعل محذوف کی تفسیر ہے۔ کورت۔ ماضی مجہول صیغہ واحد مؤنث غائب۔ تکویر (تفعیل) مصدر سے بمعنی تہ کرکے لپیٹنا۔ سر پر عمامہ باندھنے کے لئے تکویر العمامۃ کے لفظ بولے جاتے ہیں۔ (اکار العمامۃ علی رأسہ اس نے پگڑی کو اپنے سر کے گرد لپیٹا) ۔ کیونکہ عمامہ پھیلا ہوا ہوتا ہے اور پھر سر کے گرد اس کو لپیٹا جاتا ہے اسی نسبت سے اس روشنی کو جو سورج سے نکل کر سارے نظام شمسی میں پھیلتی ہے عمامہ سے تشبیہ دی ہے اور بتایا گیا ہے کہ قیامت کے روز یہ پھیلا ہوا عمامہ سورج پر لپیٹ دیا جائے گا۔ یعنی اس کی روشنی کا پھیلنا بند ہوجائے گا۔ آیت یکور الیل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–29
لغات القرآن۔ کورت۔ لپیٹ دے گیا۔ انکدرت۔ ماند پڑگئی۔ (پڑ گئے) سیرت۔ چلا دی گئی۔ العشار۔ گابھن اونٹنیاں۔ عطلت۔ چھٹ کر پھری۔ الوحوش (وحش) ۔ جنگلی جانور۔ حشرت۔ آپس میں گڈ مڈ ہوجائیں۔ سجرت۔ جھونکے گئے۔ زوجت۔ جوڑے جوڑے بنا دئیے گئے۔ الموئو دۃ ۔ زمین میں گاڑدی گئی لڑکی۔ سئلت۔ پوچھا گیا۔ الصحف۔ اعمال نامے۔ نشرت۔ پھیلا دئیے۔ کشطت۔ پرت کے پرت اتا رلئے گئے۔ کھال کھینچ لی گئی۔ سعرت۔ بھڑکائی گئی۔ ازلف۔ قریب کردی گئی۔ احضرت۔ وہ لے کر حاضر ہوا۔ الخنس۔ پیچھے ہٹ جانے والے۔ الکنس۔ چھپ جانے والے۔ عسعس۔ پھیل گیا۔ تنفس۔ روشن ہوا۔ مکین۔ مرتبہ والا۔ مطاع۔ جس کی اطاعت کی جائے۔ کہا مانا جائے۔ الافق۔ کنارہ۔ بضنین۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–6
علامات قیامت اور حال۔ (1) تفسیر ابن جریر اور ابن ابی حاتم میں ، اذالشمس کورت سے واذالبحار سجرت تک کی تفسیر میں ابی بن کعب سے جو روایتیں ہیں ان کا حاصل یہ ہے کہ پہلے صور کی چھ نشانیاں ہیں۔ آفتاب کی روشنی جاتے رہی گی، تارے بارش کی طرح آسمان سے زمین پر گرپڑیں گے اور کوئی تارا اپنی جگہ باقی نہ رہے گا، پہاڑ غبار کی طرح ہوا میں اڑتے پھریں گے۔ حاملہ اونٹیوں کو چھوڑ دیں گے کیونکہ اونٹ عرب کا بہترین مال ہے اور دس مہینے جن کے حمل کے گذرچکے ہوں اور بیاہنے کے قریب ہودودھ اور بچے کی توقی پر بہت زیادہ عزیز ہوتی ہے لیکن قیامت کے ہولناک زلازل کے وقت ایسے نفیس و عزیز مال کو کوئی نہ پوچھے گا، نہ مالک کو اتنا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
[1] یعنی سورج کی شعاعوں کو جن سے دھوپ پھیلتی ہے لپیٹ کر رکھ دیا جائے گا اور سورج بےنور ہو کر رہ جائے گا جس کی وجہ سے سارا عالم تیرہ و تار ہوجائے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
سورة التکویر 1: قرآن حکیم نے جن صداقتوں کو آج سے چودہ سو سال قبل بیان کیا تھا ۔ آج سائنس اور علوم جدیدہ اس کی تصدیق کررہے ہیں ۔ چناچہ تکویر شمس کا مسئلہ وہ ہے جس کو قیامت کی توضیح کے سلسلہ میں قرآن حکیم نے بوضاحت ذکر کیا اور آج بڑے بڑے ماہرین کہہ رہے ہیں کہ ایک وقت آئے گا جب کہ سورج کی حرارت اور روشنی کا خزانہ بالکل ختم ہوجائے گا اور یہ محض کرہ بےنور ہوکر رہ جائے گا ۔ اس وقت کے عقل مند اور نظریہ پر ہنستے تھے کہ کہیں کائنات کا چشمہ نور وضیاء بھی خشک ہوسکتا ہے ؟ مگر آج کے عقلا ان لوگوں کی عقل پر ہنستے ہیں جو اس نظام کو دائمی سمجھتے تھے ۔
Read the full tafseer →(1) جب آفتاب لپیٹ دیا جائے - یعنی اس کو دھوپ تہ کردی جائے مطلب یہ ہے کہ آفتاب بےنور ہوجائے اور اس کی روشنی سلب کرلی جائے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–6
ف 1۔ یہ چھ واقعے تو نفخہ اولی کے وقت ہوں گے جبکہ دنیا آباد ہوگی اور اس نفخہ سے یہ تغیرات و تبذلات ہوں گے اور اس وقت اونٹنیاں وغیرہ بھی اپنی اپنی حالت پر ہوں گی جن میں بعض وضع حمل کے قریب ہوں گی جو کہ اہل عرب کے نزدیک عزیز ترین اموال ہیں مگر اس وقت ہلچل میں کسی کو کہیں کا ہوش نہ رہے گا، اور وحوش بھی مارے گھبراہٹ کے سب گڈ مڈ ہوجائیں گے، اور دریاوں میں اول طغیانی پیدا ہوگی اور زمین میں شقوق واقع ہوجائیں گے، جس سے سب شیریں اور شور دریا ایک ہوجائیں گے، پھر شدت حرارت سے سب کا پانی مستحیل بآتش ہوجائے گا۔ اس کے بعد عالم فنا ہوجائے گا اور اگلے چھ واقعات بعد نفخہ ثانیہ کے ہوں گے۔
Read the full tafseer →جب آفتاب کو لپیٹ دیا جائے گا 1 ؎ (کورت) واحد مؤنث غائب ماضی مجہول تکویر مصدر ( تفعیل) جب سورج تاریک ہوجائے گا ۔ سورج کی روشنی جاتی رہے گی ۔ سورج بےرونق ہوجائے گا ۔ لغت میں تکویر کے معنی تہہ کر کے لپیٹ دینے کے ہیں اور روایات میں واضح ہے کہ قیامت کے روز سورج اور چاند لپیٹ دیئے جائیں گے یا بےنور کردیئے جائیں گے۔ ( معالم) مطلب صرف یہ واضح کرنا ہے کہ اس کائنات میں جو کچھ ہے وہ خود بخود نہیں ہے اور نہ ہی خود بخود ہو سکتا ہے بلکہ یہ سب کچھ کسی کے بنانے سے بنا ہے اور پھر جس چیز کا بنایا جانا ثابت ہے اس کا ہٹانا جانا بھی یقینا ثابت ہے کیونکہ اس دنیا میں کوئی چیز ایسی نہیں جو بنائی گئی ہو اور پھر اس کا…
Read the full tafseer →Commentary إِذَا الشَّمْسُ كُوِّرَتْ (When the sun will be folded up...81:1) The word kawwara is derived from Takwir which denotes for the sun 'to lose its light'.1 Sayyidna Hasan Basri (رح) has attached this interpretation to it. Another sense of the word is 'to cause to fall'. Rabi` Ibn Khaitham assigns the following interpretation to this verse: The Sun will be thrown into the ocean, and as a result of its heat the entire ocean will turn into fire. The two interpretations are not contradictory. They may be reconciled thus: first, its light will be put off and then it may be thrown into…
Read the full tafseer →1 This is a matchless metaphor for causing the sun to lose its light. Takwir means to fold up; hence takwir al- `amamah for folding up the turban on the head. Here, the light which radiates from the sun and spreads throughout the solar system has been likened to the turban and it has been said that on the Resurrection Day the turban will be folded up about the sun and its radiation will fade.
Read the full tafseer →