Abasa 80:42

Abasa · from ayah 42

80:42

اُولٰٓىِٕكَ هُمُ الْكَفَرَةُ الْفَجَرَةُ ۟۠اُولٰٓئِكَ هُمُ الۡكَفَرَةُ الۡفَجَرَةُ

یہ کفار بدکردار ہیں

— Fateh Muhammad Jalandhari

Those are the disbelievers, the wicked ones.

— Saheeh International

Juz 30 · Ruku 1 of surah · Ruku 5 of juzع

Read the whole surah · Surah Abasa

All translations of 80:42

یہ کفار بدکردار ہیں

— مولانا فتح محمد جالندہری

وه یہی کافر بدکردار لوگ ہوں گے

— مولانا محمد جوناگڑہی

یہ وہی لوگ ہوں گے جو کافر تھے، بدکار تھے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

یہ وہی ہیں کافر بدکار،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

یہی لوگ کافر (اور) فاجر (بدکردار) ہوں گے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

یہی ہیں جو کافر ہیں، نافرمان ہیں۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

یہ وہ لوگ ہوں گے جو کافر اور بدکردار ہیں۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

یہی کافرو نابکارہوں گے !

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

یہی ہوں گے کافر اور فاجر لوگ

— مولانا اسحاق مدنی

یہی ہوں گے وہ کافر اور فاجر لوگ۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

یہ کفار بد کردار ہیں۔

— محترمہ رفعت اعجاز

These will be the unbelievers, the wicked.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Those are the disbelievers, the nefarious.

— Muhammad Taqi Usmani

Those are the disbelievers, the nefarious.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Such will be the disbelieving, the wicked evil doers.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Those are the disbelievers, the wicked.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

Those are the disbelievers, the wicked ones.

— Saheeh International

These will be the faces of the sinful disbelievers.

— Muhammad Sarwar

These are they who are unbelievers, the wicked.

— Muhammad Habib Shakir

Those! they are the infidels, the ungodly.

— Abdul Majid Daryabadi

Such will be the Rejecters of Allah, the doers of iniquity.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 80:42

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 33–42

ننگے پاؤں، ننگے بدن۔۔ پسینے کا لباس حضرت ابن عباس فرماتے ہیں کہ صاختہ قیامت کا نام ہے اور اس نام کی وجہ یہ ہے کہ اس کے نفخہ کی آواز اور ان کا شور و غل کانوں کے پردے پھاڑ دیگا۔ اس دن انسان اپنے ان قریبی رشتہ داروں کو دیکھے گا لیکن بھاگتا پھرے گا کوئی کسی کے کام نہ آئیگا، میاں بیوی کو دیکھ کر کہے گا کہ بتا تیرے ساتھ میں نے دنیا میں کیسا کچھ سلوک کیا وہ کہے گی کہ بیشک آپ نے میرے ساتھ بہت ہی اچھا سلوک کیا بہت پیار محبت سے رکھا یہ کہے گا کہ آج مجھے ضرورت ہے صرف ایک نیکی دے دو تاکہ اس آفت سے چھوٹ جاؤں، تو وہ جواب دے گی کہ سوال تھوڑی سی چیز کا ہی ہے مگر کیا کروں یہی ضرورت مجھے درپیش ہے اور اسی کا…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 37–42

سورة عَبَس 23 احادیث میں مختلف طریقوں اور سندوں سے یہ روایت آئی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا " قیامت کے روز سب لوگ ننگے بچے اٹھیں گے "۔ آپ کی ازواج مطہرات میں سے کسی نے (بروایت بعض حضرت عائشہ نے، اور برویت بعض حضرت سودہ نے اور بروایت بعض ایک خاتون نے) گھبرا کر پوچھا، یا رسول اللہ کیا ہمارے ستر اس روز سب کے سامنے کھلے ہوں گے ؟ حضور نے یہی آیت تلاوت فرما کر بتایا کہ اس روز کسی کو کسی کی طرف دیکھنے کا ہوش نہ ہوگا (نسائی، ترمذی، ابن ابی حاتم، ابن جریر، طبرانی، ابن مردویہ، بہیقی، حاکم)۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 34–42

يَوْمَ يَفِرُّ الْمَرْءُ مِنْ اَخِيْهِ ، یہ محشر میں سب کے جمع ہونے کے وقت کا بیان ہے کہ ہر شخص اپنے اپنے فکر میں اور نفسی نفسی کے عالم میں ہوگا، دنیا میں جو رشتے ناتے ایسے ہیں کہ لوگ ایک دوسرے پر اپنی جان تک قربان کردیتے ہیں اس عالم میں ہر شخص اپنی اپنی ایسی فکر میں مبتلا ہوگا کہ کوئی کسی کی خبر نہ لے سکے گا بلکہ سامنے دیکھے گا تو بھی گریز کریگا۔ انسان اپنے بھائی سے ماں باپ سے بیوی اور اولاد سے منہ چھپاتا بھاگتا پھریگا، دنیا میں تعاون و تناصر اور امداد باہمی بھائیوں میں ہوتی ہے اس سے زیادہ ماں باپ کی امداد واعانت کی فکر ہوتی ہے طبعی طور پر ان سے بھی زیادہ بیوی اور اولاد سے تعلق ہوجاتا ہے اس…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

’اُولٰٓئِکَ ھُمُ الْکَفَرَۃُ الْفَجَرَۃُ‘۔ یہ آخر میں ان کی فرد قرار داد جرم کی طرف اجمالی اشارہ ہے کہ ان کا یہ حشر اس وجہ سے ہو گا کہ یہ خدا کے ناشکرے اور اس کے باغی و نافرمان رہے ہیں۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

42۔ 1 یعنی اللہ کا، رسولوں کا اور قیامت کا انکار کرنے والے بھی تھے اور بدکردار بداطوار بھی۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

اولئک ............................ الفجرة (42:80) ” یہ کافر اور فاجر لوگ ہوں گے “۔ جو اللہ اور اس کی رسالتوں پر ایمان نہیں لائے۔ جنہوں نے اللہ کی حدود کو توڑا۔ یہ دو قسم کے چہرے ہوں گے اور دونوں چہروں کے اندر دو قسم کے لوگوں کا انجام اس طرح دکھایا گیا ہے جس طرح کوئی شیشے میں اپنا چہرہ دیکھتا ہے ۔ چہروں کے خدوخال الفاظ وعبارات میں اس طرح قلم بند کیے گئے ہیں کہ گویا ریل پر چلتے ہوئے چہرے صاف صاف نظر آتے ہیں۔ یہ ہے قرآن کا زور دار انداز بیان اور ادبی ٹچ۔ اس انجام سے سورت کا آغاز اور انجام بھی باہم ہم آہنگ ہوجاتے ہیں۔ آغاز میں اسلامی قدروں کا ذکر تھا ، اور انجام میں اسلامی پیمانوں اور اسلامی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

4 یعنی کافر بےحیا کو کتنا ہی سمجھاؤ ذرا نہ پسیجیں۔ نہ خدا سے ڈریں، نہ مخلوق سے شرمائیں۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 42{ اُولٰٓئِکَ ہُمُ الْکَفَرَۃُ الْفَجَرَۃُ۔ } ”یہی ہوں گے وہ کافر اور فاجر لوگ۔“ یہ وہ لوگ ہوں گے جو دنیا میں اپنے نفس کے تقاضے پورے کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ کی مقرر کی ہوئی حدود کو لائق اعتناء نہیں سمجھتے تھے۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 41–42

22 میدان محشر میں لوگ دو گروہوں میں بٹے ہوں گے اور ان کی علامات ان کے چہروں سے نمایاں ہوں گی۔ اللہ کے فرمانبرداروں کے چہرے ہشاش بشاش کھلکھلاتے اور مسکراتے ہوئے ہوں گے۔ دل میں بھی مسرت کی لہر دوڑ رہی ہوگی اور کچھ لوگوں کے چہروں پر ہوائیاں اڑ رہی ہوں گی۔ رنگ فق اور چہرے بگڑے ہوئے اور بےرونق ہوں گے اور یہ اللہ کے نافرمان اور بدکردار لوگ ہوں گے۔ گویا لوگ گروہوں میں بٹنے سے پہلے ہی پہچانے جاسکیں گے کہ کون شخص کس گروہ سے تعلق رکھتا ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

16۔ (آیت) ” الکفرۃ “۔ کفر سے اشارہ ہوگیا ان لوگوں کے فساد عقائد کی جانب۔ (آیت) ” الفجرۃ “۔ فجور سے اشارہ ہوگیا ان لوگوں کے فساد اعمال کی جانب۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 37–42

مسئلہ : اس سے معلوم ہوا کہ مردہ انسان کو دفن کرنا واجب ہے۔ لکل امریء منھم یومئذ شان یغنیہ، آپ ﷺ نے فرمایا کہ سب لوگ میدان محشر میں ننگے بدن، ننگے پیر اور غیر مختون ہوں گے، حضرت عائشہ صدیقہ ؓ نے آپ ﷺ سے معلوم کیا اس طرح شرمگاہوں پر نظریں نہیں پڑیں گی ؟ آپ ﷺ نے اس کے جواب میں یہاں یہ تلاوت فرمائی اور فرمایا اس روز کسی کو کسی کی طرف دیکھنے کا ہوش نہ ہوگا۔ (نسائی، ترمذی وغیرہ)

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

اولئک ھم الکفرۃ الفجرۃ . ھُمْ ضمیر فصل ہے یعنی وہ غبار آلود چہرے یعنی غبار آلود چہروں والے کافر بدکار ہونگے۔ کفرۃ کافر کی جمع ہے اور فجرۃ فاجر کی۔ فجور کا معنی ہے پھاڑ دینا یعنی دین اور دیانت کو پھاڑ دینا۔ فجور کا اعلیٰ درجہ کفر ہے ‘ واللہ اعلم۔ الحمد سورة عبس ختم ہوئی بعونہٖ و منہٖ تعالیٰ

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 37–42

(37۔ 42) قیامت کے دن ان میں ہر ایک شخص کو اپنا ہی فکر ہوگا جو اس کو اور طرف متوجہ نہ ہونے دے گا، سچے مومنین قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کی خوشنودی کی وجہ سے روشن اور شاداں ہوں گے اور کافروں اور منافقوں کی صورتوں پر قیامت کے دن ظلمت ہوگی اور ان پر کدورت اور پسماندگی چھائی ہوگی۔ یہی لوگ کافر و فاجر ہیں۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

Explained with ayahs 40–42

(ووجوہ یومئذ علیھا غبرۃ…: کافر اور فار لوگوں کے چہروں پر سیاہی کی تفصیل کے لئے دیکھیے سورة یونس کی آیت (27) کی تفسیر۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

او لئک ھم الکفرۃ الفجرہ۔ کفرہ، کافر کی جمع ہے، فجرہ، فاجر کی جمع ہے اس سے مراد وہ جھوٹا ہے جو اللہ تعالیٰ پر افتراء باندھتا ہے ایک قول یہ کیا گیا ہے، اس سے مراد فاسق ہے کیونکہ فجر فجور اس وقت کہتے ہیں جب وہ فسق کرے اور فجر اس وقت کہتے ہیں جب وہ جھوٹ بولے اس کا اصل معنی مائل ہونا ہے فاجر سے مراد مائل ہونے والا اس کی وضاحت اور گفتگو پہلے گزرچکی ہے۔ والحمدللہ وحدہ۔

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 34–42

3۔ الطبرانی والحاکم وصححہ وابن مردویہ والبیہقی نے سودہ بنت زمعہ ؓ سے روایت کیا کہ نبی ﷺ نے فرمای سب لوگ اس حال میں اٹھائے جائیں گے کہ وہ ننگے پاؤں، ننگے بدن، بغیر ختنہ کیے ہوئے ہوں گے۔ ان کو پسینے نے لگا میں دے رکھی ہوں گی اور کانوں کی لو تک پہنچے گا میں نے عرض کیا یارسول اللہ ! ہائے شرم گاہ کہ ہمارا بعض بعض کی طرف دیکھے گا۔ آپ نے فرمایا : لوگ اس سے غافل ہوں گے اور یہ آیت تلاوت فرمائی آیت یوم یفر المر من اخیہ وامہ وابیہ وصاحبتہ وبنیہ لکل امء منہم یومئذ شان یغنیہ جس دن آدمی اپنے بھائی اور اپنی ماں اور اپنی بیوی اور اپنے بیٹوں سے بھاگے گا۔ ہر شخص کی ایسی حالت ہوگی جو اس کو اوروں کی طرف سے…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[اُولٰۗىِٕكَ : یہ لوگ ][ هُمُ الْكَفَرَةُ الْفَجَرَةُ : ہی ناشکری کرنے والے نافرمانی کرنے والے ہیں ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 33–42

ان آیات میں روز قیامت کے بعض مناظر بیان فرمائے ہیں۔ الصاخہ سخت آواز سے بولنے والی چیز کو کہتے ہیں اور بعض حضرات نے یہ فرمایا ہے کہ ایسی سخت آواز کو کہتے ہیں جو کانوں کو بہرا کر دے اس سے نفخہ ثانیہ مراد ہے جب یہ سخت آؤاز آئے گی تو انسان اپنی مصیبت میں ایسا مبتلا ہوگا کہ اسے کسی کی طرف کوئی توجہ نہ ہوگی جو خاص اپنے لوگ تھے ان سے بھی بھاگے گا ہر شخص کا اپنا حال جدا ہوگا۔ ایمان اور اعمال صالحہ کی وجہ سے نیک بندوں کے چہرے روشن ہوں گے ان کی صورتوں سے بشاشت اور خوشی ظاہر ہو رہی ہوگی اور جن نالائقوں نے دنیا میں خدا کو فراموش کیا ایمان اور اعمال صالحہ کے نور سے علیحدہ رہے اور کفر و فجور کی سیاہی میں…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 1–42

ترغیب ملاطفت باضعفاء مومنین استغناء وبے نیازی ازاہل دنیا و متکبرین : قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” عبس وتولی ان جآء ہ الاعمی ..... الی ...... اولئک ھم الکفرۃ الفجرۃ “۔ (ربط) گزشتہ سورت میں قیامت اور احوال قیامت کا ذکر تھا، اور بعث بعد الموت کا مضمون بیان کرتے ہوئے آخر سورت میں نجات و کامیابی کا یہ معیار بیان کیا گیا کہ وہ خشیت وتقوی، فکر آخرت اور نفس کو خواہشات سے روکنا ہے یہی انسان کی عزت و عظمت ہے اس کے برعکس غرور وتکبر اور سرکشی خدا کی نظر میں نہایت ہی بدترین اور ذلیل خصلت ہے تو اس سورت میں یہ بیان فرمایا جارہا ہے کہ اہل ایمان کے ساتھ ملاطفت اور دلجوئی کا برتاؤ کرنا چاہئے اور ان کے مقابلہ میں…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 38–42

10:۔ ” جوہ یومئذ “ یہ بشارت اخرویہ ہے۔ ” مسفرۃ “ مضیئۃ، روشن، تاباں۔ قیامت کے دن کچھ چہرے روشن ہوں گے اور مسرت و شادمانی سے کھلے ہوں گے یہ مومنین کے چہرے کھلے۔ ” ووجوہ یومئذ علیہا غبرۃ “ یہ تخویف اخروی ہے۔ ” غبرۃ “ گرد و غبار، اداسی اور مردنی سیاہی، ذلت و رسوائی۔ اور کچھ چہرے ایسے ہوں گے جن پر مایوسی اور مردنی چھائی ہوگی اور ذلت و رسوائی سے سیاہ پڑجائیں گے یہ کون ہوں گے ؟ یہ کفار و فجار ہوں گے جنہوں نے دنیا میں اسلام کی دعوت کو ٹھکرایا اور خدا کے احکام سے بغاوت کی۔ غبرۃ غبار و دخان، قترۃ ذلۃ و شدۃ (قرطبی) ۔ وآخر دعوانا ان الحمد للہ رب العالمین۔ سورة عبس ختم ہوئی

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 33–42

(گذشتہ سے پیوستہ) اس سورة مبارکہ میں پہلے ایک نابینا شخص کا حال بیان کر کے نبی کریم ﷺ اور آپ کے ماننے والوں کی توجہ اس بات کی طرف دلائی گئی ۔ کہ کمزروں اور ناداروں کا خیال رکھنا مقدم ہے ۔ کیونکہ وہ ہدایت کے طالب ہیں اور کمال شوق سے قرآن پاک کی تعلیم حاصل کرنا چاہتے ہیں ۔ برخلاف اس کے سرمایہ دارحضرات ناشکرگذرای کرتے ہیں ۔ ہدایت کے طالب نہیں ۔ لہذا ان کی طرف زیادہ توجہ نہ دیجائے ۔ یہی لوگ ہیں جو بےپروا اور متکبر ہیں ۔ انہیں تزکیہ حاصل کرنے کا بھی شوق نہیں ہے ۔ پچھلی سورة میں اللہ تعالیٰ نے فرعون کے متعلق فرمایا ” ھل لک الی ان تزکی “ کیا تیرے اندر اس بات کی رغبت ہے کہ تو پاک ہوجائے ۔ اور تاکہ…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

اُولٰۗىِٕكَ ہُمُ الْكَفَرَۃُ الْفَجَرَۃُ۝ 42 ۧ كفر الكُفْرُ في اللّغة : ستر الشیء، ووصف اللیل بِالْكَافِرِ لستره الأشخاص، والزّرّاع لستره البذر في الأرض، وأعظم الكُفْرِ : جحود الوحدانيّة أو الشریعة أو النّبوّة، والکُفْرَانُ في جحود النّعمة أكثر استعمالا، والکُفْرُ في الدّين أكثر، والکُفُورُ فيهما جمیعا قال : فَأَبَى الظَّالِمُونَ إِلَّا كُفُوراً [ الإسراء/ 99] ( کر ) الکفر اصل میں کفر کے معنی کیس چیز کو چھپانے کے ہیں ۔ اور رات کو کافر کہا جاتا ہے کیونکہ وہ تمام چیزوں کو چھپا لیتی ہے ۔ اسی طرح کا شتکار چونکہ زمین کے اندر بیچ کو چھپاتا ہے ۔ اس لئے اسے بھی کافر کہا جاتا ہے ۔ اور سب سے بڑا کفر…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 33–42

ترکیب ¦ فاذا حرف الشرط جاءت فعل الصاخۃ فاعلہ والجملۃ شرطیۃ والجواب محذوف یدل علیہ الکلام الاتی وھو لکل امری منہم الخ الصاخۃ الصیحۃ وسمیت بھا لشدۃ صو تھا کانھا تصخ الاذان ای تصمھا فلا تسمع واصل الکلمۃ من الصخ وھو الطعن والصک بقال صخ راسہ بحجرای شدخہ والغراب یصخ بمنقارہ فی وبرالبعیر ای یطعن وھی النفخۃ الاخیرۃ والفاء للدلالۃ علی ترتیب مابعدھا علی ما قبلھا یوم منصوب بمقدر ای اعنی ویکون تفسیراً للصاخۃ اوبدل من اذا جاءت لکل امری منہم خبر شان یغنیہ مبتدء یومئذ ظرف لہ والجملۃ مستانفۃ مسوقۃ لبیان سبب الفرار۔ وجوہ مبتداء والنکرۃ لوقوعھا فی مقام التفصیل والتوزیع صلحت للابتداء یومئذ متعلق بہ مسفرۃ خبر…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 38–42

وُجُوْہٌ یَّوْمَئِذٍ مُّسْفِرَۃٌ۔ ضَاحِکَۃٌ مُّسْتَبْشِرَۃٌ۔ وَوُجُوْہٌ یَّوْمَئِذٍ عَلَیْھَا غَبَرَۃٌ۔ تَرْھَقُھَا قَتَرَہٌ۔ اُوْلٰٓئِکَ ھُمُ الْـکَفَرَۃُ الْفَجَرَۃُ ۔ (عبس : 38 تا 42) (کچھ چہرے اس دن روشن ہوں گے۔ ہشاش بشاش، خوش و خرم۔ اور کچھ چہروں پر اس دن خاک اڑ رہی ہوگی۔ اور کلونس چھائی ہوگی۔ یہ کافر و فاجر لوگ ہوں گے۔ ) مُسْفِرَۃٌ … روشن اور تابناک۔ یہ اَسْفَرَالصُّبْحُ کے محاورے سے ماخوذ ہے۔ ضَاحِکَۃٌ مسکرانے والے چہرے، کیونکہ یہ وُجُوْہٌ کی صفت ہے۔ مُسْتَبْشِرَۃٌ … ہشاش بشاش۔ قیامت کے روز کافر اور مومن الگ الگ کردیئے جائیں گے۔ قرآن کریم میں ارشاد ہے وَامْتَازُوا الْیَوْمُ…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 33–42

فہم القرآن ربط کلام : اس سے پہلے انسان کو اس کی تخلیق اور اس کی خوراک کا حوالہ دے کر اس کا قیامت کے دن زندہ ہونا ثابت کیا اور اب محشر کے دن دوسرے نفخہ کے بعد لوگوں کی حالت بیان کی جاتی ہے۔ سورت النّازعات کی آیت 34 میں قیامت کو ایک بڑی آفت قرار دیا گیا ہے قیامت کے بنیادی طور پر دو مرحلے ہوں گے۔ پہلے مرحلے میں ہر چیز تباہ کردی جائے گی اور اس کے بعد نامعلوم کتنے عرصے کے بعد قیامت کا دوسرا مرحلہ شروع ہوگا۔ دوسرے مرحلہ کی ابتدا بھی اسرافیل کے صور پھونکنے پر ہوگی جس سے ایک مرتبہ پھر پوری زمین ہل جائے گی اور لوگ اپنے اپنے مدفن سے نکل کر محشر کے میدان میں اکٹھے ہوجائیں گے جس کی تفصیل قرآن مجید اور…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

42 : اُولٰٓپکَ ھُمُ الْکَفَرَۃُ الْفَجَرَۃُ (یہی لوگ کافر فاجر ہیں) اولٰٓپکؔ اس حالت والے۔ ھم الکفرۃؔ وہ اللہ تعالیٰ کے حقوق کا انکار کرنے والے ہیں۔ الفجرۃؔ بندوں کے حقوق میں دیانت کو پھاڑ نے والے۔ نمبر 2۔ جب کفر و فجور کو جمع کرلیا تو چہرے کی سیاہی کے ساتھ غبار کو جمع کردیا گیا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

41 ۔” ترھقھا قترۃ “ اس پر بلند ہوگی اور اس کو ڈھانپ لے گی تاریکی اور گرہن۔ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں اس کو ذلت ڈھانپ لے گی۔ ابن زید (رح) فرماتے ہیں ” الغبرۃ اور القترۃ “ کے درمیان فرق ہے کہ قترہ وہ غبار جو بلند ہو اور آسمان کو جاملے اور غبرۃ جو نیچے زمین میں ہو۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 32–42

32۔ 41۔ اوپر کی آیتوں میں انسان کے پیدا کرنے اور اس کی زیست بھر کے چند انتظاموں کا ذکر تھا ان آیتوں میں حشر کا ذکر فرمایا تاکہ معلوم ہوجائے کہ انسان کی پیدائش اور اس کی زیست بھر کے انتظام اسی انجام کے لئے ہیں کہ مرنے کے بعد ایک دفعہ اس کو پھر زندہ کیا جائے اور دنیا کے سب نیک و بد کا حساب و کتاب ہو کر ہر ایک کی جزا و سزا کا فیصلہ اخیر صادر ہوجائے۔ حاصل یہ کہ دنیا فیصلہ اخیر کی روداد جمع ہوجانے کے لئے ہے اور قیامت کا دن اس روداد کے موافق فیصلہ اخیر صادر کرنے کی پیشی کی تاریخ ہے اور تمام دنیا کے مختلف روداد کے مقدمات کا فیصلہ اخیر ایک ہی وقت ہوگا اس لئے دنیا کے ختم کے بعد کی یہ وسیع تاریخ پیشی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

(اُولٰۗىِٕكَ هُمُ الْكَفَرَةُ الْفَجَرَةُ ) جن کا یہ وصف ہے۔ یہی وہ لوگ ہیں جنہوں نے اللہ کی نعمت کی ناشکری کی، اس کی آیتوں کو جھٹلایا اور اس کے محارم کے ارتکاب کی جسارت کی۔ ہم اللہ تعالیٰ سے عفو اور عافیت کے طلب گار ہیں وہ بڑا ہی فیاض اور نہایت کرم والا ہے۔ (والحمدللہ رب العالمین)

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

(33) مجرموں کی فرد جرم کی طرف اشارہ : سو آخر میں مجرموں کے اس ہولناک انجام کے باعث و سبب کے ذکر وبیان اور ان کی فرد جرم کی طرف اشارہ کے طور پر ارشاد فرمایا گیا کہ " یہی لوگ ہیں کافر اور فاجر "۔ پس کفر و فجور کا انجام بہرحال بڑا ہولناک اور تباہ کن ہے، اور جس کافر و منکر کا انجام یہ ہونے والا ہے اس کو دنیا کی اس فانی زندگی میں اگر روئے زمین کی ساری دولت بھی مل جائے تو بھی اس کو کیا ملا، اور اس کو اس کا کیا فائدہ ؟ والعیاذ باللہ۔ اور اس کے مقابلے میں وہ مومن صادق کس قدر نیک بخت اور خوش نصیب انسان ہے جو ایمان و یقین کی اس دولت لازوال سے بہرہ مند و سرفراز ہے، جس کے نتیجے میں اس کو جنت اور اس کی…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 17–42

انسان کی حیثیت، اللہ کی رحمتیں اور نیک و بد کا فرق تشریح : انسانی پیدائش کا ذکر بہت دفعہ ہوچکا ہے یہاں اس صورت سے کیا گیا ہے کہ بندہ اگر اپنی اوقات کو دیکھے تو اس کا سارا غرور نخوت اور نافرمانی ہوا ہوجائے۔ کیونکہ اس کی ابتدا حیوانات کی ابتدا اور نباتات کے اگنے کا عمل تقریباً ایک جیسا ہی ہے۔ ڈاکٹر ہلوک نور باقی صاحب اس کی وضاحت یوں کرتے ہیں۔ '' تاب پذیر انڈا تین بنیادی طریقوں سے ترقی پذیر ہوتا ہے۔ 1 ۔ زمین کے اندر ' جیسے پودے۔ 2 ۔ ایک انڈے کے خول کے اندر جیسے عام طور پر پرندوں کے بارے میں ہے۔ 3 ۔ رحم مادر میں۔ جیسے انسان اور دودھ پلانے والے جانور۔ اب زرخیز شدہ انڈہ کی تعریف یوں کی گئی ہے۔…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–42

سورة عبس۔ آیات 1 تا 42۔ اسرار ومعارف۔ چہرے پر ناگواری کے اثرات ظاہر ہوئے اور منہ پھیرلیا ہوایوں کہ آپ کے پاس مکہ کے چند سردار بیٹھے تھے جن ہی آپ سمجھا رہے تھے کہ حضرت عبداللہ بن ام مکتوم آئے ان کی نظر نہ تھی انہوں نے کسی آیت کے بارے سوال کیا اور باربار جواب پر اصرار کیا جو مناسب حال نہ تھا اس پر آپ کے رخ انور پر ناگواری کے اثرات ظاہر ہوئے اور رخ انور ان سے پھیرلیا کہ وہ تو دوسرے وقت بھی استفادہ کرسکتے تھے مجلس میں انہیں مخل نہ ہوناچاہیے تھا۔ نفع یقینی پر موہوم کو ترجیح نہ دی جائے۔ اس پر اللہ نے فرمایا کہ آپ کا یہ اجتہاد درست نہیں لہذا اصطلاح فرمادی کہ ان کو نفع یقینی تھا جبکہ کفار کا فائدہ…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(80:42) اولئک ہم الکفرۃ الفجرۃ : اولئک مبتداء ۔ ہم الکفرۃ الفجرۃ خبر، وہی لوگ منکر و بدکار ہوں گے۔ کفرۃ کافر کی جمع اور فجرۃ فاجر کی جمع ہے۔ فجور کا معنی ہے چھاڑ دینا۔ یعنی دین اور دیانت کو پھاڑ دینا۔ فجور پر لے درجے کا کفر ہے۔ الکفرۃ موصوف ہے اور الفجرۃ اس کی صفت ہے۔ موصوف اور صفت مل کر خبر ہے اپنے مبتداء کی۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 1–42

لغات القرآن الاعمی۔ نابینا۔ اندھا۔ یزکی۔ وہ پاکیزگی حاصل کرتا ہے۔ تنفع۔ نفع دیتی ہے۔ استغنی۔ جو بےپروائی کرتا ہے۔ تصدی۔ تو متوجہ ہوتا ہے۔ تلھی۔ تو منہ پھیرتا ہے۔ تذکرۃ ۔ ایک نصیحت ہے۔ یاد کرنے کی چیز ہے۔ صحف مکرمۃ ۔ عزت والی کتابوں میں ہے۔ مطھرۃ۔ پاکیزہ۔ ایدی سفرۃ۔ لکھنے والوں کے ہاتھ۔ کرام بررۃ۔ نیک اور بلند مقام والے۔ صببنا۔ ہم نے اوپر سے ڈالا۔ شققنا۔ ہم نے پھاڑا۔ غلب۔ گھنے۔ اب۔ چارہ۔ الصاخۃ۔ زبردست آواز۔ چیخ۔ شان۔ ایسی حالت۔ یغنیہ۔ جو اسے پھنسائے گی۔ مسفرۃ۔ چمکتے دمکتے۔ ضاحکۃ۔ ہنستے ہوئے۔ مستبشرۃ۔ خوشیاں مناتے ہوئے۔ غبرۃ۔ گردوغبار۔ ترھق۔ چھا جائے گی۔ قترۃ۔ سیاہی۔ تاریکی۔ الفجر۔ بدکار۔ گناہ…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

(ف 3) یعنی کافر بےحیاکوکتنا ہی سمجھاؤ، ذرا نہ پسیجیں ، نہ خدا سے ڈریں، نہ مخلوق سے شرمائیں، سورة کورت مکیہ ہے اس میں ایک رکوع، انتیس آیتیں ، ایک سوچارے کلمے ، پانچ سو تیس حرف ہیں حدیث شریف میں ہے نبی ﷺ نے فرمایا کہ جس شخص کو یہ منظور ہو کہ قیامت کو دنیا میں بھی اپنی آنکھوں کے سامنے دیکھ لے تو اس کو چاہیے کہ ، اذالشمس کورت ، اور سورة اذا السماء انفطرت، اور سورة اذا السماء انشقت۔ پڑھے کہ ان سورتوں میں دنیا کے ختم ہونے اور قیامت کے قائم ہونے کا پوراحال ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 37–42

[10] یعنی اس دن ہر شخص کو اپنی نجات کی فکر پڑی ہوگی اور عزیز سا عزیز کسی کے کام نہ آئے گا اور نہ اس سے ہمدردی کرسکے گا۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 41–42

ف 1: جن پر گردوغبارچھارہا ہوگا ۔ موخر الذکر وہ ہوا آگے جنہوں نے دنیا میں اللہ اور اس کے رسول ﷺ کا انکار کیا اور ساری زندگی فسق وفجور میں گزاردی ۔ حل لغات :۔ ابا ۔ چارہ ۔ بھوسی ۔ گھاس ۔ الصاخۃ ۔ نفخہ ثانیہ جس کی وجہ سے ایک شور ہوگا قترۃ ۔ ندامت و حسرت کی سیاہی ۔

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(42) یہ یوہ لوگ ہیں جو منکر اور بدکار تھے - یعنی کافر اور بےحیا تھے اور ڈھیٹھ بن کر کفر پر قائم تھے اسلام کی خوبیاں اور حق صداقت کے دلائل سنتے تھے۔ لیکن یایں ہمہ ڈھٹائی سے باز نہ آتے تھے۔ تم تفسیر سورة عبس

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 2–42

ف 5۔ ایک مرتبہ رسول اللہ ﷺ بعض روسا مشرکین کو سمجھا رہے تھے کہ اتنے میں عبداللہ ابن ام مکتوم نابینا صحابی حاضر ہوئے اور کچھ پوچھنا شروع کیا، یہ قطع کلام آپ ﷺ کو ناگوار ہوا اور آپ نے ان کی طرف التفات نہ فرمایا اور ناگواری کی وجہ سے آپ چیں بچیں ہوئے، جب آپ اس مجلس سے اٹھ کر گھر جانے لگے تو یہ آیتیں نازل ہوئیں، اس کے بعد جب حضرت عبداللہ بن ام مکتوب آپ کے پاس آتے تو آپ بڑی خاطر کرتے۔ ھذہ الروایات کلھا فی الدار المنثور۔ ان آیات میں آپ کی اجتہادی لغزش پر آپ کو مطلع کردیا گیا ہے، منشاء اس اجتہاد کا یہ تھا کہ یہ امر تو متیقن اور ثابت ہے کہ اہم مقدم ہوتا ہے۔ آپ نے کفر کی اشدیت کو موجب اہمیت سمجھا،…

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

Explained with ayahs 33–42

آیت 33 تا 42: طامہ حاقہ خاصہ جیسے اسم فاعل کے وزن پر صاخہ بھی مصدر ہے جس کا معنی ایک چیخ اور پکار ہے اور مرد اس سے قیامت ہے۔ جب وہ بپا ہوگی تو اس وقت ماں باپ بھائی بہن بیوی بچے شوہر کوئی کسی کے کام نہیں آئے گا ہر ایک کو اپنی اپنی پڑی ہوگی جب ماں باپ جیسے قریبی رشتے کام نہیں دیں گے تو دوستوں یاروں کا قصہ ہی کیا ہے کہ کوئی کسی کے کام آسکے جس طرح دوست یار و رشتہ دار کام نہیں دیں گے اسی طرح پر مال و دولت بھی کام نہیں دیں گے۔ جس پر بھی کوئی سنگین مقدمہ کھڑا ہوا اور جرم ثابت ہوا تو وہ اپنے ماں باپ بیوی یچوں شوہر بہن بھائی اور رشتہ داروں سے بھاگتا پھرے گا کہ کہیں مجھے چھوڑا جائے مجھے کسی سے کیا مطلب…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 34–42

يَوْمَ يَفِرُّ‌ الْمَرْ‌ءُ مِنْ أَخِيهِ (the Day when one will flee from his brother...80:34). This depicts the scene when all the people will have gathered in the Plain of Gathering. Each person will be worried about himself, and the situation will be so horrifying and tense that it will make people heedless of anything around them. In the world, there are relationships between people that make one willing to lay down his life for the other, but on the Day of Resurrection there will be such horror and chaos that they will be unable to take care of anyone. In fact, even if one sees the other…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 37–42

23 A tradition has been reported in the. Hadith by different methods and through different channels, saying that the Holy Prophet (upon whom be peace) said: "On the Day of Resurrection all men will rise up naked." One of his wives (according to some reporters, Hadrat `A'ishah, according to others, Hadrat Saudah, or a woman) asked in bewilderment: "O Messenger of Allah, shall we (women) appear naked on that Day before the people ?° The Holy prophet recited this very verse and explained that on that Day each one will have enough of his own troubles to occupy him, and will be wholly unmindful of…

Read the full tafseer →