Abasa 80:41

Abasa · from ayah 41

80:41

تَرْهَقُهَا قَتَرَةٌ ۟ؕتَرۡهَقُهَا قَتَرَةٌ

(اور) سیاہی چڑھ رہی ہو گی

— Fateh Muhammad Jalandhari

Blackness will cover them.

— Saheeh International

Juz 30 · Ruku 1 of surah · Ruku 5 of juz

Read the whole surah · Surah Abasa

All translations of 80:41

(اور) سیاہی چڑھ رہی ہو گی

— مولانا فتح محمد جالندہری

جن پر سیاہی چڑھی ہوئی ہوگی

— مولانا محمد جوناگڑہی

سیاہی نے انہیں ڈھانپ رکھا ہوگا۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

ان پر سیاہی چڑھ رہی ہے

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

(مزید) ان (چہروں) پر سیاہی چھائی ہوگی،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

ان کو سیاہی ڈھانپتی ہوگی۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اور سیاہی چھائی ہوگی ،

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

ان پر چھا رہی ہوگی ایک ہولناک سیاہی

— مولانا اسحاق مدنی

ان پر سیاہی چھائی ہوئی ہوگی۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور سیاہی چڑھ رہی ہوگی۔

— محترمہ رفعت اعجاز

covered by darkness.

— Muhammad Taqi Usmani

covered by darkness.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Darkness will cover them.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Blackness will cover them.

— Saheeh International

and covered by darkness.

— Muhammad Sarwar

Darkness shall cover them.

— Muhammad Habib Shakir

Dust shall cover them

— Abdul Majid Daryabadi

Tafseer of 80:41

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 33–42

ننگے پاؤں، ننگے بدن۔۔ پسینے کا لباس حضرت ابن عباس فرماتے ہیں کہ صاختہ قیامت کا نام ہے اور اس نام کی وجہ یہ ہے کہ اس کے نفخہ کی آواز اور ان کا شور و غل کانوں کے پردے پھاڑ دیگا۔ اس دن انسان اپنے ان قریبی رشتہ داروں کو دیکھے گا لیکن بھاگتا پھرے گا کوئی کسی کے کام نہ آئیگا، میاں بیوی کو دیکھ کر کہے گا کہ بتا تیرے ساتھ میں نے دنیا میں کیسا کچھ سلوک کیا وہ کہے گی کہ بیشک آپ نے میرے ساتھ بہت ہی اچھا سلوک کیا بہت پیار محبت سے رکھا یہ کہے گا کہ آج مجھے ضرورت ہے صرف ایک نیکی دے دو تاکہ اس آفت سے چھوٹ جاؤں، تو وہ جواب دے گی کہ سوال تھوڑی سی چیز کا ہی ہے مگر کیا کروں یہی ضرورت مجھے درپیش ہے اور اسی کا…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 37–42

سورة عَبَس 23 احادیث میں مختلف طریقوں اور سندوں سے یہ روایت آئی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا " قیامت کے روز سب لوگ ننگے بچے اٹھیں گے "۔ آپ کی ازواج مطہرات میں سے کسی نے (بروایت بعض حضرت عائشہ نے، اور برویت بعض حضرت سودہ نے اور بروایت بعض ایک خاتون نے) گھبرا کر پوچھا، یا رسول اللہ کیا ہمارے ستر اس روز سب کے سامنے کھلے ہوں گے ؟ حضور نے یہی آیت تلاوت فرما کر بتایا کہ اس روز کسی کو کسی کی طرف دیکھنے کا ہوش نہ ہوگا (نسائی، ترمذی، ابن ابی حاتم، ابن جریر، طبرانی، ابن مردویہ، بہیقی، حاکم)۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 34–42

يَوْمَ يَفِرُّ الْمَرْءُ مِنْ اَخِيْهِ ، یہ محشر میں سب کے جمع ہونے کے وقت کا بیان ہے کہ ہر شخص اپنے اپنے فکر میں اور نفسی نفسی کے عالم میں ہوگا، دنیا میں جو رشتے ناتے ایسے ہیں کہ لوگ ایک دوسرے پر اپنی جان تک قربان کردیتے ہیں اس عالم میں ہر شخص اپنی اپنی ایسی فکر میں مبتلا ہوگا کہ کوئی کسی کی خبر نہ لے سکے گا بلکہ سامنے دیکھے گا تو بھی گریز کریگا۔ انسان اپنے بھائی سے ماں باپ سے بیوی اور اولاد سے منہ چھپاتا بھاگتا پھریگا، دنیا میں تعاون و تناصر اور امداد باہمی بھائیوں میں ہوتی ہے اس سے زیادہ ماں باپ کی امداد واعانت کی فکر ہوتی ہے طبعی طور پر ان سے بھی زیادہ بیوی اور اولاد سے تعلق ہوجاتا ہے اس…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 40–41

اہل کفر کے چہروں کا جو حال ہو گا اس کی تصویر یوں کھینچی ہے کہ ’وَوُجُوْہٌ یَّوْمَئِذٍ عَلَیْھَا غَبَرَۃٌ تَرْھَقُھَا قَتَرَۃٌ‘ کہ ان پر خاک اڑ رہی اور سیاہی چھائی ہوئی ہو گی۔ اس لیے کہ ان پر امید کے تمام دروازے بند ہو چکے ہوں گے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 40–41

41۔ 1 یعنی ذلت اور عذاب سے ان کے چہرے غبار آلود، کدورت زدہ اور سیاہ ہونگے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 40–41

ووجوہ ........................ الفجرة (40:80 تا 42) ” اور کچھ چہروں پر اس روز خاک اڑارہی ہوگی اور کلونس چھائی ہوئی ہوگی۔ یہی کافروفاجر لوگ ہوں گے “۔ یہ غبار حزن وملال کا غبار ہوگا ، اور حسرت ویاس کا غبار ہوگا۔ اور ذلت اور پریشانی کی وجہ سے چہروں پر سیاہی ہوگی۔ ان کو معلوم ہوجائے گا کہ انہوں نے کیا کمایا ہے ، لہٰذا ان کو یقین ہوجائے گا کہ ان کا انجام کیا ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 40–41

3 یعنی کافروں کے چہروں پر کفر کی کدورت چھائی ہوگی اور اوپر سے فسق و فجور کی ظلمت اور زیادہ تیرہ تاریک کر دے گی۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 38–41

آیت 38{ وُجُوْہٌ یَّوْمَئِذٍ مُّسْفِرَۃٌ۔ } ”کچھ چہرے اس دن روشن ہوں گے۔“ یہ مضمون اس سے پہلے سورة القیامہ کی ان آیات میں بھی آچکا ہے : { وُجُوْہٌ یَّوْمَئِذٍ نَّاضِرَۃٌ - اِلٰی رَبِّہَا نَاظِرَۃٌ - وَوُجُوْہٌ یَّوْمَئِذٍم بَاسِرَۃٌ - تَظُنُّ اَنْ یُّفْعَلَ بِہَا فَاقِرَۃٌ۔ } ”بہت سے چہرے اس دن تروتازہ ہوں گے ‘ وہ اپنے رب کی طرف دیکھتے ہوں گے۔ اور بہت سے چہرے اس روز اترے ہوئے ہوں گے۔ ان کو یقین ہوگا کہ اب ان کے ساتھ کمر توڑ سلوک ہوگا۔“

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 41–42

22 میدان محشر میں لوگ دو گروہوں میں بٹے ہوں گے اور ان کی علامات ان کے چہروں سے نمایاں ہوں گی۔ اللہ کے فرمانبرداروں کے چہرے ہشاش بشاش کھلکھلاتے اور مسکراتے ہوئے ہوں گے۔ دل میں بھی مسرت کی لہر دوڑ رہی ہوگی اور کچھ لوگوں کے چہروں پر ہوائیاں اڑ رہی ہوں گی۔ رنگ فق اور چہرے بگڑے ہوئے اور بےرونق ہوں گے اور یہ اللہ کے نافرمان اور بدکردار لوگ ہوں گے۔ گویا لوگ گروہوں میں بٹنے سے پہلے ہی پہچانے جاسکیں گے کہ کون شخص کس گروہ سے تعلق رکھتا ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 40–41

15۔ چہروں پر سیاہی اثر ہوگا کفر کا، اور چہروں پر کدورت علامت ہوگی غمنا کی اور بدانجامی کی۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 37–42

مسئلہ : اس سے معلوم ہوا کہ مردہ انسان کو دفن کرنا واجب ہے۔ لکل امریء منھم یومئذ شان یغنیہ، آپ ﷺ نے فرمایا کہ سب لوگ میدان محشر میں ننگے بدن، ننگے پیر اور غیر مختون ہوں گے، حضرت عائشہ صدیقہ ؓ نے آپ ﷺ سے معلوم کیا اس طرح شرمگاہوں پر نظریں نہیں پڑیں گی ؟ آپ ﷺ نے اس کے جواب میں یہاں یہ تلاوت فرمائی اور فرمایا اس روز کسی کو کسی کی طرف دیکھنے کا ہوش نہ ہوگا۔ (نسائی، ترمذی وغیرہ)

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

ترھقھا قترۃ . ان پر سیاہی اور کلونچ چھائی ہوگی۔ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا : ان پر ذلت چھائی ہوگی ‘ ابن زید نے کہا : غبرۃ اور قترۃ میں فرق ہے۔ قترۃ اٹھتا ہوا غبار جس میں (اوپر پہنچ کر) کچھ پانی کی آمیزش ہوجائے (مَیل) اور غبرۃ نیچے والی دھول۔

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 37–42

(37۔ 42) قیامت کے دن ان میں ہر ایک شخص کو اپنا ہی فکر ہوگا جو اس کو اور طرف متوجہ نہ ہونے دے گا، سچے مومنین قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کی خوشنودی کی وجہ سے روشن اور شاداں ہوں گے اور کافروں اور منافقوں کی صورتوں پر قیامت کے دن ظلمت ہوگی اور ان پر کدورت اور پسماندگی چھائی ہوگی۔ یہی لوگ کافر و فاجر ہیں۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

Explained with ayahs 40–42

(ووجوہ یومئذ علیھا غبرۃ…: کافر اور فار لوگوں کے چہروں پر سیاہی کی تفصیل کے لئے دیکھیے سورة یونس کی آیت (27) کی تفسیر۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 40–41

ووجوہ یومئذ علیھا غبرہ۔ ترھقھا قترہ۔ غبرہ سے مراد غبار اور دھواں ہے ترھق کا معنی چھاجانا ہے قترہ کا معنی ہے گرہن اور سیاہی، حضرت ابن عباس نے اسی طرح فرمایا، آپ سے یہ بھی مروی ہے کہ ذلت اور سختی، کلام عرب میں قتر سے مراد غبار ہے یہ قترہ کی جمع ہے، ابوعبید سے یہی مروی ہے فرزدق نے یہ شعر پڑھا۔ متوج برداء الملک یتبعہ۔ موج تری فوقہ الرایات والقترا۔ وہ بادشاہ کی چادر کو تاج بنائے ہوئے ہے اس کے پیچھے موج ہے تو اس کے اوپر جھنڈے اور غبار دیکھے گا۔ خبر میں ہے : جب قیامت کے روز چوپاؤں کو مٹی بنا دیا جائے گا تو اس مٹی کو کافروں کے مونہوں پر ڈال دیا جائے گا۔ زید بن اسلم نے کہا، قترہ اس مٹی کو کہتے ہیں جو…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 34–42

3۔ الطبرانی والحاکم وصححہ وابن مردویہ والبیہقی نے سودہ بنت زمعہ ؓ سے روایت کیا کہ نبی ﷺ نے فرمای سب لوگ اس حال میں اٹھائے جائیں گے کہ وہ ننگے پاؤں، ننگے بدن، بغیر ختنہ کیے ہوئے ہوں گے۔ ان کو پسینے نے لگا میں دے رکھی ہوں گی اور کانوں کی لو تک پہنچے گا میں نے عرض کیا یارسول اللہ ! ہائے شرم گاہ کہ ہمارا بعض بعض کی طرف دیکھے گا۔ آپ نے فرمایا : لوگ اس سے غافل ہوں گے اور یہ آیت تلاوت فرمائی آیت یوم یفر المر من اخیہ وامہ وابیہ وصاحبتہ وبنیہ لکل امء منہم یومئذ شان یغنیہ جس دن آدمی اپنے بھائی اور اپنی ماں اور اپنی بیوی اور اپنے بیٹوں سے بھاگے گا۔ ہر شخص کی ایسی حالت ہوگی جو اس کو اوروں کی طرف سے…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 33–42

ان آیات میں روز قیامت کے بعض مناظر بیان فرمائے ہیں۔ الصاخہ سخت آواز سے بولنے والی چیز کو کہتے ہیں اور بعض حضرات نے یہ فرمایا ہے کہ ایسی سخت آواز کو کہتے ہیں جو کانوں کو بہرا کر دے اس سے نفخہ ثانیہ مراد ہے جب یہ سخت آؤاز آئے گی تو انسان اپنی مصیبت میں ایسا مبتلا ہوگا کہ اسے کسی کی طرف کوئی توجہ نہ ہوگی جو خاص اپنے لوگ تھے ان سے بھی بھاگے گا ہر شخص کا اپنا حال جدا ہوگا۔ ایمان اور اعمال صالحہ کی وجہ سے نیک بندوں کے چہرے روشن ہوں گے ان کی صورتوں سے بشاشت اور خوشی ظاہر ہو رہی ہوگی اور جن نالائقوں نے دنیا میں خدا کو فراموش کیا ایمان اور اعمال صالحہ کے نور سے علیحدہ رہے اور کفر و فجور کی سیاہی میں…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 1–42

ترغیب ملاطفت باضعفاء مومنین استغناء وبے نیازی ازاہل دنیا و متکبرین : قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” عبس وتولی ان جآء ہ الاعمی ..... الی ...... اولئک ھم الکفرۃ الفجرۃ “۔ (ربط) گزشتہ سورت میں قیامت اور احوال قیامت کا ذکر تھا، اور بعث بعد الموت کا مضمون بیان کرتے ہوئے آخر سورت میں نجات و کامیابی کا یہ معیار بیان کیا گیا کہ وہ خشیت وتقوی، فکر آخرت اور نفس کو خواہشات سے روکنا ہے یہی انسان کی عزت و عظمت ہے اس کے برعکس غرور وتکبر اور سرکشی خدا کی نظر میں نہایت ہی بدترین اور ذلیل خصلت ہے تو اس سورت میں یہ بیان فرمایا جارہا ہے کہ اہل ایمان کے ساتھ ملاطفت اور دلجوئی کا برتاؤ کرنا چاہئے اور ان کے مقابلہ میں…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 38–42

10:۔ ” جوہ یومئذ “ یہ بشارت اخرویہ ہے۔ ” مسفرۃ “ مضیئۃ، روشن، تاباں۔ قیامت کے دن کچھ چہرے روشن ہوں گے اور مسرت و شادمانی سے کھلے ہوں گے یہ مومنین کے چہرے کھلے۔ ” ووجوہ یومئذ علیہا غبرۃ “ یہ تخویف اخروی ہے۔ ” غبرۃ “ گرد و غبار، اداسی اور مردنی سیاہی، ذلت و رسوائی۔ اور کچھ چہرے ایسے ہوں گے جن پر مایوسی اور مردنی چھائی ہوگی اور ذلت و رسوائی سے سیاہ پڑجائیں گے یہ کون ہوں گے ؟ یہ کفار و فجار ہوں گے جنہوں نے دنیا میں اسلام کی دعوت کو ٹھکرایا اور خدا کے احکام سے بغاوت کی۔ غبرۃ غبار و دخان، قترۃ ذلۃ و شدۃ (قرطبی) ۔ وآخر دعوانا ان الحمد للہ رب العالمین۔ سورة عبس ختم ہوئی

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 33–42

(گذشتہ سے پیوستہ) اس سورة مبارکہ میں پہلے ایک نابینا شخص کا حال بیان کر کے نبی کریم ﷺ اور آپ کے ماننے والوں کی توجہ اس بات کی طرف دلائی گئی ۔ کہ کمزروں اور ناداروں کا خیال رکھنا مقدم ہے ۔ کیونکہ وہ ہدایت کے طالب ہیں اور کمال شوق سے قرآن پاک کی تعلیم حاصل کرنا چاہتے ہیں ۔ برخلاف اس کے سرمایہ دارحضرات ناشکرگذرای کرتے ہیں ۔ ہدایت کے طالب نہیں ۔ لہذا ان کی طرف زیادہ توجہ نہ دیجائے ۔ یہی لوگ ہیں جو بےپروا اور متکبر ہیں ۔ انہیں تزکیہ حاصل کرنے کا بھی شوق نہیں ہے ۔ پچھلی سورة میں اللہ تعالیٰ نے فرعون کے متعلق فرمایا ” ھل لک الی ان تزکی “ کیا تیرے اندر اس بات کی رغبت ہے کہ تو پاک ہوجائے ۔ اور تاکہ…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

تَرْہَقُہَا قَتَرَۃٌ۝ 41 ۭ رهق رَهِقَهُ الأمر : غشيه بقهر، يقال : رَهِقْتُهُ وأَرْهَقْتُهُ ، نحو ردفته وأردفته، وبعثته وابتعثته قال : وَتَرْهَقُهُمْ ذِلَّةٌ [يونس/ 27] ، وقال : سَأُرْهِقُهُ صَعُوداً [ المدثر/ 17] ، ومنه : أَرْهَقْتُ الصّلاة : إذا أخّرتها حتّى غشي وقت الأخری. ( ر ھ ق ) رھقہ ( س ) رھقا ۔ الامر ۔ کسی معاملہ نے اسے بزور و جبر دبا لیا ۔ اور رھقہ وارھقہ ( مجرد و مزید فیہ ) دونوں کے ایک ہی معنی ہیں جیسے ۔ ردفہ اردفہ وبعثہ وابعثہ ۔ قرآن میں ہے ۔ وَتَرْهَقُهُمْ ذِلَّةٌ [يونس/27] اور ان پر ذلت چھا رہی ہوگی ۔ سَأُرْهِقُهُ صَعُوداً [ المدثر/ 17] ہم عنقریب اس کو عذاب سخت میں مبتلا کردیں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 33–42

ترکیب ¦ فاذا حرف الشرط جاءت فعل الصاخۃ فاعلہ والجملۃ شرطیۃ والجواب محذوف یدل علیہ الکلام الاتی وھو لکل امری منہم الخ الصاخۃ الصیحۃ وسمیت بھا لشدۃ صو تھا کانھا تصخ الاذان ای تصمھا فلا تسمع واصل الکلمۃ من الصخ وھو الطعن والصک بقال صخ راسہ بحجرای شدخہ والغراب یصخ بمنقارہ فی وبرالبعیر ای یطعن وھی النفخۃ الاخیرۃ والفاء للدلالۃ علی ترتیب مابعدھا علی ما قبلھا یوم منصوب بمقدر ای اعنی ویکون تفسیراً للصاخۃ اوبدل من اذا جاءت لکل امری منہم خبر شان یغنیہ مبتدء یومئذ ظرف لہ والجملۃ مستانفۃ مسوقۃ لبیان سبب الفرار۔ وجوہ مبتداء والنکرۃ لوقوعھا فی مقام التفصیل والتوزیع صلحت للابتداء یومئذ متعلق بہ مسفرۃ خبر…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 38–42

وُجُوْہٌ یَّوْمَئِذٍ مُّسْفِرَۃٌ۔ ضَاحِکَۃٌ مُّسْتَبْشِرَۃٌ۔ وَوُجُوْہٌ یَّوْمَئِذٍ عَلَیْھَا غَبَرَۃٌ۔ تَرْھَقُھَا قَتَرَہٌ۔ اُوْلٰٓئِکَ ھُمُ الْـکَفَرَۃُ الْفَجَرَۃُ ۔ (عبس : 38 تا 42) (کچھ چہرے اس دن روشن ہوں گے۔ ہشاش بشاش، خوش و خرم۔ اور کچھ چہروں پر اس دن خاک اڑ رہی ہوگی۔ اور کلونس چھائی ہوگی۔ یہ کافر و فاجر لوگ ہوں گے۔ ) مُسْفِرَۃٌ … روشن اور تابناک۔ یہ اَسْفَرَالصُّبْحُ کے محاورے سے ماخوذ ہے۔ ضَاحِکَۃٌ مسکرانے والے چہرے، کیونکہ یہ وُجُوْہٌ کی صفت ہے۔ مُسْتَبْشِرَۃٌ … ہشاش بشاش۔ قیامت کے روز کافر اور مومن الگ الگ کردیئے جائیں گے۔ قرآن کریم میں ارشاد ہے وَامْتَازُوا الْیَوْمُ…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 33–42

فہم القرآن ربط کلام : اس سے پہلے انسان کو اس کی تخلیق اور اس کی خوراک کا حوالہ دے کر اس کا قیامت کے دن زندہ ہونا ثابت کیا اور اب محشر کے دن دوسرے نفخہ کے بعد لوگوں کی حالت بیان کی جاتی ہے۔ سورت النّازعات کی آیت 34 میں قیامت کو ایک بڑی آفت قرار دیا گیا ہے قیامت کے بنیادی طور پر دو مرحلے ہوں گے۔ پہلے مرحلے میں ہر چیز تباہ کردی جائے گی اور اس کے بعد نامعلوم کتنے عرصے کے بعد قیامت کا دوسرا مرحلہ شروع ہوگا۔ دوسرے مرحلہ کی ابتدا بھی اسرافیل کے صور پھونکنے پر ہوگی جس سے ایک مرتبہ پھر پوری زمین ہل جائے گی اور لوگ اپنے اپنے مدفن سے نکل کر محشر کے میدان میں اکٹھے ہوجائیں گے جس کی تفصیل قرآن مجید اور…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

41 : تَرْھَقُھَا قَتَرَۃٌ(ان پر کدورت چھائی ہوگی) اس غبار پر دھوئیں کی طرح سیاہی چھائے گی اور دنیا میں بھی جب چہرے پر غبار اور سیاہی جمع ہوں تو چہرہ وحشت ناک ہوتا ہے۔ (اور وہ تو سب کچھ آخرت کا ہوگا۔ (اللھم احفظنا منھا بفضلک)

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

40 ۔” ووجوہ یومئذ علیھا غبرۃ “ سیاہی اور مصیبت اس کی وجہ سے جو وہ غم اور پریشانیوں کا مشاہدہ کریں گے ۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 32–42

32۔ 41۔ اوپر کی آیتوں میں انسان کے پیدا کرنے اور اس کی زیست بھر کے چند انتظاموں کا ذکر تھا ان آیتوں میں حشر کا ذکر فرمایا تاکہ معلوم ہوجائے کہ انسان کی پیدائش اور اس کی زیست بھر کے انتظام اسی انجام کے لئے ہیں کہ مرنے کے بعد ایک دفعہ اس کو پھر زندہ کیا جائے اور دنیا کے سب نیک و بد کا حساب و کتاب ہو کر ہر ایک کی جزا و سزا کا فیصلہ اخیر صادر ہوجائے۔ حاصل یہ کہ دنیا فیصلہ اخیر کی روداد جمع ہوجانے کے لئے ہے اور قیامت کا دن اس روداد کے موافق فیصلہ اخیر صادر کرنے کی پیشی کی تاریخ ہے اور تمام دنیا کے مختلف روداد کے مقدمات کا فیصلہ اخیر ایک ہی وقت ہوگا اس لئے دنیا کے ختم کے بعد کی یہ وسیع تاریخ پیشی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 40–41

(وَوُجُوْهٌ يَّوْمَىِٕذٍ عَلَيْهَا غَبَرَةٌ۔ تَرْهَقُهَا قَتَرَةٌ) اور کئی چہرے یعنی بدبختوں کے چہرے اس روز غبار آلود ہوں اور اسے ڈھانپ رکھا ہوگا سیاہی نے۔ پس یہ چہرے سیاہ اور نہایت تاریک ہوں گے اور ہر بھلائی سے مایوس ہوں گے اور انہیں اپنی بدبختی اور ہلاکت کا علم ہوگیا ہوگا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

(32) اہل کفر و باطل کے چہروں کے حال وذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " کچھ چہروں پر اس روز سیاہی چھا رہی ہوگی "۔ جو کہ درحقیقت ان کے کفر و انکار اور فسق و فجور کی وہی ہولناک سیاہی ہوگی جس کو انہوں نے دنیا میں زندگی بھر اپنائے رکھا تھا۔ پس کشف حقائق کے اس جہاں میں باطن کی وہی سیاہی ان کے چہروں پر چھا چکی ہوگی۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ اور یہ اس لیے کہ ان کی آس وامید کے تمام دروازے ان پر اس روز بند ہوچکے ہوں گے، اور ان کو اس روز ایسی مایوسی کا سامنا ہوگا جس کا اس دنیا میں تصور کرنا بھی کسی کے لیے ممکن نہیں، سو اس روز ان بدبختوں کے چہروں پر جو خاک اڑ رہی ہوگی اور جو ہولناک سیاہی چھارہی ہوگی اس…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 17–42

انسان کی حیثیت، اللہ کی رحمتیں اور نیک و بد کا فرق تشریح : انسانی پیدائش کا ذکر بہت دفعہ ہوچکا ہے یہاں اس صورت سے کیا گیا ہے کہ بندہ اگر اپنی اوقات کو دیکھے تو اس کا سارا غرور نخوت اور نافرمانی ہوا ہوجائے۔ کیونکہ اس کی ابتدا حیوانات کی ابتدا اور نباتات کے اگنے کا عمل تقریباً ایک جیسا ہی ہے۔ ڈاکٹر ہلوک نور باقی صاحب اس کی وضاحت یوں کرتے ہیں۔ '' تاب پذیر انڈا تین بنیادی طریقوں سے ترقی پذیر ہوتا ہے۔ 1 ۔ زمین کے اندر ' جیسے پودے۔ 2 ۔ ایک انڈے کے خول کے اندر جیسے عام طور پر پرندوں کے بارے میں ہے۔ 3 ۔ رحم مادر میں۔ جیسے انسان اور دودھ پلانے والے جانور۔ اب زرخیز شدہ انڈہ کی تعریف یوں کی گئی ہے۔…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–42

سورة عبس۔ آیات 1 تا 42۔ اسرار ومعارف۔ چہرے پر ناگواری کے اثرات ظاہر ہوئے اور منہ پھیرلیا ہوایوں کہ آپ کے پاس مکہ کے چند سردار بیٹھے تھے جن ہی آپ سمجھا رہے تھے کہ حضرت عبداللہ بن ام مکتوم آئے ان کی نظر نہ تھی انہوں نے کسی آیت کے بارے سوال کیا اور باربار جواب پر اصرار کیا جو مناسب حال نہ تھا اس پر آپ کے رخ انور پر ناگواری کے اثرات ظاہر ہوئے اور رخ انور ان سے پھیرلیا کہ وہ تو دوسرے وقت بھی استفادہ کرسکتے تھے مجلس میں انہیں مخل نہ ہوناچاہیے تھا۔ نفع یقینی پر موہوم کو ترجیح نہ دی جائے۔ اس پر اللہ نے فرمایا کہ آپ کا یہ اجتہاد درست نہیں لہذا اصطلاح فرمادی کہ ان کو نفع یقینی تھا جبکہ کفار کا فائدہ…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(80:41) ترھقھا قترۃ : یہ وجوہ آیت نمبر 40 مبتدا کی خبر ثانی ہے۔ ترھق : رھق (باب سمع) مصدر سے مضارع کا صیغہ واحد مؤنث غائب ہے ھا ضمیر مفعول واحد مؤنث کا مرجع وجوہ ہے۔ وہ خاک ان (چہروں) پر چھا رہی ہوگی۔ چڑھی آرہی ہوگی۔ رھق کے معنی کسی چیز کے دوسری چیز پر زبردستی چھا جانے کے ہیں اور پالینے کے ہیں۔ قترۃ : غبار۔ دھویں کی طرح غبار نما بد رونقی جو چہرے پر چھا جاتی ہے۔ اس کے اصل معنی ہیں کسی لکڑی کا اٹھتا ہوا دھواں۔ کنجوس آدمی گویا کہ دھواں دے کر دوسرے کو بہلا دیتا ہے اس لئے کنجوس اور بخیل کو بھی قاتر کہتے ہیں۔ قرآن مجید میں ہے :۔ والذین اذا انفقوا لم یسرفوا ولم یقتروا (25:27) اور وہ کہ جب خرچ کرتے…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 1–42

لغات القرآن الاعمی۔ نابینا۔ اندھا۔ یزکی۔ وہ پاکیزگی حاصل کرتا ہے۔ تنفع۔ نفع دیتی ہے۔ استغنی۔ جو بےپروائی کرتا ہے۔ تصدی۔ تو متوجہ ہوتا ہے۔ تلھی۔ تو منہ پھیرتا ہے۔ تذکرۃ ۔ ایک نصیحت ہے۔ یاد کرنے کی چیز ہے۔ صحف مکرمۃ ۔ عزت والی کتابوں میں ہے۔ مطھرۃ۔ پاکیزہ۔ ایدی سفرۃ۔ لکھنے والوں کے ہاتھ۔ کرام بررۃ۔ نیک اور بلند مقام والے۔ صببنا۔ ہم نے اوپر سے ڈالا۔ شققنا۔ ہم نے پھاڑا۔ غلب۔ گھنے۔ اب۔ چارہ۔ الصاخۃ۔ زبردست آواز۔ چیخ۔ شان۔ ایسی حالت۔ یغنیہ۔ جو اسے پھنسائے گی۔ مسفرۃ۔ چمکتے دمکتے۔ ضاحکۃ۔ ہنستے ہوئے۔ مستبشرۃ۔ خوشیاں مناتے ہوئے۔ غبرۃ۔ گردوغبار۔ ترھق۔ چھا جائے گی۔ قترۃ۔ سیاہی۔ تاریکی۔ الفجر۔ بدکار۔ گناہ…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 40–41

(ف 2) یعنی کافروں کے چہروں پر کفر کی کدورت چھائی ہوگی اور اوپر سے فسق وفجور کی ظلمت اور زیادہ تیرہ و تاریک کردے گی۔

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 37–42

[10] یعنی اس دن ہر شخص کو اپنی نجات کی فکر پڑی ہوگی اور عزیز سا عزیز کسی کے کام نہ آئے گا اور نہ اس سے ہمدردی کرسکے گا۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 41–42

ف 1: جن پر گردوغبارچھارہا ہوگا ۔ موخر الذکر وہ ہوا آگے جنہوں نے دنیا میں اللہ اور اس کے رسول ﷺ کا انکار کیا اور ساری زندگی فسق وفجور میں گزاردی ۔ حل لغات :۔ ابا ۔ چارہ ۔ بھوسی ۔ گھاس ۔ الصاخۃ ۔ نفخہ ثانیہ جس کی وجہ سے ایک شور ہوگا قترۃ ۔ ندامت و حسرت کی سیاہی ۔

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(41) ان پر سیاہی چھائی ہوئی ہوگی - یعنی کفر کی وجہ سے چہروں پر گرد ہوگی اور سیاہی اور تاریکی چڑھی ہوئی ہوگی جیسا کہ پریشانی اور غم کی وجہ سے ہوا کرتی ہے یہ وہ باطنی ظلمت ہوگی جو اس دن چہروں پر نمایاں ہوجائیگی بلکہ بڑھتی رہے گی۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 2–42

ف 5۔ ایک مرتبہ رسول اللہ ﷺ بعض روسا مشرکین کو سمجھا رہے تھے کہ اتنے میں عبداللہ ابن ام مکتوم نابینا صحابی حاضر ہوئے اور کچھ پوچھنا شروع کیا، یہ قطع کلام آپ ﷺ کو ناگوار ہوا اور آپ نے ان کی طرف التفات نہ فرمایا اور ناگواری کی وجہ سے آپ چیں بچیں ہوئے، جب آپ اس مجلس سے اٹھ کر گھر جانے لگے تو یہ آیتیں نازل ہوئیں، اس کے بعد جب حضرت عبداللہ بن ام مکتوب آپ کے پاس آتے تو آپ بڑی خاطر کرتے۔ ھذہ الروایات کلھا فی الدار المنثور۔ ان آیات میں آپ کی اجتہادی لغزش پر آپ کو مطلع کردیا گیا ہے، منشاء اس اجتہاد کا یہ تھا کہ یہ امر تو متیقن اور ثابت ہے کہ اہم مقدم ہوتا ہے۔ آپ نے کفر کی اشدیت کو موجب اہمیت سمجھا،…

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

Explained with ayahs 33–42

آیت 33 تا 42: طامہ حاقہ خاصہ جیسے اسم فاعل کے وزن پر صاخہ بھی مصدر ہے جس کا معنی ایک چیخ اور پکار ہے اور مرد اس سے قیامت ہے۔ جب وہ بپا ہوگی تو اس وقت ماں باپ بھائی بہن بیوی بچے شوہر کوئی کسی کے کام نہیں آئے گا ہر ایک کو اپنی اپنی پڑی ہوگی جب ماں باپ جیسے قریبی رشتے کام نہیں دیں گے تو دوستوں یاروں کا قصہ ہی کیا ہے کہ کوئی کسی کے کام آسکے جس طرح دوست یار و رشتہ دار کام نہیں دیں گے اسی طرح پر مال و دولت بھی کام نہیں دیں گے۔ جس پر بھی کوئی سنگین مقدمہ کھڑا ہوا اور جرم ثابت ہوا تو وہ اپنے ماں باپ بیوی یچوں شوہر بہن بھائی اور رشتہ داروں سے بھاگتا پھرے گا کہ کہیں مجھے چھوڑا جائے مجھے کسی سے کیا مطلب…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 34–42

يَوْمَ يَفِرُّ‌ الْمَرْ‌ءُ مِنْ أَخِيهِ (the Day when one will flee from his brother...80:34). This depicts the scene when all the people will have gathered in the Plain of Gathering. Each person will be worried about himself, and the situation will be so horrifying and tense that it will make people heedless of anything around them. In the world, there are relationships between people that make one willing to lay down his life for the other, but on the Day of Resurrection there will be such horror and chaos that they will be unable to take care of anyone. In fact, even if one sees the other…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 37–42

23 A tradition has been reported in the. Hadith by different methods and through different channels, saying that the Holy Prophet (upon whom be peace) said: "On the Day of Resurrection all men will rise up naked." One of his wives (according to some reporters, Hadrat `A'ishah, according to others, Hadrat Saudah, or a woman) asked in bewilderment: "O Messenger of Allah, shall we (women) appear naked on that Day before the people ?° The Holy prophet recited this very verse and explained that on that Day each one will have enough of his own troubles to occupy him, and will be wholly unmindful of…

Read the full tafseer →