فَاَیْنَ تَذْهَبُوْنَ ۟ؕفَاَيۡنَ تَذۡهَبُوۡنَؕ
پھر تم کدھر جا رہے ہو
— Fateh Muhammad Jalandhari
So where are you going?
— Saheeh International
Juz 30 · Ruku 1 of surah · Ruku 6 of juz
فَاَیْنَ تَذْهَبُوْنَ ۟ؕفَاَيۡنَ تَذۡهَبُوۡنَؕ
پھر تم کدھر جا رہے ہو
— Fateh Muhammad Jalandhari
So where are you going?
— Saheeh International
Juz 30 · Ruku 1 of surah · Ruku 6 of juz
Read the whole surah · Surah At-Takwir
پھر تم لوگ کدھر چلے جا رہے ہو؟
پھر تم کدھر جا رہے ہو
پھر تم کہاں جا رہے ہو
پھر بھی تم لوگ کدھر چلے جارہے ہو ؟
پھر کدھر جاتے ہو
پھر (اے بدبختو!) تم (اتنے بڑے خزانے کو چھوڑ کر) کدھر چلے جا رہے ہو،
پھر تم کہاں جا رہے ہو ؟
پھر تم کہاں جارہے ہو ؟
تو تم کہاں کھوئے جاتے ہو !
پھر تم لوگ کدھر (بہکے اور بھٹکے) جا رہے ہو ؟
سو تم لوگ کدھر جارہے ہو ؟۔
تو تم کدھر چلے جا رہے ہو ؟
پھر تم کدھر جارہے ہو
Where to are you then heading?
Then where are you going?
Then where are you going?
Then where are you going
Whither then go ye?
— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran
So where are you going?
Where then will you go?
Whither then will you go?
Whither then go ye?
When whither go ye?
— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary
Explained with ayahs 15–29
ستارے، نیل گائے اور ہرن حضرت عمرو بن حریث ؓ فرماتے ہیں کہ میں نے صبح کی نماز میں رسول اللہ ﷺ کو اس سورة کی تلاوت کرتے ہوئے سنا اس نماز میں میں بھی مقتدیوں میں شامل تھا (مسلم) یہ ستاروں کی قسمیں کھائی گئی ہیں جو دن کے وقت پیچھے ہٹ جاتے ہیں یعنی چھپ جاتے ہیں اور رات کو ظاہر ہوتے ہیں حضرت علی ؓ ہی فرماتے ہیں اور بھی صحابہ تابعین وغیرہ سے اس کی یہی تفسیر مروی ہے بعض ائمہ نے فرمایا ہے طلوع کے وقت ستاروں کو خنس کہا جاتا ہے اور اپنی اپنی جگہ پر انہیں جوار کہا جاتا ہے اور چھپ جانے کے وقت انہیں کنس کہا جاتا ہے بعض نے کہا ہے اس سے مراد جنگلی گائے ہے یہ بھی مروی ہے کہ مراد ہرن ہے۔ ابراہیم نے حضرت مجاہد…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–27
سورة التَّكْوِیْر 21 یعنی تمہارا یہ خیال غلط ہے کہ کوئی شیطان آ کر محمد ﷺ کے کان میں یہ باتیں پھونک دیتا ہے۔ شیطان کا آخر یہ کام کب ہوسکتا ہے کہ وہ انسان کو شرک اور بت پرستی اور دہریت و الحاد سے ہٹا کر خدا پرست اور توحید کی تعلیم دے۔ انسان کو شتر بےمہار بن کر رہنے کے بجائے خدا کے حضور ذمہ داری اور جواب دہی کا احساس دلائے۔ جاہلانہ رسموں اور ظلم اور بد اخلاقی اور بد کرداری سے منع کر کے پاکیزہ زندگی، عدل اور تقویٰ اور اخلاق فاضلہ کی طرف رہنمائی کرے۔ (مزید تشریح کے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن، جلد سوم، الشعراء، آیات 210 تا 212 معی حواشی 130 تا 133، اور آیات 221 تا 223 مع حواشی 140۔ 141)۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–29
اِنَّهٗ لَقَوْلُ رَسُوْلٍ كَرِيْمٍ 19 ۙذِيْ قُوَّةٍ الخ، ستاروں کی قسم کے بعد فرمایا کہ یہ قرآن قول ہے کہ ایک رسول کریم کا، آگے اس رسول کریم کی صفت ایک تو یہ بیان فرمائی کہ وہ ذی قوت ہے، دوسری یہ کہ رب العرش کے پاس وہ مطاع ہے کہ اسکے احکام عرش والے مانتے ہیں، تیسری یہ کہ وہ اللہ کے نزدیک امین ہے اس سے پیغام لانے اور پہنچانے میں کسی خیانت اور کمی نیشن کا امکان نہیں۔ اس جگہ رسول کریم سے مراد بظاہر جبریل امین ہیں کیونکہ لفظ رسول کا جیسے انبیاء پر اطلاق ہوتا ہے ایسے ہی فرشتوں کے لئے بھی یہ لفظ بولا جاتا ہے اور آگے جتنی صفات رسول کی بیان کی گئی ہیں وہ سب جبریل امین پر بغیر کسی تکلف و تاویل کے…
Read the full tafseer →یہ ان ہٹ دھرموں کی کور ذوقی اور ہٹ دھرمی پر اظہار تعجب ہے کہ کہاں یہ قرآن اور کہاں تمہارے کاہنوں اور شیاطین کی خرافات۔ دونوں میں کیا نسبت! آخر تم ضد کے جنون میں کہاں سے کہاں نکل جاتے ہو کہ گہر اور پشیز میں فرق نہیں کر پاتے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–28
26۔ 1 یعنی کیوں اس سے روگردانی کرتے ہو ؟ اور اس کی اطاعت نہیں کرتے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–29
12: یعنی حضور اقدس ﷺ کو وحی کے ذریعے غیب کی جو باتیں معلوم ہوتی ہیں، وہ انہیں لوگوں سے چھپاتے نہیں ہیں، بلکہ سب کے سامنے ظاہر فرما دیتے ہیں، جاہلیت کے زمانے میں جو لوگ کاہن کہلاتے تھے، وہ بھی غیب کی باتیں بتانے کا دعوی کرتے تھے، اور شیطانوں سے دوستی کرکے ان سے کچھ جھوٹی سچی باتیں سن لیا کرتے تھے، لیکن جب لوگ ان سے پوچھتے تو وہ انہیں فیس لئے بغیر کچھ بتانے سے انکار کرتے تھے، اللہ تعالیٰ کافروں سے فرما رہے ہیں کہ تم آنخضرت ﷺ کو کاہن کہتے ہو، حالانکہ کاہن تو تمہیں جھوٹی باتیں بتانے میں بھی بڑے بخل سے کام لیتے ہیں، اور پیسے لئے بغیر کچھ نہیں بتاتے، لیکن آنحضرت ﷺ کو غیب کی جو سچی باتیں معلوم ہوتی…
Read the full tafseer →فاین تذھبون (26:81) ” پھر تم کدھر چلے جارہے ہو ؟ “۔ تم کس قدر غلط فیصلہ کرتے ہو ، کس قدر بودی بات کرتے ہو ؟ حق سے منہ موڑ کر کدھر جارہے ہو ؟ حالانکہ حق اور سیدھا راستہ تمہارے سامنے ہے۔
Read the full tafseer →9 یعنی جب جھوٹ، دیوانگی، تخیل و تو ہم اور کہانت وغیرہ کے سب احتمالات مرفوع ہوئے تو بجز صدق و حق کے اور کیا باقی رہا۔ پھر اس روشن اور صاف راستہ کو چھوڑ کر کدھر بہکے جا رہے ہو۔
Read the full tafseer →آیت 26{ فَاَیْنَ تَذْہَبُوْنَ۔ } ”تو تم کدھر چلے جا رہے ہو ؟“ تمہاری بھلائی اور کامیابی تو اس میں تھی کہ تم لوگ ہمارے رسول ﷺ پر ایمان لاتے اور ان ﷺ کی طرف جو وحی آرہی ہے اس کے نور سے اپنے دلوں کو منور کرتے ‘ لیکن تم لوگوں نے اس کے بجائے ان ﷺ کی تکذیب اور مخالفت کی روش اپنا رکھی ہے۔ تم لوگ کبھی سنجیدگی سے غور تو کرو کہ اللہ کے کلام سے منہ موڑ کر تم لوگ کس طرف جا رہے ہو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–27
21 یعنی یہ قرآن لانے والا جبریل امین اور لوگوں تک پہچانے والا رسول امین۔ ان دو امین ہستیوں کی وجہ سے اس قرآن سے جھوٹ، باطل کی آمیزش، رشک و شبہ، توہم اور دیوانگی کے سب امکانات ختم ہوئے۔ نیز کاہن یا شیطان کا کلام بھی نہیں ہوسکتا۔ تو ان باتوں کے بعد سوائے سچائی اور حق کے باقی کیا رہ جاتا ہے ؟ پھر اس صاف اور روشن راستے کو چھوڑ کر اور کدھر بہکے جارہے ہو ؟
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–26
11۔ (کہ ایسی سیدھی سی بات کو چھوڑ کر ادھر ادھر بھٹک رہے ہو) اوپر بیان یہ تھا کہ نزول قرآن کے جو دو واسطے ہیں، یعنی ایک فرشتہ وحی اور دوسرے پیغمبر اسلام (علیہ السلام) ، یہ دونوں حد درجہ مضبوط، مستحکم وناقبل اشتباہ ہیں، اب بیان اس کا ہے کہ اپنی اصل اور ماخذ کے لحاظ سے بھی قرآن سرتاسر حق ہی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–29
واذا لموئو ودۃ سئلت، اس آیت کے انداز بیان میں ایسی شدید غضب ناکی پائی جاتی ہے، جس سیز یادہ غضب ناکی کا تصور نہیں کیا جاسکتا، بیٹی کو زندہ درگور کرنے والے والدین اللہ کی نظر میں ایسے قابل نفرت ہوں گے کہ ان کو مخاطب کر کے ان سے یہ نہ پوچھا جائے گا کہ تم نے اس معصوم کو کیوں قتل کیا ؟ بلکہ اس سے نگاہ پھیر کر معصوم بچی سے پوچھا جائے گا کہ تو بےچاری آخر کس قصور میں مار دی گئی ؟ اور وہ اپنی داستان مظلومیت سنائے گی، اس آیت کے مضمون سے ایک اہم بات خود بخود یہ سمجھ میں آتی ہے کہ اس میں آخرت کے ضروری ہونے کی ایک صریح دلیل پیش کی گئی ہے، جس لڑکی کو زندہ دفن کردیا گیا، آخر اس کی کہیں تو داد رسی ہونی…
Read the full tafseer →فاین تذھبون . پس تم کہاں جا رہے ہو ؟ فاء سببی اور استفہام انکاری ہے۔ یعنی باطل کی طرف جو تم جا رہے ہو ‘ ایسا نہ کرو۔ کافر حضور ﷺ کو قرآن گو شاعر ‘ یا مجنون ‘ یا کاہن کہتے تھے۔ لفظ اَیْنَ سے اس کا انکار کردیا۔ زجاج نے کہا : جو راستہ میں نے کھول کر بیان کردیا ‘ اس سے زیادہ واضح کس راستہ پر چلو گے۔ سائل سوال کرسکتا ہے وہ کیا راستہ ہے تو گویا اسکے جواب میں فرمایا :
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–27
(26۔ 27) تو اے گروہ کفار عذاب خداوندی اور اس کے اوامرو نواہی سے کدھر کو جارہے ہو، یا یہ کہ کہاں کی تکذیب کر رہے ہو، یا یہ مطلب ہے کہ قرآن کریم سے کدھر کو اعراض کیے جارہے ہو کہ اس پر ایمان نہیں لاتے۔ یہ قرآن کریم تو جنوں اور انسانوں کے لیے اللہ کی طرف سے ایک بڑا نصیحت نامہ ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–28
(وما ھو علی الغیب بضنین :”ضنین“ بخیل، یعنی اللہ تعالیٰ انہیں غیب کی جو بات بتاتے ہیں وہ اسے اپنے پاس ہی نہیں رکھ لیتے بلکہ امت تک پہنچا دیتے ہیں۔ عائشہ ؓ فرماتی ہیں :(من حد نک ان محمداً ﷺ کم شیئاً مما انزل علیہ، فقد کذب ، واللہ یقول :(یایھا الرسول بلغ ما انزل الیک من ربک) (بخاری، التفسیر، باب :(یا ایھا الرسول بلغ…): 3612)”جو شخص تمہیں بتائے کہ محمد ﷺ نے آپ پر نازل ہونے والی کوئی بات چھپائی ہے، تو اس نے یقیناً جھوٹ بولا، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا :(یایھا الرسول بلغ ما انزل الیک من ربک) (المائدہ : 68)”اے رسول ! پہنچا دے جو کچھ تیری طرف تیرے رب کی جانب سے نازل کیا گیا ہے۔“ بعض لوگوں نے اس آیت…
Read the full tafseer →فاین تذھبون۔ قتادہ نے کہا، اس سے مراد، تم اس قول سے اور اس کی اطاعت سے کہاں بھٹکے جارہے ہو ؟ معمر نے قتادہ سے یہی روایت نقل کی ہے یعنی تم میری کتاب اور اطاعت سے کہاں بھاگے جارہے ہو، زجاج نے کہا، جو راستہ میں نے تمہارے لیے واضح کیا ہے اس کو چھوڑ کر تم کون سے زیادہ واضح راستہ پر چلو گے، ایک قول یہ کیا گیا ہے این تذہب کا معنی ہے الی این تذھب فراء نے عربوں سے روایت نقل کی ہے کہ ذھبت شام، خرجت العراق، انطلقت السوق، سب میں الیھا مراد ہے کہا، ہم نے ان تین افعال میں سنا ہے، بنی عقیل میں سے ایک نے کہا : وای الارض تذھب بالصباھ، یعنی الی ای الارض تذھب بالصباح۔ یہاں الی محذوف ہے جنید نے کہا، وہ اس آیت کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–27
77۔ عبدالرزاق وابن مردویہ نے ابن الزبیر ؓ سے روایت کیا کہ نبی ﷺ اس کو یوں پڑھتے تھے آیت وما ہو علی الغیب بضنین اور دوسرے لفظ میں ہے بضنین ضاد کے ساتھ۔ 78۔ عبد بن حمید نے ہشام بن عروہ (رح) سے روایت کیا کہ ابی ؓ اس کو یوں پڑھتے تھے آیت وما ہو علی الغیب بضنین ان سے اس بارے میں پوچھا گیا تو فرمایا کہ عائشہ ؓ نے فرمایا کہ مصاحف میں لکھنے والے لوگ خطا کرجاتے ہیں 79 سعید بن منصور وعبد بن حمید وابن المنذر وابن مردویہ نے کئی طرق سے عبداللہ بن زبیر ؓ سے روایت کیا کہ وہ اس کو یوں پڑھتے تھے آیت بضنین۔ 80۔ سعید بن منصورر وعبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم وابن مردویہ نے طرق سے ابن عباس ؓ سے…
Read the full tafseer →[فَاَيْنَ تَذْهَبُوْنَ : تو تم لوگ کہاں (بھٹکنے) جاتے ہو ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–29
﴿وَ مَا هُوَ بِقَوْلِ شَيْطٰنٍ رَّجِيْمٍۙ0025﴾ (اور یہ قرآن کسی شیطان مردود کی کہی ہوئی بات نہیں ہے) ۔ ﴿ فَاَيْنَ تَذْهَبُوْنَؕ0026﴾ پس جبکہ وحی لانے والا فرشتہ مذکورہ بالا صفات سے متصف ہے اور جن پر وحی آتی ہے وہ دیوانے بھی نہیں ہے اور نہ کاہن ہیں اور نہ اجرت طلب کرتے ہیں اور یہ قرآن کسی شیطان مردود کا کلام بھی نہیں ہے تو تم اس کو چھوڑ کر کہاں جا رہے ہو۔ ﴿اِنْ هُوَ اِلَّا ذِكْرٌ لِّلْعٰلَمِيْنَۙ0027 لِمَنْ شَآءَ مِنْكُمْ اَنْ يَّسْتَقِيْمَؕ0028﴾ بس یہ قرآن دنیا جہاں والوں کے لیے ایک بڑی نصیحت ہے جو تم میں سیدھی راہ پر چلنا چاہے۔ ﴿ وَ مَا تَشَآءُوْنَ اِلَّاۤ اَنْ يَّشَآء اللّٰهُ رَبُّ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–29
ہولناک مناظر روز قیامت و پیشی اعمال و فیصلہ جزاء وسزا : قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” اذا الشمس کورت ....... الی ...... الا ان یشآء اللہ رب العلمین “۔ (ربط) سورة عبس کا مضمون دراصل اثبات قیامت کے موضوع ہی پر مشتمل تھا اور مقصد بیان یہ تھا کہ انسان کی سعادت و فلاح اور عزت و عظمت اپنی زندگی اپنے پروردگار کے ساتھ وابستہ رکھنے اور فکر آخرت میں ہے، اس کے برعکس وہ مغرور ومتکبر جو نہ خدا پر ایمان لاتا ہے اور نہ ہی اس کو آخرت کی فکر ہے وہ خدا کی نظروں میں ذلیل و حقیر ہے، طالب حق اور سعادت کی فکر میں لگے رہنے والا انسان ہی بارگاہ رسالت میں ہر عزت واکرام کا مستحق ہے، آخر میں قیامت کے روز کی پریشانی اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–28
7:۔ ” وما ھو “ ” ضنین “ کے معنی بخیل کے ہیں یعنی اللہ کی طرف سے جو علوم و معارف آپ پر نازل ہوتے ہیں، ان کی تعلیم و تبلیغ میں آپ بخل نہیں کرتے۔ یہ قرآن وحی الٰہی ہے۔ شیطانی کلام یا شیطانی القاء نہیں ہے۔ ” فاین تذھبون “ تم کدھر جارہے ہو اور کس قدر بےعقلی کی باتیں کرتے ہو، ایسی عظیم الشان کتاب میں غور و فکر کر کے اس سے ہدایت حاصل نہیں کرتے ہو۔ حالانکہ یہ کتاب تمام جہانوں کے لیے ہدایت اور نصیحت ہے۔ تم میں سے ہر اس شخص کے لیے نصیحت ہے جو سیدھی راہ پر اور دین اسلام پر چلنا اور اس پر قائم رہنا چاہے۔ قرآن بیشک تمام بنی آدم کے لیے ہدایت نامہ ہے مگر اس سے فائدہ صرف وہی اٹھائیں گے جو ضد و تعصب سے بالا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–29
(جبرائیل (علیہ السلام) اپنی اصلی صورت میں) جیسے کہ پہلے بیان ہوا جبرائیل (علیہ السلام) کا تعلق قرآن پاک کے واسطہ سے نظام بالا کے ساتھ ہے۔ چناچہ ارشاد ربانی ہے۔ ولقد راہ بالا فق المبین یعنی نبی (علیہ السلام) نے جبرائیل (علیہ السلام) کو کھلے کنارے پر دیکھا ہے۔ حدیث (ب 1 بخاری ص 3 ج 1 ومسلم ص 10 ج 1) شریف میں آتا ہے کہ ابتدائے نبوت کے زمانہ میں حضور ﷺ نے حضرت جبرائیل (علیہ السلام) کو اپنی اصل شکل میں دیکھا تھا جبرائیل (علیہ السلام) کرسی پر بیٹھے تھے اور آسمانی فضا بھی بھری ہوئی آپ نے مشاہدہ کیا تو دہشت طاری ہوگئی تشریف لائے اور فرمایا مجھ پر کمبل ڈال دو پھر آپ نے سارا واقعہ بیان کیا۔ اس کے بعد…
Read the full tafseer →فَاَيْنَ تَذْہَبُوْنَ 26 ۭ أين أَيْنَ لفظ يبحث به عن المکان، كما أنّ «متی» يبحث به عن الزمان، والآن : كل زمان مقدّر بين زمانین ماض ومستقبل، نحو : أنا الآن أفعل کذا، وخصّ الآن بالألف واللام المعرّف بهما ولزماه، وافعل کذا آونة، أي : وقتا بعد وقت، وهو من قولهم : الآن . وقولهم : هذا أوان ذلك، أي : زمانه المختص به وبفعله . قال سيبويه رحمه اللہ تعالی: الآن آنك، أي : هذا الوقت وقتک . وآن يؤون، قال أبو العباس رحمه اللہ : ليس من الأوّل، وإنما هو فعل علی حدته . والأَيْنُ : الإعياء، يقال : آنَ يَئِينُ أَيْناً ، وکذلك : أنى يأني أينا : إذا حان . وأمّا بلغ إناه فقد قيل : هو مقلوب من أنى، وقد تقدّم . قال…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–29
ترکیب ¦ فلما الفاء للتفریع اوالتعقیب ولا زائدۃ کما مر تحقیقھا فی سورة القیامۃ بالخنس المقسم بہ وھی جمع خانس و خانستہ من خنس اذا تاخروفی الصحاح الخنس الکواکب کلھا انھا تخنس فی المغیب اولانھا تخفی نھاراً وقیلھی الکواکب الخمس زحل والمشتری والمریخ والزھرۃ و عطارد و فی الکبیر الخنس 1 ؎ جمع خانس والخنوس الانقباض والاستخفاء تقول خنس من بین القوم وتخنس و فی الحدیث الشیطان یوسوس ای العبد فاذا ذکر اللہ خنس ولذاسمی الخناس۔ الجوار جمع جاریۃ وھی السیارات لانھا تجری۔ وھی صفۃ الخنس۔ الکنس جمع کانس وکانستہ یقال کنس اذا دخل الکناس وھو مقرالوحش کنس کناس بالکسر خواب جائے آہو و پنہان شدن اودر آنجا (عع1 ک 2) کنس…
Read the full tafseer →فَاَیْنَ تَذْھَبُوْنَ ۔ (التکویر : 26) (تم لوگ کدھر چلے جارہے ہو۔ ) یعنی کہاں قرآن کریم کی یہ تعلیم اور کہاں تمہاری خرافات دونوں میں آخر کیا نسبت ہے۔ تو تم اپنے مذہبی تعصبات کا شکار ہو کر آنحضرت ﷺ کی نبوت سے انکار کرکے، آخر کدھر جارہے ہو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–29
فہم القرآن ربط کلام : قرآن مجید کی دعوت کا تیسرا مضمون قیامت ہے جو ہر صورت قائم ہو کر رہے گی۔ اہل مکہ نہ صرف قیامت کا انکار کرتے تھے بلکہ اس وجہ سے قرآن مجید کو ماننے کے لیے تیار نہیں تھے کہ یہ ” اللہ “ کی کتاب ہے۔ اس لیے یہاں ایک مرتبہ پھر وضاحت کی جا رہی ہے کہ قرآن مجید اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل کیا گیا ہے۔ یہ بات کئی مرتبہ عرض ہوچکی ہے کہ قرآن مجید کے بنیادی مضامین تین ہیں۔ توحید، رسالت اور آخرت۔ باقی مسائل انہیں کی تفصیل اور تقاضے ہیں۔ قرآن مجید ان عقائد پر بار بار زور دیتا ہے کیونکہ مکہ کے لوگ کسی نہ کسی انداز میں ان تینوں باتوں کا انکار کرتے تھے جس بنا پر ان کی کوشش تھی کہ لوگوں کی…
Read the full tafseer →26 : فَاَیْنَ تَذْھَبُوْنَ (تو تم لوگ کدھر کو چلے جارہے ہو) اس میں کفار کیلئے استضلال ہے جیسا کہ اس شخص کو جو صحیح راستہ کو چھوڑ رہا ہو بطور افسوس کہتے ہیں یا راستے کے کناروں پر جارہا ہو تو اس کو کہتے ہیں۔ تم کہاں جارہے ہو ؟ ( کہ راستہ تو کھلا ہے اس کو کیوں چھوڑتے ہو) گویا ان کی حالت کو اس شخص کے ساتھ مثال دے کر ذکر کیا کہ یہ سامنے راستہ دیکھتے ہوئے حق سے ہٹ کر باطل کی طرف اسی طرح جارہے ہیں۔ جیسا وہ شخص جو راستے کو جان بوجھ کر چھوڑ رہا ہو۔ قول الزجاج (رح) : اس کا معنی یہ ہے جو راستہ میں نے کھول کر بیان کردیا اس سے زیادہ واضح کس راستہ پر چلوگے۔ قولِ جنید (رح) : تم ہم سے کنارہ کش ہو کر کہاں…
Read the full tafseer →25 ۔” وماھو “ یعنی قرآن۔ ” بقول شیطان رجیم “ کلبی (رح) فرماتے ہیں کہ قرآن نہ شعر ہے اور نہ کہانت جیسا کہ قریش نے کہا ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–29
15۔ 29۔ خنس کے معنی پچھے ہٹ جانے اور کنس کے معنی نکلنے کے ہیں مطلب یہ ہے کہ تارے جو دن کو سورج کی روشنی میں چھپ جاتے ہیں اور رات کو نکل آتے ہیں ان کی اور اول شب کی تاریکی اور طلوع صبح کی تاکید کے طور پر قسم کھا کر اللہ تعالیٰ نے قرآن کو کلام اللہ اور محمد ﷺ کو اللہ کا رسول فرمایا ہے اگرچہ بعض مفسروں نے لکھا ہے کہ انہ لقول رسول کریم میں رسول سے مراد آنحضرت ﷺ کی ذات ہے لیکن صحیح قول وہی ہے جو امام المفسرین 2 ؎ حضرت عبد اللہ بن عباس اور سلف نے فرمایا ہے کہ رسول سے مراد اس آیت میں حضرت جبرئیل (علیہ السلام) ہیں کیونکہ مشرکین مکہ کبھی کہتے تھے انما یعلمہ بشر۔ کبھی کہتے تھے افتری علی اللہ کذبا ام بہ…
Read the full tafseer →(فَاَيْنَ تَذْهَبُوْنَ ) پھر تم کدھر جارہے ہو ؟ یعنی تمہارے دل میں یہ بات کیسے آئی اور تمہاری عقل کہاں چلی گئی کہ تم نے حق کو جو صداقت کے بلندترین درجے پر ہے۔ بمنزلہ جھوٹ قرار دے دیا جو سب سے گھٹیا، سب سے رذیل اور سب سے اسفل باطل ہے کیا یہ حقائق کو بدلنے کے سوا کچھ اور ہے۔ ؟
Read the full tafseer →(21) ہٹ دھرموں کے رویے پر اظہار تعجب و افسوس : چناچہ ارشاد فرمایا گیا کہ پھر تم لوگ آخر کہاں جارہے ہو ؟ جو حق و صداقت کی واضح شاہراہ کو چھوڑ کر طرح طرح کی پگڈنڈیوں میں بھٹکتے اور بہکتے پھرتے ہو، اور طرح طرح کے اندھیروں میں پڑے دکھے کھا رہے ہو، جبکہ حق اور ہدایت کی یہ عظیم الشان نعمت تمہارے پاس آچکی، سو اس سے ہٹ دھرموں کی کو رذوقی و بدبختی اور ان کے عناد و ہٹ دھرمی پر اظہار تعجب و افسوس فرمایا گیا ہے کہ کہاں یہ قرآن حکیم اور کلام مجید ؟ اور کہاں کاہنوں اور شیاطین کی تک بندیاں اور ان کی خرافات ؟ ان دونوں میں نسبت ہی کیا ہوسکتی ہے ؟ آخر تم لوگ ضد اور ہٹ دھرمی کے جنون میں کہاں سے کہاں نکلے جارہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–29
قرآن جس میں کوئی شک نہیں۔ تقدیر کیا ہے ؟ تشریح : یہاں 15 اور 16 آیات میں آسمانی فزکس Astrophysics کے بنیادی اصول بیان کئے گئے ہیں۔ '' خنس '' یعنی چھپنے والے تارے۔ اور '' کنس ''۔ یعنی ایک مخصوص راستہ کا محور کسی چلتی ہوئی چیز میں دبک جانے والا۔ ڈاکٹر ہلوک نور باقی صاحب اس کی وضاحت بڑے خوبصورت انداز میں کرتے ہیں لکھتے ہیں۔ '' اللہ قسم کھاتا ہے ان تمام طبیعاتی قوانین کی جو ساری کائنات کی وسعتوں میں کار فرما ہیں۔ جس کی طرف اشارہ ان دو آیات مبارکہ میں کیا گیا ہے۔ ہر مخلوق ایک خنس اور ایک کنس کی حالت میں ہے۔ ایک خوش اسلوب اور ہم آہنگ روانی یا بہنا ہے جب کہ دوسرا ہٹتے ہوئے پردہ کرنے کی طرح ہے جیسے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–29
سورة التکویر۔ آیات 1 تا 29۔ اسرار ومعارف۔ جب سورج بےنور ہوجائے گا اور ستارے ٹوٹ کر گرجائیں گے اور جب پہاڑ اکھیڑ کر اڑادیے جائیں گے اور لوگوں کو مال و دولت بھول جائے گا کہ عربوں کے نزدیک دس ماہ کی گابھن اونٹنی سب سے قیمتی اثاثہ سمجھی جاتی ہے ہر وقت دم کے ساتھ لگے پھرتے تھے کہ صحرا میں اس کادودھ نعمت غیر مترقہ ہوتا تھا مگر وہ بھی آوارہ پھر رہی ہوں گی یعنی لوگوں کو مال وزر کا ہوش نہ رہے گا اور نفخہ اولی سے گھبرا کر جنگلی جانور اور درندے آبادیوں میں آگھسیں گے اور دریا سمندر میں مل جائیں گے کہ زمین شق ہوجائے گی اور پھر ان میں اجرام فلکی گریں گے تو بھاپ بن کر اڑجائیں گے اور پھر فضا میں وہ بھاپ آگ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–26
ف 15 یعنی اس قرآن کی اطاعت سے کیوں منہ موڑ رہے ہو ؟
Read the full tafseer →(81:26) فاین تذھبونسببیہ ہے اور جملہ استفہام انکاری پے پس تم کہاں جا رہے ہو۔ مراد یہ ہے کہ :۔ جب وحی کا بھیجنے والا برحق ہے اور وحی لانے والا صادق و امین ہے اور جس پر وحی نازل ہوئی ہے وہ وحی لانے والے کو اچھی طرح جانتا پہچانتا ہے اور وہ نہ شاعر ہے نہ مجنون ہے نہ کاہن ہے تو وہ وحی منزل من اللہ جو ایک سچا اور مستقیم راستہ بتلاتی ہے اور جسے وہ (جس پر یہ وحی نازل ہوئی ہے) بےکم وکاست اس کے ظاہر و باطن مضامین کو واضح طور پر بیان کردیتا ہے تو وحی کے بتائے ہوئے راہ راست کو چھوڑ کر تم اور کس راستہ پر چل پڑے ہو، ایسا نہ کرو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–29
لغات القرآن۔ کورت۔ لپیٹ دے گیا۔ انکدرت۔ ماند پڑگئی۔ (پڑ گئے) سیرت۔ چلا دی گئی۔ العشار۔ گابھن اونٹنیاں۔ عطلت۔ چھٹ کر پھری۔ الوحوش (وحش) ۔ جنگلی جانور۔ حشرت۔ آپس میں گڈ مڈ ہوجائیں۔ سجرت۔ جھونکے گئے۔ زوجت۔ جوڑے جوڑے بنا دئیے گئے۔ الموئو دۃ ۔ زمین میں گاڑدی گئی لڑکی۔ سئلت۔ پوچھا گیا۔ الصحف۔ اعمال نامے۔ نشرت۔ پھیلا دئیے۔ کشطت۔ پرت کے پرت اتا رلئے گئے۔ کھال کھینچ لی گئی۔ سعرت۔ بھڑکائی گئی۔ ازلف۔ قریب کردی گئی۔ احضرت۔ وہ لے کر حاضر ہوا۔ الخنس۔ پیچھے ہٹ جانے والے۔ الکنس۔ چھپ جانے والے۔ عسعس۔ پھیل گیا۔ تنفس۔ روشن ہوا۔ مکین۔ مرتبہ والا۔ مطاع۔ جس کی اطاعت کی جائے۔ کہا مانا جائے۔ الافق۔ کنارہ۔ بضنین۔…
Read the full tafseer →(ف 5) یعنی جب جھوٹ دیوانگی تخیل و تو اہم اور کہانت وغیرہ کے سب احتمالات مرفوع ہوئے تو بجز صدق وحق کے اور کیا باقی رہا، پھر اس روشن اور صاف راستہ کو چھوڑ کر کدھر بہکے چلے جارہے ہو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–28
[13] یعنی وہ فرشتوں کا افسر ہے اور تمام فرشتے بےچون و چرا اس کی اطاعت کرتے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–26
ف 1: ضنین بالضاد کے معنی بخل کے ہیں ۔ غرض یہ ہے کہ حضرت محمد ﷺ کو جو باتیں رشد و ہدایت کے سلسلہ میں اللہ تعالیٰ کی جانب سے معلوم ہوتی ہیں ، وہ ان کو ازراہ بخل نہیں چھپاتے بلکہ بلاکم وکاست بندوں تک پہنچادیتے ہیں ۔ ایک قرات میں ظنین بالظاد بھی آیا ہے ۔ اس کے معنی متہم ہونے کے ہیں ۔ اس صورت میں غرض یہ ہوگی کہ جناب رسالت مآب ﷺ کذب وافتراء سے متہم نہیں ہیں ۔ بلکہ ان کی ساری زندگی صداقت شعاری سے مملورہی ہے جس کو تم بھی جانتے ہو ۔ قراتین کے توافق سے معلوم ہتا ہے کہ ضاد کو ظاء کے قریب قریب پڑھنا چاہیے ۔
Read the full tafseer →(26) تو اب تم لوگ حق کو چھوڑ کر کس طرح جارہے ہو۔ قرآن آپہنچا اور اس کے حق ہونے کے دلائل تم نے سن لئے پھر اب کہاں جارے ہو اور راہ حق کو چھوڑ کر کدھر جاتے ہو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–29
ف 7۔ یعنی فی نفسہ تو نصیحت ہے لیکن اس کی تاثیر مشیت الہی پر موقوف ہے جو بعض لوگوں کے لئے متعلق ہوتی ہے اور بعض کے لئے کسی حکمت سے متعلق نہیں ہوتی۔
Read the full tafseer →پھر اے کافرو ! تم کہاں پھرتے جا رہے ہو ؟ 26 ؎ تمہاری ہٹ دھرمی کے قربانی تم بھی اپنی ضد کے کتنے پکے ہو کہ جو کہہ دیتے ہو بس کیے ہی چلے جاتے ہو اور نہیں سوچتے کہ ہم کیا کہہ رہے ہیں اور کیا ہمارے کہنے سے دو اور دو پانچ ہوجائیں گے کبھی نہیں لیکن تم نے بھی سو گند کھائی ہے کہ کوئی ہم کو منوا کر دیکھے ہم کہتے ہیں کہ دال پتلی ہے اور کہتے رہیں گے دال اگرچہ جل ہی کیوں نہ جائے اور جب ہم نے کہہ دیا ہے کہ کوا سفید ہوتا ہے تو اب ساری دنیا کہے کہ کوا تو سیاہ ہوتا ہے لیکن کبھی ہم بھی مانیں گے تو بات بنے گی ۔ ہمارا کام اس کو سفید کہتے رہتا ہے اور وہ کہہ رہے ہیں اور کہتے رہیں گے ۔ فرمایا جارہا ہے کہ تف تم پر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–29
إِنَّهُ لَقَوْلُ رَسُولٍ كَرِيمٍ ذِي قُوَّةٍ عِندَ ذِي الْعَرْشِ مَكِينٍ (it [ the Qur'an ] is surely the word of a noble messenger [ Jibra'il ], the one possessing power and a high status with the Lord of the Throne...81:19-20). This is the subject of oath that affirms that Qur'an is the word brought by a noble messenger. Then three qualities are attributed to this noble messenger. The first quality is that he possesses power. The second quality is that he has high status and lofty rank with Allah, and he is obeyed in the upper realm. The third quality is that he is trusted, and there is…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–27
21 That is, "You are wrong in thinking that some satan comes and whispers these words into the ear of Muhammad (upon whom be Allah's peace and blessings) . It does not suit Satan that he should divert man from polytheism, idolworship, atheism and sin and turn him to God-worship and Tauhid, make tnan realize that he should live a life of responsibility and accountability to God instead of living an irresponsible, care-free life, should forbid man to adopt practices of ignorance, injustice, immorality and wickedness and lead him to a clean life of justice, piety and high morals." (For further…
Read the full tafseer →