Explained with ayahs 15–29
ستارے، نیل گائے اور ہرن
حضرت عمرو بن حریث ؓ فرماتے ہیں کہ میں نے صبح کی نماز میں رسول اللہ ﷺ کو اس سورة کی تلاوت کرتے ہوئے سنا اس نماز میں میں بھی مقتدیوں میں شامل تھا (مسلم) یہ ستاروں کی قسمیں کھائی گئی ہیں جو دن کے وقت پیچھے ہٹ جاتے ہیں یعنی چھپ جاتے ہیں اور رات کو ظاہر ہوتے ہیں حضرت علی ؓ ہی فرماتے ہیں اور بھی صحابہ تابعین وغیرہ سے اس کی یہی تفسیر مروی ہے بعض ائمہ نے فرمایا ہے طلوع کے وقت ستاروں کو خنس کہا جاتا ہے اور اپنی اپنی جگہ پر انہیں جوار کہا جاتا ہے اور چھپ جانے کے وقت انہیں کنس کہا جاتا ہے بعض نے کہا ہے اس سے مراد جنگلی گائے ہے یہ بھی مروی ہے کہ مراد ہرن ہے۔ ابراہیم نے حضرت مجاہد…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–27
سورة التَّكْوِیْر 21
یعنی تمہارا یہ خیال غلط ہے کہ کوئی شیطان آ کر محمد ﷺ کے کان میں یہ باتیں پھونک دیتا ہے۔ شیطان کا آخر یہ کام کب ہوسکتا ہے کہ وہ انسان کو شرک اور بت پرستی اور دہریت و الحاد سے ہٹا کر خدا پرست اور توحید کی تعلیم دے۔ انسان کو شتر بےمہار بن کر رہنے کے بجائے خدا کے حضور ذمہ داری اور جواب دہی کا احساس دلائے۔ جاہلانہ رسموں اور ظلم اور بد اخلاقی اور بد کرداری سے منع کر کے پاکیزہ زندگی، عدل اور تقویٰ اور اخلاق فاضلہ کی طرف رہنمائی کرے۔ (مزید تشریح کے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن، جلد سوم، الشعراء، آیات 210 تا 212 معی حواشی 130 تا 133، اور آیات 221 تا 223 مع حواشی 140۔ 141)۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–29
اِنَّهٗ لَقَوْلُ رَسُوْلٍ كَرِيْمٍ 19 ۙذِيْ قُوَّةٍ الخ، ستاروں کی قسم کے بعد فرمایا کہ یہ قرآن قول ہے کہ ایک رسول کریم کا، آگے اس رسول کریم کی صفت ایک تو یہ بیان فرمائی کہ وہ ذی قوت ہے، دوسری یہ کہ رب العرش کے پاس وہ مطاع ہے کہ اسکے احکام عرش والے مانتے ہیں، تیسری یہ کہ وہ اللہ کے نزدیک امین ہے اس سے پیغام لانے اور پہنچانے میں کسی خیانت اور کمی نیشن کا امکان نہیں۔ اس جگہ رسول کریم سے مراد بظاہر جبریل امین ہیں کیونکہ لفظ رسول کا جیسے انبیاء پر اطلاق ہوتا ہے ایسے ہی فرشتوں کے لئے بھی یہ لفظ بولا جاتا ہے اور آگے جتنی صفات رسول کی بیان کی گئی ہیں وہ سب جبریل امین پر بغیر کسی تکلف و تاویل کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–28
یہ آخر میں نہایت مؤثر تنبیہ و موعظت ہے۔ مطلب یہ ہے کہ یہ دنیا والوں کے لیے اس وقت کے ظہور سے پہلے یاددہانی ہے جو بہرحال آنے والا ہے اور جس سے کسی کے لیے مفر نہیں ہے۔ اگر تم اس کو قبول کرو گے تو اپنا ہی بھلا کرو گے، کسی دوسرے پر احسان نہیں کرو گے اور یہ بھی یاد رکھو کہ اس کو قبول کرنا یا رد کرنا تمہاری اپنی ہی ذمہ داری ہے خدا یا اس کے رسول کی یہ ذمہ داری نہیں ہے کہ وہ اس کو تمہارے دلوں میں اتار دیں تو جس کو اپنی راہ سیدھی کرنی ہو وہ سیدھی کر لے ورنہ اپنی کج روی کے اس انجام سے دوچار ہونے کے لیے تیار رہے جس سے آگاہ کر دیا گیا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–28
26۔ 1 یعنی کیوں اس سے روگردانی کرتے ہو ؟ اور اس کی اطاعت نہیں کرتے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–29
12: یعنی حضور اقدس ﷺ کو وحی کے ذریعے غیب کی جو باتیں معلوم ہوتی ہیں، وہ انہیں لوگوں سے چھپاتے نہیں ہیں، بلکہ سب کے سامنے ظاہر فرما دیتے ہیں، جاہلیت کے زمانے میں جو لوگ کاہن کہلاتے تھے، وہ بھی غیب کی باتیں بتانے کا دعوی کرتے تھے، اور شیطانوں سے دوستی کرکے ان سے کچھ جھوٹی سچی باتیں سن لیا کرتے تھے، لیکن جب لوگ ان سے پوچھتے تو وہ انہیں فیس لئے بغیر کچھ بتانے سے انکار کرتے تھے، اللہ تعالیٰ کافروں سے فرما رہے ہیں کہ تم آنخضرت ﷺ کو کاہن کہتے ہو، حالانکہ کاہن تو تمہیں جھوٹی باتیں بتانے میں بھی بڑے بخل سے کام لیتے ہیں، اور پیسے لئے بغیر کچھ نہیں بتاتے، لیکن آنحضرت ﷺ کو غیب کی جو سچی باتیں معلوم ہوتی…
Read the full tafseer →ان ھو ................ للعلمین (27:81) ” یہ تو سارے جہاں والوں کے لئے ایک نصیحت ہے “۔ یہ ایک یاد دہانی ہے اور ان کو بتاتی ہے کہ تمہارے وجود کی حقیقت کیا ہے ؟ تمہاری پیدائش کا مقصد کیا ہے ؟ تمہارے ارد گرد پھیلی ہوئی کائنات کا مقصد کیا ہے ؟ یہ دعوت تو ایک عالمی دعوت ہے۔ اگرچہ یہ دعوت اس وقت دشمنوں کے نرغے میں ہے لیکن یہ دراصل ایک عالمی تحریک ہے۔ یہ آیت اس بات پر شہادت ہے کہ دعوت اسلامی اپنے آغاز ہی سے ایک عالمی دعوت تھی۔
اس کے بعد ان کو بتایا جاتا ہے کہ ہدایت اور نصیحت ان لوگوں کو نصیب ہوتی ہے جو اس کی طرف آگے بڑھنے کا ارادہ کرتے ہیں۔ چونکہ اللہ نے تمہیں یہ سہولیات فراہم کردی ہیں ، اب ضرورت اس…
Read the full tafseer →10 قرآن کی نسبت جو احتمالات تم پیدا کرتے ہو، سب غلط ہیں۔ اگر اس کے مضامین و ہدایات میں غور کرو تو اس کے سوا کچھ نہ نکلے گا کہ یہ سارے جہان کے لئے ایک سچا نصیحت نامہ اور مکمل دستور العمل ہے جس سے ان کی دارین کی فلاح وابستہ ہے۔
Read the full tafseer →آیت 27{ اِنْ ہُوَ اِلَّا ذِکْرٌ لِّلْعٰلَمِیْنَ۔ } ”نہیں ہے یہ مگر تمام جہان والوں کے لیے ایک یاد دہانی۔“
قرآن مجید اس مفہوم میں ذکر یعنی یاد دہانی ہے کہ یہ انسان کی فطرت میں پہلے سے موجود حقائق کی یاد تازہ کرتا ہے۔ دراصل انسان فطری طور پر اللہ تعالیٰ کی ذات اور توحید کے تصور سے آشنا ہے ‘ مگر دنیا میں رہتے ہوئے اگر انسان کی فطرت پر غفلت کے پردے پڑجائیں تو وہ اللہ تعالیٰ کو بھول جاتا ہے۔ سورة الحشر کی آیت 19 میں اس حوالے سے ہم اللہ تعالیٰ کا یہ حکم پڑھ چکے ہیں : { وَلَا تَـکُوْنُوْا کَالَّذِیْنَ نَسُوا اللّٰہَ فَاَنْسٰٹھُمْ اَنْفُسَھُمْط } کہ اے اہل ایمان ! تم ان لوگوں کی طرح نہ ہوجانا جو اللہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–27
21 یعنی یہ قرآن لانے والا جبریل امین اور لوگوں تک پہچانے والا رسول امین۔ ان دو امین ہستیوں کی وجہ سے اس قرآن سے جھوٹ، باطل کی آمیزش، رشک و شبہ، توہم اور دیوانگی کے سب امکانات ختم ہوئے۔ نیز کاہن یا شیطان کا کلام بھی نہیں ہوسکتا۔ تو ان باتوں کے بعد سوائے سچائی اور حق کے باقی کیا رہ جاتا ہے ؟ پھر اس صاف اور روشن راستے کو چھوڑ کر اور کدھر بہکے جارہے ہو ؟
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–28
12۔ مطلب یہ کہ اس ہمہ گیر وہر جہتی دستور العمل کے مخاطب تو سب ہی ہیں۔ البتہ فائدہ اس سے وہی اٹھا سکتے ہیں۔ جو خود فائدہ اٹھانا چاہیں بھی، حصول نفع کے لیے قصد انتفاع لازمی ہے۔ (آیت) ” ذکر للعلمین “۔ میں پھر ایک بار اس حقیقت کا اعلان ہے کہ اسلام کا پیام عالمگیر ہے یہ کسی قبیلہ کا، قوم کا، یا نسل کا مخصوص و محدود دین نہیں۔ (آیت) ” لمن ..... یستقیم “۔ پورا فقرہ بدل ہے للعلمین کا۔ وھو بدل من العلمین (کبیر)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–29
واذا لموئو ودۃ سئلت، اس آیت کے انداز بیان میں ایسی شدید غضب ناکی پائی جاتی ہے، جس سیز یادہ غضب ناکی کا تصور نہیں کیا جاسکتا، بیٹی کو زندہ درگور کرنے والے والدین اللہ کی نظر میں ایسے قابل نفرت ہوں گے کہ ان کو مخاطب کر کے ان سے یہ نہ پوچھا جائے گا کہ تم نے اس معصوم کو کیوں قتل کیا ؟ بلکہ اس سے نگاہ پھیر کر معصوم بچی سے پوچھا جائے گا کہ تو بےچاری آخر کس قصور میں مار دی گئی ؟ اور وہ اپنی داستان مظلومیت سنائے گی، اس آیت کے مضمون سے ایک اہم بات خود بخود یہ سمجھ میں آتی ہے کہ اس میں آخرت کے ضروری ہونے کی ایک صریح دلیل پیش کی گئی ہے، جس لڑکی کو زندہ دفن کردیا گیا، آخر اس کی کہیں تو داد رسی ہونی…
Read the full tafseer →ان ھو الا ذکر للعالمین . قرآن تو بس سارے جہان کے لیے یادداشت ہے۔ قاموس میں ہے کہ :
ذکرٌ تذکارٌ کی طرح (مصدر) ہے۔ کسی چیز کو یاد رکھنا (نیز) وہ چیز جو زبان پر رواں ہو۔ شہرت ‘ زبان سے تعریف ‘ نماز ‘ شرف ‘ دعا۔ وہ کتاب جس کے اندر دین اور وضع شریعت کی تفصیل ہو۔ اس جگہ آخر الذکر معنی مراد لینا ظاہر ہے مگر دوسرے معانی پر بھی حمل کیا جاسکتا ہے کیونکہ قرآن ذکر خدا ہے۔ ایسی چیز بھی ہے جس کو یاد رکھنا ضروری ہے۔ ہر وقت یا اکثر اوقات زبان پر جاری رکھنے کی چیز بھی ہے۔ اللہ کی ثناء بھی ہے۔ عبادت خدا بھی ہے ‘ انسان کے لیے شرف بھی ہے۔ انسانی دعاء بھی ہے۔
عالمین سے عموماً تمام جنات اور انسان مراد ہیں کیونکہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–27
(26۔ 27) تو اے گروہ کفار عذاب خداوندی اور اس کے اوامرو نواہی سے کدھر کو جارہے ہو، یا یہ کہ کہاں کی تکذیب کر رہے ہو، یا یہ مطلب ہے کہ قرآن کریم سے کدھر کو اعراض کیے جارہے ہو کہ اس پر ایمان نہیں لاتے۔ یہ قرآن کریم تو جنوں اور انسانوں کے لیے اللہ کی طرف سے ایک بڑا نصیحت نامہ ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–28
(وما ھو علی الغیب بضنین :”ضنین“ بخیل، یعنی اللہ تعالیٰ انہیں غیب کی جو بات بتاتے ہیں وہ اسے اپنے پاس ہی نہیں رکھ لیتے بلکہ امت تک پہنچا دیتے ہیں۔ عائشہ ؓ فرماتی ہیں :(من حد نک ان محمداً ﷺ کم شیئاً مما انزل علیہ، فقد کذب ، واللہ یقول :(یایھا الرسول بلغ ما انزل الیک من ربک) (بخاری، التفسیر، باب :(یا ایھا الرسول بلغ…): 3612)”جو شخص تمہیں بتائے کہ محمد ﷺ نے آپ پر نازل ہونے والی کوئی بات چھپائی ہے، تو اس نے یقیناً جھوٹ بولا، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا :(یایھا الرسول بلغ ما انزل الیک من ربک) (المائدہ : 68)”اے رسول ! پہنچا دے جو کچھ تیری طرف تیرے رب کی جانب سے نازل کیا گیا ہے۔“
بعض لوگوں نے اس آیت…
Read the full tafseer →ان ھوالاذکرللعالمین۔ یعنی قرآن عالمین کے لیے نصیحت اور تنبیہ ہے، ان، ما، کے معنی میں ہے ایک قول یہ کیا گیا ہے محمد ﷺ سراپا نصیحت ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–27
77۔ عبدالرزاق وابن مردویہ نے ابن الزبیر ؓ سے روایت کیا کہ نبی ﷺ اس کو یوں پڑھتے تھے آیت وما ہو علی الغیب بضنین اور دوسرے لفظ میں ہے بضنین ضاد کے ساتھ۔
78۔ عبد بن حمید نے ہشام بن عروہ (رح) سے روایت کیا کہ ابی ؓ اس کو یوں پڑھتے تھے آیت وما ہو علی الغیب بضنین ان سے اس بارے میں پوچھا گیا تو فرمایا کہ عائشہ ؓ نے فرمایا کہ مصاحف میں لکھنے والے لوگ خطا کرجاتے ہیں
79 سعید بن منصور وعبد بن حمید وابن المنذر وابن مردویہ نے کئی طرق سے عبداللہ بن زبیر ؓ سے روایت کیا کہ وہ اس کو یوں پڑھتے تھے آیت بضنین۔
80۔ سعید بن منصورر وعبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم وابن مردویہ نے طرق سے ابن عباس ؓ سے…
Read the full tafseer →[ان هُوَ اِلَّا ذِكْرٌ: نہیں ہے یہ (قرآن) مگر ایک یاددہانی ][ لِلْعٰلَمِيْنَ : تمام جہانوں کے لیے ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–29
﴿وَ مَا هُوَ بِقَوْلِ شَيْطٰنٍ رَّجِيْمٍۙ0025﴾ (اور یہ قرآن کسی شیطان مردود کی کہی ہوئی بات نہیں ہے) ۔ ﴿ فَاَيْنَ تَذْهَبُوْنَؕ0026﴾ پس جبکہ وحی لانے والا فرشتہ مذکورہ بالا صفات سے متصف ہے اور جن پر وحی آتی ہے وہ دیوانے بھی نہیں ہے اور نہ کاہن ہیں اور نہ اجرت طلب کرتے ہیں اور یہ قرآن کسی شیطان مردود کا کلام بھی نہیں ہے تو تم اس کو چھوڑ کر کہاں جا رہے ہو۔ ﴿اِنْ هُوَ اِلَّا ذِكْرٌ لِّلْعٰلَمِيْنَۙ0027 لِمَنْ شَآءَ مِنْكُمْ اَنْ يَّسْتَقِيْمَؕ0028﴾ بس یہ قرآن دنیا جہاں والوں کے لیے ایک بڑی نصیحت ہے جو تم میں سیدھی راہ پر چلنا چاہے۔ ﴿ وَ مَا تَشَآءُوْنَ اِلَّاۤ اَنْ يَّشَآء اللّٰهُ رَبُّ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–29
ہولناک مناظر روز قیامت و پیشی اعمال و فیصلہ جزاء وسزا :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” اذا الشمس کورت ....... الی ...... الا ان یشآء اللہ رب العلمین “۔
(ربط) سورة عبس کا مضمون دراصل اثبات قیامت کے موضوع ہی پر مشتمل تھا اور مقصد بیان یہ تھا کہ انسان کی سعادت و فلاح اور عزت و عظمت اپنی زندگی اپنے پروردگار کے ساتھ وابستہ رکھنے اور فکر آخرت میں ہے، اس کے برعکس وہ مغرور ومتکبر جو نہ خدا پر ایمان لاتا ہے اور نہ ہی اس کو آخرت کی فکر ہے وہ خدا کی نظروں میں ذلیل و حقیر ہے، طالب حق اور سعادت کی فکر میں لگے رہنے والا انسان ہی بارگاہ رسالت میں ہر عزت واکرام کا مستحق ہے، آخر میں قیامت کے روز کی پریشانی اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–28
7:۔ ” وما ھو “ ” ضنین “ کے معنی بخیل کے ہیں یعنی اللہ کی طرف سے جو علوم و معارف آپ پر نازل ہوتے ہیں، ان کی تعلیم و تبلیغ میں آپ بخل نہیں کرتے۔ یہ قرآن وحی الٰہی ہے۔ شیطانی کلام یا شیطانی القاء نہیں ہے۔ ” فاین تذھبون “ تم کدھر جارہے ہو اور کس قدر بےعقلی کی باتیں کرتے ہو، ایسی عظیم الشان کتاب میں غور و فکر کر کے اس سے ہدایت حاصل نہیں کرتے ہو۔ حالانکہ یہ کتاب تمام جہانوں کے لیے ہدایت اور نصیحت ہے۔ تم میں سے ہر اس شخص کے لیے نصیحت ہے جو سیدھی راہ پر اور دین اسلام پر چلنا اور اس پر قائم رہنا چاہے۔ قرآن بیشک تمام بنی آدم کے لیے ہدایت نامہ ہے مگر اس سے فائدہ صرف وہی اٹھائیں گے جو ضد و تعصب سے بالا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–29
(جبرائیل (علیہ السلام) اپنی اصلی صورت میں)
جیسے کہ پہلے بیان ہوا جبرائیل (علیہ السلام) کا تعلق قرآن پاک کے واسطہ سے نظام بالا کے ساتھ ہے۔ چناچہ ارشاد ربانی ہے۔ ولقد راہ بالا فق المبین یعنی نبی (علیہ السلام) نے جبرائیل (علیہ السلام) کو کھلے کنارے پر دیکھا ہے۔ حدیث (ب 1 بخاری ص 3 ج 1 ومسلم ص 10 ج 1) شریف میں آتا ہے کہ ابتدائے نبوت کے زمانہ میں حضور ﷺ نے حضرت جبرائیل (علیہ السلام) کو اپنی اصل شکل میں دیکھا تھا جبرائیل (علیہ السلام) کرسی پر بیٹھے تھے اور آسمانی فضا بھی بھری ہوئی آپ نے مشاہدہ کیا تو دہشت طاری ہوگئی تشریف لائے اور فرمایا مجھ پر کمبل ڈال دو پھر آپ نے سارا واقعہ بیان کیا۔ اس کے بعد…
Read the full tafseer →اِنْ ہُوَاِلَّا ذِكْرٌ لِّلْعٰلَمِيْنَ 27 ۙ
ذكر
الذِّكْرُ : تارة يقال ويراد به هيئة للنّفس بها يمكن للإنسان أن يحفظ ما يقتنيه من المعرفة، وهو کالحفظ إلّا أنّ الحفظ يقال اعتبارا بإحرازه، والذِّكْرُ يقال اعتبارا باستحضاره، وتارة يقال لحضور الشیء القلب أو القول، ولذلک قيل :
الذّكر ذکران :
ذكر بالقلب .
وذکر باللّسان .
وكلّ واحد منهما ضربان :
ذكر عن نسیان .
وذکر لا عن نسیان بل عن إدامة الحفظ . وكلّ قول يقال له ذكر، فمن الذّكر باللّسان قوله تعالی: لَقَدْ أَنْزَلْنا إِلَيْكُمْ كِتاباً فِيهِ ذِكْرُكُمْ [ الأنبیاء/ 10] ، وقوله تعالی: وَهذا ذِكْرٌ مُبارَكٌ أَنْزَلْناهُ [ الأنبیاء/ 50] ، وقوله :
هذا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–29
ترکیب ¦ فلما الفاء للتفریع اوالتعقیب ولا زائدۃ کما مر تحقیقھا فی سورة القیامۃ بالخنس المقسم بہ وھی جمع خانس و خانستہ من خنس اذا تاخروفی الصحاح الخنس الکواکب کلھا انھا تخنس فی المغیب اولانھا تخفی نھاراً وقیلھی الکواکب الخمس زحل والمشتری والمریخ والزھرۃ و عطارد و فی الکبیر الخنس 1 ؎ جمع خانس والخنوس الانقباض والاستخفاء تقول خنس من بین القوم وتخنس و فی الحدیث الشیطان یوسوس ای العبد فاذا ذکر اللہ خنس ولذاسمی الخناس۔ الجوار جمع جاریۃ وھی السیارات لانھا تجری۔ وھی صفۃ الخنس۔ الکنس جمع کانس وکانستہ یقال کنس اذا دخل الکناس وھو مقرالوحش کنس کناس بالکسر خواب جائے آہو و پنہان شدن اودر آنجا (عع1 ک 2) کنس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–28
اِنْ ھُوَ اِلاَّ ذِکْرٌلِّلْعٰلَمِیْنَ ۔ لِمَنْ شَآئَ مِنْـکُمْ اَنْ یَّسْتَقِیْمَ ۔ (التکویر : 27، 28)
(یہ تو سارے جہاں والوں کے لیے ایک نصیحت ہے۔ تم میں سے ہر اس شخص کے لیے جو سیدھی راہ اختیار کرنا چاہے۔ )
آخر میں بحث کو سمیٹتے ہوئے نہایت موثر انداز میں آخری بات فرمائی گئی ہے۔ وہ یہ کہ قرآن کریم سب جہان والوں کے لیے نصیحت بن کر آیا ہے۔ اس میں عرب و عجم اور گورے اور کالے سب برابر ہیں۔ لیکن اس سے فائدہ اٹھانے کے لیے ضروری ہے کہ آدمی اپنے اندر اس کا احساس، اس کی چاہت اور اس کی امنگ پیدا کرے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کے ذریعے اپنی کتاب اتار کر ہمارے لیے راستہ کھول دیا ہے۔ لیکن اس کے لیے دل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–29
فہم القرآن
ربط کلام : قرآن مجید کی دعوت کا تیسرا مضمون قیامت ہے جو ہر صورت قائم ہو کر رہے گی۔ اہل مکہ نہ صرف قیامت کا انکار کرتے تھے بلکہ اس وجہ سے قرآن مجید کو ماننے کے لیے تیار نہیں تھے کہ یہ ” اللہ “ کی کتاب ہے۔ اس لیے یہاں ایک مرتبہ پھر وضاحت کی جا رہی ہے کہ قرآن مجید اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل کیا گیا ہے۔
یہ بات کئی مرتبہ عرض ہوچکی ہے کہ قرآن مجید کے بنیادی مضامین تین ہیں۔ توحید، رسالت اور آخرت۔ باقی مسائل انہیں کی تفصیل اور تقاضے ہیں۔ قرآن مجید ان عقائد پر بار بار زور دیتا ہے کیونکہ مکہ کے لوگ کسی نہ کسی انداز میں ان تینوں باتوں کا انکار کرتے تھے جس بنا پر ان کی کوشش تھی کہ لوگوں کی…
Read the full tafseer →27 : اِنْ ھُوَ اِلَّا ذِکْرٌ لِلّعٰلَمِیْنَ (بس یہ تو دنیا جہان والوں کیلئے ایک بڑا نصیحت نامہ ہے) قرآن تو مخلوق کیلئے ایک نصیحت ہے۔
Read the full tafseer →26 ۔” فاین تذھبون “ یعنی تم کہاں اس قرآن سے اعراض کررہے ہو اور اس میں شفاء اور بیان ہے اور زجاج (رح) فرماتے ہیں کون سا راستہ تم چلتے ہو جو اس طریقہ سے زیادہ واضح ہو جو میں نے تمہارے لئے بیان کیا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–29
15۔ 29۔ خنس کے معنی پچھے ہٹ جانے اور کنس کے معنی نکلنے کے ہیں مطلب یہ ہے کہ تارے جو دن کو سورج کی روشنی میں چھپ جاتے ہیں اور رات کو نکل آتے ہیں ان کی اور اول شب کی تاریکی اور طلوع صبح کی تاکید کے طور پر قسم کھا کر اللہ تعالیٰ نے قرآن کو کلام اللہ اور محمد ﷺ کو اللہ کا رسول فرمایا ہے اگرچہ بعض مفسروں نے لکھا ہے کہ انہ لقول رسول کریم میں رسول سے مراد آنحضرت ﷺ کی ذات ہے لیکن صحیح قول وہی ہے جو امام المفسرین 2 ؎ حضرت عبد اللہ بن عباس اور سلف نے فرمایا ہے کہ رسول سے مراد اس آیت میں حضرت جبرئیل (علیہ السلام) ہیں کیونکہ مشرکین مکہ کبھی کہتے تھے انما یعلمہ بشر۔ کبھی کہتے تھے افتری علی اللہ کذبا ام بہ…
Read the full tafseer →(اِنْ هُوَ اِلَّا ذِكْرٌ لِّلْعٰلَمِيْنَ ) یہ تو جہان والوں کے لیے نصیحت ہے۔ یعنی جس کے ذریعے سے وہ اپنے رب، اس کی صفات کمال اور ان صفات کو یاد رکھتے ہیں جن کے ذریعے سے تمام نقائص، رذائل اور امثال سے اس کی تنزیہہ ثابت ہوتی ہے، اور اس کے ذریعے سے وہ اوامر ونواہی اور ان کے حکم کو یاد رکھتے ہیں اور اس کے ذریعے سے احکام قدریہ، احکام شرعیہ اور احکام جزائیہ کو یاد رکھتے ہیں وہ بالجملہ دنیا وآخرت کے مصالح کو یاد رکھتے ہیں اور عمل کے ذریعے سے دنیا اور آخرت کی سعادت کو پالیتے ہیں۔
Read the full tafseer →(22) قرآن حکیم ایک عظیم الشان نصیحت و یاد دہانی : چناچہ ارشاد فرمایا گیا اور حصر وقصر کے انداز و اسلوب میں ارشاد فرمایا گیا کہ " یہ تو ایک عظیم الشان نصیحت اور یاد دہانی ہے سب جہاں کے لیے اور یہ ایسی خالص، کامل، جامع اور عظیم الشان نصیحت و یاد دہانی جس میں کسی شک و شبہ یا نقص و عیب کی کوئی گنجائش نہیں، جو دنیا وآخرت کی سعادت و سرخروئی کی کفیل اور ضامن ہے، اور جس کی کوئی نظیر و مثال نہ اس سے پہلے کبھی پائی گئی اور نہ آئندہ کبھی ممکن ہوسکتی ہے، سو ایسی عظیم الشان و بےمثل نعمت و نصیحت سے منہ موڑنے والوں سے بڑھ کر بدبخت و محروم اور کون ہوسکتا ہے ؟ والعیاذ باللہ العظیم۔ پس یہ عظیم الشان تزکیر و…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–29
قرآن جس میں کوئی شک نہیں۔ تقدیر کیا ہے ؟
تشریح : یہاں 15 اور 16 آیات میں آسمانی فزکس Astrophysics کے بنیادی اصول بیان کئے گئے ہیں۔ '' خنس '' یعنی چھپنے والے تارے۔ اور '' کنس ''۔ یعنی ایک مخصوص راستہ کا محور کسی چلتی ہوئی چیز میں دبک جانے والا۔ ڈاکٹر ہلوک نور باقی صاحب اس کی وضاحت بڑے خوبصورت انداز میں کرتے ہیں لکھتے ہیں۔ '' اللہ قسم کھاتا ہے ان تمام طبیعاتی قوانین کی جو ساری کائنات کی وسعتوں میں کار فرما ہیں۔ جس کی طرف اشارہ ان دو آیات مبارکہ میں کیا گیا ہے۔ ہر مخلوق ایک خنس اور ایک کنس کی حالت میں ہے۔ ایک خوش اسلوب اور ہم آہنگ روانی یا بہنا ہے جب کہ دوسرا ہٹتے ہوئے پردہ کرنے کی طرح ہے جیسے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–29
سورة التکویر۔
آیات 1 تا 29۔
اسرار ومعارف۔
جب سورج بےنور ہوجائے گا اور ستارے ٹوٹ کر گرجائیں گے اور جب پہاڑ اکھیڑ کر اڑادیے جائیں گے اور لوگوں کو مال و دولت بھول جائے گا کہ عربوں کے نزدیک دس ماہ کی گابھن اونٹنی سب سے قیمتی اثاثہ سمجھی جاتی ہے ہر وقت دم کے ساتھ لگے پھرتے تھے کہ صحرا میں اس کادودھ نعمت غیر مترقہ ہوتا تھا مگر وہ بھی آوارہ پھر رہی ہوں گی یعنی لوگوں کو مال وزر کا ہوش نہ رہے گا اور نفخہ اولی سے گھبرا کر جنگلی جانور اور درندے آبادیوں میں آگھسیں گے اور دریا سمندر میں مل جائیں گے کہ زمین شق ہوجائے گی اور پھر ان میں اجرام فلکی گریں گے تو بھاپ بن کر اڑجائیں گے اور پھر فضا میں وہ بھاپ آگ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–29
ف 16 یعنی تمہارا نیکی کا ارادہ کرنا بھی اسی کی مشیت اور توفیق پر موقوف ہے۔ دیکھئے سورة یون :100، انعام :112، قصص :56، سورة انسان : 30)
Read the full tafseer →(81:27) ان ھو الا ذکر للعلیم : ان نافیہ بمعنی ما ھو ای القران الا حرف استثناء ذکر مستثنیٰ مفرغ (جس کا مستثنیٰ منہ مذکور نہ ہو) کلام غیر موجب (جس میں نفی نہی۔ یا کہ استفہام موجود ہو) لہٰذا ذکر مرفوع آیا ہے :۔ للعلمین میں لام تملیک کا ہے یا تخصیص کا (سارے جہاں کے لئے) ۔
عالمین عالم کی جمع ہے۔ اللہ تعالیٰ کے علاوہ تمام مخلوق کو خواہ وہ زمین پر ہو یا آسمانوں میں ہو یا ان کے درمیان ہمارے علم میں ہو یا باہر۔ اس کو عالم کہتے ہیں۔ (تفصیل کے لئے ملاحظہ ہو لغات القرآن جلد پنجم زیر لفظ عالمین) ۔
ترجمہ ہوگا :۔ نہیں ہے یہ (قرآن) مگر نصیحت، بیان، یاداشت۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–29
لغات القرآن۔
کورت۔ لپیٹ دے گیا۔ انکدرت۔ ماند پڑگئی۔ (پڑ گئے) سیرت۔ چلا دی گئی۔ العشار۔ گابھن اونٹنیاں۔ عطلت۔ چھٹ کر پھری۔ الوحوش (وحش) ۔ جنگلی جانور۔ حشرت۔ آپس میں گڈ مڈ ہوجائیں۔ سجرت۔ جھونکے گئے۔ زوجت۔ جوڑے جوڑے بنا دئیے گئے۔ الموئو دۃ ۔ زمین میں گاڑدی گئی لڑکی۔ سئلت۔ پوچھا گیا۔ الصحف۔ اعمال نامے۔ نشرت۔ پھیلا دئیے۔ کشطت۔ پرت کے پرت اتا رلئے گئے۔ کھال کھینچ لی گئی۔ سعرت۔ بھڑکائی گئی۔ ازلف۔ قریب کردی گئی۔ احضرت۔ وہ لے کر حاضر ہوا۔ الخنس۔ پیچھے ہٹ جانے والے۔ الکنس۔ چھپ جانے والے۔ عسعس۔ پھیل گیا۔ تنفس۔ روشن ہوا۔ مکین۔ مرتبہ والا۔ مطاع۔ جس کی اطاعت کی جائے۔ کہا مانا جائے۔ الافق۔ کنارہ۔ بضنین۔…
Read the full tafseer →(ف 1) قرآن شریف کی نسبت جو احتمالات تم پیدا کرتے ہو سب غلط ہیں اگر اسکے مضامین ہدیات میں غور کرو تو اس سکے سوا کچھ نہیں نکلے گا کہ یہ سارے جہان کے لیے ایک سچا نصیحت نامہ اور مکمل دستورالعمل ہے جس سے ان کے دراین کی فلاح وابستہ ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–28
[13] یعنی وہ فرشتوں کا افسر ہے اور تمام فرشتے بےچون و چرا اس کی اطاعت کرتے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–29
ف 2: اس آیت میں اس حقیقت کی طرف اشارہ ہے کہ یہ قرآن حکیم تمام کائنات کے لئے رشدوہدایت کا ذریعہ ہے ۔ آج تم لوگ ازراہ جہل وتعصب اس کے حقائق کو تسلیم نہیں کرتے ہو ۔ مگر ایک وقت آنے والا ہے کہ اس کی روشنی سارے عالم میں پھیلے گی اور اس کی تعلیم کو دنیا کے ہر حصہ میں قبولیت اور پذیرائی کی نظر سے دیکھا جائے گا ۔
حل لغات :۔ واذا البحار فجرت ۔ یعنی جب اس بساط ارضی کو الٹ دیا جائے گا ۔ اس وقت سمندر چھلک جائیں گے اور ادھر ادھر بہنے لگیں گے ۔
Read the full tafseer →(27) بس یہ قرآن توجہان والوں کے یعنی اقوام عالم کے لئے سراسر ایک نصیحت کی چیز ہے - یعنی قرآن کے متعلق تم جتنے احتمالات بیان کرتے ہو ان سب کے غلط ہونے کے بعد سمجھ لو کہ یہ قرآن اقوامعالم کے لئے ایک نصیحت اور ایک بہت بڑا دستور العمل ہے جو دین ودنیا میں تمہاری اصلاح اور نجات کا موجب ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–29
ف 7۔ یعنی فی نفسہ تو نصیحت ہے لیکن اس کی تاثیر مشیت الہی پر موقوف ہے جو بعض لوگوں کے لئے متعلق ہوتی ہے اور بعض کے لئے کسی حکمت سے متعلق نہیں ہوتی۔
Read the full tafseer →یہ قرآن کریم تو بس دنیا جہان والوں کے لیے بڑی نصیحت ہے
27 ؎ اب بتایا جا رہا ہے کہ یہ جو نبی اعظم و آخر ﷺ پر نازل ہوا ہے یہ کیا ہے ؟ فرمایا یہ ایک یاددہانی ہے جو قبل از وقت لوگوں کو کرائی جا رہی ہے تاکہ وہ کرتوتوں سے باز آئیں اور اپنے پائوں پر خود کلہاڑی چلانے سے بچ جائیں ۔ شیخ چلی کی طرح جس ٹہنے پر بیٹھے ہیں اسی کو نہ کاٹنا شروع کردیں۔ پھر اس کا نازل کرنے والا اللہ رب العزت ہے اور جس پر نازل کیا گیا ہے وہ محمد رسول اللہ ﷺ کی ذات گرامی ہے جو رحمۃ اللعالمین سے متصف ہے اور اس ذکر کا کیا کہنا کہ یہ بھی ذکرللعالمین ہی ہے۔ (68 : 52) کہ زمان و مکان کی حد بندیوں سے آزاد ہے اور قیامت تک کے تمام بنی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–29
إِنَّهُ لَقَوْلُ رَسُولٍ كَرِيمٍ ذِي قُوَّةٍ عِندَ ذِي الْعَرْشِ مَكِينٍ (it [ the Qur'an ] is surely the word of a noble messenger [ Jibra'il ], the one possessing power and a high status with the Lord of the Throne...81:19-20). This is the subject of oath that affirms that Qur'an is the word brought by a noble messenger. Then three qualities are attributed to this noble messenger. The first quality is that he possesses power. The second quality is that he has high status and lofty rank with Allah, and he is obeyed in the upper realm. The third quality is that he is trusted, and there is…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–27
21 That is, "You are wrong in thinking that some satan comes and whispers these words into the ear of Muhammad (upon whom be Allah's peace and blessings) . It does not suit Satan that he should divert man from polytheism, idolworship, atheism and sin and turn him to God-worship and Tauhid, make tnan realize that he should live a life of responsibility and accountability to God instead of living an irresponsible, care-free life, should forbid man to adopt practices of ignorance, injustice, immorality and wickedness and lead him to a clean life of justice, piety and high morals." (For further…
Read the full tafseer →