Explained with ayahs 15–29
ستارے، نیل گائے اور ہرن
حضرت عمرو بن حریث ؓ فرماتے ہیں کہ میں نے صبح کی نماز میں رسول اللہ ﷺ کو اس سورة کی تلاوت کرتے ہوئے سنا اس نماز میں میں بھی مقتدیوں میں شامل تھا (مسلم) یہ ستاروں کی قسمیں کھائی گئی ہیں جو دن کے وقت پیچھے ہٹ جاتے ہیں یعنی چھپ جاتے ہیں اور رات کو ظاہر ہوتے ہیں حضرت علی ؓ ہی فرماتے ہیں اور بھی صحابہ تابعین وغیرہ سے اس کی یہی تفسیر مروی ہے بعض ائمہ نے فرمایا ہے طلوع کے وقت ستاروں کو خنس کہا جاتا ہے اور اپنی اپنی جگہ پر انہیں جوار کہا جاتا ہے اور چھپ جانے کے وقت انہیں کنس کہا جاتا ہے بعض نے کہا ہے اس سے مراد جنگلی گائے ہے یہ بھی مروی ہے کہ مراد ہرن ہے۔ ابراہیم نے حضرت مجاہد…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–27
سورة التَّكْوِیْر 21
یعنی تمہارا یہ خیال غلط ہے کہ کوئی شیطان آ کر محمد ﷺ کے کان میں یہ باتیں پھونک دیتا ہے۔ شیطان کا آخر یہ کام کب ہوسکتا ہے کہ وہ انسان کو شرک اور بت پرستی اور دہریت و الحاد سے ہٹا کر خدا پرست اور توحید کی تعلیم دے۔ انسان کو شتر بےمہار بن کر رہنے کے بجائے خدا کے حضور ذمہ داری اور جواب دہی کا احساس دلائے۔ جاہلانہ رسموں اور ظلم اور بد اخلاقی اور بد کرداری سے منع کر کے پاکیزہ زندگی، عدل اور تقویٰ اور اخلاق فاضلہ کی طرف رہنمائی کرے۔ (مزید تشریح کے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن، جلد سوم، الشعراء، آیات 210 تا 212 معی حواشی 130 تا 133، اور آیات 221 تا 223 مع حواشی 140۔ 141)۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–29
اِنَّهٗ لَقَوْلُ رَسُوْلٍ كَرِيْمٍ 19 ۙذِيْ قُوَّةٍ الخ، ستاروں کی قسم کے بعد فرمایا کہ یہ قرآن قول ہے کہ ایک رسول کریم کا، آگے اس رسول کریم کی صفت ایک تو یہ بیان فرمائی کہ وہ ذی قوت ہے، دوسری یہ کہ رب العرش کے پاس وہ مطاع ہے کہ اسکے احکام عرش والے مانتے ہیں، تیسری یہ کہ وہ اللہ کے نزدیک امین ہے اس سے پیغام لانے اور پہنچانے میں کسی خیانت اور کمی نیشن کا امکان نہیں۔ اس جگہ رسول کریم سے مراد بظاہر جبریل امین ہیں کیونکہ لفظ رسول کا جیسے انبیاء پر اطلاق ہوتا ہے ایسے ہی فرشتوں کے لئے بھی یہ لفظ بولا جاتا ہے اور آگے جتنی صفات رسول کی بیان کی گئی ہیں وہ سب جبریل امین پر بغیر کسی تکلف و تاویل کے…
Read the full tafseer →اوپر جو بات ’إِنَّہُ لَقَوْلُ رَسُوْلٍ کَرِیْمٍ‘ کے الفاظ میں فرمائی ہے وہی بات یہ منفی پہلو سے مؤکد کر دی ہے کہ یہ کسی شیطان رجیم کا القاء نہیں ہے جو تمہارے کاہنوں پر ہوتا ہے۔
’رَجِیْم‘ مقابل ہے ’کَرِیْم‘ کے۔ مطلب یہ ہے کہ محمد ﷺ پر جو فرشتہ وحی لے کر آتا ہے وہ تو اللہ کا ایک عالی مقام فرشتہ ہے اور تمہارے کاہنوں پر جو شیاطین اترتے ہیں وہ کھدیڑے اور راندے ہوئے ہیں۔ ’رَجِیْمٌ‘ کے معنی سنگ سار کیے ہوئے کے ہیں۔ ہم اوپر واضح کر چکے ہیں کہ جو شیاطین آسمانوں میں غیب کی خبریں معلوم کرنے کے لیے چھپنے کی کوشش کرتے ہیں ان پر شہابوں کے ذریعہ سے سنگ باری ہوتی ہے اس وجہ سے ’رَجِیْم‘ ان کی مستقل صفت ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–25
23۔ 1 یہ پہلے گزر چکا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے حضرت جبرائیل ؑ کو دو مرتبہ ان کی اصل حالت میں دیکھا ہے، جن میں سے ایک یہاں ذکر ہے۔ یہ ابتدائے نبوت کا واقع ہے، اس وقت حضرت جبرائیل ؑ کے چھ سو پر تھے، جنہوں نے آسمان کے کناروں کو بھر دیا تھا، دوسری مرتبہ معراج کے موقعہ پر دیکھا جیسا کہ سورة نجم میں تفصیل گزر چکی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–29
12: یعنی حضور اقدس ﷺ کو وحی کے ذریعے غیب کی جو باتیں معلوم ہوتی ہیں، وہ انہیں لوگوں سے چھپاتے نہیں ہیں، بلکہ سب کے سامنے ظاہر فرما دیتے ہیں، جاہلیت کے زمانے میں جو لوگ کاہن کہلاتے تھے، وہ بھی غیب کی باتیں بتانے کا دعوی کرتے تھے، اور شیطانوں سے دوستی کرکے ان سے کچھ جھوٹی سچی باتیں سن لیا کرتے تھے، لیکن جب لوگ ان سے پوچھتے تو وہ انہیں فیس لئے بغیر کچھ بتانے سے انکار کرتے تھے، اللہ تعالیٰ کافروں سے فرما رہے ہیں کہ تم آنخضرت ﷺ کو کاہن کہتے ہو، حالانکہ کاہن تو تمہیں جھوٹی باتیں بتانے میں بھی بڑے بخل سے کام لیتے ہیں، اور پیسے لئے بغیر کچھ نہیں بتاتے، لیکن آنحضرت ﷺ کو غیب کی جو سچی باتیں معلوم ہوتی…
Read the full tafseer →وما ھو ............................ رجیم (25:81) ” اور یہ شیطان مردود کا قول نہیں ہے “۔ اس لئے کہ شیطان اس قسم کا سیدھا راستہ لوگوں کو نہیں بتلایا کرتا۔ اللہ تعالیٰ نہایت تنبیہہ کے انداز میں پوچھتے ہیں کہ تم کدھر جارہے ہو ؟
Read the full tafseer →8 بھلا شیطان ایسی نیکی اور پرہیزگاری کی باتیں کیوں سکھلانے لگا جس میں سراسر بنی آدم کا فائدہ اور خود اس ملعون کی تقبیح و مذمت ہو۔
Read the full tafseer →آیت 25{ وَمَا ہُوَ بِقَوْلِ شَیْطٰنٍ رَّجِیْمٍ۔ } ”اور یہ کسی شیطانِ مردود کا قول نہیں ہے۔“
شیاطین جن چونکہ غیب کے نام پر جھوٹی سچی خبریں کاہنوں تک پہنچاتے رہتے تھے اس لیے یہاں اس امکان کی بھی تردید کردی گئی ہے۔ یعنی تم لوگ یہ مت سمجھو کہ جنوں میں سے کسی شیطان نے انہیں ﷺ کوئی پٹی ّپڑھا دی ہے معاذ اللہ۔ یہی مضمون سورة الحاقہ میں زیادہ وضاحت اور زیادہ ُ پرزور انداز میں یوں بیان ہوا ہے : { فَلَآ اُقْسِمُ بِمَا تُبْصِرُوْنَ - وَمَا لَا تُبْصِرُوْنَ۔ } ”میں قسم کھاتا ہوں ان چیزوں کی جو تم دیکھتے ہو اور ان کی بھی جو تم نہیں دیکھتے ہو“۔ یہاں پر مَا تُبْصِرُوْنَ سے شاعری وغیرہ مراد ہے ‘ اس لیے کہ…
Read the full tafseer →20 کفار مکہ آپ کو کاہن کیوں کہتے تھے ؟:۔ آپ بھی چونکہ غیب کی خبریں دیتے تھے اس لیے کفار مکہ یہی سمجھتے تھے کہ آپ کو بھی کوئی جن یا شیطان ایسی خبریں مہیا کرتا ہے۔ چناچہ ایک دفعہ آپ بیمار ہوگئے اور دو تین راتیں نماز تہجد کے لیے اٹھ نہ سکے تو ابو لہب کی بیوی (عوراء بنت حرب۔ ابو سفیان کی بہن) آپ کے پاس آئی اور کہنے لگی : محمد میں سمجھتی ہوں تیرے شیطان نے تجھ کو چھوڑ دیا۔ دو تین راتوں سے تیرے پاس نہیں آیا۔ اس وقت اللہ تعالیٰ نے یہ آیات نازل فرمائیں۔ والضحی۔۔ ماقلیٰ تک (بخاری، کتاب التفسیر، سورة والضحیٰ ) اور کافروں کو بتایا یہ جارہا ہے کہ تمہارا یہ خیال غلط ہے۔ بھلا شیطان سے یہ کیسے ممکن ہے کہ وہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–26
11۔ (کہ ایسی سیدھی سی بات کو چھوڑ کر ادھر ادھر بھٹک رہے ہو) اوپر بیان یہ تھا کہ نزول قرآن کے جو دو واسطے ہیں، یعنی ایک فرشتہ وحی اور دوسرے پیغمبر اسلام (علیہ السلام) ، یہ دونوں حد درجہ مضبوط، مستحکم وناقبل اشتباہ ہیں، اب بیان اس کا ہے کہ اپنی اصل اور ماخذ کے لحاظ سے بھی قرآن سرتاسر حق ہی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–29
واذا لموئو ودۃ سئلت، اس آیت کے انداز بیان میں ایسی شدید غضب ناکی پائی جاتی ہے، جس سیز یادہ غضب ناکی کا تصور نہیں کیا جاسکتا، بیٹی کو زندہ درگور کرنے والے والدین اللہ کی نظر میں ایسے قابل نفرت ہوں گے کہ ان کو مخاطب کر کے ان سے یہ نہ پوچھا جائے گا کہ تم نے اس معصوم کو کیوں قتل کیا ؟ بلکہ اس سے نگاہ پھیر کر معصوم بچی سے پوچھا جائے گا کہ تو بےچاری آخر کس قصور میں مار دی گئی ؟ اور وہ اپنی داستان مظلومیت سنائے گی، اس آیت کے مضمون سے ایک اہم بات خود بخود یہ سمجھ میں آتی ہے کہ اس میں آخرت کے ضروری ہونے کی ایک صریح دلیل پیش کی گئی ہے، جس لڑکی کو زندہ دفن کردیا گیا، آخر اس کی کہیں تو داد رسی ہونی…
Read the full tafseer →وما ھو بقول شیطن رجیم . اور قرآن کسی شیطان مردود کا قول نہیں کہ چوری سے سن کر اپنے دوست کاہن
کے دل میں اس نے ڈال دیا ہو۔ کافر کہتے تھے کہ رسول اللہ ﷺ کاہن ہیں۔ اس جملہ میں کافروں کے قول کا رد کردیا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–25
(22۔ 25) اے قریش کی جماعت رسول اکرم مجنون نہیں ہیں اور رسول اکرم نے جبریل امین کو آسمان کے بلند کنارہ پر دیکھا بھی ہے اور پیغمبر وحی کے بارے میں بخیل بھی نہیں ہیں اور یہ قرآن کریم کسی شیطان مردود کی کہی ہوئی بات نہیں ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–28
(وما ھو علی الغیب بضنین :”ضنین“ بخیل، یعنی اللہ تعالیٰ انہیں غیب کی جو بات بتاتے ہیں وہ اسے اپنے پاس ہی نہیں رکھ لیتے بلکہ امت تک پہنچا دیتے ہیں۔ عائشہ ؓ فرماتی ہیں :(من حد نک ان محمداً ﷺ کم شیئاً مما انزل علیہ، فقد کذب ، واللہ یقول :(یایھا الرسول بلغ ما انزل الیک من ربک) (بخاری، التفسیر، باب :(یا ایھا الرسول بلغ…): 3612)”جو شخص تمہیں بتائے کہ محمد ﷺ نے آپ پر نازل ہونے والی کوئی بات چھپائی ہے، تو اس نے یقیناً جھوٹ بولا، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا :(یایھا الرسول بلغ ما انزل الیک من ربک) (المائدہ : 68)”اے رسول ! پہنچا دے جو کچھ تیری طرف تیرے رب کی جانب سے نازل کیا گیا ہے۔“
بعض لوگوں نے اس آیت…
Read the full tafseer →وماھو بقول شیطان الرجیم۔ یعنی قرآن ایسے آدمی کا قول نہیں جو ملعون ہو جسطرح قریش کا کہنا ہے، عطا نے کہا، اس سے مراد شیطان ابیض ہے جو نبی کریم کے پاس حضرت جبرائیل کی صورت میں آتا تھا تاکہ آپ کو آزمائش میں ڈال دے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–27
77۔ عبدالرزاق وابن مردویہ نے ابن الزبیر ؓ سے روایت کیا کہ نبی ﷺ اس کو یوں پڑھتے تھے آیت وما ہو علی الغیب بضنین اور دوسرے لفظ میں ہے بضنین ضاد کے ساتھ۔
78۔ عبد بن حمید نے ہشام بن عروہ (رح) سے روایت کیا کہ ابی ؓ اس کو یوں پڑھتے تھے آیت وما ہو علی الغیب بضنین ان سے اس بارے میں پوچھا گیا تو فرمایا کہ عائشہ ؓ نے فرمایا کہ مصاحف میں لکھنے والے لوگ خطا کرجاتے ہیں
79 سعید بن منصور وعبد بن حمید وابن المنذر وابن مردویہ نے کئی طرق سے عبداللہ بن زبیر ؓ سے روایت کیا کہ وہ اس کو یوں پڑھتے تھے آیت بضنین۔
80۔ سعید بن منصورر وعبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم وابن مردویہ نے طرق سے ابن عباس ؓ سے…
Read the full tafseer →وَمَا هُوَ : اور نہیں ہے یہ (قرآن) ][ بِقَوْلِ شَيْطٰنٍ رَّجِيْمٍ : کسی مردود شیطان کا قول ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–29
﴿وَ مَا هُوَ بِقَوْلِ شَيْطٰنٍ رَّجِيْمٍۙ0025﴾ (اور یہ قرآن کسی شیطان مردود کی کہی ہوئی بات نہیں ہے) ۔ ﴿ فَاَيْنَ تَذْهَبُوْنَؕ0026﴾ پس جبکہ وحی لانے والا فرشتہ مذکورہ بالا صفات سے متصف ہے اور جن پر وحی آتی ہے وہ دیوانے بھی نہیں ہے اور نہ کاہن ہیں اور نہ اجرت طلب کرتے ہیں اور یہ قرآن کسی شیطان مردود کا کلام بھی نہیں ہے تو تم اس کو چھوڑ کر کہاں جا رہے ہو۔ ﴿اِنْ هُوَ اِلَّا ذِكْرٌ لِّلْعٰلَمِيْنَۙ0027 لِمَنْ شَآءَ مِنْكُمْ اَنْ يَّسْتَقِيْمَؕ0028﴾ بس یہ قرآن دنیا جہاں والوں کے لیے ایک بڑی نصیحت ہے جو تم میں سیدھی راہ پر چلنا چاہے۔ ﴿ وَ مَا تَشَآءُوْنَ اِلَّاۤ اَنْ يَّشَآء اللّٰهُ رَبُّ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–29
ہولناک مناظر روز قیامت و پیشی اعمال و فیصلہ جزاء وسزا :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” اذا الشمس کورت ....... الی ...... الا ان یشآء اللہ رب العلمین “۔
(ربط) سورة عبس کا مضمون دراصل اثبات قیامت کے موضوع ہی پر مشتمل تھا اور مقصد بیان یہ تھا کہ انسان کی سعادت و فلاح اور عزت و عظمت اپنی زندگی اپنے پروردگار کے ساتھ وابستہ رکھنے اور فکر آخرت میں ہے، اس کے برعکس وہ مغرور ومتکبر جو نہ خدا پر ایمان لاتا ہے اور نہ ہی اس کو آخرت کی فکر ہے وہ خدا کی نظروں میں ذلیل و حقیر ہے، طالب حق اور سعادت کی فکر میں لگے رہنے والا انسان ہی بارگاہ رسالت میں ہر عزت واکرام کا مستحق ہے، آخر میں قیامت کے روز کی پریشانی اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–28
7:۔ ” وما ھو “ ” ضنین “ کے معنی بخیل کے ہیں یعنی اللہ کی طرف سے جو علوم و معارف آپ پر نازل ہوتے ہیں، ان کی تعلیم و تبلیغ میں آپ بخل نہیں کرتے۔ یہ قرآن وحی الٰہی ہے۔ شیطانی کلام یا شیطانی القاء نہیں ہے۔ ” فاین تذھبون “ تم کدھر جارہے ہو اور کس قدر بےعقلی کی باتیں کرتے ہو، ایسی عظیم الشان کتاب میں غور و فکر کر کے اس سے ہدایت حاصل نہیں کرتے ہو۔ حالانکہ یہ کتاب تمام جہانوں کے لیے ہدایت اور نصیحت ہے۔ تم میں سے ہر اس شخص کے لیے نصیحت ہے جو سیدھی راہ پر اور دین اسلام پر چلنا اور اس پر قائم رہنا چاہے۔ قرآن بیشک تمام بنی آدم کے لیے ہدایت نامہ ہے مگر اس سے فائدہ صرف وہی اٹھائیں گے جو ضد و تعصب سے بالا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–29
(جبرائیل (علیہ السلام) اپنی اصلی صورت میں)
جیسے کہ پہلے بیان ہوا جبرائیل (علیہ السلام) کا تعلق قرآن پاک کے واسطہ سے نظام بالا کے ساتھ ہے۔ چناچہ ارشاد ربانی ہے۔ ولقد راہ بالا فق المبین یعنی نبی (علیہ السلام) نے جبرائیل (علیہ السلام) کو کھلے کنارے پر دیکھا ہے۔ حدیث (ب 1 بخاری ص 3 ج 1 ومسلم ص 10 ج 1) شریف میں آتا ہے کہ ابتدائے نبوت کے زمانہ میں حضور ﷺ نے حضرت جبرائیل (علیہ السلام) کو اپنی اصل شکل میں دیکھا تھا جبرائیل (علیہ السلام) کرسی پر بیٹھے تھے اور آسمانی فضا بھی بھری ہوئی آپ نے مشاہدہ کیا تو دہشت طاری ہوگئی تشریف لائے اور فرمایا مجھ پر کمبل ڈال دو پھر آپ نے سارا واقعہ بیان کیا۔ اس کے بعد…
Read the full tafseer →وَمَا ہُوَبِقَوْلِ شَيْطٰنٍ رَّجِيْمٍ 25 ۙ
قول
القَوْلُ والقِيلُ واحد . قال تعالی: وَمَنْ أَصْدَقُ مِنَ اللَّهِ قِيلًا[ النساء/ 122]
( ق و ل ) القول
القول اور القیل کے معنی بات کے ہیں قرآن میں ہے : ۔ وَمَنْ أَصْدَقُ مِنَ اللَّهِ قِيلًا[ النساء/ 122] اور خدا سے زیادہ بات کا سچا کون ہوسکتا ہے ۔
شطن
الشَّيْطَانُ النون فيه أصليّة «3» ، وهو من : شَطَنَ أي : تباعد، ومنه : بئر شَطُونٌ ، وشَطَنَتِ الدّار، وغربة شَطُونٌ ، وقیل : بل النون فيه زائدة، من : شَاطَ يَشِيطُ : احترق غضبا، فَالشَّيْطَانُ مخلوق من النار کما دلّ عليه قوله تعالی: وَخَلَقَ الْجَانَّ مِنْ مارِجٍ مِنْ نارٍ [ الرحمن/ 15]: الشّيطان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–29
ترکیب ¦ فلما الفاء للتفریع اوالتعقیب ولا زائدۃ کما مر تحقیقھا فی سورة القیامۃ بالخنس المقسم بہ وھی جمع خانس و خانستہ من خنس اذا تاخروفی الصحاح الخنس الکواکب کلھا انھا تخنس فی المغیب اولانھا تخفی نھاراً وقیلھی الکواکب الخمس زحل والمشتری والمریخ والزھرۃ و عطارد و فی الکبیر الخنس 1 ؎ جمع خانس والخنوس الانقباض والاستخفاء تقول خنس من بین القوم وتخنس و فی الحدیث الشیطان یوسوس ای العبد فاذا ذکر اللہ خنس ولذاسمی الخناس۔ الجوار جمع جاریۃ وھی السیارات لانھا تجری۔ وھی صفۃ الخنس۔ الکنس جمع کانس وکانستہ یقال کنس اذا دخل الکناس وھو مقرالوحش کنس کناس بالکسر خواب جائے آہو و پنہان شدن اودر آنجا (عع1 ک 2) کنس…
Read the full tafseer →وَمَا ھُوَ بِقَوْلِ شَیْطٰنٍ رَّجِیْمٍ ۔ (التکویر : 25)
(یہ کسی شیطانِ مردود کا قول نہیں ہے۔ )
قریش کے پروپیگنڈے کا مزید جواب
مشرکینِ مکہ لوگوں کو بہکانے کے لیے یہ بھی کہتے تھے کہ محمد ﷺ پر کوئی فرشتہ نہیں اترتا بلکہ کوئی شیطان ہے جو انھیں بعض باتیں القاء کرتا ہے۔ چناچہ پہلے یہ بات فرمائی گئی کہ یہ رسول کریم کا قول ہے۔ یعنی ایک معزز فرشتہ اللہ تعالیٰ کا پیغام لے کر آتا ہے۔ اب اسی بات کو منفی انداز میں بیان فرمایا گیا۔ اور اس کے پیچھے ایک سوچنے کی دعوت بھی کارفرما ہے وہ یہ کہ شیطان کا کام انسان کو شرک میں ملوث کرنا اور بت پرستی کی تعلیم دینا ہے۔ وہ انسان کو ترغیب دیتا ہے کہ وہ شتر بےمہار بن کر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–29
فہم القرآن
ربط کلام : قرآن مجید کی دعوت کا تیسرا مضمون قیامت ہے جو ہر صورت قائم ہو کر رہے گی۔ اہل مکہ نہ صرف قیامت کا انکار کرتے تھے بلکہ اس وجہ سے قرآن مجید کو ماننے کے لیے تیار نہیں تھے کہ یہ ” اللہ “ کی کتاب ہے۔ اس لیے یہاں ایک مرتبہ پھر وضاحت کی جا رہی ہے کہ قرآن مجید اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل کیا گیا ہے۔
یہ بات کئی مرتبہ عرض ہوچکی ہے کہ قرآن مجید کے بنیادی مضامین تین ہیں۔ توحید، رسالت اور آخرت۔ باقی مسائل انہیں کی تفصیل اور تقاضے ہیں۔ قرآن مجید ان عقائد پر بار بار زور دیتا ہے کیونکہ مکہ کے لوگ کسی نہ کسی انداز میں ان تینوں باتوں کا انکار کرتے تھے جس بنا پر ان کی کوشش تھی کہ لوگوں کی…
Read the full tafseer →25 : وَمَا ھُوَ بِقَوْلِ شَیْطٰنٍ رَّجِیْمٍ (اور یہ قرآن کسی شیطان مردود کی کہی ہوئی بات نہیں ہے) ھو ؔ سے مراد قرآن مجید ہے۔ رجیمؔ: مردود۔ جیسا کہ دوسرے مقام میں فرمایا۔ وما تنزلت بہِ الشیاطین ] الشعراء : 210[ یعنی یہ ان کی بات نہیں جو چوری چھپے سننے کے لئے کان لگاتے ہیں۔ اور پھر وہ اپنے کاہن دوستوں کی طرف وہ بات القاء کرتے ہیں۔
Read the full tafseer →24 ۔” وماھو “ محمد ﷺ ” علی الغیب “ یعنی وحی پر اور اور آسمان کی خبروں اور جس پر آپ (علیہ السلام) مطلع ہوتے ہیں ان چیزوں میں سے جوان سے غائب ہیں۔ قصص اور خبریں ” بضنین “ اہل مکہ اور اہل بصرہ اور کسائی رحمہم اللہ نے ظاء کے ساتھ پڑھا ہے یعنی تہمت لگائے ہوئے ۔ کہا جاتا ہے ” فلان یظن بمال ویزن “ یعنی اس سے مہتم ہے اور ” ظنۃ “ بمعنی تہمت اور دیگر حضرات نے ضاد کے ساتھ پڑھا ہے یعنی بخل کرنے والے۔ فرماتے ہیں کہ ان کے پاس غیب کا علم آتا ہے۔ پس وہ اس کا تم پر بخل نہیں کرتے بلکہ تمہیں سکھاتے ہیں اور تمہیں اس کی خبر دیتے ہیں اور اس کو چھپاتے نہیں ہیں جیسا کہ کاہن جو اس کے پاس ہو اس کو چھپاتا ہے حتیٰ کہ اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–29
15۔ 29۔ خنس کے معنی پچھے ہٹ جانے اور کنس کے معنی نکلنے کے ہیں مطلب یہ ہے کہ تارے جو دن کو سورج کی روشنی میں چھپ جاتے ہیں اور رات کو نکل آتے ہیں ان کی اور اول شب کی تاریکی اور طلوع صبح کی تاکید کے طور پر قسم کھا کر اللہ تعالیٰ نے قرآن کو کلام اللہ اور محمد ﷺ کو اللہ کا رسول فرمایا ہے اگرچہ بعض مفسروں نے لکھا ہے کہ انہ لقول رسول کریم میں رسول سے مراد آنحضرت ﷺ کی ذات ہے لیکن صحیح قول وہی ہے جو امام المفسرین 2 ؎ حضرت عبد اللہ بن عباس اور سلف نے فرمایا ہے کہ رسول سے مراد اس آیت میں حضرت جبرئیل (علیہ السلام) ہیں کیونکہ مشرکین مکہ کبھی کہتے تھے انما یعلمہ بشر۔ کبھی کہتے تھے افتری علی اللہ کذبا ام بہ…
Read the full tafseer →(وَمَا هُوَ بِقَوْلِ شَيْطٰنٍ رَّجِيْمٍ ) اور یہ شیطان مردود کا کلام نہیں ہے۔ چونکہ اللہ تعالیٰ نے اپنے ان دو مکرم رسولوں کا ذکر کرکے اپنی کتاب کی جلالت اور فضیلت کا ذکر کیا اور ان کی مدح وثنا کی جن کے ذریعے سے یہ کتاب لوگوں کے ہاتھوں تک پہنچی اس لیے اس نے اس کتاب سے ہر آفت اور ہر نقص کو دور ہٹا دیا جو اس کی صداقت میں قادح ہوسکتا ہے بنابریں فرمایا (وَمَا هُوَ بِقَوْلِ شَيْطٰنٍ رَّجِيْمٍ ) اور یہ شیطان مردود کا کلام نہیں ہے جو اللہ تعالیٰ اور اس کے قرب سے بہت دور ہے۔
Read the full tafseer →(20) یہ قرآن شیطان مردود کا کلام نہیں ہوسکتا : سو ارشاد فرمایا گیا کہ یہ کسی شیطان مردود کا کلام نہیں ہوسکتا اور صاف صریح طور پر ارشاد فرمایا گیا جیسا کہ مشرکین کا کہنا ہے، والعیاذ باللہ۔ بھلا ایسے عظیم الشان، پاکیزہ اور کلام معجزہ کو جو کہ سراسر ہدایت عین رحمت اور نری خیر و برکت ہے، اور جو کہ دارین کی سعادت و سرخروئی اور فوز و فلاح کا ذریعہ وضامن و کفیل و وکیل ہے۔ اس کی شیطان مردود سے نسبت ہی کیا اور کیونکر ہوسکتی ہے ؟ـ جس کا کام ہی فتنہ و فساد اور اغوا واضلال ہے۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ " رجیم " کا لفظ یہاں پر " کریم " کے مقابلے میں آیا ہے، یعنی جو فرشتہ پیغمبر کے پاس وحی لے کر آیا ہے وہ ایک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–29
قرآن جس میں کوئی شک نہیں۔ تقدیر کیا ہے ؟
تشریح : یہاں 15 اور 16 آیات میں آسمانی فزکس Astrophysics کے بنیادی اصول بیان کئے گئے ہیں۔ '' خنس '' یعنی چھپنے والے تارے۔ اور '' کنس ''۔ یعنی ایک مخصوص راستہ کا محور کسی چلتی ہوئی چیز میں دبک جانے والا۔ ڈاکٹر ہلوک نور باقی صاحب اس کی وضاحت بڑے خوبصورت انداز میں کرتے ہیں لکھتے ہیں۔ '' اللہ قسم کھاتا ہے ان تمام طبیعاتی قوانین کی جو ساری کائنات کی وسعتوں میں کار فرما ہیں۔ جس کی طرف اشارہ ان دو آیات مبارکہ میں کیا گیا ہے۔ ہر مخلوق ایک خنس اور ایک کنس کی حالت میں ہے۔ ایک خوش اسلوب اور ہم آہنگ روانی یا بہنا ہے جب کہ دوسرا ہٹتے ہوئے پردہ کرنے کی طرح ہے جیسے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–29
سورة التکویر۔
آیات 1 تا 29۔
اسرار ومعارف۔
جب سورج بےنور ہوجائے گا اور ستارے ٹوٹ کر گرجائیں گے اور جب پہاڑ اکھیڑ کر اڑادیے جائیں گے اور لوگوں کو مال و دولت بھول جائے گا کہ عربوں کے نزدیک دس ماہ کی گابھن اونٹنی سب سے قیمتی اثاثہ سمجھی جاتی ہے ہر وقت دم کے ساتھ لگے پھرتے تھے کہ صحرا میں اس کادودھ نعمت غیر مترقہ ہوتا تھا مگر وہ بھی آوارہ پھر رہی ہوں گی یعنی لوگوں کو مال وزر کا ہوش نہ رہے گا اور نفخہ اولی سے گھبرا کر جنگلی جانور اور درندے آبادیوں میں آگھسیں گے اور دریا سمندر میں مل جائیں گے کہ زمین شق ہوجائے گی اور پھر ان میں اجرام فلکی گریں گے تو بھاپ بن کر اڑجائیں گے اور پھر فضا میں وہ بھاپ آگ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–26
ف 15 یعنی اس قرآن کی اطاعت سے کیوں منہ موڑ رہے ہو ؟
Read the full tafseer →(81:25) وما ھو بقول شیطن رجیم اور نہ یہ (قرآن) کسی شیطان مردود کا کلام ہے کہ چوری سے سن کر اپنے دوست کا ہن کے دل میں ڈال دیا ہو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–29
لغات القرآن۔
کورت۔ لپیٹ دے گیا۔ انکدرت۔ ماند پڑگئی۔ (پڑ گئے) سیرت۔ چلا دی گئی۔ العشار۔ گابھن اونٹنیاں۔ عطلت۔ چھٹ کر پھری۔ الوحوش (وحش) ۔ جنگلی جانور۔ حشرت۔ آپس میں گڈ مڈ ہوجائیں۔ سجرت۔ جھونکے گئے۔ زوجت۔ جوڑے جوڑے بنا دئیے گئے۔ الموئو دۃ ۔ زمین میں گاڑدی گئی لڑکی۔ سئلت۔ پوچھا گیا۔ الصحف۔ اعمال نامے۔ نشرت۔ پھیلا دئیے۔ کشطت۔ پرت کے پرت اتا رلئے گئے۔ کھال کھینچ لی گئی۔ سعرت۔ بھڑکائی گئی۔ ازلف۔ قریب کردی گئی۔ احضرت۔ وہ لے کر حاضر ہوا۔ الخنس۔ پیچھے ہٹ جانے والے۔ الکنس۔ چھپ جانے والے۔ عسعس۔ پھیل گیا۔ تنفس۔ روشن ہوا۔ مکین۔ مرتبہ والا۔ مطاع۔ جس کی اطاعت کی جائے۔ کہا مانا جائے۔ الافق۔ کنارہ۔ بضنین۔…
Read the full tafseer →(ف 4) بھلاشیطان ایسی نیکی اور پرہیزگاری کی باتیں کیوں سکھلانے لگا جس میں سراسر بنی آدم کا فائدہ اور خود اس ملعون کی تقبیح ومذمت ہو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–28
[13] یعنی وہ فرشتوں کا افسر ہے اور تمام فرشتے بےچون و چرا اس کی اطاعت کرتے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–26
ف 1: ضنین بالضاد کے معنی بخل کے ہیں ۔ غرض یہ ہے کہ حضرت محمد ﷺ کو جو باتیں رشد و ہدایت کے سلسلہ میں اللہ تعالیٰ کی جانب سے معلوم ہوتی ہیں ، وہ ان کو ازراہ بخل نہیں چھپاتے بلکہ بلاکم وکاست بندوں تک پہنچادیتے ہیں ۔ ایک قرات میں ظنین بالظاد بھی آیا ہے ۔ اس کے معنی متہم ہونے کے ہیں ۔ اس صورت میں غرض یہ ہوگی کہ جناب رسالت مآب ﷺ کذب وافتراء سے متہم نہیں ہیں ۔ بلکہ ان کی ساری زندگی صداقت شعاری سے مملورہی ہے جس کو تم بھی جانتے ہو ۔ قراتین کے توافق سے معلوم ہتا ہے کہ ضاد کو ظاء کے قریب قریب پڑھنا چاہیے ۔
Read the full tafseer →(25) اور یہ قرآن کسی شیطان مردود کی کہی ہوئی بات نہیں ہے - یعنی جیسا تم خیال کرتے ہو کہ محمد ﷺ کو شیطان یہ کلام سکھاتا ہے اور یہ کلام شیطان کا ہے اس کا رد فرمایا کہ یہ قرآن شیطان کی کہی ہوئی بات نہیں ہے غرض تمام دلائل سے یہ بات ثابت ہوچکی کہ یہ اللہ تعالیٰ کا کلام ہے نہ کسی دیوانے کی بڑ ہے نہ کسی شیطان مردود کی بکواس جنس ذرائع سے یہ کلام اس پیغمبر تک پہنچتا ہے وہ ذرائع نہایت مضبوط اور محفوظ ہیں اور اس کو آسمان سے لانے والے نہایت ثقہ، متقی امانت دار اور نہایت قوۃ والے ہیں جب یہ تمام باتیں صاف ہوگئیں تو فرماتے ہیں۔
Read the full tafseer →ف 6۔ اس سے نفی کہانت کی اور تاکید ہوگئی، حاصل یہ کہ نہ آپ مجنون ہیں نہ کاہن نہ صاحب غرض، اور وحی لانے والے کو پہچانتے بھی ہیں جو امانت دار بھی ہے پس لا محالہ یہ اللہ کا کلام اور آپ اللہ کے رسول ہیں، اور یہ قسمیں جو اوپر مذکور ہوئیں مطلب مقام کے نہایت مناسب ہیں۔ چناچہ ستاروں کا سیدھا چلنا اور لوٹنا اور چھپ جانا مشابہ ہے فرشتہ کے آنے اور واپس جانے اور علم ملکوت میں جا چھپنے کے اور رات کا گزرنا اور صبح کا آنا قرآن کے مشابہ ہے بہ سبب ظلمت کفر کے رفع ہوجانے اور نور ہدایت کے ظاہر ہوجانے۔
Read the full tafseer →پھر یہ قرآن کسی شیطان مردود کا کلام نہیں ہے
25 ؎ ( رجیم) ملعون ، مردود ، راندہ ہوا رجم بروزن فعیل بمعنی مفعول مرحوم شیطان چونکہ اللہ تعالیٰ کی درگاہ سے راندہ ہوا اور مردود ہے اس لیے یہ اس کی مخصوص صفت ہے اور قرآن کریم میں جہاں بھی یہ لفظ آیا ہے اس کی صفت میں آیا ہے۔ ( رجیم) کا لفظ قرآن کریم میں چار بار آیا ہے ایک زیر نظر آیت میں دوسرا سورة الحج کی آیت 17 میں تیسرا سورة الحجر کی آیت 34 میں اور چوتھا سورة ص کی آیت 77 میں اور (الرجیم) کا لفظ صرف دو بار آیا ہے سورة آل عمران کی آیت 36 میں اور سورة النحل کی آیت 98 میں۔ مطلب یہ ہے کہ قرآن کریم کے مضامین پر غور کرو کہ اس میں کیا بیان ہوا ہے کہ میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–29
إِنَّهُ لَقَوْلُ رَسُولٍ كَرِيمٍ ذِي قُوَّةٍ عِندَ ذِي الْعَرْشِ مَكِينٍ (it [ the Qur'an ] is surely the word of a noble messenger [ Jibra'il ], the one possessing power and a high status with the Lord of the Throne...81:19-20). This is the subject of oath that affirms that Qur'an is the word brought by a noble messenger. Then three qualities are attributed to this noble messenger. The first quality is that he possesses power. The second quality is that he has high status and lofty rank with Allah, and he is obeyed in the upper realm. The third quality is that he is trusted, and there is…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–27
21 That is, "You are wrong in thinking that some satan comes and whispers these words into the ear of Muhammad (upon whom be Allah's peace and blessings) . It does not suit Satan that he should divert man from polytheism, idolworship, atheism and sin and turn him to God-worship and Tauhid, make tnan realize that he should live a life of responsibility and accountability to God instead of living an irresponsible, care-free life, should forbid man to adopt practices of ignorance, injustice, immorality and wickedness and lead him to a clean life of justice, piety and high morals." (For further…
Read the full tafseer →