Explained with ayahs 15–29
ستارے، نیل گائے اور ہرن
حضرت عمرو بن حریث ؓ فرماتے ہیں کہ میں نے صبح کی نماز میں رسول اللہ ﷺ کو اس سورة کی تلاوت کرتے ہوئے سنا اس نماز میں میں بھی مقتدیوں میں شامل تھا (مسلم) یہ ستاروں کی قسمیں کھائی گئی ہیں جو دن کے وقت پیچھے ہٹ جاتے ہیں یعنی چھپ جاتے ہیں اور رات کو ظاہر ہوتے ہیں حضرت علی ؓ ہی فرماتے ہیں اور بھی صحابہ تابعین وغیرہ سے اس کی یہی تفسیر مروی ہے بعض ائمہ نے فرمایا ہے طلوع کے وقت ستاروں کو خنس کہا جاتا ہے اور اپنی اپنی جگہ پر انہیں جوار کہا جاتا ہے اور چھپ جانے کے وقت انہیں کنس کہا جاتا ہے بعض نے کہا ہے اس سے مراد جنگلی گائے ہے یہ بھی مروی ہے کہ مراد ہرن ہے۔ ابراہیم نے حضرت مجاہد…
Read the full tafseer →سورة التَّكْوِیْر 15
سورة نجم آیات 4۔ 5 میں اسی مضمون کو یوں ادا کیا گیا ہے کہ ان ھو الا وحی یوحی۔ علمہ شدید القوی۔ یہ تو ایک وحی ہے جو اس پر نازل کی جاتی ہے۔ اس کو زبردست قوتوں والے نے تعلیم دی ہے "۔ یہ بات درحقیقت متشابہات میں سے ہے کہ جبریل ؑ کی ان زبردست قوتوں اور ان کی اس عظیم توانائی سے کیا مراد ہے۔ بہرحال اس سے اتنی بات ضرور معلوم ہوتی ہے کہ فرشتوں میں بھی وہ اپنی غیر معمولی طاقتوں کے اعتبار سے ممتاز ہیں۔ مسلم، کتاب الایمان میں حضرت عائشہ ؓ رسول اللہ ﷺ کا یہ قول نقل کرتی ہیں کہ میں نے دو مرتبہ جبریل کو ان کی اصلی صورت میں دیکھا ہے، ان کی عظیم ہستی زمین و آسمان کے درمیان ساری فضا پر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–29
اِنَّهٗ لَقَوْلُ رَسُوْلٍ كَرِيْمٍ 19 ۙذِيْ قُوَّةٍ الخ، ستاروں کی قسم کے بعد فرمایا کہ یہ قرآن قول ہے کہ ایک رسول کریم کا، آگے اس رسول کریم کی صفت ایک تو یہ بیان فرمائی کہ وہ ذی قوت ہے، دوسری یہ کہ رب العرش کے پاس وہ مطاع ہے کہ اسکے احکام عرش والے مانتے ہیں، تیسری یہ کہ وہ اللہ کے نزدیک امین ہے اس سے پیغام لانے اور پہنچانے میں کسی خیانت اور کمی نیشن کا امکان نہیں۔ اس جگہ رسول کریم سے مراد بظاہر جبریل امین ہیں کیونکہ لفظ رسول کا جیسے انبیاء پر اطلاق ہوتا ہے ایسے ہی فرشتوں کے لئے بھی یہ لفظ بولا جاتا ہے اور آگے جتنی صفات رسول کی بیان کی گئی ہیں وہ سب جبریل امین پر بغیر کسی تکلف و تاویل کے…
Read the full tafseer →حضرت جبریل کی مزید صفات:
یہ حضرت جبریل امین کی مزید صفات بیان فرمائی گئی ہیں تاکہ اچھی طرح واضح ہو جائے کہ قرآن کس محفوظ و مامون اور پاکیزہ ذریعہ سے اترا ہوا کلام ہے اور کاہن جس ذریعہ سے اپنا مزعومہ علم حاصل کرتے ہیں اس کی نوعیت کیا ہے۔ فرمایا کہ یہ باعزت رسول نہایت زور و قوت والا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس کو ایسی اعلیٰ اور محکم صلاحیتوں سے نوازا ہے کہ دوسری شیطانی طاقتیں اس کو مرعوب یا مغلوب یا متاثر نہیں کر سکتیں کہ اس کے فرائض مفوضہ میں وہ مزاحم ہو سکیں یا اس سے کوئی چیز اچک سکیں یا اس کو دھوکہ دے سکیں۔ وہ صاحب عرش کے احکام پورے اختیار و اقتدار کے ساتھ نافذ کرتا ہے اس لیے کہ وہ اس کی بارگاہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–21
19۔ 1 اس لئے کہ وہ اسے اللہ کی طرف سے لے کر آیا ہے۔ مراد حضرت جبرائیل علیہ الاسلام ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–20
9: اس سے مراد حضرت جبرئیل ؑ ہیں جو آنحضرت ﷺ کے پاس وحی کے ذریعے قرآن کریم لایا کرتے تھے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–21
انہ لقول ............................ امین (19:81 تا 21) ” یہ فی الواقع ایک بزرگ پیغمبر کا قول ہے ، جو بڑی توانائی رکھتا ہے ، عرش والے کے ہاں بلند مرتبہ ہے ، وہاں اس کا حکم مانا جاتا ہے ، وہ بااعتماد ہے “۔ یعنی یہ قرآن مجید جو آپ لوگوں کے سامنے پیش کیا جارہا ہے ، خصوصاً یہ قیامت کی ہولناکیاں جو بیان کی جارہی ہیں ، یہ رسول مکرم کا قول ہے ، یعنی جبرئیل (علیہ السلام) کا جو خدا کے فرستادہ ہیں اور جنہوں نے اس بات کو بحفاظت پہنچایا ہے اور گویا قرآن پہلے خدا کا قول ہے اور پھر جبرئیل (علیہ السلام) کا قول ہے کہ انہوں نے بطور پیغام الٰہی دہرایا ہے۔
اور یہ پیغام لانے والا ، جس کے ذمہ اس اہم پیغام کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–21
4 یہ حضرت جبرائیل کی صفات بیان ہوئیں۔ مطلب یہ ہے کہ قرآن کریم جو اللہ کے پاس سے ہم تک پہنچا اس میں دو واسطے ہیں۔ ایک وحی لانے والا فرشتہ ( جبرائیل) اور دوسرا پیغمبر عربی ﷺ دونوں کی صفات وہ ہیں جن کے معلوم ہونے کے بعد کسی طرح کا شک و شبہ قرآن کے صادق اور منزل من اللہ ہونے میں نہیں رہتا۔ کسی روایت کی صحت تسلیم کرنے کے لئے اعلیٰ سے اعلیٰ راوی وہ ہوتا ہے جو اعلیٰ درجہ کا ثقہ، عادل، ضابط، حافظ اور امانتدار ہو۔ جس سے روایت کرے اس کے پاس عزو حرمت کے ساتھ رہتا ہو۔ بڑے بڑے معتبر ثقات اس کی امانت وغیرہ پر اعتماد کلی رکھتے ہوں۔ اور اسی لئے اس کی بات بےچون و چرا مانتے ہوں۔ یہ تمام صفات حضرت جبرائیل میں…
Read the full tafseer →آیت 20{ ذِیْ قُوَّۃٍ عِنْدَ ذِی الْعَرْشِ مَکِیْنٍ۔ } ”جو جبرائیل بہت قوت والا ہے ‘ صاحب ِعرش کے نزدیک بلند مرتبہ ہے۔“
یعنی وہ اللہ تعالیٰ کے خاص مقربین میں سے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–22
17 جبریل کی صفات :۔ ان تین چیزوں کی اللہ تعالیٰ نے دو باتوں پر قسم اٹھائی یا بطور شہادت یہ باتیں پیش کیں۔ ان میں سے پہل بات یہ ہے کہ یہ قرآن نہ کسی کاہن کا قول ہے نہ شاعر کا، نہ آپ کا تالیف کردہ ہے بلکہ یہ معزز رسول کا قول ہے۔ یہ رسول جبریل ہے جو اللہ کا فرستادہ اور اس کا کلام پیش کر رہا ہے لیکن چونکہ جبریل کی زبان سے ہو رہا ہے اس لیے قول کی نسبت جبریل کی طرف کی گئی ہے۔ یہ جبریل بڑا زور آور اور طاقتور ہے۔ سورة النجم میں جبریل کے لیے (شدید القوی :) اور (ذومرۃ) کے الفاظ آئے ہیں۔ یہ فرشتہ اللہ کے ہاں بڑا مقرب ہے۔ وہ ایک افسر ہے جس کی سب فرشتے اطاعت کرتے ہیں۔ علاوہ ازیں وہ امین بھی ہے۔ اللہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–20
6۔ (اور اس کے لائے ہوئے کلام میں یہ شبہ بھی نہیں ہوسکتا کہ شیطانی تصرف ہوا ہو، یا کہانت کی آمیزش کہیں سے ہوگئی ہو) ان صفات والے سے مراد فرشتہ وحی حضرت جبرئیل ہیں، جن کا ذکر سورة والنجم میں گزر چکا ہے ، (آیت) ” علمہ شدیدا القوی “۔ الخ، کے تحت میں (آیت) ” رسول “۔ یہ لفظ خود بتا رہا ہے کہ اسے کہیں کلام جبرئیل نہ خیال کرلینا، ان کی حیثیت اس کلام کے سلسلہ میں تو محض قاصد کی ہے۔ یہ اوصاف جبرائیلی جو بیان ہوئے ہیں ان سے معلوم ہوا کہ فرشتہ وحی منصب رسالت کا پوری طرح متحمل اور اسرار وانوار کا ہر طرح محافظ ہے۔ (آیت) ” عند ذی العرش مکین “۔ عنہ یہاں قرب جسمانی کے لیے نہیں کہ حق تعالیٰ ہر جسمانیت ومکانیت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–29
واذا لموئو ودۃ سئلت، اس آیت کے انداز بیان میں ایسی شدید غضب ناکی پائی جاتی ہے، جس سیز یادہ غضب ناکی کا تصور نہیں کیا جاسکتا، بیٹی کو زندہ درگور کرنے والے والدین اللہ کی نظر میں ایسے قابل نفرت ہوں گے کہ ان کو مخاطب کر کے ان سے یہ نہ پوچھا جائے گا کہ تم نے اس معصوم کو کیوں قتل کیا ؟ بلکہ اس سے نگاہ پھیر کر معصوم بچی سے پوچھا جائے گا کہ تو بےچاری آخر کس قصور میں مار دی گئی ؟ اور وہ اپنی داستان مظلومیت سنائے گی، اس آیت کے مضمون سے ایک اہم بات خود بخود یہ سمجھ میں آتی ہے کہ اس میں آخرت کے ضروری ہونے کی ایک صریح دلیل پیش کی گئی ہے، جس لڑکی کو زندہ دفن کردیا گیا، آخر اس کی کہیں تو داد رسی ہونی…
Read the full tafseer →ذی قوۃ .
اور طاقت والا ہے سے مراد جبرئیل ہوں تو ان کی قوت یہ تھی کہ قوم لوط کی بستیوں کو اکھاڑ کر بحر اسود کے کنارہ سے اپنے بازو پر اٹھا کر بلندی پر لے جا کر الٹ دیا۔ قوم ثمود پر ایسی دھاڑ ماری کہ سب بیٹھے بیٹھے مردہ ہوگئے۔ آن کی آن میں آسمان سے زمین پر آتے اور پلک مارنے میں زمین سے آسمان پر چڑھ جاتے تھے۔ اگر رسول سے مراد رسول اللہ ﷺ کی ذات گرامی ہو تو آپ کی طاقت اس سے ظاہر ہوتی ہے کہ حضرت نوح ساڑھے نو سو برس اپنی قوم میں رہے اور تھوڑے لوگوں کو مؤمن بنا سکے مگر رسول اللہ ﷺ نے : تئیس برس میں (لاکھوں کو) اللہ کی طرف کھینچ لیا۔ 23 برس میں ہر طرف دین کو پھیلا دیا۔ جوق در جوق لوگ دین خدا میں داخل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–21
(19۔ 21) ان تمام چیزوں کی قسم کھا کر اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ یہ قرآن اللہ کا کلام ہے جس کو جبریل مکرم و معزز نبی پر لے کر آئے ہیں اور وہ فرشتہ قوت والا ہے اور اس کا مالک عرش کے نزدیک رتبہ ہے اور آسمانوں میں فرشتے اسی کا کہنا مانتے ہیں اور امانت دار ہیں کہ انبیاء کرام کے پاس وحی کو صحیح پہنچا دیتے ہیں۔
Read the full tafseer →(ذی قوۃ عند ذی العرش مکین :”ذی قوۃ“ کی تنوین تعظیم کیلئے ہے، بڑی قوت والا۔ سورة نجم میں بھی جبریل ؑ کا یہ وصف بیان ہوا ہے، فرمایا :(علمہ شدید القوی، ذومرۃ) (النجم : 605)”اسے نہایت مضبوط قوتوں والے (فرشتے) نے سکھایا۔ جو بڑی طاقت والا ہے۔“ جبریل ؑ کی قوت کا ذکر یہاں اس لئے فرمایا ہے کہ ان کی قوت کے سبب سے شیطان ان سے بھاگتا ہے، جیسا کہ بدر میں انہیں دیکھ کر بھاگا تھا۔ (دیکھیے انفال : 48) مطلب یہ ہے کہ جبریل ؑ کی قوت کی وجہ سے ان کی پیغام رساین میں نہ شیطان کا کچھ دخل ہے اور نہ ان کی امانت داری کے سبب اس پیغام رسانی میں کسی خیانت کا دخل ہے، اس لئے کسی شک و شبہ کے بغیر یہ اللہ تعالیٰ کا کلام ہے۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–21
ذی قوۃ۔ جس نے رسول سے مراد جبرائیل امین لی ہے آپ کی قوت تو ظاہر ہے، ضحاک نے حضرت ابن عباس سے روایت نقل کی ہے کہ ان کی قوت کا عالم یہ ہے کہ انہوں نے قوم لوط کی بستیوں کو پروں کے قوادم سے اکھاڑ دیا تھا۔
عند ذی العرش مکین، مطاع امین۔ یعنی اللہ تعالیٰ کے نزدیک بڑے مرتبہ والے ہیں، حضرت ابوصالح سے مروی ہے کہ وہ ستر خیموں میں بغیر اجازت داخل ہوتے ہیں ان کی آسمانوں میں اطاعت کی جاتی ہے حضرت ابن عباس نے فرمایا اس معنی ہے فرشتے حضرت جبرائیل امین کی اطاعت کرتے ہیں جب وہ رسول اللہ کو معراج پرلے گئے تو حضرت جبرائیل امین نے رضوان فرشتہ جو جنت کے خازن تھے سے فرمایا، آپ کے لیے دروازہ کھول دو ، اس نے دروازہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–20
66۔ ابن المنذر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت انہ لقول رسول کریم یہ قرآن ایک معزز رسول کا لا یا ہوا ہے سے مراد جبریل (علیہ السلام) ہیں۔
67۔ عبدالرزاق وعبد بن حمید وابن المنذر نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت انہ لقول رسول کریم سے مراد ہے جبریل (علیہ السلام) ہیں اور آیت ولقد راٰہ بالافق المبین اور اس نے اس کو کھلے کنارے پر بھی دیکھا ہے۔ ہم بیان کرتے تھے کہ اسی آیت سے مراد وہ افق ہے جس سے دن آتا ہے۔ اور دوسرے لفظ میں یوں کہ افق سے مراد وہ مقام ہے ہم بیان کرتے تھے کہ اسی آیت سے مراد وہ افق ہے جس سے دن آتا ہے۔ اور دوسرے لفظ میں یوں ہے کہ افق سے مراد وہ مقام ہے جہاں سے سورج طلوع ہوتا ہے۔
68۔…
Read the full tafseer →[ذِيْ قُوَّةٍ : جو قوت والا ہے ][ عِنْدَ ذِي الْعَرْشِ مَكِيْن : عرش والے کے پاس رتبہ والا ہے ]
(آیت۔ 20 ۔ 21) ذِیْ قُوۃٍ ۔ مَکِیْنٍ ۔ مُطَاعٍ اور اَمِیْنٍ ، یہ سب رَسُوْلٍ کَرِیْمٍ کی صفت ہونے کی وجہ سے حالت جَر میں ہیں اور یہ صفات بتارہی ہیں کہ گزشتہ آیت میں رَسُوْلٍ کَرِیْمٍ سے مراد حضرت جبریل (علیہ السلام) ہیں۔
نوٹ۔ 2: آیات۔ 20 ۔ 21 ۔ میں حضرت جبریل (علیہ السلام) کی مزید صفات بیان کی گئی ہیں تاکہ اچھی طرح واضح ہوجائے کہ قرآن کِس محفوظ ومامون اور پاکیزہ ذریعہ سے اترا ہوا کلام ہے۔ مُطَاعٍ یعنی جو فرشتے ان کی ماتحتی میں ہیں وہ سب بےچوں و چرا ان کی اطاعت کرتے ہیں۔ مجال نہیں ہے کہ سرِمُو ان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–22
﴿وَ الصُّبْحِ اِذَا تَنَفَّسَۙ0018﴾ (اور قسم ہے صبح کی جب وہ سانس لے) یعنی جب وہ آنے لگے (اس سے فجر اول مراد ہے) ان چیزوں کی قسم کھا کر فرمایا کہ بلاشبہ یہ قرآن کلام ہے رسول کریم کا جسے ایک معزز فرشتہ لایا ہے یہ فرشتہ قوت والا ہے اور مالک عرش کے نزدیک رتبہ والا ہے اور وہاں یعنی آسمان میں اس کی بات مانی جاتی ہے اور وہ فرشتہ امانت دار ہے جو وحی کو بالکل صحیح صحیح پہنچاتا ہے۔ اس میں حضرت جبرائیل (علیہ السلام) کی صفات بیان فرمائی ہیں جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس کلام یعنی قرآن کریم کو لایا کرتے تھے اور رسول اللہ ﷺ تک پہنچاتے تھے اس کے بعد رسول اللہ ﷺ کی ذات گرامی کے بارے میں ارشاد فرمایا کہ یہ جو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–29
ہولناک مناظر روز قیامت و پیشی اعمال و فیصلہ جزاء وسزا :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” اذا الشمس کورت ....... الی ...... الا ان یشآء اللہ رب العلمین “۔
(ربط) سورة عبس کا مضمون دراصل اثبات قیامت کے موضوع ہی پر مشتمل تھا اور مقصد بیان یہ تھا کہ انسان کی سعادت و فلاح اور عزت و عظمت اپنی زندگی اپنے پروردگار کے ساتھ وابستہ رکھنے اور فکر آخرت میں ہے، اس کے برعکس وہ مغرور ومتکبر جو نہ خدا پر ایمان لاتا ہے اور نہ ہی اس کو آخرت کی فکر ہے وہ خدا کی نظروں میں ذلیل و حقیر ہے، طالب حق اور سعادت کی فکر میں لگے رہنے والا انسان ہی بارگاہ رسالت میں ہر عزت واکرام کا مستحق ہے، آخر میں قیامت کے روز کی پریشانی اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–21
5:۔ ” انہ لقول “ یہ زجر کے لیے تمہید ہے اور دلیل وحی کی طرف اشارہ ہے یعنی عقلی نمونہ اور دلیل وحی کی طرف اشارہ ہے یعنی عقلی نمونہ تو تم نے سن لیا اب یہ بھی سن لو کہ میں جو کچھ کہتا ہوں اپنی طرف سے نہیں کہتا بلکہ وحی سے کہتا ہوں اور وحی وہ فرشتہ لاتا ہے جو بڑی قوت کا مالک اور عرش والے بادشاہ کے نزدیک بڑی عزت اور بڑے مرتبے والا اور امین ہے۔ وہ ساتوں آسمانوں کے فرشتوں میں حاکم مطاع ہے تمام فرشتے اس کے احکام کی تعمیل کرتے ہیں مراد جبریل (علیہ السلام) ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–29
(جبرائیل (علیہ السلام) اپنی اصلی صورت میں)
جیسے کہ پہلے بیان ہوا جبرائیل (علیہ السلام) کا تعلق قرآن پاک کے واسطہ سے نظام بالا کے ساتھ ہے۔ چناچہ ارشاد ربانی ہے۔ ولقد راہ بالا فق المبین یعنی نبی (علیہ السلام) نے جبرائیل (علیہ السلام) کو کھلے کنارے پر دیکھا ہے۔ حدیث (ب 1 بخاری ص 3 ج 1 ومسلم ص 10 ج 1) شریف میں آتا ہے کہ ابتدائے نبوت کے زمانہ میں حضور ﷺ نے حضرت جبرائیل (علیہ السلام) کو اپنی اصل شکل میں دیکھا تھا جبرائیل (علیہ السلام) کرسی پر بیٹھے تھے اور آسمانی فضا بھی بھری ہوئی آپ نے مشاہدہ کیا تو دہشت طاری ہوگئی تشریف لائے اور فرمایا مجھ پر کمبل ڈال دو پھر آپ نے سارا واقعہ بیان کیا۔ اس کے بعد…
Read the full tafseer →ذِيْ قُوَّۃٍ عِنْدَ ذِي الْعَرْشِ مَكِيْنٍ 20 ۙ
ذو
ذو علی وجهين : أحدهما : يتوصّل به إلى الوصف بأسماء الأجناس والأنواع، ويضاف إلى الظاهر دون المضمر، ويثنّى ويجمع، ويقال في المؤنّث : ذات، وفي التثنية : ذواتا، وفي الجمع : ذوات، ولا يستعمل شيء منها إلّا مضافا، قال : وَلكِنَّ اللَّهَ ذُو فَضْلٍ [ البقرة/ 251] ، وقال : ذُو مِرَّةٍ فَاسْتَوى [ النجم/ 6] ، وَذِي الْقُرْبى [ البقرة/ 83] ، وَيُؤْتِ كُلَّ ذِي فَضْلٍ فَضْلَهُ [هود/ 3] ، ذَوِي الْقُرْبى وَالْيَتامی [ البقرة/ 177] ، إِنَّهُ عَلِيمٌ بِذاتِ الصُّدُورِ
[ الأنفال/ 43] ، وَنُقَلِّبُهُمْ ذاتَ الْيَمِينِ وَذاتَ الشِّمالِ [ الكهف/ 18] ،…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–29
ترکیب ¦ فلما الفاء للتفریع اوالتعقیب ولا زائدۃ کما مر تحقیقھا فی سورة القیامۃ بالخنس المقسم بہ وھی جمع خانس و خانستہ من خنس اذا تاخروفی الصحاح الخنس الکواکب کلھا انھا تخنس فی المغیب اولانھا تخفی نھاراً وقیلھی الکواکب الخمس زحل والمشتری والمریخ والزھرۃ و عطارد و فی الکبیر الخنس 1 ؎ جمع خانس والخنوس الانقباض والاستخفاء تقول خنس من بین القوم وتخنس و فی الحدیث الشیطان یوسوس ای العبد فاذا ذکر اللہ خنس ولذاسمی الخناس۔ الجوار جمع جاریۃ وھی السیارات لانھا تجری۔ وھی صفۃ الخنس۔ الکنس جمع کانس وکانستہ یقال کنس اذا دخل الکناس وھو مقرالوحش کنس کناس بالکسر خواب جائے آہو و پنہان شدن اودر آنجا (عع1 ک 2) کنس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–21
ذِیْ قُوَّۃٍ عِنْدَ ذِی الْعَرْشِ مَکِیْنٍ ۔ مُّطَاعٍ ثَمَّ اَمِیْنٍ ۔ (التکویر : 20، 21)
(جو بڑی قوت والا ہے اور عرش والے کے ہاں بہت بلند مرتبہ ہے۔ اس کی اطاعت کی جاتی ہے وہ نہایت امین بھی ہے۔ )
حضرت جبرائیل (علیہ السلام) کی صفات
حضرت جبرائیل (علیہ السلام) کی پہلی صفت بیان کی گئی ہے کہ وہ بڑی قوت والے ہیں۔ سورة نجم میں آپ کو شدیدالقویٰ کہا گیا ہے۔ اس کا مفہوم بھی یہی ہے۔ بتانا یہ ہے کہ وہ فرشتہ جو اللہ تعالیٰ کا کلام لے کر اترتا ہے وہ نہایت زور اور قوت والا ہے۔ شیطانی قوتوں کی یہ مجال نہیں کہ وہ اس کو مرعوب یا مغلوب یا متأثر کرسکیں۔ اور جب وہ کلام ِ خداوندی کو لے کر اترتے ہیں اس میں سے کسی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–29
فہم القرآن
ربط کلام : قرآن مجید کی دعوت کا تیسرا مضمون قیامت ہے جو ہر صورت قائم ہو کر رہے گی۔ اہل مکہ نہ صرف قیامت کا انکار کرتے تھے بلکہ اس وجہ سے قرآن مجید کو ماننے کے لیے تیار نہیں تھے کہ یہ ” اللہ “ کی کتاب ہے۔ اس لیے یہاں ایک مرتبہ پھر وضاحت کی جا رہی ہے کہ قرآن مجید اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل کیا گیا ہے۔
یہ بات کئی مرتبہ عرض ہوچکی ہے کہ قرآن مجید کے بنیادی مضامین تین ہیں۔ توحید، رسالت اور آخرت۔ باقی مسائل انہیں کی تفصیل اور تقاضے ہیں۔ قرآن مجید ان عقائد پر بار بار زور دیتا ہے کیونکہ مکہ کے لوگ کسی نہ کسی انداز میں ان تینوں باتوں کا انکار کرتے تھے جس بنا پر ان کی کوشش تھی کہ لوگوں کی…
Read the full tafseer →20 : ذِیْ قُوَّۃٍ عِنْدَ ذِی الْعَرْشِ مَکِیْنٍ (جوقوت والا ہے۔ مالک عرش کے نزدیک ذی مرتبہ ہے) ذی قوۃؔ جس بات کا اس کو ذمہ دار بنایا گیا اس پر اس کو پوری قدرت و طاقت حاصل ہے اس کام سے عاجز نہیں رہتا اور نہ کمزوری دکھاتا ہے۔
عندذی العرشؔ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں مکینؔ مرتبہ و مقام والا ہے۔ مرتبہ کا حال مرتبہ بنانے والی ذات کے مطابق ہوتا ہے تو اسی لئے فرمایا : عند ذی العرش کہ اس کی بارگاہ میں) تاکہ اس کے اعلیٰ مرتبہ و مقام پر دلالت ہو۔
Read the full tafseer →19 ۔” انہ “ یعنی قرآن۔ ” لقول رسول کریم “ یعنی جبرئیل (علیہ السلام) ، یعنی اس کے ساتھ جبرئیل (علیہ السلام) اترے ہیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–29
15۔ 29۔ خنس کے معنی پچھے ہٹ جانے اور کنس کے معنی نکلنے کے ہیں مطلب یہ ہے کہ تارے جو دن کو سورج کی روشنی میں چھپ جاتے ہیں اور رات کو نکل آتے ہیں ان کی اور اول شب کی تاریکی اور طلوع صبح کی تاکید کے طور پر قسم کھا کر اللہ تعالیٰ نے قرآن کو کلام اللہ اور محمد ﷺ کو اللہ کا رسول فرمایا ہے اگرچہ بعض مفسروں نے لکھا ہے کہ انہ لقول رسول کریم میں رسول سے مراد آنحضرت ﷺ کی ذات ہے لیکن صحیح قول وہی ہے جو امام المفسرین 2 ؎ حضرت عبد اللہ بن عباس اور سلف نے فرمایا ہے کہ رسول سے مراد اس آیت میں حضرت جبرئیل (علیہ السلام) ہیں کیونکہ مشرکین مکہ کبھی کہتے تھے انما یعلمہ بشر۔ کبھی کہتے تھے افتری علی اللہ کذبا ام بہ…
Read the full tafseer →(ذِيْ قُوَّةٍ ) اللہ تعالیٰ نے اسے جو حکم دیا اس کی تعمیل کی قوت اور طاقت رکھنے والا ہے۔ یہ جبرائیل کی قوت تھی انہوں نے حضرت لوط کی قوم کی بستیوں کو ان پر الٹ کر ان کو ہلاک کر ڈالا۔ ( عِنْدَ ذِي الْعَرْشِ ) عرش والے کے پاس۔ یعنی جبرائیل (علیہ السلام) اللہ تعالیٰ کے ہاں بہت مقرب ہیں اللہ تعالیٰ کے ہاں ان کی خاص اور بلند وقدر ومنزلت ہے جس سے اللہ تعالیٰ نے ان کو مختص کیا ہے ( مَكِيْنٍ ) یعنی تمام ملائکہ سے بڑھ کر ان کی قدرومنزلت ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–22
(16) دعوائے مقصود کا ذکر وبیان : سو اوپر کی دونوں قسموں کے مقسم علیہ یا بالفاظ دیگر اصل دعوائے مقصود کے ذکر وبیان کے طور پر ارشاد فرمایا گیا اور " ان " کے کلمہ تاکید کے ساتھ موکد کر کے ارشاد فرمایا گیا کہ بلا شبہ یہ قرآن لایا ہوا کلام ہے ایک بڑے باعزت رسول کا، یعنی یہ اضافت اس کلام حکیم کے انزال و ایصال کے اعتبار سے ہے، کہ جبریل امین جو کہ یہاں پر ان صفات کا مصداق ہیں وہی قرآن حکیم کو حضرت حق جل مجدہ کی طرف سے لانے والے ہیں، اس لیے اس کو ان کی طرف منسوب فرمایا گیا ہے، ورنہ یہ کلام معجز نظام ان کا نہیں حضرت حق سبحانہ و تعالیٰ کا کلام ہے، جو کہ اس کے بندوں کے پاس ان دو واسطوں سے آتا ہے، ایک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–29
قرآن جس میں کوئی شک نہیں۔ تقدیر کیا ہے ؟
تشریح : یہاں 15 اور 16 آیات میں آسمانی فزکس Astrophysics کے بنیادی اصول بیان کئے گئے ہیں۔ '' خنس '' یعنی چھپنے والے تارے۔ اور '' کنس ''۔ یعنی ایک مخصوص راستہ کا محور کسی چلتی ہوئی چیز میں دبک جانے والا۔ ڈاکٹر ہلوک نور باقی صاحب اس کی وضاحت بڑے خوبصورت انداز میں کرتے ہیں لکھتے ہیں۔ '' اللہ قسم کھاتا ہے ان تمام طبیعاتی قوانین کی جو ساری کائنات کی وسعتوں میں کار فرما ہیں۔ جس کی طرف اشارہ ان دو آیات مبارکہ میں کیا گیا ہے۔ ہر مخلوق ایک خنس اور ایک کنس کی حالت میں ہے۔ ایک خوش اسلوب اور ہم آہنگ روانی یا بہنا ہے جب کہ دوسرا ہٹتے ہوئے پردہ کرنے کی طرح ہے جیسے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–29
سورة التکویر۔
آیات 1 تا 29۔
اسرار ومعارف۔
جب سورج بےنور ہوجائے گا اور ستارے ٹوٹ کر گرجائیں گے اور جب پہاڑ اکھیڑ کر اڑادیے جائیں گے اور لوگوں کو مال و دولت بھول جائے گا کہ عربوں کے نزدیک دس ماہ کی گابھن اونٹنی سب سے قیمتی اثاثہ سمجھی جاتی ہے ہر وقت دم کے ساتھ لگے پھرتے تھے کہ صحرا میں اس کادودھ نعمت غیر مترقہ ہوتا تھا مگر وہ بھی آوارہ پھر رہی ہوں گی یعنی لوگوں کو مال وزر کا ہوش نہ رہے گا اور نفخہ اولی سے گھبرا کر جنگلی جانور اور درندے آبادیوں میں آگھسیں گے اور دریا سمندر میں مل جائیں گے کہ زمین شق ہوجائے گی اور پھر ان میں اجرام فلکی گریں گے تو بھاپ بن کر اڑجائیں گے اور پھر فضا میں وہ بھاپ آگ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–23
ف 13 یعنی آنحضرت ﷺ نے حضرت جبریل ( علیہ السلام) کو آسمان کے کھلے کنارے پر ان کی اصلی شکل میں دیکھا۔ یہ واقعہ مقام بطحا کا ہے جب آنحضرت ﷺ نے جبریل ( علیہ السلام) کو پہلی مرتبہ دیکھا۔ سورة النجم آیت : وعلمہ شدید القوی، میں یہ بحث گزرچکی ہے۔
Read the full tafseer →(81:20) ذی قوۃ عند ذی العرش مکین : اس آیت اور اس سے اگلی آیت میں رسول کریم کی چند صفات بیان کی گئی ہیں کہ وہ رسول کریم بڑا طاقت ور ہے مالک عرش کی جناب میں اس کا رتبہ بڑا بلند ہے اور تمام ملائکہ اس کے حکم کی تعمیل کرتے ہیں اور ان کی امانت میں کسی کو ادنیٰ واہمہ بھی نہیں۔ (جب لانے والا ان اوصاف عالیہ سے متصف ہو اور ان مراتب رفیعہ پر فائز ہو تو کون یہ خیال کرسکتا ہے کہ اس نے اس کلام میں کوئی کمی بیشی کی ہوگی) ۔
ذی قوۃ یہ رسول کریم کی دوسری صفت ہے پہلی صفت آیت سابقہ میں کریم آئی ہے۔ رسول بوجہ مضاف الیہ مجرور ہے چونکہ صفت اعراب میں اپنے موصوف کے تابع ہوتی ہے اس لئے کریم مجرور آیا ہے۔ ذی قوۃ مضاف…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–29
لغات القرآن۔
کورت۔ لپیٹ دے گیا۔ انکدرت۔ ماند پڑگئی۔ (پڑ گئے) سیرت۔ چلا دی گئی۔ العشار۔ گابھن اونٹنیاں۔ عطلت۔ چھٹ کر پھری۔ الوحوش (وحش) ۔ جنگلی جانور۔ حشرت۔ آپس میں گڈ مڈ ہوجائیں۔ سجرت۔ جھونکے گئے۔ زوجت۔ جوڑے جوڑے بنا دئیے گئے۔ الموئو دۃ ۔ زمین میں گاڑدی گئی لڑکی۔ سئلت۔ پوچھا گیا۔ الصحف۔ اعمال نامے۔ نشرت۔ پھیلا دئیے۔ کشطت۔ پرت کے پرت اتا رلئے گئے۔ کھال کھینچ لی گئی۔ سعرت۔ بھڑکائی گئی۔ ازلف۔ قریب کردی گئی۔ احضرت۔ وہ لے کر حاضر ہوا۔ الخنس۔ پیچھے ہٹ جانے والے۔ الکنس۔ چھپ جانے والے۔ عسعس۔ پھیل گیا۔ تنفس۔ روشن ہوا۔ مکین۔ مرتبہ والا۔ مطاع۔ جس کی اطاعت کی جائے۔ کہا مانا جائے۔ الافق۔ کنارہ۔ بضنین۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–21
(ف 2) یہ حضرت جبرائیل (علیہ السلام) کی صفات بیان ہوئیں مطلب یہ ہے کہ قرآن کریم جو اللہ کے پاس سے ہم تک پہنچا اس میں دو واسطے ہیں۔ ایک وحی لانے والافرشتہ جبرائیل علیہ السلام۔ دوسرا پیغمبر عربی کی دونوں کی صفات وہ ہیں جن کے معلوم ہونے کے بعد کسی طرح کا شک وشبہ قرآن کے صادق، اور منزل من اللہ ہونے میں نہیں رہتا، کسی روایت کی صحت تسلیم کرنے کے لیے اعلی سے اعلی راوی وہ ہوتا ہے جو اعلی درجہ کا ثقہ ، عادل ، ضابط، حافظ اور امانت دار ہو، جس سے روایت کرے اس کے پاس عزت و حرمت کے ساتھ رہتا ہو بڑے بڑے معتبر ثقات اس کی امانت وغیرہ پر اعتماد کلی رکھتے ہیں اور اسی لیے اس کی بات بےچون وچرا مانتے ہوں، یہ تمام…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–20
[11] مراد ہیں جبرائیل (علیہ السلام) جیسا کہ آگے کی آیات سے واضح ہے۔
[12] یہ ہے وہ بات جس کے ثابت کرنے کے لئے یہ قسمیں کھائی گئی ہیں۔ مطلب ان قسموں کا یہ ہے کہ نبی ﷺ نے تاریکی میں کوئی خواب نہیں دیکھا تھا بلکہ جب ستارے چھپ گئے تھے، رات ختم ہوگئی تھی اور صبح نمودار ہوگئی تھی اس وقت کھلے آسمان پر آپ نے اللہ کے فرشتے کو دیکھا تھا۔ اس لئے آپ جو کچھ بیان کر رہے ہیں وہ چشم دید مشاہدے اور دن کی روشنی میں پیش آنے والا تجربے پر مبنی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–21
آفتاب نبوت کا طلوع
1: قرآن کے متعلق یہ شبہ تھا کہ یہ کلام جناب رسالت مآب ﷺ نے اپنی طرف سے پیش کیا ہے ۔ جبرائیل (علیہ السلام) کی وساطت سے نازل نہیں ہوا ۔ اس کا جواب مرحمت فرمایا ہے کہ ان پانچ سیاروں کو دیکھو جن کو مریخ زحل ۔ مشتری ۔ زہرہ اور عطارد کہتے ہیں کہ یہ جس وقت چلتے چلتے مشرق کی جانب گھوم جاتے ہیں اور جس وقت تاریک رات جانے لگتی ہے اور صبح صادق کا وقت ہوتا ہے اور آفتاب کی آمد آمد ہوتی ہے ۔ کیا اس وقت دن کی تابندگی اور روشنی میں کوش شک وارتباب باقی رہتا ہے اور کیا اس وقت سوائے آفتاب کے اور کوئی دلیل آفتاب کے وجود کو پیش کی جاسکتی ہے ۔ ع ” آفتاب آمد دلیل آفتاب “
ٹھیک اسی طرح جس طرح کہ یہ…
Read the full tafseer →(20) جو بڑی قوت والا صاحب عرش کے نزدیک ذی مرتبہ ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–21
ف 2۔ یعنی فرشتے اس کا کہنا مانتے ہیں۔
3۔ امانت دار ہے کہ وحی کو صحیح صحیح بےکم وکاست پہنچا دیتا ہے، پس وحی لانے والا تو ایسا ہے، آگے جن پر وحی نازل ہوئی ان کی نسبت ارشاد ہے کہ۔ (آگے دیکھو ترجمہ)
Read the full tafseer →وہ بڑی قوت والا ہے اور صاحب عرش کے حضور بڑا درجہ رکھنے والا ہے
20 ؎ وہ فرشتہ جس کے ذریعہ یہ قرآن کریم محمد رسول اللہ ﷺ کے سینہ اقدس پر نازل کیا گیا ہے وہ اللہ رب ذوالجلال والاکرام کے ہاں بہت ہی بزرگی والا ہے اور یہ بھی کہ اس کا قیام بھی نہایت محفوظ جگہ پر ہے جو عرش کریم ہی کے پاس ہے ۔ جان لینا چاہئے کہ اللہ رب ذوالجلال والاکرام کسی قسم کی جہت ، طرف ، سمت اور جگہ پر قیام کرنے سے پاک ہے ۔ وہ ہر گہ موجود اور ہر وقت موجود ہے لیکن اس کے باوجود انسانوں کی تفہیم کے لیے اس کا آسمانوں میں رہنا بلندیوں کی طرف اس کی نسبت پاک کو کرنا محض تفہیم انسانی کے لیے ہے جب کسی مرئی شخصیت کا ذکر کیا جاتا ہے تو جو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–29
إِنَّهُ لَقَوْلُ رَسُولٍ كَرِيمٍ ذِي قُوَّةٍ عِندَ ذِي الْعَرْشِ مَكِينٍ (it [ the Qur'an ] is surely the word of a noble messenger [ Jibra'il ], the one possessing power and a high status with the Lord of the Throne...81:19-20). This is the subject of oath that affirms that Qur'an is the word brought by a noble messenger. Then three qualities are attributed to this noble messenger. The first quality is that he possesses power. The second quality is that he has high status and lofty rank with Allah, and he is obeyed in the upper realm. The third quality is that he is trusted, and there is…
Read the full tafseer →15 Surah An-Najm: 45, deals with the same theme, thus "It is but a Revelation which is sent down to him. One, mighty in power, has taught him. " As to what is implied by the mighty powers of the Angel Gabriel (peace be upon him) is ambiguous. In any case it at least shows that he is distinguished even among the angels because of his extraordinary powers. In Muslim (kitab- al-iman) Hadrat `A'ishah has reported the Holy Prophet's saying to the effect: "I have twice seen Gabriel in his real shape and form: his glorious being was encompassing the whole space between the earth and the heavens."…
Read the full tafseer →