At-Takwir 81:19

At-Takwir · from ayah 19

81:19

اِنَّهٗ لَقَوْلُ رَسُوْلٍ كَرِیْمٍ ۟ۙاِنَّهٗ لَقَوۡلُ رَسُوۡلٍ كَرِيۡمٍ

کہ بےشک یہ (قرآن) فرشتہٴ عالی مقام کی زبان کا پیغام ہے

— Fateh Muhammad Jalandhari

[That] indeed, the Qur'an is a word [conveyed by] a noble messenger

— Saheeh International

Juz 30 · Ruku 1 of surah · Ruku 6 of juz

Read the whole surah · Surah At-Takwir

All translations of 81:19

یہ فی الواقع ایک بزرگ پیغام بر کا قول ہے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

کہ بےشک یہ (قرآن) فرشتہٴ عالی مقام کی زبان کا پیغام ہے

— مولانا فتح محمد جالندہری

یقیناً یہ ایک بزرگ رسول کا کہا ہوا ہے

— مولانا محمد جوناگڑہی

کہ یہ (قرآن) یقینی طور پر ایک معزز فرشتے کا لایا ہوا کلام ہے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

بیشک یہ عزت والے رسول کا پڑھنا ہے،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

بیشک یہ (قرآن) بڑی عزت و بزرگی والے رسول کا (پڑھا ہوا) کلام ہے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

بیشک یہ یقینا ایک ایسے پیغام پہنچانے والے کا قول ہے جو بہت معزز ہے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

کہ یہ (قرآن) ایک معزز رسول (فرشتے) کا قول ہے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

کہ یہ ایک باعزت رسول کا لایا ہوا کلام ہے۔

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

بلاشبہ یہ (قرآن لایا ہوا) کلام ہے ایک ایسے باعزت رسول کا

— مولانا اسحاق مدنی

کہ یہ (قرآن) ایک کلام ہے ایک معزز قاصد کا (لایا ہوا)

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

یقینا یہ (قرآن) ایک بہت باعزت پیغامبر کا قول ہے۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

کہ بیشک یہ قرآن فرشتہ عالی مقام کی زبان کا پیغام ہے

— محترمہ رفعت اعجاز

Verily this is the word of a noble message-bearer;

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

it (the Qur‘an) is surely the word of a noble messenger (Jibra‘il X) ,

— Muhammad Taqi Usmani

it (the Qur‘an) is surely the word of a noble messenger (Jibra‘il X) ,

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Verily, this is the Word a most honorable messenger.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

That this is in truth the word of an honoured messenger,

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

[That] indeed, the Qur'an is a word [conveyed by] a noble messenger

— Saheeh International

that the Quran is the word of the honorable angelic, mighty Messenger

— Muhammad Sarwar

Most surely it is the Word of an honored messenger,

— Muhammad Habib Shakir

Verily it is a Word brought by a messenger honoured,

— Abdul Majid Daryabadi

Verily this is the word of a most honourable Messenger,

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 81:19

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 15–29

ستارے، نیل گائے اور ہرن حضرت عمرو بن حریث ؓ فرماتے ہیں کہ میں نے صبح کی نماز میں رسول اللہ ﷺ کو اس سورة کی تلاوت کرتے ہوئے سنا اس نماز میں میں بھی مقتدیوں میں شامل تھا (مسلم) یہ ستاروں کی قسمیں کھائی گئی ہیں جو دن کے وقت پیچھے ہٹ جاتے ہیں یعنی چھپ جاتے ہیں اور رات کو ظاہر ہوتے ہیں حضرت علی ؓ ہی فرماتے ہیں اور بھی صحابہ تابعین وغیرہ سے اس کی یہی تفسیر مروی ہے بعض ائمہ نے فرمایا ہے طلوع کے وقت ستاروں کو خنس کہا جاتا ہے اور اپنی اپنی جگہ پر انہیں جوار کہا جاتا ہے اور چھپ جانے کے وقت انہیں کنس کہا جاتا ہے بعض نے کہا ہے اس سے مراد جنگلی گائے ہے یہ بھی مروی ہے کہ مراد ہرن ہے۔ ابراہیم نے حضرت مجاہد…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة التَّكْوِیْر 14 اس مقام پر بزگ پیغامبر (رسول کریم) سے مراد وحی لانے والا فرشتہ ہے جیسا کہ آگے کی آیات سے بصراحت معلوم ہو رہا ہے۔ اور قرآن کو پیغام بر کا قول کہنے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ یہ اس فرشتے کا اپنا کلام ہے، بلکہ " قول پیغامبر " کے الفاظ خود ہی یہ ظاہر کر رہے ہیں کہ یہ اس ہستی کا کلام ہے جس نے اسے پیغامبر بنا کر بھیجا ہے۔ سورة الحاقۃ آیت 40 میں اسی طرح قرآن کو محمد ﷺ کا قول کہا گیا ہے اور وہاں بھی مراد یہ نہیں ہے کہ یہ حضور کا اپنا تصنیف کردہ ہے بلکہ اسے " رسول کریم " کا قول کہہ کر وضاحت کردی گئی ہے کہ اس چیز کو حضور خدا کے رسول کی حیثیت سے پیش کر رہے ہیں نہ کہ محمد بن عبداللہ کی…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 19–29

اِنَّهٗ لَقَوْلُ رَسُوْلٍ كَرِيْمٍ 19 ۝ ۙذِيْ قُوَّةٍ الخ، ستاروں کی قسم کے بعد فرمایا کہ یہ قرآن قول ہے کہ ایک رسول کریم کا، آگے اس رسول کریم کی صفت ایک تو یہ بیان فرمائی کہ وہ ذی قوت ہے، دوسری یہ کہ رب العرش کے پاس وہ مطاع ہے کہ اسکے احکام عرش والے مانتے ہیں، تیسری یہ کہ وہ اللہ کے نزدیک امین ہے اس سے پیغام لانے اور پہنچانے میں کسی خیانت اور کمی نیشن کا امکان نہیں۔ اس جگہ رسول کریم سے مراد بظاہر جبریل امین ہیں کیونکہ لفظ رسول کا جیسے انبیاء پر اطلاق ہوتا ہے ایسے ہی فرشتوں کے لئے بھی یہ لفظ بولا جاتا ہے اور آگے جتنی صفات رسول کی بیان کی گئی ہیں وہ سب جبریل امین پر بغیر کسی تکلف و تاویل کے…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

اصل دعویٰ: یہ مذکورہ بالا دونوں قسموں کا مقسم علیہ یا بالفاظ دیگر وہ اصل دعویٰ ہے جس کو ثابت کرنے کے لیے یہ قسمیں کھائی گئی ہیں۔ فرمایا کہ بے شک یہ قرآن ایک معزز و مکرم فرستادۂ الٰہی کا لایا ہوا کلام ہے۔ ’رسول‘ سے یہاں مراد حضرت جبریل ہیں۔ آگے جو صفات بیان ہوئی ہیں اور جن کی وضاحت آ رہی ہے ان سے معین ہو جائے گا کہ ان صفات کے موصوف حضرت جبریل علیہ السلام ہی ہو سکتے ہیں۔ یہی بات آگے آیت ۲۵ میں منفی پہلو سے بھی فرما دی گئی ہے جس سے لفظ ’کریم‘ کا اصل موقع و محل واضح ہوتا ہے۔ فرمایا ہے: ’وَمَا ہُوَ بِقَوْلِ شَیْْطَانٍ رَجِیْمٍ‘ (اور یہ کسی راندۂ درگاہ شیطان کی القاء کی ہوئی بات نہیں ہے)۔ مطلب یہ…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 19–21

19۔ 1 اس لئے کہ وہ اسے اللہ کی طرف سے لے کر آیا ہے۔ مراد حضرت جبرائیل علیہ الاسلام ہیں۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 19–20

9: اس سے مراد حضرت جبرئیل ؑ ہیں جو آنحضرت ﷺ کے پاس وحی کے ذریعے قرآن کریم لایا کرتے تھے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 19–21

انہ لقول ............................ امین (19:81 تا 21) ” یہ فی الواقع ایک بزرگ پیغمبر کا قول ہے ، جو بڑی توانائی رکھتا ہے ، عرش والے کے ہاں بلند مرتبہ ہے ، وہاں اس کا حکم مانا جاتا ہے ، وہ بااعتماد ہے “۔ یعنی یہ قرآن مجید جو آپ لوگوں کے سامنے پیش کیا جارہا ہے ، خصوصاً یہ قیامت کی ہولناکیاں جو بیان کی جارہی ہیں ، یہ رسول مکرم کا قول ہے ، یعنی جبرئیل (علیہ السلام) کا جو خدا کے فرستادہ ہیں اور جنہوں نے اس بات کو بحفاظت پہنچایا ہے اور گویا قرآن پہلے خدا کا قول ہے اور پھر جبرئیل (علیہ السلام) کا قول ہے کہ انہوں نے بطور پیغام الٰہی دہرایا ہے۔ اور یہ پیغام لانے والا ، جس کے ذمہ اس اہم پیغام کو…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 19–21

4 یہ حضرت جبرائیل کی صفات بیان ہوئیں۔ مطلب یہ ہے کہ قرآن کریم جو اللہ کے پاس سے ہم تک پہنچا اس میں دو واسطے ہیں۔ ایک وحی لانے والا فرشتہ ( جبرائیل) اور دوسرا پیغمبر عربی ﷺ دونوں کی صفات وہ ہیں جن کے معلوم ہونے کے بعد کسی طرح کا شک و شبہ قرآن کے صادق اور منزل من اللہ ہونے میں نہیں رہتا۔ کسی روایت کی صحت تسلیم کرنے کے لئے اعلیٰ سے اعلیٰ راوی وہ ہوتا ہے جو اعلیٰ درجہ کا ثقہ، عادل، ضابط، حافظ اور امانتدار ہو۔ جس سے روایت کرے اس کے پاس عزو حرمت کے ساتھ رہتا ہو۔ بڑے بڑے معتبر ثقات اس کی امانت وغیرہ پر اعتماد کلی رکھتے ہوں۔ اور اسی لئے اس کی بات بےچون و چرا مانتے ہوں۔ یہ تمام صفات حضرت جبرائیل میں…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 19{ اِنَّہٗ لَـقَوْلُ رَسُوْلٍ کَرِیْمٍ۔ } ”یقینا یہ قرآن ایک بہت باعزت پیغامبر کا قول ہے۔“ یہاں ”رَسُوْلٍ کَرِیْم“ سے مراد حضرت جبرائیل علیہ السلام ہیں۔ یہ آیت قبل ازیں سورة الحاقہ میں بھی بطور آیت 40 آچکی ہے اور وہاں ”رَسُوْلٍ کَرِیْم“ سے مراد محمد رسول اللہ ﷺ ہیں۔ سورة الحج آیت 75 میں فرمایا گیا ہے : { اَللّٰہُ یَصْطَفِیْ مِنَ الْمَلٰٓئِکَۃِ رُسُلًا وَّمِنَ النَّاسِط } ”اللہ ُ چن لیتا ہے اپنے پیغامبر فرشتوں میں سے بھی اور انسانوں میں سے بھی“۔ چناچہ فرشتوں میں سے اللہ تعالیٰ نے حضرت جبرائیل علیہ السلام کو ُ چنا اور انسانوں میں سے حضرت محمد ﷺ کو اور یوں ان دو ہستیوں کے ذریعے سے ”رسالت“…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 19–22

17 جبریل کی صفات :۔ ان تین چیزوں کی اللہ تعالیٰ نے دو باتوں پر قسم اٹھائی یا بطور شہادت یہ باتیں پیش کیں۔ ان میں سے پہل بات یہ ہے کہ یہ قرآن نہ کسی کاہن کا قول ہے نہ شاعر کا، نہ آپ کا تالیف کردہ ہے بلکہ یہ معزز رسول کا قول ہے۔ یہ رسول جبریل ہے جو اللہ کا فرستادہ اور اس کا کلام پیش کر رہا ہے لیکن چونکہ جبریل کی زبان سے ہو رہا ہے اس لیے قول کی نسبت جبریل کی طرف کی گئی ہے۔ یہ جبریل بڑا زور آور اور طاقتور ہے۔ سورة النجم میں جبریل کے لیے (شدید القوی :) اور (ذومرۃ) کے الفاظ آئے ہیں۔ یہ فرشتہ اللہ کے ہاں بڑا مقرب ہے۔ وہ ایک افسر ہے جس کی سب فرشتے اطاعت کرتے ہیں۔ علاوہ ازیں وہ امین بھی ہے۔ اللہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 15–20

6۔ (اور اس کے لائے ہوئے کلام میں یہ شبہ بھی نہیں ہوسکتا کہ شیطانی تصرف ہوا ہو، یا کہانت کی آمیزش کہیں سے ہوگئی ہو) ان صفات والے سے مراد فرشتہ وحی حضرت جبرئیل ہیں، جن کا ذکر سورة والنجم میں گزر چکا ہے ، (آیت) ” علمہ شدیدا القوی “۔ الخ، کے تحت میں (آیت) ” رسول “۔ یہ لفظ خود بتا رہا ہے کہ اسے کہیں کلام جبرئیل نہ خیال کرلینا، ان کی حیثیت اس کلام کے سلسلہ میں تو محض قاصد کی ہے۔ یہ اوصاف جبرائیلی جو بیان ہوئے ہیں ان سے معلوم ہوا کہ فرشتہ وحی منصب رسالت کا پوری طرح متحمل اور اسرار وانوار کا ہر طرح محافظ ہے۔ (آیت) ” عند ذی العرش مکین “۔ عنہ یہاں قرب جسمانی کے لیے نہیں کہ حق تعالیٰ ہر جسمانیت ومکانیت…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 8–29

واذا لموئو ودۃ سئلت، اس آیت کے انداز بیان میں ایسی شدید غضب ناکی پائی جاتی ہے، جس سیز یادہ غضب ناکی کا تصور نہیں کیا جاسکتا، بیٹی کو زندہ درگور کرنے والے والدین اللہ کی نظر میں ایسے قابل نفرت ہوں گے کہ ان کو مخاطب کر کے ان سے یہ نہ پوچھا جائے گا کہ تم نے اس معصوم کو کیوں قتل کیا ؟ بلکہ اس سے نگاہ پھیر کر معصوم بچی سے پوچھا جائے گا کہ تو بےچاری آخر کس قصور میں مار دی گئی ؟ اور وہ اپنی داستان مظلومیت سنائے گی، اس آیت کے مضمون سے ایک اہم بات خود بخود یہ سمجھ میں آتی ہے کہ اس میں آخرت کے ضروری ہونے کی ایک صریح دلیل پیش کی گئی ہے، جس لڑکی کو زندہ دفن کردیا گیا، آخر اس کی کہیں تو داد رسی ہونی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

انہ لقول رسول کریم یہ قرآن بلاشبہ اس مرسل (قاصد) کا قول ہے جو اللہ کے نزدیک معزز یہ جواب قسم ہے۔ رسول سے مراد ہیں حضرت جبرئیل یا رسول اللہ ﷺ یعنی۔ مطلب یہ ہے کہ رسول (اور قاصد) کی حیثیت سے اس کا قول ہے ‘ خود بنا کر خدا کی طرف منسوب نہیں کردیا ہے۔ 1 ؂ (نہ اس کی حیثیت محض ترجمان کی ہے) اگر رسول ............. 1 ؂ جو لوگ قرآنی عبارت کو جبرئیل کی خود ساختہ یا رسول اللہ ﷺ کی پرداختہ کہتے ہیں اور قرآن نام صرف معانی و مضامین کا قرار دیتے ہیں وہ اپنے استدلال میں اس آیت کو پیش کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ آیت صاف بتارہی ہے کہ قرآن قول رسول ﷺ ہے ‘ خدا کا قول نہیں۔ حضرت مؤلف قدس سرہٗ نے مِنْ حَیْثُ…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 19–21

(19۔ 21) ان تمام چیزوں کی قسم کھا کر اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ یہ قرآن اللہ کا کلام ہے جس کو جبریل مکرم و معزز نبی پر لے کر آئے ہیں اور وہ فرشتہ قوت والا ہے اور اس کا مالک عرش کے نزدیک رتبہ ہے اور آسمانوں میں فرشتے اسی کا کہنا مانتے ہیں اور امانت دار ہیں کہ انبیاء کرام کے پاس وحی کو صحیح پہنچا دیتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

19۔ (انہ لقول رسول کریم :) یہ ان قسموں کا جواب ہے، یعنی امر الٰہی کے پابند یہ سیارے، روزانہ جاتی ہوئی رات اور پھیلتی ہوئی صبح کا یہ مستحکم نظام زبردست شہادت ہے کہ یہ وحی رسول اللہ ﷺ کے پاس ایک نہایت معزز اور ان عظیم صفات والا فرشتہ (جبریل علیہ السلام) ہی لے کر آیا ہے۔ دن رات، سورج چاند اور ستاروں کے نظام کی طرح یہاں بھی کسی شیطان کا دخل نہیں ہوسکتا۔ اس آیت میں ”رسول“ سے مراد جبریل ؑ ہیں، کیونکہ مشرکین مکہ کبھی کہتے :(انما یعلمہ بشر) (النحل : 103) ”اسے کوئی بشر ہی سکھاتا ہے۔“ کبھی کہتے :(افتری علی اللہ کذباً ام بہ جنۃ) (سبا : 8)”کیا اس نے اللہ پر جھوٹ باندھا یا یہ دیوانہ ہے ؟“ تو اللہ تعالیٰ…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

انہ لقول رسول کریم۔ یہ جواب قسم ہے اور رسول کریم سے مراد جبرائیل امین ہیں یہی حضرت حسن، ضحاک، اور قتادہ کی طرف مضاف کیا جاتا ہے پھر اپنے اس ارشاد کے ساتھ کی نفی کردی، تنزیل من رب العالمین۔ الواقعہ) تاکہ اہل تحقیق کو معلوم ہوجائے کہ حقیقت میں اللہ تعالیٰ کا کلام ہے ایک قول یہ کیا گیا ہے کہ رسول سے مراد حضور کی ذات ہے۔

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 19–20

66۔ ابن المنذر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت انہ لقول رسول کریم یہ قرآن ایک معزز رسول کا لا یا ہوا ہے سے مراد جبریل (علیہ السلام) ہیں۔ 67۔ عبدالرزاق وعبد بن حمید وابن المنذر نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت انہ لقول رسول کریم سے مراد ہے جبریل (علیہ السلام) ہیں اور آیت ولقد راٰہ بالافق المبین اور اس نے اس کو کھلے کنارے پر بھی دیکھا ہے۔ ہم بیان کرتے تھے کہ اسی آیت سے مراد وہ افق ہے جس سے دن آتا ہے۔ اور دوسرے لفظ میں یوں کہ افق سے مراد وہ مقام ہے ہم بیان کرتے تھے کہ اسی آیت سے مراد وہ افق ہے جس سے دن آتا ہے۔ اور دوسرے لفظ میں یوں ہے کہ افق سے مراد وہ مقام ہے جہاں سے سورج طلوع ہوتا ہے۔ 68۔…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[انهٗ : بیشک یہ (قرآن)][ لَقَوْلُ رَسُوْلٍ كَرِيْمٍ : یقینا ایک بزرگ رسول (جبریل (علیہ السلام) ) کا قول ہے ] (آیت۔ 19) اِنَّہٗ میں ہٗ کی ضمیر قرآن مجید کے لیے ہے۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 18–22

﴿وَ الصُّبْحِ اِذَا تَنَفَّسَۙ0018﴾ (اور قسم ہے صبح کی جب وہ سانس لے) یعنی جب وہ آنے لگے (اس سے فجر اول مراد ہے) ان چیزوں کی قسم کھا کر فرمایا کہ بلاشبہ یہ قرآن کلام ہے رسول کریم کا جسے ایک معزز فرشتہ لایا ہے یہ فرشتہ قوت والا ہے اور مالک عرش کے نزدیک رتبہ والا ہے اور وہاں یعنی آسمان میں اس کی بات مانی جاتی ہے اور وہ فرشتہ امانت دار ہے جو وحی کو بالکل صحیح صحیح پہنچاتا ہے۔ اس میں حضرت جبرائیل (علیہ السلام) کی صفات بیان فرمائی ہیں جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس کلام یعنی قرآن کریم کو لایا کرتے تھے اور رسول اللہ ﷺ تک پہنچاتے تھے اس کے بعد رسول اللہ ﷺ کی ذات گرامی کے بارے میں ارشاد فرمایا کہ یہ جو…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 1–29

ہولناک مناظر روز قیامت و پیشی اعمال و فیصلہ جزاء وسزا : قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” اذا الشمس کورت ....... الی ...... الا ان یشآء اللہ رب العلمین “۔ (ربط) سورة عبس کا مضمون دراصل اثبات قیامت کے موضوع ہی پر مشتمل تھا اور مقصد بیان یہ تھا کہ انسان کی سعادت و فلاح اور عزت و عظمت اپنی زندگی اپنے پروردگار کے ساتھ وابستہ رکھنے اور فکر آخرت میں ہے، اس کے برعکس وہ مغرور ومتکبر جو نہ خدا پر ایمان لاتا ہے اور نہ ہی اس کو آخرت کی فکر ہے وہ خدا کی نظروں میں ذلیل و حقیر ہے، طالب حق اور سعادت کی فکر میں لگے رہنے والا انسان ہی بارگاہ رسالت میں ہر عزت واکرام کا مستحق ہے، آخر میں قیامت کے روز کی پریشانی اور…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 19–21

5:۔ ” انہ لقول “ یہ زجر کے لیے تمہید ہے اور دلیل وحی کی طرف اشارہ ہے یعنی عقلی نمونہ اور دلیل وحی کی طرف اشارہ ہے یعنی عقلی نمونہ تو تم نے سن لیا اب یہ بھی سن لو کہ میں جو کچھ کہتا ہوں اپنی طرف سے نہیں کہتا بلکہ وحی سے کہتا ہوں اور وحی وہ فرشتہ لاتا ہے جو بڑی قوت کا مالک اور عرش والے بادشاہ کے نزدیک بڑی عزت اور بڑے مرتبے والا اور امین ہے۔ وہ ساتوں آسمانوں کے فرشتوں میں حاکم مطاع ہے تمام فرشتے اس کے احکام کی تعمیل کرتے ہیں مراد جبریل (علیہ السلام) ہیں۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 19–29

(جبرائیل (علیہ السلام) اپنی اصلی صورت میں) جیسے کہ پہلے بیان ہوا جبرائیل (علیہ السلام) کا تعلق قرآن پاک کے واسطہ سے نظام بالا کے ساتھ ہے۔ چناچہ ارشاد ربانی ہے۔ ولقد راہ بالا فق المبین یعنی نبی (علیہ السلام) نے جبرائیل (علیہ السلام) کو کھلے کنارے پر دیکھا ہے۔ حدیث (ب 1 بخاری ص 3 ج 1 ومسلم ص 10 ج 1) شریف میں آتا ہے کہ ابتدائے نبوت کے زمانہ میں حضور ﷺ نے حضرت جبرائیل (علیہ السلام) کو اپنی اصل شکل میں دیکھا تھا جبرائیل (علیہ السلام) کرسی پر بیٹھے تھے اور آسمانی فضا بھی بھری ہوئی آپ نے مشاہدہ کیا تو دہشت طاری ہوگئی تشریف لائے اور فرمایا مجھ پر کمبل ڈال دو پھر آپ نے سارا واقعہ بیان کیا۔ اس کے بعد…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

اِنَّہٗ لَقَوْلُ رَسُوْلٍ كَرِيْمٍ۝ 19 ۙ قول القَوْلُ والقِيلُ واحد . قال تعالی: وَمَنْ أَصْدَقُ مِنَ اللَّهِ قِيلًا[ النساء/ 122] ( ق و ل ) القول القول اور القیل کے معنی بات کے ہیں قرآن میں ہے : ۔ وَمَنْ أَصْدَقُ مِنَ اللَّهِ قِيلًا[ النساء/ 122] اور خدا سے زیادہ بات کا سچا کون ہوسکتا ہے ۔ رسل وجمع الرّسول رُسُلٌ. ورُسُلُ اللہ تارة يراد بها الملائكة، وتارة يراد بها الأنبیاء، فمن الملائكة قوله تعالی: إِنَّهُ لَقَوْلُ رَسُولٍ كَرِيمٍ [ التکوير/ 19] ، وقوله : إِنَّا رُسُلُ رَبِّكَ لَنْ يَصِلُوا إِلَيْكَ [هود/ 81] وقال : وَالْمُرْسَلاتِ عُرْفاً [ المرسلات/ 1] ( ر س ل ) الرسل اور رسول کی جمع رسل…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 15–29

ترکیب ¦ فلما الفاء للتفریع اوالتعقیب ولا زائدۃ کما مر تحقیقھا فی سورة القیامۃ بالخنس المقسم بہ وھی جمع خانس و خانستہ من خنس اذا تاخروفی الصحاح الخنس الکواکب کلھا انھا تخنس فی المغیب اولانھا تخفی نھاراً وقیلھی الکواکب الخمس زحل والمشتری والمریخ والزھرۃ و عطارد و فی الکبیر الخنس 1 ؎ جمع خانس والخنوس الانقباض والاستخفاء تقول خنس من بین القوم وتخنس و فی الحدیث الشیطان یوسوس ای العبد فاذا ذکر اللہ خنس ولذاسمی الخناس۔ الجوار جمع جاریۃ وھی السیارات لانھا تجری۔ وھی صفۃ الخنس۔ الکنس جمع کانس وکانستہ یقال کنس اذا دخل الکناس وھو مقرالوحش کنس کناس بالکسر خواب جائے آہو و پنہان شدن اودر آنجا (عع1 ک 2) کنس…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 15–19

فَـلَآ اُقْسِمُ بِالْخُنَّسِ ۔ الْجَوَارِالْـکُنَّسِ ۔ وَالَّیْلِ اِذَا عَسْعَسَ ۔ وَالصُّبْحِ اِذَا تَنَفَّسَ ۔ اِنَّـہٗ لَقَوْلُ رَسُوْلٍ کَرِیْمٍ ۔ (التکویر : 15 تا 19) (پس نہیں ! میں قسم کھاتا ہوں پیچھے ہٹ جانے والے ستاروں کی۔ سیدھے چلنے والوں اور چھپ جانے والے ستاروں کی۔ اور رات کی جب وہ جانے لگے۔ اور صبح کی جب وہ سانس لے۔ یہ ایک باعزت رسول کا لایا ہوا کلام ہے۔ ) خُنَّسِ جمع ہے خَانِسٌ کی۔ اس کا معنی ہے آگے بڑھ کر پیچھے ہٹ جانے والے۔ یعنی ظاہر ہو کر غائب ہوجانے والے اور نمایاں ہو کر روپوش ہوجانے والے۔ الْجَوَارِالْـکُنَّسِ جواری کے معنی چلنے والے کے ہیں۔ اور کُنَسُّ جمع ہے کَانِسٌ کی۔ اس…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 15–29

فہم القرآن ربط کلام : قرآن مجید کی دعوت کا تیسرا مضمون قیامت ہے جو ہر صورت قائم ہو کر رہے گی۔ اہل مکہ نہ صرف قیامت کا انکار کرتے تھے بلکہ اس وجہ سے قرآن مجید کو ماننے کے لیے تیار نہیں تھے کہ یہ ” اللہ “ کی کتاب ہے۔ اس لیے یہاں ایک مرتبہ پھر وضاحت کی جا رہی ہے کہ قرآن مجید اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل کیا گیا ہے۔ یہ بات کئی مرتبہ عرض ہوچکی ہے کہ قرآن مجید کے بنیادی مضامین تین ہیں۔ توحید، رسالت اور آخرت۔ باقی مسائل انہیں کی تفصیل اور تقاضے ہیں۔ قرآن مجید ان عقائد پر بار بار زور دیتا ہے کیونکہ مکہ کے لوگ کسی نہ کسی انداز میں ان تینوں باتوں کا انکار کرتے تھے جس بنا پر ان کی کوشش تھی کہ لوگوں کی…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

صفاتِ جبرئیل۔ : 19 : اِنَّہٗ لَقَوْلُ رَسُوْلٍ کَرِیْمٍ (اور قرآن کلام ہے ایک معزز فرشتہ کا لایا ہوا) یہ جواب قسم ہے ہٗؔ سے قرآن مجید مراد ہے۔ رسول کریمؔ سے جبرئیل (علیہ السلام) مراد ہیں۔ قرآن مجید کی نسبت جبرئیل (علیہ السلام) کی طرف کی گئی ہے کیونکہ وہ لانے کا ذریعہ ہیں۔ کریمؔ وہ بارگاہ الٰہی میں عزت و آبرو مند ہیں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

18 ۔” والصبح اذا تنفس “ متوجہ ہو اور اس کا اول حصہ ظاہر ہو اور کہا گیا ہے اس کی روشنی لمبی ہوجائے اور بلند ہوجائے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 15–29

15۔ 29۔ خنس کے معنی پچھے ہٹ جانے اور کنس کے معنی نکلنے کے ہیں مطلب یہ ہے کہ تارے جو دن کو سورج کی روشنی میں چھپ جاتے ہیں اور رات کو نکل آتے ہیں ان کی اور اول شب کی تاریکی اور طلوع صبح کی تاکید کے طور پر قسم کھا کر اللہ تعالیٰ نے قرآن کو کلام اللہ اور محمد ﷺ کو اللہ کا رسول فرمایا ہے اگرچہ بعض مفسروں نے لکھا ہے کہ انہ لقول رسول کریم میں رسول سے مراد آنحضرت ﷺ کی ذات ہے لیکن صحیح قول وہی ہے جو امام المفسرین 2 ؎ حضرت عبد اللہ بن عباس اور سلف نے فرمایا ہے کہ رسول سے مراد اس آیت میں حضرت جبرئیل (علیہ السلام) ہیں کیونکہ مشرکین مکہ کبھی کہتے تھے انما یعلمہ بشر۔ کبھی کہتے تھے افتری علی اللہ کذبا ام بہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

اس لیے فرمایا (اِنَّهٗ لَقَوْلُ رَسُوْلٍ كَرِيْمٍ ) بیشک یہ معزز فرشتے کا قول ہے اور وہ ہے جبرائیل جو اللہ کی طرف سے اسے لے کر نازل ہوئے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا (وانہ لتنزیل رب العالمین۔ تا۔۔ المنذرین۔ الشعراء 192 تا 194) ۔ اور یہ قرآن رب کائنات کی طرف سے نازل کردہ ہے اسے روح الامین لے کر نازل ہوئے آپ کے قلب پر تاکہ آپ تنبیہ کرنے والوں میں سے ہوجائیں اللہ تعالیٰ نے اسے اس کے اچھے اخلاق اور قابل تعریف خصائل کی وجہ سے (کریم) کی صفت سے موصوف کیا ہے کیونکہ یہ فرشتوں میں سب سے ا فضل اور اپنے رب کے ہاں سب سے بڑے رتبے کا حامل ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 19–22

(16) دعوائے مقصود کا ذکر وبیان : سو اوپر کی دونوں قسموں کے مقسم علیہ یا بالفاظ دیگر اصل دعوائے مقصود کے ذکر وبیان کے طور پر ارشاد فرمایا گیا اور " ان " کے کلمہ تاکید کے ساتھ موکد کر کے ارشاد فرمایا گیا کہ بلا شبہ یہ قرآن لایا ہوا کلام ہے ایک بڑے باعزت رسول کا، یعنی یہ اضافت اس کلام حکیم کے انزال و ایصال کے اعتبار سے ہے، کہ جبریل امین جو کہ یہاں پر ان صفات کا مصداق ہیں وہی قرآن حکیم کو حضرت حق جل مجدہ کی طرف سے لانے والے ہیں، اس لیے اس کو ان کی طرف منسوب فرمایا گیا ہے، ورنہ یہ کلام معجز نظام ان کا نہیں حضرت حق سبحانہ و تعالیٰ کا کلام ہے، جو کہ اس کے بندوں کے پاس ان دو واسطوں سے آتا ہے، ایک…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 15–29

قرآن جس میں کوئی شک نہیں۔ تقدیر کیا ہے ؟ تشریح : یہاں 15 اور 16 آیات میں آسمانی فزکس Astrophysics کے بنیادی اصول بیان کئے گئے ہیں۔ '' خنس '' یعنی چھپنے والے تارے۔ اور '' کنس ''۔ یعنی ایک مخصوص راستہ کا محور کسی چلتی ہوئی چیز میں دبک جانے والا۔ ڈاکٹر ہلوک نور باقی صاحب اس کی وضاحت بڑے خوبصورت انداز میں کرتے ہیں لکھتے ہیں۔ '' اللہ قسم کھاتا ہے ان تمام طبیعاتی قوانین کی جو ساری کائنات کی وسعتوں میں کار فرما ہیں۔ جس کی طرف اشارہ ان دو آیات مبارکہ میں کیا گیا ہے۔ ہر مخلوق ایک خنس اور ایک کنس کی حالت میں ہے۔ ایک خوش اسلوب اور ہم آہنگ روانی یا بہنا ہے جب کہ دوسرا ہٹتے ہوئے پردہ کرنے کی طرح ہے جیسے…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–29

سورة التکویر۔ آیات 1 تا 29۔ اسرار ومعارف۔ جب سورج بےنور ہوجائے گا اور ستارے ٹوٹ کر گرجائیں گے اور جب پہاڑ اکھیڑ کر اڑادیے جائیں گے اور لوگوں کو مال و دولت بھول جائے گا کہ عربوں کے نزدیک دس ماہ کی گابھن اونٹنی سب سے قیمتی اثاثہ سمجھی جاتی ہے ہر وقت دم کے ساتھ لگے پھرتے تھے کہ صحرا میں اس کادودھ نعمت غیر مترقہ ہوتا تھا مگر وہ بھی آوارہ پھر رہی ہوں گی یعنی لوگوں کو مال وزر کا ہوش نہ رہے گا اور نفخہ اولی سے گھبرا کر جنگلی جانور اور درندے آبادیوں میں آگھسیں گے اور دریا سمندر میں مل جائیں گے کہ زمین شق ہوجائے گی اور پھر ان میں اجرام فلکی گریں گے تو بھاپ بن کر اڑجائیں گے اور پھر فضا میں وہ بھاپ آگ…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 17–23

ف 13 یعنی آنحضرت ﷺ نے حضرت جبریل ( علیہ السلام) کو آسمان کے کھلے کنارے پر ان کی اصلی شکل میں دیکھا۔ یہ واقعہ مقام بطحا کا ہے جب آنحضرت ﷺ نے جبریل ( علیہ السلام) کو پہلی مرتبہ دیکھا۔ سورة النجم آیت : وعلمہ شدید القوی، میں یہ بحث گزرچکی ہے۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(81:19) انہ لقول رسول کریم : یہ جملہ ہر سہ قسم اول و دوم و سوم کا جواب ہے۔ قسم اول : اقسم بالخنس۔ قسم دوم : والیل اذا عسعس۔ قسم سوم : والصبح اذا تنفس۔ ان حرف مشبہ بالفعل ہے ہ ضمیر شان واحد مذکر غائب۔ کا مرجع قرآن حکیم ہے باقی جملہ ان کی خبر ہے۔ لقول میں لام تاکید کا ہے قول مضاف رسول کریم موصوف و صفت مل کر مضاف الیہ۔ بیشک یہ (قرآن) ایک معزز رسول کی زبانی ہے۔ رسول کریم سے مراد حضرت جبرائیل (علیہ السلام) ہیں۔ جو اللہ سے اس کا کلام لے کر بنی کریم ﷺ کو پہنچاتے تھے۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 1–29

لغات القرآن۔ کورت۔ لپیٹ دے گیا۔ انکدرت۔ ماند پڑگئی۔ (پڑ گئے) سیرت۔ چلا دی گئی۔ العشار۔ گابھن اونٹنیاں۔ عطلت۔ چھٹ کر پھری۔ الوحوش (وحش) ۔ جنگلی جانور۔ حشرت۔ آپس میں گڈ مڈ ہوجائیں۔ سجرت۔ جھونکے گئے۔ زوجت۔ جوڑے جوڑے بنا دئیے گئے۔ الموئو دۃ ۔ زمین میں گاڑدی گئی لڑکی۔ سئلت۔ پوچھا گیا۔ الصحف۔ اعمال نامے۔ نشرت۔ پھیلا دئیے۔ کشطت۔ پرت کے پرت اتا رلئے گئے۔ کھال کھینچ لی گئی۔ سعرت۔ بھڑکائی گئی۔ ازلف۔ قریب کردی گئی۔ احضرت۔ وہ لے کر حاضر ہوا۔ الخنس۔ پیچھے ہٹ جانے والے۔ الکنس۔ چھپ جانے والے۔ عسعس۔ پھیل گیا۔ تنفس۔ روشن ہوا۔ مکین۔ مرتبہ والا۔ مطاع۔ جس کی اطاعت کی جائے۔ کہا مانا جائے۔ الافق۔ کنارہ۔ بضنین۔…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 19–21

(ف 2) یہ حضرت جبرائیل (علیہ السلام) کی صفات بیان ہوئیں مطلب یہ ہے کہ قرآن کریم جو اللہ کے پاس سے ہم تک پہنچا اس میں دو واسطے ہیں۔ ایک وحی لانے والافرشتہ جبرائیل علیہ السلام۔ دوسرا پیغمبر عربی کی دونوں کی صفات وہ ہیں جن کے معلوم ہونے کے بعد کسی طرح کا شک وشبہ قرآن کے صادق، اور منزل من اللہ ہونے میں نہیں رہتا، کسی روایت کی صحت تسلیم کرنے کے لیے اعلی سے اعلی راوی وہ ہوتا ہے جو اعلی درجہ کا ثقہ ، عادل ، ضابط، حافظ اور امانت دار ہو، جس سے روایت کرے اس کے پاس عزت و حرمت کے ساتھ رہتا ہو بڑے بڑے معتبر ثقات اس کی امانت وغیرہ پر اعتماد کلی رکھتے ہیں اور اسی لیے اس کی بات بےچون وچرا مانتے ہوں، یہ تمام…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 19–20

[11] مراد ہیں جبرائیل (علیہ السلام) جیسا کہ آگے کی آیات سے واضح ہے۔ [12] یہ ہے وہ بات جس کے ثابت کرنے کے لئے یہ قسمیں کھائی گئی ہیں۔ مطلب ان قسموں کا یہ ہے کہ نبی ﷺ نے تاریکی میں کوئی خواب نہیں دیکھا تھا بلکہ جب ستارے چھپ گئے تھے، رات ختم ہوگئی تھی اور صبح نمودار ہوگئی تھی اس وقت کھلے آسمان پر آپ نے اللہ کے فرشتے کو دیکھا تھا۔ اس لئے آپ جو کچھ بیان کر رہے ہیں وہ چشم دید مشاہدے اور دن کی روشنی میں پیش آنے والا تجربے پر مبنی ہے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 8–19

حل لغات :۔ الموء دۃ ۔ زندہ گاڑی ہوئی لڑکی ۔ بعض قبائل میں عزت اور شرف کا یہ غلط خیال رواج پذیر ہوگیا تھا کہ لڑکیاں ناموس اور عزت کے لئے موجب ننگ ہیں ۔ اس لئے وہ ان کو جب پیدا ہوتیں تو زندہ زمین میں گاڑ دیتے ۔ اس برائی کی طرف اشارہ ہے ۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلام سے قبل عربوں کی اخلاقی حالت کیا تھی ؟ اور اسلام نے ان لوگوں کی اصلاح کے سلسلہ میں کتنا بڑا کام کیا ۔

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(19) کہ بیشک یہ قرآن ایک معزز فرشتے کا لایا ہوا ہے - یعنی یہ قرآن اللہ تعالیٰ کا کلام ہے جس کو ایک معزز فرشتہ حضرت جبرئیل (علیہ السلام) نے پیغمبر کے پاس پہنچایا ہے پیغمبر کی حیثیت سے ان کا قول فرمایا ہے ورنہ حقیقی اضافت مقصود نہیں ہے یہ ایسا ہی ہے جیسے سنی ناقل کی طرف بات کو منسوب کردیا کرتا ہیں قرآن شریف کو مخلوق تک پہنچانے میں دو واسطے ہیں ایک حضرت جبرئیل (علیہ السلام) اور دوسرا واسطہ نبی کریم ﷺ کی ذات اقدس۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 7–21

ف 2۔ یعنی فرشتے اس کا کہنا مانتے ہیں۔ 3۔ امانت دار ہے کہ وحی کو صحیح صحیح بےکم وکاست پہنچا دیتا ہے، پس وحی لانے والا تو ایسا ہے، آگے جن پر وحی نازل ہوئی ان کی نسبت ارشاد ہے کہ۔ (آگے دیکھو ترجمہ)

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

بلا شبہ وہ قرآن کریم اللہ کا کلام ہے جو بزرگ فرشتہ کی زبان سے سنایا گیا ہے 19 ؎ گزشتہ آیتوں میں پانچ قسموں کا ذکر گزر چکا ہے ان میں سے ایک ایک قسم اپنے اندر شہادت کا وافر مضمون رکھتی ہے اور یہ مضمون شہادت محض لوگوں کی یقین دہانی کے لیے بیان کیا گیا ہے اور اس کو اس قدر مؤکد کرنے کے بعد فرمایا گیا ہے کہ یہ کلام تو اللہ رب ذوالجلال والاکرام کا ہے لیکن اس کو جس فرشتہ کی زبان سے سنوایا گیا ہے وہ فرشتہ بھی ایک بہت ہی بزرگی والا فرشتہ ہے اور اس کے بیان کرنے کا مطلب محض یہ ہے کہ تمہارا یہ کہنا سراسر باطل اور جھوٹ ہے کہ یہ قرآن خود محمد رسول اللہ ﷺ نے گھڑا ہے یا یہ کہ دوسرے لوگوں سے سیکھ کر اس کو بیان…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 19–29

إِنَّهُ لَقَوْلُ رَ‌سُولٍ كَرِ‌يمٍ ذِي قُوَّةٍ عِندَ ذِي الْعَرْ‌شِ مَكِينٍ (it [ the Qur'an ] is surely the word of a noble messenger [ Jibra'il ], the one possessing power and a high status with the Lord of the Throne...81:19-20). This is the subject of oath that affirms that Qur'an is the word brought by a noble messenger. Then three qualities are attributed to this noble messenger. The first quality is that he possesses power. The second quality is that he has high status and lofty rank with Allah, and he is obeyed in the upper realm. The third quality is that he is trusted, and there is…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

14 "A noble messenger": the Angel who brought down Revelation, as becomes explicit from the following verses. "The word of a noble messenger" dces not mean that the Qur'an is the word of the Angel himself, but, as the context shows, of Him Who appointed him a messenger. In Al-Haaqqah: 40, likewise, the Qur'an has been called the word of Muhammad (upon whom be Allah's peace and blessings) , and there too it dces not mean that it is the Holy Prophet's own composition, but describing it as "the word of an honorable messenger", it has been made clear that the Holy Prophet is presenting it in his…

Read the full tafseer →