وَالصُّبْحِ اِذَا تَنَفَّسَ ۟ۙوَالصُّبۡحِ اِذَا تَنَفَّسَ
اور صبح کی قسم جب نمودار ہوتی ہے
— Fateh Muhammad Jalandhari
And by the dawn when it breathes
— Saheeh International
Juz 30 · Ruku 1 of surah · Ruku 6 of juz
وَالصُّبْحِ اِذَا تَنَفَّسَ ۟ۙوَالصُّبۡحِ اِذَا تَنَفَّسَ
اور صبح کی قسم جب نمودار ہوتی ہے
— Fateh Muhammad Jalandhari
And by the dawn when it breathes
— Saheeh International
Juz 30 · Ruku 1 of surah · Ruku 6 of juz
Read the whole surah · Surah At-Takwir
اور صبح کی جبکہ اس نے سانس لیا
اور صبح کی قسم جب نمودار ہوتی ہے
اور صبح کی جب چمکنے لگے
اور صبح کی جب وہ سانس لے۔
اور صبح کی جب دم لے
اور صبح کی قَسم جب اس کی روشنی آنے لگے،
اور صبح کی جب وہ سانس لیتی ہے !
اور صبح کی جب وہ سانس لے
اور صبح کی جب وہ سانس لیتی ہے
اور صبح کی جب کہ وہ سانس لینے لگے
اور صبح کی جب وہ آنے لگے
اور صبح کی جب وہ سانس لے۔
اور صبح کی قسم جب نمودار ہوتی ہے
and the morn as it breathes.
and the morning when it starts breathing,
and the morning when it starts breathing,
And by the day when it Tanaffas.
And the breath of morning
— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran
And by the dawn when it breathes
and brightening morning,
And the morning when it brightens,
And by the morning when it shineth forth,
And the Dawn as it breathes away the darkness;-
— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary
Explained with ayahs 15–29
ستارے، نیل گائے اور ہرن حضرت عمرو بن حریث ؓ فرماتے ہیں کہ میں نے صبح کی نماز میں رسول اللہ ﷺ کو اس سورة کی تلاوت کرتے ہوئے سنا اس نماز میں میں بھی مقتدیوں میں شامل تھا (مسلم) یہ ستاروں کی قسمیں کھائی گئی ہیں جو دن کے وقت پیچھے ہٹ جاتے ہیں یعنی چھپ جاتے ہیں اور رات کو ظاہر ہوتے ہیں حضرت علی ؓ ہی فرماتے ہیں اور بھی صحابہ تابعین وغیرہ سے اس کی یہی تفسیر مروی ہے بعض ائمہ نے فرمایا ہے طلوع کے وقت ستاروں کو خنس کہا جاتا ہے اور اپنی اپنی جگہ پر انہیں جوار کہا جاتا ہے اور چھپ جانے کے وقت انہیں کنس کہا جاتا ہے بعض نے کہا ہے اس سے مراد جنگلی گائے ہے یہ بھی مروی ہے کہ مراد ہرن ہے۔ ابراہیم نے حضرت مجاہد…
Read the full tafseer →سورة التَّكْوِیْر 13 یہ قسم جس بات پر کھائی گئی ہے وہ آگے کی آیات میں بیان کی گئی ہے۔ مطلب اس قسم کا یہ ہے کہ محمد ﷺ نے تاریکی میں کوئی خواب نہیں دیکھا بلکہ جب تارے چھپ گئے تھے، رات رخصت ہوگئی تھی اور صبح روشن نمودار ہوگئی تھی، اس وقت کھلے آسمان پر انہوں نے خدا کے فرشتے کو دیکھا تھا۔ اس لیے وہ جو کچھ بیان کر رہے ہیں وہ ان کے آنکھوں دیکھے مشاہدے اور پورے ہوش گوش کے ساتھ دن کی روشنی میں پیش آنے والے تجربے پر مبنی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–18
عَلِمَتْ نَفْسٌ مَّآ اَحْضَرَتْ ، یعنی جب قیامت کے حالات مذکورہ پیش آویں گے اس وقت ہر انسان جان لیگا کہ وہ اپنے ساتھ کیا سامان لایا ہے۔ سامان سے مراد اس کا نیک یا بد عمل ہے کہ وہ سب اعمال اسکے سامنے آجاویں گے جو دنیا میں کئے تھے خواہ اس طرح کے صحائف اعمال میں لکھے ہوئے اسکے ہاتھ میں آجائیں یا اس طرح کے یہ اعمال کسی خاص شکل و صورت میں اسکے سامنے آویں جیسا کہ بعض روایات حدیث سے معلوم ہوتا ہے۔ واللہ اعلم، قیامت کے احوال اور ہولناک مناظر اور وہاں محاسبہ اعمال کا ذکر فرمانے کے بعد حق تعالیٰ نے چند ستاروں کی قسم کھا کر فرمایا کہ یہ قرآن حق ہے اللہ کی طرف سے بڑی حفاظت کے ساتھ بھیجا گیا ہے اور جس ذات…
Read the full tafseer →یہ دوسری قسم ہے جو اسی دعوے پر ایک دوسرے پہلو سے شہادت ہے۔ ’وَالصُّبْحِ إِذَا تَنَفَّسَ‘ میں لفظ ’تَنَفَّسَ‘ سے مقصود تو صبح کا نمودار ہونا ہی ہے لیکن اس طریقۂ تعبیر میں ایک خاص بلاغت ہے جو اصحاب ذوق سے مخفی نہیں ہے۔ یہ لفظ گویا یہ تاثر دیتا ہے کہ صبح رات کے بوجھ کے نیچے اس طرح دبی ہوتی ہے کہ اس کا دم گھٹ رہا ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کے اوپر سے اس بوجھل لحاف کو سرکاتا ہے اور اس کو سانس لینے اور سر اٹھانے کا موقع نصیب ہوتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–18
16۔ 1 یہ ستارے دن کے وقت اپنے منظر سے پیچھے ہٹ جاتے ہیں اور نظر نہیں آتے اور یہ زحل، مستری، مریخ، زہرہ، عطارد ہیں، یہ خاص طور پر سورج کے رخ پر ہوتے ہیں بعض کہتے ہیں کہ سارے ہی ستارے مراد ہیں، کیونکہ سب ہی اپنے غائب ہونے کی جگہ پر غائب ہوجاتے ہیں یا دن کو چھپے رہتے ہیں۔
Read the full tafseer →8: صبح کے وقت عموماً ہلکی ہلکی ہوا چلتی ہے جسے باد نسیم کہا جاتا ہے۔ اس ہوا کے چلنے کو بڑی بلاغت کے ساتھ صبح کے سانس لینے سے تعبیر فرمایا گیا ہے۔
Read the full tafseer →والصبح اذا تنفس (18:81) ” اور صبح کی جبکہ اس نے سانس لیا “۔ بھی ایک زندہ بلکہ تابندہ انداز تعبیر ہے اور اس میں زیادہ اشاریت ہے۔ سپیدہ صبح گویا زندہ ہے اور سانس لے کر نمودار ہوتا ہے۔ روشنی گو صبح کی سانس ہے اور صبح کے وقت وحوش وطیور اور انسانوں کی حرکت اس کی علامت زندگی ہے۔ میں یقین سے کہہ سکتا ہوں عربی زبان کے خوبصورت ترین اسالیب اظہار کے اندر سپیدہ صبح کی نموداری کے لئے کوئی ایسا خوبصورت فقرہ نہیں ہے۔ زندہ حساس دل صبح کو دیکھ کر یہ شعور اچھی طرح پالیتا ہے کہ یہ صبح سانس لے رہی ہے اور جب ایسا احساس دل پھر قرآن کی اس آیت کو پڑھتا ہے تو وہ یہی کہتا ہے کہ یہ بھی میرے دل میں تھی۔ جو شخص اسالیب…
Read the full tafseer →3 حضرت شاہ عبدالعزیز لکھتے ہیں گویا آفتاب کو دریا میں تیرنے والی مچھلی سے تشبیہ دی اور طلوع سے پہلے اس کے نور کے منتشر ہونے کو دم ماہی سے نسبت کی۔ جیسے مچھلی دریا میں آنکھوں سے پوشیدہ گزرتی ہے اور اس کے سانس لینے سے پانی اڑتا اور منتشر ہوتا ہے۔ اسی طرح آفتاب کی حالت قبل طلوع اور قبل روشنی پھیلنے کے ہے۔ اور بعضوں نے کہا کہ دم صبح کنایہ ہے نسیم سے جو طلوع صبح کے قریب موسم بہار میں چلتی ہے (تنبیہ) ان قسموں کی مناسبت آیندہ مضمون سے یہ ہے کہ ان ستاروں کا چلنا، ٹھہرنا، لوٹنا، اور چھپ جانا ایک نمونہ ہے اگلے انبیاء پر باربار وحی آنے اور ایک مدت دراز تک اس کے نشان باقی رہنے پھر منقطع ہو کر چھپ جانے…
Read the full tafseer →آیت 18{ وَالصُّبْحِ اِذَا تَنَفَّسَ۔ } ”اور صبح کی جب وہ سانس لے۔“ یعنی صبح صادق کا وہ وقت جب رات کے سناٹے میں سے زندگی انگڑائی لیتی ہوئی آہستہ آہستہ بیدار ہوتی ہے۔
Read the full tafseer →16 یعنی جب طلوع آفتاب سے قبل اس کی روشنی پھیلنے لگے۔ بعض اس سے وقت مراد لیتے ہیں۔ جب موسم بہار میں نسیم سحر چلنے لگتی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–20
6۔ (اور اس کے لائے ہوئے کلام میں یہ شبہ بھی نہیں ہوسکتا کہ شیطانی تصرف ہوا ہو، یا کہانت کی آمیزش کہیں سے ہوگئی ہو) ان صفات والے سے مراد فرشتہ وحی حضرت جبرئیل ہیں، جن کا ذکر سورة والنجم میں گزر چکا ہے ، (آیت) ” علمہ شدیدا القوی “۔ الخ، کے تحت میں (آیت) ” رسول “۔ یہ لفظ خود بتا رہا ہے کہ اسے کہیں کلام جبرئیل نہ خیال کرلینا، ان کی حیثیت اس کلام کے سلسلہ میں تو محض قاصد کی ہے۔ یہ اوصاف جبرائیلی جو بیان ہوئے ہیں ان سے معلوم ہوا کہ فرشتہ وحی منصب رسالت کا پوری طرح متحمل اور اسرار وانوار کا ہر طرح محافظ ہے۔ (آیت) ” عند ذی العرش مکین “۔ عنہ یہاں قرب جسمانی کے لیے نہیں کہ حق تعالیٰ ہر جسمانیت ومکانیت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–29
واذا لموئو ودۃ سئلت، اس آیت کے انداز بیان میں ایسی شدید غضب ناکی پائی جاتی ہے، جس سیز یادہ غضب ناکی کا تصور نہیں کیا جاسکتا، بیٹی کو زندہ درگور کرنے والے والدین اللہ کی نظر میں ایسے قابل نفرت ہوں گے کہ ان کو مخاطب کر کے ان سے یہ نہ پوچھا جائے گا کہ تم نے اس معصوم کو کیوں قتل کیا ؟ بلکہ اس سے نگاہ پھیر کر معصوم بچی سے پوچھا جائے گا کہ تو بےچاری آخر کس قصور میں مار دی گئی ؟ اور وہ اپنی داستان مظلومیت سنائے گی، اس آیت کے مضمون سے ایک اہم بات خود بخود یہ سمجھ میں آتی ہے کہ اس میں آخرت کے ضروری ہونے کی ایک صریح دلیل پیش کی گئی ہے، جس لڑکی کو زندہ دفن کردیا گیا، آخر اس کی کہیں تو داد رسی ہونی…
Read the full tafseer →والصبح اذا تنفس . اور قسم ہے صبح کی جب اس کی پو پھٹتی ہے یا اس کی روشنی پھیلتی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–18
(10۔ 18) اور جس وقت نامہ اعمال حساب و کتاب کے لیے کھول دیے جائیں گے، یا یہ کہ ہاتھوں میں دے دیے جائیں گے، اور جس وقت آسمان لپیٹ لیا جائے گا اور جب دوزخ کفار کے لیے دہکائی جائے گی اور جب جنت پرہیزگاروں کے قریب کردی جائے گی، تو اس وقت ہر ایک نیک اور گنہگار کو اپنی نیکی و برائی معلوم ہوجائے گی جو کہ لے کے آیا ہے۔ میں قسم کھاتا ہوں ان ستاروں کی جو دن کو غائب ہوجاتے اور رات کو نکلتے ہیں، جو رات کو چلتے رہتے ہیں اور پھر اپنے مطلع میں جا چھپتے ہیں، یہ کیفیت پانچ ستاروں کو پیش آتی ہے یعنی زحل، مشتری، عطارد، مریخ، زہرہ۔ اور قسم ہے رات کی جب وہ جانے لگے اور صبح کی جب وہ آنے لگے اور خوب روشن ہوجائے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–18
(والیل اذا عسعس…:”عسعس“ آنے اور جانے دونوں معنوں میں استعمال ہوتا ہے، یہاں دوسرا معنی زیادہ مناسب ہے۔ ”تنفس“ سانس لیتے ہوئے چھاتی پھیلتیہے، صبح کی روشنی پھیلنے کی کیفیت کی نقشہ کشی انسان کے ساتھ لینے کی کیفیت کے ساتھ کی ہے۔
Read the full tafseer →والصبح اذا تنفس۔ صبح کی قسم جب وہ پھیل جائے یہاں تک کہ روشن ہوجائے دن جب خوب چڑھ جائے تو کہتے ہیں تنفس اسی طرح موج جب پانی باہر پھینکے، تنفس کا معنی ہوا کا پیٹ سے نکلنا ہے ایک قول یہ کیا گیا ہے اذا تنفس کا معنی ہے جب وہ پھٹے اسی سے تنفس القدس کا لفظ استعمال ہوتا ہے جب وہ ٹوٹ جائے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–18
60۔ ابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے طرق سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت واللیل اذا عسعس اور قسم ہے رات کی جب وہ جانے لگے یعنی جب وہ رخصت ہونے لگے آیت والصبح اذا تنفس اور قسم ہے صبح کی جب وہ آنے لگے۔ یعنی وہ دن نکل آئے طلوع فجر کے وقت۔ 61۔ عبد الرزاق وعبد بن حمید نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت واللیل اذا عسعس یعنی قسم ہے رات کی جب وہ پیٹھ پھیرنے لگے آیت والصبح اذا تنفس قسم ہے صبح کی جب وہ رو وشن ہوا دار آنے لگے۔ 62۔ عبد بن حمید نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت واللیل اذا عسعس یعنی قسم ہے رات کی جب وہ تاریک ہوجائے۔ 63۔ عبد بن حمید نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت اللیل اذا عسعس سے…
Read the full tafseer →[وَالصُّبْحِ : اور صبح کی ][ اِذَا تَنَفَّسَ : جب وہ سانس لے (یعنی روشن ہو)]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–22
﴿وَ الصُّبْحِ اِذَا تَنَفَّسَۙ0018﴾ (اور قسم ہے صبح کی جب وہ سانس لے) یعنی جب وہ آنے لگے (اس سے فجر اول مراد ہے) ان چیزوں کی قسم کھا کر فرمایا کہ بلاشبہ یہ قرآن کلام ہے رسول کریم کا جسے ایک معزز فرشتہ لایا ہے یہ فرشتہ قوت والا ہے اور مالک عرش کے نزدیک رتبہ والا ہے اور وہاں یعنی آسمان میں اس کی بات مانی جاتی ہے اور وہ فرشتہ امانت دار ہے جو وحی کو بالکل صحیح صحیح پہنچاتا ہے۔ اس میں حضرت جبرائیل (علیہ السلام) کی صفات بیان فرمائی ہیں جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس کلام یعنی قرآن کریم کو لایا کرتے تھے اور رسول اللہ ﷺ تک پہنچاتے تھے اس کے بعد رسول اللہ ﷺ کی ذات گرامی کے بارے میں ارشاد فرمایا کہ یہ جو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–29
ہولناک مناظر روز قیامت و پیشی اعمال و فیصلہ جزاء وسزا : قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” اذا الشمس کورت ....... الی ...... الا ان یشآء اللہ رب العلمین “۔ (ربط) سورة عبس کا مضمون دراصل اثبات قیامت کے موضوع ہی پر مشتمل تھا اور مقصد بیان یہ تھا کہ انسان کی سعادت و فلاح اور عزت و عظمت اپنی زندگی اپنے پروردگار کے ساتھ وابستہ رکھنے اور فکر آخرت میں ہے، اس کے برعکس وہ مغرور ومتکبر جو نہ خدا پر ایمان لاتا ہے اور نہ ہی اس کو آخرت کی فکر ہے وہ خدا کی نظروں میں ذلیل و حقیر ہے، طالب حق اور سعادت کی فکر میں لگے رہنے والا انسان ہی بارگاہ رسالت میں ہر عزت واکرام کا مستحق ہے، آخر میں قیامت کے روز کی پریشانی اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–18
4:۔ ” فلا اقسم “ یہ تخویف اخروی ہے سورة عبس کے مقابلہ میں بطور ترقی اور دن رات اور تاروں کے احوال سے قیامت کے دن لوگوں کے مختلف احوال پر شواہد پیش کیے گئے ہیں۔ ” الخنس “ خانس اور خانسۃ کی جمع ہے سیدھے چل کر پھر واپس آنے والے۔ ” الجوار “ جاریۃ کی جمع ہے۔ تیزی کے ساتھ رواں دواں۔ ” الکنس “ کانس اور کانسۃ کی جمع ہے یعنی روشنی دکھانے کے بعد تحت الشعاع آکر چھپ جانے والے۔ ” عسعس “ ای ادبر، جب رات اپنی تاریکی کے ساتھ پیٹھ پھیرتی ہے۔ ” تنفس “ ای اسفر، جب صبح کا اجالا نمودار ہوتا ہے جس طرح خمسہ متحیرہ، زحل، مشتری مریخ زہرہ اور عطارد ابتداء سفر میں سیدھے چلتے ہیں پھر الٹے چل کر واپس اپنے مقام میں پہنچ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–18
(گذشتہ سے پیوستہ) سورۃ کے پہلے درس میں قیامت کا ذکر تھا ۔ اس درس میں قرآن کریم کا ذکر ہے ۔ قرآن پاک کی صداقت ، اس کی حقانیت اس کا منزل من اللہ ہونا اس کو لانے والے فرشتے اور خود نبی (علیہ السلام) کی حیثیت کا بیان ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ قیامت اور قرآن پاک آپس میں مریوط ہیں ۔ اسی لیے دونوں کا اکٹھا ذکر ہے۔ قیامت کا ذکر اس لحاظ سے ہے۔ کہ اس کا اثر کائنات کی مختلف اشیاء پر کیا ہوگا ۔ چناچہ اس سلسلہ میں نظام شمسی کے سب سے بڑے کرے سورج کا ذکر ہے۔ کہ اس کی روشنی ختم ہوا جائے گی۔ اس کے بعد باقی سیاروں کا ذکر ہے۔ سورج اور چاند کے متعلق فرمایا کہ یہ دوسیارے ایک خاص نظام کے تحت مقررہ راستے پر چل رہے ہیں۔…
Read the full tafseer →وَالصُّبْحِ اِذَا تَنَفَّسَ 18 ۙ صبح الصُّبْحُ والصَّبَاحُ ، أوّل النهار، وهو وقت ما احمرّ الأفق بحاجب الشمس . قال تعالی: أَلَيْسَ الصُّبْحُ بِقَرِيبٍ [هود/ 81] ، وقال : فَساءَ صَباحُ الْمُنْذَرِينَ [ الصافات/ 177] ، والتَّصَبُّحُ : النّوم بالغداة، والصَّبُوحُ : شرب الصّباح، يقال : صَبَحْتُهُ : سقیته صبوحا، والصَّبْحَانُ : الْمُصْطَبَحُ ، والْمِصْبَاحُ : ما يسقی منه، ومن الإبل ما يبرک فلا ينهض حتی يُصْبَحَ ، وما يجعل فيه الْمِصْبَاحُ ، قال : مَثَلُ نُورِهِ كَمِشْكاةٍ فِيها مِصْباحٌ الْمِصْباحُ فِي زُجاجَةٍ [ النور/ 35] ، ويقال للسّراج : مِصْبَاحٌ ، والْمِصْبَاحُ : مقرّ السّراج،…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–29
ترکیب ¦ فلما الفاء للتفریع اوالتعقیب ولا زائدۃ کما مر تحقیقھا فی سورة القیامۃ بالخنس المقسم بہ وھی جمع خانس و خانستہ من خنس اذا تاخروفی الصحاح الخنس الکواکب کلھا انھا تخنس فی المغیب اولانھا تخفی نھاراً وقیلھی الکواکب الخمس زحل والمشتری والمریخ والزھرۃ و عطارد و فی الکبیر الخنس 1 ؎ جمع خانس والخنوس الانقباض والاستخفاء تقول خنس من بین القوم وتخنس و فی الحدیث الشیطان یوسوس ای العبد فاذا ذکر اللہ خنس ولذاسمی الخناس۔ الجوار جمع جاریۃ وھی السیارات لانھا تجری۔ وھی صفۃ الخنس۔ الکنس جمع کانس وکانستہ یقال کنس اذا دخل الکناس وھو مقرالوحش کنس کناس بالکسر خواب جائے آہو و پنہان شدن اودر آنجا (عع1 ک 2) کنس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–19
فَـلَآ اُقْسِمُ بِالْخُنَّسِ ۔ الْجَوَارِالْـکُنَّسِ ۔ وَالَّیْلِ اِذَا عَسْعَسَ ۔ وَالصُّبْحِ اِذَا تَنَفَّسَ ۔ اِنَّـہٗ لَقَوْلُ رَسُوْلٍ کَرِیْمٍ ۔ (التکویر : 15 تا 19) (پس نہیں ! میں قسم کھاتا ہوں پیچھے ہٹ جانے والے ستاروں کی۔ سیدھے چلنے والوں اور چھپ جانے والے ستاروں کی۔ اور رات کی جب وہ جانے لگے۔ اور صبح کی جب وہ سانس لے۔ یہ ایک باعزت رسول کا لایا ہوا کلام ہے۔ ) خُنَّسِ جمع ہے خَانِسٌ کی۔ اس کا معنی ہے آگے بڑھ کر پیچھے ہٹ جانے والے۔ یعنی ظاہر ہو کر غائب ہوجانے والے اور نمایاں ہو کر روپوش ہوجانے والے۔ الْجَوَارِالْـکُنَّسِ جواری کے معنی چلنے والے کے ہیں۔ اور کُنَسُّ جمع ہے کَانِسٌ کی۔ اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–29
فہم القرآن ربط کلام : قرآن مجید کی دعوت کا تیسرا مضمون قیامت ہے جو ہر صورت قائم ہو کر رہے گی۔ اہل مکہ نہ صرف قیامت کا انکار کرتے تھے بلکہ اس وجہ سے قرآن مجید کو ماننے کے لیے تیار نہیں تھے کہ یہ ” اللہ “ کی کتاب ہے۔ اس لیے یہاں ایک مرتبہ پھر وضاحت کی جا رہی ہے کہ قرآن مجید اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل کیا گیا ہے۔ یہ بات کئی مرتبہ عرض ہوچکی ہے کہ قرآن مجید کے بنیادی مضامین تین ہیں۔ توحید، رسالت اور آخرت۔ باقی مسائل انہیں کی تفصیل اور تقاضے ہیں۔ قرآن مجید ان عقائد پر بار بار زور دیتا ہے کیونکہ مکہ کے لوگ کسی نہ کسی انداز میں ان تینوں باتوں کا انکار کرتے تھے جس بنا پر ان کی کوشش تھی کہ لوگوں کی…
Read the full tafseer →18 : وَالصُّبْحِ اِذَا تَنَفَّسَ ( اور قسم ہے صبح کی جب وہ جانے لگے) اور اس کی روشنی پھیل جائے جب صبح کی آمد کیلئے روح اور نسیم کی آمد لازم ہے۔ تو اسی لئے اس کو مجازاً سانس قرار دیا۔
Read the full tafseer →17 ۔” واللیل اذا عسعس “ حسن (رح) فرماتے ہیں اپنی تاریکیوں کے ساتھ متوجہ ہو اور دیگر حضرات نے کہا ہے پیٹھ پھیرے ۔ عرب کہتے ہیں ” عسعس اللیل وسعسع “ جب پیٹھ پھیر کر جارہی ہو اور اس کا تھوڑا حصہ باقی ہو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–29
15۔ 29۔ خنس کے معنی پچھے ہٹ جانے اور کنس کے معنی نکلنے کے ہیں مطلب یہ ہے کہ تارے جو دن کو سورج کی روشنی میں چھپ جاتے ہیں اور رات کو نکل آتے ہیں ان کی اور اول شب کی تاریکی اور طلوع صبح کی تاکید کے طور پر قسم کھا کر اللہ تعالیٰ نے قرآن کو کلام اللہ اور محمد ﷺ کو اللہ کا رسول فرمایا ہے اگرچہ بعض مفسروں نے لکھا ہے کہ انہ لقول رسول کریم میں رسول سے مراد آنحضرت ﷺ کی ذات ہے لیکن صحیح قول وہی ہے جو امام المفسرین 2 ؎ حضرت عبد اللہ بن عباس اور سلف نے فرمایا ہے کہ رسول سے مراد اس آیت میں حضرت جبرئیل (علیہ السلام) ہیں کیونکہ مشرکین مکہ کبھی کہتے تھے انما یعلمہ بشر۔ کبھی کہتے تھے افتری علی اللہ کذبا ام بہ…
Read the full tafseer →(وَالصُّبْحِ اِذَا تَنَفَّسَ ) یعنی صبح جب اس کی علامات ظاہر ہونے لگیں اور روشنی تھوڑی تھوری پھوٹنے لگی یہاں تک کہ مکمل ہوجائے اور سورج نکل آئے۔ یہ بڑی بڑی نشانیاں جن کی اللہ تعالیٰ نے قسم کھائی ہے قرآن کی سند کی قوت اس کی جلالت اور ہر شیطان مردود سے اس کی حفاظت کی بنا پر ہے۔
Read the full tafseer →(15) صبح کی قسم کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا اور قسم ہے صبح کی جب وہ سانس لینے لگے، اور یہ اس لیے کہ اس سے دن کا آغاز ہوتا ہے، اور تمہارے لیے معاش کی طرح طرح کی راہیں کھلتی ہیں، تو جس خالق ومالک نے تمہاری جسمانی اور مادی ضرورتوں کی تکمیل و تحصیل کے لیے ایسا پر حکمت انتظام فرمایا ہے کس طرح ممکن ہوسکتا ہے کہ وہ تمہاری روحانی ضرورتوں کی تکمیل کا کوئی سامان نہ فرمائے، جبکہ اصل چیز تو روح اور اس کے تقاضے ہی ہیں، سو یہ خالص کلام خداوندی ہے جو قیامت تک دنیا کو حق و صواب کے راستے کی راہنمائی کرتا رہے گا، سورة مدثر میں اس بارے میں ارشاد فرمایا گیا والصبح اذا اسفر۔ یعنی قسم ہے صبح کی جب وہ روشن…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–29
قرآن جس میں کوئی شک نہیں۔ تقدیر کیا ہے ؟ تشریح : یہاں 15 اور 16 آیات میں آسمانی فزکس Astrophysics کے بنیادی اصول بیان کئے گئے ہیں۔ '' خنس '' یعنی چھپنے والے تارے۔ اور '' کنس ''۔ یعنی ایک مخصوص راستہ کا محور کسی چلتی ہوئی چیز میں دبک جانے والا۔ ڈاکٹر ہلوک نور باقی صاحب اس کی وضاحت بڑے خوبصورت انداز میں کرتے ہیں لکھتے ہیں۔ '' اللہ قسم کھاتا ہے ان تمام طبیعاتی قوانین کی جو ساری کائنات کی وسعتوں میں کار فرما ہیں۔ جس کی طرف اشارہ ان دو آیات مبارکہ میں کیا گیا ہے۔ ہر مخلوق ایک خنس اور ایک کنس کی حالت میں ہے۔ ایک خوش اسلوب اور ہم آہنگ روانی یا بہنا ہے جب کہ دوسرا ہٹتے ہوئے پردہ کرنے کی طرح ہے جیسے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–29
سورة التکویر۔ آیات 1 تا 29۔ اسرار ومعارف۔ جب سورج بےنور ہوجائے گا اور ستارے ٹوٹ کر گرجائیں گے اور جب پہاڑ اکھیڑ کر اڑادیے جائیں گے اور لوگوں کو مال و دولت بھول جائے گا کہ عربوں کے نزدیک دس ماہ کی گابھن اونٹنی سب سے قیمتی اثاثہ سمجھی جاتی ہے ہر وقت دم کے ساتھ لگے پھرتے تھے کہ صحرا میں اس کادودھ نعمت غیر مترقہ ہوتا تھا مگر وہ بھی آوارہ پھر رہی ہوں گی یعنی لوگوں کو مال وزر کا ہوش نہ رہے گا اور نفخہ اولی سے گھبرا کر جنگلی جانور اور درندے آبادیوں میں آگھسیں گے اور دریا سمندر میں مل جائیں گے کہ زمین شق ہوجائے گی اور پھر ان میں اجرام فلکی گریں گے تو بھاپ بن کر اڑجائیں گے اور پھر فضا میں وہ بھاپ آگ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–23
ف 13 یعنی آنحضرت ﷺ نے حضرت جبریل ( علیہ السلام) کو آسمان کے کھلے کنارے پر ان کی اصلی شکل میں دیکھا۔ یہ واقعہ مقام بطحا کا ہے جب آنحضرت ﷺ نے جبریل ( علیہ السلام) کو پہلی مرتبہ دیکھا۔ سورة النجم آیت : وعلمہ شدید القوی، میں یہ بحث گزرچکی ہے۔
Read the full tafseer →(81:18) والصبح اذا تنفس واؤ قسمیہ ہے الصبح المقسم بہ۔ اذا ظرف زمان ۔ تنفس ماضی واحد مذکر غائب تنفس (تفعل) مصدر سے جس کا معنی سانس کی آمد و شد۔ مطلب ہے کہ اس نے سانس لیا۔ اس نے دم کھینچا۔ صبح کے تنفس کا مطلب ہے پوپھٹنا۔ قسم ہے صبح کی جب وہ سانس لے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–29
لغات القرآن۔ کورت۔ لپیٹ دے گیا۔ انکدرت۔ ماند پڑگئی۔ (پڑ گئے) سیرت۔ چلا دی گئی۔ العشار۔ گابھن اونٹنیاں۔ عطلت۔ چھٹ کر پھری۔ الوحوش (وحش) ۔ جنگلی جانور۔ حشرت۔ آپس میں گڈ مڈ ہوجائیں۔ سجرت۔ جھونکے گئے۔ زوجت۔ جوڑے جوڑے بنا دئیے گئے۔ الموئو دۃ ۔ زمین میں گاڑدی گئی لڑکی۔ سئلت۔ پوچھا گیا۔ الصحف۔ اعمال نامے۔ نشرت۔ پھیلا دئیے۔ کشطت۔ پرت کے پرت اتا رلئے گئے۔ کھال کھینچ لی گئی۔ سعرت۔ بھڑکائی گئی۔ ازلف۔ قریب کردی گئی۔ احضرت۔ وہ لے کر حاضر ہوا۔ الخنس۔ پیچھے ہٹ جانے والے۔ الکنس۔ چھپ جانے والے۔ عسعس۔ پھیل گیا۔ تنفس۔ روشن ہوا۔ مکین۔ مرتبہ والا۔ مطاع۔ جس کی اطاعت کی جائے۔ کہا مانا جائے۔ الافق۔ کنارہ۔ بضنین۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–18
(ف 1) یہ پانچ ستارے ہیں جنہیں متحیرہ کہتے ہیں : زحل۔ مشتری۔ مریخ۔ زہرہ۔ عطارد۔ ان ستاروں کی چال اس ڈھب سے ہے کہ کبھی ٹھٹک کر الٹے پھریں گے اور کبھی سورج کے پاس آکرکتنے دنوں تک غائب رہیں، ان ستاروں کا چلنا ٹھہرنا لوٹنا اور چھپ جانا ایک نمونہ ہے اگلے انبیاء پر بار بار وحی آنے اور ایک مدت دراز تک اس کے نشان باقی رہنے ، پھر منقطع ہو کرچھپ جانے اور غائب ہوجانے کا اور رات کا آنا نمونہ ہے اس تاریک دور کا جوخاتم المرسلین ﷺ کی ولادت باسعادت سے پہلے دنیا پر گذرا۔ کہ کسی شخص کو حق و باطل کی تمیز نہ رہی تھی اور وحی کے آثار بالکل مٹ چکے تھے اس کے بعد صبح کا روشن ہونا حضور کا اس جہان میں تشریف لانا اور…
Read the full tafseer →[10] یہاں صبح کے نمودار ہونے کو نہایت بلیغ انداز میں بیان کیا گیا ہے۔ یعنی صبح رات کے بوجھ کے نیچے اس طرح دبی ہوتی ہے کہ اس کا دم گھٹ رہا ہوتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے اوپر سے اس بوجھل لحاف کو سرکاتا ہے اور اس کو سانس لینے اور سر اٹھانے کا موقع ملتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–19
حل لغات :۔ الموء دۃ ۔ زندہ گاڑی ہوئی لڑکی ۔ بعض قبائل میں عزت اور شرف کا یہ غلط خیال رواج پذیر ہوگیا تھا کہ لڑکیاں ناموس اور عزت کے لئے موجب ننگ ہیں ۔ اس لئے وہ ان کو جب پیدا ہوتیں تو زندہ زمین میں گاڑ دیتے ۔ اس برائی کی طرف اشارہ ہے ۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلام سے قبل عربوں کی اخلاقی حالت کیا تھی ؟ اور اسلام نے ان لوگوں کی اصلاح کے سلسلہ میں کتنا بڑا کام کیا ۔
Read the full tafseer →(18) اور قسم ہے صبح کی جب وہ دم بھرے یعنی طلوع ہو - اگرچہ مفسرین کے ان ستاروں میں کئی قول ہیں لیکن عام طور پر حضرت علی کرم اللہ وجہہ کی روایت سے تفسیر کرتے ہیں یعنی ان سے وہ پانچ ستارے مراد ہیں جن کو متحیر کہتے ہیں ان کے نام یہ ہیں۔ زحل، مشتری، مریخ ، زہرہ، عطارد یہ ستارے اول مغرب سے مشرق کی طرف بروج کو ترتیب سے طے کرتے ہوئے جاتے ہیں پھر تھوڑے دنوں تک ان کی حرکت نمودار اور ظاہر نہیں ہوتی، پھر رجعت کرتے ہیں یعنی الٹے مشرق سے مغرب کی طرف جاتے ہیں علم ہیئت میں پہلی حالت کو استقامت کہتے ہیں یعنی جب مغرب سے مشرق کی طرف جاتے ہیں دوسری حالت کو وقوف کہتے ہیں یعنی جب ایک جگہ ٹھہرجاتے ہیں اور ظاہر نہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–21
ف 2۔ یعنی فرشتے اس کا کہنا مانتے ہیں۔ 3۔ امانت دار ہے کہ وحی کو صحیح صحیح بےکم وکاست پہنچا دیتا ہے، پس وحی لانے والا تو ایسا ہے، آگے جن پر وحی نازل ہوئی ان کی نسبت ارشاد ہے کہ۔ (آگے دیکھو ترجمہ)
Read the full tafseer →اور قسم ہے صبح کے رب کی جب وہ سانس لے 18 ؎ ( تنفس) اس نے سانس لیا ۔ اس نے دم کھینچاتنفس سے جس کے معنی سانس کی آمد و شد کے ہیں ۔ ماضی کا صیغہ واحد مذکر غائب۔ صبح کا سانس لینے سے کیا مراد ہے ؟ اس سے مراد صبح صادق ہونا ہے جس کو ہماری زبان میں پو پھٹنے سے تعبیر کرتے ہیں اور اس وقت کے رب کی قسم اس لیے دی کہ یہ وقت ایک خاص قبولیت کا وقت ہے کہ تہجد خواں اپنی تہجد کی نماز پوری کر کے اپنی عرضیاں رب ذوالجلال والاکرام کے سامنے پیش کر رہے ہوتے ہیں اور اسی وقت کے متعلق اللہ رب ذوالجلال والاکرام کا آسمان اول پر آنے کا ذکر کیا جاتا ہے جو محض قرب وقت کے لیے ایک استعارہ بیان کیا گیا ہے ۔ آنے والے مضمون کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–18
عَلِمَتْ نَفْسٌ مَّا أَحْضَرَتْ (then everyone will know what he [ or she ] has put forward... 81:14). It means that when Resurrection, with all the horrors mentioned above, will take place, man will realise what he has brought with him. The word 'what' here refers to his good and bad deeds, all of which will be in front of him, either in the form of the Record of Deeds that will be given in his hands or his deeds will assume a specific body shape as is understood from certain Traditions. Allah knows best! Having described the horrors of Resurrection, and the accountability of deeds, Allah…
Read the full tafseer →13 That for which the oath has been sworn, has been stated in the following verses. The oath means: "Muhammad (upon whom be Allah's peace and blessings) has not seen a vision in darkness, but when the stars had disappeared, the night had departed and the bright morning had appeared, he had seen the Angel of God in the open sky. Therefore, what he tells you is based on his own personal observation and on the experience that he had in full senses in the full light of day."
Read the full tafseer →