At-Takwir 81:17

At-Takwir · from ayah 17

81:17

وَالَّیْلِ اِذَا عَسْعَسَ ۟ۙوَالَّيۡلِ اِذَا عَسۡعَسَ

اور رات کی قسم جب ختم ہونے لگتی ہے

— Fateh Muhammad Jalandhari

And by the night as it closes in

— Saheeh International

Juz 30 · Ruku 1 of surah · Ruku 6 of juz

Read the whole surah · Surah At-Takwir

All translations of 81:17

اور رات کی جبکہ وہ رخصت ہوئی

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور رات کی قسم جب ختم ہونے لگتی ہے

— مولانا فتح محمد جالندہری

اور رات کی جب جانے لگے

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور قسم کھاتا ہوں رات کی جب وہ رخصت ہو۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور رات کی جب پیٹھ دے

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور رات کی قَسم جب اس کی تاریکی جانے لگے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور رات کی جب وہ جانے لگتی ہے !

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اور رات کی جب اس کی تاریکی چھانے لگے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور رات کی جب وہ جانے لگتی ہے

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور رات کی جب کہ وہ رخصت ہونے لگے

— مولانا اسحاق مدنی

اور قسم ہے رات کی جب وہ جانے لگے

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

قسم ہے رات کی جب وہ روانہ ہونے لگے۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور رات کی قسم جب ختم ہونے لگتی ہے

— محترمہ رفعت اعجاز

and by the night as it recedes,

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

and by the night when it departs,

— Muhammad Taqi Usmani

and by the night when it departs,

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

And by the night when it `As`as.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

And by the night as it closes in

— Saheeh International

and sit during the day, or by the darkening night

— Muhammad Sarwar

And the night when it departs,

— Muhammad Habib Shakir

And by the night when it departeth,

— Abdul Majid Daryabadi

Tafseer of 81:17

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 15–29

ستارے، نیل گائے اور ہرن حضرت عمرو بن حریث ؓ فرماتے ہیں کہ میں نے صبح کی نماز میں رسول اللہ ﷺ کو اس سورة کی تلاوت کرتے ہوئے سنا اس نماز میں میں بھی مقتدیوں میں شامل تھا (مسلم) یہ ستاروں کی قسمیں کھائی گئی ہیں جو دن کے وقت پیچھے ہٹ جاتے ہیں یعنی چھپ جاتے ہیں اور رات کو ظاہر ہوتے ہیں حضرت علی ؓ ہی فرماتے ہیں اور بھی صحابہ تابعین وغیرہ سے اس کی یہی تفسیر مروی ہے بعض ائمہ نے فرمایا ہے طلوع کے وقت ستاروں کو خنس کہا جاتا ہے اور اپنی اپنی جگہ پر انہیں جوار کہا جاتا ہے اور چھپ جانے کے وقت انہیں کنس کہا جاتا ہے بعض نے کہا ہے اس سے مراد جنگلی گائے ہے یہ بھی مروی ہے کہ مراد ہرن ہے۔ ابراہیم نے حضرت مجاہد…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 15–17

سورة التَّكْوِیْر 12 یعنی تم لوگوں کا یہ گمان صحیح نہیں ہے کہ جو کچھ قرآن میں بیان کیا جارہا ہے یہ کسی دیوانے کی بڑ ہے یا کوئی شیطانی وسوسہ ہے۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 14–18

عَلِمَتْ نَفْسٌ مَّآ اَحْضَرَتْ ، یعنی جب قیامت کے حالات مذکورہ پیش آویں گے اس وقت ہر انسان جان لیگا کہ وہ اپنے ساتھ کیا سامان لایا ہے۔ سامان سے مراد اس کا نیک یا بد عمل ہے کہ وہ سب اعمال اسکے سامنے آجاویں گے جو دنیا میں کئے تھے خواہ اس طرح کے صحائف اعمال میں لکھے ہوئے اسکے ہاتھ میں آجائیں یا اس طرح کے یہ اعمال کسی خاص شکل و صورت میں اسکے سامنے آویں جیسا کہ بعض روایات حدیث سے معلوم ہوتا ہے۔ واللہ اعلم، قیامت کے احوال اور ہولناک مناظر اور وہاں محاسبہ اعمال کا ذکر فرمانے کے بعد حق تعالیٰ نے چند ستاروں کی قسم کھا کر فرمایا کہ یہ قرآن حق ہے اللہ کی طرف سے بڑی حفاظت کے ساتھ بھیجا گیا ہے اور جس ذات…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

یہ دوسری قسم ہے جو اسی دعوے پر ایک دوسرے پہلو سے شہادت ہے۔ ’عَسْعَسَ‘ کے معنی اہل لغت نے تاریک ہو جانے کے بھی لکھے ہیں اور پیچھے ہٹ جانے اور گزر جانے کے بھی۔ اگرچہ آیت کی تاویل دونوں معنوں کی روشنی میں ہو سکتی ہے لیکن میں دوسرے معنی کو ترجیح دیتا ہوں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ بعینہٖ یہی قسم، بالکل اسی سیاق و سباق اور معمولی تغیر الفاظ کے ساتھ، سورۂ مدثر کی آیات ۳۳-۳۴ میں بھی آئی ہے۔ وہاں ’عَسْعَسَ‘ کی جگہ لفظ ’اَدْبَرَ‘ آیا ہے۔ فرمایا ہے: ’وَاللَّیْْلِ إِذْ أَدْبَرَ ۵ وَالصُّبْحِ إِذَا أَسْفَرَ‘ (شاہد ہے رات جب کہ وہ پیچھے ہٹ جاتی ہے اور شاہد ہے صبح جب کہ وہ بے نقاب ہو جاتی ہے) وہاں بھی اس قسم کے…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 16–18

16۔ 1 یہ ستارے دن کے وقت اپنے منظر سے پیچھے ہٹ جاتے ہیں اور نظر نہیں آتے اور یہ زحل، مستری، مریخ، زہرہ، عطارد ہیں، یہ خاص طور پر سورج کے رخ پر ہوتے ہیں بعض کہتے ہیں کہ سارے ہی ستارے مراد ہیں، کیونکہ سب ہی اپنے غائب ہونے کی جگہ پر غائب ہوجاتے ہیں یا دن کو چھپے رہتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 16–17

7: بعض ستارے ایسے ہوتے ہیں کہ وہ کبھی مشرق سے مغرب کی طرف چلتے نظر آتے ہیں، اور کبھی مغرب سے مشرق کی طرف۔ گویا وہ ایک سمت میں چلتے چلتے واپس پلٹ رہے ہیں، پھر چلتے چلتے نگاہوں سے غائب ہوجاتے ہیں، گویا ہوجاتے ہیں، گویا وہ کہیں دبک کر چھپ گئے ہیں۔ ان ستاروں کی یہ گردش اللہ تعالیٰ کی قدرت کاملہ کا عجیب مظہر ہے۔ اس لیے ان کی قسم کھائی گئی ہے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

والیل .................... عسعس (17:81) ” اور رات کی جبکہ وہ تاریک ہوئی “۔ لیکن لفظ عسعس میں بھی مفہوم کی طرف اشارے ہیں۔ عس کے معنی اندھیرے میں ہاتھ پاﺅں کے ساتھ چلنے کے ہیں جبکہ آنکھوں سے کچھ نظر نہ آتا ہو ، گویا رات تاریکی میں چل رہی ہے۔ یہ نہایت ہی خوبصورت انداز گفتگو ہے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 16–17

آیت 17{ وَالَّیْلِ اِذَا عَسْعَسَ۔ } ”قسم ہے رات کی جب وہ روانہ ہونے لگے۔“ یہ آیت اور سورة المدثر کی یہ آیت باہم مشابہ اور ہم معنی ہیں : { وَالَّـیْلِ اِذَا اَدْبَرَ۔ } ”اور قسم ہے رات کی جب کہ وہ پیٹھ موڑے۔“

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

15 عَسْعَسَ بمعنی دھندلکا، خواہ یہ شام کا دھندلکا ہو جیسے سورج غروب ہونے کے بعد رات کا اندھیرا چھانے لگتا ہے اور خواہ یہ صبح کا دھندلکا ہو۔ یعنی رات کی تاریکی غائب اور صبح کی روشنی اس پر غالب ہونے لگے۔ اس لحاظ سے اس آیت کا ترجمہ یہ بھی ہوسکتا ہے۔ اور رات کی جب جانے لگے

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 15–20

6۔ (اور اس کے لائے ہوئے کلام میں یہ شبہ بھی نہیں ہوسکتا کہ شیطانی تصرف ہوا ہو، یا کہانت کی آمیزش کہیں سے ہوگئی ہو) ان صفات والے سے مراد فرشتہ وحی حضرت جبرئیل ہیں، جن کا ذکر سورة والنجم میں گزر چکا ہے ، (آیت) ” علمہ شدیدا القوی “۔ الخ، کے تحت میں (آیت) ” رسول “۔ یہ لفظ خود بتا رہا ہے کہ اسے کہیں کلام جبرئیل نہ خیال کرلینا، ان کی حیثیت اس کلام کے سلسلہ میں تو محض قاصد کی ہے۔ یہ اوصاف جبرائیلی جو بیان ہوئے ہیں ان سے معلوم ہوا کہ فرشتہ وحی منصب رسالت کا پوری طرح متحمل اور اسرار وانوار کا ہر طرح محافظ ہے۔ (آیت) ” عند ذی العرش مکین “۔ عنہ یہاں قرب جسمانی کے لیے نہیں کہ حق تعالیٰ ہر جسمانیت ومکانیت…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 8–29

واذا لموئو ودۃ سئلت، اس آیت کے انداز بیان میں ایسی شدید غضب ناکی پائی جاتی ہے، جس سیز یادہ غضب ناکی کا تصور نہیں کیا جاسکتا، بیٹی کو زندہ درگور کرنے والے والدین اللہ کی نظر میں ایسے قابل نفرت ہوں گے کہ ان کو مخاطب کر کے ان سے یہ نہ پوچھا جائے گا کہ تم نے اس معصوم کو کیوں قتل کیا ؟ بلکہ اس سے نگاہ پھیر کر معصوم بچی سے پوچھا جائے گا کہ تو بےچاری آخر کس قصور میں مار دی گئی ؟ اور وہ اپنی داستان مظلومیت سنائے گی، اس آیت کے مضمون سے ایک اہم بات خود بخود یہ سمجھ میں آتی ہے کہ اس میں آخرت کے ضروری ہونے کی ایک صریح دلیل پیش کی گئی ہے، جس لڑکی کو زندہ دفن کردیا گیا، آخر اس کی کہیں تو داد رسی ہونی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

والیل اذا عسعس . حسن بصری (رح) نے عسعس کا ترجمہ کیا۔ اَقْبَلَ بِظَلاَمِہٖ وَ اَدْبَرَ : قسم ہے رات کی جب وہ اپنا اندھیرا لے کر سامنے سے آتی ہے یا پشت موڑ کر جاتی ہے ‘ یہ لفظ اضداد میں سے ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 10–18

(10۔ 18) اور جس وقت نامہ اعمال حساب و کتاب کے لیے کھول دیے جائیں گے، یا یہ کہ ہاتھوں میں دے دیے جائیں گے، اور جس وقت آسمان لپیٹ لیا جائے گا اور جب دوزخ کفار کے لیے دہکائی جائے گی اور جب جنت پرہیزگاروں کے قریب کردی جائے گی، تو اس وقت ہر ایک نیک اور گنہگار کو اپنی نیکی و برائی معلوم ہوجائے گی جو کہ لے کے آیا ہے۔ میں قسم کھاتا ہوں ان ستاروں کی جو دن کو غائب ہوجاتے اور رات کو نکلتے ہیں، جو رات کو چلتے رہتے ہیں اور پھر اپنے مطلع میں جا چھپتے ہیں، یہ کیفیت پانچ ستاروں کو پیش آتی ہے یعنی زحل، مشتری، عطارد، مریخ، زہرہ۔ اور قسم ہے رات کی جب وہ جانے لگے اور صبح کی جب وہ آنے لگے اور خوب روشن ہوجائے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

Explained with ayahs 17–18

(والیل اذا عسعس…:”عسعس“ آنے اور جانے دونوں معنوں میں استعمال ہوتا ہے، یہاں دوسرا معنی زیادہ مناسب ہے۔ ”تنفس“ سانس لیتے ہوئے چھاتی پھیلتیہے، صبح کی روشنی پھیلنے کی کیفیت کی نقشہ کشی انسان کے ساتھ لینے کی کیفیت کے ساتھ کی ہے۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

والیل اذاعسعس۔ فراء نے کہا، مفسرین نے اس بات پر اجماع کیا ہے کہ عسعس کا معنی پیٹھ پھیرنا ہے، جوہری نے یہ حکایت بیان کی ہے ہمارے ایک ساتھی نے کہا، وہ اپنے پہلے حصہ کے قریب ہوگئی اور تاریک ہوگئی اسی طرح جب بادل زمین کے قریب ہوتا ہے تو تاریک ہوتا ہے، مہدوی نے کہا، والیل اذاعسعس کا معنی ہے قسم ہے رات کی جب وہ اپنی تاریکی کے ساتھ پلٹ جائے یہ حضرت ابن عباس مجاہد اور دوسرے علماء سے مروی ہے، ان دونوں سے حضرت حسن بصری سے اور دوسرے علماء سے یہ بھی مروی ہے جب وہ اپنی تاریکیوں کے ساتھ آرہی ہو، زید بن اسلم نے کہا، عسعس کا معنی جانا ہے، فراء نے کہا عرب کہتے ہیں عسعس وسعسع جب اس سے تھوڑی سی تاریکی رہ جائے،…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 17–18

60۔ ابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے طرق سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت واللیل اذا عسعس اور قسم ہے رات کی جب وہ جانے لگے یعنی جب وہ رخصت ہونے لگے آیت والصبح اذا تنفس اور قسم ہے صبح کی جب وہ آنے لگے۔ یعنی وہ دن نکل آئے طلوع فجر کے وقت۔ 61۔ عبد الرزاق وعبد بن حمید نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت واللیل اذا عسعس یعنی قسم ہے رات کی جب وہ پیٹھ پھیرنے لگے آیت والصبح اذا تنفس قسم ہے صبح کی جب وہ رو وشن ہوا دار آنے لگے۔ 62۔ عبد بن حمید نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت واللیل اذا عسعس یعنی قسم ہے رات کی جب وہ تاریک ہوجائے۔ 63۔ عبد بن حمید نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت اللیل اذا عسعس سے…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

﴿ وَ الَّيْلِ اِذَا عَسْعَسَۙ0017﴾ (اور قسم ہے رات کی جب جانے لگے) لفظ عسعس رباعی مجرد ہے ماضی کا صیغہ ہے اس کے دونوں معنی ہیں ادبر ظلامہ واقبل (تاریکی کا آنا اور جانا) اور دونوں معنی کے لیے آتا ہے صاحب روح المعانی نے فراء نحوی سے نقل کیا ہے کہ مفسرین کا اس پر اجماع ہے کہ یہاں عسعس بمعنی ادبر ہے (جس کو ترجمہ میں اختیار کیا گیا ہے) اور بعض علماء نے فرمایا ہے کہ یہاں بمعنی اقبل ظلامہ (تاریکی لے کر آگیا) زیادہ مناسب ہے تاکہ آئندہ جملہ کے موافق ہوجائے کیونکہ صبح دن کے اول حصہ میں ہوتی ہے لہٰذا دوسری جانب رات کا پہلا حصہ مراد لینا مناسب ہوگا۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 1–29

ہولناک مناظر روز قیامت و پیشی اعمال و فیصلہ جزاء وسزا : قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” اذا الشمس کورت ....... الی ...... الا ان یشآء اللہ رب العلمین “۔ (ربط) سورة عبس کا مضمون دراصل اثبات قیامت کے موضوع ہی پر مشتمل تھا اور مقصد بیان یہ تھا کہ انسان کی سعادت و فلاح اور عزت و عظمت اپنی زندگی اپنے پروردگار کے ساتھ وابستہ رکھنے اور فکر آخرت میں ہے، اس کے برعکس وہ مغرور ومتکبر جو نہ خدا پر ایمان لاتا ہے اور نہ ہی اس کو آخرت کی فکر ہے وہ خدا کی نظروں میں ذلیل و حقیر ہے، طالب حق اور سعادت کی فکر میں لگے رہنے والا انسان ہی بارگاہ رسالت میں ہر عزت واکرام کا مستحق ہے، آخر میں قیامت کے روز کی پریشانی اور…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 15–18

4:۔ ” فلا اقسم “ یہ تخویف اخروی ہے سورة عبس کے مقابلہ میں بطور ترقی اور دن رات اور تاروں کے احوال سے قیامت کے دن لوگوں کے مختلف احوال پر شواہد پیش کیے گئے ہیں۔ ” الخنس “ خانس اور خانسۃ کی جمع ہے سیدھے چل کر پھر واپس آنے والے۔ ” الجوار “ جاریۃ کی جمع ہے۔ تیزی کے ساتھ رواں دواں۔ ” الکنس “ کانس اور کانسۃ کی جمع ہے یعنی روشنی دکھانے کے بعد تحت الشعاع آکر چھپ جانے والے۔ ” عسعس “ ای ادبر، جب رات اپنی تاریکی کے ساتھ پیٹھ پھیرتی ہے۔ ” تنفس “ ای اسفر، جب صبح کا اجالا نمودار ہوتا ہے جس طرح خمسہ متحیرہ، زحل، مشتری مریخ زہرہ اور عطارد ابتداء سفر میں سیدھے چلتے ہیں پھر الٹے چل کر واپس اپنے مقام میں پہنچ…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 14–18

(گذشتہ سے پیوستہ) سورۃ کے پہلے درس میں قیامت کا ذکر تھا ۔ اس درس میں قرآن کریم کا ذکر ہے ۔ قرآن پاک کی صداقت ، اس کی حقانیت اس کا منزل من اللہ ہونا اس کو لانے والے فرشتے اور خود نبی (علیہ السلام) کی حیثیت کا بیان ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ قیامت اور قرآن پاک آپس میں مریوط ہیں ۔ اسی لیے دونوں کا اکٹھا ذکر ہے۔ قیامت کا ذکر اس لحاظ سے ہے۔ کہ اس کا اثر کائنات کی مختلف اشیاء پر کیا ہوگا ۔ چناچہ اس سلسلہ میں نظام شمسی کے سب سے بڑے کرے سورج کا ذکر ہے۔ کہ اس کی روشنی ختم ہوا جائے گی۔ اس کے بعد باقی سیاروں کا ذکر ہے۔ سورج اور چاند کے متعلق فرمایا کہ یہ دوسیارے ایک خاص نظام کے تحت مقررہ راستے پر چل رہے ہیں۔…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَالَّيْلِ اِذَا عَسْعَسَ۝ 17 ۙ ليل يقال : لَيْلٌ ولَيْلَةٌ ، وجمعها : لَيَالٍ ولَيَائِلُ ولَيْلَاتٌ ، وقیل : لَيْلٌ أَلْيَلُ ، ولیلة لَيْلَاءُ. وقیل : أصل ليلة لَيْلَاةٌ بدلیل تصغیرها علی لُيَيْلَةٍ ، وجمعها علی ليال . قال اللہ تعالی: وَسَخَّرَ لَكُمُ اللَّيْلَ وَالنَّهارَ [إبراهيم/ 33] ( ل ی ل ) لیل ولیلۃ کے معنی رات کے ہیں اس کی جمع لیال ولیا ئل ولیلات آتی ہے اور نہایت تاریک رات کو لیل الیل ولیلہ لیلاء کہا جاتا ہے بعض نے کہا ہے کہ لیلۃ اصل میں لیلاۃ ہے کیونکہ اس کی تصغیر لیلۃ اور جمع لیال آتی ہے ۔ قرآن میں ہے : ۔ إِنَّا أَنْزَلْناهُ فِي لَيْلَةِ الْقَدْرِ [ القدر/ 1] ہم نے اس قرآن کو شب…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 15–29

ترکیب ¦ فلما الفاء للتفریع اوالتعقیب ولا زائدۃ کما مر تحقیقھا فی سورة القیامۃ بالخنس المقسم بہ وھی جمع خانس و خانستہ من خنس اذا تاخروفی الصحاح الخنس الکواکب کلھا انھا تخنس فی المغیب اولانھا تخفی نھاراً وقیلھی الکواکب الخمس زحل والمشتری والمریخ والزھرۃ و عطارد و فی الکبیر الخنس 1 ؎ جمع خانس والخنوس الانقباض والاستخفاء تقول خنس من بین القوم وتخنس و فی الحدیث الشیطان یوسوس ای العبد فاذا ذکر اللہ خنس ولذاسمی الخناس۔ الجوار جمع جاریۃ وھی السیارات لانھا تجری۔ وھی صفۃ الخنس۔ الکنس جمع کانس وکانستہ یقال کنس اذا دخل الکناس وھو مقرالوحش کنس کناس بالکسر خواب جائے آہو و پنہان شدن اودر آنجا (عع1 ک 2) کنس…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 15–19

فَـلَآ اُقْسِمُ بِالْخُنَّسِ ۔ الْجَوَارِالْـکُنَّسِ ۔ وَالَّیْلِ اِذَا عَسْعَسَ ۔ وَالصُّبْحِ اِذَا تَنَفَّسَ ۔ اِنَّـہٗ لَقَوْلُ رَسُوْلٍ کَرِیْمٍ ۔ (التکویر : 15 تا 19) (پس نہیں ! میں قسم کھاتا ہوں پیچھے ہٹ جانے والے ستاروں کی۔ سیدھے چلنے والوں اور چھپ جانے والے ستاروں کی۔ اور رات کی جب وہ جانے لگے۔ اور صبح کی جب وہ سانس لے۔ یہ ایک باعزت رسول کا لایا ہوا کلام ہے۔ ) خُنَّسِ جمع ہے خَانِسٌ کی۔ اس کا معنی ہے آگے بڑھ کر پیچھے ہٹ جانے والے۔ یعنی ظاہر ہو کر غائب ہوجانے والے اور نمایاں ہو کر روپوش ہوجانے والے۔ الْجَوَارِالْـکُنَّسِ جواری کے معنی چلنے والے کے ہیں۔ اور کُنَسُّ جمع ہے کَانِسٌ کی۔ اس…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 15–29

فہم القرآن ربط کلام : قرآن مجید کی دعوت کا تیسرا مضمون قیامت ہے جو ہر صورت قائم ہو کر رہے گی۔ اہل مکہ نہ صرف قیامت کا انکار کرتے تھے بلکہ اس وجہ سے قرآن مجید کو ماننے کے لیے تیار نہیں تھے کہ یہ ” اللہ “ کی کتاب ہے۔ اس لیے یہاں ایک مرتبہ پھر وضاحت کی جا رہی ہے کہ قرآن مجید اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل کیا گیا ہے۔ یہ بات کئی مرتبہ عرض ہوچکی ہے کہ قرآن مجید کے بنیادی مضامین تین ہیں۔ توحید، رسالت اور آخرت۔ باقی مسائل انہیں کی تفصیل اور تقاضے ہیں۔ قرآن مجید ان عقائد پر بار بار زور دیتا ہے کیونکہ مکہ کے لوگ کسی نہ کسی انداز میں ان تینوں باتوں کا انکار کرتے تھے جس بنا پر ان کی کوشش تھی کہ لوگوں کی…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

17 : وَالَّیْلِ اِذَا عَسْعَسَ (اور قسم ہے رات کی جب وہ جانے لگے) عسعسؔ نمبر 1۔ اپنے اندھیرے کے ساتھ متوجہ ہو۔ نمبر 2۔ جانے لگے۔ یہ لفظ اضداد میں سے ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

16 ۔ الجوار الکنس “ اور لا زائد ہے اس کا معنی اقسم بالخنس ہے۔ قتادہ (رح) فرماتے ہیں وہ ستارے ہیں جو رات کو ظاہر ہوتے ہیں اور دن کو چھپ جاتے ہیں، پس دیکھے نہیں جاتے اور حضرت علی ؓ سے بھی روایت ہے کہ یہ ستارے ہیں جو دن کو چھپ جاتے ہیں، دیکھے نہیں جاتے اور رات کو ظاہر ہوتے ہیں، پس اپنے چلنے کی جگہوں پر ٹھکانہ پکڑتے ہیں اور ایک قوم نے کہا وہ پانچ ستارے ہیں۔ زحل ، مشتری، مریخ ، زہرہ اور عطارد، اپنے چلنے کی جگہ میں ظاہر ہوتے ہیں یعنی اس کے پیچھے لوٹتے ہیں اور اپنے چھپنے اور غروب کے وقت چھپ جاتے ہیں۔ جیسا کہ ہرنی اپنے غار میں چھپ جاتی ہے اور ابن زید (رح) فرماتے ہیں ” الخنس “ کا معنی کہ وہ اپنے طلوع…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 15–29

15۔ 29۔ خنس کے معنی پچھے ہٹ جانے اور کنس کے معنی نکلنے کے ہیں مطلب یہ ہے کہ تارے جو دن کو سورج کی روشنی میں چھپ جاتے ہیں اور رات کو نکل آتے ہیں ان کی اور اول شب کی تاریکی اور طلوع صبح کی تاکید کے طور پر قسم کھا کر اللہ تعالیٰ نے قرآن کو کلام اللہ اور محمد ﷺ کو اللہ کا رسول فرمایا ہے اگرچہ بعض مفسروں نے لکھا ہے کہ انہ لقول رسول کریم میں رسول سے مراد آنحضرت ﷺ کی ذات ہے لیکن صحیح قول وہی ہے جو امام المفسرین 2 ؎ حضرت عبد اللہ بن عباس اور سلف نے فرمایا ہے کہ رسول سے مراد اس آیت میں حضرت جبرئیل (علیہ السلام) ہیں کیونکہ مشرکین مکہ کبھی کہتے تھے انما یعلمہ بشر۔ کبھی کہتے تھے افتری علی اللہ کذبا ام بہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

(وَالَّيْلِ اِذَا عَسْعَسَ ) یعنی رات کی قسم جب وہ جانے لگے اور کہا جاتا ہے کہ اس کے معنی یہ بھی ہیں جب رات آنے لگے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 16–17

(14) ستاروں کی قسم ان کی بعض خاص صفات کے اعتبار سے : سو اس سے قرآن حکیم کی حقانیت و صداقت کے اثبات کے لیے خاص ستاروں کی قسم کھائی گئی، یعنی پیچھے ہٹنے والے، لگاتار چلنے والے، اور چھپ جانے والے ستاروں کی۔ پس ستاروں کا یہ سیدھا چلنا لوٹ آنا اور چھپ جانا فرشتے کے آنے واپس جانے اور عالم ملکوت میں چھپ جانے کے مشابہ ہے۔ (تفسیر عثمانی) سو اسی طرح قرآن حکیم کے ذریعے جہالت کی ظلمت و تاریکی کے چھٹ جانے اور نور ہدایت و ایمان کے پھیلنے اور عام ہونے کو اس کے مشابہ سمجھو۔ اور یہ سوچو کہ جس ذات اقدس و اعلی نے سورج چاند اور ستاروں کے ذریعے تمہارے لیے اس ظاہری اور حسی روشنی کا اس طرح انتظام فرمایا ہے، کس طرح…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 15–29

قرآن جس میں کوئی شک نہیں۔ تقدیر کیا ہے ؟ تشریح : یہاں 15 اور 16 آیات میں آسمانی فزکس Astrophysics کے بنیادی اصول بیان کئے گئے ہیں۔ '' خنس '' یعنی چھپنے والے تارے۔ اور '' کنس ''۔ یعنی ایک مخصوص راستہ کا محور کسی چلتی ہوئی چیز میں دبک جانے والا۔ ڈاکٹر ہلوک نور باقی صاحب اس کی وضاحت بڑے خوبصورت انداز میں کرتے ہیں لکھتے ہیں۔ '' اللہ قسم کھاتا ہے ان تمام طبیعاتی قوانین کی جو ساری کائنات کی وسعتوں میں کار فرما ہیں۔ جس کی طرف اشارہ ان دو آیات مبارکہ میں کیا گیا ہے۔ ہر مخلوق ایک خنس اور ایک کنس کی حالت میں ہے۔ ایک خوش اسلوب اور ہم آہنگ روانی یا بہنا ہے جب کہ دوسرا ہٹتے ہوئے پردہ کرنے کی طرح ہے جیسے…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–29

سورة التکویر۔ آیات 1 تا 29۔ اسرار ومعارف۔ جب سورج بےنور ہوجائے گا اور ستارے ٹوٹ کر گرجائیں گے اور جب پہاڑ اکھیڑ کر اڑادیے جائیں گے اور لوگوں کو مال و دولت بھول جائے گا کہ عربوں کے نزدیک دس ماہ کی گابھن اونٹنی سب سے قیمتی اثاثہ سمجھی جاتی ہے ہر وقت دم کے ساتھ لگے پھرتے تھے کہ صحرا میں اس کادودھ نعمت غیر مترقہ ہوتا تھا مگر وہ بھی آوارہ پھر رہی ہوں گی یعنی لوگوں کو مال وزر کا ہوش نہ رہے گا اور نفخہ اولی سے گھبرا کر جنگلی جانور اور درندے آبادیوں میں آگھسیں گے اور دریا سمندر میں مل جائیں گے کہ زمین شق ہوجائے گی اور پھر ان میں اجرام فلکی گریں گے تو بھاپ بن کر اڑجائیں گے اور پھر فضا میں وہ بھاپ آگ…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 17–23

ف 13 یعنی آنحضرت ﷺ نے حضرت جبریل ( علیہ السلام) کو آسمان کے کھلے کنارے پر ان کی اصلی شکل میں دیکھا۔ یہ واقعہ مقام بطحا کا ہے جب آنحضرت ﷺ نے جبریل ( علیہ السلام) کو پہلی مرتبہ دیکھا۔ سورة النجم آیت : وعلمہ شدید القوی، میں یہ بحث گزرچکی ہے۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(81:17) والیل اذا عسعس : واؤ قسمیہ الیل المقسم بہ۔ اذا ظرف زمان۔ عسعس ماضی واحد مذکر غائب ۔ عسعسۃ بروزن فعللۃ مصدر سے۔ یہ کلمہ اضداد میں سے ہے اور اس کے معنی اقبل اور ادبر دونوں کے ہیں یعنی رات کا اندھیرا چھا جانے کے بھی اور چھٹ جانے کے بھی۔ اور یہ کیفیت رات کی ابتداء میں بھی ہوتی ہے اور انتہا میں بھی ۔ ترجمہ ہوگا :۔ اور قسم ہے رات کی جب وہ ڈھلنے لگے یا چھا جائے۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 1–29

لغات القرآن۔ کورت۔ لپیٹ دے گیا۔ انکدرت۔ ماند پڑگئی۔ (پڑ گئے) سیرت۔ چلا دی گئی۔ العشار۔ گابھن اونٹنیاں۔ عطلت۔ چھٹ کر پھری۔ الوحوش (وحش) ۔ جنگلی جانور۔ حشرت۔ آپس میں گڈ مڈ ہوجائیں۔ سجرت۔ جھونکے گئے۔ زوجت۔ جوڑے جوڑے بنا دئیے گئے۔ الموئو دۃ ۔ زمین میں گاڑدی گئی لڑکی۔ سئلت۔ پوچھا گیا۔ الصحف۔ اعمال نامے۔ نشرت۔ پھیلا دئیے۔ کشطت۔ پرت کے پرت اتا رلئے گئے۔ کھال کھینچ لی گئی۔ سعرت۔ بھڑکائی گئی۔ ازلف۔ قریب کردی گئی۔ احضرت۔ وہ لے کر حاضر ہوا۔ الخنس۔ پیچھے ہٹ جانے والے۔ الکنس۔ چھپ جانے والے۔ عسعس۔ پھیل گیا۔ تنفس۔ روشن ہوا۔ مکین۔ مرتبہ والا۔ مطاع۔ جس کی اطاعت کی جائے۔ کہا مانا جائے۔ الافق۔ کنارہ۔ بضنین۔…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 14–18

(ف 1) یہ پانچ ستارے ہیں جنہیں متحیرہ کہتے ہیں : زحل۔ مشتری۔ مریخ۔ زہرہ۔ عطارد۔ ان ستاروں کی چال اس ڈھب سے ہے کہ کبھی ٹھٹک کر الٹے پھریں گے اور کبھی سورج کے پاس آکرکتنے دنوں تک غائب رہیں، ان ستاروں کا چلنا ٹھہرنا لوٹنا اور چھپ جانا ایک نمونہ ہے اگلے انبیاء پر بار بار وحی آنے اور ایک مدت دراز تک اس کے نشان باقی رہنے ، پھر منقطع ہو کرچھپ جانے اور غائب ہوجانے کا اور رات کا آنا نمونہ ہے اس تاریک دور کا جوخاتم المرسلین ﷺ کی ولادت باسعادت سے پہلے دنیا پر گذرا۔ کہ کسی شخص کو حق و باطل کی تمیز نہ رہی تھی اور وحی کے آثار بالکل مٹ چکے تھے اس کے بعد صبح کا روشن ہونا حضور کا اس جہان میں تشریف لانا اور…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 15–17

[8] یعنی منکرین کا یہ گمان صحیح نہیں ہے کہ قرآن میں یہ جو کچھ بیان کیا جا رہا ہے یہ محض ہوائی باتیں ہیں یا شیطانی وسوسہ ہے۔ [9] قرآنی قسموں کی حقیقت سمجھنے کے لئے ملاحظہ ہو اقسام القرآن بر صفحہ 1062

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 8–19

حل لغات :۔ الموء دۃ ۔ زندہ گاڑی ہوئی لڑکی ۔ بعض قبائل میں عزت اور شرف کا یہ غلط خیال رواج پذیر ہوگیا تھا کہ لڑکیاں ناموس اور عزت کے لئے موجب ننگ ہیں ۔ اس لئے وہ ان کو جب پیدا ہوتیں تو زندہ زمین میں گاڑ دیتے ۔ اس برائی کی طرف اشارہ ہے ۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلام سے قبل عربوں کی اخلاقی حالت کیا تھی ؟ اور اسلام نے ان لوگوں کی اصلاح کے سلسلہ میں کتنا بڑا کام کیا ۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 7–21

ف 2۔ یعنی فرشتے اس کا کہنا مانتے ہیں۔ 3۔ امانت دار ہے کہ وحی کو صحیح صحیح بےکم وکاست پہنچا دیتا ہے، پس وحی لانے والا تو ایسا ہے، آگے جن پر وحی نازل ہوئی ان کی نسبت ارشاد ہے کہ۔ (آگے دیکھو ترجمہ)

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

اور قسم ہے رات کے رب کی جب رخصت ہونے لگے 17 ؎ (عسعس) رات کا اندھیرا چھا گیا ، رات کا اندھیرا چلا گیا ۔ بروزن فعل عسعسۃ سے ماضی کا صیغہ واحد مذکر غائب ہے ۔ غسعس اللیل کے معنی ہیں رات کا اندھیرا چھا گیا اور اسی طرح یہ لفظ رات کے اندھیرا چلے جانے پر بھی بولا جاتا ہے لہٰذا یہ کلمہ اضداد میں سے ہے اور اس باب سے یہ کلمہ اس آیت میں آیا ہے اور اس کا مطلب یہ بھی ہے کہ قسم ہے رات کے رب کی جب پھل جائے اور قسم ہے رات کے رب کی جب وہ رخصت ہونے لگے دونوں معنوں پر یہ مضمون حاوی ہے اور آنے والی آیت سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ اس سے مراد رات کا پھل جانا ہی لینا زیادہ صحیح ہوگا تا ہم دوسرے معنی بھی مراد لیے گئے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 14–18

عَلِمَتْ نَفْسٌ مَّا أَحْضَرَ‌تْ (then everyone will know what he [ or she ] has put forward... 81:14). It means that when Resurrection, with all the horrors mentioned above, will take place, man will realise what he has brought with him. The word 'what' here refers to his good and bad deeds, all of which will be in front of him, either in the form of the Record of Deeds that will be given in his hands or his deeds will assume a specific body shape as is understood from certain Traditions. Allah knows best! Having described the horrors of Resurrection, and the accountability of deeds, Allah…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 15–17

12 That is, "You are not correct that what is being presented in the Qur'an is the bragging of an insane person, or the evil suggestion of a devil." br>

Read the full tafseer →