At-Takwir 81:16

At-Takwir · from ayah 16

81:16

الْجَوَارِ الْكُنَّسِ ۟ۙالۡجَوَارِ الۡكُنَّسِ

(اور) جو سیر کرتے اور غائب ہو جاتے ہیں

— Fateh Muhammad Jalandhari

Those that run [their courses] and disappear -

— Saheeh International

Juz 30 · Ruku 1 of surah · Ruku 6 of juz

Read the whole surah · Surah At-Takwir

All translations of 81:16

پلٹنے اور چھپ جانے والے تاروں کی

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

(اور) جو سیر کرتے اور غائب ہو جاتے ہیں

— مولانا فتح محمد جالندہری

چلنے پھرنے والے چھپنے والے ستاروں کی

— مولانا محمد جوناگڑہی

جو چلتے چلتے دبک جاتے ہیں۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

سیدھے چلیں تھم رہیں

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

جو بلا روک ٹوک چلتے رہتے ہیں (پھر ظاہر ہو کر) چھپ جاتے ہیں،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

جو چلنے والے ہیں، چھپ جانے والے ہیں !

— مولانا عبد السلام بھٹوی

جو سیدھے چلتے چلتے غائب ہوجاتے ہیں

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

چلنے والے اور چھپ جانے والے ستاروں کی

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

سیدھے چلنے والوں چھپ جانے والوں کی

— مولانا اسحاق مدنی

چلتے رہنے والوں جاچھپنے والوں کی

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور چھپ جانے والے ستاروں کی۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور جو سیر کرتے اور غائب ہوجاتے ہیں

— محترمہ رفعت اعجاز

that proceed, that withdraw from the scene,

— Muhammad Taqi Usmani

that proceed, that withdraw from the scene,

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Al-Jawar Al-Kunnas.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Those that run [their courses] and disappear -

— Saheeh International

stars which are visible during the night

— Muhammad Sarwar

That run their course (and) hide themselves,

— Muhammad Habib Shakir

Moving swiftly and hiding themselves,

— Abdul Majid Daryabadi

Tafseer of 81:16

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 15–29

ستارے، نیل گائے اور ہرن حضرت عمرو بن حریث ؓ فرماتے ہیں کہ میں نے صبح کی نماز میں رسول اللہ ﷺ کو اس سورة کی تلاوت کرتے ہوئے سنا اس نماز میں میں بھی مقتدیوں میں شامل تھا (مسلم) یہ ستاروں کی قسمیں کھائی گئی ہیں جو دن کے وقت پیچھے ہٹ جاتے ہیں یعنی چھپ جاتے ہیں اور رات کو ظاہر ہوتے ہیں حضرت علی ؓ ہی فرماتے ہیں اور بھی صحابہ تابعین وغیرہ سے اس کی یہی تفسیر مروی ہے بعض ائمہ نے فرمایا ہے طلوع کے وقت ستاروں کو خنس کہا جاتا ہے اور اپنی اپنی جگہ پر انہیں جوار کہا جاتا ہے اور چھپ جانے کے وقت انہیں کنس کہا جاتا ہے بعض نے کہا ہے اس سے مراد جنگلی گائے ہے یہ بھی مروی ہے کہ مراد ہرن ہے۔ ابراہیم نے حضرت مجاہد…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 15–17

سورة التَّكْوِیْر 12 یعنی تم لوگوں کا یہ گمان صحیح نہیں ہے کہ جو کچھ قرآن میں بیان کیا جارہا ہے یہ کسی دیوانے کی بڑ ہے یا کوئی شیطانی وسوسہ ہے۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 14–18

عَلِمَتْ نَفْسٌ مَّآ اَحْضَرَتْ ، یعنی جب قیامت کے حالات مذکورہ پیش آویں گے اس وقت ہر انسان جان لیگا کہ وہ اپنے ساتھ کیا سامان لایا ہے۔ سامان سے مراد اس کا نیک یا بد عمل ہے کہ وہ سب اعمال اسکے سامنے آجاویں گے جو دنیا میں کئے تھے خواہ اس طرح کے صحائف اعمال میں لکھے ہوئے اسکے ہاتھ میں آجائیں یا اس طرح کے یہ اعمال کسی خاص شکل و صورت میں اسکے سامنے آویں جیسا کہ بعض روایات حدیث سے معلوم ہوتا ہے۔ واللہ اعلم، قیامت کے احوال اور ہولناک مناظر اور وہاں محاسبہ اعمال کا ذکر فرمانے کے بعد حق تعالیٰ نے چند ستاروں کی قسم کھا کر فرمایا کہ یہ قرآن حق ہے اللہ کی طرف سے بڑی حفاظت کے ساتھ بھیجا گیا ہے اور جس ذات…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

’اَلْجَوَارِ الْکُنَّسِ‘۔ یہ انہی ستاروں کی مزید صفات کا بیان ہے اور ان کا بغیر حرف عطف کے آنا عربیت کے اس معروف قاعدے سے، جس کی وضاحت اس کے محل میں گزر چکی ہے، اس بات کی دلیل ہے کہ ان کے موصوف الگ الگ نہیں ہیں۔ ’جَوَارِیْ‘ کے معنی چلنے والے کے ہیں اور ’کُنَّسٌ‘ جمع ہے ’کَانِسٌ‘ کی۔ ’کنس الظبی‘ کے معنی ہوں گے ہرن اپنے مامن میں چھپ گیا۔ ’کنست النجوم‘ کے معنی ہوں گے کہ ستارے اپنے مدار میں چلے اور چل کر اپنے ٹھکانوں میں روپوش ہو گئے۔ صاحب اقرب الموارد نے وضاحت کی ہے کہ یہ صفت تمام ستاروں کی مشترک صفت ہے۔ ستاروں کی قسم کہانت کے ابطال کے پہلو سے: ستاروں کی یہ قسم یہاں کہانت کے ابطال کے لیے کھائی…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 16–18

16۔ 1 یہ ستارے دن کے وقت اپنے منظر سے پیچھے ہٹ جاتے ہیں اور نظر نہیں آتے اور یہ زحل، مستری، مریخ، زہرہ، عطارد ہیں، یہ خاص طور پر سورج کے رخ پر ہوتے ہیں بعض کہتے ہیں کہ سارے ہی ستارے مراد ہیں، کیونکہ سب ہی اپنے غائب ہونے کی جگہ پر غائب ہوجاتے ہیں یا دن کو چھپے رہتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 16–17

7: بعض ستارے ایسے ہوتے ہیں کہ وہ کبھی مشرق سے مغرب کی طرف چلتے نظر آتے ہیں، اور کبھی مغرب سے مشرق کی طرف۔ گویا وہ ایک سمت میں چلتے چلتے واپس پلٹ رہے ہیں، پھر چلتے چلتے نگاہوں سے غائب ہوجاتے ہیں، گویا ہوجاتے ہیں، گویا وہ کہیں دبک کر چھپ گئے ہیں۔ ان ستاروں کی یہ گردش اللہ تعالیٰ کی قدرت کاملہ کا عجیب مظہر ہے۔ اس لیے ان کی قسم کھائی گئی ہے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 15–16

الخنس ۔ الجوار ۔ الکنس تینوں سے مراد ستارے ہیں۔ الخنس وہ ستارے جو اپنے دورہ فلکی میں پلٹتے ہیں ، الجوار جو چلتے ہیں اور الکنس ، جو چھپتے ہیں۔ انداز بیان کے استعارات ان ستاروں کو ہر نوں کی طرح زندگی کی خصوصیات بخش دیتے ہیں ، جو پلٹتی ہیں ، دوڑتی ہیں اور اپنے غار میں گھس جاتی ہیں۔ ایک طرف سے دوسری طرف لوٹ جاتی ہیں ، یہ ستارے گویا زندہ ہر توں کی طرح دوڑتے گھومتے اور زندہ نظر آتے ہیں۔ انداز تعبیر ان ستاروں کی حرکت کو ایک حسن رفتار عطا کردیتا ہے۔ اور ان کے ظہور میں بھی جمال نظر آتا ہے۔ اور فضا میں بھی اس کا جمال ہے ۔ چھپنا بھی خوبصورت اور نمودار ہونا بھی خوبصورت۔ دوڑنا بھی اچھا اور مڑنا بھی اچھا۔…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 15–16

1 کئی سیاروں (مثلاً زحل، مشتری، مریخ، زہر، عطارد) کی چال اس ڈھب سے ہے کہ کبھی مغرب سے مشرق کو چلیں یہ سیدھی راہ ہے، کبھی ٹھٹک کر الٹے پھریں اور کبھی سورج کے پاس آکر کتنے دنوں تک غائب رہیں۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 16–17

آیت 17{ وَالَّیْلِ اِذَا عَسْعَسَ۔ } ”قسم ہے رات کی جب وہ روانہ ہونے لگے۔“ یہ آیت اور سورة المدثر کی یہ آیت باہم مشابہ اور ہم معنی ہیں : { وَالَّـیْلِ اِذَا اَدْبَرَ۔ } ”اور قسم ہے رات کی جب کہ وہ پیٹھ موڑے۔“

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 15–16

14 بطلیموسی نظریہ ہیئت اور خمسہ متحیرہ :۔ مندرجہ بالا آیات میں بارہ واقعات کا ذکر کیا گیا۔ ان میں سے پہلی چھ آیات یا چھ واقعات قیامت کی ابتدا یا نفخہ ئصور اول سے متعلق ہیں اور دوسرے چھ نفخہ صور ثانی یا میدان محشر سے تعلق رکھتے ہیں۔ اب اسی دنیا کے چند اہم امور کی اللہ تعالیٰ نے قسم کھائی ہے۔ بطلیموسی نظریہ ہیئت 400 قبل مسیح سے لے کر سترہویں صدی تک یعنی دو ہزار سال سے زیادہ عرصہ اتنا مقبول رہا کہ دنیا کے تمام مدارس اور یونیورسٹیوں میں اسی کی تعلیم دی جاتی رہی۔ اس نظریہ کے مطابق زمین کو ساکن اور سورج کو متحرک قرار دیا گیا۔ سات آسمان اور افلاک تسلیم کیے گئے اور ان پر سات سیارے۔ یعنی ہر فلک میں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 15–20

6۔ (اور اس کے لائے ہوئے کلام میں یہ شبہ بھی نہیں ہوسکتا کہ شیطانی تصرف ہوا ہو، یا کہانت کی آمیزش کہیں سے ہوگئی ہو) ان صفات والے سے مراد فرشتہ وحی حضرت جبرئیل ہیں، جن کا ذکر سورة والنجم میں گزر چکا ہے ، (آیت) ” علمہ شدیدا القوی “۔ الخ، کے تحت میں (آیت) ” رسول “۔ یہ لفظ خود بتا رہا ہے کہ اسے کہیں کلام جبرئیل نہ خیال کرلینا، ان کی حیثیت اس کلام کے سلسلہ میں تو محض قاصد کی ہے۔ یہ اوصاف جبرائیلی جو بیان ہوئے ہیں ان سے معلوم ہوا کہ فرشتہ وحی منصب رسالت کا پوری طرح متحمل اور اسرار وانوار کا ہر طرح محافظ ہے۔ (آیت) ” عند ذی العرش مکین “۔ عنہ یہاں قرب جسمانی کے لیے نہیں کہ حق تعالیٰ ہر جسمانیت ومکانیت…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 8–29

واذا لموئو ودۃ سئلت، اس آیت کے انداز بیان میں ایسی شدید غضب ناکی پائی جاتی ہے، جس سیز یادہ غضب ناکی کا تصور نہیں کیا جاسکتا، بیٹی کو زندہ درگور کرنے والے والدین اللہ کی نظر میں ایسے قابل نفرت ہوں گے کہ ان کو مخاطب کر کے ان سے یہ نہ پوچھا جائے گا کہ تم نے اس معصوم کو کیوں قتل کیا ؟ بلکہ اس سے نگاہ پھیر کر معصوم بچی سے پوچھا جائے گا کہ تو بےچاری آخر کس قصور میں مار دی گئی ؟ اور وہ اپنی داستان مظلومیت سنائے گی، اس آیت کے مضمون سے ایک اہم بات خود بخود یہ سمجھ میں آتی ہے کہ اس میں آخرت کے ضروری ہونے کی ایک صریح دلیل پیش کی گئی ہے، جس لڑکی کو زندہ دفن کردیا گیا، آخر اس کی کہیں تو داد رسی ہونی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

الجوار الکنس . یعنی وہ خمسہ متحیرہ جو دائرے میں چلتے اور غروب یا محاق کے وقت چھپ جاتے ہیں ‘ کنوس کا معنی ہے خرگوش اور ہرن کا اپنے مسکن (جھاڑی وغیرہ) میں پناہ گیر ہونا ‘ یہاں کنوس سے مراد ہے غروب یا محاق کے وقت ستاروں کا چھپ جانا۔ میں کہتا ہوں احتمال ہے کہ ان ستاروں کے مکان سے مراد ہو زیرین عرش ان کی قرارگاہ۔ حضرت ابوذر ؓ کی روایت ہے رسول اللہ ﷺ نے سورج ڈوب گیا تو فرمایا : کیا تو جانتا ہے یہ کہاں جاتا ہے ؟ میں نے عرض کیا : اللہ اور اس کا رسول ﷺ ہی بخوبی واقف ہیں۔ فرمایا : وہ عرش کے نیچے سجدہ کرنے جاتا ہے۔ (الحدیث)

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 10–18

(10۔ 18) اور جس وقت نامہ اعمال حساب و کتاب کے لیے کھول دیے جائیں گے، یا یہ کہ ہاتھوں میں دے دیے جائیں گے، اور جس وقت آسمان لپیٹ لیا جائے گا اور جب دوزخ کفار کے لیے دہکائی جائے گی اور جب جنت پرہیزگاروں کے قریب کردی جائے گی، تو اس وقت ہر ایک نیک اور گنہگار کو اپنی نیکی و برائی معلوم ہوجائے گی جو کہ لے کے آیا ہے۔ میں قسم کھاتا ہوں ان ستاروں کی جو دن کو غائب ہوجاتے اور رات کو نکلتے ہیں، جو رات کو چلتے رہتے ہیں اور پھر اپنے مطلع میں جا چھپتے ہیں، یہ کیفیت پانچ ستاروں کو پیش آتی ہے یعنی زحل، مشتری، عطارد، مریخ، زہرہ۔ اور قسم ہے رات کی جب وہ جانے لگے اور صبح کی جب وہ آنے لگے اور خوب روشن ہوجائے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

Explained with ayahs 15–16

(فلا اقسم بالخش…:”الخنس“”خنس“ (ض) (پیچھے ہٹنا) سے ”خانس“ کی جمع بروزن ”رکع“ ہے۔”خناس“ بھی اسی سے ہے۔ اسی طرح ”الکنس“ ”کانس“ کی جمع ہے۔ ”کناس“ ہرن وغیرہ کی درختوں میں بنئای ہوئی جگہ، جہاں وہ چھپ جاتے ہیں۔ ”کنس“ (ض) چھپنے کی جگہ میں داخل ہوگیا ، چھپ گیا۔ ”الجوار“ ”جزی یجری“ سے ”جاریۃ“ کی جمع ہے۔ مراد سورج، چاند اور ستارے ہیں۔ انہیں ”الخنس“ (پیچھے ہٹنے والے) اس لئے کہا گیا ہے کہ یہ سب مغرب میں غروب ہونے کے بعد پھر پیچھے یعنی مشرق کی طرف آنا شروع ہوجاتے ہیں، یہاں تک کہ مشرق سے دوبارہ نمودار ہوجاتے ہیں۔”الجوار“ چلنے والے ، یعنی ان کا کام ہی چلتے رہنا ہے، مغرب سے واپس مشرق کی طرف اور وہاں سے دوبارہ…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 15–16

فلا اقسم بالخنس۔۔۔ تا۔۔۔ بمجنون۔ فلا اقسم بالخنس الجوار الکنس۔ لازائدہ ہے یعنی میں قسم اٹھاتا ہوں جس طرح یہ بات گزرچکی ہے، پانچ بڑے ستارے مراد ہیں، زحل، مشتری، عطارد، مریخ اور زہرہ۔ جس طرح مفسرین نے ذکر کیا ہے، اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے، حضرت علی سے یہی مروی ہے، تمام ستاروں سے صرف انہیں کا خصوصا ذکر کرنا دو وجوہ سے ہے۔ ایک یہ کہ سورج کے بالمقابل ہوتے ہیں یہ بکر بن عبداللہ مزنی نے کہا۔ دوسرے یہ کہکشاں کو طے کرتے ہیں۔ یہ حضرت ابن عباس کا قول ہے۔ حضرت حسن بصری اور قتادہ نے کہا، اس سے مراد ستارے ہیں جو دن کے وقت چھپ جاتے ہیں، حضرت علی سے یہی مروی ہے فرمایا اس سے مراد ستارے ہیں جو دن کو چھپ جاتے…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

47۔ ابن ابی حاتم نے سعید بن جبیر کے طریق سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت الجوار الکنس سے مراد ہے بیل جو سائے کی طرف پیچھے ہٹا ہے۔ 48۔ ابن المنذر نے خصیف کے طریق سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت الجوار الکنس سے وہ وحشی جانور مراد ہے جو درخت کی جڑوں میں اپنے لیے پناہ گاہ بنالیتا ہے اور اس میں چھپ جاتا ہے۔ 49۔ ابن جریر نے عوفی کے طریق سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت الکنس سے مراد ہے ہرن۔ 50۔ عبدبن حمید وابن راہویہ اور بیہقی نے البعث میں علی ؓ سے روایت کیا کہ آیت الجوار الکنس سے مراد ہیں ستارے۔ 51۔ عبد بن حمید نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت فلا اقسم بالخنس الوار الکنس سے مراد ہے وہ ستارے…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[الْجوارِ : چلنے والوں (یعنی سیاروں) کی ][ الْكُنَّسِ : چھپ جانے والوں (یعنی تاروں) کی ] ک ن س [کَنُوْسًا : (ن) کسی کا اپنی پناہ گاہ میں پناہ لینا۔ دہک جانا۔] کَانِسٌ ج کَنَّسٌ۔ پناہ لینے والا۔ دبک جانے والا۔ زیر مطالعہ آیت۔ 16 ۔ ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 15–16

ان آیات میں اللہ جل شانہ نے چند مخصوص ستاروں اور رات کی اور صبح کی قسم کھا کر قرآن کریم کی اور قرآن مجید لانے والے فرشتے یعنی جبرائیل (علیہ السلام) کی فضیلت بیان فرمائی ہے اور جو لوگ رسول اللہ ﷺ کو دیوانگی کی طرف منسوب کرتے تھے ان کی تردید کی ہے۔ جن ستاروں کی قسم کھائی ہے ان کے بارے میں الخنس اور الکنس فرمایا ہے۔ الخنس خانس کی جمع ہے جس کا معنی پیچھے ہٹنے والا ہے اور الجوار جاریۃ کی جمع ہے جو (جری یجری) سے اسم فاعل کا صیغہ ہے اور فواعل کے وزن پر ہے، ی کو لکھنے اور پڑھنے میں حذف کردیا گیا ہے اس کا معنی ہے چلنے والے اور الکنس کانس کی جمع ہے اور کنس یکنس کا اسم فاعل ہے جس کا معنی چھپ جانے کا ہے،…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 1–29

ہولناک مناظر روز قیامت و پیشی اعمال و فیصلہ جزاء وسزا : قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” اذا الشمس کورت ....... الی ...... الا ان یشآء اللہ رب العلمین “۔ (ربط) سورة عبس کا مضمون دراصل اثبات قیامت کے موضوع ہی پر مشتمل تھا اور مقصد بیان یہ تھا کہ انسان کی سعادت و فلاح اور عزت و عظمت اپنی زندگی اپنے پروردگار کے ساتھ وابستہ رکھنے اور فکر آخرت میں ہے، اس کے برعکس وہ مغرور ومتکبر جو نہ خدا پر ایمان لاتا ہے اور نہ ہی اس کو آخرت کی فکر ہے وہ خدا کی نظروں میں ذلیل و حقیر ہے، طالب حق اور سعادت کی فکر میں لگے رہنے والا انسان ہی بارگاہ رسالت میں ہر عزت واکرام کا مستحق ہے، آخر میں قیامت کے روز کی پریشانی اور…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 15–18

4:۔ ” فلا اقسم “ یہ تخویف اخروی ہے سورة عبس کے مقابلہ میں بطور ترقی اور دن رات اور تاروں کے احوال سے قیامت کے دن لوگوں کے مختلف احوال پر شواہد پیش کیے گئے ہیں۔ ” الخنس “ خانس اور خانسۃ کی جمع ہے سیدھے چل کر پھر واپس آنے والے۔ ” الجوار “ جاریۃ کی جمع ہے۔ تیزی کے ساتھ رواں دواں۔ ” الکنس “ کانس اور کانسۃ کی جمع ہے یعنی روشنی دکھانے کے بعد تحت الشعاع آکر چھپ جانے والے۔ ” عسعس “ ای ادبر، جب رات اپنی تاریکی کے ساتھ پیٹھ پھیرتی ہے۔ ” تنفس “ ای اسفر، جب صبح کا اجالا نمودار ہوتا ہے جس طرح خمسہ متحیرہ، زحل، مشتری مریخ زہرہ اور عطارد ابتداء سفر میں سیدھے چلتے ہیں پھر الٹے چل کر واپس اپنے مقام میں پہنچ…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 14–18

(گذشتہ سے پیوستہ) سورۃ کے پہلے درس میں قیامت کا ذکر تھا ۔ اس درس میں قرآن کریم کا ذکر ہے ۔ قرآن پاک کی صداقت ، اس کی حقانیت اس کا منزل من اللہ ہونا اس کو لانے والے فرشتے اور خود نبی (علیہ السلام) کی حیثیت کا بیان ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ قیامت اور قرآن پاک آپس میں مریوط ہیں ۔ اسی لیے دونوں کا اکٹھا ذکر ہے۔ قیامت کا ذکر اس لحاظ سے ہے۔ کہ اس کا اثر کائنات کی مختلف اشیاء پر کیا ہوگا ۔ چناچہ اس سلسلہ میں نظام شمسی کے سب سے بڑے کرے سورج کا ذکر ہے۔ کہ اس کی روشنی ختم ہوا جائے گی۔ اس کے بعد باقی سیاروں کا ذکر ہے۔ سورج اور چاند کے متعلق فرمایا کہ یہ دوسیارے ایک خاص نظام کے تحت مقررہ راستے پر چل رہے ہیں۔…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

الْجَـــوَارِ الْكُنَّسِ۝ 16 ۙ جری الجَرْي : المرّ السریع، وأصله كمرّ الماء، ولما يجري بجريه . يقال : جَرَى يَجْرِي جِرْيَة وجَرَيَاناً. قال عزّ وجل : وَهذِهِ الْأَنْهارُ تَجْرِي مِنْ تَحْتِي [ الزخرف/ 51] وقال تعالی: جَنَّاتُ عَدْنٍ تَجْرِي مِنْ تَحْتِهِمُ الْأَنْهارُ [ الكهف/ 31] ، وقال : وَلِتَجْرِيَ الْفُلْكُ [ الروم/ 46] ، وقال تعالی: فِيها عَيْنٌ جارِيَةٌ [ الغاشية/ 12] ، وقال : إِنَّا لَمَّا طَغَى الْماءُ حَمَلْناكُمْ فِي الْجارِيَةِ [ الحاقة/ 11] ، أي : السفینة التي تجري في البحر، وجمعها : جَوَارٍ ، قال عزّ وجلّ : وَلَهُ الْجَوارِ الْمُنْشَآتُ [ الرحمن/ 24] ، وقال تعالی: وَمِنْ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 15–29

ترکیب ¦ فلما الفاء للتفریع اوالتعقیب ولا زائدۃ کما مر تحقیقھا فی سورة القیامۃ بالخنس المقسم بہ وھی جمع خانس و خانستہ من خنس اذا تاخروفی الصحاح الخنس الکواکب کلھا انھا تخنس فی المغیب اولانھا تخفی نھاراً وقیلھی الکواکب الخمس زحل والمشتری والمریخ والزھرۃ و عطارد و فی الکبیر الخنس 1 ؎ جمع خانس والخنوس الانقباض والاستخفاء تقول خنس من بین القوم وتخنس و فی الحدیث الشیطان یوسوس ای العبد فاذا ذکر اللہ خنس ولذاسمی الخناس۔ الجوار جمع جاریۃ وھی السیارات لانھا تجری۔ وھی صفۃ الخنس۔ الکنس جمع کانس وکانستہ یقال کنس اذا دخل الکناس وھو مقرالوحش کنس کناس بالکسر خواب جائے آہو و پنہان شدن اودر آنجا (عع1 ک 2) کنس…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 15–19

فَـلَآ اُقْسِمُ بِالْخُنَّسِ ۔ الْجَوَارِالْـکُنَّسِ ۔ وَالَّیْلِ اِذَا عَسْعَسَ ۔ وَالصُّبْحِ اِذَا تَنَفَّسَ ۔ اِنَّـہٗ لَقَوْلُ رَسُوْلٍ کَرِیْمٍ ۔ (التکویر : 15 تا 19) (پس نہیں ! میں قسم کھاتا ہوں پیچھے ہٹ جانے والے ستاروں کی۔ سیدھے چلنے والوں اور چھپ جانے والے ستاروں کی۔ اور رات کی جب وہ جانے لگے۔ اور صبح کی جب وہ سانس لے۔ یہ ایک باعزت رسول کا لایا ہوا کلام ہے۔ ) خُنَّسِ جمع ہے خَانِسٌ کی۔ اس کا معنی ہے آگے بڑھ کر پیچھے ہٹ جانے والے۔ یعنی ظاہر ہو کر غائب ہوجانے والے اور نمایاں ہو کر روپوش ہوجانے والے۔ الْجَوَارِالْـکُنَّسِ جواری کے معنی چلنے والے کے ہیں۔ اور کُنَسُّ جمع ہے کَانِسٌ کی۔ اس…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 15–29

فہم القرآن ربط کلام : قرآن مجید کی دعوت کا تیسرا مضمون قیامت ہے جو ہر صورت قائم ہو کر رہے گی۔ اہل مکہ نہ صرف قیامت کا انکار کرتے تھے بلکہ اس وجہ سے قرآن مجید کو ماننے کے لیے تیار نہیں تھے کہ یہ ” اللہ “ کی کتاب ہے۔ اس لیے یہاں ایک مرتبہ پھر وضاحت کی جا رہی ہے کہ قرآن مجید اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل کیا گیا ہے۔ یہ بات کئی مرتبہ عرض ہوچکی ہے کہ قرآن مجید کے بنیادی مضامین تین ہیں۔ توحید، رسالت اور آخرت۔ باقی مسائل انہیں کی تفصیل اور تقاضے ہیں۔ قرآن مجید ان عقائد پر بار بار زور دیتا ہے کیونکہ مکہ کے لوگ کسی نہ کسی انداز میں ان تینوں باتوں کا انکار کرتے تھے جس بنا پر ان کی کوشش تھی کہ لوگوں کی…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

16 : الْجَوَارِ الْکُنَّسِ (چلتے رہتے ہیں جا چھپتے ہیں) الجوارؔ چلتے رہنے والے۔ الکنسؔ غائب ہونے والے۔ یہ کنس الوحش سے لیا گیا ہے جبکہ وہ اپنے کچھار میں داخل ہو۔ ایک قول یہ ہے وہ خمسہ متحیرہ ہیں۔ بہرام، زحل، عطارد، الزہرہ، المشتری یہ سورج و چاند دونوں کے ساتھ چلتے ہیں۔ اور واپس لوٹ کر سورج کی روشنی میں چھپ جاتے ہیں۔ پس خنوسؔ سے مراد انکار جوع ہے۔ اور کنوس ؔ سے ان کا سورج کی روشنی کے نیچے چھپنا مراد ہے۔ ایک قول یہ ہے کہ اس سے مراد تمام ستارے ہیں۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 15–29

15۔ 29۔ خنس کے معنی پچھے ہٹ جانے اور کنس کے معنی نکلنے کے ہیں مطلب یہ ہے کہ تارے جو دن کو سورج کی روشنی میں چھپ جاتے ہیں اور رات کو نکل آتے ہیں ان کی اور اول شب کی تاریکی اور طلوع صبح کی تاکید کے طور پر قسم کھا کر اللہ تعالیٰ نے قرآن کو کلام اللہ اور محمد ﷺ کو اللہ کا رسول فرمایا ہے اگرچہ بعض مفسروں نے لکھا ہے کہ انہ لقول رسول کریم میں رسول سے مراد آنحضرت ﷺ کی ذات ہے لیکن صحیح قول وہی ہے جو امام المفسرین 2 ؎ حضرت عبد اللہ بن عباس اور سلف نے فرمایا ہے کہ رسول سے مراد اس آیت میں حضرت جبرئیل (علیہ السلام) ہیں کیونکہ مشرکین مکہ کبھی کہتے تھے انما یعلمہ بشر۔ کبھی کہتے تھے افتری علی اللہ کذبا ام بہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 15–16

اللہ تبارک وتعالی نے پیچھے ہٹنے والے ستاروں کی قسم کھائی (بِالْخُنَّسِ ) اس سے مراد وہ ستارے ہیں جو مشرق کی جہت میں، کواکب کی عادی رفتار سے پیچھے ہٹ جاتے ہیں اور ہفت سیارگان یہ ہیں، سورج، چاند، زہرہ، مشتری، مریخ، زحل اور عطارد۔ ان ساتوں سیاروں کا چلنا دو جہتوں میں ہے۔ ایک چلنا مغرب کی جہت میں تمام کواکب اور فلک کے ساتھ اور ایک چلنا اس جہت کے برعکس مشرق کی جہت میں، یہ چلنا صرف انہی سات سیاروں کے ساتھ مختص ہے۔ پس اللہ تعالیٰ نے ان ستاروں کے پیچھے ہٹنے کے حال میں ان کے چلنے اور ان کے چھپ جانے، یعنی دن کے وقت مستور ہونے کے حال کی قسم کھائی ہے اور اس میں یہ احتمال بھی ہے کہ اس سے مراد تمام کواکب…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 16–17

(14) ستاروں کی قسم ان کی بعض خاص صفات کے اعتبار سے : سو اس سے قرآن حکیم کی حقانیت و صداقت کے اثبات کے لیے خاص ستاروں کی قسم کھائی گئی، یعنی پیچھے ہٹنے والے، لگاتار چلنے والے، اور چھپ جانے والے ستاروں کی۔ پس ستاروں کا یہ سیدھا چلنا لوٹ آنا اور چھپ جانا فرشتے کے آنے واپس جانے اور عالم ملکوت میں چھپ جانے کے مشابہ ہے۔ (تفسیر عثمانی) سو اسی طرح قرآن حکیم کے ذریعے جہالت کی ظلمت و تاریکی کے چھٹ جانے اور نور ہدایت و ایمان کے پھیلنے اور عام ہونے کو اس کے مشابہ سمجھو۔ اور یہ سوچو کہ جس ذات اقدس و اعلی نے سورج چاند اور ستاروں کے ذریعے تمہارے لیے اس ظاہری اور حسی روشنی کا اس طرح انتظام فرمایا ہے، کس طرح…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 15–29

قرآن جس میں کوئی شک نہیں۔ تقدیر کیا ہے ؟ تشریح : یہاں 15 اور 16 آیات میں آسمانی فزکس Astrophysics کے بنیادی اصول بیان کئے گئے ہیں۔ '' خنس '' یعنی چھپنے والے تارے۔ اور '' کنس ''۔ یعنی ایک مخصوص راستہ کا محور کسی چلتی ہوئی چیز میں دبک جانے والا۔ ڈاکٹر ہلوک نور باقی صاحب اس کی وضاحت بڑے خوبصورت انداز میں کرتے ہیں لکھتے ہیں۔ '' اللہ قسم کھاتا ہے ان تمام طبیعاتی قوانین کی جو ساری کائنات کی وسعتوں میں کار فرما ہیں۔ جس کی طرف اشارہ ان دو آیات مبارکہ میں کیا گیا ہے۔ ہر مخلوق ایک خنس اور ایک کنس کی حالت میں ہے۔ ایک خوش اسلوب اور ہم آہنگ روانی یا بہنا ہے جب کہ دوسرا ہٹتے ہوئے پردہ کرنے کی طرح ہے جیسے…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–29

سورة التکویر۔ آیات 1 تا 29۔ اسرار ومعارف۔ جب سورج بےنور ہوجائے گا اور ستارے ٹوٹ کر گرجائیں گے اور جب پہاڑ اکھیڑ کر اڑادیے جائیں گے اور لوگوں کو مال و دولت بھول جائے گا کہ عربوں کے نزدیک دس ماہ کی گابھن اونٹنی سب سے قیمتی اثاثہ سمجھی جاتی ہے ہر وقت دم کے ساتھ لگے پھرتے تھے کہ صحرا میں اس کادودھ نعمت غیر مترقہ ہوتا تھا مگر وہ بھی آوارہ پھر رہی ہوں گی یعنی لوگوں کو مال وزر کا ہوش نہ رہے گا اور نفخہ اولی سے گھبرا کر جنگلی جانور اور درندے آبادیوں میں آگھسیں گے اور دریا سمندر میں مل جائیں گے کہ زمین شق ہوجائے گی اور پھر ان میں اجرام فلکی گریں گے تو بھاپ بن کر اڑجائیں گے اور پھر فضا میں وہ بھاپ آگ…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 15–16

ف 12 ان سے مراد جیسا کہ مفسرین نے لکھا ہے پانچ سیارے ہیں یعنی زحل، مشتری، مریخ، زہرہ اور عطارد (شوکانی) شاہ صاحب ( علیہ السلام) لکھتے ہیں : ان کی چال اس ڈھب سے ہے کہ کبھی مغرب سے مشرق کو چلیں یہ سیدھی ہوتی ( اور) کبھی ٹھٹک کر الٹے پھریں اور کبھی سورج کے پاس آکر غائب رہیں کتنے دنوں تک۔ (موضح) یہاں بھی ” فلا اقسم “ میں لا ‘ زائد ہے اس لئے مطلب یہ ہے کہ میں قسم کھاتا ہوں۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(81:16) الجوار الکنس یہ دونوں الخنس کی صفت ہیں الجوار جمع ہے جاریۃ کی یعنی جاری ہونے والی۔ یعنی سیدھا چلنے والی۔ الکنس : کانس کی جمع ہے۔ کناس (باب ضرب) مصدر سے اسم فاعل کا جمع مذکر کا صیغہ ہے۔ کناس ہرن کے رہنے کی جھاڑی کو بھی کہتے ہیں اور اس میں ہرن کے چھپنے کو بھی۔ یہاں چھپنے والے سیارے مراد ہیں۔ بعض کے نزدیک عام ستارے مراد ہیں جو رات کو نکلتے ہیں اور دن کو نمودار نہیں ہوتے ۔ ترجمہ ہر دو آیات کا یہ ہوگا :۔ پس میں قسم کھاتا ہوں خنس کی جو الجوار اور الکنس ہیں۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 1–29

لغات القرآن۔ کورت۔ لپیٹ دے گیا۔ انکدرت۔ ماند پڑگئی۔ (پڑ گئے) سیرت۔ چلا دی گئی۔ العشار۔ گابھن اونٹنیاں۔ عطلت۔ چھٹ کر پھری۔ الوحوش (وحش) ۔ جنگلی جانور۔ حشرت۔ آپس میں گڈ مڈ ہوجائیں۔ سجرت۔ جھونکے گئے۔ زوجت۔ جوڑے جوڑے بنا دئیے گئے۔ الموئو دۃ ۔ زمین میں گاڑدی گئی لڑکی۔ سئلت۔ پوچھا گیا۔ الصحف۔ اعمال نامے۔ نشرت۔ پھیلا دئیے۔ کشطت۔ پرت کے پرت اتا رلئے گئے۔ کھال کھینچ لی گئی۔ سعرت۔ بھڑکائی گئی۔ ازلف۔ قریب کردی گئی۔ احضرت۔ وہ لے کر حاضر ہوا۔ الخنس۔ پیچھے ہٹ جانے والے۔ الکنس۔ چھپ جانے والے۔ عسعس۔ پھیل گیا۔ تنفس۔ روشن ہوا۔ مکین۔ مرتبہ والا۔ مطاع۔ جس کی اطاعت کی جائے۔ کہا مانا جائے۔ الافق۔ کنارہ۔ بضنین۔…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 14–18

(ف 1) یہ پانچ ستارے ہیں جنہیں متحیرہ کہتے ہیں : زحل۔ مشتری۔ مریخ۔ زہرہ۔ عطارد۔ ان ستاروں کی چال اس ڈھب سے ہے کہ کبھی ٹھٹک کر الٹے پھریں گے اور کبھی سورج کے پاس آکرکتنے دنوں تک غائب رہیں، ان ستاروں کا چلنا ٹھہرنا لوٹنا اور چھپ جانا ایک نمونہ ہے اگلے انبیاء پر بار بار وحی آنے اور ایک مدت دراز تک اس کے نشان باقی رہنے ، پھر منقطع ہو کرچھپ جانے اور غائب ہوجانے کا اور رات کا آنا نمونہ ہے اس تاریک دور کا جوخاتم المرسلین ﷺ کی ولادت باسعادت سے پہلے دنیا پر گذرا۔ کہ کسی شخص کو حق و باطل کی تمیز نہ رہی تھی اور وحی کے آثار بالکل مٹ چکے تھے اس کے بعد صبح کا روشن ہونا حضور کا اس جہان میں تشریف لانا اور…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 15–17

[8] یعنی منکرین کا یہ گمان صحیح نہیں ہے کہ قرآن میں یہ جو کچھ بیان کیا جا رہا ہے یہ محض ہوائی باتیں ہیں یا شیطانی وسوسہ ہے۔ [9] قرآنی قسموں کی حقیقت سمجھنے کے لئے ملاحظہ ہو اقسام القرآن بر صفحہ 1062

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 8–19

حل لغات :۔ الموء دۃ ۔ زندہ گاڑی ہوئی لڑکی ۔ بعض قبائل میں عزت اور شرف کا یہ غلط خیال رواج پذیر ہوگیا تھا کہ لڑکیاں ناموس اور عزت کے لئے موجب ننگ ہیں ۔ اس لئے وہ ان کو جب پیدا ہوتیں تو زندہ زمین میں گاڑ دیتے ۔ اس برائی کی طرف اشارہ ہے ۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلام سے قبل عربوں کی اخلاقی حالت کیا تھی ؟ اور اسلام نے ان لوگوں کی اصلاح کے سلسلہ میں کتنا بڑا کام کیا ۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 7–21

ف 2۔ یعنی فرشتے اس کا کہنا مانتے ہیں۔ 3۔ امانت دار ہے کہ وحی کو صحیح صحیح بےکم وکاست پہنچا دیتا ہے، پس وحی لانے والا تو ایسا ہے، آگے جن پر وحی نازل ہوئی ان کی نسبت ارشاد ہے کہ۔ (آگے دیکھو ترجمہ)

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

سیدھے چلنے والے اور ایک جگہ رکے رہنے والے ستاروں کے رب کی قسم 16 ؎ گزشتہ آیت میں ( خنس) کا لفظ آیا اور زیر نظر آیت میں ( کنس) کا اور دونوں مادے یعنی خ ن س اور ک ن س سے صرف یہ دو لفظ استعمال ہوئے ہیں اگرچہ خنس کے مادہ کا ایک اور لفظ بھی قرآن کریم میں آیا ہے ( الخناس) جو آگے آئے گا۔ الکنس جمع ہے الکانس مفرد کناس مصدر اور کناس ہرن کے رہنے کی جگہ اور جھاڑی کو کہتے ہیں جہاں ہرن چھپتا ہے ۔ اس جگہ مراد چھپنے والے ستاروں ہی سے ہے اور اس کے معنی بھی تقریباً ( الخنس) کے ساتھ ملتے جلتے ہی ہیں بلکہ ایک ہی جیسے بیان کیے گئے ہیں ۔ جو ستارے وہاں مراد لیے گئے ہیں وہی ستارے اس جگہ بھی مراد لیے گئے ہیں ۔ چھپ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 14–18

عَلِمَتْ نَفْسٌ مَّا أَحْضَرَ‌تْ (then everyone will know what he [ or she ] has put forward... 81:14). It means that when Resurrection, with all the horrors mentioned above, will take place, man will realise what he has brought with him. The word 'what' here refers to his good and bad deeds, all of which will be in front of him, either in the form of the Record of Deeds that will be given in his hands or his deeds will assume a specific body shape as is understood from certain Traditions. Allah knows best! Having described the horrors of Resurrection, and the accountability of deeds, Allah…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 15–17

12 That is, "You are not correct that what is being presented in the Qur'an is the bragging of an insane person, or the evil suggestion of a devil." br>

Read the full tafseer →