At-Takwir 81:21

At-Takwir · from ayah 21

81:21

مُّطَاعٍ ثَمَّ اَمِیْنٍ ۟ؕمُّطَاعٍ ثَمَّ اَمِيۡنٍؕ

سردار (اور) امانت دار ہے

— Fateh Muhammad Jalandhari

Obeyed there [in the heavens] and trustworthy.

— Saheeh International

Juz 30 · Ruku 1 of surah · Ruku 6 of juz

Read the whole surah · Surah At-Takwir

All translations of 81:21

وہاں اُس کا حکم مانا جاتا ہے، وہ با اعتماد ہے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

سردار (اور) امانت دار ہے

— مولانا فتح محمد جالندہری

جس کی (آسمانوں میں) اطاعت کی جاتی ہے امین ہے

— مولانا محمد جوناگڑہی

وہاں اس کی بات مانی جاتی ہے۔ وہ امانت دار ہے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

(تمام جہانوں کے لئے) واجب الاطاعت ہیں (کیونکہ ان کی اطاعت ہی اللہ کی اطاعت ہے)، امانت دار ہیں (وحی اور زمین و آسمان کے سب اُلوہی رازوں کے حامل ہیں)،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

وہاں اس کی بات مانی جاتی ہے، امانت دار ہے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

وہاں اس کا حکم مانا جاتا ہے، بااعتماد ہے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اس کی بات مانی جاتی اور وہ نہایت امین بھی ہے۔

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

وہاں اس کا حکم مانا جاتا ہے اور وہ بڑا امانتدار بھی ہے

— مولانا اسحاق مدنی

وہاں اس کا کہا مانا جاتا ہے (اور وہ) امانت دار ہے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

جس کی اطاعت کی جاتی ہے اور وہ امانت دار بھی ہے۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

سردار اور امانت دار ہے

— محترمہ رفعت اعجاز

there he is obeyed and held trustworthy.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

the one obeyed there, trusted.

— Muhammad Taqi Usmani

the one obeyed there, trusted.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Obeyed there, trustworthy.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Obeyed there [in the heavens] and trustworthy.

— Saheeh International

obeyed by (all creatures) and faithful to His trust.

— Muhammad Sarwar

One (to be) obeyed, and faithful in trust.

— Muhammad Habib Shakir

Obeyed one there; trustWorthy.

— Abdul Majid Daryabadi

With authority there, (and) faithful to his trust.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 81:21

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 15–29

ستارے، نیل گائے اور ہرن حضرت عمرو بن حریث ؓ فرماتے ہیں کہ میں نے صبح کی نماز میں رسول اللہ ﷺ کو اس سورة کی تلاوت کرتے ہوئے سنا اس نماز میں میں بھی مقتدیوں میں شامل تھا (مسلم) یہ ستاروں کی قسمیں کھائی گئی ہیں جو دن کے وقت پیچھے ہٹ جاتے ہیں یعنی چھپ جاتے ہیں اور رات کو ظاہر ہوتے ہیں حضرت علی ؓ ہی فرماتے ہیں اور بھی صحابہ تابعین وغیرہ سے اس کی یہی تفسیر مروی ہے بعض ائمہ نے فرمایا ہے طلوع کے وقت ستاروں کو خنس کہا جاتا ہے اور اپنی اپنی جگہ پر انہیں جوار کہا جاتا ہے اور چھپ جانے کے وقت انہیں کنس کہا جاتا ہے بعض نے کہا ہے اس سے مراد جنگلی گائے ہے یہ بھی مروی ہے کہ مراد ہرن ہے۔ ابراہیم نے حضرت مجاہد…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة التَّكْوِیْر 16 یعنی وہ فرشتوں کا افسر ہے۔ تمام فرشتے اس کے حکم کے تحت کام کرتے ہیں۔ سورة التَّكْوِیْر 17 یعنی وہ اپنی طرف سے کوئی بات خدا کی وحی میں ملا دینے والا نہیں، بلکہ ایسا امانت دار ہے کہ جو کچھ خدا کی طرف سے ارشاد ہوتا ہے اسے جوں کا توں پہنچا دیتا ہے۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 19–29

اِنَّهٗ لَقَوْلُ رَسُوْلٍ كَرِيْمٍ 19 ۝ ۙذِيْ قُوَّةٍ الخ، ستاروں کی قسم کے بعد فرمایا کہ یہ قرآن قول ہے کہ ایک رسول کریم کا، آگے اس رسول کریم کی صفت ایک تو یہ بیان فرمائی کہ وہ ذی قوت ہے، دوسری یہ کہ رب العرش کے پاس وہ مطاع ہے کہ اسکے احکام عرش والے مانتے ہیں، تیسری یہ کہ وہ اللہ کے نزدیک امین ہے اس سے پیغام لانے اور پہنچانے میں کسی خیانت اور کمی نیشن کا امکان نہیں۔ اس جگہ رسول کریم سے مراد بظاہر جبریل امین ہیں کیونکہ لفظ رسول کا جیسے انبیاء پر اطلاق ہوتا ہے ایسے ہی فرشتوں کے لئے بھی یہ لفظ بولا جاتا ہے اور آگے جتنی صفات رسول کی بیان کی گئی ہیں وہ سب جبریل امین پر بغیر کسی تکلف و تاویل کے…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

’مُطَاعٍ‘ یعنی جو ارواح و ملائک اس کی ماتحتی میں ہیں وہ سب بے چون و چرا اس کی اطاعت کرتے ہیں، مجال نہیں ہے کہ سرمو اس کے احکام سے انحراف کر سکیں یا اس کی مرضی کے خلاف کوئی قدم اٹھا سکیں یا اس کے دیے ہوئے احکام میں کوئی تحریف یا ترمیم یا شیاطین کے ساتھ کوئی ساز باز کر سکیں۔ ’ثَمَّ‘ کی تحقیق: ’ثَمَّ أَمِیْنٍ‘ کلام عرب کے تتبع سے معلوم ہوتا ہے کہ ’ثَمَّ‘ اور ’ثُمَّ‘ کے مواقع استعمال میں بڑا فرق ہے۔ ’ثَمَّ‘ کسی جگہ کی طرف خاص طور پر اشارہ کے لیے بھی آتا ہے اور کسی صفت سے پہلے اس پر خاص اہتمام سے زور دینے کے لیے بھی۔ مثلاً سورۂ شعراء میں فرمایا ہے: ’وَاَزْلَفْنَا ثَمَّ الْاٰخَرِیْنَ‘ (۶۴) اس کا…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 19–21

19۔ 1 اس لئے کہ وہ اسے اللہ کی طرف سے لے کر آیا ہے۔ مراد حضرت جبرائیل علیہ الاسلام ہیں۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 19–21

انہ لقول ............................ امین (19:81 تا 21) ” یہ فی الواقع ایک بزرگ پیغمبر کا قول ہے ، جو بڑی توانائی رکھتا ہے ، عرش والے کے ہاں بلند مرتبہ ہے ، وہاں اس کا حکم مانا جاتا ہے ، وہ بااعتماد ہے “۔ یعنی یہ قرآن مجید جو آپ لوگوں کے سامنے پیش کیا جارہا ہے ، خصوصاً یہ قیامت کی ہولناکیاں جو بیان کی جارہی ہیں ، یہ رسول مکرم کا قول ہے ، یعنی جبرئیل (علیہ السلام) کا جو خدا کے فرستادہ ہیں اور جنہوں نے اس بات کو بحفاظت پہنچایا ہے اور گویا قرآن پہلے خدا کا قول ہے اور پھر جبرئیل (علیہ السلام) کا قول ہے کہ انہوں نے بطور پیغام الٰہی دہرایا ہے۔ اور یہ پیغام لانے والا ، جس کے ذمہ اس اہم پیغام کو…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 19–21

4 یہ حضرت جبرائیل کی صفات بیان ہوئیں۔ مطلب یہ ہے کہ قرآن کریم جو اللہ کے پاس سے ہم تک پہنچا اس میں دو واسطے ہیں۔ ایک وحی لانے والا فرشتہ ( جبرائیل) اور دوسرا پیغمبر عربی ﷺ دونوں کی صفات وہ ہیں جن کے معلوم ہونے کے بعد کسی طرح کا شک و شبہ قرآن کے صادق اور منزل من اللہ ہونے میں نہیں رہتا۔ کسی روایت کی صحت تسلیم کرنے کے لئے اعلیٰ سے اعلیٰ راوی وہ ہوتا ہے جو اعلیٰ درجہ کا ثقہ، عادل، ضابط، حافظ اور امانتدار ہو۔ جس سے روایت کرے اس کے پاس عزو حرمت کے ساتھ رہتا ہو۔ بڑے بڑے معتبر ثقات اس کی امانت وغیرہ پر اعتماد کلی رکھتے ہوں۔ اور اسی لئے اس کی بات بےچون و چرا مانتے ہوں۔ یہ تمام صفات حضرت جبرائیل میں…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 21{ مُّطَاعٍ ثَمَّ اَمِیْنٍ۔ } ”جس کی اطاعت کی جاتی ہے اور وہ امانت دار بھی ہے۔“ حضرت جبرائیل علیہ السلام تمام فرشتوں کے سردار ہیں۔ اس لحاظ سے آپ علیہ السلام تمام فرشتوں کے مطاع ہیں یعنی تمام فرشتے آپ علیہ السلام کی اطاعت کرتے ہیں۔ اور آپ علیہ السلام امانت دار ایسے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کا پیغام جوں کا توں انبیاء و رسل - تک پہنچاتے رہے ہیں۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 19–22

17 جبریل کی صفات :۔ ان تین چیزوں کی اللہ تعالیٰ نے دو باتوں پر قسم اٹھائی یا بطور شہادت یہ باتیں پیش کیں۔ ان میں سے پہل بات یہ ہے کہ یہ قرآن نہ کسی کاہن کا قول ہے نہ شاعر کا، نہ آپ کا تالیف کردہ ہے بلکہ یہ معزز رسول کا قول ہے۔ یہ رسول جبریل ہے جو اللہ کا فرستادہ اور اس کا کلام پیش کر رہا ہے لیکن چونکہ جبریل کی زبان سے ہو رہا ہے اس لیے قول کی نسبت جبریل کی طرف کی گئی ہے۔ یہ جبریل بڑا زور آور اور طاقتور ہے۔ سورة النجم میں جبریل کے لیے (شدید القوی :) اور (ذومرۃ) کے الفاظ آئے ہیں۔ یہ فرشتہ اللہ کے ہاں بڑا مقرب ہے۔ وہ ایک افسر ہے جس کی سب فرشتے اطاعت کرتے ہیں۔ علاوہ ازیں وہ امین بھی ہے۔ اللہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

7۔ یہ قرآن کا لانے والا فرشتہ جب ان اوصاف کا مالک ہے تو نہ یہ ممکن ہے کہ خود اس کی طرف سے کوئی خیانت ہوئی ہو، اور نہ یہ ممکن ہے کہ کسی خارجی ذریعہ سے اس کلام میں کہانت کی آمیزش ہو۔ یہ سب ان منکرین کے جواب میں ارشاد ہورہا ہے جو رسول اللہ ﷺ کو (نعوذ باللہ) کاہن سمجھ رہے تھے اور قرآن کو آپ ﷺ کا کلام۔ (آیت) ” مطاع “۔ یعنی فرشتہ وحی حضرت جبرئیل تو فرش میں بھی سروری، سرداری کا مرتبہ رکھتے ہیں۔ اے فی السموت یطیعہ من فیھا اوعند اللہ یطیعہ ملائکۃ المقربون یصدرون عن امرہ ویرجعون الی رأیہ (مدارک) (آیت) ” امین “۔ اس وصف سے اس حقیقت کی طرف اشارہ ہوگیا کہ ان کی پیام رسانی میں ادنی دخل بھی خیانت کو نہیں، نہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 8–29

واذا لموئو ودۃ سئلت، اس آیت کے انداز بیان میں ایسی شدید غضب ناکی پائی جاتی ہے، جس سیز یادہ غضب ناکی کا تصور نہیں کیا جاسکتا، بیٹی کو زندہ درگور کرنے والے والدین اللہ کی نظر میں ایسے قابل نفرت ہوں گے کہ ان کو مخاطب کر کے ان سے یہ نہ پوچھا جائے گا کہ تم نے اس معصوم کو کیوں قتل کیا ؟ بلکہ اس سے نگاہ پھیر کر معصوم بچی سے پوچھا جائے گا کہ تو بےچاری آخر کس قصور میں مار دی گئی ؟ اور وہ اپنی داستان مظلومیت سنائے گی، اس آیت کے مضمون سے ایک اہم بات خود بخود یہ سمجھ میں آتی ہے کہ اس میں آخرت کے ضروری ہونے کی ایک صریح دلیل پیش کی گئی ہے، جس لڑکی کو زندہ دفن کردیا گیا، آخر اس کی کہیں تو داد رسی ہونی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

مطاع ثم امین اور مطاع ہے (اس کا حکم مانا جاتا ہے) اور وہاں امین وحی ہے۔ ثَمَّ (وہاں) کا تعلق امین سے ہے اور مطاع بھی ہوسکتا ہے یعنی ملاء اعلیٰ (عالم ملائکہ) میں اس رسول کی اطاعت کی جاتی ہے۔ بغوی نے کہا : منجملہ دوسرے واقعات کے ایک واقعہ یہ بھی تھا کہ شب معراج میں رسول اللہ ﷺ کے لیے جبرئیل کے کہنے سے ملائکہ نے آسمانوں کے دروازے کھول دیئے تھے اور جنت کے دربانوں نے جنت کے دروازے۔ میں کہتا ہوں یہ بعینہٖ اطاعت محمد رسول اللہ ﷺ کی تھی۔ یہ بھی احتمال ہے کہ اطاعت سے مراد یہ ہو کہ اللہ کے احکام پہلے حضرت جبرئیل ( علیہ السلام) پر اترتے ہیں پھر ان کے ذریعہ سے دوسرے فرشتوں کو پہنچتے ہیں۔ حضرت نواس بن…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 19–21

(19۔ 21) ان تمام چیزوں کی قسم کھا کر اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ یہ قرآن اللہ کا کلام ہے جس کو جبریل مکرم و معزز نبی پر لے کر آئے ہیں اور وہ فرشتہ قوت والا ہے اور اس کا مالک عرش کے نزدیک رتبہ ہے اور آسمانوں میں فرشتے اسی کا کہنا مانتے ہیں اور امانت دار ہیں کہ انبیاء کرام کے پاس وحی کو صحیح پہنچا دیتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

Explained with ayahs 21–22

(مطلع ثم امین): وہاں اس کی بات مانی ہوئی ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ کے مقرب فرشتوں میں سے ہے، خ جیسا کہ حدیث معراج میں ہے کہ جبریل ؑ کے کہنے پر آسمان کے دروازے کھلے۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 20–21

ذی قوۃ۔ جس نے رسول سے مراد جبرائیل امین لی ہے آپ کی قوت تو ظاہر ہے، ضحاک نے حضرت ابن عباس سے روایت نقل کی ہے کہ ان کی قوت کا عالم یہ ہے کہ انہوں نے قوم لوط کی بستیوں کو پروں کے قوادم سے اکھاڑ دیا تھا۔ عند ذی العرش مکین، مطاع امین۔ یعنی اللہ تعالیٰ کے نزدیک بڑے مرتبہ والے ہیں، حضرت ابوصالح سے مروی ہے کہ وہ ستر خیموں میں بغیر اجازت داخل ہوتے ہیں ان کی آسمانوں میں اطاعت کی جاتی ہے حضرت ابن عباس نے فرمایا اس معنی ہے فرشتے حضرت جبرائیل امین کی اطاعت کرتے ہیں جب وہ رسول اللہ کو معراج پرلے گئے تو حضرت جبرائیل امین نے رضوان فرشتہ جو جنت کے خازن تھے سے فرمایا، آپ کے لیے دروازہ کھول دو ، اس نے دروازہ…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 21–22

70۔ ابن المنذر وابو الشیخ نے العظمہ میں ابو صالح (رح) سے آیت مطاع ثم امین کے بارے میں روایت کیا کہ وہ ستر پردوں پر امین ہیں اور ان میں بغیر اجازت کے داخل ہوتے ہیں آیت وما صاحبکم بمجنون سے مراد محمد ﷺ آیت ولقد راٰہ بالافق المبین اور اس نے اس کو کھلے کنارے پر دیکھا بھی ہے۔ یعنی ہم بیان کیا کرتے تھے کہ افق وہی ہے کہ جس میں سے دن ظاہر ہوتا ہے اور دوسرے لفظ میں یوں ہے کہ بیشک افق وہ ہے جہاں سے سورج طلوع ہوتا ہے۔ 71۔ ابن مردویہ وابو نعیم نے الدلائل میں ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ آیت ولقد راٰہ بالافق المبین سے مراد ہے کہ آپ نے جبریل (علیہ السلام) کو بستر رفرف پر دیکھا اور انہوں نے افق کو بند کر…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[مُّطَاعٍ : اس کی اطاعت کی جاتی ہے ][ ثَمَّ : وہیں ][ اَمِيْن : امانتدار (بھی) ہے ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 18–22

﴿وَ الصُّبْحِ اِذَا تَنَفَّسَۙ0018﴾ (اور قسم ہے صبح کی جب وہ سانس لے) یعنی جب وہ آنے لگے (اس سے فجر اول مراد ہے) ان چیزوں کی قسم کھا کر فرمایا کہ بلاشبہ یہ قرآن کلام ہے رسول کریم کا جسے ایک معزز فرشتہ لایا ہے یہ فرشتہ قوت والا ہے اور مالک عرش کے نزدیک رتبہ والا ہے اور وہاں یعنی آسمان میں اس کی بات مانی جاتی ہے اور وہ فرشتہ امانت دار ہے جو وحی کو بالکل صحیح صحیح پہنچاتا ہے۔ اس میں حضرت جبرائیل (علیہ السلام) کی صفات بیان فرمائی ہیں جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس کلام یعنی قرآن کریم کو لایا کرتے تھے اور رسول اللہ ﷺ تک پہنچاتے تھے اس کے بعد رسول اللہ ﷺ کی ذات گرامی کے بارے میں ارشاد فرمایا کہ یہ جو…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 1–29

ہولناک مناظر روز قیامت و پیشی اعمال و فیصلہ جزاء وسزا : قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” اذا الشمس کورت ....... الی ...... الا ان یشآء اللہ رب العلمین “۔ (ربط) سورة عبس کا مضمون دراصل اثبات قیامت کے موضوع ہی پر مشتمل تھا اور مقصد بیان یہ تھا کہ انسان کی سعادت و فلاح اور عزت و عظمت اپنی زندگی اپنے پروردگار کے ساتھ وابستہ رکھنے اور فکر آخرت میں ہے، اس کے برعکس وہ مغرور ومتکبر جو نہ خدا پر ایمان لاتا ہے اور نہ ہی اس کو آخرت کی فکر ہے وہ خدا کی نظروں میں ذلیل و حقیر ہے، طالب حق اور سعادت کی فکر میں لگے رہنے والا انسان ہی بارگاہ رسالت میں ہر عزت واکرام کا مستحق ہے، آخر میں قیامت کے روز کی پریشانی اور…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 19–21

5:۔ ” انہ لقول “ یہ زجر کے لیے تمہید ہے اور دلیل وحی کی طرف اشارہ ہے یعنی عقلی نمونہ اور دلیل وحی کی طرف اشارہ ہے یعنی عقلی نمونہ تو تم نے سن لیا اب یہ بھی سن لو کہ میں جو کچھ کہتا ہوں اپنی طرف سے نہیں کہتا بلکہ وحی سے کہتا ہوں اور وحی وہ فرشتہ لاتا ہے جو بڑی قوت کا مالک اور عرش والے بادشاہ کے نزدیک بڑی عزت اور بڑے مرتبے والا اور امین ہے۔ وہ ساتوں آسمانوں کے فرشتوں میں حاکم مطاع ہے تمام فرشتے اس کے احکام کی تعمیل کرتے ہیں مراد جبریل (علیہ السلام) ہیں۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 19–29

(جبرائیل (علیہ السلام) اپنی اصلی صورت میں) جیسے کہ پہلے بیان ہوا جبرائیل (علیہ السلام) کا تعلق قرآن پاک کے واسطہ سے نظام بالا کے ساتھ ہے۔ چناچہ ارشاد ربانی ہے۔ ولقد راہ بالا فق المبین یعنی نبی (علیہ السلام) نے جبرائیل (علیہ السلام) کو کھلے کنارے پر دیکھا ہے۔ حدیث (ب 1 بخاری ص 3 ج 1 ومسلم ص 10 ج 1) شریف میں آتا ہے کہ ابتدائے نبوت کے زمانہ میں حضور ﷺ نے حضرت جبرائیل (علیہ السلام) کو اپنی اصل شکل میں دیکھا تھا جبرائیل (علیہ السلام) کرسی پر بیٹھے تھے اور آسمانی فضا بھی بھری ہوئی آپ نے مشاہدہ کیا تو دہشت طاری ہوگئی تشریف لائے اور فرمایا مجھ پر کمبل ڈال دو پھر آپ نے سارا واقعہ بیان کیا۔ اس کے بعد…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

مُّطَاعٍ ثَمَّ اَمِيْنٍ۝ 21 ۭ طوع الطَّوْعُ : الانقیادُ ، ويضادّه الكره قال عزّ وجلّ : ائْتِيا طَوْعاً أَوْ كَرْهاً [ فصلت/ 11] ، وَلَهُ أَسْلَمَ مَنْ فِي السَّماواتِ وَالْأَرْضِ طَوْعاً وَكَرْهاً [ آل عمران/ 83] ، والطَّاعَةُ مثله لکن أكثر ما تقال في الائتمار لما أمر، والارتسام فيما رسم . قال تعالی: وَيَقُولُونَ طاعَةٌ [ النساء/ 81] ، طاعَةٌ وَقَوْلٌ مَعْرُوفٌ [ محمد/ 21] ، أي : أَطِيعُوا، وقد طَاعَ له يَطُوعُ ، وأَطَاعَهُ يُطِيعُهُ «5» . قال تعالی: وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ [ التغابن/ 12] ، مَنْ يُطِعِ الرَّسُولَ فَقَدْ أَطاعَ اللَّهَ [ النساء/ 80] ، وَلا تُطِعِ الْكافِرِينَ [ الأحزاب/ 48] ،…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 15–29

ترکیب ¦ فلما الفاء للتفریع اوالتعقیب ولا زائدۃ کما مر تحقیقھا فی سورة القیامۃ بالخنس المقسم بہ وھی جمع خانس و خانستہ من خنس اذا تاخروفی الصحاح الخنس الکواکب کلھا انھا تخنس فی المغیب اولانھا تخفی نھاراً وقیلھی الکواکب الخمس زحل والمشتری والمریخ والزھرۃ و عطارد و فی الکبیر الخنس 1 ؎ جمع خانس والخنوس الانقباض والاستخفاء تقول خنس من بین القوم وتخنس و فی الحدیث الشیطان یوسوس ای العبد فاذا ذکر اللہ خنس ولذاسمی الخناس۔ الجوار جمع جاریۃ وھی السیارات لانھا تجری۔ وھی صفۃ الخنس۔ الکنس جمع کانس وکانستہ یقال کنس اذا دخل الکناس وھو مقرالوحش کنس کناس بالکسر خواب جائے آہو و پنہان شدن اودر آنجا (عع1 ک 2) کنس…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 20–21

ذِیْ قُوَّۃٍ عِنْدَ ذِی الْعَرْشِ مَکِیْنٍ ۔ مُّطَاعٍ ثَمَّ اَمِیْنٍ ۔ (التکویر : 20، 21) (جو بڑی قوت والا ہے اور عرش والے کے ہاں بہت بلند مرتبہ ہے۔ اس کی اطاعت کی جاتی ہے وہ نہایت امین بھی ہے۔ ) حضرت جبرائیل (علیہ السلام) کی صفات حضرت جبرائیل (علیہ السلام) کی پہلی صفت بیان کی گئی ہے کہ وہ بڑی قوت والے ہیں۔ سورة نجم میں آپ کو شدیدالقویٰ کہا گیا ہے۔ اس کا مفہوم بھی یہی ہے۔ بتانا یہ ہے کہ وہ فرشتہ جو اللہ تعالیٰ کا کلام لے کر اترتا ہے وہ نہایت زور اور قوت والا ہے۔ شیطانی قوتوں کی یہ مجال نہیں کہ وہ اس کو مرعوب یا مغلوب یا متأثر کرسکیں۔ اور جب وہ کلام ِ خداوندی کو لے کر اترتے ہیں اس میں سے کسی…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 15–29

فہم القرآن ربط کلام : قرآن مجید کی دعوت کا تیسرا مضمون قیامت ہے جو ہر صورت قائم ہو کر رہے گی۔ اہل مکہ نہ صرف قیامت کا انکار کرتے تھے بلکہ اس وجہ سے قرآن مجید کو ماننے کے لیے تیار نہیں تھے کہ یہ ” اللہ “ کی کتاب ہے۔ اس لیے یہاں ایک مرتبہ پھر وضاحت کی جا رہی ہے کہ قرآن مجید اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل کیا گیا ہے۔ یہ بات کئی مرتبہ عرض ہوچکی ہے کہ قرآن مجید کے بنیادی مضامین تین ہیں۔ توحید، رسالت اور آخرت۔ باقی مسائل انہیں کی تفصیل اور تقاضے ہیں۔ قرآن مجید ان عقائد پر بار بار زور دیتا ہے کیونکہ مکہ کے لوگ کسی نہ کسی انداز میں ان تینوں باتوں کا انکار کرتے تھے جس بنا پر ان کی کوشش تھی کہ لوگوں کی…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

21 : مُّطَاعٍ ثَمَّ اَمِیْنٍ (وہاں اس کا کہنا مانا جانا ہے۔ اور امانت دار ہے) مطاع ثمؔ یعنی آسمانوں میں تمام فرشتے اس کی بات مانتے ہیں۔ نمبر 2۔ عرش والے کے ہاں اس کی بات مانی جاتی ہے۔ اللہ تعالیٰ کے مقرب فرشتے اس کی بات مانتے ہیں۔ اس کی رائے کی طرف رجوع کرتے ہیں اور اس کے حکم سے نتیجہ نکالتے ہیں۔ امینؔ وہ وحی لانے پر امانتدار ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

20 ۔” ذی قوۃ “ اور ان کی قوت میں سے یہ ہے کہ انہوں نے قوم لوط کی بستیوں کو سیاہ پانی سے اکھاڑا اور ان کو اپنے سر پر اٹھایا۔ پھر ان کو آسمان تک بلند کیا، پھر ان کو پلٹ دیا اور انہوں نے ابلیس کو دیکھا کہ وہ عیسیٰ (علیہ السلام) سے ارض مقدس کے کسی ٹیلہ پر کلام کررہا ہے تو اس کو اپنے پر سے ہوا دی تو اس کو ہندوستان کے آخری پہاڑ پر جا پھینکا اور انہوں نے قوم ثمود پر ایک چیخ ماری تو وہ اوندھے منہ گرے ہوئے ہوگئے اور وہ آسمان سے زمین پر اتر کر واپس چڑھ جاتے ہیں پلک جھپکنے سے بھی زیادہ جلدی۔ ” عندذی العرش مکین “ مرتبہ میں۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 15–29

15۔ 29۔ خنس کے معنی پچھے ہٹ جانے اور کنس کے معنی نکلنے کے ہیں مطلب یہ ہے کہ تارے جو دن کو سورج کی روشنی میں چھپ جاتے ہیں اور رات کو نکل آتے ہیں ان کی اور اول شب کی تاریکی اور طلوع صبح کی تاکید کے طور پر قسم کھا کر اللہ تعالیٰ نے قرآن کو کلام اللہ اور محمد ﷺ کو اللہ کا رسول فرمایا ہے اگرچہ بعض مفسروں نے لکھا ہے کہ انہ لقول رسول کریم میں رسول سے مراد آنحضرت ﷺ کی ذات ہے لیکن صحیح قول وہی ہے جو امام المفسرین 2 ؎ حضرت عبد اللہ بن عباس اور سلف نے فرمایا ہے کہ رسول سے مراد اس آیت میں حضرت جبرئیل (علیہ السلام) ہیں کیونکہ مشرکین مکہ کبھی کہتے تھے انما یعلمہ بشر۔ کبھی کہتے تھے افتری علی اللہ کذبا ام بہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

(مُّطَاعٍ ثَمَّ ) یعنی ملا اعلی میں جبرائیل کی اطاعت کی جاتی ہے ان کے پاس مقرب فرشتوں کی ایک جماعت ہے جن پر ان کا حکم نافذ ہوتا ہے اور ان کی رائے کی اطاعت کی جاتی ہے۔ ( اَمِيْنٍ ) یعنی امانت دار ہیں ان کو جو حکم دیا جاتا ہے اس کی تعمیل کرتے ہیں اس میں کمی بیشی نہیں کرتے اور جو حدود ان کے لیے مقرر کی گئی ہیں ان سے تجاوز نہیں کرتے۔ یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کے ہاں قرآن کریم کے شرف پر دلالت کرتا ہے کیونکہ اس کے ساتھ ایک عالی مرتبہ فرشتے کو بھیجا جو ان صفات کاملہ سے موصوف ہے عام عادت یہ ہے کہ بادشاہ کسی عالی مرتبہ ہستی کو اہم ترین مہم اور بلند مرتبہ پیغام ہی کے لیے بھیجا کرتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 19–22

(16) دعوائے مقصود کا ذکر وبیان : سو اوپر کی دونوں قسموں کے مقسم علیہ یا بالفاظ دیگر اصل دعوائے مقصود کے ذکر وبیان کے طور پر ارشاد فرمایا گیا اور " ان " کے کلمہ تاکید کے ساتھ موکد کر کے ارشاد فرمایا گیا کہ بلا شبہ یہ قرآن لایا ہوا کلام ہے ایک بڑے باعزت رسول کا، یعنی یہ اضافت اس کلام حکیم کے انزال و ایصال کے اعتبار سے ہے، کہ جبریل امین جو کہ یہاں پر ان صفات کا مصداق ہیں وہی قرآن حکیم کو حضرت حق جل مجدہ کی طرف سے لانے والے ہیں، اس لیے اس کو ان کی طرف منسوب فرمایا گیا ہے، ورنہ یہ کلام معجز نظام ان کا نہیں حضرت حق سبحانہ و تعالیٰ کا کلام ہے، جو کہ اس کے بندوں کے پاس ان دو واسطوں سے آتا ہے، ایک…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 15–29

قرآن جس میں کوئی شک نہیں۔ تقدیر کیا ہے ؟ تشریح : یہاں 15 اور 16 آیات میں آسمانی فزکس Astrophysics کے بنیادی اصول بیان کئے گئے ہیں۔ '' خنس '' یعنی چھپنے والے تارے۔ اور '' کنس ''۔ یعنی ایک مخصوص راستہ کا محور کسی چلتی ہوئی چیز میں دبک جانے والا۔ ڈاکٹر ہلوک نور باقی صاحب اس کی وضاحت بڑے خوبصورت انداز میں کرتے ہیں لکھتے ہیں۔ '' اللہ قسم کھاتا ہے ان تمام طبیعاتی قوانین کی جو ساری کائنات کی وسعتوں میں کار فرما ہیں۔ جس کی طرف اشارہ ان دو آیات مبارکہ میں کیا گیا ہے۔ ہر مخلوق ایک خنس اور ایک کنس کی حالت میں ہے۔ ایک خوش اسلوب اور ہم آہنگ روانی یا بہنا ہے جب کہ دوسرا ہٹتے ہوئے پردہ کرنے کی طرح ہے جیسے…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–29

سورة التکویر۔ آیات 1 تا 29۔ اسرار ومعارف۔ جب سورج بےنور ہوجائے گا اور ستارے ٹوٹ کر گرجائیں گے اور جب پہاڑ اکھیڑ کر اڑادیے جائیں گے اور لوگوں کو مال و دولت بھول جائے گا کہ عربوں کے نزدیک دس ماہ کی گابھن اونٹنی سب سے قیمتی اثاثہ سمجھی جاتی ہے ہر وقت دم کے ساتھ لگے پھرتے تھے کہ صحرا میں اس کادودھ نعمت غیر مترقہ ہوتا تھا مگر وہ بھی آوارہ پھر رہی ہوں گی یعنی لوگوں کو مال وزر کا ہوش نہ رہے گا اور نفخہ اولی سے گھبرا کر جنگلی جانور اور درندے آبادیوں میں آگھسیں گے اور دریا سمندر میں مل جائیں گے کہ زمین شق ہوجائے گی اور پھر ان میں اجرام فلکی گریں گے تو بھاپ بن کر اڑجائیں گے اور پھر فضا میں وہ بھاپ آگ…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 17–23

ف 13 یعنی آنحضرت ﷺ نے حضرت جبریل ( علیہ السلام) کو آسمان کے کھلے کنارے پر ان کی اصلی شکل میں دیکھا۔ یہ واقعہ مقام بطحا کا ہے جب آنحضرت ﷺ نے جبریل ( علیہ السلام) کو پہلی مرتبہ دیکھا۔ سورة النجم آیت : وعلمہ شدید القوی، میں یہ بحث گزرچکی ہے۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(81:21) مطاع ثم امین : اطاعۃ (افعال) مصدر سے۔ اسم مفعول کا صیغہ واحد مذکر۔ (طلوع مادہ) اطاعت کیا گیا۔ وہ جس کی دوسرے تابعداری کریں۔ مراد حضرت جبرائیل جو سید الملائکہ ہیں۔ اور فرشتے ان کی اطاعت کرتے ہیں۔ یہ رسول کی چوتھی صفت ہے۔ ثم اسم اشارہ ہے مکان بعید کے لئے آتا ہے اور باعتبار اصل کے ظرف ہے بمعنی وہاں۔ وہیں۔ اس جگہ۔ ای فی السموت آسمانوں میں (جلالین) ۔ امین : امانت دار۔ معتبر۔ امن والا۔ امانۃ باب کرم مصدر سے ۔ بمعنی امانت دار ہونا۔ ا میں ہونا۔ اور امن باب سمع مصدر بمعنی امن میں ہونا۔ مطمئن ہونا۔ محفوظ ہونا سے اسم فاعل کا صیغہ بھی ہوسکتا ہے اور اسم مفعول کا بھی کیونکہ فعیل کا وزن دونوں میں…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 1–29

لغات القرآن۔ کورت۔ لپیٹ دے گیا۔ انکدرت۔ ماند پڑگئی۔ (پڑ گئے) سیرت۔ چلا دی گئی۔ العشار۔ گابھن اونٹنیاں۔ عطلت۔ چھٹ کر پھری۔ الوحوش (وحش) ۔ جنگلی جانور۔ حشرت۔ آپس میں گڈ مڈ ہوجائیں۔ سجرت۔ جھونکے گئے۔ زوجت۔ جوڑے جوڑے بنا دئیے گئے۔ الموئو دۃ ۔ زمین میں گاڑدی گئی لڑکی۔ سئلت۔ پوچھا گیا۔ الصحف۔ اعمال نامے۔ نشرت۔ پھیلا دئیے۔ کشطت۔ پرت کے پرت اتا رلئے گئے۔ کھال کھینچ لی گئی۔ سعرت۔ بھڑکائی گئی۔ ازلف۔ قریب کردی گئی۔ احضرت۔ وہ لے کر حاضر ہوا۔ الخنس۔ پیچھے ہٹ جانے والے۔ الکنس۔ چھپ جانے والے۔ عسعس۔ پھیل گیا۔ تنفس۔ روشن ہوا۔ مکین۔ مرتبہ والا۔ مطاع۔ جس کی اطاعت کی جائے۔ کہا مانا جائے۔ الافق۔ کنارہ۔ بضنین۔…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 19–21

(ف 2) یہ حضرت جبرائیل (علیہ السلام) کی صفات بیان ہوئیں مطلب یہ ہے کہ قرآن کریم جو اللہ کے پاس سے ہم تک پہنچا اس میں دو واسطے ہیں۔ ایک وحی لانے والافرشتہ جبرائیل علیہ السلام۔ دوسرا پیغمبر عربی کی دونوں کی صفات وہ ہیں جن کے معلوم ہونے کے بعد کسی طرح کا شک وشبہ قرآن کے صادق، اور منزل من اللہ ہونے میں نہیں رہتا، کسی روایت کی صحت تسلیم کرنے کے لیے اعلی سے اعلی راوی وہ ہوتا ہے جو اعلی درجہ کا ثقہ ، عادل ، ضابط، حافظ اور امانت دار ہو، جس سے روایت کرے اس کے پاس عزت و حرمت کے ساتھ رہتا ہو بڑے بڑے معتبر ثقات اس کی امانت وغیرہ پر اعتماد کلی رکھتے ہیں اور اسی لیے اس کی بات بےچون وچرا مانتے ہوں، یہ تمام…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 21–28

[13] یعنی وہ فرشتوں کا افسر ہے اور تمام فرشتے بےچون و چرا اس کی اطاعت کرتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 20–21

آفتاب نبوت کا طلوع 1: قرآن کے متعلق یہ شبہ تھا کہ یہ کلام جناب رسالت مآب ﷺ نے اپنی طرف سے پیش کیا ہے ۔ جبرائیل (علیہ السلام) کی وساطت سے نازل نہیں ہوا ۔ اس کا جواب مرحمت فرمایا ہے کہ ان پانچ سیاروں کو دیکھو جن کو مریخ زحل ۔ مشتری ۔ زہرہ اور عطارد کہتے ہیں کہ یہ جس وقت چلتے چلتے مشرق کی جانب گھوم جاتے ہیں اور جس وقت تاریک رات جانے لگتی ہے اور صبح صادق کا وقت ہوتا ہے اور آفتاب کی آمد آمد ہوتی ہے ۔ کیا اس وقت دن کی تابندگی اور روشنی میں کوش شک وارتباب باقی رہتا ہے اور کیا اس وقت سوائے آفتاب کے اور کوئی دلیل آفتاب کے وجود کو پیش کی جاسکتی ہے ۔ ع ” آفتاب آمد دلیل آفتاب “ ٹھیک اسی طرح جس طرح کہ یہ…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(21) اس عالم میں اس کی بات مانی جاتی ہے اور وہ امانت دار ہے - ایک لانے والے میں جتنی باتیں خوبی کی ہونی چاہئیں وہ سب حضرت جبرئیل (علیہ السلام) میں جمع ہیں یعنی زبردست قوۃ والا ہے۔ کوئی اس سے پیغام راستے میں چھین نہیں سکتا، ضبط اور حفظ کی قوت کا مالک ہے بڑی بات یہ کہ عرش کے مالک کے نزدیک ذی مرتبہ اور صاحب مرتبہ ہے درگاہ الوہیت میں بڑا قرب اور بڑا مرتبہ حاصل ہے۔ عالم بالا یعنی ملائکہ میں مطاع ہے یعنی آسمانوں کے فرشتے اس کی بات اور اس کا حکم مانتے ہیں اور ان کے امانت دار ہونے میں کسی کو سبہ نہیں۔ یہ تمام حضرت جبرئیل (علیہ السلام) کے اوصاف تھے آگے نبی کریم ﷺ کے اوصاف بیان فرماتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 7–21

ف 2۔ یعنی فرشتے اس کا کہنا مانتے ہیں۔ 3۔ امانت دار ہے کہ وحی کو صحیح صحیح بےکم وکاست پہنچا دیتا ہے، پس وحی لانے والا تو ایسا ہے، آگے جن پر وحی نازل ہوئی ان کی نسبت ارشاد ہے کہ۔ (آگے دیکھو ترجمہ)

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

وہ مطاع بھی ہے اور امین بھی ہے 21 ؎ ( مطاع) اسم مفعول واحد مذکر اطاعۃ مصدر باب افعال ط و ع مادہ ۔ اطاعت کیا گیا ۔ وہ جس کی دوسرے تابعداری کریں ۔ مراد اس سے جبریل (علیہ السلام) ہیں جو فرشتوں میں سے جلیل القدر فرشتہ ہیں ۔ وحی الٰہی کے لانے والے ہیں اور اس جگہ ان کا وحی لانا محمد رسول اللہ ﷺ کی طرف مراد ہے اور فرمایا گیا ہے کہ وہ ایسا فرشتہ ہیں کہ دوسرے فرشتے ان کی فرمانبرداری میں ہیں اور جو وہ ان کو حکم دیں وہ کرتے ہیں ۔ گویا آپ براہ راست اللہ تعالیٰ کے حکم سے پاتے ہیں اور جتنے فرشتوں کی معیت میں آنا قرار پاتا ہے اتنے فرشتوں کی موجودگی میں اترتے ہیں اور محمد رسول اللہ ﷺ کے قلب مبارک پر قرآن…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 19–29

إِنَّهُ لَقَوْلُ رَ‌سُولٍ كَرِ‌يمٍ ذِي قُوَّةٍ عِندَ ذِي الْعَرْ‌شِ مَكِينٍ (it [ the Qur'an ] is surely the word of a noble messenger [ Jibra'il ], the one possessing power and a high status with the Lord of the Throne...81:19-20). This is the subject of oath that affirms that Qur'an is the word brought by a noble messenger. Then three qualities are attributed to this noble messenger. The first quality is that he possesses power. The second quality is that he has high status and lofty rank with Allah, and he is obeyed in the upper realm. The third quality is that he is trusted, and there is…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

16 That is, he is the chief of the angels and alI angels work under his command. 17 That is, he is not one who would tamper with Divine Revelation, but is so trustworthy that he conveys intact whatever he receives from God.

Read the full tafseer →