وَاِذَا الْجَنَّةُ اُزْلِفَتْ ۟وَاِذَا الۡجَـنَّةُ اُزۡلِفَتۡ
اور بہشت جب قریب لائی جائے گی
— Fateh Muhammad Jalandhari
And when Paradise is brought near,
— Saheeh International
Juz 30 · Ruku 1 of surah · Ruku 6 of juz
وَاِذَا الْجَنَّةُ اُزْلِفَتْ ۟وَاِذَا الۡجَـنَّةُ اُزۡلِفَتۡ
اور بہشت جب قریب لائی جائے گی
— Fateh Muhammad Jalandhari
And when Paradise is brought near,
— Saheeh International
Juz 30 · Ruku 1 of surah · Ruku 6 of juz
Read the whole surah · Surah At-Takwir
اور جب جنت قریب لے آئی جائے گی
اور بہشت جب قریب لائی جائے گی
اور جب جنت نزدیک کر دی جائے گی
اور جب جنت قریب کردی جائے گی۔
اور جب جنت پاس لائی جائے
اور جب جنت قریب کر دی جائے گی،
اور جب جنت قریب لائی جائے گی۔
اور جنت قریب لے آئی جائے گی
اور جنت قریب لائی جائے گی ،
اور جب جنت کو نزدیک کردیا جائے گا
اور جب جنت نزدیک کردی جائے
اور جب جنت قریب لے آئی جائے گی۔
اور جب بہشت قریب لائی جائے گی
and Paradise brought nigh:
and when the Paradise will be brought close,
and when the Paradise will be brought close,
And when Paradise is brought near.
And when the Garden is brought nigh,
— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran
And when Paradise is brought near,
and Paradise is brought near,
And when the garden is brought nigh,
And when the Garden shall be brought nigh,
And when the Garden is brought near;-
— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary
Explained with ayahs 1–14
یعنی سوج بےنور ہوجائیگا، جاتا رہے گا اوندھا کر کے لپیٹ کر زمین پر پھینک دیا جائیگا ابن عباس ؓ فرماتے ہیں سورج چاند اور ستاروں کو لپیٹ کر بےنور کر کے سمندروں میں ڈال دیا جائیگا اور پھر مغربی ہوائیں چلیں گی اور آگ لگ جائیگی ایک مرفوع حدیث میں ہے کہ اس کو تہہ کر کے جہنم میں ڈال دیا جائیگا (ابن ابی حاتم) اور ایک حدیث میں سورج کے ساتھ چاند کا ذکر بھی ہے لیکن وہ ضعیف ہے صحیح بخاری میں یہ حدیث الفاظ کی تبدیلی سے مروی ہے، اس میں ہے کہ سورج اور چاند قیامت کے دن لپیٹ لیے جائیں گے امام بخاری اسے کتاب بدء الخلق میں لائے ہیں لیکن یہاں لانا زیادہ مناسب تھا یا مطابق عادت وہاں اور یہاں دونوں جگہ لاتے جیسے کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–14
سورة التَّكْوِیْر 11 یعنی میدان حشر میں جب لوگوں کے مقدمات کی سماعت ہو رہی ہوگی اس وقت جہنم کی دھکتی ہوئی آگ بھی سب کو نظر آ رہی ہوگی اور جنت بھی اپنی ساری نعمتوں کے ساتھ سب کے سامنے موجود ہوگی تاکہ بد بھی جان لیں کہ وہ کس چیز سے محروم ہو کر کہاں جانے والے ہیں، اور نیک بھی جان لیں کہ وہ کس چیز سے بچ کر کن نعمتوں سے سرفراز ہونے والے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–13
وَاِذَا السَّمَاۗءُ كُشِطَتْ ، کشط کے لغوی معنے جانور کی کھال اتارنے کے ہیں، بظاہر یہ حال قیامت کا نفخہ اولیٰ کے وقت کا ہے جو اسی دنیا میں پیش آئے گا کہ آسمان کی زینت جن ستاروں اور شمس وقمر سے تھی وہ سب بےنور ہو کر دریا میں ڈال دیئے جاویں گے آسمان کی موجودہ ہیت بدل جاویگی، اس کو کشط کے لفظ سے تعبیر کیا گیا ہے۔ اور بعض حضرات مفسرین نے کشط کے معنے لپیٹنے کے لکھے ہیں اور معنی آیت کے یہ ہوگئے کہ آسمان جو چھت کی طرح سروں پر محیط ہے پہ لپیٹ دیا جائے گا۔
Read the full tafseer →متقیوں کے لیے جنت کی پیش کش: ’اِزْلَافٌ‘ کے معنی قریب لانے کے ہیں۔ یعنی وہ ان متقیوں کے قریب لائی جائے گی جو اس کے مستحق قرار پائیں گے۔ اس سے معلوم ہوا کہ ’جنت‘ بھی پہلے سے تیار ہو گی، البتہ اس کی نقاب کشائی اس وقت ہو گی جب لوگوں کی درجہ بندی ہو جائے گی۔ سورۂ قٓ میں یہ وضاحت بھی فرما دی گئی ہے کہ اس قریب لانے کے معنی یہ نہیں ہیں کہ وہ کہیں دور سے قریب لائی جائے گی وہ دور نہیں ہو گی بلکہ پاس ہی ہو گی لیکن وہ قریب ہونے کے باوصف اور قریب لائی جائے گی تاکہ اہل جنت کی تشریف و تکریم کے لیے ایک پیش کش کے طور پر ان کے سامنے پیش کی جائے۔ فرمایا ہے: ’وَأُزْلِفَتِ الْجَنَّۃُ لِلْمُتَّقِیْنَ غَیْْرَ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–13
11۔ 1 یعنی اس طرح ادھیڑ دیئے جائیں گے جس طرح چھت ادھڑی جاتی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–15
6: جاہلیت کے زمانے میں ایک انتہائی وحشیانہ رسم یہ تھی کہ لوگ عورتوں کو منحوس سمجھتے تھے، اور بعض قبیلے ایسے تھے کہ اگر ان میں سے کسی کے یہاں بچی پیدا ہوجاتی تو وہ شرم کے مارے اس بچی کو زندہ زمین میں دفن کردیتا تھا۔ قیامت میں اس بچی کو لاکر پوچھا جائے گا کہ تمہیں کس جرم میں موت کے گھاٹ اتارا گیا تھا ؟ اس سے ان ظالموں کو سزا دینا مقصود ہوگا جنہوں نے اس بچی کے ساتھ ایسی درندگی کا معاملہ کیا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–13
اور اب آخری منظر ، اس دن کے مناظر میں سے آخری منظر یوں ہوگا۔ واذا .................... ازلفت (13:81) ” اور جب جہنم دہکائی جائے گی ، اور جب جنت قریب لائی جائے گی “۔ یعنی جب جہنم میں آگ جلے گی اور اسے خوب دھکایا جائے گا اور اس کے شعلے زیادہ ہوں گے اور اس کا جوش و خروش اور حرارت زیادہ ہوجائے گی۔ یہ جہنم کہاں ہے اور کس طرح دھکائی جائے گی ؟ کیسا ایندھن استعمال ہوگا ، ہمارے پاس اس سلسلے میں صرف ایک آیت ہے۔ وقودھا ................ واحجارة (اس کا ایندھن لوگ اور پتھر ہوں گے “۔ یہ حالت تو اس وقت کی ہوگی جب اہل جہنم کو اس کے اندر پھینک دیا جائے گا۔ اور جب جنت قریب کردی جائے گی ، اور جن لوگوں کو جنت میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–13
14 یعنی دوزخ بڑے زور شور کے ساتھ دہکائی جائے اور بہشت متقیوں کے نزدیک کردی جائے جس کی رونق و بہار دیکھنے سے عجیب مسرت و فرحت حاصل ہو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–13
آیت 13{ وَاِذَا الْجَنَّۃُ اُزْلِفَتْ۔ } ”اور جب جنت قریب لے آئی جائے گی۔“ ان تیرہ آیات میں قیامت کے دن کی مختلف کیفیات کا ذکر کرنے کے بعد جو اہم اور اصل بات بتانا مقصود ہے وہ یہ ہے :
Read the full tafseer →12 یہ وقت وہ ہوگا جب لوگوں کا حساب کتاب لیا جارہا ہوگا اور اللہ کے فرمانبردار جہنم کو دیکھ کر یہ سمجھ لیں گے کہ اگر وہ اللہ کی فرمانبرداری نہ کرتے تو یہ بھڑکتی ہوئی جہنم ان کا ٹھکانا ہوتا۔ اس پر وہ اللہ کا مزید شکر بجا لائیں گے۔ جس نے دنیا میں انہیں راہ راست پر رکھا۔ اور مجرم لوگ جب جنت کی نعمتوں کو دیکھیں گے پھر یہ خیال کریں گے کہ ان کا اصلی ٹھکانا دوزخ ہے تو ان کی حسرت و یاس میں مزید اضافہ ہوگا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–14
5۔ (اور یہ علم ایسا یقینی اور قطعی ہوگا کہ اس کے بعد کسی مزید قیل وقال چون وچرا کی گنجائش ہی نہیں رہے گی، اور ہر شخص کو اپنا انجام سامنے نظر آئے لگے گا) (آیت) ” واذا لسمآء کشطت “۔ لفظی معنی یہ ہیں کہ جب آسمان کی کھال کھینچ لی جائے، مراد یہ کہ مراد یہ کہ جب آسمان کے اوپر کی چیزیں بھی بےپردہ نظر آنے لگیں۔ (آیت) ” واذا الجحیم سعرت “۔ جہنم تو آج بھی دہکی ہوئی ہے، اس وقت اور زیادہ دہکادی جائے گی، (آیت) ” واذا الجنۃ ازلفت “۔ یعنی اس وقت خود جنت اہل جنت کے بالکل قریب لے آئی جائے گی ،
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–29
واذا لموئو ودۃ سئلت، اس آیت کے انداز بیان میں ایسی شدید غضب ناکی پائی جاتی ہے، جس سیز یادہ غضب ناکی کا تصور نہیں کیا جاسکتا، بیٹی کو زندہ درگور کرنے والے والدین اللہ کی نظر میں ایسے قابل نفرت ہوں گے کہ ان کو مخاطب کر کے ان سے یہ نہ پوچھا جائے گا کہ تم نے اس معصوم کو کیوں قتل کیا ؟ بلکہ اس سے نگاہ پھیر کر معصوم بچی سے پوچھا جائے گا کہ تو بےچاری آخر کس قصور میں مار دی گئی ؟ اور وہ اپنی داستان مظلومیت سنائے گی، اس آیت کے مضمون سے ایک اہم بات خود بخود یہ سمجھ میں آتی ہے کہ اس میں آخرت کے ضروری ہونے کی ایک صریح دلیل پیش کی گئی ہے، جس لڑکی کو زندہ دفن کردیا گیا، آخر اس کی کہیں تو داد رسی ہونی…
Read the full tafseer →واذا الجنۃ ازلف . اور جب جنت متقیوں کے قریب کردی جائے گی۔ اللہ (عزوجل) نے فرمایا ہے : وَاُزْلِفَتِ الْجَنَّۃُ لِلْمُتَّقِیْنَ غَیْرَ بَعِیْدٍ ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–18
(10۔ 18) اور جس وقت نامہ اعمال حساب و کتاب کے لیے کھول دیے جائیں گے، یا یہ کہ ہاتھوں میں دے دیے جائیں گے، اور جس وقت آسمان لپیٹ لیا جائے گا اور جب دوزخ کفار کے لیے دہکائی جائے گی اور جب جنت پرہیزگاروں کے قریب کردی جائے گی، تو اس وقت ہر ایک نیک اور گنہگار کو اپنی نیکی و برائی معلوم ہوجائے گی جو کہ لے کے آیا ہے۔ میں قسم کھاتا ہوں ان ستاروں کی جو دن کو غائب ہوجاتے اور رات کو نکلتے ہیں، جو رات کو چلتے رہتے ہیں اور پھر اپنے مطلع میں جا چھپتے ہیں، یہ کیفیت پانچ ستاروں کو پیش آتی ہے یعنی زحل، مشتری، عطارد، مریخ، زہرہ۔ اور قسم ہے رات کی جب وہ جانے لگے اور صبح کی جب وہ آنے لگے اور خوب روشن ہوجائے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–13
(واذا الجحیم سعرت…: یہ دونوں چیزیں میدان محشر میں ہوں گی۔ تفصیل کے لئے دیکھیے سورة فجر (23) اور سورة شعراء (90، 91) کی تفسیر۔
Read the full tafseer →واذالجنۃ ازلفت۔ جنت متقین کے قریب کردی جائے گی، حضرت حسن بصری نے کہا، جنتیوں کو جنت کے قریب کیا جائیگا وہ اپنی جگہ سے نہیں ہلے گی، حضرت عبدالرحمن بن زید نے کہا اسے قریب کیا جائے گا، زلفی کلام عرب میں قربت کے معنی میں ہے، تزلف فلان یعنی فلان قریب ہوگیا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–14
40۔ ابن المنذر نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا کہ آیت واذا لصحف نشرت۔ اور جب اعمال نامے کھل جائیں گے یعنی جب انسان مرجاتا ہے تو اس کا اعمال نامہ لپیٹ دیا جاتا ہے پھر قیامت کے دن کھولا جائے گا اور حساب لیا جائے گا جو کچھ اس میں ہوگا۔ 41۔ عبد بن حمید وابن المنذر وابن ابی حاتم وابن مردویہ زید بن اسلم ؓ سے روایت کیا کہ اور وہ اپنے والد سے روایت کرتے ہی کہ جب یہ آیت اذا الشمس کورت نازل ہوئی تو حضرت عمر ؓ نے فرمایا جب وہ اس علمت نفس ما احضرت تو ہر شخص جان لے گا کہ وہ کی لے کر آیا پر پہنچے تو فرمایا اسی لیے بات چلائی گئی۔
Read the full tafseer →[وَاِذَا الْجَنَّةُ اُزْلِفَتْ : اور جب جنت نزدیک لائی جائے گی ]
Read the full tafseer →6 ﴿ وَ اِذَا الْجَنَّةُ اُزْلِفَتْ۪ۙ0013﴾ (اور جب جنت کو قریب کردیا جائے گا) یعنی متقیوں کے لیے قریب کردی جائے گی جیسا کہ گمراہوں کے لیے دوزخ کو ظاہر کردیا جائے۔ كما فی سورة الشعراء ﴿وَ اُزْلِفَتِ الْجَنَّةُ لِلْمُتَّقِيْنَۙ0090 وَ بُرِّزَتِ الْجَحِيْمُ لِلْغٰوِيْنَۙ0091﴾ (اور متقیوں کے لیے جنت قریب کردی جائے گی اور گمراہوں کے لیے دوزخ کو سامنے ظاہر کردیا جائے گا) ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–29
ہولناک مناظر روز قیامت و پیشی اعمال و فیصلہ جزاء وسزا : قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” اذا الشمس کورت ....... الی ...... الا ان یشآء اللہ رب العلمین “۔ (ربط) سورة عبس کا مضمون دراصل اثبات قیامت کے موضوع ہی پر مشتمل تھا اور مقصد بیان یہ تھا کہ انسان کی سعادت و فلاح اور عزت و عظمت اپنی زندگی اپنے پروردگار کے ساتھ وابستہ رکھنے اور فکر آخرت میں ہے، اس کے برعکس وہ مغرور ومتکبر جو نہ خدا پر ایمان لاتا ہے اور نہ ہی اس کو آخرت کی فکر ہے وہ خدا کی نظروں میں ذلیل و حقیر ہے، طالب حق اور سعادت کی فکر میں لگے رہنے والا انسان ہی بارگاہ رسالت میں ہر عزت واکرام کا مستحق ہے، آخر میں قیامت کے روز کی پریشانی اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–14
3:۔ ” واذا البحار سجرت “ اور جب دریا پانی سے بھر دئیے جائیں۔ زلزلہ قیامت کی وجہ سے سمندر میں ایسا ابال آئے گا کہ تمام دریا پانی سے بھر جائیں گے، بلکہ خشکی بھی زیر آب ہوجائے گی۔ یہاں تک وہ چھ احوال مذکور ہوئے جو نفخہ اولی کے بعد ظاہر ہوں گے آگے ان احوال کا بیان ہے جو نفخہ ثانیہ کے بعد ظہور پذیر ہوں گے۔ ” واذا النفوس زوجت “ اور جب روحیں بدنوں سے ملا دی جائیں گی اور تمام مردے زندہ ہوجائیں گے یہ نفخہ ثانیہ کے بعد کے احوال میں سے پہلا حال ہے۔ ” واذا الموء ودۃ سئلت “ اور جب زندہ درگور لڑکی کے بارے میں اس کو زندہ دفن کرنے والے سے پوچھا جائے گا کہ اس کو کس جرم میں قتل کیا گیا۔ ” واذا الصحف نشرت “ اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–13
(نام و کوائف) اس سورة کا نام سورة تکویر ہے ۔ اس کی پہلی آیت میں کورت کا لفظ آیا ہے جس سے سورة کا نام تکویر ہے ۔ یہ سورة مکی زندگی میں نازل ہوئی ۔ اس کی انتیس 29 آیات ہیں ۔ یہ سورة ایک 104 سو چار الفاظ اور 5202 پانچ ہزار 2 حروف پر مشتمل ہے (موضوع اور گذشتہ سورة سے ربط) اس سورة میں اللہ تعالیٰ نے قیامت کا ذکر اس نسبت سے کیا ہے ۔ کہ کائنات کی ارضی اور سماوی اشیاء پر قیامت کے کیا اثرات مرتب ہوں گے۔ سورة کے آخر میں قرآن کریم کی طرف دعوت دی گئی ہے۔ اور اسکی صداقت وحقانیت کا بیان ہے سابقہ کئی سورتوں میں قیامت کا ذکر مختلف انداز سے آرہا ہے۔ کہ قیامت کا اثر مختلف چیزوں پر کیا ہوگا۔ سورة عبس میں قیامت…
Read the full tafseer →وَاِذَا الْجَنَّۃُ اُزْلِفَتْ 13 جَنَّةُ : كلّ بستان ذي شجر يستر بأشجاره الأرض، قال عزّ وجل : لَقَدْ كانَ لِسَبَإٍ فِي مَسْكَنِهِمْ آيَةٌ جَنَّتانِ عَنْ يَمِينٍ وَشِمالٍ [ سبأ/ 15] الجنۃ ہر وہ باغ جس کی زمین درختوں کیوجہ سے نظر نہ آئے جنت کہلاتا ہے ۔ قرآن میں ہے ؛ لَقَدْ كانَ لِسَبَإٍ فِي مَسْكَنِهِمْ آيَةٌ جَنَّتانِ عَنْ يَمِينٍ وَشِمالٍ [ سبأ/ 15]( اہل ) سبا کے لئے ان کے مقام بود باش میں ایک نشانی تھی ( یعنی دو باغ ایک دائیں طرف اور ایک ) بائیں طرف ۔ حضرت ابن عباس فرماتے ہیں کہ جنات جمع لانے کی وجہ یہ ہے کہ بہشت سات ہیں ۔ (1) جنۃ الفردوس (2) جنۃ عدن (3) جنۃ النعیم (4) دار الخلد (5) جنۃ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–14
3 ؎ یعنی اب جو نیلی چادر اوڑھے ہوئے ہے نیلا دکھائی دیتا ہے یہ اتار لی جائے اور آثار قہر سے سرخ ہوجائے۔ 12 منہ
Read the full tafseer →وَاِذَا الْجَنَّۃُ اُزْلِفَتْ ۔ (التکویر : 13) (اور جب جنت قریب لائی جائے گی۔ ) جنت کا قرب جنت تو پہلے سے موجود ہوگی۔ البتہ جب لوگوں کی ایمان و عمل کے اعتبار سے درجہ بندی ہوجائے گی تو تب وہ ان کے قریب لائی جائے گی یعنی اس کی نقاب کشائی ہوگی۔ اور قریب لانے کا یہ مفہوم نہیں ہے کہ وہ کہیں دور ہوگی، بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ پہلے سے قریب ہوگی لیکن اب اسے اور قریب لایا جائے گا اور یہ اہل جنت کا اعزاز ہوگا۔ کیونکہ قرآن کریم میں سورة ق میں ارشاد فرمایا گیا ہے : وَاُزْلِفَتِ الْجَنَّۃُ لِلْمُتَّقِیْنَ غَیْرَبَعِیْدٍ ۔ ” اور جنت خدا ترسوں کے لیے قریب لائی جائے گی درآنحالیکہ وہ کچھ دور بھی نہ ہوگی۔ “
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–14
فہم القرآن ربط کلام : قیامت کا بیان جاری ہے بتلایا ہے کہ اس دن لوگوں کے حساب و کتاب کا آغازکس طرح ہوگا۔ قیامت کے دن زمین و آسمان بدل دئیے جائیں گے۔ (ابراہیم : 48) اور لوگ محشر کے میدان میں جمع کردیئے جائیں گے۔ ملائکہ قطار اندر قطار کھڑے ہوں گے جن میں جبریل امین سب سے نمایاں ہوں گے۔ عدالت کبریٰ کے انتظامات مکمل ہونے کے ساتھ ہی ایک طرف لوگوں کے سامنے بھڑکتی ہوئی جہنم لائی جائے گی اور دوسری طرف جنت کو لایا جائے گا۔ اس کے بعد رب ذوالجلال جلوہ گر ہوں گے اور کچھ مدت کے بعد لوگوں کے اعمال نامے ان کے سامنے رکھ دیئے جائیں گے، ہر شخص اپنا اعمال نامہ کھول کر پڑھے گا جس سے اسے معلوم ہوجائے گا کہ وہ اپنے…
Read the full tafseer →13 : وَاِذَا الْجَنَّۃُ اُزْلِفَتْ (اور جب جنت نزدیک کردی جائے گی) متقین کے قریب کردی جائے گی جیسا کہ دوسرے مقام پر فرمایا وَاُزْلِفَتِ الْجَنَّۃُ لِلْمُتَّقِیْنَ غَیْرَ بَعِیْدٍ ] ق : 31[ یہ بارہ خصلتیں ہیں جو چھ دنیا میں پیش آئیں گی اور باقی آخرت میں۔ قراءت : ما احضرت تک بالکل وقف نہیں ہے کیونکہ اذا الشمس کا عامل ناصب ہے۔ اور باقی اس پر معطوف ہیں اور ان کا جواب اگلی آیت ہے۔
Read the full tafseer →12 ۔” واذا الجحیم سعرت “ اہل مدینہ اور اہل شام اور حفص نے عاصم سے ” سعرت “ تشدید کے ساتھ پڑھا ہے اور باقی حضرات نے تخفیف کے ساتھ۔ یعنی اللہ کے دشمنوں کے لئے جلائی جائے گی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–14
1۔ 14۔ صحیح بخاری وغیرہ میں حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا قیامت کے دن سورج اور چاند کو لپیٹ کر دوزخ میں ڈال دیا جائے گا اس حدیث کی شرح میں علماء نے لکھا ہے کہ دنیا میں بعض لوگ سورج اور چاند کو پوجا کرتے ہیں ان کے ذلیل کرنے کے لئے سورج اور چاند کو دوزخ کی آگ میں جھونکا جائے گا۔ مسند امام احمد ترمذی 2 ؎ مستدرک حاکم طبرانی وغیرہ میں حضرت عبد اللہ بن عمر سے جو روایتیں ہیں ان کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ جس شخص کو یہ منظور ہو کہ قیامت کو دنیا میں بھی اپنی آنکھوں کے سامنے دیکھ لے تو اس کو چاہئے کہ اذا الشمس کورت و اذا السماء انفطرت و اذالسماء انشقت…
Read the full tafseer →(وَاِذَا الْجَنَّةُ اُزْلِفَتْ ) یعنی جنت اہل تقوی کے قریب کردی جائے گی۔
Read the full tafseer →(11) جنت کو جنتیوں کے قریب کردینے کا ذکرو بیان : سو جنتیوں کے لیے ایک منفرد اور بےمثال اعزازو اکرام کے ذکرو بیان کے طور پر ارشاد فرمایا گیا " اور جب جنت کے قریب کردیا جائے گا " یعنی متقی اور پرہیزگاروں کے لیے، جیسا کہ دوسری جگہ فرمایا وَأُزْلِفَتِ الْجَنَّۃُ لِلْمُتَّقِیْنَ غَیْْرَ بَعِیْدٍ ( ق 31 پ 26) " یعنی جنت کو قریب کردیا جائے گا، متقی اور پرہیزگاروں کے لیے۔ اللہ ہم سب کو انہی میں کرے۔ آمین۔ اس سے معلوم ہوا کہ جنت تیار تو پہلے ہی سے ہوگی، البتہ اس کی نقاب کشائی اس روز ہوگی جب لوگوں کی درجہ بندی ہوجائے گی، اور سورة ق کی مذکورہ بالا آیت کریمہ میں " غیر بعید " کی تصریح سے واضح فرمادیا گیا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–14
قیامت کیسی ہوگی ؟ اور بعد میں کیا ہوگا ؟ تشریح : آیت 1 سے 6 تک قیامت کا نقشہ کھینچا گیا ہے۔ جس میں نظام کائنات کے درہم برہم ہونے میں اجرام سماوی کا ذکر ہے۔ '' کُوّرت '' تکویر سے ہے یعنی لپیٹا جانا مطلب یہ ہے کہ سورج اپنی موت کو پہنچ کر بےنور مردہ ہوجائے گا۔ جس کی وضاحت ڈاکٹر دلدار صاحب یوں کرتے ہیں۔ '' جب ستارے کا ایندھن (ہائیڈروجن) ختم ہوجاتا ہے تو وہ ٹھنڈا ہونے لگتا ہے۔ چناچہ کشش ثقل حر کی توانائی پر غالب آجاتی ہے۔ اور ستارہ سکڑنے لگتا ہے اور بالآخر موت سے ہمکنار ہوجاتا ہے۔ ستاروں کی موت مندرجہ ذیل تین حالتوں میں سے کسی ایک حالت کی طرف لے جاتی ہے۔ 1 ۔ سفید بونا White Dwosf 2 ۔ نیوٹران ستارہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–29
سورة التکویر۔ آیات 1 تا 29۔ اسرار ومعارف۔ جب سورج بےنور ہوجائے گا اور ستارے ٹوٹ کر گرجائیں گے اور جب پہاڑ اکھیڑ کر اڑادیے جائیں گے اور لوگوں کو مال و دولت بھول جائے گا کہ عربوں کے نزدیک دس ماہ کی گابھن اونٹنی سب سے قیمتی اثاثہ سمجھی جاتی ہے ہر وقت دم کے ساتھ لگے پھرتے تھے کہ صحرا میں اس کادودھ نعمت غیر مترقہ ہوتا تھا مگر وہ بھی آوارہ پھر رہی ہوں گی یعنی لوگوں کو مال وزر کا ہوش نہ رہے گا اور نفخہ اولی سے گھبرا کر جنگلی جانور اور درندے آبادیوں میں آگھسیں گے اور دریا سمندر میں مل جائیں گے کہ زمین شق ہوجائے گی اور پھر ان میں اجرام فلکی گریں گے تو بھاپ بن کر اڑجائیں گے اور پھر فضا میں وہ بھاپ آگ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–14
ف 11 یعنی اچھے اعمال لایا ہے یا برے۔
Read the full tafseer →(81:13) واذا الجنۃ ازلفت : ازلفت ماضی مجہول کا صیغہ واحد مؤنث غائب ازلاف (افعال) مصدر سے جس کے معنی قریب لانے کے ہیں۔ جب جنت قریب لائی جائے گی۔ اور جگہ قرآن مجید میں ہے وازلفت الجنۃ للمتقین غیر بعید (50:31) اور بہشت پرہیزگاروں کے قریب کردی جائے گی کہ (مطلق) دور نہ ہوگی۔ مزدلفۃ بھی اسی سے ہے :۔ لیلۃ المزدلفۃ (مزدلفہ کی رات) کو اس نام سے اس لئے پکارتے ہیں کہ حجاج عرفات سے لوٹنے کے بعد اس رات منیٰ کے قریب پہنچ جاتے ہیں اور حدیث میں ہے ازدلفوا الی اللہ برکعتین کہ دو رکعت نماز سے اللہ کا قرب حاصل کرو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–29
لغات القرآن۔ کورت۔ لپیٹ دے گیا۔ انکدرت۔ ماند پڑگئی۔ (پڑ گئے) سیرت۔ چلا دی گئی۔ العشار۔ گابھن اونٹنیاں۔ عطلت۔ چھٹ کر پھری۔ الوحوش (وحش) ۔ جنگلی جانور۔ حشرت۔ آپس میں گڈ مڈ ہوجائیں۔ سجرت۔ جھونکے گئے۔ زوجت۔ جوڑے جوڑے بنا دئیے گئے۔ الموئو دۃ ۔ زمین میں گاڑدی گئی لڑکی۔ سئلت۔ پوچھا گیا۔ الصحف۔ اعمال نامے۔ نشرت۔ پھیلا دئیے۔ کشطت۔ پرت کے پرت اتا رلئے گئے۔ کھال کھینچ لی گئی۔ سعرت۔ بھڑکائی گئی۔ ازلف۔ قریب کردی گئی۔ احضرت۔ وہ لے کر حاضر ہوا۔ الخنس۔ پیچھے ہٹ جانے والے۔ الکنس۔ چھپ جانے والے۔ عسعس۔ پھیل گیا۔ تنفس۔ روشن ہوا۔ مکین۔ مرتبہ والا۔ مطاع۔ جس کی اطاعت کی جائے۔ کہا مانا جائے۔ الافق۔ کنارہ۔ بضنین۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–13
آتش دوزخ۔ (ف 5) بخاری ومسلم ، ترمذی، وغیرہ میں ابوہریرہ سے جو روایتیں ہیں ان کا حاصل یہ ہے کہ دوزخ کی آگ کی موجود حرارت دنیا کی آگ سے انہتر درجہ زیادہ ہے اس پر قیامت کے دن اس کی آگ کو اور زیادہ زورشور کے ساتھ دہکایا جائے گا کہ اس کے منکر اس کا خوب مزہ چکھیں ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–13
[6] یعنی جس طرح ذبیحہ کی کھال اتار لینے کے بعد اس کا گوشت سرخ سرخ نظر آنے لگتا ہے اسی طرح آسمان اس دن سرخ دکھائی دے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–19
حل لغات :۔ الموء دۃ ۔ زندہ گاڑی ہوئی لڑکی ۔ بعض قبائل میں عزت اور شرف کا یہ غلط خیال رواج پذیر ہوگیا تھا کہ لڑکیاں ناموس اور عزت کے لئے موجب ننگ ہیں ۔ اس لئے وہ ان کو جب پیدا ہوتیں تو زندہ زمین میں گاڑ دیتے ۔ اس برائی کی طرف اشارہ ہے ۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلام سے قبل عربوں کی اخلاقی حالت کیا تھی ؟ اور اسلام نے ان لوگوں کی اصلاح کے سلسلہ میں کتنا بڑا کام کیا ۔
Read the full tafseer →(13) اور جب جنت قریب کردی جائے - یعنی متقی پرہیزگار لوگوں کی جنت قریب کردی جائے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–21
ف 2۔ یعنی فرشتے اس کا کہنا مانتے ہیں۔ 3۔ امانت دار ہے کہ وحی کو صحیح صحیح بےکم وکاست پہنچا دیتا ہے، پس وحی لانے والا تو ایسا ہے، آگے جن پر وحی نازل ہوئی ان کی نسبت ارشاد ہے کہ۔ (آگے دیکھو ترجمہ)
Read the full tafseer →اور جب جنت قریب لائی جائے گی 13 ؎ ( ازلفت) کا اصل مادہ ز لہے۔ (ازلفت) کا لفظ قرآن کریم میں تین بار استعمال ہوا ہے ایک بار اس جگہ ، دوسری بار الشعرا آیت 90 میں اور تیسری بار سورة ق کی آیت 31 میں اور تینوں جگہ پر اس کا استعمال اہل جنت کے لیے ہے ۔ وہ قریب لائی گئی ۔ ازلاف سے جس کے معنی قریب لانے کے ہیں ۔ ماضی مجہول کا صیغہ واحد مؤنث غائب اور اس کی وضاحت پیچھے عروۃ الوثقیٰ جلد ہشتم سورة ق کی آیت 21 ، 22 میں گزر چکی ہے ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–13
وَإِذَا السَّمَاءُ كُشِطَتْ (and when the sky will be stripped off...81:11) The word kushitat is derived from kasht, and it literally means 'to strip off the skin of an animal. Probably, this condition will prevail at the first blowing of the Horn, which will happen in this world. The stars, the Sun and the Moon that contributed to the beauty of the sky will all lose their light and lustre and will be thrown into the ocean. The outlook of the sky will be changed. This phenomenon is termed in this verse as: 'The sky will be stripped off. Some commentators interpret the word kasht in the sense…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–14
11 That is, in the Plain of Resurrection, when the hearing of the cases of the people will be in progress, the blazing fire of Hell also will be in full view, and Paradise also with all its blessings will be visible to all, so that the wicked should know what they are being deprived of and where they are going to be cast, and the righteous as well should know what they are being saved from and with what being blessed and honoured. br>
Read the full tafseer →