Explained with ayahs 1–14
یعنی سوج بےنور ہوجائیگا، جاتا رہے گا اوندھا کر کے لپیٹ کر زمین پر پھینک دیا جائیگا ابن عباس ؓ فرماتے ہیں سورج چاند اور ستاروں کو لپیٹ کر بےنور کر کے سمندروں میں ڈال دیا جائیگا اور پھر مغربی ہوائیں چلیں گی اور آگ لگ جائیگی ایک مرفوع حدیث میں ہے کہ اس کو تہہ کر کے جہنم میں ڈال دیا جائیگا (ابن ابی حاتم) اور ایک حدیث میں سورج کے ساتھ چاند کا ذکر بھی ہے لیکن وہ ضعیف ہے صحیح بخاری میں یہ حدیث الفاظ کی تبدیلی سے مروی ہے، اس میں ہے کہ سورج اور چاند قیامت کے دن لپیٹ لیے جائیں گے امام بخاری اسے کتاب بدء الخلق میں لائے ہیں لیکن یہاں لانا زیادہ مناسب تھا یا مطابق عادت وہاں اور یہاں دونوں جگہ لاتے جیسے کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–14
سورة التَّكْوِیْر 11
یعنی میدان حشر میں جب لوگوں کے مقدمات کی سماعت ہو رہی ہوگی اس وقت جہنم کی دھکتی ہوئی آگ بھی سب کو نظر آ رہی ہوگی اور جنت بھی اپنی ساری نعمتوں کے ساتھ سب کے سامنے موجود ہوگی تاکہ بد بھی جان لیں کہ وہ کس چیز سے محروم ہو کر کہاں جانے والے ہیں، اور نیک بھی جان لیں کہ وہ کس چیز سے بچ کر کن نعمتوں سے سرفراز ہونے والے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–18
عَلِمَتْ نَفْسٌ مَّآ اَحْضَرَتْ ، یعنی جب قیامت کے حالات مذکورہ پیش آویں گے اس وقت ہر انسان جان لیگا کہ وہ اپنے ساتھ کیا سامان لایا ہے۔ سامان سے مراد اس کا نیک یا بد عمل ہے کہ وہ سب اعمال اسکے سامنے آجاویں گے جو دنیا میں کئے تھے خواہ اس طرح کے صحائف اعمال میں لکھے ہوئے اسکے ہاتھ میں آجائیں یا اس طرح کے یہ اعمال کسی خاص شکل و صورت میں اسکے سامنے آویں جیسا کہ بعض روایات حدیث سے معلوم ہوتا ہے۔ واللہ اعلم، قیامت کے احوال اور ہولناک مناظر اور وہاں محاسبہ اعمال کا ذکر فرمانے کے بعد حق تعالیٰ نے چند ستاروں کی قسم کھا کر فرمایا کہ یہ قرآن حق ہے اللہ کی طرف سے بڑی حفاظت کے ساتھ بھیجا گیا ہے اور جس ذات…
Read the full tafseer →تمام شرطوں کا جواب:
اوپر جتنے ’اِذَا‘ گزرے ہیں یہ ان سب کا اکٹھے جواب ہے۔ یعنی جب یہ یہ احوال پیش آئیں گے تب ہر جان کو پتہ چلے گا کہ وہ اپنے رب کے آگے پیش کرنے کے لیے کیا لے کر آئی ہے۔ اس جاننے سے مقصود ظاہر ہے کہ اس کے انجام کو جاننا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ جو لوگ آج کے حالات میں اس کا مذاق اڑا رہے ہیں وہ مذاق اڑا لیں لیکن یاد رکھیں کہ یہ دن آنے والا ہے اور ایک عظیم ہلچل کے ساتھ آنے والا ہے اور اس دن ہر ایک دیکھ لے گا کہ اس کے لیے اس نے کیا تیاری کی اور کیا چیز نظر انداز کی درآنحالیکہ وہ کرنے کی تھی۔ آگے والی سورہ میں، جو اس کی توام سورہ ہے، یہی مضمون زیادہ وضاحت سے بیان ہوا ہے۔ فرمایا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–15
14۔ 1 یہ جواب ہے یعنی مذکورہ امور ظہور پذیر ہوں گے، جن میں سے پہلے چھ کا تعلق دنیا سے ہے اور دوسرے چھ امور کا آخرت سے۔ اس وقت ہر ایک کے سامنے اس کی حقیقت آجائے گی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–15
6: جاہلیت کے زمانے میں ایک انتہائی وحشیانہ رسم یہ تھی کہ لوگ عورتوں کو منحوس سمجھتے تھے، اور بعض قبیلے ایسے تھے کہ اگر ان میں سے کسی کے یہاں بچی پیدا ہوجاتی تو وہ شرم کے مارے اس بچی کو زندہ زمین میں دفن کردیتا تھا۔ قیامت میں اس بچی کو لاکر پوچھا جائے گا کہ تمہیں کس جرم میں موت کے گھاٹ اتارا گیا تھا ؟ اس سے ان ظالموں کو سزا دینا مقصود ہوگا جنہوں نے اس بچی کے ساتھ ایسی درندگی کا معاملہ کیا۔
Read the full tafseer →علمت .................... احضرت (14:81) ” اس وقت ہر شخص کو معلوم ہوجائے گا کہ وہ کیا لے کر آیا ہے “۔ اس خوفناک دن کے اندر ہر شخص کو معلوم ہوجائے گا کہ اس کے پاس کیا ہے اور اس کے ذمہ کیا ہے ، اس روز اس کو معلوم ہوجائے گا اور اس کی حالت یہ ہوگی کہ وہ کانپ رہا ہوگا اور اسے یہ بھی معلوم ہوجائے گا کہ اب وہ اپنے اعمال نامے میں کچھ بھی تغیر وتبدل نہیں کرسکتے گا۔ نہ اس میں کوئی زیادتی ہوگی اور نہ کمی ہوگی ، اسے یہ بات ایسے حالات میں معلوم ہوگی کہ وہ دنیا سے کٹ چکا ہوگا ، مستقبل کے بارے میں ان کے جو تصورات تھے ، وہ نہ رہے۔ وہ دنیا سے کٹ گئے اور دنیا ان سے دور ہوگئی۔ ہر شے متغیر ہوگئی اور ہر شے بدل سی…
Read the full tafseer →15 یعنی ہر ایک کو پتہ لگ جائے گا کہ نیکی یا بدی کا کیا سرمایہ لے کر حاضر ہوا ہے۔
Read the full tafseer →آیت 14{ عَلِمَتْ نَفْسٌ مَّآ اَحْضَرَتْ۔ } ”اُس دن ہر جان جان لے گی کہ اس نے کیا کچھ حاضر کیا ہے۔“
یعنی ہر انسان کے تمام اعمال کی پوری تفصیل اس کے سامنے آجائے گی۔
Read the full tafseer →13 اس علم کے ذریعے دو ہوں گے۔ ایک تو ہر انسان اپنے اعمال کا ٹھیک ٹھیک محاسب ہوتا ہے بشرطیکہ وہ حیلے بہانوں یا اپنے نفس کی طرفداری سے کام نہ لے۔ دوسرے ہر شخص کے اعمال نامے بھی کھول کر انہیں دے دیئے جائیں گے۔ ان دو چیزوں سے ہر انسان اللہ تعالیٰ کی عدالت سے فیصلہ سے پہلے ہی یہ سمجھ لے گا کہ آیا وہ جنت کا مستحق قرار پائے گا یا جہنم کا ؟
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–14
5۔ (اور یہ علم ایسا یقینی اور قطعی ہوگا کہ اس کے بعد کسی مزید قیل وقال چون وچرا کی گنجائش ہی نہیں رہے گی، اور ہر شخص کو اپنا انجام سامنے نظر آئے لگے گا) (آیت) ” واذا لسمآء کشطت “۔ لفظی معنی یہ ہیں کہ جب آسمان کی کھال کھینچ لی جائے، مراد یہ کہ مراد یہ کہ جب آسمان کے اوپر کی چیزیں بھی بےپردہ نظر آنے لگیں۔ (آیت) ” واذا الجحیم سعرت “۔ جہنم تو آج بھی دہکی ہوئی ہے، اس وقت اور زیادہ دہکادی جائے گی، (آیت) ” واذا الجنۃ ازلفت “۔ یعنی اس وقت خود جنت اہل جنت کے بالکل قریب لے آئی جائے گی ،
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–29
واذا لموئو ودۃ سئلت، اس آیت کے انداز بیان میں ایسی شدید غضب ناکی پائی جاتی ہے، جس سیز یادہ غضب ناکی کا تصور نہیں کیا جاسکتا، بیٹی کو زندہ درگور کرنے والے والدین اللہ کی نظر میں ایسے قابل نفرت ہوں گے کہ ان کو مخاطب کر کے ان سے یہ نہ پوچھا جائے گا کہ تم نے اس معصوم کو کیوں قتل کیا ؟ بلکہ اس سے نگاہ پھیر کر معصوم بچی سے پوچھا جائے گا کہ تو بےچاری آخر کس قصور میں مار دی گئی ؟ اور وہ اپنی داستان مظلومیت سنائے گی، اس آیت کے مضمون سے ایک اہم بات خود بخود یہ سمجھ میں آتی ہے کہ اس میں آخرت کے ضروری ہونے کی ایک صریح دلیل پیش کی گئی ہے، جس لڑکی کو زندہ دفن کردیا گیا، آخر اس کی کہیں تو داد رسی ہونی…
Read the full tafseer →علمت نفس ما احضرت . اِذَا الشَّمْسُ کُوِّرَتْ اور اس کے بعد والے جملوں میں جو اِذَا ہے یہ جملہ اس کی جزاء ہے یعنی اس وقت ہر شخص اپنی کی ہوئی اچھائی ‘ برائی کو جان لے گا۔ یہ وقت ایک وسیع وقت ہوگا۔ نفخۂ اولٰی کے پہلے سے جنت و دوزخ کے داخلہ کے وقت تک (سارا وقت ‘ قیامت کا وقت) ہوگا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–18
(10۔ 18) اور جس وقت نامہ اعمال حساب و کتاب کے لیے کھول دیے جائیں گے، یا یہ کہ ہاتھوں میں دے دیے جائیں گے، اور جس وقت آسمان لپیٹ لیا جائے گا اور جب دوزخ کفار کے لیے دہکائی جائے گی اور جب جنت پرہیزگاروں کے قریب کردی جائے گی، تو اس وقت ہر ایک نیک اور گنہگار کو اپنی نیکی و برائی معلوم ہوجائے گی جو کہ لے کے آیا ہے۔ میں قسم کھاتا ہوں ان ستاروں کی جو دن کو غائب ہوجاتے اور رات کو نکلتے ہیں، جو رات کو چلتے رہتے ہیں اور پھر اپنے مطلع میں جا چھپتے ہیں، یہ کیفیت پانچ ستاروں کو پیش آتی ہے یعنی زحل، مشتری، عطارد، مریخ، زہرہ۔ اور قسم ہے رات کی جب وہ جانے لگے اور صبح کی جب وہ آنے لگے اور خوب روشن ہوجائے۔
Read the full tafseer →(علمت نفس ما احضرت : شروع سورت سے یہاں تک کل بارہ چیزوں کا ذکر ہوا ہعے، جب یہ بارہ چیزیں ہوجائیں گی تو کیا ہوگا ؟ اس کا جواب ہے :(علمت نفس ما احضرت) کہ ہر جان جو کچھ لے کر آئی ہے اسے جان لے گی۔”نفس“ کی تنکیر عموم کے لئے ہے، اسلئے ترجمہ ”ہر جان“ کیا گیا ہے۔
Read the full tafseer →علمت نفس ما احضرت۔ نفس جان لے گا جو اس نے اچھا اور براعمل کیا، یہ اذالشمس کورت، اور اس کے مابعد کا جواب ہے، حضرت عمر نے فرمایا، اسی لیے یہ گفتگو ہوئی حضرت ابن عباس اور حضرت عمر کے بارے میں مروی ہے دونوں نے ان آیات کو پڑھا، جب علمت نفس ما احضرت تک پہنچے تو دونوں نے کہا، اس مقصد کے لیے یہ قصہ چلایا گیا ہے معنی یہ ہوگا جب سورج بےنور ہوجائے گا اور یہ امور ہوجائیں گے تو نفس اپنے اعمال کو جان لے گا۔ صحیین میں حضرت عدی بن حاتم سے مروی ہے کہ رسول اللہ نے ارشاد فرمایا، تم میں سے ہر ایک کے ساتھ اللہ تعالیٰ ہم کلام ہوگا، وہ اپنی دائیں طرف دیکھے گا تو وہ اپنے اعمال پائے گا وہ اپنی بائیں طرف دیکھے گا تو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–14
40۔ ابن المنذر نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا کہ آیت واذا لصحف نشرت۔ اور جب اعمال نامے کھل جائیں گے یعنی جب انسان مرجاتا ہے تو اس کا اعمال نامہ لپیٹ دیا جاتا ہے پھر قیامت کے دن کھولا جائے گا اور حساب لیا جائے گا جو کچھ اس میں ہوگا۔
41۔ عبد بن حمید وابن المنذر وابن ابی حاتم وابن مردویہ زید بن اسلم ؓ سے روایت کیا کہ اور وہ اپنے والد سے روایت کرتے ہی کہ جب یہ آیت اذا الشمس کورت نازل ہوئی تو حضرت عمر ؓ نے فرمایا جب وہ اس علمت نفس ما احضرت تو ہر شخص جان لے گا کہ وہ کی لے کر آیا پر پہنچے تو فرمایا اسی لیے بات چلائی گئی۔
Read the full tafseer →[عَلِمَتْ نَفْسٌ: تو جان لے گی (ہر) ایک جان ][ مَآ اَحْضَرَتْ : اس کو جو اس نے حاضر کیا ]
Read the full tafseer →﴿عَلِمَتْ نَفْسٌ مَّاۤ اَحْضَرَتْؕ0014﴾ (ہر شخص ان اعمال کو جان لے گا جو اس نے حاضر کیے) یعنی جب مذکورہ بالا امور پیش آئیں گے تو ہر جان کو اپنے کیے دھرے کا پتہ چل جائے گا، اعمال نامے سامنے ہوں گے اور خیر اور شر کا جو بھی عمل کیا ہوگا وہ وہاں موجود ہوگا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–29
ہولناک مناظر روز قیامت و پیشی اعمال و فیصلہ جزاء وسزا :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” اذا الشمس کورت ....... الی ...... الا ان یشآء اللہ رب العلمین “۔
(ربط) سورة عبس کا مضمون دراصل اثبات قیامت کے موضوع ہی پر مشتمل تھا اور مقصد بیان یہ تھا کہ انسان کی سعادت و فلاح اور عزت و عظمت اپنی زندگی اپنے پروردگار کے ساتھ وابستہ رکھنے اور فکر آخرت میں ہے، اس کے برعکس وہ مغرور ومتکبر جو نہ خدا پر ایمان لاتا ہے اور نہ ہی اس کو آخرت کی فکر ہے وہ خدا کی نظروں میں ذلیل و حقیر ہے، طالب حق اور سعادت کی فکر میں لگے رہنے والا انسان ہی بارگاہ رسالت میں ہر عزت واکرام کا مستحق ہے، آخر میں قیامت کے روز کی پریشانی اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–14
3:۔ ” واذا البحار سجرت “ اور جب دریا پانی سے بھر دئیے جائیں۔ زلزلہ قیامت کی وجہ سے سمندر میں ایسا ابال آئے گا کہ تمام دریا پانی سے بھر جائیں گے، بلکہ خشکی بھی زیر آب ہوجائے گی۔ یہاں تک وہ چھ احوال مذکور ہوئے جو نفخہ اولی کے بعد ظاہر ہوں گے آگے ان احوال کا بیان ہے جو نفخہ ثانیہ کے بعد ظہور پذیر ہوں گے۔ ” واذا النفوس زوجت “ اور جب روحیں بدنوں سے ملا دی جائیں گی اور تمام مردے زندہ ہوجائیں گے یہ نفخہ ثانیہ کے بعد کے احوال میں سے پہلا حال ہے۔ ” واذا الموء ودۃ سئلت “ اور جب زندہ درگور لڑکی کے بارے میں اس کو زندہ دفن کرنے والے سے پوچھا جائے گا کہ اس کو کس جرم میں قتل کیا گیا۔ ” واذا الصحف نشرت “ اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–18
(گذشتہ سے پیوستہ)
سورۃ کے پہلے درس میں قیامت کا ذکر تھا ۔ اس درس میں قرآن کریم کا ذکر ہے ۔ قرآن پاک کی صداقت ، اس کی حقانیت اس کا منزل من اللہ ہونا اس کو لانے والے فرشتے اور خود نبی (علیہ السلام) کی حیثیت کا بیان ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ قیامت اور قرآن پاک آپس میں مریوط ہیں ۔ اسی لیے دونوں کا اکٹھا ذکر ہے۔ قیامت کا ذکر اس لحاظ سے ہے۔ کہ اس کا اثر کائنات کی مختلف اشیاء پر کیا ہوگا ۔ چناچہ اس سلسلہ میں نظام شمسی کے سب سے بڑے کرے سورج کا ذکر ہے۔ کہ اس کی روشنی ختم ہوا جائے گی۔ اس کے بعد باقی سیاروں کا ذکر ہے۔ سورج اور چاند کے متعلق فرمایا کہ یہ دوسیارے ایک خاص نظام کے تحت مقررہ راستے پر چل رہے ہیں۔…
Read the full tafseer →عَلِمَتْ نَفْسٌ مَّآ اَحْضَرَتْ 14 ۭ
علم
العِلْمُ : إدراک الشیء بحقیقته،
( ع ل م ) العلم
کسی چیز کی حقیقت کا ادراک کرنا
نفس
الَّنْفُس : الرُّوحُ في قوله تعالی: أَخْرِجُوا أَنْفُسَكُمُ [ الأنعام/ 93] قال : وَاعْلَمُوا أَنَّ اللَّهَ يَعْلَمُ ما فِي أَنْفُسِكُمْ فَاحْذَرُوهُ [ البقرة/ 235] ، وقوله : تَعْلَمُ ما فِي نَفْسِي وَلا أَعْلَمُ ما فِي نَفْسِكَ [ المائدة/ 116] ، وقوله : وَيُحَذِّرُكُمُ اللَّهُ نَفْسَهُ [ آل عمران/ 30] فَنَفْسُهُ : ذَاتُهُ ، وهذا۔ وإن کان قد حَصَلَ من حَيْثُ اللَّفْظُ مضافٌ ومضافٌ إليه يقتضي المغایرةَ ، وإثباتَ شيئين من حيث العبارةُ- فلا شيءَ من حيث المعنی سِوَاهُ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–14
3 ؎ یعنی اب جو نیلی چادر اوڑھے ہوئے ہے نیلا دکھائی دیتا ہے یہ اتار لی جائے اور آثار قہر سے سرخ ہوجائے۔ 12 منہ
Read the full tafseer →عَلِمَتْ نَفْسٌ مَّـآ اَحْضَرَتْ ۔ (التکویر : 14)
(اس وقت ہر شخص کو معلوم ہوجائے گا کہ وہ کیا لے کر آیا ہے۔ )
ہر نفس کا احساسِ ماحضر
گزشتہ آیات میں وقوع قیامت کے بعد جن احوال کے ظہور پذیر ہونے کا ذکر کیا گیا ہے ان احوال کو دیکھ لینے کے بعد ہر شخص جان لے گا کہ واقعی قیامت آگئی، اور میں جن باتوں کو محض ایک واہمہ یا مذاق سمجھتا تھا وہ حقیقت بن کر میری آنکھوں کے سامنے ہے۔ میرا نامہ عمل میرے سامنے رکھ دیا گیا ہے۔ جنت بھی موجود ہے اور جہنم بھی۔ اب کوئی چیز صیغہ راز میں نہیں رہی۔ نامہ عمل دیکھ کر میں جان گیا ہوں کہ میں اپنے ساتھ اپنے رب کے حضور پیش کرنے کے لیے کیا لے کر آیا ہوں۔ اچھے اعمال کا انجام…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–14
فہم القرآن
ربط کلام : قیامت کا بیان جاری ہے بتلایا ہے کہ اس دن لوگوں کے حساب و کتاب کا آغازکس طرح ہوگا۔
قیامت کے دن زمین و آسمان بدل دئیے جائیں گے۔ (ابراہیم : 48) اور لوگ محشر کے میدان میں جمع کردیئے جائیں گے۔ ملائکہ قطار اندر قطار کھڑے ہوں گے جن میں جبریل امین سب سے نمایاں ہوں گے۔ عدالت کبریٰ کے انتظامات مکمل ہونے کے ساتھ ہی ایک طرف لوگوں کے سامنے بھڑکتی ہوئی جہنم لائی جائے گی اور دوسری طرف جنت کو لایا جائے گا۔ اس کے بعد رب ذوالجلال جلوہ گر ہوں گے اور کچھ مدت کے بعد لوگوں کے اعمال نامے ان کے سامنے رکھ دیئے جائیں گے، ہر شخص اپنا اعمال نامہ کھول کر پڑھے گا جس سے اسے معلوم ہوجائے گا کہ وہ اپنے…
Read the full tafseer →14 : عَلِمَتْ نَفْسٌ مَّآ اَحْضَرَتْ (ہر شخص ان اعمال کو جان لے گا جو وہ لے کر آیا) نفس سے مراد کل نفسٍ ہے۔
قراءت : اور سانس کے ہر آیت پر انقطاع کی صورت میں وقف کو ہر آیت پر جائز قرار دیا گیا ہے۔ ما احضرت : جو خیر و شر وہ لے کر آیا ہے۔
Read the full tafseer →13 ۔” واذا الجنۃ ازلفت “ اللہ کے اولیاء کے قریب کردی جائے گی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–14
1۔ 14۔ صحیح بخاری وغیرہ میں حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا قیامت کے دن سورج اور چاند کو لپیٹ کر دوزخ میں ڈال دیا جائے گا اس حدیث کی شرح میں علماء نے لکھا ہے کہ دنیا میں بعض لوگ سورج اور چاند کو پوجا کرتے ہیں ان کے ذلیل کرنے کے لئے سورج اور چاند کو دوزخ کی آگ میں جھونکا جائے گا۔ مسند امام احمد ترمذی 2 ؎ مستدرک حاکم طبرانی وغیرہ میں حضرت عبد اللہ بن عمر سے جو روایتیں ہیں ان کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ جس شخص کو یہ منظور ہو کہ قیامت کو دنیا میں بھی اپنی آنکھوں کے سامنے دیکھ لے تو اس کو چاہئے کہ اذا الشمس کورت و اذا السماء انفطرت و اذالسماء انشقت…
Read the full tafseer →(عَلِمَتْ نَفْسٌ) تو ہر نفس جان لے گا، ، نَفْسٌ، کا لفظ عام ہے کیونکہ اسے شرط کے سیاق میں نکرہ لایا گیا ہے۔ (مَّآ اَحْضَرَتْ ) یعنی وہ اعمال جو اس کے پاس موجود ہوں گے اور جو اس نے آگے بھیجے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا (ووجدوا ما عملوا حاضرا۔ الکھف 49) اور انہوں نے جو عمل کیے ان کو وہ موجود پائیں گے۔
یہ اوصاف جن سے اللہ تعالیٰ نے قیامت کے دن کو موصوف کیا ہے ایسے اوصاف ہیں جن سے دل دہل جاتے ہیں کرب میں شدت آجاتی ہے جسم کانپنے لگتا ہے خوف چھا جاتا ہے یہ اوصاف خرد مند لوگوں کو اس دن کے لیے تیاری کرنے پر آمادہ کرتے ہیں اور اس کام سے روکتے ہیں جو ملامت کا موجب ہے اسی لیے سلف میں سے کسی کا قول ہے…
Read the full tafseer →( 12) انسان کے اپنی کمائی کے علم کا ذکرو بیان : سو اس سے واضح فرمادیا گیا کہ " جب یہ تمام احوال و کوائف واقع ہوجائیں گے تب جان لے گا ہر شخص کہ وہ کیا لے کر آیا ہے ؟ " یعنی یہ آیت کریمہ جواب ہے ان سب شرطیہ جملوں کا جو اس سے پہلے گزرے ہیں۔ یعنی جب یہ سب کچھ ہوجائے گا تو اس وقت زندگی بھر کا کیا کرایا سب کا سب انسان کے سامنے آجائے گا اور وہ اپنے کارنامے خود دیکھ لے گا۔ اچھے ہوں گے تب بھی اور برے ہوں گے تو بھی۔ اور اس کو معلوم ہوجائے گا کہ وہ کیا لے کر حاضر ہوا ہے، پس جو لوگ آج اس یوم حساب کا انکار کرتے اور اس کا مذاق اڑاتے ہیں وہ اپنا شوق پورا کرلیں۔ وقت آنے پر وہ سب کچھ ان کے سامنے آجائے گا اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–14
قیامت کیسی ہوگی ؟ اور بعد میں کیا ہوگا ؟
تشریح : آیت 1 سے 6 تک قیامت کا نقشہ کھینچا گیا ہے۔ جس میں نظام کائنات کے درہم برہم ہونے میں اجرام سماوی کا ذکر ہے۔ '' کُوّرت '' تکویر سے ہے یعنی لپیٹا جانا مطلب یہ ہے کہ سورج اپنی موت کو پہنچ کر بےنور مردہ ہوجائے گا۔ جس کی وضاحت ڈاکٹر دلدار صاحب یوں کرتے ہیں۔ '' جب ستارے کا ایندھن (ہائیڈروجن) ختم ہوجاتا ہے تو وہ ٹھنڈا ہونے لگتا ہے۔ چناچہ کشش ثقل حر کی توانائی پر غالب آجاتی ہے۔ اور ستارہ سکڑنے لگتا ہے اور بالآخر موت سے ہمکنار ہوجاتا ہے۔ ستاروں کی موت مندرجہ ذیل تین حالتوں میں سے کسی ایک حالت کی طرف لے جاتی ہے۔
1 ۔ سفید بونا White Dwosf
2 ۔ نیوٹران ستارہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–29
سورة التکویر۔
آیات 1 تا 29۔
اسرار ومعارف۔
جب سورج بےنور ہوجائے گا اور ستارے ٹوٹ کر گرجائیں گے اور جب پہاڑ اکھیڑ کر اڑادیے جائیں گے اور لوگوں کو مال و دولت بھول جائے گا کہ عربوں کے نزدیک دس ماہ کی گابھن اونٹنی سب سے قیمتی اثاثہ سمجھی جاتی ہے ہر وقت دم کے ساتھ لگے پھرتے تھے کہ صحرا میں اس کادودھ نعمت غیر مترقہ ہوتا تھا مگر وہ بھی آوارہ پھر رہی ہوں گی یعنی لوگوں کو مال وزر کا ہوش نہ رہے گا اور نفخہ اولی سے گھبرا کر جنگلی جانور اور درندے آبادیوں میں آگھسیں گے اور دریا سمندر میں مل جائیں گے کہ زمین شق ہوجائے گی اور پھر ان میں اجرام فلکی گریں گے تو بھاپ بن کر اڑجائیں گے اور پھر فضا میں وہ بھاپ آگ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–14
ف 11 یعنی اچھے اعمال لایا ہے یا برے۔
Read the full tafseer →(81:14) علمت نفس ما احضرت۔ آیت 1 سے لے کر 13 تک جہاں جہاں اذا شرطیہ آیا ہے یہ آیت سب کے لیے جواب ہے۔
اس وقت ہر شخص اپنی کی ہوئی اچھائی یا برائی کو جان لے گا۔ احضرت ماضی معروف واحد مؤنث غائب احضار (افعال) مصدر سے۔ اس نے حاضر کیا۔ وہ ساتھ لایا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–29
لغات القرآن۔
کورت۔ لپیٹ دے گیا۔ انکدرت۔ ماند پڑگئی۔ (پڑ گئے) سیرت۔ چلا دی گئی۔ العشار۔ گابھن اونٹنیاں۔ عطلت۔ چھٹ کر پھری۔ الوحوش (وحش) ۔ جنگلی جانور۔ حشرت۔ آپس میں گڈ مڈ ہوجائیں۔ سجرت۔ جھونکے گئے۔ زوجت۔ جوڑے جوڑے بنا دئیے گئے۔ الموئو دۃ ۔ زمین میں گاڑدی گئی لڑکی۔ سئلت۔ پوچھا گیا۔ الصحف۔ اعمال نامے۔ نشرت۔ پھیلا دئیے۔ کشطت۔ پرت کے پرت اتا رلئے گئے۔ کھال کھینچ لی گئی۔ سعرت۔ بھڑکائی گئی۔ ازلف۔ قریب کردی گئی۔ احضرت۔ وہ لے کر حاضر ہوا۔ الخنس۔ پیچھے ہٹ جانے والے۔ الکنس۔ چھپ جانے والے۔ عسعس۔ پھیل گیا۔ تنفس۔ روشن ہوا۔ مکین۔ مرتبہ والا۔ مطاع۔ جس کی اطاعت کی جائے۔ کہا مانا جائے۔ الافق۔ کنارہ۔ بضنین۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–18
(ف 1) یہ پانچ ستارے ہیں جنہیں متحیرہ کہتے ہیں : زحل۔ مشتری۔ مریخ۔ زہرہ۔ عطارد۔ ان ستاروں کی چال اس ڈھب سے ہے کہ کبھی ٹھٹک کر الٹے پھریں گے اور کبھی سورج کے پاس آکرکتنے دنوں تک غائب رہیں، ان ستاروں کا چلنا ٹھہرنا لوٹنا اور چھپ جانا ایک نمونہ ہے اگلے انبیاء پر بار بار وحی آنے اور ایک مدت دراز تک اس کے نشان باقی رہنے ، پھر منقطع ہو کرچھپ جانے اور غائب ہوجانے کا اور رات کا آنا نمونہ ہے اس تاریک دور کا جوخاتم المرسلین ﷺ کی ولادت باسعادت سے پہلے دنیا پر گذرا۔ کہ کسی شخص کو حق و باطل کی تمیز نہ رہی تھی اور وحی کے آثار بالکل مٹ چکے تھے اس کے بعد صبح کا روشن ہونا حضور کا اس جہان میں تشریف لانا اور…
Read the full tafseer →[7] یعنی ہر ایک کو پتہ چل جائے گا کہ وہ نیکی یا بدی کا کیا سرمایہ لے کر حاضر ہوا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–19
حل لغات :۔ الموء دۃ ۔ زندہ گاڑی ہوئی لڑکی ۔ بعض قبائل میں عزت اور شرف کا یہ غلط خیال رواج پذیر ہوگیا تھا کہ لڑکیاں ناموس اور عزت کے لئے موجب ننگ ہیں ۔ اس لئے وہ ان کو جب پیدا ہوتیں تو زندہ زمین میں گاڑ دیتے ۔ اس برائی کی طرف اشارہ ہے ۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلام سے قبل عربوں کی اخلاقی حالت کیا تھی ؟ اور اسلام نے ان لوگوں کی اصلاح کے سلسلہ میں کتنا بڑا کام کیا ۔
Read the full tafseer →(14) تو اس وقت ہر شخص ان اعمال کو جان لے گا جو لے کر آیا ہوگا - یعنی ہر نفس اس کو جان لے گا جو اس نے حاضر کیا ہوگا۔ یوم تجد کل نفس ماعملت من خیر محضرا وما عملت من سوئ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–21
ف 2۔ یعنی فرشتے اس کا کہنا مانتے ہیں۔
3۔ امانت دار ہے کہ وحی کو صحیح صحیح بےکم وکاست پہنچا دیتا ہے، پس وحی لانے والا تو ایسا ہے، آگے جن پر وحی نازل ہوئی ان کی نسبت ارشاد ہے کہ۔ (آگے دیکھو ترجمہ)
Read the full tafseer →اس وقت ہر جان جان لے گی کہ وہ کیا لے کر آئی
14 ؎ ( احضرت) اس نے حاضر کیا ۔ احضار سے ماضی کا صیغہ واحد مؤنث غائب ۔ مطلب یہ ہے کہ یہ ایک وقت ہے کہ اس وقت غفلت کے سارے پردے اٹھ جائیں گے ۔ ہر قسم کا خمار اتر جائے گا اور اسے اچھی طرح معلوم ہوجائے گا کہ اس نے اپنی زندگی میں کیا کھویا اور کیا پایا ؟ اس لیے کہ اس کے سارے اعمال اچھے ہوں گے یا برے اس کے سامنے لائے جائیں گے اور اعمال کے سامنے لانے کا مطلب ان اعمال کے نتائج سے ہے کہ جیسے انہوں نے اعمال کیے ہوں گے ویسے ہی ان کے سامنے ان کے نتائج آجائیں گے اور ان میں ذرا برابر کمی بیشی نہیں ہوگی ۔ اس سورت کا جو مضمون قیامت کے متعلق تھا وہ اس آیت پر ختم ہوا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–18
عَلِمَتْ نَفْسٌ مَّا أَحْضَرَتْ (then everyone will know what he [ or she ] has put forward... 81:14). It means that when Resurrection, with all the horrors mentioned above, will take place, man will realise what he has brought with him. The word 'what' here refers to his good and bad deeds, all of which will be in front of him, either in the form of the Record of Deeds that will be given in his hands or his deeds will assume a specific body shape as is understood from certain Traditions. Allah knows best!
Having described the horrors of Resurrection, and the accountability of deeds, Allah…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–14
11 That is, in the Plain of Resurrection, when the hearing of the cases of the people will be in progress, the blazing fire of Hell also will be in full view, and Paradise also with all its blessings will be visible to all, so that the wicked should know what they are being deprived of and where they are going to be cast, and the righteous as well should know what they are being saved from and with what being blessed and honoured. br>
Read the full tafseer →