وَاِذَا الْجَحِیْمُ سُعِّرَتْ ۟وَاِذَا الۡجَحِيۡمُ سُعِّرَتۡ
اور جب دوزخ (کی آگ) بھڑکائی جائے گی
— Fateh Muhammad Jalandhari
And when Hellfire is set ablaze
— Saheeh International
Juz 30 · Ruku 1 of surah · Ruku 6 of juz
وَاِذَا الْجَحِیْمُ سُعِّرَتْ ۟وَاِذَا الۡجَحِيۡمُ سُعِّرَتۡ
اور جب دوزخ (کی آگ) بھڑکائی جائے گی
— Fateh Muhammad Jalandhari
And when Hellfire is set ablaze
— Saheeh International
Juz 30 · Ruku 1 of surah · Ruku 6 of juz
Read the whole surah · Surah At-Takwir
اور جب جہنم دہکائی جائے گی
اور جب دوزخ (کی آگ) بھڑکائی جائے گی
اور جب جہنم بھڑکائی جائے گی
اور جب دوزخ بھڑکائی جائے گی۔
اور جب جہنم بھڑکایا جائے
اور جب دوزخ (کی آگ) بھڑکائی جائے گی،
اور جب جہنم بھڑکائی جائے گی۔
اور دوزخ بھڑکائی جائے گی
جب کہ دوزخ بھڑکا دی جائے گی
اور جب دوزخ کو (دہکا اور) بھڑکا دیا جائے گا
اور جب دوزخ خوب دہکا دی جائے
اور جب جہنم دہکائی جائے گی۔
اور جب دوزخ کی آگ بھڑکائی جائے گی
and Hell is stoked,
and when the Hell will be set ablaze,
and when the Hell will be set ablaze,
And when Hell is Su`irat.
And when hell is lighted,
— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran
And when Hellfire is set ablaze
hell is made to blaze,
And when the hell is kindled up,
And when the Scorch shall be made to blaze,
When the Blazing Fire is kindled to fierce heat;
— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary
Explained with ayahs 1–14
یعنی سوج بےنور ہوجائیگا، جاتا رہے گا اوندھا کر کے لپیٹ کر زمین پر پھینک دیا جائیگا ابن عباس ؓ فرماتے ہیں سورج چاند اور ستاروں کو لپیٹ کر بےنور کر کے سمندروں میں ڈال دیا جائیگا اور پھر مغربی ہوائیں چلیں گی اور آگ لگ جائیگی ایک مرفوع حدیث میں ہے کہ اس کو تہہ کر کے جہنم میں ڈال دیا جائیگا (ابن ابی حاتم) اور ایک حدیث میں سورج کے ساتھ چاند کا ذکر بھی ہے لیکن وہ ضعیف ہے صحیح بخاری میں یہ حدیث الفاظ کی تبدیلی سے مروی ہے، اس میں ہے کہ سورج اور چاند قیامت کے دن لپیٹ لیے جائیں گے امام بخاری اسے کتاب بدء الخلق میں لائے ہیں لیکن یہاں لانا زیادہ مناسب تھا یا مطابق عادت وہاں اور یہاں دونوں جگہ لاتے جیسے کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–12
سورة التَّكْوِیْر 10 یعنی جو کچھ اب نگاہوں سے پوشیدہ ہے وہ سب عیاں ہوجائے گا۔ اب تو صرف خلا نظر آتا ہے یا پھر بادل، گرد و غبار، چاند اور تارے۔ لیکن اس وقت خدا کی خدائی اپنی اصل حقیقت کے ساتھ سب کے سامنے بےپردہ ہوجائے گی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–13
وَاِذَا السَّمَاۗءُ كُشِطَتْ ، کشط کے لغوی معنے جانور کی کھال اتارنے کے ہیں، بظاہر یہ حال قیامت کا نفخہ اولیٰ کے وقت کا ہے جو اسی دنیا میں پیش آئے گا کہ آسمان کی زینت جن ستاروں اور شمس وقمر سے تھی وہ سب بےنور ہو کر دریا میں ڈال دیئے جاویں گے آسمان کی موجودہ ہیت بدل جاویگی، اس کو کشط کے لفظ سے تعبیر کیا گیا ہے۔ اور بعض حضرات مفسرین نے کشط کے معنے لپیٹنے کے لکھے ہیں اور معنی آیت کے یہ ہوگئے کہ آسمان جو چھت کی طرح سروں پر محیط ہے پہ لپیٹ دیا جائے گا۔
Read the full tafseer →’تَسْعِیْرٌ‘ کے معنی بھڑکانے اور دہکانے کے ہیں۔ جہنم تیار تو پہلے سے ہو گی لیکن جب مجرموں کو اس میں ڈالنے کا وقت آئے گا تو وہ ان کو جلانے کے لیے خاص طور پر بھڑکا دی جائے گی پھر جب مجرم اس میں ڈالے جائیں گے تو وہ اپنا مطلوب ایندھن پا کر مزید قوت سے بھڑکے گی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–13
11۔ 1 یعنی اس طرح ادھیڑ دیئے جائیں گے جس طرح چھت ادھڑی جاتی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–15
6: جاہلیت کے زمانے میں ایک انتہائی وحشیانہ رسم یہ تھی کہ لوگ عورتوں کو منحوس سمجھتے تھے، اور بعض قبیلے ایسے تھے کہ اگر ان میں سے کسی کے یہاں بچی پیدا ہوجاتی تو وہ شرم کے مارے اس بچی کو زندہ زمین میں دفن کردیتا تھا۔ قیامت میں اس بچی کو لاکر پوچھا جائے گا کہ تمہیں کس جرم میں موت کے گھاٹ اتارا گیا تھا ؟ اس سے ان ظالموں کو سزا دینا مقصود ہوگا جنہوں نے اس بچی کے ساتھ ایسی درندگی کا معاملہ کیا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–13
اور اب آخری منظر ، اس دن کے مناظر میں سے آخری منظر یوں ہوگا۔ واذا .................... ازلفت (13:81) ” اور جب جہنم دہکائی جائے گی ، اور جب جنت قریب لائی جائے گی “۔ یعنی جب جہنم میں آگ جلے گی اور اسے خوب دھکایا جائے گا اور اس کے شعلے زیادہ ہوں گے اور اس کا جوش و خروش اور حرارت زیادہ ہوجائے گی۔ یہ جہنم کہاں ہے اور کس طرح دھکائی جائے گی ؟ کیسا ایندھن استعمال ہوگا ، ہمارے پاس اس سلسلے میں صرف ایک آیت ہے۔ وقودھا ................ واحجارة (اس کا ایندھن لوگ اور پتھر ہوں گے “۔ یہ حالت تو اس وقت کی ہوگی جب اہل جہنم کو اس کے اندر پھینک دیا جائے گا۔ اور جب جنت قریب کردی جائے گی ، اور جن لوگوں کو جنت میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–13
14 یعنی دوزخ بڑے زور شور کے ساتھ دہکائی جائے اور بہشت متقیوں کے نزدیک کردی جائے جس کی رونق و بہار دیکھنے سے عجیب مسرت و فرحت حاصل ہو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–13
آیت 13{ وَاِذَا الْجَنَّۃُ اُزْلِفَتْ۔ } ”اور جب جنت قریب لے آئی جائے گی۔“ ان تیرہ آیات میں قیامت کے دن کی مختلف کیفیات کا ذکر کرنے کے بعد جو اہم اور اصل بات بتانا مقصود ہے وہ یہ ہے :
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–12
11 کَشَطَ کا لغوی مفہوم :۔ کُشِطَتْ : کَشَطَ البعیر بمعنی اونٹ کی کھال اتارنا اور کشاط بمعنی اتری ہوئی کھال اور کشاط بمعنی کھال اتارنے والا قصائی یا قصاب، اس آیت سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ آسمان محض ایک ٹھوس جسم ہی نہیں بلکہ اس کے جسم پر کھال کا پردہ بھی ہے اور جس طرح کھال اتارنے کے بعد جسم کے اندرونی اعضاء نظر آنے لگتے ہیں۔ اسی طرح آسمان کی کھال اتارنے کے بعد عالم بالا کی وہ چیزیں نظر آنے لگیں گی جو آج نظر نہیں آتیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–14
5۔ (اور یہ علم ایسا یقینی اور قطعی ہوگا کہ اس کے بعد کسی مزید قیل وقال چون وچرا کی گنجائش ہی نہیں رہے گی، اور ہر شخص کو اپنا انجام سامنے نظر آئے لگے گا) (آیت) ” واذا لسمآء کشطت “۔ لفظی معنی یہ ہیں کہ جب آسمان کی کھال کھینچ لی جائے، مراد یہ کہ مراد یہ کہ جب آسمان کے اوپر کی چیزیں بھی بےپردہ نظر آنے لگیں۔ (آیت) ” واذا الجحیم سعرت “۔ جہنم تو آج بھی دہکی ہوئی ہے، اس وقت اور زیادہ دہکادی جائے گی، (آیت) ” واذا الجنۃ ازلفت “۔ یعنی اس وقت خود جنت اہل جنت کے بالکل قریب لے آئی جائے گی ،
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–29
واذا لموئو ودۃ سئلت، اس آیت کے انداز بیان میں ایسی شدید غضب ناکی پائی جاتی ہے، جس سیز یادہ غضب ناکی کا تصور نہیں کیا جاسکتا، بیٹی کو زندہ درگور کرنے والے والدین اللہ کی نظر میں ایسے قابل نفرت ہوں گے کہ ان کو مخاطب کر کے ان سے یہ نہ پوچھا جائے گا کہ تم نے اس معصوم کو کیوں قتل کیا ؟ بلکہ اس سے نگاہ پھیر کر معصوم بچی سے پوچھا جائے گا کہ تو بےچاری آخر کس قصور میں مار دی گئی ؟ اور وہ اپنی داستان مظلومیت سنائے گی، اس آیت کے مضمون سے ایک اہم بات خود بخود یہ سمجھ میں آتی ہے کہ اس میں آخرت کے ضروری ہونے کی ایک صریح دلیل پیش کی گئی ہے، جس لڑکی کو زندہ دفن کردیا گیا، آخر اس کی کہیں تو داد رسی ہونی…
Read the full tafseer →واذا الجحیم سعرت . اور جب اللہ کے دشمنوں کے لیے جحیم کو خوب بھڑکایا جائے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–18
(10۔ 18) اور جس وقت نامہ اعمال حساب و کتاب کے لیے کھول دیے جائیں گے، یا یہ کہ ہاتھوں میں دے دیے جائیں گے، اور جس وقت آسمان لپیٹ لیا جائے گا اور جب دوزخ کفار کے لیے دہکائی جائے گی اور جب جنت پرہیزگاروں کے قریب کردی جائے گی، تو اس وقت ہر ایک نیک اور گنہگار کو اپنی نیکی و برائی معلوم ہوجائے گی جو کہ لے کے آیا ہے۔ میں قسم کھاتا ہوں ان ستاروں کی جو دن کو غائب ہوجاتے اور رات کو نکلتے ہیں، جو رات کو چلتے رہتے ہیں اور پھر اپنے مطلع میں جا چھپتے ہیں، یہ کیفیت پانچ ستاروں کو پیش آتی ہے یعنی زحل، مشتری، عطارد، مریخ، زہرہ۔ اور قسم ہے رات کی جب وہ جانے لگے اور صبح کی جب وہ آنے لگے اور خوب روشن ہوجائے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–13
(واذا الجحیم سعرت…: یہ دونوں چیزیں میدان محشر میں ہوں گی۔ تفصیل کے لئے دیکھیے سورة فجر (23) اور سورة شعراء (90، 91) کی تفسیر۔
Read the full tafseer →واذالجحیم سعرت۔ جب جہنم کو روشن کیا جائیگا کفار کے لیے دہکایا جائیگا اور اس کے گرم کرنے میں اضافہ کیا جائیگا یہ جملہ بولا جاتا ہے، سعرت النار، اسعر تھا، عام قراء کی قرات تخفیف کے ساتھ ہے جو سعیر سے مشتق ہے۔ نافع، ابن ذکوان، اور رویس نے تشدید کے ساتھ پڑھا ہے کیونکہ اسے بار بار روشن کیا جائے گا، قتادہ نے کہا، جہنم کو اللہ تعالیٰ کا غضب اور انسانوں کی خطائیں اسے بھڑکائیں گی ترمذی شریف میں حضرت ابوہریرہ سے مروی ہے کہ نبی کریم نے فرمایا، آگ کو ایک ہزار سال تک بھڑکایا گیا تو وہ سرخ ہوگئی پھر اسے ایک ہزار تک جلایا گیا تو وہ سفید ہوگئی پھر اسے ایک ہزار سال تک بھڑکایا گیا تو وہ سیاہ ہوگئی وہ سیارہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–14
40۔ ابن المنذر نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا کہ آیت واذا لصحف نشرت۔ اور جب اعمال نامے کھل جائیں گے یعنی جب انسان مرجاتا ہے تو اس کا اعمال نامہ لپیٹ دیا جاتا ہے پھر قیامت کے دن کھولا جائے گا اور حساب لیا جائے گا جو کچھ اس میں ہوگا۔ 41۔ عبد بن حمید وابن المنذر وابن ابی حاتم وابن مردویہ زید بن اسلم ؓ سے روایت کیا کہ اور وہ اپنے والد سے روایت کرتے ہی کہ جب یہ آیت اذا الشمس کورت نازل ہوئی تو حضرت عمر ؓ نے فرمایا جب وہ اس علمت نفس ما احضرت تو ہر شخص جان لے گا کہ وہ کی لے کر آیا پر پہنچے تو فرمایا اسی لیے بات چلائی گئی۔
Read the full tafseer →[وَاِذَا الْجَــحِيْمُ سُعِّرَتْ : اور جب دوزخ بھڑکائی جائے گی ]
Read the full tafseer →5﴿ وَ اِذَا الْجَحِيْمُ سُعِّرَتْ۪ۙ0012﴾ (اور جب دوزخ کو دہکا دیا جائے گا یعنی دوزخ کی جو آگ ہے اسے مزید جلایا جائے گا تاکہ اور زیادہ گرم ہوجائے) ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–29
ہولناک مناظر روز قیامت و پیشی اعمال و فیصلہ جزاء وسزا : قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” اذا الشمس کورت ....... الی ...... الا ان یشآء اللہ رب العلمین “۔ (ربط) سورة عبس کا مضمون دراصل اثبات قیامت کے موضوع ہی پر مشتمل تھا اور مقصد بیان یہ تھا کہ انسان کی سعادت و فلاح اور عزت و عظمت اپنی زندگی اپنے پروردگار کے ساتھ وابستہ رکھنے اور فکر آخرت میں ہے، اس کے برعکس وہ مغرور ومتکبر جو نہ خدا پر ایمان لاتا ہے اور نہ ہی اس کو آخرت کی فکر ہے وہ خدا کی نظروں میں ذلیل و حقیر ہے، طالب حق اور سعادت کی فکر میں لگے رہنے والا انسان ہی بارگاہ رسالت میں ہر عزت واکرام کا مستحق ہے، آخر میں قیامت کے روز کی پریشانی اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–14
3:۔ ” واذا البحار سجرت “ اور جب دریا پانی سے بھر دئیے جائیں۔ زلزلہ قیامت کی وجہ سے سمندر میں ایسا ابال آئے گا کہ تمام دریا پانی سے بھر جائیں گے، بلکہ خشکی بھی زیر آب ہوجائے گی۔ یہاں تک وہ چھ احوال مذکور ہوئے جو نفخہ اولی کے بعد ظاہر ہوں گے آگے ان احوال کا بیان ہے جو نفخہ ثانیہ کے بعد ظہور پذیر ہوں گے۔ ” واذا النفوس زوجت “ اور جب روحیں بدنوں سے ملا دی جائیں گی اور تمام مردے زندہ ہوجائیں گے یہ نفخہ ثانیہ کے بعد کے احوال میں سے پہلا حال ہے۔ ” واذا الموء ودۃ سئلت “ اور جب زندہ درگور لڑکی کے بارے میں اس کو زندہ دفن کرنے والے سے پوچھا جائے گا کہ اس کو کس جرم میں قتل کیا گیا۔ ” واذا الصحف نشرت “ اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–13
(نام و کوائف) اس سورة کا نام سورة تکویر ہے ۔ اس کی پہلی آیت میں کورت کا لفظ آیا ہے جس سے سورة کا نام تکویر ہے ۔ یہ سورة مکی زندگی میں نازل ہوئی ۔ اس کی انتیس 29 آیات ہیں ۔ یہ سورة ایک 104 سو چار الفاظ اور 5202 پانچ ہزار 2 حروف پر مشتمل ہے (موضوع اور گذشتہ سورة سے ربط) اس سورة میں اللہ تعالیٰ نے قیامت کا ذکر اس نسبت سے کیا ہے ۔ کہ کائنات کی ارضی اور سماوی اشیاء پر قیامت کے کیا اثرات مرتب ہوں گے۔ سورة کے آخر میں قرآن کریم کی طرف دعوت دی گئی ہے۔ اور اسکی صداقت وحقانیت کا بیان ہے سابقہ کئی سورتوں میں قیامت کا ذکر مختلف انداز سے آرہا ہے۔ کہ قیامت کا اثر مختلف چیزوں پر کیا ہوگا۔ سورة عبس میں قیامت…
Read the full tafseer →وَاِذَا الْجَــحِيْمُ سُعِّرَتْ 12 ۠ جحم الجُحْمَة : شدة تأجج النار، ومنه : الجحیم، وجَحَمَ وجهه من شدة الغضب، استعارة من جحمة النار، وذلک من ثوران حرارة القلب، وجَحْمَتَا الأسد : عيناه لتوقدهما . ( ج ح م ) الجحمۃ آگ بھڑکنے کی شدت اسی سے الجحیم ( فعیل ہے جس کے معنی ( دوزخ یا دہکتی ہوئی آگ کے ہیں ۔ اور جحمۃ النار سے بطور استعارہ جحم استعار ہوتا ہے جس کے معنی غصہ سے چہرہ جل بھن جانے کے ہیں کیونکہ غصہ کے وقت بھی حرارت قلب بھڑک اٹھتی ہے کہا جاتا ہے : ۔ جحم الا سد بعینیۃ شیر نے آنکھیں پھاڑ کر دیکھا کیونکہ شیر کی آنکھیں بھی آگ کی طرح روشن ہوتی ہیں ۔ سعر السِّعْرُ : التهاب النار، وقد سَعَرْتُهَا،…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–14
3 ؎ یعنی اب جو نیلی چادر اوڑھے ہوئے ہے نیلا دکھائی دیتا ہے یہ اتار لی جائے اور آثار قہر سے سرخ ہوجائے۔ 12 منہ
Read the full tafseer →وَاِذَا الْجَحِیْمُ سُعِّرَتْ ۔ (التکویر : 12) (اور جب جہنم بھڑکا دی جائے گی۔ ) جہنم کا بھڑک اٹھنا تسعیر کے معنی بھڑکانے اور دہکانے کے ہیں۔ جہنم تیار تو پہلے سے ہی ہوگی لیکن جب مجرموں کے اس میں ڈالنے کا وقت آئے گا تو اس وقت اسے خاص طور پر بھڑکا دیا جائے گا۔ قرآن کریم کی دوسری آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ جہنم مجرموں کو پہچانے گی اور دور سے ہی انھیں دیکھ کر دھاڑے گی۔ اسی طرح یہ بھی قرآن کریم سے معلوم ہوتا ہے کہ انسان اور پتھر جہنم کا ایندھن ہوں گے۔ چناچہ جیسے ہی اس میں انسان ڈالے جائیں گے تو ایندھن مل جانے سے اور بھڑکے گی۔ یہ چیزیں چونکہ متشابہات سے تعلق رکھتی ہیں اس لیے کوئی حتمی بات تو کہنا مشکل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–14
فہم القرآن ربط کلام : قیامت کا بیان جاری ہے بتلایا ہے کہ اس دن لوگوں کے حساب و کتاب کا آغازکس طرح ہوگا۔ قیامت کے دن زمین و آسمان بدل دئیے جائیں گے۔ (ابراہیم : 48) اور لوگ محشر کے میدان میں جمع کردیئے جائیں گے۔ ملائکہ قطار اندر قطار کھڑے ہوں گے جن میں جبریل امین سب سے نمایاں ہوں گے۔ عدالت کبریٰ کے انتظامات مکمل ہونے کے ساتھ ہی ایک طرف لوگوں کے سامنے بھڑکتی ہوئی جہنم لائی جائے گی اور دوسری طرف جنت کو لایا جائے گا۔ اس کے بعد رب ذوالجلال جلوہ گر ہوں گے اور کچھ مدت کے بعد لوگوں کے اعمال نامے ان کے سامنے رکھ دیئے جائیں گے، ہر شخص اپنا اعمال نامہ کھول کر پڑھے گا جس سے اسے معلوم ہوجائے گا کہ وہ اپنے…
Read the full tafseer →12 : وَاِذَا الْجَحِیْمُ سُعِّرَتْ (اور جب دوزخ دہکائی جائے گی) سخت بھڑکائی جائے گی۔ قراءت : سُعِرَت۔ تخفیف والی قراءت ابن کثیر، ابو عمرو اور ابن عامر، عاصم کی ہے۔ تشدید والی قراءت شامی، مدنی اور عاصم کی ہے حماد کی نہیں اور نہ ہی یحییٰ کی۔ تشدید میں مبالغہ ہے۔
Read the full tafseer →11 ۔” واذا السماء کشطت “ فرائؒ فرماتے ہیں کھینچاجائے گا۔ پھر لپیٹا جائے گا اور زجاج (رح) فرماتے ہیں اکھاڑا جائے گا جیسا کہ چھت اکھاڑی جاتی ہے اور مقاتل (رح) فرماتے ہیں جو کچھ اس میں ہے اس کو کھول دے گا اور کشط کا معنی تیرا کسی چیز کو دوسری چیز سے بلند کرنا۔ تحقیق اس نے اس کو ڈھانپ دیا ہو جیسا کہ کھال کوہان سے بلند ہوتی ہے اور اس کو ڈھانپ لیتی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–14
1۔ 14۔ صحیح بخاری وغیرہ میں حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا قیامت کے دن سورج اور چاند کو لپیٹ کر دوزخ میں ڈال دیا جائے گا اس حدیث کی شرح میں علماء نے لکھا ہے کہ دنیا میں بعض لوگ سورج اور چاند کو پوجا کرتے ہیں ان کے ذلیل کرنے کے لئے سورج اور چاند کو دوزخ کی آگ میں جھونکا جائے گا۔ مسند امام احمد ترمذی 2 ؎ مستدرک حاکم طبرانی وغیرہ میں حضرت عبد اللہ بن عمر سے جو روایتیں ہیں ان کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ جس شخص کو یہ منظور ہو کہ قیامت کو دنیا میں بھی اپنی آنکھوں کے سامنے دیکھ لے تو اس کو چاہئے کہ اذا الشمس کورت و اذا السماء انفطرت و اذالسماء انشقت…
Read the full tafseer →(وَاِذَا الْجَــحِيْمُ سُعِّرَتْ ) جب جہنم میں آگ جلائی جائے گی اور جہنم بھڑک کر اتنا شعلہ زن ہوجائے گا کہ اس سے پہلے کبھی اتنا نہ تھا۔
Read the full tafseer →(10) تسعیر جہنم کا ذکر بیان : سو ارشاد فرمایا گیا " اور جب بھڑ کا دیا جائے گا دوزخ کو " یعنی اس سود ہکا اور بھڑکا دیا جائے گا مجرموں کے لیے تاکہ وہ اپنے آخری انجام کو پہنچ جائیں۔ والعیاذ باللہ۔ " تسعیر " کے معنی دہکانے اور بھڑکانے کے ہیں، سو جہنم تیار تو پہلے سے ہوگی لیکن جب مجرموں کو اس میں ڈالنے کا وقت آئے گا، والعیاذ باللہ، تو اس وقت ان کو جلانے کے لیے اس کو خاص طور پر دہکایا اور بھڑکایا جائے گا، پھر جب مجرموں کو اس میں ڈالا جائے گا تو وہ اپنا مطلوب ایندھن پاکر مزید قوت سے بھڑکے گی، اور وہ آگ ایسی ہوگی کہ مجرموں کو دور ہی سے دیکھ کر غیظ و غضب سے چیخ اور چلا اٹھے گی، جیسا کہ دوسرے مقام پر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–14
قیامت کیسی ہوگی ؟ اور بعد میں کیا ہوگا ؟ تشریح : آیت 1 سے 6 تک قیامت کا نقشہ کھینچا گیا ہے۔ جس میں نظام کائنات کے درہم برہم ہونے میں اجرام سماوی کا ذکر ہے۔ '' کُوّرت '' تکویر سے ہے یعنی لپیٹا جانا مطلب یہ ہے کہ سورج اپنی موت کو پہنچ کر بےنور مردہ ہوجائے گا۔ جس کی وضاحت ڈاکٹر دلدار صاحب یوں کرتے ہیں۔ '' جب ستارے کا ایندھن (ہائیڈروجن) ختم ہوجاتا ہے تو وہ ٹھنڈا ہونے لگتا ہے۔ چناچہ کشش ثقل حر کی توانائی پر غالب آجاتی ہے۔ اور ستارہ سکڑنے لگتا ہے اور بالآخر موت سے ہمکنار ہوجاتا ہے۔ ستاروں کی موت مندرجہ ذیل تین حالتوں میں سے کسی ایک حالت کی طرف لے جاتی ہے۔ 1 ۔ سفید بونا White Dwosf 2 ۔ نیوٹران ستارہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–29
سورة التکویر۔ آیات 1 تا 29۔ اسرار ومعارف۔ جب سورج بےنور ہوجائے گا اور ستارے ٹوٹ کر گرجائیں گے اور جب پہاڑ اکھیڑ کر اڑادیے جائیں گے اور لوگوں کو مال و دولت بھول جائے گا کہ عربوں کے نزدیک دس ماہ کی گابھن اونٹنی سب سے قیمتی اثاثہ سمجھی جاتی ہے ہر وقت دم کے ساتھ لگے پھرتے تھے کہ صحرا میں اس کادودھ نعمت غیر مترقہ ہوتا تھا مگر وہ بھی آوارہ پھر رہی ہوں گی یعنی لوگوں کو مال وزر کا ہوش نہ رہے گا اور نفخہ اولی سے گھبرا کر جنگلی جانور اور درندے آبادیوں میں آگھسیں گے اور دریا سمندر میں مل جائیں گے کہ زمین شق ہوجائے گی اور پھر ان میں اجرام فلکی گریں گے تو بھاپ بن کر اڑجائیں گے اور پھر فضا میں وہ بھاپ آگ…
Read the full tafseer →ف 10 شروع سورة سے یہاں تک کل بارہ چیزوں کا ذکر ہوا ہے بعض مفسرین کہتے ہیں پہلی چھ کا وقوع قرب قیامت کے دنوں میں ہوگا اور اگلی چھ چیزوں یعنی از وادالنفوس تاولو الجنۃ ازلفث) کا آخرت میں۔ جب یہ بارہ چیزیں ہوجائیں گی تو کیا ہوگا ؟ اس کا جواب اگلی آیت میں آرہا ہے۔
Read the full tafseer →(81:12) واذا الجحیم سعرت : الجحیم : دوزخ ، دہکتی ہوئی آگ۔ جحم کے معنی آگ کے سخت بھرکنے کے ہیں۔ جحیم اسی سے مشتق ہے بروزن فعیل بمعنی فاعل ہے۔ امام ابن جریح سے مروی ہے کہ جن ہم کے سات طبقے ہیں :۔ (1) جہنم۔ (2) نطیٰ ۔ (3) حطمہ۔ (4) سعیر۔ (5) سقر۔ (6) جحیم۔ (7) ہاویہ۔ سعرت ماضی مجہول کا صیغہ واحد مؤنث غائب تسعیر (تفعیل) مصدر سے وہ دھکائی گئی۔ وہ بھڑکائی گئی۔ جب دوزخ کو خوب بھڑکا یا جائے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–29
لغات القرآن۔ کورت۔ لپیٹ دے گیا۔ انکدرت۔ ماند پڑگئی۔ (پڑ گئے) سیرت۔ چلا دی گئی۔ العشار۔ گابھن اونٹنیاں۔ عطلت۔ چھٹ کر پھری۔ الوحوش (وحش) ۔ جنگلی جانور۔ حشرت۔ آپس میں گڈ مڈ ہوجائیں۔ سجرت۔ جھونکے گئے۔ زوجت۔ جوڑے جوڑے بنا دئیے گئے۔ الموئو دۃ ۔ زمین میں گاڑدی گئی لڑکی۔ سئلت۔ پوچھا گیا۔ الصحف۔ اعمال نامے۔ نشرت۔ پھیلا دئیے۔ کشطت۔ پرت کے پرت اتا رلئے گئے۔ کھال کھینچ لی گئی۔ سعرت۔ بھڑکائی گئی۔ ازلف۔ قریب کردی گئی۔ احضرت۔ وہ لے کر حاضر ہوا۔ الخنس۔ پیچھے ہٹ جانے والے۔ الکنس۔ چھپ جانے والے۔ عسعس۔ پھیل گیا۔ تنفس۔ روشن ہوا۔ مکین۔ مرتبہ والا۔ مطاع۔ جس کی اطاعت کی جائے۔ کہا مانا جائے۔ الافق۔ کنارہ۔ بضنین۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–13
آتش دوزخ۔ (ف 5) بخاری ومسلم ، ترمذی، وغیرہ میں ابوہریرہ سے جو روایتیں ہیں ان کا حاصل یہ ہے کہ دوزخ کی آگ کی موجود حرارت دنیا کی آگ سے انہتر درجہ زیادہ ہے اس پر قیامت کے دن اس کی آگ کو اور زیادہ زورشور کے ساتھ دہکایا جائے گا کہ اس کے منکر اس کا خوب مزہ چکھیں ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–13
[6] یعنی جس طرح ذبیحہ کی کھال اتار لینے کے بعد اس کا گوشت سرخ سرخ نظر آنے لگتا ہے اسی طرح آسمان اس دن سرخ دکھائی دے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–19
حل لغات :۔ الموء دۃ ۔ زندہ گاڑی ہوئی لڑکی ۔ بعض قبائل میں عزت اور شرف کا یہ غلط خیال رواج پذیر ہوگیا تھا کہ لڑکیاں ناموس اور عزت کے لئے موجب ننگ ہیں ۔ اس لئے وہ ان کو جب پیدا ہوتیں تو زندہ زمین میں گاڑ دیتے ۔ اس برائی کی طرف اشارہ ہے ۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلام سے قبل عربوں کی اخلاقی حالت کیا تھی ؟ اور اسلام نے ان لوگوں کی اصلاح کے سلسلہ میں کتنا بڑا کام کیا ۔
Read the full tafseer →(12) اور جب دوزخ خوب دہکائی جائے - یعنی دوزخ کی آگ کو عذاب کی غرض سے کافروں کے لئے خوب تیز کردیا جائے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–21
ف 2۔ یعنی فرشتے اس کا کہنا مانتے ہیں۔ 3۔ امانت دار ہے کہ وحی کو صحیح صحیح بےکم وکاست پہنچا دیتا ہے، پس وحی لانے والا تو ایسا ہے، آگے جن پر وحی نازل ہوئی ان کی نسبت ارشاد ہے کہ۔ (آگے دیکھو ترجمہ)
Read the full tafseer →اور جب دوزخ دھکائی جائے گی 12 ؎ ( سعرت) کا مادہ س ع ر ہے ۔ اس مادہ سے ( سعرت) کا لفظ تو قرآن کریم میں ایک بار اس جگہ بیان ہوا ہے البتہ اس مادہ کے حروف ( السعیر ، سعیراً ) اور ( سعر) استعمال ہوئے ہیں اور ( سعرت) وہ دھکائی گئی۔ وہ بھڑکائی گئی ۔ تسعیر سے جس کے معنی سخت آگ دھکانے کے ہیں ، ماضی مجہول کا صیغہ واحد مؤنث غائب۔ ( الجحیم) دوزخ ، دھمکتی ہوئی آگ ۔ حجم کے معنی آگ کے سخت بھڑکنے کے ہیں ۔ جحیم اس سے مشتق ہے۔ فعیل بمعنی فاعل ہے ۔ امام ابن جریج سے مروی ہے کہ دوزخ کے سات طبقے ہیں ۔ ان میں سے ایک کا نام ( جحیم) بھی ہے اور وہ سات طبقات اس طرح بیان کیے گئے ہیں : (1) جھنم (2) لظی (3) حطمہ (4) سعیر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–13
وَإِذَا السَّمَاءُ كُشِطَتْ (and when the sky will be stripped off...81:11) The word kushitat is derived from kasht, and it literally means 'to strip off the skin of an animal. Probably, this condition will prevail at the first blowing of the Horn, which will happen in this world. The stars, the Sun and the Moon that contributed to the beauty of the sky will all lose their light and lustre and will be thrown into the ocean. The outlook of the sky will be changed. This phenomenon is termed in this verse as: 'The sky will be stripped off. Some commentators interpret the word kasht in the sense…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–12
10 That is, everything which is hidden from view now will become visible. Now one can only see empty space, or the clouds, hanging dust, the moon, the sun or stars, but at that time the Kingdom of God will appear in full view before the people, without any veil in between, in its true reality. br>
Read the full tafseer →