At-Takwir 81:11

At-Takwir · from ayah 11

81:11

وَاِذَا السَّمَآءُ كُشِطَتْ ۟وَاِذَا السَّمَآءُ كُشِطَتۡ

اور جب آسمانوں کی کھال کھینچ لی جائے گی

— Fateh Muhammad Jalandhari

And when the sky is stripped away

— Saheeh International

Juz 30 · Ruku 1 of surah · Ruku 6 of juz

Read the whole surah · Surah At-Takwir

All translations of 81:11

اور جب آسمان کا پردہ ہٹا دیا جائے گا

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور جب آسمانوں کی کھال کھینچ لی جائے گی

— مولانا فتح محمد جالندہری

اور جب آسمان کی کھال اتار لی جائے گی

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور جب آسمان کا چھلکا اتار دیا جائے گا۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور جب آسمان جگہ سے کھینچ لیا جائے

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور جب سماوی طبقات کو پھاڑ کر اپنی جگہوں سے ہٹا دیا جائے گا،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور جب آسمان کی کھال اتاری جائے گی۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اور آسمان کا پوست اتارا جائے گا

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور آسمان کی کھال کھینچ لی جائے گی۔

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور جب آسمان کی کھال کھینچ لی جائے گی

— مولانا اسحاق مدنی

اور جب آسمان کھول دیا جائے

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور جب آسمان کی کھال اتار لی جائے گی۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور جب آسمان کی کھال کھینچ لی جائے گی

— محترمہ رفعت اعجاز

and when Heaven is laid bare;

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

and when the sky will be stripped off,

— Muhammad Taqi Usmani

and when the sky will be stripped off,

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

And when the heaven is Kushitat;

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

And when the sky is stripped away

— Saheeh International

the heavens are unveiled,

— Muhammad Sarwar

And when the heaven has its covering removed,

— Muhammad Habib Shakir

And when the heaven shall be stripped,

— Abdul Majid Daryabadi

Tafseer of 81:11

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 1–14

یعنی سوج بےنور ہوجائیگا، جاتا رہے گا اوندھا کر کے لپیٹ کر زمین پر پھینک دیا جائیگا ابن عباس ؓ فرماتے ہیں سورج چاند اور ستاروں کو لپیٹ کر بےنور کر کے سمندروں میں ڈال دیا جائیگا اور پھر مغربی ہوائیں چلیں گی اور آگ لگ جائیگی ایک مرفوع حدیث میں ہے کہ اس کو تہہ کر کے جہنم میں ڈال دیا جائیگا (ابن ابی حاتم) اور ایک حدیث میں سورج کے ساتھ چاند کا ذکر بھی ہے لیکن وہ ضعیف ہے صحیح بخاری میں یہ حدیث الفاظ کی تبدیلی سے مروی ہے، اس میں ہے کہ سورج اور چاند قیامت کے دن لپیٹ لیے جائیں گے امام بخاری اسے کتاب بدء الخلق میں لائے ہیں لیکن یہاں لانا زیادہ مناسب تھا یا مطابق عادت وہاں اور یہاں دونوں جگہ لاتے جیسے کہ…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 11–12

سورة التَّكْوِیْر 10 یعنی جو کچھ اب نگاہوں سے پوشیدہ ہے وہ سب عیاں ہوجائے گا۔ اب تو صرف خلا نظر آتا ہے یا پھر بادل، گرد و غبار، چاند اور تارے۔ لیکن اس وقت خدا کی خدائی اپنی اصل حقیقت کے ساتھ سب کے سامنے بےپردہ ہوجائے گی۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 11–13

وَاِذَا السَّمَاۗءُ كُشِطَتْ ، کشط کے لغوی معنے جانور کی کھال اتارنے کے ہیں، بظاہر یہ حال قیامت کا نفخہ اولیٰ کے وقت کا ہے جو اسی دنیا میں پیش آئے گا کہ آسمان کی زینت جن ستاروں اور شمس وقمر سے تھی وہ سب بےنور ہو کر دریا میں ڈال دیئے جاویں گے آسمان کی موجودہ ہیت بدل جاویگی، اس کو کشط کے لفظ سے تعبیر کیا گیا ہے۔ اور بعض حضرات مفسرین نے کشط کے معنے لپیٹنے کے لکھے ہیں اور معنی آیت کے یہ ہوگئے کہ آسمان جو چھت کی طرح سروں پر محیط ہے پہ لپیٹ دیا جائے گا۔

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

آسمان سرخ ہو جائے گا: ’کَشْطٌ‘ کے اصل معنی کسی چیز کے اوپر سے اس چیز کے اتار لینے کے ہیں جو اس کو ڈھانکے ہوئے ہو۔ یہیں سے یہ ذبیحہ کی کھال اتار لینے کے معنی میں استعمال ہونے لگا۔ اونٹ کی کھال کھینچ لینے کے لیے یہ عربی میں معروف لفظ ہے اور یہ امر بالکل ظاہر ہے کہ ذبیحہ کی کھال اتار لینے کے بعد اس کا گوشت سرخ سرخ نظر آنے لگتا ہے۔ گویا یہ آسمان کے سرخ ہو جانے کی تعبیر ہے۔ سورۂ رحمٰن میں ’فَکَانَتْ وَرْدَۃً کَالدِّہَانِ‘ (۳۷) کے الفاظ آئے ہیں اور یہاں آگے کی آیت میں جہنم کے بھڑکائے جانے کا ذکر ہے جو نہایت واضح قرینہ اس بات کا ہے کہ آسمان کی یہ سرخی جہنم کے بھڑکائے جانے کے سبب سے ہو گی۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 11–13

11۔ 1 یعنی اس طرح ادھیڑ دیئے جائیں گے جس طرح چھت ادھڑی جاتی ہے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 9–15

6: جاہلیت کے زمانے میں ایک انتہائی وحشیانہ رسم یہ تھی کہ لوگ عورتوں کو منحوس سمجھتے تھے، اور بعض قبیلے ایسے تھے کہ اگر ان میں سے کسی کے یہاں بچی پیدا ہوجاتی تو وہ شرم کے مارے اس بچی کو زندہ زمین میں دفن کردیتا تھا۔ قیامت میں اس بچی کو لاکر پوچھا جائے گا کہ تمہیں کس جرم میں موت کے گھاٹ اتارا گیا تھا ؟ اس سے ان ظالموں کو سزا دینا مقصود ہوگا جنہوں نے اس بچی کے ساتھ ایسی درندگی کا معاملہ کیا۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

واذا ............ کشطت (11:81) ” اور جب آسمان کا پردہ ہٹا دیا جائے گا “۔ اعمال نامے تو زمین کے حالات پر مشتمل ہوں گے ، ان کے مقابلے میں آسمانوں کے حالات بھی کھل کر سامنے آجائیں گے ۔ لفظ آسمان کا پہلا مفہوم تو یہ ہے کہ ہمارے سروں پر جو نیلگوں پردہ ہے ، یہ ہٹ جائے گا۔ یہ کس طرح ہٹ جائے گا تو اس کی کیفیت کا علم اللہ ہی کو ہے۔ بہرحال ہمارے سروں سر جو نیلا گنبد نظر آتا ہے یہ نظر نہ آئے گا اور کوئی اور ہی منظر ہوگا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 10–11

13 جیسے جانور کا بعد ذبح کے پوست اتار لیتے ہیں۔ اس سے تمام اعضاء اور رگ و ریشہ ظاہر ہوجاتے ہیں۔ اسی طرح آسمان کے کھل جانے سے اس کے اوپر کی چیزیں نظر آئیں گی اور غمام کا نزول ہوگا۔ جس کا ذکر انیسویں پارہ میں آیت " ویوم تشقق السماء بالغمام " سے ہوا ہے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 10–11

آیت 1 1{ وَاِذَا السَّمَآئُ کُشِطَتْ۔ } ”اور جب آسمان کی کھال اتار لی جائے گی۔“ یعنی آسمان پر سے پردہ اٹھادیا جائے گا اور اس کے وہ سب رموز اور مناظر جو انسانوں کی نظروں سے پوشیدہ تھے ان پر ظاہر ہوجائیں گے۔ اس سے یہ مفہوم بھی نکلتا ہے کہ آسمان اس دن کھال اترے ہوئے کسی جانور کے جسم کی طرح سرخ نظر آئے گا ‘ جیسا کہ سورة الرحمن کی اس آیت میں بھی بتایا گیا ہے : { فَاِذَا انْشَقَّتِ السَّمَآئُ فَکَانَتْ وَرْدَۃً کَالدِّہَانِ۔ } ”پھر جب آسمان پھٹ جائے گا اور ہوجائے گا گلابی ‘ تیل کی تلچھٹ جیسا۔“

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 11–12

11 کَشَطَ کا لغوی مفہوم :۔ کُشِطَتْ : کَشَطَ البعیر بمعنی اونٹ کی کھال اتارنا اور کشاط بمعنی اتری ہوئی کھال اور کشاط بمعنی کھال اتارنے والا قصائی یا قصاب، اس آیت سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ آسمان محض ایک ٹھوس جسم ہی نہیں بلکہ اس کے جسم پر کھال کا پردہ بھی ہے اور جس طرح کھال اتارنے کے بعد جسم کے اندرونی اعضاء نظر آنے لگتے ہیں۔ اسی طرح آسمان کی کھال اتارنے کے بعد عالم بالا کی وہ چیزیں نظر آنے لگیں گی جو آج نظر نہیں آتیں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 11–14

5۔ (اور یہ علم ایسا یقینی اور قطعی ہوگا کہ اس کے بعد کسی مزید قیل وقال چون وچرا کی گنجائش ہی نہیں رہے گی، اور ہر شخص کو اپنا انجام سامنے نظر آئے لگے گا) (آیت) ” واذا لسمآء کشطت “۔ لفظی معنی یہ ہیں کہ جب آسمان کی کھال کھینچ لی جائے، مراد یہ کہ مراد یہ کہ جب آسمان کے اوپر کی چیزیں بھی بےپردہ نظر آنے لگیں۔ (آیت) ” واذا الجحیم سعرت “۔ جہنم تو آج بھی دہکی ہوئی ہے، اس وقت اور زیادہ دہکادی جائے گی، (آیت) ” واذا الجنۃ ازلفت “۔ یعنی اس وقت خود جنت اہل جنت کے بالکل قریب لے آئی جائے گی ،

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 8–29

واذا لموئو ودۃ سئلت، اس آیت کے انداز بیان میں ایسی شدید غضب ناکی پائی جاتی ہے، جس سیز یادہ غضب ناکی کا تصور نہیں کیا جاسکتا، بیٹی کو زندہ درگور کرنے والے والدین اللہ کی نظر میں ایسے قابل نفرت ہوں گے کہ ان کو مخاطب کر کے ان سے یہ نہ پوچھا جائے گا کہ تم نے اس معصوم کو کیوں قتل کیا ؟ بلکہ اس سے نگاہ پھیر کر معصوم بچی سے پوچھا جائے گا کہ تو بےچاری آخر کس قصور میں مار دی گئی ؟ اور وہ اپنی داستان مظلومیت سنائے گی، اس آیت کے مضمون سے ایک اہم بات خود بخود یہ سمجھ میں آتی ہے کہ اس میں آخرت کے ضروری ہونے کی ایک صریح دلیل پیش کی گئی ہے، جس لڑکی کو زندہ دفن کردیا گیا، آخر اس کی کہیں تو داد رسی ہونی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

واذا السماء کشطت . جب آسمان اکھاڑ دیا جائے گا ‘ ہٹا دیا جائے گا۔ جیسے ذبیحہ کی کھال اتاری جاتی ہے۔ ظاہر یہ ہے کہ یہ واقعہ نفخۂ بیہوشی سے پہلے اس وقت ہوگا جب سورج کی روشنی زائل ہوگی اور ستارے ٹوٹ کر بکھر جائیں گے یا نفخۂ بےہوشی کے وقت ہوگا۔ یہ بھی احتمال ہے کہ دونوں نفخوں کے درمیان ہوا اور آسمان و زمین کو لپیٹ دیا جائے۔ اس آسمان کو دوسرے آسمان میں اور اس زمین کو دوسری زمین میں تبدیل کردیا جائے۔ قرظی نے لکھا ہے کہ صاحب افصاح نے اخبار (مختلفہ) کے درمیان توفیق پیدا کی ہے اور کہا ہے کہ آسمان و زمین کی تبدیلی دو مرتبہ واقع ہوگی ‘ ایک تو فقط حالات کی تبدیلی ہوگی۔ یہ نفخۂ بےہوشی سے پہلے ہوگی۔ ستارے…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 10–18

(10۔ 18) اور جس وقت نامہ اعمال حساب و کتاب کے لیے کھول دیے جائیں گے، یا یہ کہ ہاتھوں میں دے دیے جائیں گے، اور جس وقت آسمان لپیٹ لیا جائے گا اور جب دوزخ کفار کے لیے دہکائی جائے گی اور جب جنت پرہیزگاروں کے قریب کردی جائے گی، تو اس وقت ہر ایک نیک اور گنہگار کو اپنی نیکی و برائی معلوم ہوجائے گی جو کہ لے کے آیا ہے۔ میں قسم کھاتا ہوں ان ستاروں کی جو دن کو غائب ہوجاتے اور رات کو نکلتے ہیں، جو رات کو چلتے رہتے ہیں اور پھر اپنے مطلع میں جا چھپتے ہیں، یہ کیفیت پانچ ستاروں کو پیش آتی ہے یعنی زحل، مشتری، عطارد، مریخ، زہرہ۔ اور قسم ہے رات کی جب وہ جانے لگے اور صبح کی جب وہ آنے لگے اور خوب روشن ہوجائے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

(واذا السمآء کشطت :”کشط“ (ض)”الشیء“ کسی چیز سے وہ چیز اتار دینا جس نے اسے ڈھانپ رکھا ہو۔”کشط العبری“ اونٹ کی کھال اتارنا۔ عالم بالا پر آسمان کا پردہ جو کھال کی طرح چڑھا ہوا ہے اسے اتار کر تہ کردیا جائے گا۔ (طبری) جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے :(یوم نطوی السمآء کطی السجل للکتب) (الانبیائ : 103)”جس دن ہم آسمان کو یوں لپیٹ دیں گے جیسے طو مار میں اوراق لپیٹ دیئے جاتے ہیں۔“ کھال اتار دیئے جانے کے بعد عالم بالا سب کے سامنے آشکار ہوجائے گا۔۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

واذالسماء کشطت۔ کشط سے مراد یہ ہے جو چیز کسی کے ساتھ سختی سے چمٹی ہوئی ہو اس کو کھینچ لینا، آسمان سے چمڑا اس طرح ادھیڑ لیاجائے گا جس طرح مینڈھے اور دوسرے جانوروں سے چمڑا اتارلیا جاتا ہے، قشط بھی اس میں ایک لغت ہے حضرت عبداللہ کی قرات میں، اذالسماء قشطت ہے یہ جملہ بولا جاتا ہے کشطت البعیر کشطا میں نے اس کے چمڑے کو اتاراسلحتہ نہیں کہا جاتا کیونکہ عرب اونٹ کے بارے میں کشطتہ اور جلدتہ کا لفظ استعمال کرتے ہیں۔ انکشط کا معنی ہے چلا گیا آسمان کو اپنی جگہ سے ہلا دیا جائے گا جس طرح پردہ کو اس سے ہٹادیا جاتا ہے ایک قول یہ کیا گیا ہے اس کا معنی ہے لپیٹ دیا جائے گا جس طرح اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے، یوم…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 10–14

40۔ ابن المنذر نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا کہ آیت واذا لصحف نشرت۔ اور جب اعمال نامے کھل جائیں گے یعنی جب انسان مرجاتا ہے تو اس کا اعمال نامہ لپیٹ دیا جاتا ہے پھر قیامت کے دن کھولا جائے گا اور حساب لیا جائے گا جو کچھ اس میں ہوگا۔ 41۔ عبد بن حمید وابن المنذر وابن ابی حاتم وابن مردویہ زید بن اسلم ؓ سے روایت کیا کہ اور وہ اپنے والد سے روایت کرتے ہی کہ جب یہ آیت اذا الشمس کورت نازل ہوئی تو حضرت عمر ؓ نے فرمایا جب وہ اس علمت نفس ما احضرت تو ہر شخص جان لے گا کہ وہ کی لے کر آیا پر پہنچے تو فرمایا اسی لیے بات چلائی گئی۔

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[وَاِذَا السَّمَاۗءُ كُشِطَتْ؛اور جب آسمان سے پردہ اتار لیا جائے گا ] ک ش ط [ کَشْطًا : (ض) کسی چیز سے اس کا ڈھکنا اتارنا۔ کسی کی کھال اتارنا۔ آیت۔ 11 ۔]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

4﴿ وَ اِذَا السَّمَآءُ كُشِطَتْ۪ۙ0011﴾ (اور جب آسمان کھول دیا جائے گا) ۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 1–29

ہولناک مناظر روز قیامت و پیشی اعمال و فیصلہ جزاء وسزا : قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” اذا الشمس کورت ....... الی ...... الا ان یشآء اللہ رب العلمین “۔ (ربط) سورة عبس کا مضمون دراصل اثبات قیامت کے موضوع ہی پر مشتمل تھا اور مقصد بیان یہ تھا کہ انسان کی سعادت و فلاح اور عزت و عظمت اپنی زندگی اپنے پروردگار کے ساتھ وابستہ رکھنے اور فکر آخرت میں ہے، اس کے برعکس وہ مغرور ومتکبر جو نہ خدا پر ایمان لاتا ہے اور نہ ہی اس کو آخرت کی فکر ہے وہ خدا کی نظروں میں ذلیل و حقیر ہے، طالب حق اور سعادت کی فکر میں لگے رہنے والا انسان ہی بارگاہ رسالت میں ہر عزت واکرام کا مستحق ہے، آخر میں قیامت کے روز کی پریشانی اور…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 6–14

3:۔ ” واذا البحار سجرت “ اور جب دریا پانی سے بھر دئیے جائیں۔ زلزلہ قیامت کی وجہ سے سمندر میں ایسا ابال آئے گا کہ تمام دریا پانی سے بھر جائیں گے، بلکہ خشکی بھی زیر آب ہوجائے گی۔ یہاں تک وہ چھ احوال مذکور ہوئے جو نفخہ اولی کے بعد ظاہر ہوں گے آگے ان احوال کا بیان ہے جو نفخہ ثانیہ کے بعد ظہور پذیر ہوں گے۔ ” واذا النفوس زوجت “ اور جب روحیں بدنوں سے ملا دی جائیں گی اور تمام مردے زندہ ہوجائیں گے یہ نفخہ ثانیہ کے بعد کے احوال میں سے پہلا حال ہے۔ ” واذا الموء ودۃ سئلت “ اور جب زندہ درگور لڑکی کے بارے میں اس کو زندہ دفن کرنے والے سے پوچھا جائے گا کہ اس کو کس جرم میں قتل کیا گیا۔ ” واذا الصحف نشرت “ اور…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 1–13

(نام و کوائف) اس سورة کا نام سورة تکویر ہے ۔ اس کی پہلی آیت میں کورت کا لفظ آیا ہے جس سے سورة کا نام تکویر ہے ۔ یہ سورة مکی زندگی میں نازل ہوئی ۔ اس کی انتیس 29 آیات ہیں ۔ یہ سورة ایک 104 سو چار الفاظ اور 5202 پانچ ہزار 2 حروف پر مشتمل ہے (موضوع اور گذشتہ سورة سے ربط) اس سورة میں اللہ تعالیٰ نے قیامت کا ذکر اس نسبت سے کیا ہے ۔ کہ کائنات کی ارضی اور سماوی اشیاء پر قیامت کے کیا اثرات مرتب ہوں گے۔ سورة کے آخر میں قرآن کریم کی طرف دعوت دی گئی ہے۔ اور اسکی صداقت وحقانیت کا بیان ہے سابقہ کئی سورتوں میں قیامت کا ذکر مختلف انداز سے آرہا ہے۔ کہ قیامت کا اثر مختلف چیزوں پر کیا ہوگا۔ سورة عبس میں قیامت…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَاِذَا السَّمَاۗءُ كُشِطَتْ۝ 11 سما سَمَاءُ كلّ شيء : أعلاه، قال بعضهم : كلّ سماء بالإضافة إلى ما دونها فسماء، وبالإضافة إلى ما فوقها فأرض إلّا السّماء العلیا فإنها سماء بلا أرض، وحمل علی هذا قوله : اللَّهُ الَّذِي خَلَقَ سَبْعَ سَماواتٍ وَمِنَ الْأَرْضِ مِثْلَهُنَّ [ الطلاق/ 12] ، ( س م و ) سماء ہر شے کے بالائی حصہ کو سماء کہا جاتا ہے ۔ بعض نے کہا ہے ( کہ یہ اسماء نسبیہ سے ہے ) کہ ہر سماء اپنے ماتحت کے لحاظ سے سماء ہے لیکن اپنے مافوق کے لحاظ سے ارض کہلاتا ہے ۔ بجز سماء علیا ( فلک الافلاک ) کے کہ وہ ہر لحاظ سے سماء ہی ہے اور کسی کے لئے ارض نہیں بنتا ۔ اور آیت : اللَّهُ الَّذِي خَلَقَ سَبْعَ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 11–14

3 ؎ یعنی اب جو نیلی چادر اوڑھے ہوئے ہے نیلا دکھائی دیتا ہے یہ اتار لی جائے اور آثار قہر سے سرخ ہوجائے۔ 12 منہ

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

وَاِذَا السَّمَآئُ کُشِطَتْ ۔ (التکویر : 11) (اور جب آسمان کی کھال کھینچ لی جائے گی۔ ) آسمان کی کیفیت کَشْطٌ… کے اصل معنی کسی بھی چیز کے اوپر کے حصے کو اتار لینے کے ہیں جس نے اسے ڈھانپ رکھا ہو۔ اسی مناسبت سے ذبیحہ کی کھال اتار لینے کے معنی میں بھی استعمال ہونے لگا۔ اونٹ کی کھال کھینچ لینے کے معنی میں تو یہ شائع و ذائع ہے۔ مقصود اس سے یہ ہے کہ آسمان کائنات کے لیے کھال اور پوست کی مانند ہے۔ جب آسمان کو ہٹا دیا جائے گا تو یوں سمجھئے کہ کائنات کا پردہ اتر جائے گا۔ جو کچھ اب تک نگاہوں سے پوشیدہ تھا وہ سب عیاں ہوجائے گا۔ اس وقت تو ہمیں صرف خلاء نظر آتا ہے یا چاند، سورج اور ستارے، لیکن اس وقت اللہ…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 10–14

فہم القرآن ربط کلام : قیامت کا بیان جاری ہے بتلایا ہے کہ اس دن لوگوں کے حساب و کتاب کا آغازکس طرح ہوگا۔ قیامت کے دن زمین و آسمان بدل دئیے جائیں گے۔ (ابراہیم : 48) اور لوگ محشر کے میدان میں جمع کردیئے جائیں گے۔ ملائکہ قطار اندر قطار کھڑے ہوں گے جن میں جبریل امین سب سے نمایاں ہوں گے۔ عدالت کبریٰ کے انتظامات مکمل ہونے کے ساتھ ہی ایک طرف لوگوں کے سامنے بھڑکتی ہوئی جہنم لائی جائے گی اور دوسری طرف جنت کو لایا جائے گا۔ اس کے بعد رب ذوالجلال جلوہ گر ہوں گے اور کچھ مدت کے بعد لوگوں کے اعمال نامے ان کے سامنے رکھ دیئے جائیں گے، ہر شخص اپنا اعمال نامہ کھول کر پڑھے گا جس سے اسے معلوم ہوجائے گا کہ وہ اپنے…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

11 : وَاِذَا السَّمَآ ئُ کُشِطَتْ (جب آسمان کھل جائے گا) قول الزجاج : آسمان کو اس طرح اکھاڑ دیا جائے گا جیسا چھت کو اکھاڑ تے ہیں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

10 ۔ واذا الصحف نشرت “ اہل مدینہ اور اہل شام اور عاصم و یعقوب رحمہما اللہ نے ” نشرت “ تخفیف کے ساتھ پڑھا ہے اور دیگر حضرات نے تشدید کے ساتھ پڑھا ہے۔ اللہ تعالیٰ کے قول ” یتلوا صحفا منشرۃ “ کی وجہ سے۔ یعنی اعمال نامے حساب کے لئے پھیلائے جائینگے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 1–14

1۔ 14۔ صحیح بخاری وغیرہ میں حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا قیامت کے دن سورج اور چاند کو لپیٹ کر دوزخ میں ڈال دیا جائے گا اس حدیث کی شرح میں علماء نے لکھا ہے کہ دنیا میں بعض لوگ سورج اور چاند کو پوجا کرتے ہیں ان کے ذلیل کرنے کے لئے سورج اور چاند کو دوزخ کی آگ میں جھونکا جائے گا۔ مسند امام احمد ترمذی 2 ؎ مستدرک حاکم طبرانی وغیرہ میں حضرت عبد اللہ بن عمر سے جو روایتیں ہیں ان کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ جس شخص کو یہ منظور ہو کہ قیامت کو دنیا میں بھی اپنی آنکھوں کے سامنے دیکھ لے تو اس کو چاہئے کہ اذا الشمس کورت و اذا السماء انفطرت و اذالسماء انشقت…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

(وَاِذَا السَّمَاۗءُ كُشِطَتْ ) اور جب آسمان کی کھال کھینچ لی جائے گی۔ یعنی آسمان کو زائل کردیا جائے گا۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (یوم یشقق السمآء بالغمام۔ (الفرقان 25) جس روز آسمان بادلوں کے ساتھ پھٹ جائے گا۔ نیز فرمایا (یوم نطوی السماء کطی السجل للکتب۔ الانبیا 104) ۔ جس روز ہم آسمانوں کو یوں لپیت دیں گے جس طرح اوراق کا دفتر لپیٹ دیتے ہیں۔ اور فرمایا (والارض جمیعا قبضتہ یوم القیامۃ والسموات مطویت بیمینہ۔ الزمر 67) قیامت کے روز تمام زمین اس کی مٹھی میں ہوگی اور آسمان اس کے د ائیں ہاتھ پر لپٹے ہوئے ہوں گے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

(9) آسمان کے حال کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا اور اس روز آسمان کی حالت و کیفیت کے ذکر وبیان کے سلسلے میں ارشاد فرمایا گیا " اور جب آسمان کی کھال کھینچ لی جائے گی "۔ سو جیسا کہ بھیڑ بکری کی کھال اس کے بدن سے کھینچ لی جاتی ہے، تو اس کے اندر کا سب کچھ ظاہر ہوجاتا ہے، اسی طرح آسمان کی کھال کھینچنے کے اس استعار سے سمجھا جائے کہ اس کے نتیجے میں آسمان کے اوپر کے پردے کو ہٹا دیا جائے گا جس سے اس کے احوال و حقائق سب منکشف ہو کر سامنے آجائیں گے، اور وہ سب کچھ نظر آجائے گا جو آج پردے میں ہے، اور جس طرح جانور کی کھال اتار دینے سے اس کے اندر کا گوشت سرخ سرخ نظر آنے لگتا ہے اسی طرح اس روز آسمان سرخ…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 1–14

قیامت کیسی ہوگی ؟ اور بعد میں کیا ہوگا ؟ تشریح : آیت 1 سے 6 تک قیامت کا نقشہ کھینچا گیا ہے۔ جس میں نظام کائنات کے درہم برہم ہونے میں اجرام سماوی کا ذکر ہے۔ '' کُوّرت '' تکویر سے ہے یعنی لپیٹا جانا مطلب یہ ہے کہ سورج اپنی موت کو پہنچ کر بےنور مردہ ہوجائے گا۔ جس کی وضاحت ڈاکٹر دلدار صاحب یوں کرتے ہیں۔ '' جب ستارے کا ایندھن (ہائیڈروجن) ختم ہوجاتا ہے تو وہ ٹھنڈا ہونے لگتا ہے۔ چناچہ کشش ثقل حر کی توانائی پر غالب آجاتی ہے۔ اور ستارہ سکڑنے لگتا ہے اور بالآخر موت سے ہمکنار ہوجاتا ہے۔ ستاروں کی موت مندرجہ ذیل تین حالتوں میں سے کسی ایک حالت کی طرف لے جاتی ہے۔ 1 ۔ سفید بونا White Dwosf 2 ۔ نیوٹران ستارہ…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–29

سورة التکویر۔ آیات 1 تا 29۔ اسرار ومعارف۔ جب سورج بےنور ہوجائے گا اور ستارے ٹوٹ کر گرجائیں گے اور جب پہاڑ اکھیڑ کر اڑادیے جائیں گے اور لوگوں کو مال و دولت بھول جائے گا کہ عربوں کے نزدیک دس ماہ کی گابھن اونٹنی سب سے قیمتی اثاثہ سمجھی جاتی ہے ہر وقت دم کے ساتھ لگے پھرتے تھے کہ صحرا میں اس کادودھ نعمت غیر مترقہ ہوتا تھا مگر وہ بھی آوارہ پھر رہی ہوں گی یعنی لوگوں کو مال وزر کا ہوش نہ رہے گا اور نفخہ اولی سے گھبرا کر جنگلی جانور اور درندے آبادیوں میں آگھسیں گے اور دریا سمندر میں مل جائیں گے کہ زمین شق ہوجائے گی اور پھر ان میں اجرام فلکی گریں گے تو بھاپ بن کر اڑجائیں گے اور پھر فضا میں وہ بھاپ آگ…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 10–11

ف 9 جیسا کہ ذبح کئے ہوئے جانور کی کھال اتاری جاتی ہے۔ اس سے مراد بعض مفسرین نے یہ لی ہے کہ آسمان کو اس کی جگہ سے ہٹا دیا جائے گا یا لپیٹ دیا جائے گا۔ واللہ اعلم (شوکان)

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(81:11) واذا السماء کشطت : کشطت ماضی مجہول واحد مؤنث غائب کشط (باب نصر) مصدر۔ بمعنی برہنہ کردینا۔ جگہ سے ہٹا دینا۔ گھوڑے کے اوپر سے جھول ہٹا دینا۔ اونٹ وغیرہ کی کھال اتار دینا۔ کسی چیز کو ہٹا کر لپیٹ دینا۔ یہاں بمعنی آسمانوں کو اپنی جگہ سے ہٹا کر لپیٹ دیا جائے گا۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 1–29

لغات القرآن۔ کورت۔ لپیٹ دے گیا۔ انکدرت۔ ماند پڑگئی۔ (پڑ گئے) سیرت۔ چلا دی گئی۔ العشار۔ گابھن اونٹنیاں۔ عطلت۔ چھٹ کر پھری۔ الوحوش (وحش) ۔ جنگلی جانور۔ حشرت۔ آپس میں گڈ مڈ ہوجائیں۔ سجرت۔ جھونکے گئے۔ زوجت۔ جوڑے جوڑے بنا دئیے گئے۔ الموئو دۃ ۔ زمین میں گاڑدی گئی لڑکی۔ سئلت۔ پوچھا گیا۔ الصحف۔ اعمال نامے۔ نشرت۔ پھیلا دئیے۔ کشطت۔ پرت کے پرت اتا رلئے گئے۔ کھال کھینچ لی گئی۔ سعرت۔ بھڑکائی گئی۔ ازلف۔ قریب کردی گئی۔ احضرت۔ وہ لے کر حاضر ہوا۔ الخنس۔ پیچھے ہٹ جانے والے۔ الکنس۔ چھپ جانے والے۔ عسعس۔ پھیل گیا۔ تنفس۔ روشن ہوا۔ مکین۔ مرتبہ والا۔ مطاع۔ جس کی اطاعت کی جائے۔ کہا مانا جائے۔ الافق۔ کنارہ۔ بضنین۔…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

(ف 4) جیسے جانور کی ذبح کے وقت کھال اتارلیتے ہیں اس سے تمام اعضاء اور رک وریشے ظاہر ہوجاتے ہیں اسی طرح آسمان کے کھل جانے سے اس کے اوپر کی چیزیں نظر آئیں گی اور فرشتوں کا نزل ہوگا، جس کا ذکر انیسویں پارہ آیت، ویوم تشقق السماء بالغمام سے ہوا ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 11–13

[6] یعنی جس طرح ذبیحہ کی کھال اتار لینے کے بعد اس کا گوشت سرخ سرخ نظر آنے لگتا ہے اسی طرح آسمان اس دن سرخ دکھائی دے گا۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 8–19

حل لغات :۔ الموء دۃ ۔ زندہ گاڑی ہوئی لڑکی ۔ بعض قبائل میں عزت اور شرف کا یہ غلط خیال رواج پذیر ہوگیا تھا کہ لڑکیاں ناموس اور عزت کے لئے موجب ننگ ہیں ۔ اس لئے وہ ان کو جب پیدا ہوتیں تو زندہ زمین میں گاڑ دیتے ۔ اس برائی کی طرف اشارہ ہے ۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلام سے قبل عربوں کی اخلاقی حالت کیا تھی ؟ اور اسلام نے ان لوگوں کی اصلاح کے سلسلہ میں کتنا بڑا کام کیا ۔

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(11) اور جب آسمان کی کھال اتاری جائے - یعنی جس طرح جانور کا پوست اور کھال اتارنے سے اس کی ہر چیز ظاہر ہوجاتی ہے اسی طرح آسمان کے کھل جانے سے اور اس کی کھال کھینچ لینے سے آسمان کے اوپر کی ہر چیز ظاہر ہوجائے گی اور تمام اشیاء کی مثال صورتیں ظاہر ہوجائیں گی اور فرشتے نازل ہوں گے جیسا کہ سورة فرقان میں گزر چکا ہے کہ آسمان پھٹ جائے گا اور فرشتں کا بادلوں میں نزول ہوگا۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 7–21

ف 2۔ یعنی فرشتے اس کا کہنا مانتے ہیں۔ 3۔ امانت دار ہے کہ وحی کو صحیح صحیح بےکم وکاست پہنچا دیتا ہے، پس وحی لانے والا تو ایسا ہے، آگے جن پر وحی نازل ہوئی ان کی نسبت ارشاد ہے کہ۔ (آگے دیکھو ترجمہ)

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

اور جب آسمان کی کھال اتار لی جائے گی 11 ؎ ( کشطت) واحد مؤنث غائب ، ماضی مجہول کشط مصدر ۔ کشط کے معنی برہنہ کردینا ، جگہ سے ہٹا دینا ، گھوڑے کے اوپر سے اس کا پالان یا جھول الگ کرنا ۔ ذبیح جانور کی کھال اتار دینا ۔ یساط برہنہ ہونا ( تاج ، قاموس) کسی چیز کو ہٹا کر لپیٹ دینا ، آسمانوں کی جگہ سے ہٹا کر لپیٹ دیا جائے گا ۔ مطلب یہ ہے کہ آج تو تم اپنے سروں سے اوپر دیکھتے ہو تو تم کو ایک عجیب سماں نظر آتا ہے ۔ دیکھیں چاہتی ہیں کہ اوپر کو دیکھتی ہی رہیں خصوصاً رات کے وقت جب رات کی خنکی انسان کو سحر زدہ کردیتی ہے اور وہ چھت پر بیٹھ کر اوپر کو نظر اٹھاتا ہے تو اس کے سو غم غلط ہوجاتے ہیں اس لیے کہ اس کو…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 11–13

وَإِذَا السَّمَاءُ كُشِطَتْ (and when the sky will be stripped off...81:11) The word kushitat is derived from kasht, and it literally means 'to strip off the skin of an animal. Probably, this condition will prevail at the first blowing of the Horn, which will happen in this world. The stars, the Sun and the Moon that contributed to the beauty of the sky will all lose their light and lustre and will be thrown into the ocean. The outlook of the sky will be changed. This phenomenon is termed in this verse as: 'The sky will be stripped off. Some commentators interpret the word kasht in the sense…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 11–12

10 That is, everything which is hidden from view now will become visible. Now one can only see empty space, or the clouds, hanging dust, the moon, the sun or stars, but at that time the Kingdom of God will appear in full view before the people, without any veil in between, in its true reality. br>

Read the full tafseer →