At-Takwir 81:10

At-Takwir · from ayah 10

81:10

وَاِذَا الصُّحُفُ نُشِرَتْ ۟وَاِذَا الصُّحُفُ نُشِرَتۡ

اور جب (عملوں کے) دفتر کھولے جائیں گے

— Fateh Muhammad Jalandhari

And when the pages are made public

— Saheeh International

Juz 30 · Ruku 1 of surah · Ruku 6 of juz

Read the whole surah · Surah At-Takwir

All translations of 81:10

اور جب اعمال نامے کھولے جائیں گے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور جب (عملوں کے) دفتر کھولے جائیں گے

— مولانا فتح محمد جالندہری

اور جب نامہٴ اعمال کھول دیئے جائیں گے

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور جب اعمال نامے کھول دئے جائیں گے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور جب نامہٴ اعمال کھولے جائیں،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور جب اَعمال نامے کھول دیئے جائیں گے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور جب اعمال نامے پھیلائے جائیں گے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اور جب اعمال نامے کھولے جائیں گے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

جب کہ اعمال نامے کھولے جائیں گے

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور جب اعمال ناموں کو کھول دیا جائے گا

— مولانا اسحاق مدنی

اور جب (اعمال کے) صحیفے کھول دیئے جائیں۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور جب اعمال نامے کھول دیے جائیں گے۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور جب عملوں کے دفتر کھولے جائیں گے

— محترمہ رفعت اعجاز

and when the scrolls of (men's) deeds shall be unfolded,

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

and when the scrolls (of deeds) will be unrolled,

— Muhammad Taqi Usmani

and when the scrolls (of deeds) will be unrolled,

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

And when the pages are laid open.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

And when the pages are made public

— Saheeh International

the records of deeds are made public,

— Muhammad Sarwar

And when the books are spread,

— Muhammad Habib Shakir

And when the Writs shall be lain open,

— Abdul Majid Daryabadi

Tafseer of 81:10

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 1–14

یعنی سوج بےنور ہوجائیگا، جاتا رہے گا اوندھا کر کے لپیٹ کر زمین پر پھینک دیا جائیگا ابن عباس ؓ فرماتے ہیں سورج چاند اور ستاروں کو لپیٹ کر بےنور کر کے سمندروں میں ڈال دیا جائیگا اور پھر مغربی ہوائیں چلیں گی اور آگ لگ جائیگی ایک مرفوع حدیث میں ہے کہ اس کو تہہ کر کے جہنم میں ڈال دیا جائیگا (ابن ابی حاتم) اور ایک حدیث میں سورج کے ساتھ چاند کا ذکر بھی ہے لیکن وہ ضعیف ہے صحیح بخاری میں یہ حدیث الفاظ کی تبدیلی سے مروی ہے، اس میں ہے کہ سورج اور چاند قیامت کے دن لپیٹ لیے جائیں گے امام بخاری اسے کتاب بدء الخلق میں لائے ہیں لیکن یہاں لانا زیادہ مناسب تھا یا مطابق عادت وہاں اور یہاں دونوں جگہ لاتے جیسے کہ…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 9–10

سورة التَّكْوِیْر 9 اس آیت کے انداز بیان میں ایسی شدید غضبناکی پائی جاتی ہے جس سے زیادہ سخت غضبناکی کا تصور نہیں کیا جاسکتا۔ بیٹی کو زندہ گاڑنے والے ماں باپ اللہ تعالیٰ کی نگاہ میں ایسے قابل نفرت ہوں گے کہ ان کو مخاطب کر کے یہ نہ پوچھا جائے گا کہ تم نے اس معصوم کو کیوں قتل کیا، بلکہ ان سے نگاہ پھیر کر معصوم بچی سے پوچھا جائے گا کہ تو بےچاری آخر کس قصور میں ماری گئی، اور وہ اپنی داستان سنائے گی کہ ظالم ماں باپ نے اس کے ساتھ کیا ظلم کیا اور کس طرح اسے زندہ دفن کردیا۔ اس کے علاوہ اس مختصر سی آیت میں دو بہت بڑے مضمون سمیٹ دیے گئے ہیں جو الفاظ میں بیان کیے بغیر خود بخود اس کے فحوی سے ظاہر ہوتے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 8–10

وَاِذَا الْمَوْءٗدَةُ سُىِٕلَتْ ، موءودة وہ لڑکی جس کو زندہ دفن کردیا گیا جیسا کہ جاہلیت عرب میں یہ رسم تھی کہ لڑکی کو اپنے لئے موجب عار سمجھتے تھے اور زندہ ہی اس کو دفن کردیتے تھے اسلام نے یہ رسم بد مٹائی، اس آیت میں قیامت ومحشر کے حالات کے بیان میں ارشاد ہوا کہ جب اس لڑکی سے سوال کیا جائے گا جس کو زندہ درگور کرکے مار دیا گیا تھا، ظاہر الفاظ سے یہ ہے کہ یہ سوال خود اس لڑکی سے ہوگا، اس سے پوچھا جائے گا کہ تجھے کس جرم میں قتل کیا گیا، اور یہ بھی ظاہر ہے کہ مقصود اس سے سوال کرنے کا یہ ہے کہ یہ اپنی بےگناہی اور مظلوم ہونے کی پوری فریاد بارگاہ رب العزت میں پیش کرے تاکہ اسکے قاتلوں سے انتقام لیا…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

ہر ایک کا کچا چٹھا اس کے سامنے: ’صُحُفٌ‘ سے مراد لوگوں کے اعمال نامے ہیں اور ان کے کھولے جانے سے مقصود یہ ہے کہ ہر ایک کا سارا کچا چٹھا اس کے سامنے آ جائے گا۔ آگے فرمایا ہے: ’عَلِمَتْ نَفْسٌ مَّا أَحْضَرَتْ‘ (یعنی ہر جان یہ جان لے گی کہ آج کے دن کے لیے اس نے کیا کیا)۔؎

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

10۔ 1 موت کے وقت یہ صحیفے لپیٹ دیئے جاتے ہیں، پھر قیامت والے دن حساب کے لئے کھول دیئے جائیں گے، جنہیں ہر شخص دیکھ لے گا بلکہ ہاتھوں میں پکڑا دیئے جائیں گے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 9–15

6: جاہلیت کے زمانے میں ایک انتہائی وحشیانہ رسم یہ تھی کہ لوگ عورتوں کو منحوس سمجھتے تھے، اور بعض قبیلے ایسے تھے کہ اگر ان میں سے کسی کے یہاں بچی پیدا ہوجاتی تو وہ شرم کے مارے اس بچی کو زندہ زمین میں دفن کردیتا تھا۔ قیامت میں اس بچی کو لاکر پوچھا جائے گا کہ تمہیں کس جرم میں موت کے گھاٹ اتارا گیا تھا ؟ اس سے ان ظالموں کو سزا دینا مقصود ہوگا جنہوں نے اس بچی کے ساتھ ایسی درندگی کا معاملہ کیا۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

واذا ............ نشرت (10:81) ’ اور جب اعمال نامے کھولے جائیں گے “۔ صحف سے مراد نامہ اعمال ہے۔ نشر ہونے سے مراد یہ ہے کہ جب لوگوں کے اعمال نامے خفیہ نہ رہیں گے ، کھل کر سب لوگوں کے سامنے آجائیں گے اور نہ ناقابل فہم رہیں گے۔ اور ان کا یہ انکشاف ہی بدکاروں کے لئے سوہان روح ہوگا۔ کیونکہ کئی ایسی خفیہ برائیاں ہوں گی کہ اگر ان کا انکشاف ہو تو بدکار کے لئے سخت شرمندگی کا باعث ہوگا اور وہ پگھل کر رہ جائے لیکن اس کا کیا حال ہوگا کہ جب اس وقت اس کے تمام اعمال لوگوں کے سامنے ہوں گے۔ اعمال ناموں کا نشر ہونا اور رازوں کا کھل جانا بھی اس دن کی ہولناکی میں اضافہ کردے گا اور یہ دنیا کی زندگی میں ایک عظیم…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 10–11

13 جیسے جانور کا بعد ذبح کے پوست اتار لیتے ہیں۔ اس سے تمام اعضاء اور رگ و ریشہ ظاہر ہوجاتے ہیں۔ اسی طرح آسمان کے کھل جانے سے اس کے اوپر کی چیزیں نظر آئیں گی اور غمام کا نزول ہوگا۔ جس کا ذکر انیسویں پارہ میں آیت " ویوم تشقق السماء بالغمام " سے ہوا ہے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 10–11

آیت 1 1{ وَاِذَا السَّمَآئُ کُشِطَتْ۔ } ”اور جب آسمان کی کھال اتار لی جائے گی۔“ یعنی آسمان پر سے پردہ اٹھادیا جائے گا اور اس کے وہ سب رموز اور مناظر جو انسانوں کی نظروں سے پوشیدہ تھے ان پر ظاہر ہوجائیں گے۔ اس سے یہ مفہوم بھی نکلتا ہے کہ آسمان اس دن کھال اترے ہوئے کسی جانور کے جسم کی طرح سرخ نظر آئے گا ‘ جیسا کہ سورة الرحمن کی اس آیت میں بھی بتایا گیا ہے : { فَاِذَا انْشَقَّتِ السَّمَآئُ فَکَانَتْ وَرْدَۃً کَالدِّہَانِ۔ } ”پھر جب آسمان پھٹ جائے گا اور ہوجائے گا گلابی ‘ تیل کی تلچھٹ جیسا۔“

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

10 نُشِرَتْ : نَشَرَ کے معنی کسی چیز کو کھولنا، کھول کر پھیلا دینا اور کوئی خبر مشہور کرنا ہے۔ اور اس کی ضد طوٰی بمعنی لپیٹنا ہے۔ کہتے ہیں نَشَرْتُ الْکِتَابَ ثُمَّ طَوَیْتُہ، یعنی میں نے کتاب کھولی پھر بند کردی۔ یعنی اس دن لوگوں کے اعمال نامے کھول کر ان کے ہاتھوں میں تھما دیئے جائیں گے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

4۔ (کہ لوگ اپنے اپنے عمل اپنے نامہ اعمال میں دیکھ لیں) آیت کے یہ معنی کرنا کہ ” جب اخبارات ورسالے شائع ہونے لگیں “۔ اپنے جہل محض کا پر دوہ اپنے ہاتھ فاش کرنا ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 8–29

واذا لموئو ودۃ سئلت، اس آیت کے انداز بیان میں ایسی شدید غضب ناکی پائی جاتی ہے، جس سیز یادہ غضب ناکی کا تصور نہیں کیا جاسکتا، بیٹی کو زندہ درگور کرنے والے والدین اللہ کی نظر میں ایسے قابل نفرت ہوں گے کہ ان کو مخاطب کر کے ان سے یہ نہ پوچھا جائے گا کہ تم نے اس معصوم کو کیوں قتل کیا ؟ بلکہ اس سے نگاہ پھیر کر معصوم بچی سے پوچھا جائے گا کہ تو بےچاری آخر کس قصور میں مار دی گئی ؟ اور وہ اپنی داستان مظلومیت سنائے گی، اس آیت کے مضمون سے ایک اہم بات خود بخود یہ سمجھ میں آتی ہے کہ اس میں آخرت کے ضروری ہونے کی ایک صریح دلیل پیش کی گئی ہے، جس لڑکی کو زندہ دفن کردیا گیا، آخر اس کی کہیں تو داد رسی ہونی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

واذا الصحف نشرت . اور جب اعمالنامے حساب کیلئے پھیلائے جائینگے یا جنکے اعمالنامے ہونگے انکو تقسیم کیے جائینگے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 10–18

(10۔ 18) اور جس وقت نامہ اعمال حساب و کتاب کے لیے کھول دیے جائیں گے، یا یہ کہ ہاتھوں میں دے دیے جائیں گے، اور جس وقت آسمان لپیٹ لیا جائے گا اور جب دوزخ کفار کے لیے دہکائی جائے گی اور جب جنت پرہیزگاروں کے قریب کردی جائے گی، تو اس وقت ہر ایک نیک اور گنہگار کو اپنی نیکی و برائی معلوم ہوجائے گی جو کہ لے کے آیا ہے۔ میں قسم کھاتا ہوں ان ستاروں کی جو دن کو غائب ہوجاتے اور رات کو نکلتے ہیں، جو رات کو چلتے رہتے ہیں اور پھر اپنے مطلع میں جا چھپتے ہیں، یہ کیفیت پانچ ستاروں کو پیش آتی ہے یعنی زحل، مشتری، عطارد، مریخ، زہرہ۔ اور قسم ہے رات کی جب وہ جانے لگے اور صبح کی جب وہ آنے لگے اور خوب روشن ہوجائے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

(واذا الضحف نشرت : اعمال نامے جو بند تھے، پھیلا کر سامنے کردیئے جائیں گے، تاکہ ہر عمل کرنے والا اپنے عمل خود پڑھ لے۔ دورسا معنی یہ ہے کہ لوگوں میں ان کے اعمال نامے دائیں یا بائیں ہاتھوں میں پھیلا دیئے جائیں گے۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

واذالصحف نشرت۔ انہیں کھول دیا جائے گا جبکہ وہ پہلے لپٹے ہوئے تھے اس سے مراد وہ صحیفے ہیں جو فرشتے لکھتے رہے جن میں ان لوگوں کے اچھے برے اعمال درج ہوں گے جن کو موت کے موقع پر لپیٹ دیا جائے گا اور قیامت کے روز انہیں پھیلا دیا جائے گا ہر انسان اپنے صحیفے پر کھڑا ہوگا اس میں جو کچھ ہوگا وہ اسے جانتا ہوگا وہ کہے گا اس کتاب کو کیا ہوا یہ کوئی چھوٹا بڑاعمل نہیں چھوڑتی مگر اس نے اسے شمار کررکھا ہے مرثد بن وداعہ نے روایت نقل کی ہے جب قیامت کا روز ہوگا توعرش کے نیچے سے صحیفے اڑیں گے مومن کا صحیفہ اس کے ہاتھ میں ہوگا، اس کا ذکر، فی جنۃ عالیہ، قطوفھا دانیہ، کلوواشربوا ھنیئا بما اسلفتم فی الایام الخالیہ…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 10–14

40۔ ابن المنذر نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا کہ آیت واذا لصحف نشرت۔ اور جب اعمال نامے کھل جائیں گے یعنی جب انسان مرجاتا ہے تو اس کا اعمال نامہ لپیٹ دیا جاتا ہے پھر قیامت کے دن کھولا جائے گا اور حساب لیا جائے گا جو کچھ اس میں ہوگا۔ 41۔ عبد بن حمید وابن المنذر وابن ابی حاتم وابن مردویہ زید بن اسلم ؓ سے روایت کیا کہ اور وہ اپنے والد سے روایت کرتے ہی کہ جب یہ آیت اذا الشمس کورت نازل ہوئی تو حضرت عمر ؓ نے فرمایا جب وہ اس علمت نفس ما احضرت تو ہر شخص جان لے گا کہ وہ کی لے کر آیا پر پہنچے تو فرمایا اسی لیے بات چلائی گئی۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

3﴿ وَ اِذَا الصُّحُفُ نُشِرَتْ۪ۙ0010﴾ (اور جب صحیفے پھیلا دیئے جائیں گے) وہ صحیفے جن میں بندوں کے اعمال لکھے گئے تھے سامنے لائے جائیں گے اچھے لوگوں کے داہنے ہاتھ میں اور برے لوگوں کے بائیں ہاتھ میں ہوں گے۔ سورة ٴ بنی اسرائیل میں فرمایا ﴿وَ نُخْرِجُ لَهٗ يَوْمَ الْقِيٰمَةِ كِتٰبًا يَّلْقٰىهُ مَنْشُوْرًا 0013﴾ (اور ہم اس کے لیے اعمال نامہ نکال دیں گے جسے وہ کھلا ہوا اپنے سامنے موجود پالے گا) اور سورة الکہف میں فرمایا ﴿ وَ وُضِعَ الْكِتٰبُ فَتَرَى الْمُجْرِمِيْنَ مُشْفِقِيْنَ مِمَّا فِيْهِ وَ يَقُوْلُوْنَ يٰوَيْلَتَنَا مَالِ هٰذَا الْكِتٰبِ لَا يُغَادِرُ صَغِيْرَةً وَّ لَا كَبِيْرَةً اِلَّاۤ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 1–29

ہولناک مناظر روز قیامت و پیشی اعمال و فیصلہ جزاء وسزا : قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” اذا الشمس کورت ....... الی ...... الا ان یشآء اللہ رب العلمین “۔ (ربط) سورة عبس کا مضمون دراصل اثبات قیامت کے موضوع ہی پر مشتمل تھا اور مقصد بیان یہ تھا کہ انسان کی سعادت و فلاح اور عزت و عظمت اپنی زندگی اپنے پروردگار کے ساتھ وابستہ رکھنے اور فکر آخرت میں ہے، اس کے برعکس وہ مغرور ومتکبر جو نہ خدا پر ایمان لاتا ہے اور نہ ہی اس کو آخرت کی فکر ہے وہ خدا کی نظروں میں ذلیل و حقیر ہے، طالب حق اور سعادت کی فکر میں لگے رہنے والا انسان ہی بارگاہ رسالت میں ہر عزت واکرام کا مستحق ہے، آخر میں قیامت کے روز کی پریشانی اور…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 6–14

3:۔ ” واذا البحار سجرت “ اور جب دریا پانی سے بھر دئیے جائیں۔ زلزلہ قیامت کی وجہ سے سمندر میں ایسا ابال آئے گا کہ تمام دریا پانی سے بھر جائیں گے، بلکہ خشکی بھی زیر آب ہوجائے گی۔ یہاں تک وہ چھ احوال مذکور ہوئے جو نفخہ اولی کے بعد ظاہر ہوں گے آگے ان احوال کا بیان ہے جو نفخہ ثانیہ کے بعد ظہور پذیر ہوں گے۔ ” واذا النفوس زوجت “ اور جب روحیں بدنوں سے ملا دی جائیں گی اور تمام مردے زندہ ہوجائیں گے یہ نفخہ ثانیہ کے بعد کے احوال میں سے پہلا حال ہے۔ ” واذا الموء ودۃ سئلت “ اور جب زندہ درگور لڑکی کے بارے میں اس کو زندہ دفن کرنے والے سے پوچھا جائے گا کہ اس کو کس جرم میں قتل کیا گیا۔ ” واذا الصحف نشرت “ اور…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 1–13

(نام و کوائف) اس سورة کا نام سورة تکویر ہے ۔ اس کی پہلی آیت میں کورت کا لفظ آیا ہے جس سے سورة کا نام تکویر ہے ۔ یہ سورة مکی زندگی میں نازل ہوئی ۔ اس کی انتیس 29 آیات ہیں ۔ یہ سورة ایک 104 سو چار الفاظ اور 5202 پانچ ہزار 2 حروف پر مشتمل ہے (موضوع اور گذشتہ سورة سے ربط) اس سورة میں اللہ تعالیٰ نے قیامت کا ذکر اس نسبت سے کیا ہے ۔ کہ کائنات کی ارضی اور سماوی اشیاء پر قیامت کے کیا اثرات مرتب ہوں گے۔ سورة کے آخر میں قرآن کریم کی طرف دعوت دی گئی ہے۔ اور اسکی صداقت وحقانیت کا بیان ہے سابقہ کئی سورتوں میں قیامت کا ذکر مختلف انداز سے آرہا ہے۔ کہ قیامت کا اثر مختلف چیزوں پر کیا ہوگا۔ سورة عبس میں قیامت…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَاِذَا الصُّحُفُ نُشِرَتْ۝ 10 إذا إذا يعبّر به عن کلّ زمان مستقبل، وقد يضمّن معنی الشرط فيجزم به، وذلک في الشعر أكثر، و «إذ» يعبر به عن الزمان الماضي، ولا يجازی به إلا إذا ضمّ إليه «ما» نحو :إذ ما أتيت علی الرّسول فقل له ( اذ ا ) اذ ا ۔ ( ظرف زماں ) زمانہ مستقبل پر دلالت کرتا ہے کبھی جب اس میں شرطیت کا مفہوم پایا جاتا ہے تو فعل مضارع کو جزم دیتا ہے اور یہ عام طور پر نظم میں آتا ہے اور اذ ( ظرف ) ماضی کیلئے آتا ہے اور جب ما کے ساتھ مرکب ہو ( اذما) تو معنی شرط کو متضمن ہوتا ہے جیسا کہ شاعر نے کہا ع (11) اذمااتیت علی الرسول فقل لہ جب تو رسول اللہ کے پاس جائے تو ان سے کہنا ۔ اذا کی مختلف صورتیں…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

وَاِذَا الصُّحُفُ نُشِرَتْ ۔ (التکویر : 10) (اور جب اعمال نامے کھولے جائیں گے۔ ) اعمال نامے سب کے سامنے صُحُفُسے مراد لوگوں کے اعمال نامے ہیں۔ ان کے کھولے جانے کا مفہوم یہ ہے کہ انسان نے جو کچھ دنیا میں اعمال کی صورت میں کیا ہے اسے ایک نظم کے تحت ضبط تحریر میں لایا جاتا رہا ہے۔ اور یہی تحریری روزنامچہ نامہ عمل کہلاتا ہے اور اسے قیامت کے دن ہر شخص کے سامنے لا کر کھول دیا جائے گا۔ اور اسے یہ کہا جائے گا کہ اسے پڑھ کر دیکھو کہ تم دنیا میں کیا کچھ کرکے آئے ہو۔ وہ جب اسے دیکھے گا تو چیخ اٹھے گا کہ ہائے یہ کیسا اعمال نامہ ہے جس میں کوئی چھوٹی یا بڑی بات چھوٹنے نہیں پائی۔ میری زندگی کا ہر عمل اس میں…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 10–14

فہم القرآن ربط کلام : قیامت کا بیان جاری ہے بتلایا ہے کہ اس دن لوگوں کے حساب و کتاب کا آغازکس طرح ہوگا۔ قیامت کے دن زمین و آسمان بدل دئیے جائیں گے۔ (ابراہیم : 48) اور لوگ محشر کے میدان میں جمع کردیئے جائیں گے۔ ملائکہ قطار اندر قطار کھڑے ہوں گے جن میں جبریل امین سب سے نمایاں ہوں گے۔ عدالت کبریٰ کے انتظامات مکمل ہونے کے ساتھ ہی ایک طرف لوگوں کے سامنے بھڑکتی ہوئی جہنم لائی جائے گی اور دوسری طرف جنت کو لایا جائے گا۔ اس کے بعد رب ذوالجلال جلوہ گر ہوں گے اور کچھ مدت کے بعد لوگوں کے اعمال نامے ان کے سامنے رکھ دیئے جائیں گے، ہر شخص اپنا اعمال نامہ کھول کر پڑھے گا جس سے اسے معلوم ہوجائے گا کہ وہ اپنے…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

10 : وَاِذَا الصُّحُفُ نُشِّرَتْ (اور جب نامہ اعمال کھول دیئے جائیں گے) قراءت : نشرت کا معنی کھولنا۔ نُشِّرَتْ تخفیف کے ساتھ مدنی، شامی، عاصم اور سہل، یعقوب کی قراءت میں ہے۔ نُشِرَّتْ یہ ابو عمرو، ابن کثیر، حمزہ، کسائی و خلف کی قراءت ہے۔ الصحفؔ سے نامہ اعمال مراد ہیں۔ انسان کا نامہ عمل موت کے وقت لپیٹ دیا جاتا ہے۔ پھر جب اس کو اٹھایا جائے گا تاکہ حساب و کتاب لیا جائے تو اس وقت اس نامہ عمل کو کھولا جائے گا۔ نمبر 2۔ اور نشر سے مراد نامہ اعمال والوں کو ان کے نامہ ہائے اعمال کا تقسیم کرنا مراد ہو۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

9 ۔” بای ذنب قتلت “ اکثر حضرات نے ان دونوں میں فعل مجہول پڑھا ہے اور ابوجعفر نے ” قتلت “ تشدید کے ساتھ پڑھا ہے اور اس کا معنی زندہ درگور کی ہوئی لڑکی سے سوال کیا جائے گا۔ پس اس کو کہا جائے گا ” بای ذنب قتلت “ اور اس سے سوال کرنے کا معنی اس کے قاتل کو ڈانٹا ہے اس لئے کہ وہ کہے گی میں تو بغیر گناہ کے قتل کی گئی ہوں اور روایت کیا گیا ہے کہ جابر بن زید ؓ پڑھا کرتے تھے ” واذا الموئودۃ سئلت۔ بای ذنب قتلت “ اور اسی کی مثل ابوالضحیٰ نے پڑھا ہے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 1–14

1۔ 14۔ صحیح بخاری وغیرہ میں حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا قیامت کے دن سورج اور چاند کو لپیٹ کر دوزخ میں ڈال دیا جائے گا اس حدیث کی شرح میں علماء نے لکھا ہے کہ دنیا میں بعض لوگ سورج اور چاند کو پوجا کرتے ہیں ان کے ذلیل کرنے کے لئے سورج اور چاند کو دوزخ کی آگ میں جھونکا جائے گا۔ مسند امام احمد ترمذی 2 ؎ مستدرک حاکم طبرانی وغیرہ میں حضرت عبد اللہ بن عمر سے جو روایتیں ہیں ان کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ جس شخص کو یہ منظور ہو کہ قیامت کو دنیا میں بھی اپنی آنکھوں کے سامنے دیکھ لے تو اس کو چاہئے کہ اذا الشمس کورت و اذا السماء انفطرت و اذالسماء انشقت…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

(وَاِذَا الصُّحُفُ نُشِرَتْ ) اور جب وہ اعمال نامے جو عمل کرنے والوں کے اچھے برے اعمال پر مشتمل ہوں گے۔ ان کو الگ الگ کرکے عمل کرنے والوں کو تقسیم کردیا جائے گا۔ پس کسی نے اپنا نامہ اعمال دائیں ہاتھ میں لے رکھا ہوگا اور کسی نے بائیں ہاتھ میں لے رکھا ہوگا یا اپنی پیٹھ پیچھے چھپا رکھا ہوگا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 7–10

(7) ظہور قیامت کے بعد کے احوال کا ذکرو بیان : سو اوپر کی آیات کریمہ میں ان احوال کو بیان فرمایا گیا جو ظہور قیامت کے وقت اور اس موقع پر پیش آئیں گے، اور اب اس آیت کریمہ میں اور اس کے بعد والی آیات کریمہ میں ان امور و احوال کا ذکرو بیان فرمایا جارہا ہے جو ظہور قیامت کے بعد پیش آئیں گے۔ چناچہ ارشاد فرمایا گیا اور جب جوڑ دیا جائے گا جانوں کو اپنے اپنے اجسام کے ساتھ، اور سب لوگ زندہ ہو کر اٹھ کھڑے ہوں گے، نیز انہیں اپنے اپنے ہم جنسوں اور ہم مشربوں کے ساتھ جوڑ کر گروہ در گروہ کردیا جائے گا، نیک نیکوں کے ساتھ ملکر جنت میں چلے جائیں گے، اور وہاں کی سدا بہار نعمتوں سے محظوظ ہوں گے، اللہ پاک ہم سب کو…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 1–14

قیامت کیسی ہوگی ؟ اور بعد میں کیا ہوگا ؟ تشریح : آیت 1 سے 6 تک قیامت کا نقشہ کھینچا گیا ہے۔ جس میں نظام کائنات کے درہم برہم ہونے میں اجرام سماوی کا ذکر ہے۔ '' کُوّرت '' تکویر سے ہے یعنی لپیٹا جانا مطلب یہ ہے کہ سورج اپنی موت کو پہنچ کر بےنور مردہ ہوجائے گا۔ جس کی وضاحت ڈاکٹر دلدار صاحب یوں کرتے ہیں۔ '' جب ستارے کا ایندھن (ہائیڈروجن) ختم ہوجاتا ہے تو وہ ٹھنڈا ہونے لگتا ہے۔ چناچہ کشش ثقل حر کی توانائی پر غالب آجاتی ہے۔ اور ستارہ سکڑنے لگتا ہے اور بالآخر موت سے ہمکنار ہوجاتا ہے۔ ستاروں کی موت مندرجہ ذیل تین حالتوں میں سے کسی ایک حالت کی طرف لے جاتی ہے۔ 1 ۔ سفید بونا White Dwosf 2 ۔ نیوٹران ستارہ…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–29

سورة التکویر۔ آیات 1 تا 29۔ اسرار ومعارف۔ جب سورج بےنور ہوجائے گا اور ستارے ٹوٹ کر گرجائیں گے اور جب پہاڑ اکھیڑ کر اڑادیے جائیں گے اور لوگوں کو مال و دولت بھول جائے گا کہ عربوں کے نزدیک دس ماہ کی گابھن اونٹنی سب سے قیمتی اثاثہ سمجھی جاتی ہے ہر وقت دم کے ساتھ لگے پھرتے تھے کہ صحرا میں اس کادودھ نعمت غیر مترقہ ہوتا تھا مگر وہ بھی آوارہ پھر رہی ہوں گی یعنی لوگوں کو مال وزر کا ہوش نہ رہے گا اور نفخہ اولی سے گھبرا کر جنگلی جانور اور درندے آبادیوں میں آگھسیں گے اور دریا سمندر میں مل جائیں گے کہ زمین شق ہوجائے گی اور پھر ان میں اجرام فلکی گریں گے تو بھاپ بن کر اڑجائیں گے اور پھر فضا میں وہ بھاپ آگ…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 10–11

ف 9 جیسا کہ ذبح کئے ہوئے جانور کی کھال اتاری جاتی ہے۔ اس سے مراد بعض مفسرین نے یہ لی ہے کہ آسمان کو اس کی جگہ سے ہٹا دیا جائے گا یا لپیٹ دیا جائے گا۔ واللہ اعلم (شوکان)

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(81:10) واذا الصحف نشرت اس کا عطف بھی اذا الشمس کورت پر ہے الصحف صحیفۃ کی جمع ہے۔ نیز ملاحظہ ہو 80:13 ۔ نشرت ماضی مجہول واحد مؤنث غائب نشر (باب ضرب مصدر سے) کھولے جائیں گے۔ یعنی جب اعمال نامے حساب کے لئے کھولے جائیں گے۔ یا جن کے اعمالنامے ہوں گے ان کو تقسیم کئے جائیں گے۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 1–29

لغات القرآن۔ کورت۔ لپیٹ دے گیا۔ انکدرت۔ ماند پڑگئی۔ (پڑ گئے) سیرت۔ چلا دی گئی۔ العشار۔ گابھن اونٹنیاں۔ عطلت۔ چھٹ کر پھری۔ الوحوش (وحش) ۔ جنگلی جانور۔ حشرت۔ آپس میں گڈ مڈ ہوجائیں۔ سجرت۔ جھونکے گئے۔ زوجت۔ جوڑے جوڑے بنا دئیے گئے۔ الموئو دۃ ۔ زمین میں گاڑدی گئی لڑکی۔ سئلت۔ پوچھا گیا۔ الصحف۔ اعمال نامے۔ نشرت۔ پھیلا دئیے۔ کشطت۔ پرت کے پرت اتا رلئے گئے۔ کھال کھینچ لی گئی۔ سعرت۔ بھڑکائی گئی۔ ازلف۔ قریب کردی گئی۔ احضرت۔ وہ لے کر حاضر ہوا۔ الخنس۔ پیچھے ہٹ جانے والے۔ الکنس۔ چھپ جانے والے۔ عسعس۔ پھیل گیا۔ تنفس۔ روشن ہوا۔ مکین۔ مرتبہ والا۔ مطاع۔ جس کی اطاعت کی جائے۔ کہا مانا جائے۔ الافق۔ کنارہ۔ بضنین۔…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

(ف 3) جب تک آدمی دنیا میں زندہ رہتا ہے اس کے ہر طرح کے عمل لکھے جاتے ہیں، قیامت کے دن حساب وکتاب کے لیے وہی کاغذ نکالے جائیں گے اور ہر شخص کو پتہ لگ جائے گا کہ نیکی یابدی کا کیا سرمایہ لے کر حاضر ہوا ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 9–10

[5] عرب میں دختر کشی کی رسم رائج تھی۔ بعض لوگ تو تنگ دستی کے اندیشے سے یہ کام کرتے تھے اور بعض کو یہ عار تھی کہ ہمیں اپنی بیٹی کو کسی سے بیاہ دینا ہوگا اور وہ ہمارا داماد کہلائے گا۔ قرآن نے آگاہ کیا کہ ان مظلوم بچیوں کی نسبت بھی سوال ہوگا کہ کس گناہ پر ان کو قتل کیا گیا تھا۔ یہ مت سمجھنا کہ ہماری اولاد ہے اس میں ہم جو چاہیں تصرف کریں، بلکہ اولاد ہونے کی وجہ سے جرم اور زیادہ سنگین ہوجاتا ہے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 8–19

حل لغات :۔ الموء دۃ ۔ زندہ گاڑی ہوئی لڑکی ۔ بعض قبائل میں عزت اور شرف کا یہ غلط خیال رواج پذیر ہوگیا تھا کہ لڑکیاں ناموس اور عزت کے لئے موجب ننگ ہیں ۔ اس لئے وہ ان کو جب پیدا ہوتیں تو زندہ زمین میں گاڑ دیتے ۔ اس برائی کی طرف اشارہ ہے ۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلام سے قبل عربوں کی اخلاقی حالت کیا تھی ؟ اور اسلام نے ان لوگوں کی اصلاح کے سلسلہ میں کتنا بڑا کام کیا ۔

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(10) اور جب نامہ اعمال کھول دیئے جائیں - تاکہ ہر شخص اپنے اپنے اعمال دیکھ لے اور ہر ایک کو یہ معلوم ہوجائے کہ وہ نیکی یا بدی کا کیا سامان لے کر آیا ہے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 7–21

ف 2۔ یعنی فرشتے اس کا کہنا مانتے ہیں۔ 3۔ امانت دار ہے کہ وحی کو صحیح صحیح بےکم وکاست پہنچا دیتا ہے، پس وحی لانے والا تو ایسا ہے، آگے جن پر وحی نازل ہوئی ان کی نسبت ارشاد ہے کہ۔ (آگے دیکھو ترجمہ)

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

اور جب اعمال نامے کھول جائیں گے 10 ؎ ( صحف) صحیفے ، کتابیں ، نوشتے ، اوراق صحیفۃ کی جمع ۔ خیال رہے کہ یہ جمع نادر ہے کیونکہ فعیلۃ کی جمع فعل پر نہیں آتی ندرت اور قیاس میں اس کی مثال سفینۃ اور سنن سے دی جاسکتی ہے ۔ لیکن اس جگہ اس سے مراد اعمال نامے ہیں بعض انسانوں نے جو کچھ اس دنیا میں کیا ہوگا وہ ان کے سامنے کھول کر رکھ دیا جائے گا اور اگر ان کو کوئی اعتراض ہوگا تو وہ نہایت مستعدی سے واضح کیا جائے گا اور یہ بات اس لیے اس جگہ ارشاد فرمائی گئی کہ تم لوگ جب قیامت کے آنے کا انکار کرتے ہو تو تم نے کبھی اس بات پر غور نہیں کیا کہ اگر قیامت قائم نہ ہوتی تو اس طرح کے ظلموں کا بدلہ ظالموں کو کیسے ملتا…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 8–10

وَإِذَا الْمَوْءُودَةُ سُئِلَتْ (and when the girl-child that was buried alive will be asked, for what sin she was killed...81:8) The word mau'udah is the girl-child buried alive. It was a common practice in pre-Islamic time of ignorance that people would take the birth of a girl as a matter of shame for their fathers, and therefore they would bury them alive as soon as they were born. Islam has abolished this barbaric practice completely. This verse, while depicting the scene of Resurrection, mentions that the girls who were buried alive will be questioned for what crime they were killed.…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 9–10

9 The style of this verse reflects an intensity of rage and fury inconceivable in common life. The parents who buried their daughters alive, would be so contemptible in the-sight of Allah that they would not be asked: "Why did you kill the innocent infant?" But disregarding them the innocent girl will be asked: "For what crime were you slain?" And she will tell her story how cruelly she had been treated by her barbarous parents and buried alive. Besides, two vast themes have been compressed into this brief verse, which though not expressed in words, are reflected by its style and tenor. First…

Read the full tafseer →