بِاَیِّ ذَنْۢبٍ قُتِلَتْ ۟ۚبِاَىِّ ذَنۡۢبٍ قُتِلَتۡۚ
کہ وہ کس گناہ پرماری گئی
— Fateh Muhammad Jalandhari
For what sin she was killed
— Saheeh International
Juz 30 · Ruku 1 of surah · Ruku 6 of juz
بِاَیِّ ذَنْۢبٍ قُتِلَتْ ۟ۚبِاَىِّ ذَنۡۢبٍ قُتِلَتۡۚ
کہ وہ کس گناہ پرماری گئی
— Fateh Muhammad Jalandhari
For what sin she was killed
— Saheeh International
Juz 30 · Ruku 1 of surah · Ruku 6 of juz
Read the whole surah · Surah At-Takwir
کہ وہ کس قصور میں ماری گئی؟
کہ وہ کس گناہ پرماری گئی
کہ کس گناه کی وجہ سے وه قتل کی گئی؟
کہ اسے کس جرم میں قتل کیا گیا ؟
کس خطا پر ماری گئی
کہ وہ کس گناہ کے باعث قتل کی گئی تھی،
کہ وہ کس گناہ کے بدلے قتل کی گئی ؟
کہ وہ کس جرم میں ماری گئی تھی ؟
کہ وہ کس گناہ پر ماری گئی !
کہ اس کو کس گناہ کی بنا پر قتل کیا گیا تھا ؟
کہ وہ کس گناہ پر قتل کی گئی تھی۔
کہ وہ کس گناہ کی پاداش میں قتل کی گئی تھی ؟
کہ وہ کس گناہ پر مار دی گئی
for what offence was she killed?
For what sin was she killed
For what sin she was slain,
— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran
For what sin she was killed
such as, "For what crime were they murdered?"
For what sin she was killed,
For what sin she was slain.
For what crime she was killed;
— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary
Explained with ayahs 1–14
یعنی سوج بےنور ہوجائیگا، جاتا رہے گا اوندھا کر کے لپیٹ کر زمین پر پھینک دیا جائیگا ابن عباس ؓ فرماتے ہیں سورج چاند اور ستاروں کو لپیٹ کر بےنور کر کے سمندروں میں ڈال دیا جائیگا اور پھر مغربی ہوائیں چلیں گی اور آگ لگ جائیگی ایک مرفوع حدیث میں ہے کہ اس کو تہہ کر کے جہنم میں ڈال دیا جائیگا (ابن ابی حاتم) اور ایک حدیث میں سورج کے ساتھ چاند کا ذکر بھی ہے لیکن وہ ضعیف ہے صحیح بخاری میں یہ حدیث الفاظ کی تبدیلی سے مروی ہے، اس میں ہے کہ سورج اور چاند قیامت کے دن لپیٹ لیے جائیں گے امام بخاری اسے کتاب بدء الخلق میں لائے ہیں لیکن یہاں لانا زیادہ مناسب تھا یا مطابق عادت وہاں اور یہاں دونوں جگہ لاتے جیسے کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–10
سورة التَّكْوِیْر 9 اس آیت کے انداز بیان میں ایسی شدید غضبناکی پائی جاتی ہے جس سے زیادہ سخت غضبناکی کا تصور نہیں کیا جاسکتا۔ بیٹی کو زندہ گاڑنے والے ماں باپ اللہ تعالیٰ کی نگاہ میں ایسے قابل نفرت ہوں گے کہ ان کو مخاطب کر کے یہ نہ پوچھا جائے گا کہ تم نے اس معصوم کو کیوں قتل کیا، بلکہ ان سے نگاہ پھیر کر معصوم بچی سے پوچھا جائے گا کہ تو بےچاری آخر کس قصور میں ماری گئی، اور وہ اپنی داستان سنائے گی کہ ظالم ماں باپ نے اس کے ساتھ کیا ظلم کیا اور کس طرح اسے زندہ دفن کردیا۔ اس کے علاوہ اس مختصر سی آیت میں دو بہت بڑے مضمون سمیٹ دیے گئے ہیں جو الفاظ میں بیان کیے بغیر خود بخود اس کے فحوی سے ظاہر ہوتے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–10
وَاِذَا الْمَوْءٗدَةُ سُىِٕلَتْ ، موءودة وہ لڑکی جس کو زندہ دفن کردیا گیا جیسا کہ جاہلیت عرب میں یہ رسم تھی کہ لڑکی کو اپنے لئے موجب عار سمجھتے تھے اور زندہ ہی اس کو دفن کردیتے تھے اسلام نے یہ رسم بد مٹائی، اس آیت میں قیامت ومحشر کے حالات کے بیان میں ارشاد ہوا کہ جب اس لڑکی سے سوال کیا جائے گا جس کو زندہ درگور کرکے مار دیا گیا تھا، ظاہر الفاظ سے یہ ہے کہ یہ سوال خود اس لڑکی سے ہوگا، اس سے پوچھا جائے گا کہ تجھے کس جرم میں قتل کیا گیا، اور یہ بھی ظاہر ہے کہ مقصود اس سے سوال کرنے کا یہ ہے کہ یہ اپنی بےگناہی اور مظلوم ہونے کی پوری فریاد بارگاہ رب العزت میں پیش کرے تاکہ اسکے قاتلوں سے انتقام لیا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–9
معصوم مظلوموں کی داد رسی: یہ اس روز عدل کے عدل کی طرف اشارہ ہے اور اس کے بیان کے لیے بطور مثال زندہ درگور کی ہوئی لڑکی کی داد رسی کا حوالہ ہے جس سے واضح ہوتا ہے کہ اس دن سب سے پہلے وہ معصوم اپنی مظلومیت کی داد پائیں گے جو بالکل بے گناہ ان لوگوں کے ہاتھوں ظلم کے شکار ہوئے جن کو خدا نے ان کا محافظ بنایا۔ ’مَوْءٗ دَۃٌ‘ زندہ درگور کی ہوئی لڑکی کو کہتے ہیں۔ عرب جاہلیت کے بعض اجڈ قبائل میں سنگ دل باپ اپنی لڑکیوں کو زندہ درگور کر دیتے تھے۔ بیشتر تو اس سنگ دلی کا سبب فقر کا اندیشہ ہوتا لیکن بعض حالات میں غیرت کی بے اعتدالی بھی اس کا باعث بن جاتی۔ ان مظلوم بچیوں کو زندہ درگور کرنے والے چونکہ ان کے باپ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–9
7۔ 1 اس کے کئے مفہوم بیان کئے گئے ہیں۔ زیادہ قرین قیاس سے معلوم ہوتا ہے کہ ہر انسان کو اس کے ہم مذہب وہم مشرب کے ساتھ ملا دیا جائے گا۔ مومنوں کو مومنوں کے ساتھ اور بد کو بدوں کے ساتھ یہودی کو یہودیوں کے ساتھ اور عیسائی کو عیسائیوں کے ساتھ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–15
6: جاہلیت کے زمانے میں ایک انتہائی وحشیانہ رسم یہ تھی کہ لوگ عورتوں کو منحوس سمجھتے تھے، اور بعض قبیلے ایسے تھے کہ اگر ان میں سے کسی کے یہاں بچی پیدا ہوجاتی تو وہ شرم کے مارے اس بچی کو زندہ زمین میں دفن کردیتا تھا۔ قیامت میں اس بچی کو لاکر پوچھا جائے گا کہ تمہیں کس جرم میں موت کے گھاٹ اتارا گیا تھا ؟ اس سے ان ظالموں کو سزا دینا مقصود ہوگا جنہوں نے اس بچی کے ساتھ ایسی درندگی کا معاملہ کیا۔
Read the full tafseer →واذا ........................ قتلت (9:81) ” اور جب زندہ گاڑی ہوئی لڑکی سے پوچھا جائے گا کہ وہ کسی قصور میں ماری گئی “۔ دور جاہلیت میں انسانیت کی تذلیل اس حد تک پہنچ گئی تھی کہ لوگوں میں لڑکیوں کو زندہ درگور کرنے کا عام رواج تھا۔ یہ حرکت وہ دو وجوہات سے کرتے تھے۔ ایک یہ کہ وہ اس بات کو عار سمجھتے تھے کہ ان کی لڑکیاں کسی کی بیوی یا لونڈیاں بنیں۔ دوسری وجہ یہ تھی وہ فقر اور غربت سے ڈرتے تھے۔ قرآن کریم نے اس عادت بد کو قلم بند کرکے دور جاہلیت کی اس برائی کو ہمیشہ کے لئے ریکارڈ کردیا۔ کیونکہ اسلام آیا ہی اس لئے تھا کہ عربوں اور پوری انسانیت کو اس پستی سے نکال دے۔ اور انسانیت کو ترقی اور رفعت عطا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–9
12 عرب میں رسم تھی کہ باپ اپنی بیٹی کو نہایت سنگدلی اور بےرحمی سے زندہ زمین میں گاڑ دیتا تھا بعض تو تنگدستی اور شادی بیاہ کے اخراجات کے خوف سے یہ کام کرتے تھے اور بعض کو یہ عار تھی کہ ہم اپنی بیٹی کسی کو دیں گے وہ ہمارا داماد کہلائے گا۔ قرآن نے آگاہ کیا کہ ان مظلوم بچیوں کی نسبت بھی سوال ہوگا کہ کس گناہ پر اس کو قتل کیا تھا۔ یہ مت سمجھنا کہ ہماری اولاد ہے، اس میں ہم جو چاہیں تصرف کریں بلکہ اولاد ہونے کی وجہ سے جرم اور زیادہ سنگین ہوجاتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–9
آیت 9{ بِاَیِّ ذَنْبٍ قُتِلَتْ۔ } ”کہ وہ کس گناہ کی پاداش میں قتل کی گئی تھی ؟“ م یہ تذکیر و انذار کا بہت لطیف انداز ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–9
9 زندہ درگور کرنے کی وجوہ اور اس رسم کا سد باب :۔ ایک قراءت میں سُئِلَتْ کے بجائے سَئَلَتْ بھی آیا ہے یعنی زندہ درگور کردہ لڑکی خود اپنے پروردگار سے فریاد کرے گی کہ مجھے کس جرم کی پاداش میں زمین میں گاڑا گیا تھا ؟ لیکن سُئِلَت کی قرائت سَئَلَت سے زیادہ ابلغ ہے جس کا مطلب یہ ہے اللہ تعالیٰ ایسے بےرحم اور سنگدل ظالموں کی طرف نہ دیکھنا پسند کرے گا اور نہ ان سے بات کرنا پسند کرے گا بلکہ ان کے بجائے مظلوم لڑکی کی طرف متوجہ ہو کر اس سے پوچھا جائے گا کہ اسے کس جرم کی پاداش میں قتل کیا گیا تھا ؟ اور یہ انداز خطاب اللہ تعالیٰ کا مجرموں پر انتہائی غضب ناک ہونے پر دلیل ہے۔ رہی یہ بات کہ اہل عرب اتنے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–9
3۔ سوال سے مقصود ناخدا ترس ظالموں پر مزید حجت قائم کرنا ہوگا۔ (آیت) ” موء دۃ “۔ وہ لڑکی ہے جو زندہ دفن کردی جائے۔ شرفاء عرب کے مختلف قبیلوں میں یہ رسم کثرت سے پھیلی ہوئی تھی، ہندوستان کے راجپوتوں اور دوسری قوموں میں اور دوسرے ملکوں میں بھی یہ رواج رہا ہے۔ اور اسی کی ذرا ہلکی شکل آج ” منع حمل “۔ ” کنڈراسپشن “ ، ” برتھ کنٹرول “ وغیرہ کے خوشنما ناموں سے بڑے بڑے مہذب ملکوں میں پھیلی ہوئی ہے۔ ملاحظہ ہو حاشیہ تفسیر انگریزی۔ بعض محققین نے کہا ہے کہ دوسرے معاصی کو چھوڑ کر اس کا ذکر آثار قیامت واہوال حشر میں کرنے سے اشارہ یہ نکلتا ہے کہ سب سے پہلے پرسش خون کی ہوگی، اور خون کے مقدمات میں اس دفعہ کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–29
واذا لموئو ودۃ سئلت، اس آیت کے انداز بیان میں ایسی شدید غضب ناکی پائی جاتی ہے، جس سیز یادہ غضب ناکی کا تصور نہیں کیا جاسکتا، بیٹی کو زندہ درگور کرنے والے والدین اللہ کی نظر میں ایسے قابل نفرت ہوں گے کہ ان کو مخاطب کر کے ان سے یہ نہ پوچھا جائے گا کہ تم نے اس معصوم کو کیوں قتل کیا ؟ بلکہ اس سے نگاہ پھیر کر معصوم بچی سے پوچھا جائے گا کہ تو بےچاری آخر کس قصور میں مار دی گئی ؟ اور وہ اپنی داستان مظلومیت سنائے گی، اس آیت کے مضمون سے ایک اہم بات خود بخود یہ سمجھ میں آتی ہے کہ اس میں آخرت کے ضروری ہونے کی ایک صریح دلیل پیش کی گئی ہے، جس لڑکی کو زندہ دفن کردیا گیا، آخر اس کی کہیں تو داد رسی ہونی…
Read the full tafseer →بای ذنب قتلت . کس جرم میں اس کو قتل کیا گیا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–9
(8۔ 9) اور جس وقت زمین میں زندہ دفن کردی گئی لڑکی اپنے باپ سے پوچھے گی کہ مجھے کس گناہ میں قتل کیا گیا، یا یہ کہ دفن کرنے والے سے پوچھا جائے گا کہ اس کو کس گناہ میں قتل کیا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–9
8، 9(1) واذا الموء دۃ سئلت…:”الموء د ۃ“ وہ لڑکی جسے زندہ دفن کردیا گیا ہو۔ جاہلیت میں بعض عرب عار سے بچنے کیلئے لڑکیاں زندہ دفن کردیتے تھے کہ دشمن کے ہاتھ نہ لگ جائیں یا کوئی ان کا داماد نہ بنے۔ بعض فقر کی وجہ سے ایسا کرتے تھے اور بعض تو فقر کی وجہ سے لڑوں اور لڑکیوں دونوں کو قتل کر یدتے تھے۔ ہندوستان کے راجپوتوں اورب عض دوسری قوموں میں بھی یہ رواج رہا ہے، آج کل برتھ کنٹرول کے نام سے حکومتیں م نظم طریقے سے یہ کام کر رہی ہیں۔ چین میں شہروں میں ایک بچے اور دیہاتوں میں صرف دو بچوں کی اجازت ہے۔ چونکہ اکثر لوگوں کو لڑکے مرغوب ہوتے ہیں، سالئے لڑکی پیدنا ہونے کی صورت میں کئی مائیں دودھ ہی نہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–9
واذالمودۃ سئلت۔ بای ذنب قتلت۔ مودۃ مقتولہ سے مراد وہ بچی ہے جس کو زندہ دفن کردیا گیا ہو اسے یہ نام اس لیے دیا گیا ہے کیونکہ اس پر مٹی ڈالی جاتی ہے تو وہ مٹی اسے دبالیتی ہے تو وہ بچی مرجاتی ہے اس معنی میں اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے ولایودہ حفظھما، البقرہ 255) آسمانوں اور زمین کی حفاظت اسے بوجھل نہیں کرتی۔ متمم بن نویرہ نے کہا، موء دوۃ مقبورہ فی مفازۃ۔ وہ جنگل میں مدفون ومقبور ہے۔ وہ بچیون کو دو وجہوں سے زندہ درگور کیا کرتے تھے وہ کہتے، فرشتے اللہ تعالیٰ کی بیٹیاں ہیں وہ اپنی بیٹیوں کو اس کے ساتھ ملادیتے۔ انہیں یاتوتنگ دستی کا خوف رہتا تھا یا گرفتار ہوجانے اور غلامی کا خوف ہوتا۔ سورة نحل میں ام…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–9
36 سعید بن منصور وعبد بن حمید وابن المنذر وابن ابی حاتم نے ابو الضحی مسلم بن صبیح (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے یہ آیت پڑھی آیت واذا الموء دۃ سئلت یعنی وہ بچی اپنے خون بہانے والے قاتل کا مطالبہ کرے گی۔ 37۔ احمد ومسلم وابو داوٗد والترمذی ولنسائی وابن اماجہ والطبرانی وابن مردویہ نے خدا مہ بنت وہب ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ سے عزل کے بارے میں پوچھا گیا۔ تو آپ نے فرمایا یہ خفیہ طور پر زندہ کو درگور کردینا ہے اور یہی آیت واذا المء ودۃ بھی ہے۔ انسان جانوں کی حفاظت کرنے کی فضیلت 38۔ الطبرانی نے صعصعۃ بن ناجیہ بن ناجیہ مجاشعی ؓ سے روایت کیا کہ جو لافرزدق کے دادا تھے کہ میں نے عرض کیا یارسول اللہ !…
Read the full tafseer →[بِاَيِّ ذَنْۢبٍ قُتِلَتْ : کس گناہ کے سبب سے وہ قتل کی گئی ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–9
2﴿ وَ اِذَا الْمَوْءٗدَةُ سُىِٕلَتْ۪ۙ008﴾ (اور جب زندہ دفن کی ہوئی لڑکی کے بارے میں پوچھا جائے) ۔ ﴿ بِاَيِّ ذَنْۢبٍ قُتِلَتْۚ009﴾ (کہ وہ کس گناہ میں قتل کی گئی) زمانہ جاہلیت میں عرب کے لوگ انتظار میں رہتے تھے کہ دیکھو کیا پیدا ہوتا ہے اگر لڑکا پیدا ہوتا تو اسے زندہ رہنے دیتے تھے اور اگر لڑکی پیدا ہوتی تھی تو اپنے لیے عار سمجھتے تھے اور اسے اسی وقت زندہ ہی دفن کردیتے تھے اگر کسی کے گھر لڑکی پیدا ہوجاتی تو اسے عیب سمجھ کر چھپا چھپا پھرتا تھا جیسا کہ سورة النحل (آیت : 95) میں فرمایا ﴿ يَتَوَارٰى مِنَ الْقَوْمِ مِنْ سُوْٓءِ مَا بُشِّرَ بِهٖ﴾ زندہ نومولود لڑکی کو دفن کردیا جاتا تھا یہ لوگ اللہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–29
ہولناک مناظر روز قیامت و پیشی اعمال و فیصلہ جزاء وسزا : قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” اذا الشمس کورت ....... الی ...... الا ان یشآء اللہ رب العلمین “۔ (ربط) سورة عبس کا مضمون دراصل اثبات قیامت کے موضوع ہی پر مشتمل تھا اور مقصد بیان یہ تھا کہ انسان کی سعادت و فلاح اور عزت و عظمت اپنی زندگی اپنے پروردگار کے ساتھ وابستہ رکھنے اور فکر آخرت میں ہے، اس کے برعکس وہ مغرور ومتکبر جو نہ خدا پر ایمان لاتا ہے اور نہ ہی اس کو آخرت کی فکر ہے وہ خدا کی نظروں میں ذلیل و حقیر ہے، طالب حق اور سعادت کی فکر میں لگے رہنے والا انسان ہی بارگاہ رسالت میں ہر عزت واکرام کا مستحق ہے، آخر میں قیامت کے روز کی پریشانی اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–14
3:۔ ” واذا البحار سجرت “ اور جب دریا پانی سے بھر دئیے جائیں۔ زلزلہ قیامت کی وجہ سے سمندر میں ایسا ابال آئے گا کہ تمام دریا پانی سے بھر جائیں گے، بلکہ خشکی بھی زیر آب ہوجائے گی۔ یہاں تک وہ چھ احوال مذکور ہوئے جو نفخہ اولی کے بعد ظاہر ہوں گے آگے ان احوال کا بیان ہے جو نفخہ ثانیہ کے بعد ظہور پذیر ہوں گے۔ ” واذا النفوس زوجت “ اور جب روحیں بدنوں سے ملا دی جائیں گی اور تمام مردے زندہ ہوجائیں گے یہ نفخہ ثانیہ کے بعد کے احوال میں سے پہلا حال ہے۔ ” واذا الموء ودۃ سئلت “ اور جب زندہ درگور لڑکی کے بارے میں اس کو زندہ دفن کرنے والے سے پوچھا جائے گا کہ اس کو کس جرم میں قتل کیا گیا۔ ” واذا الصحف نشرت “ اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–13
(نام و کوائف) اس سورة کا نام سورة تکویر ہے ۔ اس کی پہلی آیت میں کورت کا لفظ آیا ہے جس سے سورة کا نام تکویر ہے ۔ یہ سورة مکی زندگی میں نازل ہوئی ۔ اس کی انتیس 29 آیات ہیں ۔ یہ سورة ایک 104 سو چار الفاظ اور 5202 پانچ ہزار 2 حروف پر مشتمل ہے (موضوع اور گذشتہ سورة سے ربط) اس سورة میں اللہ تعالیٰ نے قیامت کا ذکر اس نسبت سے کیا ہے ۔ کہ کائنات کی ارضی اور سماوی اشیاء پر قیامت کے کیا اثرات مرتب ہوں گے۔ سورة کے آخر میں قرآن کریم کی طرف دعوت دی گئی ہے۔ اور اسکی صداقت وحقانیت کا بیان ہے سابقہ کئی سورتوں میں قیامت کا ذکر مختلف انداز سے آرہا ہے۔ کہ قیامت کا اثر مختلف چیزوں پر کیا ہوگا۔ سورة عبس میں قیامت…
Read the full tafseer →بِاَيِّ ذَنْۢبٍ قُتِلَتْ 9 ۚ أيا أَيُّ في الاستخبار موضوع للبحث عن بعض الجنس والنوع وعن تعيينه، ويستعمل ذلک في الخبر والجزاء، نحو : أَيًّا ما تَدْعُوا فَلَهُ الْأَسْماءُ الْحُسْنى [ الإسراء/ 110] ، وأَيَّمَا الْأَجَلَيْنِ قَضَيْتُ فَلا عُدْوانَ عَلَيَّ [ القصص/ 28] ( ا ی ی ) ای ۔ جب استفہام کیلئے ہو تو جنس یا نوع کی تعیین اور تحقیق کے متعلق سوال کے لئے آتا ہے اور یہ خبر اور جزا کے لئے بھی استعمال ہوتا ہے چناچہ فرمایا :۔ { أَيًّا مَا تَدْعُوا فَلَهُ الْأَسْمَاءُ الْحُسْنَى } ( سورة الإسراء 110) جس نام سے اسے پکارا اس کے سب نام اچھے ہیں { أَيَّمَا الْأَجَلَيْنِ قَضَيْتُ فَلَا عُدْوَانَ عَلَيَّ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–10
2 ؎ العشار دس مہینے کی گابھن اونٹنیاں۔ 12 منہ
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–9
وَاِذَا الْمَوْئٗ دَۃُ سُئِلَتْ ۔ بِاَیِّ ذَنْبٍ قُتِلَتْ ۔ (التکویر : 8، 9) (اور جب زندہ گاڑی ہوئی لڑکی سے پوچھا جائے گا۔ کہ وہ کس گناہ میں ماری گئی۔ ) مظلوم بچیوں کی دادرسی ان دونوں آیتوں کے اسلوب میں جو غضب پنہاں ہے وہ ان الفاظ کے ایک ایک حرف سے ظاہر ہورہا ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ پروردگار نہایت جلال میں ہے۔ چاروں طرف سناٹا اور پروردگار کے جلال کی ہیبت برس رہی ہے کہ اچانک ان معصوم بچیوں کو حاضر کرنے کا حکم دیا جاتا ہے جن کو ان کے سنگدل باپوں نے زندہ درگور کردیا تھا۔ ان کا گناہ صرف یہ تھا کہ وہ مونث کیوں پیدا ہوئیں۔ کیونکہ عرب کے بعض نہایت اجڈ قبیلوں میں جہالت نے جو مختلف نتائج پیدا کیے تھے ان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–9
فہم القرآن ربط کلام : قیامت کے دوسرے مرحلے کی ابتدا۔ ہر شخص اس حقیقت کو جانتا ہے کہ جب انسان کی روح اس کے قفس عنصری سے نکل جاتی ہے تو انسان کا جسم کسی قسم کی تکلیف محسوس نہیں کرتا، جب جسم میں روح ہوتی ہے تو انسان کا نٹا چبھنے سے بھی تڑپ اٹھتا ہے۔ روح نکل جانے کے بعد انبیاء کرام (علیہ السلام) کے اجسام کے سوا ہر انسان کے جسم کو مٹی کھا جاتی ہے اِلّا یہ کہ جس کے جسم کو اللہ تعالیٰ سلامت رکھے۔ عالم برزخ میں صرف روح کو ہی اذّیت یا راحت پہنچتی ہے۔ جونہی اسرافیل دوسری مرتبہ صور پھونکے گا تو اللہ کے حکم سے ہر انسان کا جسم اپنی حالت میں آجائے گا اور اس میں روح ڈال دی جائے گی۔ جسے یوں بیان کیا ہے کہ جب…
Read the full tafseer →9 : بِاَیِّ ذَمنْبٍ قُتِلَتْ (کہ وہ کس گناہ کی بناء پر قتل کی گئی تھی) قراءت : قُتِّلَتْ یزید نے تشدید سے پڑھا۔ ایک اہم بات : اس میں دلیل ہے کہ اطفاّل مشرکین کو عذاب نہ ہوگا اور عذاب بلا ذنب نہیں ہوا کرتا۔
Read the full tafseer →8 ۔” واذا الموئودۃ سئلت “ وہ لڑکی جس کو زندہ دفن کردیا گیا ہو اس کے ساتھ نام رکھا گیا کیونکہ اس پر مٹی ڈال کر اس کو دفنایا جاتا ہے۔ یعنی اس بوجھ کے نیچے رکھا جاتا ہے حتیٰ کہ وہ مرجاتی اور عرب بیٹیوں کو زندہ دفن کردیتے تھے عار اور تنگ دستی کے خوف سے ۔ کہا جاتا ہے ” وادیئد وادا فھواوائد “ اور مفعول موئودہ ہے۔ عکرمہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ عورت جاہلیت میں جب حاملہ ہوتی اور ولادت کا وقت ہوتا تو وہ ایک گڑھا کھودت، پھر گڑھے کے سرانے بچہ پیدا کرتی۔ پس اگر لڑکی پیدا ہوتی تو اس کو گڑھے میں پھینک دیتی اور اگر لڑکا پیدا ہوتا تو اس کو روک لیتی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–14
1۔ 14۔ صحیح بخاری وغیرہ میں حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا قیامت کے دن سورج اور چاند کو لپیٹ کر دوزخ میں ڈال دیا جائے گا اس حدیث کی شرح میں علماء نے لکھا ہے کہ دنیا میں بعض لوگ سورج اور چاند کو پوجا کرتے ہیں ان کے ذلیل کرنے کے لئے سورج اور چاند کو دوزخ کی آگ میں جھونکا جائے گا۔ مسند امام احمد ترمذی 2 ؎ مستدرک حاکم طبرانی وغیرہ میں حضرت عبد اللہ بن عمر سے جو روایتیں ہیں ان کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ جس شخص کو یہ منظور ہو کہ قیامت کو دنیا میں بھی اپنی آنکھوں کے سامنے دیکھ لے تو اس کو چاہئے کہ اذا الشمس کورت و اذا السماء انفطرت و اذالسماء انشقت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–9
(وَاِذَا الْمَوْءٗدَةُ سُىِٕلَتْ ) زمانہ جاہلیت کے جہلا بیٹیوں کو فقیری کے ڈر سے کسی سبب کے بغیر زندہ دفن کردیا کرتے تھے پس اس زندہ دفن کی گئی لڑکی سے پوچھا جائے گا۔ (بِاَيِّ ذَنْۢبٍ قُتِلَتْ ) کہ وہ کس گناہ کی وجہ سے قتل کی گئی ؟ اور یہ بات معلوم ہے کہ ان بیٹیوں کا کوئی گناہ نہیں تھا مگر اس کے ذکر میں بیٹیوں کے قاتلین کے لیے زجر وتوبیخ اور جھڑکی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–10
(7) ظہور قیامت کے بعد کے احوال کا ذکرو بیان : سو اوپر کی آیات کریمہ میں ان احوال کو بیان فرمایا گیا جو ظہور قیامت کے وقت اور اس موقع پر پیش آئیں گے، اور اب اس آیت کریمہ میں اور اس کے بعد والی آیات کریمہ میں ان امور و احوال کا ذکرو بیان فرمایا جارہا ہے جو ظہور قیامت کے بعد پیش آئیں گے۔ چناچہ ارشاد فرمایا گیا اور جب جوڑ دیا جائے گا جانوں کو اپنے اپنے اجسام کے ساتھ، اور سب لوگ زندہ ہو کر اٹھ کھڑے ہوں گے، نیز انہیں اپنے اپنے ہم جنسوں اور ہم مشربوں کے ساتھ جوڑ کر گروہ در گروہ کردیا جائے گا، نیک نیکوں کے ساتھ ملکر جنت میں چلے جائیں گے، اور وہاں کی سدا بہار نعمتوں سے محظوظ ہوں گے، اللہ پاک ہم سب کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–14
قیامت کیسی ہوگی ؟ اور بعد میں کیا ہوگا ؟ تشریح : آیت 1 سے 6 تک قیامت کا نقشہ کھینچا گیا ہے۔ جس میں نظام کائنات کے درہم برہم ہونے میں اجرام سماوی کا ذکر ہے۔ '' کُوّرت '' تکویر سے ہے یعنی لپیٹا جانا مطلب یہ ہے کہ سورج اپنی موت کو پہنچ کر بےنور مردہ ہوجائے گا۔ جس کی وضاحت ڈاکٹر دلدار صاحب یوں کرتے ہیں۔ '' جب ستارے کا ایندھن (ہائیڈروجن) ختم ہوجاتا ہے تو وہ ٹھنڈا ہونے لگتا ہے۔ چناچہ کشش ثقل حر کی توانائی پر غالب آجاتی ہے۔ اور ستارہ سکڑنے لگتا ہے اور بالآخر موت سے ہمکنار ہوجاتا ہے۔ ستاروں کی موت مندرجہ ذیل تین حالتوں میں سے کسی ایک حالت کی طرف لے جاتی ہے۔ 1 ۔ سفید بونا White Dwosf 2 ۔ نیوٹران ستارہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–29
سورة التکویر۔ آیات 1 تا 29۔ اسرار ومعارف۔ جب سورج بےنور ہوجائے گا اور ستارے ٹوٹ کر گرجائیں گے اور جب پہاڑ اکھیڑ کر اڑادیے جائیں گے اور لوگوں کو مال و دولت بھول جائے گا کہ عربوں کے نزدیک دس ماہ کی گابھن اونٹنی سب سے قیمتی اثاثہ سمجھی جاتی ہے ہر وقت دم کے ساتھ لگے پھرتے تھے کہ صحرا میں اس کادودھ نعمت غیر مترقہ ہوتا تھا مگر وہ بھی آوارہ پھر رہی ہوں گی یعنی لوگوں کو مال وزر کا ہوش نہ رہے گا اور نفخہ اولی سے گھبرا کر جنگلی جانور اور درندے آبادیوں میں آگھسیں گے اور دریا سمندر میں مل جائیں گے کہ زمین شق ہوجائے گی اور پھر ان میں اجرام فلکی گریں گے تو بھاپ بن کر اڑجائیں گے اور پھر فضا میں وہ بھاپ آگ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–9
ف 8 تاکہ جب وہ یہ جواب دے کہ اسے بےقصور زمین میں دفن کیا گیا تو اس کے قاتل کو سزا دی جائے۔ اس سے مقصود یہ بتانا ہے کہ فقرو عار کی وجہ سے اولاد کو قتل کرنا، جیسا کہ بعض عرب قبائل میں اس کا دستور تھا۔ نہایت گھنائونا جرم ہے جس کی سزا قیامت کے دن ضرور ملے گی۔
Read the full tafseer →(81:9) بای ذنب قتلت : کسی گناہ کے مارے قتل کی گئی تھی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–29
لغات القرآن۔ کورت۔ لپیٹ دے گیا۔ انکدرت۔ ماند پڑگئی۔ (پڑ گئے) سیرت۔ چلا دی گئی۔ العشار۔ گابھن اونٹنیاں۔ عطلت۔ چھٹ کر پھری۔ الوحوش (وحش) ۔ جنگلی جانور۔ حشرت۔ آپس میں گڈ مڈ ہوجائیں۔ سجرت۔ جھونکے گئے۔ زوجت۔ جوڑے جوڑے بنا دئیے گئے۔ الموئو دۃ ۔ زمین میں گاڑدی گئی لڑکی۔ سئلت۔ پوچھا گیا۔ الصحف۔ اعمال نامے۔ نشرت۔ پھیلا دئیے۔ کشطت۔ پرت کے پرت اتا رلئے گئے۔ کھال کھینچ لی گئی۔ سعرت۔ بھڑکائی گئی۔ ازلف۔ قریب کردی گئی۔ احضرت۔ وہ لے کر حاضر ہوا۔ الخنس۔ پیچھے ہٹ جانے والے۔ الکنس۔ چھپ جانے والے۔ عسعس۔ پھیل گیا۔ تنفس۔ روشن ہوا۔ مکین۔ مرتبہ والا۔ مطاع۔ جس کی اطاعت کی جائے۔ کہا مانا جائے۔ الافق۔ کنارہ۔ بضنین۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–9
(ف 2) عرب میں رسم تھی کہ باپ اپنی بیٹی کو نہایت سنگ دلی سے اور بےرحمی سے زندہ کو زمین میں گاڑ دیتا تھا بعض تو تنگدستی اور شادی کے بیاہ اخراجات کے خوف سے یہ کام کرتے تھے اور بعض کو عار تھی کہ ہم اپنی بیٹی کسی کو دیں گے اور وہ ہمارا داماد کہلائے گا، قرآن کریم نے آگاہ کیا کہ ان مظلوم بچیوں کی نسبت بھی سوال ہوگا کہ کس گناہ پر ان کو قتل کیا تھا یہ مت سمجھنا کہ ہماری اولاد ہے اس میں ہم جو چاہیں تصرف کریں بلکہ اولاد ہونے کی وجہ سے جرم اور زیادہ سنگین ہوجاتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–10
[5] عرب میں دختر کشی کی رسم رائج تھی۔ بعض لوگ تو تنگ دستی کے اندیشے سے یہ کام کرتے تھے اور بعض کو یہ عار تھی کہ ہمیں اپنی بیٹی کو کسی سے بیاہ دینا ہوگا اور وہ ہمارا داماد کہلائے گا۔ قرآن نے آگاہ کیا کہ ان مظلوم بچیوں کی نسبت بھی سوال ہوگا کہ کس گناہ پر ان کو قتل کیا گیا تھا۔ یہ مت سمجھنا کہ ہماری اولاد ہے اس میں ہم جو چاہیں تصرف کریں، بلکہ اولاد ہونے کی وجہ سے جرم اور زیادہ سنگین ہوجاتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–19
حل لغات :۔ الموء دۃ ۔ زندہ گاڑی ہوئی لڑکی ۔ بعض قبائل میں عزت اور شرف کا یہ غلط خیال رواج پذیر ہوگیا تھا کہ لڑکیاں ناموس اور عزت کے لئے موجب ننگ ہیں ۔ اس لئے وہ ان کو جب پیدا ہوتیں تو زندہ زمین میں گاڑ دیتے ۔ اس برائی کی طرف اشارہ ہے ۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلام سے قبل عربوں کی اخلاقی حالت کیا تھی ؟ اور اسلام نے ان لوگوں کی اصلاح کے سلسلہ میں کتنا بڑا کام کیا ۔
Read the full tafseer →(9) کہ وہ کس گناہ کے بدلے میں قتل کی گئی تھی - زمانہ جاہلیت کی وحشیانہ رسم کی طرف اشارہ ہے کہ لڑکیوں کو زندہ درگور کردیا کرتے تھے قیامت کے دن اس لڑکی کے متعلق سوال ہوگا کہ یہ کس جرم اور کس گناہ کی وجہ سے قتل کی گئی کسی قدسوردناک اسلوب بیان ہے سبحان اللہ یعنی یہ دریافت کی جائیگا کہ یہ معصوم اور بےگناہ لڑکی کس جرم کی پاداش میں قتل کی گئی ظالموں کے اظہار جرم کا کیا بہترین طریقہ ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–21
ف 2۔ یعنی فرشتے اس کا کہنا مانتے ہیں۔ 3۔ امانت دار ہے کہ وحی کو صحیح صحیح بےکم وکاست پہنچا دیتا ہے، پس وحی لانے والا تو ایسا ہے، آگے جن پر وحی نازل ہوئی ان کی نسبت ارشاد ہے کہ۔ (آگے دیکھو ترجمہ)
Read the full tafseer →کہ اس کو کس گناہ کے بدلہ میں قتل کیا گیا ؟ 9 ؎ زندہ گاڑھی جانے والی سے سوال کیا جا رہا ہے کہ تجھ کو کس گناہ کی پاداش میں گاڑھ دیا گیا ؟ لیکن اس کی طرف سے کوئی جواب نہیں دیا گیا ؟ کیوں نہیں جواب تو اس کے اندر موجود ہے کہ ظالم نے ظلم کرتے وقت کبھی اس بات کو نہیں سوچا کہ میں یہ ظلم کیوں کرتا ہوں ؟ اگر وہ اس بات پر غور کرے تو یقینا وہ ظلم کر ہی نہیں سکتا اور نہ ہی اس سے ظلم کا صدور ہو سکتا ہے ۔ اس کے ظلم کو دراصل ظلم بنانے والی یہی چیز ہے کہ اس نے کبھی نہ غور کیا کہ میں جو کرنا چاہتا ہوں جو کرنے والا ہوں اس کے کرنے کا مجھے حق ہے یا نہیں ؟ ظاہر ہے کہ اگر وہ یہ سوچے تو سوچ اس کو کبھی یہ نہیں کہہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–10
وَإِذَا الْمَوْءُودَةُ سُئِلَتْ (and when the girl-child that was buried alive will be asked, for what sin she was killed...81:8) The word mau'udah is the girl-child buried alive. It was a common practice in pre-Islamic time of ignorance that people would take the birth of a girl as a matter of shame for their fathers, and therefore they would bury them alive as soon as they were born. Islam has abolished this barbaric practice completely. This verse, while depicting the scene of Resurrection, mentions that the girls who were buried alive will be questioned for what crime they were killed.…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–10
9 The style of this verse reflects an intensity of rage and fury inconceivable in common life. The parents who buried their daughters alive, would be so contemptible in the-sight of Allah that they would not be asked: "Why did you kill the innocent infant?" But disregarding them the innocent girl will be asked: "For what crime were you slain?" And she will tell her story how cruelly she had been treated by her barbarous parents and buried alive. Besides, two vast themes have been compressed into this brief verse, which though not expressed in words, are reflected by its style and tenor. First…
Read the full tafseer →