Explained with ayahs 38–40
فتنے کے اختتام تک جہاد جاری رکھو
کافروں سے کہہ دے کہ اگر وہ اپنے کفر سے اور ضد سے باز آ جائین، اسلام اور اطاعت قبول کر لین، رب کی طرف جھک جائیں تو ان سے جو ہوچکا ہے سب معاف کردیا جائے گا، کفر بھی، خطا بھی گناہ بھی۔ حدیث میں ہے جو شخص اسلام لا کر نیکیاں کرے وہ اپنے جاہلیت کے اعمال پر پکڑا نہ جائے گا اور اسلام میں بھی پھر برائیاں کرے تو الگی پجھلی تمام خطاؤں پر اس کی پکڑ ہوگی اور حدیث میں ہے اسلام سے پہلے کے سب گناہ معاف ہیں توبہ بھی اپنے سے پہلے کے گناہ کو مٹا دیتی ہے۔ پھر فرماتا ہے کہ اگر یہ نہ مانین اور اپنے کفر پر قائم رہیں تو وہ اگلوں کی ہالت دیکھ لیں کہ ہم نے انہیں ان کے کفر کی وجہ سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 39–40
سورة الْاَنْفَال 31
یہاں پھر مسلمانوں کی جنگ کے اسے ایک مقصد کا اعادہ کیا گیا ہے جو اس سے پہلے سورة بقر آیت 193 میں بیان کیا گیا تھا۔ اس مقصد کا سلبی جزء یہ ہے کہ فتنہ باقی رہ رہے، اور ایجابی جزء یہ ہے کہ دین بالکل اللہ کے لیے ہوجائے بس یہی ایک اخلاقی مقصد ایسا ہے جس کے لیے لڑنا اہل ایمان کے لیے جائز بلکہ فرض ہے۔ اس کے سوا کسی دوسرے مقصد کی لڑائی جائز نہیں ہے اور نہ اہل ایمان کو زیبا ہے کہ اس میں کسی طرح حصہ لیں۔ (تشریح کے یے ملاحظہ ہو سورة بقرہ، حواشی 204 و 205)
Read the full tafseer →خلاصہ تفسیر
اور (پھر ان کے اس کافر رہنے کی صورت میں اے مسلمانو) تم ان (کفار عرب) سے اس حد تک لڑو کہ ان میں فساد عقیدہ (یعنی شرک) نہ رہے اور (اللہ کا) دین (خالص) اللہ ہی کا ہوجائے (اور کسی کے دین کا خالصۃً اللہ ہی کے لئے ہوجانا موقوف ہے قبول اسلام پر تو حاصل یہ ہوا کہ شرک چھوڑ کر اسلام اختیار کریں خلاصہ یہ کہ اگر نہ اسلام لائیں تو ان سے لڑو جب تک اسلام نہ لائیں کیونکہ کفار عرب سے جزیہ نہیں لیا جاتا) پھر اگر یہ (کفر سے) باز آجائیں تو (ان کے ظاہری اسلام کو قبول کرو دل کا حال مت ٹٹولو کیونکہ اگر یہ دل سے ایمان نہ لائیں گے تو) اللہ تعالیٰ ان کے اعمال کو خوب دیکھتے ہیں (وہ آپ سمجھ لیں گے تم کو کیا)…
Read the full tafseer →مسلمانوں کو جہاد کا حکم : وَقَاتِلُوْهُمْ حَتّٰي لَا تَكُوْنَ فِتْنَةٌ وَّيَكُوْنَ الدِّيْنُ كُلُّهٗ لِلّٰهِ۔ یہ مسلمانوں کو قریش سے جنگ کرنے کا حکم ہے اور اس جنگ کے پیش نظر مقصد دو بتائے گئے ہیں۔ ایک یہ کہ فتنہ کا خاتمہ ہوجائے اور دوسرا یہ کہ دین تمام تر اللہ کا ہوجائے۔
فنتۃ کا لفظ جیسا کہ ہم دوسرے مقام میں واضح کرچکے ہیں، Persecution کے مفہوم میں ہے۔ یعنی مسلمانوں کو بجبر و ظلم دین حق سے روکنے کا وہ سلسلہ جو قریش اور ان کے اعوان نے جار کر رکھا تھا۔ فرمایا کہ ان سے جنگ کرو اور یہ جنگ جاری رکھو یہاں تک کہ اس سرزمین سے اس فتنہ کا استیصال ہوجائے۔ کسی کے لیے اس کا کوئی امکان باقی نہ رہ جائے کہ…
Read the full tafseer →39۔ 1 فتنہ سے مراد شرک ہے۔ یعنی اس وقت تک جہاد جاری رکھو، جب تک شرک کا خاتمہ نہ ہوجائے۔
39۔ 2 یعنی اللہ کی توحید کا پرچار تمام عالم میں لہرا جائے۔
39۔ 3 یعنی تمہارے لئے ان کا ظاہری اسلام ہی کافی ہے، باطن کا معاملہ اللہ کے سپرد کردو، کیونکہ اس کو ظاہر و باطن ہر چیز کا علم ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 39–40
24: جیسا کے آگے سورة توبہ میں آئے گا، جزیرہ عرب کو اللہ تعالیٰ نے اسلام کا مرکز بنایا ہے، اس لئے یہاں حکم یہ ہے کہ کوئی کافر یا مشرک مستقل طور پر نہیں رہ سکتا، یا اسلام لائے یا کہیں اور چلا جائے، اس لئے جزیرہ عرب میں کافروں سے اس وقت تک جنگ کا حکم دیا گیا ہے جب تک وہ ان دو باتوں میں سے کوئی ایک بات اختیار نہ کرلیں، البتہ جزیرہ عرب سے باہر کا حکم مختلف ہے وہاں غیر مسلموں کے ساتھ مختلف قسم کے معاہدے ہوسکتے ہیں، آیت کے تقریباً یہی الفاظ سورة بقرہ (2۔ 193) میں بھی گزرے ہیں، وہاں ہم نے جو حاشیہ لکھا ہے اسے بھی ملاحظہ فرمالیا جائے۔
25: اور اگر کوئی کافر ظاہری طور پر اسلام لے آئے تو مسلمانوں کو یہی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 39–40
تفسیر آیات 39 ۔ 40 ۔ یہ ہیں اسلامی جہاد کے حدود وقیود۔ یہ ہر جگہ اور ہر دور کے لیے ہیں۔ یہ احکام حضور کے زمانے کے ساتھ مخصوص نہ تھے۔ اس سورة میں میں جہاد کے متعلق جو احکام آئے ہیں وہ اپنی آخری صورت میں نہیں آئے۔ اسلام کا قانون جنگ سورة توبہ میں مکمل ہوا ہے جو 9 ہجری میں نازل ہوئی۔ جیسا کہ ہم نے اس سورة کے آغاز میں کہا ہے کہ اسلام ایک مثبت تحریک ہے اور وہ پوری انسانیت کے مقابلے میں وہی وسائل اختیار کرتی ہے جو اس وقت کے حالت کے مطابق مناسب ہوں پھ ریہ تحریک ایک مرحلہ وار تحریک ہے اور ہر مرحلے کے لیے اس کے مخصوص احکام ہیں اور ہر مرحلے کے واضح اہداف و تقاضے ہیں۔
ان تمام باتوں کے باوجود یہ بات…
Read the full tafseer →8 یعنی کافروں کا زور نہ رہے کہ ایمان سے روک سکیں یا مذہب حق کو موت کی دھمکی دے سکیں۔ جیسا کہ تاریخ شاہد ہے کہ جب کبھی کفار کو غلبہ ہوا، مسلمانوں کا ایمان اور مذہب خطرہ میں پڑگیا۔ اسپین کی مثال دنیا کے سامنے ہے کہ کس طرح قوت اور موقع ہاتھ آنے پر مسلمانوں کو تباہ کیا گیا یا مرتد بنایا گیا۔ بہرحال جہاد و قتال کا اولین مقصد یہ ہے کہ اہل اسلام مامون و مطمئن ہو کر خدا کی عبادت کرسکیں اور دولت ایمان و توحید کفار کے ہاتھوں سے محفوظ ہو ( چناچہ فتنہ کی یہ ہی تفسیر ابن عمر وغیرہ صحابہ ؓ سے کتب حدیث میں منقول ہے)
9 یہ " جہاد " کا آخری مقصد ہے کہ کفر کی شوکت نہ رہے۔ حکم اکیلے خدا کا چلے۔ دین حق سب ادیان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 39–40
آیت 39 وَقَاتِلُوْہُمْ حَتّٰی لاَ تَکُوْنَ فِتْنَۃٌ وَّیَکُوْنَ الدِّیْنُ کُلُّہٗ لِلّٰہِ ج۔
یہی حکم سورة البقرۃ کی آیت 193 میں بھی آچکا ہے۔ البتہ یہاں اس کے الفاظ میں کُلُّہٗکی اضافی شان اور مزید تاکید پائی جاتی ہے۔ یعنی اے مسلمانو ! تمہاری تحریک کو شروع ہوئے پندرہ برس ہوگئے۔ اس دوران میں دعوت ‘ تنظیم ‘ تربیت اور صبر محض کے مراحل کامیابی سے طے ہوچکے ہیں۔ چناچہ اب passive resistance کا دور ختم سمجھو۔ نبی اکرم ﷺ کی طرف سے اقدام active resistance کا آغاز ہوچکا ہے اور اس اقدام کے نتیجے میں اب یہ تحریک مسلح تصادم armed conflict کے مرحلے میں داخل ہوگئی ہے۔ لہٰذا جب ایک دفعہ تلواریں تلواروں سے ٹکرا…
Read the full tafseer →40 فتنہ کا مفہوم اور جہاد کی ضرورت :۔ فتنہ کا لفظ بڑا وسیع المعنیٰ ہے اور یہاں اس کا مفہوم اسلام کے خلاف ہر وہ معاندانہ کوشش ہے جو اسلام کی راہ میں رکاوٹ بن رہی ہو۔ ایسی رکاوٹ کو راستے سے ہٹانے اور اسلام کی راہ صاف کرنے کا نام جہاد فی سبیل اللہ ہے۔ اب ان معاندانہ سرگرمیوں کی بھی دو قسمیں ہیں۔ ایک یہ کہ جہاں مسلمان رہتے ہوں وہاں کے کافر انہیں شرعی احکام بجا لانے کی راہ میں رکاوٹیں پیدا کردیں یا ان پر عرصہ حیات تنگ کردیں اور دوسری قسم یہ ہے کہ مسلمان اپنی جگہ تو آزاد ہوں مگر دوسروں تک اسلام کی آواز پہنچانے میں رکاوٹیں کھڑی کردی جائیں۔ اسلام ان دونوں صورتوں میں جہاد کا حکم دیتا ہے۔ آج کی زبان…
Read the full tafseer →54 ۔ (اور یہ موقوف ہے قبول اسلام پر) ای یضمحل عنھم کل دین باطل ویبقی فیھم دین الاسلام وحدہ (مدارک) ای تضمحل الادیان الباطلۃ کلھا اما بھلاک اھلھا جمیعا اوبرجوعھم عنھا خشیۃ القتل (روح) اس پر حاشیے اسی مضمون کی آیت پر پارۂ دوم میں گزرچکے۔ قاتلوھم “۔ ضمیر۔ ھم، مشرکین عرب کی جانب ہے۔ (آیت) ’ حتی لا تکون فتنۃ “۔ یعنی شرک باقی نہ رہ جائے الی ان لایوجدفیھم شرک قط (مدارک) اے کفر (قرطبی) قال ابن عباس والحسن حتی لایکون شرک (جصاص) یہ تفسیر فقہ حنفی کے مطابق ہے بعض ائمہ نے فتنۃ سے مراد فساد وحرب لی ہے۔ (آیت) ” ویکون الدین کلہ للہ “۔ فقہاء نے آیت کے عموم سے جملہ اصناف کفار کے ساتھ قتال واجب ٹھیرایا ہے بجز…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 39–40
وَقاتلو ھم حَتّٰی لا تکون فتنة ویکونَ الدین کُلُّہ للہ، اس آیت کے دو جزء ہیں ایک سلبی اور دوسرا ایجابی، سلبی جزء تو یہ ہے کہ فتنہ باقی نہ رہے اور ایجابی جزء یہ ہے کہ دین مکمل طور پر اللہ کا ہوجائے، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلام میں قتال وجدال کی اجازت صرف ان ہی دو مقاصد کیلئے ہے دوسرے کسی مقصد کے لئے اجازت نہیں ہے۔ اس آیت میں دو لفظ قابل غور ہیں ایک لفظ فتنہ دوسرا لفظ دین، عربی لغت کے اعتبار سے یہ دونوں لفظ متعدد معنی کے لئے استعمال ہوتے ہیں۔
ائمہ تفسیر صحابہ وتابعین سے اس جگہ فتنہ کے دو معنی منقول ہیں ایک یہ کہ فتنہ سے مراد شرک و کفر اور دین سے مراد اسلام لیا جائے، حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سے…
Read the full tafseer →وقاتلوھم حتی لا تکون فتنۃ ویکون الدین کلہ اللہ ج اور (اے مسلمانو ! ) ان کافروں سے اس حد تک لڑو کہ فتنہ (یعنی شرک اور ملک میں فساد) نہ رہے اور دین (خالص) اللہ ہی کا ہوجائے۔ فتنہ سے مراد ہے زمین پر فساد ہونا (اور زمین پر سب سے بڑا فساد ہے شرک کا اقتدار ‘ لہٰذا) فتنہ نہ رہنے کا مطلب یہ ہے کہ یہ مسلمان ہوجائیں یا ذلیل ہو کر جزیہ ادا کریں (بہرحال اقتدار مشرکوں کے ہاتھوں میں نہ رہے) دین سے مراد ملت اسلام اور اسلامی عبادت و فرائض نہیں ورنہ ادائے جزیہ والی آیت میں اور اس آیت میں تناقض پیدا ہوجائے گا (جزیہ والی آیت میں تو حکم دیا گیا ہے کہ اگر کفار جزیہ ادا کریں ‘ یعنی مسلمانوں کے اقتدار کو مان لیں تو…
Read the full tafseer →(39) اور مومنوں ! مکہ کے کافروں سے اس حد تک لڑائی کرو کہ ان میں کفر وشرک بتوں کی پوجا اور حدود حرم میں رسول اکرم ﷺ کے ساتھ لڑائی کا وسوسہ باقی نہ رہے اور حرم اور پرستش میں صرف دین اسلام ہی باقی رہ جائے، پھر اگر یہ کفر وشرک اور بتوں کی پوجا اور رسول اکرم ﷺ کے ساتھ قتال سے رک جائیں تو اللہ تعالیٰ خیر وشر ہر ایک سے باخبر ہے۔
Read the full tafseer →وَقَاتِلُوْهُمْ حَتّٰي لَا تَكُوْنَ فِتْنَةٌ : ”فِتْنَةٌ“ کے لفظی معنی آگ میں تپانے اور آزمانے کے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اس وقت تک کفار سے لڑتے رہو جب تک کسی شخص کے اسلام لانے پر مشرکوں کی اسے ستانے اور آزمائش میں ڈالنے کی قوت ختم نہیں ہوجاتی اور تمام دنیا سے شرک کا غلبہ ختم نہیں ہوتا۔ اس لیے صحیح احادیث میں فتنہ کا معنی شرک بھی آیا ہے۔ مگر اس سے مراد زبردستی مسلمان بنانا اور مشرکین و کفار کو ختم کرنا نہیں، فرمایا : (لَآ اِكْرَاهَ فِي الدِّيْنِ) [ البقرۃ : 256 ] ”دین میں کوئی زبردستی نہیں۔“ کیونکہ پھر کفار کے جزیہ دینے کی نوبت ہی نہیں آسکتی، بلکہ اس وقت تک لڑتے رہنا ہے جب تک ایمان لانے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 39–40
آیت نمبر : 39۔ 40
قولہ تعالیٰ : آیت : وقاتلوھم حتی لا تکون فتنۃ یعنی اور لڑتے رہو ان سے یہاں تک کہ کفر باقی نہ رہے ( یعنی اس میں فتنہ سے مراد کفر ہے) آیت کے آخر تک معنی و مفہوم اور اس کے الفاظ کی تفسیر سورة البقرہ اور دیگر مقامات پر گزر چکی ہے۔ والحمد للہ
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–40
1۔ ابن احمد ومسلم نے عمرو بن عاص ؓ سے روایت کیا کہ جب اللہ تعالیٰ نے میرے دل میں اسلام کو ڈال دیا تو میں نبی کریم ﷺ کے پاس آیا اور میں نے عرض کیا اپنے ہاتھ کو بڑھائے تاکہ میں آپ سے بیعت کروں آپ نے اپنا داہنا ہاتھ بڑھا دیا تو میں نے اپنے ہاتھ کو کھینچ لیا آپ نے فرمایا کیا ہوا تجھ کو ؟ میں نے عرض کیا کہ میں نے شر ط لگانے کا ارادہ کیا ہے آپ نے فرمایا تو کون سی شرط لگانا چاہتا ہے۔ میں نے عرض کیا کہ میری مغفرت کردی جائے آپ نے فرمایا کیا تو نہیں جانتا کہ اسلام پہلے والے سب گناہوں کو ختم کردیتا ہے اور ہجرت پہلے والے سب گناہوں کو ختم کردیتی ہے۔ اور حج بھی پہلے والے سب گناہوں کو ختم کردیتا ہے۔
2:۔ ابن…
Read the full tafseer →[ وَقَاتِلُوْهُمْ : اور تم لوگ جنگ کرو ان سے ] [ حَتّٰي : یہاں تک کہ ] [ لَا تَكُوْنَ : نہ رہے ] [ فِتْنَةٌ : کوئی تشدد ] [ وَّيَكُوْنَ : اور یہاں تک کہ ہوجائے ] [ الدِّيْنُ : نظام حیات ] [ كُلُّهٗ : اس کا کل ] [ لِلّٰهِ ۚ : اللہ کے لیے ] [ فَاِنِ : پھر اگر ] [ انْتَهَـوْا : وہ لوگ باز آجائیں ] [ فَاِنَّ اللّٰهَ : تو بیشک اللہ ] [ بِمَا : اس کو جو ] [ يَعْمَلُوْنَ : وہ لوگ کرتے ہیں ] [ بَصِيْرٌ: دیکھنے والا ہے ]
ترکیب : (آیت ۔ 39) حتی پر عطف ہونے کی وجہ سے یکون حالت نصب میں ہے۔
نوٹ ۔ 1: آیت ۔ 39 میں فتنۃ کا لفظ تشدد (Persecution) کے مفہوم میں ہے ۔ یعنی مسلمانوں کو بجبر وظلم دین حق سے روکنے…
Read the full tafseer →کافروں سے لڑتے رہو یہاں تک کہ سارا دین اللہ ہی کے لیے ہوجائے
یہ دو آیتوں کا ترجمہ ہے۔ پہلی آیت میں ارشاد فرمایا کہ کافروں سے یہاں تک لڑو کہ فتنہ یعنی کفر و شرک باقی نہ رہے اور سارادین اللہ ہی کے لیے ہوجائے۔ یعنی اہل کفر اسلام قبول کرلیں اور موحد ہوجائیں۔ بعض مفسرین نے فرمایا ہے کہ اس سے کفار عرب مراد ہیں۔ چونکہ ان سے جزیہ قبول نہیں کیا جاتا اس لیے یہ حکم دیا گیا کہ کفار عرب سے یہاں تک جنگ کرو کہ جزیرۃ العرب میں کفر نہ رہے۔ پورا جزیرہ اسلام کا گہوارہ ہوجائے اور بعض حضرات نے فرمایا ہے کہ آیت کے یہ معنی ہیں کہ برابر کافروں سے لڑتے رہو وہ جہاں کہیں بھی ہوں یہاں تک کہ اسلام کا غلبہ ہوجائے۔ غلبہ کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–40
احکام متعلقہ بقبول اسلام وعدم قبول اسلام
قال اللہ تعالیٰ قل للذین کفروا ان ینتھوا۔۔۔ الی۔۔۔۔ ونعم النصیر
(ربط) گزشتہ آیت میں کفار کے خسران اور نقصان کا بیان تھا اب ان آیات میں یہ بتلاتے ہیں کہ خسارہ اور نقصان نکلنے کا راستہ سوائے اس کے کچھ نہیں کہ انے کفر اور عناد اور عداوت سے باز آجائیں اور اسلام میں داخل ہوجائیں تو گزشتہ کے تمام کفریات بخش دئیے جائیں گے۔
(ربط دیگر) کہ گزشتہ آیات میں کفار کے اقوال کفریہ اور اعمال کفریہ کا بیان تھا اب ان آیات بینات کے سننے کے بعد کفار کی دو حالتیں ہیں یا تو اسلام قبول کریں گے یا اپنے کفر اور عناد پر قائم رہیں گے۔ آئندہ آیات میں ان دو حالتوں کے متعلق احکام…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 39–40
41: یہاں سورت کا دعوی اجمالا ذکر کیا گیا ہے۔ اس کی تفصیل سورة توبہ رکوع 4 میں آئیگی۔ فرمایا اگر وہ باز نہیں آتے تو آپ ان سے جہاد کریں یہاں تک کہ انکا زور ختم ہوجائے اور مسلمان ان کے فتنے سے بچ جائیں۔ “ فَاِنِ انْتَھَوْاالخ ” اگر وہ کفر و شرک اور جنگ و قتال سے باز آجائیں اور اسلام قبول کرلیں تو اللہ تعالیٰ جو ان کے تمام ظاہری اور باطنی اعمال کو دیکھ رہا ہے ان کو اسلام پر ثبات و استقلال کی توفیق عطا فرمائے گا۔ “ وَ یَکُوْنَ الدِّيْنُ کُلُّهٗ لِلّٰهِ ” یعنی مشرکین عرب سے یہاں تک جہاد کرو کہ عرب سے شرک مٹ جائے اور صرف اللہ ہی کی عبادت اور پکار باقی رہ جائے اور مشرکین عجم سے یہاں تک جہاد کرو کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–40
ربطِ آیات :
گزشتہ درس میں اس بات کا ذکر کیا گیا تھا کہ کافر لوگ اپنے مالوں کو اسلام کے راستے میں رکاوٹ ڈالنے کے لیے خرچ کرتے ہیں اللہ نے فرمایا کہ ان کا خرچ کیا ہوا یہی مال ان کے لیے حسرت کا باعث بن جائے گا۔ یہ لوگ دنیا میں بھی اسلام کے ہاتھوں مغلوب ہوں گے اور آخرت میں ان کو جہنم میں جھونک دیا جائے گا۔ اللہ نے یہ بھی فرمایا کہ وہ خبیث کو طیب سے الگ کر دے گا اور پھر ہر ایک کو اپنے اپنے مرکز اور ٹھکانے تک پہنچا دے گا خبیث انسان ہو یا مال ہو یا ان کے عقائد سب کو ایک ڈھیر بنا کر جہنم میں ڈال دیا جائے گا۔
معافی کی گنجائش :
اسی سلسلہ کلام کو آگے بڑھاتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے حضور ﷺ کو خطاب کر کے…
Read the full tafseer →وَقَاتِلُوْہُمْ حَتّٰي لَا تَكُوْنَ فِتْنَۃٌ وَّيَكُوْنَ الدِّيْنُ كُلُّہٗ لِلہِ 0 ۚ فَاِنِ انْتَہَـوْا فَاِنَّ اللہَ بِمَا يَعْمَلُوْنَ بَصِيْرٌ 39
قتل
أصل القَتْلِ : إزالة الروح عن الجسد کالموت، لکن إذا اعتبر بفعل المتولّي لذلک يقال : قَتْلٌ ، وإذا اعتبر بفوت الحیاة يقال : موت . قال تعالی: أَفَإِنْ ماتَ أَوْ قُتِلَ [ آل عمران/ 144]
( ق ت ل ) القتل
( ن ) الموت کی طرح اس کے معنی بھی جسم سے روح کو زائل کرنے کے ہیں لیکن موت اور قتل میں فرق یہ ہے کہ اگر اس فعل کو سرا انجام دینے والے کا اعتبار کیا جائے تو اسے قتل کہا جاتا ہے اور اگر صرف روح کے فوت ہونے کا اعتبار کیا جائے تو اسے موت کہا جاتا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–40
ترکیب : ینفقون اموالہم خبر ہے ان کی لیصدوا ینفقون سے متعلق ویجعل کا۔ الخبیث مفعول الاول بعضہ اس سے بدل ‘ بدل
البعض علی بعض مفعول ثانی بواسطہ جر ای لبعض الخبیث علی بعض او بعض الخبیث غالبا علی بعض ان ینتہوا شرط یغفر جواب۔ ماقد سلف مفعول مالم یسم فاعلہ یغفر کا۔ فتنۃ اسم ہے کان تامہ کا کلہ الدین کی تاکید یہ اسم اللّٰہ خبر نعم المولیٰ مخصوص بالمدح اللہ محذوف۔
تفسیر : یہاں ان کے قابل عذاب ہونے کی ایک اور بات بیان فرماتا ہے کہ وہ اپنے مال اللہ کے رستے سے روکنے کے لئے خرچ کرتے ہیں۔ چناچہ بدر کی جنگ میں ابو جہل وغیرہ قریش کے مال داروں نے خدا پرستوں کے مقابلہ میں ان کفاروں کو کھانا دیتے تھے جن کو ہدم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 39–40
وَقَاتِلُوْھُمْ حَتّٰی لَا تَکُوْنَ فِتْنَۃٌ وَّیَکُوْنَ الدِّیْنُ کُلُّہٗ لِلّٰہِ ج فَاِنِِ انْتَھَوْا فَاِنَّ اللّٰہَ بِمَا یَعْمَلُوْنَ بَصِیْرٌ۔ وَاِنْ تَوَلَّوْا فَاعْلَمُوْ ٓ ا اَنَّ اللّٰہَ مَوْلٰـکُمْ ط نِعْمَ الْمَوْلٰی وَنِعْمَ النَّصِیْرُ ۔ (الانفال : 39، 40 )
(ان سے جنگ کرو تاآنکہ فتنہ باقی نہ رہے اور سارا دین اللہ کا ہوجائے پس اگر وہ باز آجائیں تو اللہ جو کچھ وہ کررہے ہیں اس کو دیکھ رہا ہے۔ اور اگر انھوں نے روگردانی کی تو خوب جان لو کہ اللہ تمہارا مولا ہے کیا ہی خوب مولا ہے اور کیا ہی اچھا مددگار ہے۔ )
مسلمانوں کو جہاد کا حکم
کفر کی طاقتیں اگر اپنا رویہ بدلنے کے لیے تیار نہیں تو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 39–40
فہم القرآن
ربط کلام : جو کفار اپنی روش سے باز نہیں آتے ان کے خلاف جہاد کا حکم ہے۔
اسلام میں قتال فی سبیل اللہ کا تصور یہ ہے کہ اگر کفار بقائے باہمی کی بنیاد پر مسلمانوں کے ساتھ مفاہمت کرنا چاہیں تو مسلمانوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ امن پسند کفار کے ساتھ قتال کرنے سے باز رہیں۔ بشرطیکہ اہل کفر تبلیغ دین میں رکاوٹ بننے کی کوشش نہ کریں کیونکہ اسلام کا نقطۂ نگاہ یہ ہے کہ لوگوں تک حق پہنچانا مسلمانوں کی ذمہ داری ہے اگر لوگ اپنی خوشی سے حلقۂ اسلام میں داخل ہونا چاہیں تو ان کی راہ میں رکاوٹ بننے کا کسی کو حق نہیں پہنچتا۔ لیکن کفار دین اسلام کی راہ میں رکاوٹ بنتے ہیں اگر وہ اپنی سازشوں سے باز نہیں آتے تو…
Read the full tafseer →فسادِ اعتقاد تک لڑو :
آیت 39: وَقَاتِلُوْھُمْ حَتّٰی لَا تَکُوْنَ فِتْنَۃٌ (اور تم ان سے اس حد تک لڑو کہ ان میں فساد عقیدہ نہ رہے) جس وقت تک ان میں شرک نہ پایا جائے۔ وَّ یَکُوْنَ الدِّیْنُ کُلُّہٗ لِلّٰہِ (اور دین اللہ ہی کا ہوجائے) ہر دین باطل مضمحل ہوجائے اور فقط دین اسلام باقی رہ جائے۔ فَاِنِ انْتَھَوْا (پھر اگر یہ باز آجائیں) کفر سے باز آجائیں اور اسلام لے آئیں۔ فَاِنَّ اللّٰہَ بِمَا یَعْمَلُوْنَ بَصِیْرٌ (تو اللہ تعالیٰ ان کے اعمال کو خوب دیکھتے ہیں) ان کو اسلام پر ثواب دے گا۔
Read the full tafseer →39(وقاتلوھم حتی لاتکون فتنۃ) یعنی شرک، ربیع (رح) فرماتے ہیں کہ تاکہ مئومن اپنے دین سے فتنہ میں مبتلا نہ ہو (ویکون الدین کلہ للہ) یعنی اس میں کوئی شرک نہ ہو (فان انتھوا فان اللہ بما یعملون بصیر “ ) یعقوب نے تعملون تاء کے ساتھ اور دیگر حضرات نے یاء کے ساتھ پڑھا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–40
38۔ 40۔ ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے حضرت رسول مقبول ﷺ کو یہ حکم فرمایا کہ ابو سفیان وغیرہ کفار سے یہ بات کہہ دو اگر تم لوگ کفر سے اور ارادہ قتل مومنین سے باز رہ کر دائرہ اسلام میں آجاؤ گے تو تمہارے جتنے گناہ ہیں وہ سب بخش دئے جائیں گے مسند امام احمد اور مسلم میں عمر وبن عاص ؓ کی ایک حدیث ہے جس میں عمر بن عاص ؓ کہتے ہیں کہ جب خدا نے میرے دل میں اسلام کا ارادہ ڈالا تو میں حضرت کے پاس حاضر ہوا اور آپ سے بیعت کرنے کو ہاتھ بڑھایا جب حضرت ﷺ نے ہاتھ بڑھایا تو میں نے اپنا ہاتھ کھینچ لیا آپ نے فرمایا یہ کیا بات ہے میں نے کہا کہ ایک شرط ہے آپ نے اس شرط کا حال دریافت فرمایا تو میں نے کہا کہ پہلے آپ میرے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–39
آیت 37
اللہ تبارک و تعالیٰ مشرکین کی عداوت، ان کے مکرو فریب، اللہ اور اس کے رسول کے ساتھ ان کی مخالفت، اللہ کے چراغ کو بجھانے کے لئے ان کی کوششوں اور اللہ تعالیٰ کے کلمہ کو نیچا دکھانے کے لئے ان کی تگ و دو کا ذکر کرتے ہوئے واضح کرتا ہے کہ ان کے مکر و فریب اور ان کی سازشوں کا وبال انہی پر پڑے گا۔ مکر و فریب کی برائی صرف فریب کاروں کو اپنی لپیٹ میں لیتی ہے۔ (ان الذین کفروا ینفقون اموالھم لیصدوا عن سبل اللہ) ” کافر اپنے مال خرچ کرتے ہیں تاکہ وہ اللہ کے راستی سے روکیں “ یعنی تاکہ وہ حق کا ابطال کر کے باطل کی مدد کریں اور اللہ رحمٰن کی وحدانیت کی نفی کر کے بتوں کی عبادت کے دین کو قائم کریں۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 39–40
جنگ کا مقصود غلبہ دین ہے
قول باری ہے وقاتلوھم حتی لاتکون فتنۃ ویکون الدین کلہ للہ۔ اے ایمان لانے والو ! ان کافروں سے جنگ کرو۔ یہاں تک کہ فتنہ باقی نہ ہے اور دین پورے کا پورا اللہ کے لئے ہوجائے) حضرت ابن عباس ؓ اور حسن کا قول ہے کہ شرک باقی نہ رہے۔ محمد بن اسحاق کا قول ہے کہ ان سے جنگ کرو یہاں تک کہ کسی مومن کو اس کے دین سے ہٹانے کا عمل باقی نہ رہے۔ اس مقام پر فتنہ سے کفر مراد لینا بھی درست ہے اور سرکشی و فساد مراد لینا بھی جائز ہے اس لئے کہ کفر کو اس کے اندر پائے جانے والے فساد کی بنا پر فتنہ کا نام دیا گیا ہے۔ اس لئے آیت کفار سرکشوں اور فساد مچانے والوں کیخلاف قتال کے حکم کو متضمن ہوگی۔ آیت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–40
67 منکرین کے لیے عذاب سے رہائی کی صورت : سو ان کی رہائی کی ایک ہی صورت ہے کہ یہ لوگ اپنے کفر و شرک سے باز آجائیں۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ اگر یہ لوگ باز آگئے اپنے کفر و شرک سے تو ان کے گزشتہ گناہ معاف کردیے جائیں گے۔ سو کفر و شرک سے باز آنے کا فائدہ خود اہل کفر و باطل ہی کو ہوگا۔ تو اس طرح کفر و باطل سے باز آنے میں خود انہی لوگوں کا بھلا اور فائدہ ہے کہ اس طرح یہ لوگ دائمی خسارے اور ابدی نقصان سے بچ جائیں گے اور حضرت حق ۔ جل مجدہ ۔ کی رحمت و عنایت کی پناہ میں آجائیں گے۔ اور دنیا و آخرت کی سعادت و سرخروئی سے سرفراز ہوں گے۔ ورنہ یہ خود اپنا ہی نقصان کریں گے اور ہولناک خسارے میں مبتلا ہوں گے ۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 35–40
مشرکین مکہ کے بڑے بڑے گناہ
تشریح : ان آیات میں سب سے پہلے تو کفار کے غلط طریقے اور غلط خیال کا ذکر کیا گیا ہے وہ اس طرح کہ انہوں نے نیک اور عبادت گزار لوگوں کو خانہ کعبہ میں عبادت کرنے سے منع کیا، یعنی وہ سمجھتے تھے کہ وہی خانہ کعبہ کے متولی ہیں اور ان کو یہ معلوم نہ تھا کہ یہاں تو صرف پاکباز لوگ ہی عبادت کرسکتے ہیں۔ ان کی عبادت کا طریقہ تو سو فیصد غلط اور بےہودہ تھا وہ اس طرح کہ خانہ کعبہ کے اندر بت رکھے ہوئے تھے اور خانہ کعبہ کا طواف یوں کرتے کہ سیٹیاں بجاتے تالیاں پیٹتے اور برہنہ ہو کر طواف کرتے۔
دوسری بہت بڑی غلطی جو انہوں نے کی وہ مال خرچ کرنے کا غلط طریقہ اختیار کیا۔ وہ اس طرح کہ اپنا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–41
آیات 38 تا 41
اسرار و معارف
مکر اللہ کے کرم کی تو انتہا نہیں آپ کفار سے بھی کہد دیجئے کہ اگر وہ اب بھی باز آجائیں تو جو ہوچکا اللہ کریم وہ معارف کردیں گے کافر اگر اللہ کا دین قبول کرلے تو سلام می داخل ہونا گذشتہ تمام جرائم کو مٹا دیتا ہے مگر اسلام کا داخلہ یہ ہے کہ کفر کو چھوڑ بھی دے یہ اسلام نہ ہوگا کہ کہہ دے آپ کی بات قبول کرتا ہوں اور پھر بتوں کو سجدے بھی کرتا رہے لہٰذا فرمایا کہ وہ باز آجائیں کفر اور اس کے کردارواعمال کو چھوڑدیں تو اگر کافربازآکر بچ سکتا ہے ۔
توبہ
تو مومن کی توبہ تو بدرجہ اولی قبول ہوتی ہے مگر حقیقی تو بہ یہی ہے کہ کردار کی اصلاح کی جائے اور گناہ کو ترک کرکے اللہ سے مغفرت…
Read the full tafseer →ف 8 یا مسلمانوں کو ظلم وستم کا نشانہ بنانا ختم ہوجائے۔ لفظ فتنہ کے لغوی معنی تیانے اور آزمانے کے ہیں اس لیے اس سے مراد شرک بھی ہوسکتا ہے اور مسلمانوں کو دین اسلام سے پھیر نے کے لیے ستانا بھی مفسرین نے اس کے یہ دونوں مطلب بیان کئے ہیں۔ ( از ابن کثیر)9 یعنی سب مذاہب پر اسلام کا غلبہ ہوجائے جیسا کہ نزول مسیح ( علیہ السلام) کے وقت ہوگا۔ اس کو نبی ﷺ نے ایک حدیث میں یوں بیان فرمایا مجھے یہ حکم ملا ہے کہ میں اس وقت تک لوگوں سے جنگ کرتارہوں جب تک وہ لا الہ الا اللہ کے قائل نہیں ہوجاتے چناچہ جب وہ اس کے قائل ہوجائیں گے تو مجھ سے اپنے خون اور مال بچالیں الہ یہ کہ ان پر کوئی اسلام کا قانونی حق عائد ہوتا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 39–40
(8:39) فتنۃ۔ ای فساد فی الارض (مظہری) شرک (بیضاوی) ۔
الذین۔ دین الاسلام (الخازن۔ مدارک التنزیل، بیضاوی، الکشاف، الدین بمعنی القھع، الخلیۃ، الاستعلائ، والسلطان۔ یعنی غلبہ۔ بالادستی۔ قوت و اقتدار (مظہری)
مولکم۔ ناصرکم ومعینکم۔ تمہارا حامی و مددگار۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–40
آیات : 34 تا 40
لغات القرآن۔
مکاء۔ سیٹیاں۔ تصدیۃ۔ (صدی) ۔ تالیاں بجانا۔ لیصدوا۔ تاکہ وہ روک دیں۔ لیمیز۔ (یمیز) تاکہ وہ الگ الگ کردے۔ الخبیث۔ گندگی۔ الطیب۔ پاکیزگی۔ یرکم۔ (رحکم) ۔ وہ ڈھیر بنا دے گا۔ گٹھا بنا دے گا۔ ان ینتھوا۔ اور اگر وہ رک جائیں۔ سلف۔ گزر گیا۔ ان یعودوا۔ اور اگر وہ پلٹ جائیں۔ مضت۔ گزر گئی۔ سنت الاولین۔ پہلے لوگوں کا طریقہ۔ مولی۔ ستھی۔ نعم المولیٰ ۔ بہترین ساتھی۔ نعم النصیر۔ بہترین مددگار۔
تشریح : قریش مکہ نے خیر مانگے کے بجائے اللہ سے یہ مانگا کہ ان پر پتھروں کی بارش کردی جائے یا درد ناک عذاب بھیج دیا جائے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ بدر کے میدان میں زبردست شکست تمہارے لئے اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–40
ہدایت او جنگ کا حکم
ان آیتوں میں للہ تعالیٰ نے حضرت مقبول ﷺ کو یہ حکم فرمایا کہ ابوسفیان وغیرہ کفار سے یہ بات کہ دو کہ اگر تم لوگ کفر سے اور ارادہ قتل مومنین سے باز رہ کر دائرہ اسلام میں آجاؤگے تو تمہارے جتنے گناہ ہیں وہ سب بخش دیئے جائیں گے پھر اللہ تعالیٰ نے یہ فرمایا کہ ان لوگوں سے یہ بھی کہ دو کہ اگر تم لوگ اپنے اسی کفر ونفاق پر جمے رہوگے اور اللہ کے رسول کی مخالفت کئے جاؤگے تو یاد رکھو کہ اللہ کے کارخانہ قدرت میں قاعدہ یوں ہی جاری رہا ہے کہ وہ اپنے انبیاء اور مومنین کی مدد کرتا ہے اور کفار کو ہلاک کردیتا ہے۔ پھر حضرت محمد ﷺ کو فرمایا کہ آپ اور مومنین ان کفار سے جنگ کریں یہاں تک کہ شرک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–40
[10] مال اور اولاد کی محبت ہی عام طور پر انسان کو خیانت پر اور اللہ اور رسول کی اطاعت سے گریز پر مجبور کرتی ہے۔ اس لئے ان کو فتنہ (آزمائش) قرار دیا گیا ہے یعنی اس کے ذریعے سے انسان کی آزمائش ہوتی ہے کہ ان کی محبت میں امانت اور اطاعت کے تقاضے پورے کرتا ہے یا نہیں۔ اگر وہ پورے کرتا ہے تو اس آزمائش میں کامیاب ہے ' بصورت دیگر ناکام۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 39–40
جہاد کی غرض اقصی :
(ف 1) اسلام جنگ وجدال کو بالطبع ناپسندیدہ ٹھہراتا ہے ، اس کے نزدیک صلح وآشتی سے بہتر کوئی چیز نہیں ، البتہ جب کفر ” فتنہ “ کا باعث ہوجائے ، یعنی مسلمانوں کی آزادی چھن جائے ، ایمان وجہ ابتلاء بن جائے محض مسلمان ہونا مصیبت قرار پائے اس وقت جہاد فرض ہوجاتا ہے اسلام جہاں صلح ومن کا خواہاں ہے وہاں کفر سے دب کر رہنا بھی پسند نہیں کرتا اور کون نہیں جانتا کہ صلح دامن کے لئے بھی بعض دفعہ خون بہانا پڑتا ہے ، اسلامی جہاد کی غرض وغایت یہ ہے کہ دین میں آزادی ہو ، اللہ تعالیٰ کے دین میں اور کوئی قوت حائل نہ ہو ، ہر مسلمان پوری آزادی سے اسلامی احکام کو ادا کرسکے ،
Read the full tafseer →39 اور اے مسلمانو ! تم ان منکرین دین حق سے اس وقت تک جنگ کرتے رہو۔ اور کفارِ عرب سے اس حد تک جنگ جاری رکھو کہ اس فتنہ کا نام و نشان باقی رہے اور دین تمام تر اللہ ہی کا ہوجائے پھر اگر یہ لوگ اپنے کفر و شرک سے باز آجائیں تو اللہ تعالیٰ ان سب کے اعمال کا دیکھنے والا ہے۔ یعنی منکرین عرب پر چونکہ جزیہ نہیں ہے اس لئے ان سے اس وقت تک لڑو جب تک ان کا فتنہ یعنی ان کے عقائد فاسدہ کا استیصال نہ ہوجائے اور تمام دین اللہ تعالیٰ ہی کے لئے ہوجائے یعنی یہ شرک چھوڑ دیں اور ان کا دین اللہ ہی کے لئے خالص ہوجائے پس اگر یہ باز آجائیں اور شرک کو چھوڑ کر اسلام قبول کرلیں تو تم ان کو چھوڑ دو اور بلاوجہ ان پر بدگمانی…
Read the full tafseer →ف 7۔ کسی کے دین کا خالصا اللہ ہی کے لیے ہوجانا موقوف ہے قبول اسلام پر تو حاصل یہ ہوا کہ شرک چھوڑ کر اسلام نہ لائیں تو ان سے لڑو جب تک کہ اسلام نہ لائیں کیونکہ کفار عرب سے جزیہ نہیں لیا جاتا۔
8۔ یعنی اگر کفر سے باز آجائیں تو ان کے ظاہری اسلام کو قبول کرو دل کا حال مت ٹٹولو اگر یہ دل سے ایمان نہ لائیں گے تو اللہ ان کے اعمال کو خوب دیکھتے ہیں وہ آپ سمجھ لیں گے تم کو کیا۔
Read the full tafseer →مسلمانوں سے خطاب کہ اب جہاد جاری رکھو یہاں تک کہ دی اللہ کے لئے ہوجائے :
52: مسلمانوں کو کفار سے جہاد جاری رکھنے کا حکم دیا جا رہا ہے اور ساتھ ہی اس کی وضاحت بھی فرمادی ہے کہ یہ حکم دیا جا رہا ہے فرمایا اس لئے کہ ایک طرف ” فتنہ “ کا خاتمہ ہوجائے اور دوسرا ” دین “ خالصۃً اللہ کے لئے ہوجائے۔ ” فتنہ “ کیا تھا جس کا باقی رہنا صحیح نہ تھا ؟ فتنہ یہ تھا کہ کفار مسلمانوں پر ظلم کر کے جبراً اسلام سے روکنا چاہتے تھے اور روک رہے تھے۔ فرمایا اب جب جہاد کا حکم عام تم کو دے دیا تو اب یہ جہاد اس وقت تک جاری رہنا ضروری ہے جب تک کفار اپنی اس روش سے باز نہ آجائیں اور اس سر زمین سے اس فتنہ کا استیصال ہوجائے…
Read the full tafseer →Commentary
We are now on verse 39 of Surah al-Anfal. Two words: فِتْنَةٌ (Fitnah) and دينُ (Deen) used here need our attention since both are used in many shades of meaning lexically.
At this place, two meanings have been reported from authorities of Tafsir from among the Sahabah and Tabi` in: (1) That Fitnah is taken to mean Kufr and Shirk, and Din is taken to mean the Deen of Islam. This very Tafsir has been reported from Sayyidna ` Abdullah ibn ` Abbas ؓ . Given this exegetic view, the verse would mean that Muslims must continue fighting disbelievers until disbelief disintegrates yielding…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 39–40
31. This is a reiteration of the purpose, mentioned earlier in al-Baqarah 2: 193, for which Muslims are required to wage war. The purpose is two-fold. Negatively speaking, the purpose is to eradicate 'mischief'. The positive purpose consists of establishing a state of affairs wherein all obedience is rendered to God alone. This alone is the purpose for which the believers may, rather should, fight. Fighting for any other purpose is not lawful. Nor does it behove men of faith to take part in wars for worldly purposes. (For further explanation see Towards Understanding the Qur'an, vol. 1,…
Read the full tafseer →