Explained with ayahs 34–46
انتہائی ہولناک لرزہ خیز لمحات
طامتہ الکبریٰ سے مراد قیامت کا دن ہے اس لئے کہ وہ ہولناک اور بڑے ہنگامے والا دن ہوگا، جیسے اور جگہ ہے آیت (وَالسَّاعَةُ اَدْهٰى وَاَمَرُّ 46) 54۔ القمر :46) یعنی قیامت بڑی سخت اور ناگوار چیز ہے، اس دن ابن آدم اپنے بھلے برے اعمال کو یاد کرے گا اور کافی نصیحت حاصل کرلے گا، جیسے اور جگہ ہے آیت (يَوْمَىِٕذٍ يَّتَذَكَّرُ الْاِنْسَانُ وَاَنّٰى لَهُ الذِّكْرٰى 23ۭ) 89۔ الفجر :23) یعنی اس دن آدمی نصیحت حاصل کرلے گا لیکن آج کی نصیحت اسے کچھ فائدہ نہ دے گی، لوگوں کے سامنے جہنم لائی جائے گی اور وہ اپنی آنکھوں سے اسے دیکھ لیں گے اس دن سرکشی کرنے والوں اور دنیا کو دین پر…
Read the full tafseer →سورة النّٰزِعٰت 20
یعنی جب انسان دیکھ لے گا کہ وہی محاسبہ کا دن آ گیا ہے جس کی اسے دنیا میں خبر دی جا رہی تھی، تو قبل اس کے اس کا نامہ اعمال اس کے ہاتھ میں دیا جائے۔ اسے ایک ایک کر کے اپنی وہ سب حرکتیں یاد آنے لگیں گی جو وہ دنیا میں کر کے آیا ہے۔ بعض لوگوں کو یہ تجربہ خود اس دنیا میں بھی ہوتا ہے کہ اگر یکایک کسی وقت وہ کسی ایسے خطرے سے دوچار ہوجاتے ہیں جس میں موت ان کو بالکل قریب کھڑی نظر آنے لگتی ہے تو اپنی پوری زندگی کی فلم ان کے چشم تصور کے سامنے یک لخت پھرجاتی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–36
فَاَخَذَهُ اللّٰهُ نَكَالَ الْاٰخِرَةِ وَالْاُوْلٰى
نکال ایسے عذاب کو کہا جاتا ہے جس کو دیکھ کر دوسروں کو عبرت ہو اور سب سہم جائیں۔ نکال آخرت فرعون کے لئے آخرت کا عذاب ہے، اور نکال اولیٰ سے مراد وہ عذاب ہے جو دنیا میں اس کی پوری قوم کے غرق دریا ہوجانے سے ان کو پہنچا۔ اگے پھر منکرین حشر ونشر کے اس استبعاد اور شبہ کا ازالہ ہے کہ مرنے اور مٹی ہوجانے کے بعد کیسے دوبارہ زندہ کئے جاویں گے۔ اس میں حق تعالیٰ نے آسمان و زمین اور انکے اندر پیدا کی ہوئی عظیم مخلوقات کا ذکر کرکے انسان غافل کو اس پر متنبہ کیا ہے کہ جس ذات نے ایسی عظیم الشان مخلوقات کو ابتدائی وجود بغیر کسی مادہ و آلہ کے عظا فرمایا وہ اگر…
Read the full tafseer →یہ ’یَوْمَ‘ جواب شرط محذوف کا ظرف ہے جس طرح آیت ۶ میں ’یَوْمَ‘ مقسم علیہ محذوف کا ظرف ہے۔ یعنی اس دن انسان اپنے کیے کو یاد کرے گا۔ آج تو اس کو غفلت کی سرمستی میں کچھ ہوش نہیں کہ وہ کیا بنا رہا ہے، جب اس کو اس دن سے ڈرایا جاتا ہے تو اس کا مذاق اڑاتا ہے، لیکن اس دن اس کو ہوش آئے گا اور وہ دیکھے گا کہ وہ دنیا میں کیا کمائی کر کے آیا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–36
28۔ 1 ٹھیک ٹھاک کا مطلب اسے ایسی شکل صورت میں ڈھالنا ہے کہ جس میں کوئی تفاوت، کجی، شگاف اور خلل باقی نہ رہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–45
9: عرب کے کافر لوگ مرنے کے بعد دوبارہ زندہ ہونے کا جو انکار کرتے تھے، اس کی وجہ یہ تھی کہ وہ کسی مردے کے زندہ ہونے کو بہت مشکل سمجھتے تھے۔ اللہ تعالیٰ فرما رہے ہیں کہ کائنات کی دوسری چیزوں، مثلاً آسمان، کے مقابلے میں انسان کو پیدا کرنا زیادہ آسان ہے، اگر تم مانتے ہو کہ آسمان اللہ تعالیٰ نے پیدا فرمایا ہے تو پھر انسان کو دوبارہ پیدا کرنا اس کے لیے کیا مشکل ہے ؟
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–35
دنیا کی یہ زندگی چند روزہ ہے اور اس کے لئے یہاں نہایت گہرائی اور حکمت سے نظام زندگی اور سامان حیات تیار کیا گیا ہے۔ اس کائنات کا نظام اور انسانی زندگی کے نظام کے درمیان گہراربط ہے۔ لیکن اس کے باوجود یہ چند روزہ متاع ہے اور ایک دن اسے ختم ہونا ہے۔ جب وہ ہنگامہ عظیم برپا ہوگا تو اس زندگی کا نظام معطل ہوجائے گا۔ یہ چند روزہ زندگی ختم ہوگی۔ یہ عظیم کائنات ختم ہوگی۔ یہ بلندوبالا آسمان ، یہ بلند پہاڑ ، اور یہ وسیع و عریض زمین ، اور اس زمین کے اوپر برپا ہونے والی تمام کشمکش اور یہ سرگرمیاں سب کی سب ختم ہوجائیں گی کیونکہ یہ حادثہ بہت عظیم ہوگا اور بہت ہی عام ہوگا۔ یہ ہر چیز کو اپنی لپیٹ میں لے لے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–36
1 یعنی دوزخ کو اس طرح منظر عام پر لائیں گے کہ ہر دیکھنے والا دیکھ سکے گا۔ کوئی آڑ پہاڑ درمیان میں حائل نہ رہیگا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 35–38
آیت 35{ یَوْمَ یَتَذَکَّرُ الْاِنْسَانُ مَا سَعٰی۔ } ”اس دن انسان یاد کرے گا جو کچھ اس نے بھاگ دوڑ کی تھی۔“
اس دن انسان کی آنکھیں کھلیں گی اور جس شخص نے اپنی ساری زندگی دنیا کے مال و متاع کے پیچھے بھاگتے بھاگتے برباد کردی تھی اسے معلوم ہوجائے گا کہ اب آخرت کے لیے اس کے پاس کچھ بھی نہیں ہے۔ سورة الکہف کی اس آیت میں ایسے ہی لوگوں کا ذکر ہے : { قُلْ ہَلْ نُـنَـبِّئُکُمْ بِالْاَخْسَرِیْنَ اَعْمَالًا - اَلَّذِیْنَ ضَلَّ سَعْیُہُمْ فِی الْْحَیٰوۃِ الدُّنْیَا وَہُمْ یَحْسَبُوْنَ اَنَّہُمْ یُحْسِنُوْنَ صُنْعًا۔ } ”آپ ﷺ کہیے : کیا ہم تمہیں بتائیں کہ اپنے اعمال کے اعتبار سے سب سے زیادہ خسارے میں کون…
Read the full tafseer →25 اس بڑی مصیبت کا اصل مقصد سب کو معلوم ہوگا کہ آج کا دن لوگوں کے حساب کتاب کا دن ہے۔ اور ہر انسان کو اپنا اعمال نامہ دیکھنے سے پہلے ہی وہ تمام کام یاد آنے لگیں گے جو اس نے اپنی دنیا کی زندگی میں سرانجام دیئے تھے، خواہ وہ کام اچھے تھے یا برے تھے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–36
15۔ (اسی چشم ظاہری سے) دیدۂ بصیرت سے تو آج بھی غیب پر ہر ایمان رکھنے والا دوزخ کو دیکھ رہا ہے آخرت میں وہ مومن و کافر سب کے رویت ومشاہدہ میں انہیں ظاہری آنکھوں سے آجائے گی۔ (آیت) ” الطآمۃ الکبری “۔ طامۃ۔ وہ شے ہے جو دوسری چیزوں پر غالب آجائے۔ الطامۃ الداھیۃ التی تطم علی الدواھی اے تعلووتغلب (کشاف) قیامت چونکہ ہر چیز کی حالت بدل دے گی، اور سارے ممکنات وموجودات پر غالب آجائے گی، اس لئے قدرۃ اس کا لقب الطامۃ الکبر) قرار پایا۔ (آیت) ” ما سعی “۔ ما کے عموم سے یہ نکلا کہ دنیا کا کیا ہوا ہر عمل، اچھا ہو یا برا، بڑا ہو یا چھوٹا، اس وقت پیش نظر ہوجائے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–36
والارض بعد ذلک دحھا اس آیت میں زمین و پھیلانے اور ہموار کرنے کا ذکر ہے، خلق یعنی (پیدا کرنا) اور چیز ہے اور دحی (پھیلانا) اور چیز ہے، زمین کا مادہ تخلیق آسمان سے پہلے پیدا کیا البتہ زمین کو ہموار تخلیق آسمان کے بعد کیا اور پھیلانے کا مطلب صرف ہموار کرنا ہی نہیں ہے بلکہ زمین کو رہائش کے قابل بنانا اور اس پر رہنے بسنے والوں کے لئے تمام ضروریات زندگی کے اسباب مہیا کرنا ہے۔
Read the full tafseer →یوم یتذکر الانسان ما سعی . یَوْمَ ۔ اِذَا سے بدل ہے ما سعٰی میں مَا مصدری یا موصولہ ہے ‘ مطلب یہ
ہے کہ جب قیامت آئے گی یعنی وہ دن آئے گا کہ انسان انتہاء غفلت یا امتداد زمانہ کے سب اپنے کیے ہوئے اعمال کو اپنے اعمالنامہ میں دیکھ کر یاد کرے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–35
(34۔ 35) سو جس وقت قیامت قائم ہوگی اور اس کا ہنگامہ ہر ایک چیز کو گھیرے گا اس روز کافر یعنی نضر بن حارث اپنے اعمال کفریہ کا یاد کریں گے اور ان کو جان لیں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–35
(فاذا جآء ت الطآمۃ الکبری :”الطآمۃ“ اس مصیبت کو کہتے ہیں جو ہر چیز پر چھا جائے، مراد قیامت ہے۔ مزید ہولناکی بیان کرنے کے لئے فرمایا ”الکبری“ کہ جو سب سے بڑی (مصیبت) ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 35–36
یوم یتذکرالانسان ماسعی۔ وبرزت الجحیم لمن یری۔ اس نے جو اچھا یابراعمل کیا ہوگا اسے یاد کرے گا اور ہر دیکھنے والے کے لیے جہنم ظاہر کردی جائے گی، حضرت ابن عباس نے کہا، اس جہنم سے پردہ ہٹا دیا جائے گا اسے ہر آنکھ والا بھڑکتا ہوا دیکھے گا ایک قول یہ کیا گیا ہے مراد کافر ہے کیونک ہوہ جہنم میں عذاب کی انواع دیکھے گا ایک قول یہ کیا گیا ہے مومن اسے دیکھے گا تاکہ نعمت کی قدر کو پہچانے اور کافر آگ میں داخل ہو، فاذا جاءت الطامۃ، کا جواب محذوف ہے یعنی جب بڑی مصیبت آجائے گی توجہنمی جہنم میں اور جنتی جنت میں داخل ہوجائیں گے مالک بن دینا نے وبرزت الجحیم پڑھا ہے عکرمہ اور دوسرے قراء نے ولمن تری پڑھا ہے یعنی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–35
14۔ ابن المنذر وابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت فاذا جاءت الطامۃ الکبری۔ جب وہ بڑا حادثہ آئے گا۔ میں الطامہ قیامت کے ناموں میں سے ایک نام ہے۔
15۔ ابن ابی شیبہ وابن المنذر نے قاسم بن الولید الہمدانی (رح) سے آیت فاذا جاءت الطامۃ الکبری کے بارے میں روایت کیا کہ جب جنت والے جنت کی طرف اور دوزخ والے دوزخ کی طرف بھیجے جائیں گے۔
16۔ ابن ابی شیبہ وابن المنذر نے عمرو بن قیس الکندی (رح) سے روایت کیا کہ آیت فاذا جاءت الطامۃ الکبری سے مراد ہے جب کہا جائے گا کہ تم اس کے سبب دوزخ کی طرف چلے جاؤ۔
Read the full tafseer →[يَوْمَ يَتَذَكَّرُ الْانسَان : اس دن یاد کرے گا انسان ][ مَا سَعٰى: اس کو جو اس نے دوڑ دھوپ کی ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–39
ان آیات میں قیامت کا منظر بتایا ہے۔ ﴿ الطَّآمَّةُ الْكُبْرٰى ﴾ جس کا ترجمہ بڑی مصیبت سے کیا گیا ہے یہ طم یَطُمُّ سے ماخوذ ہے جو بلند ہونے پر دلالت کرتا ہے قیامت کے لیے اس لفظ کا اطلاق اس لیے کیا گیا کہ اس دن کی مصیبت ہر مصیبت پر غالب ہوگی۔ اس سے بڑی مصیبت اس سے پہلے کسی نے نہیں دیکھی ہوگی۔ صاحب روح المعانی لکھتے ہیں :
والطامة اعظم الدواھی لانہ من طم بمعنی علا کما وردفی المثل جری الوادی فطم علی القری وجاء السیل فطم الر کی وعلوھا علی الدواھی غلب تھا علیھا فیرجع لما ذكر، قیل فوصفھا بالکبریٰ للتاکید ولو فسر کونھا طامة بکونھا غالبة للخلائق لا یقدرون علی دفعھا لکان الوصف مخصصا، وقیل کونھا طامة…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–46
اعلان خداوندی بقدرت کاملہ وعاجزی و پستی کائنات پیش عظمت الہی :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” ء انتم اشد خلقا ام السمآء ........ الی ........... الا عشیۃ اوضحہا “۔
(ربط) گزشتہ آیات میں خداوندعالم نے اپنی شان حاکمیت عظمت و جلال کا ذکر کرتے ہوئے قیامت اور قیامت کے احوال بیان فرمائے تھے، اور یہ کہ کائنات کا یہ سارا نظام دم کے دم میں درہم برہم ہوجائے گا، زمین و آسمان اور پہاڑ چاند سورج اور ستارے غرض سب ہی ختم کردیئے جائیں گے اور دلوں کا اضطراب وبے چینی کا عالم ناقابل تصور ہوگا تو اب ان آیات میں حق تعالیٰ شانہ، اپنی قدرت کاملہ کا اعلان فرما رہے ہیں، اور یہ کہ کائنات کی کوئی طاقت اور قوت خداوند عالم کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–35
13:۔ ” فاذا جاءت “ یہ تخویف اخروی ہے۔ ” الطامۃ الکبری “ سب سے بڑی مصیبت جو ہر چیز پر غالب آجائے اور جس کا مقابلہ نہ کیا جاسکے۔ مراد نفخہ ثانیہ ہے جس کے بعد قیامت قائم ہوجائے گی۔ ای الداھیۃ العظمی وھی النفخۃ الثانیۃ التی یکون معہا البعث قالہ ابن عباس۔ المبرد : الطامۃ عند العرب الداھیۃ التی لا تستطاع (قرطبی ج 19 ص 204) جب قیامت قائم ہوجائیگی اس دن ہر آدمی اپنے تمام نیک وبد اعمال کو یاد کرلے گا اور ہر ایک کو اپنے اعمال خیر و شر خود بخود یاد آجائیں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–36
(بعث بعد الموت )
اس سورة میں اللہ تعالیٰ نے قیامت کا ذکر فرمایا ہے ۔ اور منکر ین قیامت کا رد فرمایا ہے۔ یہ لوگ کہتے ہیں کہء انا لمردودون فی الحافرۃ کیا ہم الٹے پاؤں پہلی حالت پر لوٹائے جائیں گے یعنی کیا ہمیں دنیا والی ویسی ہی زندگی مل جائے گی ۔ جو جسم اور روح سے مرکب ہوتی ہے ۔ حالانکہ ہماری یہ حالت ہوچکی ہوگی ” کنا عظاما نخرۃ کہ بوسیدہ ہڈیاں ہوچکے ہونگے۔ تو ان حالات میں دوبارہ لوٹنا تو بڑا خسارے کا سود اہوگا ۔ حالا ن کہ مشرکین اس بات کو تسلیم کرتے ہیں کہ انسانوں اور باقی مخلوق سب کو اللہ تعالیٰ نے ہی پیدا کیا ہے ۔ جب انہیں انسان کی پہلی دفعہ پیدائش کا انکار نہیں ہے۔ آسمان کے پیدا کرنے کا بھی…
Read the full tafseer →يَوْمَ يَتَذَكَّرُ الْاِنْسَانُ مَا سَعٰى 35 ۙ
ذكر ( نصیحت)
وذَكَّرْتُهُ كذا، قال تعالی: وَذَكِّرْهُمْ بِأَيَّامِ اللَّهِ [إبراهيم/ 5] ، وقوله : فَتُذَكِّرَ إِحْداهُمَا الْأُخْرى [ البقرة/ 282] ، قيل : معناه تعید ذكره، وقد قيل : تجعلها ذکرا في الحکم «1» . قال بعض العلماء «2» في الفرق بين قوله : فَاذْكُرُونِي أَذْكُرْكُمْ [ البقرة/ 152] ، وبین قوله : اذْكُرُوا نِعْمَتِيَ [ البقرة/ 40] : إنّ قوله : فَاذْكُرُونِي مخاطبة لأصحاب النبي صلّى اللہ عليه وسلم الذین حصل لهم فضل قوّة بمعرفته تعالی، فأمرهم بأن يذكروه بغیر واسطة، وقوله تعالی: اذْكُرُوا نِعْمَتِيَ مخاطبة لبني إسرائيل الذین لم يعرفوا اللہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–41
ترکیب ¦ فاذا اشرط الطامۃ قال المبردھی عند العرب الداھیۃ طمم طمم درانپا شتن (ععاض 2) یقال فوق کل ذی طامۃ طامۃ و بریدن والطامۃ قیامت صراح قال المبردھی من قولھم طم افرس طمیما اذا استفرغ جھدہ فی الجری وطم الماء اذا ملاء النھر کا وقال اللیث الطم طم البئیریا بالتراب وھوا لکبس ویقال للشیء الذی یکبر حتی یعلوطم والطامۃ الحاوثۃ تطم علی ماسواھا کبیر۔ والعامل فی اذا جوا بھا وھو معنی قولہ یوم یتذکر قال الواحدی جواب اذا محذوف والتقدیر اذا جاءت الطامۃ الکبرٰی دخل اھل النار النار واھل الجنۃ الجنۃ وقیل جو ابھا قولہ فان الجھیمھی الماویٰ وکانہ جزاء مرکب علی شرطین یوم یتذکر الظرف بدل من اذا وقیل من الطامۃ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–36
فَاِذَا جَآئَ تِ الطَّـآمَّۃُ الْـکُبْرٰی۔ یَوْمَ یَتَذَکَّرُالْاِنْسَانُ مَاسَعٰی۔ وَبُرِّزَتِ الْجَحِیْمُ لِمَنْ یَّرٰی۔ (النازعات : 34 تا 36)
(اور جب وہ ہنگامہ عظیم برپا ہوگا۔ اس دن انسان اپنا سب کیا دھرا یاد کرے گا۔ اور دوزخ ہر دیکھنے والے کے لیے بےنقاب کردی جائے گی۔ )
احوالِ قیامت
الطَّـآمَّۃُ الْـکُبْرٰی … طَّـآمَّۃُ ، ایسی بڑی آفت کو کہتے ہیں جو سب پر چھا جائے۔ کُبْرٰی کا معنی ہے بڑی۔ اسے صفت کے طور پر لایا گیا ہے۔ اس لحاظ سے اس کا معنی ہوگا، بہت بڑی آفت، بہت بڑا ہنگامہ، بہت بڑی ہلچل، مراد اس سے قیامت ہے۔ اشارہ اس بات کی طرف ہے کہ اللہ تعالیٰ کی حکمت کے مطابق محض اس کی قدرت سے ایک دن…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–41
فہم القرآن
ربط کلام : قیامت کا انکار کرنے والے قیامت کی ہولناکیوں اور ان کی کیفیت کو نہیں جانتے اس لیے قیامت کا انکار اور اس سے لاپرواہی کرتے ہیں۔ ان کی لاپرواہی کو دور کرنے کے لیے قیامت کی ہولناکیوں اور اس کی ہیبت کا ذکر کیا گیا ہے۔
جس قیامت کا لوگ انکار کرتے ہیں اس کی ابتدا ہی ایسے زور دار دھماکے سے ہوگی کہ جو ہر چیز کو ہلا کے رکھ دے گا۔ اللہ تعالیٰ کے سوا زمین آسما نوں میں کوئی چیز باقی نہیں رہے گی اس کے لیے یہاں دو الفاظ استعمال کیے گئے ہیں ” اَلطَّآمَّۃُ الْکُبْرٰی “ کا معنٰی کسی چیز کا لبالب بھرا ہونا ہے۔ ” الکبریٰ “ یعنی قیامت سب سے بڑی آفت ہوگی اور وہ اپنی حولناکیوں کے اعتبار سے ہمہ…
Read the full tafseer →35 : یَوْمَ یَتَذَکَّرُ الْاِنْسَانُ مَاسَعٰی (یعنی جس دن انسان اپنے کئے کو یاد کرے گا)
نحو : یوم یتذکر یہ اذا جاءت سے بدل ہے۔ یعنی جب انسان اپنے اعمال کو نامہ عمل میں مرتب پائے گا تو وہ اس کو یاد آجائیں گے جن کو پہلے بھول چکا تھا۔
نحو : ماسعیٰؔ ماؔ مصدریہ ہے ای سعیہ اس کی کار کردگی۔ نمبر 2۔ ماموصولہ ہے جو اس نے کیا کمایا۔
Read the full tafseer →34 ۔” فاذا جاء ت الطامۃ الکبریٰ “ یعنی دوسرا نفخہ جس میں بعث اور قیامت کا قیام ہے اور قیامت کا نام طامہ رکھا گیا ہے اس لئے کہ وہ ہر ہولناک امر پر بلند ہوگی اور اپنے ماسوا کو ڈھانپ دے گی اور الطامۃ عرب کے نزدیک ایسی مصیبت جس کے برداشت کی طاقت نہ ہو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–41
34۔ 41۔ دنیا کی موجودات ایک دن اجڑ کر اس کے بعد سزا و جزا کا دوسرا نظام قائم ہوگا جس کا نام قیامت ہے طامہ اس آفت کو کہتے ہیں جس کی برداشت نہ ہو سکے۔ یہاں طامہ سے مطلب قیامت ہے۔ اس دن دوزخ کو لوگوں کی آنکھوں کے سامنے لایا جائے گا سورج ایک میل کے فاصلہ کی بلندی پر آجائے گا۔ ادھر سورج کی گرمی اور ادھر دوزخ کی آگ کی گرمی۔ اس لئے پسینہ کی وہ حالت ہوگی کہ ہوش و حواس ٹھکانے نہ رہیں گے۔ نیکی بدی کے تولے جانے کا ‘ پل صراط پر گزرنے کا جدا خوف لگا ہوگا غرض ایسی ایسی خوفناک آفتیں اس دن آدمی کو پیش آنے والی ہیں جس کی برداشت اس قدر مشکل ہے کہ جس کو خود اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے والساعۃ ادھیٰ وامر جس کا مطلب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–35
یعنی جب قیامت کبری اور بہت بڑی سختی، جس کے سامنے ہر سختی ہیچ ہے، آئے گی اس وقت باپ اپنے بیٹے سے دوست اپنے دوست سے اور محب اپنے محبوب سے غافل ہوجائے گا۔ تب اسے اپنے اس نفع اور خسارے کی حقیقت معلوم ہوگی جو اس نے دنیا کے اندر کمایا۔ اعمال کے سوا تمام اسباب اور تعلقات منقطع ہوجائیں گے جو وہ دنیا کے اندر رکھتا تھا۔
Read the full tafseer →(27) حادثہ قیامت کے بعد انسان کی حالت کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " جب قیامت کا وہ حادثہ کبری (طامہ کبری) واقع ہوجائے گا تو اس روز انسان اپنی زندگی کا سب کیا کرایا رہ رہ کر یاد کرے گا "۔ اچھا بھی اور برا بھی، اچھے کے یاد کرنے پر وہ خوش ہوگا اور برے کے یاد کرنے پر وہ افسوس در افسوس کرے گا۔ والعیاذ باللہ۔ سو آج تو غفلت کے مارے اس انسان کو اپنی خرمستی کے باعث نہ کچھ یاد ہے اور نہ کسی کی کوئی پروا، اور نہ ہی یہ کسی ناصح کی نصیحت پر کان دھرنے کو تیار ہوتا ہے، بلکہ الٹا یہ نصیحت اور خیر خواہی کرنے والوں کا مذاق اڑاتا ہے۔ مگر اس روز اس کے ہوش ایسے ٹھکانے آجائیں گے کہ یہ زندگی بھر کے اپنے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–46
جس نے کائنات بنائی وہ تمہیں بھی بنا سکتا ہے
تشریح : یہاں ایک تو انسان کو یہ بتایا گیا ہے کہ وہ اپنی سرکشی اور نافرمانی میں یہ بھول جاتا ہے کہ وہ خود کوئی حیثیت نہیں رکھتا خود اس کو بھی اللہ نے ہی بنایا ہے اور اس کے رہن سہن کے لیے پوری کائنات بنائی ہے۔ جو یقینا انسان کی پیدائش سے کئی گنا زیادہ پیچیدہ اور مشکل کام ہے اگر وہ اللہ کی قدرت حکمت اور بڑائی پر غور کرے تو وہ اللہ کی دی گئی اس خبر کو ہرگز معمولی یا جھوٹ نہ سمجھے کہ '' قیامت آنے والی ہے۔ قیامت کے بعد حساب کا دن ضرور آئے گا ''۔
ان آیات میں اس یقین دہانی کے علاوہ فطرت اور کائنات کے مضبوط ' معقول اور بہترین انتظامات کا ذکر بھی بڑی خوبصورتی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–46
آیات 27 تا 46۔
اسرار ومعارف۔
اگر انہیں دوبارہ زندہ ہونے کا اعتبار نہیں آتا اور اسے مشکل جانتے ہیں تو موجودہ حیات پہ غورکریں کہ بندہ کو دوبارہ بنانامشکل ہے یا آسمانوں کی تخلیق جن کو ان کے بیشمار امور اور مخلوق کے ساتھ بنادیا اور ایسا بنایا کہ کہیں کوئی خامی باقی نہ رہی بلکہ وہ شب وروز کی آمدورفت اور سورج کے طلوع و غروب کے باعث پورے نظام حیات کو چلانے کا سبب بن گیا اس کے بعد زمین کو بچھادیا کہ اپنی کروی صورت کے باوجود ہر جگہ برابر بچھی ہوئی ہے اور اس میں زندگی کے اسباب نہریں دریا اور سبزہ پیدا کردیے ہیں اور اس بڑے بڑے پہاڑ کھڑے کردیے جو بیشمار نعمتوں کا سبب ہیں اور جن سب امور کے نتیجے میں تم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–36
ف 2 یعنی مومن ہوں یا کافر سب اسے دیکھیں گے۔ مومن اسے دیکھ کر اللہ تعالیٰ کا شکر بجا لائیں گے کہ اس سے محفوظ رہے اور کافر شدید غم اور حشرت میں مبتلا ہوں گے۔
Read the full tafseer →(79:35) یوم یتذکر الانسان ما سعی : یوم، اذا سے بدل ہے۔ یتذکر۔ مضارع کا صیغہ واحد مذکر غائب۔ تذکر (تفعل) مصدر سے وہ نصیحت پکڑے گا، وہ یاد کرے گا۔
ما موصولہ سعی ماضی واحد مذکر غائب۔ سعی (باب فتح) مصدر۔ اس نے کوشش کی۔
ترجمہ ہوگا :۔ جس دن کہ انسان اپنے کئے کو یاد کرے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–46
لغات القرآن
النازعات۔ گھسیٹنے والے۔ غرق۔ ڈوب کر۔ الناشطات ۔ بند کھولنے والے۔ السابحات۔ تیرنے والے۔ السابقات۔ آگے بڑھ جانے والے۔ المدبرات۔ انتظام کرنے والے ۔ واجفہ۔ دھڑکنے والے۔ الحافرۃ۔ پہلی پیدائش۔ نخرۃ ۔ گلی سڑی۔ کرۃ۔ دوبارہ۔ رجرۃ واحدۃ۔ ایک زبردست ڈانٹ۔ الساھرہ۔ میدان۔ اری۔ دکھایا۔ الایۃ الکبری۔ بڑی نشانی۔ حشر۔ اس نے جمع کیا۔ نکال۔ سزا۔ اشدخلقا۔ زیادہ مشکل ہے بنانا۔ رفع۔ بلند کردیا۔ سمک۔ اٹھان۔ اغطش۔ اس نے سیاہ کردیا۔ ضحی۔ چڑھتی دھوپ۔ دحی۔ اس نے پھیلایا۔ مری۔ چارہ (جانوروں کی غذا) ۔ الطامہ۔ آفت و مصیبت۔ برزت۔ ظاہر کردی گئی۔ اثر۔ اس نے اختیار کیا۔ ترجیح دی۔ الماوی ۔ ٹھکانا۔ نھی النفس۔ اپنے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–41
روز قیامت کی مشکلات۔
(ف 5) دنیا کے موجودات کے ذکر کے بعد قیامت کا ذکر فرمایا تاکہ معلوم ہوجائے کہ یہ موجودات ہمیشہ رہنے والی چیزیں نہیں ہیں بلکہ یہ سب موجودات ایک دن اجڑ کر اس کے بعد سزا وجزا کا دوسرا انتظام قائم ہوگا جس کا نام قیامت ہے۔ الطامہ اس آفت کو کہتے ہیں جس کی برداشت نہ ہوسکے، یہاں الطامہ سے مطلب قیامت ہے ، اس دن دوزخ کو لوگوں کی آنکھوں کے سامنے لایاجائے گا، سورج ایک میل کے فاصلہ کی بلندی پر آجائے گا ادھر سے سورج کی گرمی اورادھر دوزخ کی گرمی، اس لیے پسینہ کی وہ حالت ہوگی کہ ہوش و حواس ٹھکانے نہ رہیں گے نیکی وبدی کے تولے جانے کا، پل صراط پر گذرنے کا جداخوف لگا ہوگا، غرض ایسی ایسی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–42
[13] یعنی زمین کی ہر چیز اس بات کی شہادت دے رہی ہے کہ وہ بڑی حکمت کے ساتھ کسی نہ کسی مقصد کو پورا کرنے کے لئے بنائی گئی ہے پھر یہ کیسے ممکن ہے کہ انسان کی زندگی کا کوئی مقصد نہ ہو اور وہ کھائے پیئے اور ختم ہوجائے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–38
زمین کب پیدا ہوئی ؟
1: بعد ذلک دحھا سے نظام لیل ونہار کو پیدا کرنے کے بعد زمین کو پیدا کیا گیا ہے ۔ حالانکہ دوسرے مقامات میں بالتصریح فرمایا ہے کہ آسمان کی تخلیق زمین کی تخلیق کے آخر میں ہوئی ہے ۔ جواب یہ ہے کہ پیدا کرنے میں اور دحو میں لغتہ ایک باریک فرق ہے اور وہ یہ ہے کہ دخو کے منی یہ ہیں کہ زمین کو اس طرح پاؤں تلے بچھادیا جائے کہ اس میں افادہ کی قابلیت اور استعداد ہو ۔ اس لئے معنی یہ ہوں گے کہ گو زمین کو پیدا تو پہلے کیا گیا ہے ۔ مگر مفید بعد میں بنایا گیا ہے ۔ جیسا کہ علم الحیات کے ماہرین کا خیال ہے ۔ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ بعد یہاں تربیت کے لئے نہ ہو ۔ بلکہ تربیت وتعقیب بیان کے لئے ہو ۔…
Read the full tafseer →(35) وہ دن وہ ہوگا جس دن انسان اپنی سعی اور اپنے کئے ہوئے کاموں کو یاد کرے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–39
ف 7۔ رات اور دن کو آسمان کی طرف اس لئے منسوب کیا کہ رات اور دن آفتاب کے طلوع اور غروب سے ہوتے ہیں اور آفتاب آسمان میں ہے۔
Read the full tafseer →اس دن ہر انسان اپنے اعمال کو یاد کرے گا
۔ 35 اس کی زندگی کی پوری فلم تیار کرنے والا اس کی پوری زندگی پر محیط کیسٹ کو ایک ایسی ٹیپ میں لاکر رکھ دے گا کہ انسان کے سامنے اس کی زندگی کی پوری فلم گھومنے لگے گی اور وہ ترتیب وار ایک ایک واقعہ ، ایک ایک بات کو اور ایک ایک حرکت کو اس کے سامنے پیش کرتا جائے گا اور جو کچھ اس نے دنیا میں کیا ہوگا ، اچھا یا برا وہ سب کا سب اس کے سامنے پیش کرتا جائے گا۔ (یتذکر) یہ دن وہ دن ہے کہ انسان کو جو کچھ اس نے کہا ہے سب کا سب اس کو یاد آئے گا اور جو کچھ اس کے لاشعور میں موجود ہے وہ سب کا سب اس کے شعور میں آجائے گا۔ خصوصاً یہ کہ جن مصلحتوں کے تحت اس نے یہ سب کچھ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–36
فَأَخَذَهُ اللَّـهُ نَكَالَ الْآخِرَةِ وَالْأُولَىٰ (So, Allah seized him for the deterrent punishment in the Hereafter and the present world....79:25). The word nakal means an 'exemplary punishment' or 'an extremely severe punishment given to an offender to deter others against committing a similar offence or sin'. The phrase 'punishment of the 'akhirah' refers to the punishment of the Hereafter that will be meted out to Fir'aun (the Pharaoh). The phrase 'punishment of the 'al a' refers to the punishment meted out to Fir'aun (the Pharaoh) and his army in this world whereby they were…
Read the full tafseer →20 That is, "When man will see that the same Day of accountability of which he was being foretold in the world, has come, he will start remembering each one of his misdeeds done in the world even before his records are handed over to him. Some people experience this even in the world. if at some time they come across a dangerous situation suddenly when death seems to be staring them in the face, their whole life-film flashes across their mind's eye all at once.
Read the full tafseer →