Explained with ayahs 34–46
انتہائی ہولناک لرزہ خیز لمحات
طامتہ الکبریٰ سے مراد قیامت کا دن ہے اس لئے کہ وہ ہولناک اور بڑے ہنگامے والا دن ہوگا، جیسے اور جگہ ہے آیت (وَالسَّاعَةُ اَدْهٰى وَاَمَرُّ 46) 54۔ القمر :46) یعنی قیامت بڑی سخت اور ناگوار چیز ہے، اس دن ابن آدم اپنے بھلے برے اعمال کو یاد کرے گا اور کافی نصیحت حاصل کرلے گا، جیسے اور جگہ ہے آیت (يَوْمَىِٕذٍ يَّتَذَكَّرُ الْاِنْسَانُ وَاَنّٰى لَهُ الذِّكْرٰى 23ۭ) 89۔ الفجر :23) یعنی اس دن آدمی نصیحت حاصل کرلے گا لیکن آج کی نصیحت اسے کچھ فائدہ نہ دے گی، لوگوں کے سامنے جہنم لائی جائے گی اور وہ اپنی آنکھوں سے اسے دیکھ لیں گے اس دن سرکشی کرنے والوں اور دنیا کو دین پر…
Read the full tafseer →سورة النّٰزِعٰت 19
اس سے مراد ہے قیامت اور اس کے لئے الطَّامَّۃُ الْکُبْریٰ کے الفاظ استعمال کئے گئے ہیں۔ طامّہ بجائے خود کسی ایسی بڑی آفت کو کہتے ہیں جو سب پر چھا جائے۔ اس کے بعد اس کے لئے کُبریٰ کا لفظ مزید استعمال کیا گیا ہے جس سے خود بخود یہ ظاہر ہوتا ہے کہ اس کی شدّت کا تصوّر لانے کے لئے محض لفظ طامّہ بھی کافی نہیں ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–36
فَاَخَذَهُ اللّٰهُ نَكَالَ الْاٰخِرَةِ وَالْاُوْلٰى
نکال ایسے عذاب کو کہا جاتا ہے جس کو دیکھ کر دوسروں کو عبرت ہو اور سب سہم جائیں۔ نکال آخرت فرعون کے لئے آخرت کا عذاب ہے، اور نکال اولیٰ سے مراد وہ عذاب ہے جو دنیا میں اس کی پوری قوم کے غرق دریا ہوجانے سے ان کو پہنچا۔ اگے پھر منکرین حشر ونشر کے اس استبعاد اور شبہ کا ازالہ ہے کہ مرنے اور مٹی ہوجانے کے بعد کیسے دوبارہ زندہ کئے جاویں گے۔ اس میں حق تعالیٰ نے آسمان و زمین اور انکے اندر پیدا کی ہوئی عظیم مخلوقات کا ذکر کرکے انسان غافل کو اس پر متنبہ کیا ہے کہ جس ذات نے ایسی عظیم الشان مخلوقات کو ابتدائی وجود بغیر کسی مادہ و آلہ کے عظا فرمایا وہ اگر…
Read the full tafseer →’اَلطَّآمَّۃُ الْکُبْرٰی‘ کے معنی بڑی ہلچل اور بڑے ہنگامہ کے ہیں۔ مراد اس سے قیامت ہے۔ اس کے بعد اس شرط کا جواب بربنائے قرینہ محذوف ہے۔ اس طرح کے حذف کی مثالیں پیچھے گزر چکی ہیں اور اس کی بلاغت بھی ہم واضح کر چکے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ جب وہ بڑا ہنگامہ برپا ہو گا تو یہ آسمان و زمین سب درہم برہم ہو جائیں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–36
28۔ 1 ٹھیک ٹھاک کا مطلب اسے ایسی شکل صورت میں ڈھالنا ہے کہ جس میں کوئی تفاوت، کجی، شگاف اور خلل باقی نہ رہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–45
9: عرب کے کافر لوگ مرنے کے بعد دوبارہ زندہ ہونے کا جو انکار کرتے تھے، اس کی وجہ یہ تھی کہ وہ کسی مردے کے زندہ ہونے کو بہت مشکل سمجھتے تھے۔ اللہ تعالیٰ فرما رہے ہیں کہ کائنات کی دوسری چیزوں، مثلاً آسمان، کے مقابلے میں انسان کو پیدا کرنا زیادہ آسان ہے، اگر تم مانتے ہو کہ آسمان اللہ تعالیٰ نے پیدا فرمایا ہے تو پھر انسان کو دوبارہ پیدا کرنا اس کے لیے کیا مشکل ہے ؟
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–35
دنیا کی یہ زندگی چند روزہ ہے اور اس کے لئے یہاں نہایت گہرائی اور حکمت سے نظام زندگی اور سامان حیات تیار کیا گیا ہے۔ اس کائنات کا نظام اور انسانی زندگی کے نظام کے درمیان گہراربط ہے۔ لیکن اس کے باوجود یہ چند روزہ متاع ہے اور ایک دن اسے ختم ہونا ہے۔ جب وہ ہنگامہ عظیم برپا ہوگا تو اس زندگی کا نظام معطل ہوجائے گا۔ یہ چند روزہ زندگی ختم ہوگی۔ یہ عظیم کائنات ختم ہوگی۔ یہ بلندوبالا آسمان ، یہ بلند پہاڑ ، اور یہ وسیع و عریض زمین ، اور اس زمین کے اوپر برپا ہونے والی تمام کشمکش اور یہ سرگرمیاں سب کی سب ختم ہوجائیں گی کیونکہ یہ حادثہ بہت عظیم ہوگا اور بہت ہی عام ہوگا۔ یہ ہر چیز کو اپنی لپیٹ میں لے لے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–36
1 یعنی دوزخ کو اس طرح منظر عام پر لائیں گے کہ ہر دیکھنے والا دیکھ سکے گا۔ کوئی آڑ پہاڑ درمیان میں حائل نہ رہیگا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–34
آیت 31{ اَخْرَجَ مِنْہَا مَآئَ ہَا وَمَرْعٰٹہَا۔ } ”اس میں سے نکالا اس کا پانی اور اس کا چارہ۔“
یہاں یہ نکتہ خصوصی طور پر لائق توجہ ہے کہ اس وقت دنیا میں جتنا پانی موجود ہے اس کا منبع خود زمین ہے۔ آج سائنسی معلومات کی روشنی میں ہم اس کی وضاحت یوں کرسکتے ہیں کہ ابتدا میں زمین آگ کا ایک گولا تھی۔ جوں جوں یہ ٹھنڈی ہوتی گئی اس کے بخارات نکل کر فضا میں جمع ہوتے رہے۔ اس طرح زمین کے ارد گرد مختلف گیسوں پر مشتمل ایک غلاف سا بن گیا ‘ جسے آج ہم فضا atmosphere کہتے ہیں۔ پھر کسی مرحلے پر فضا میں ہائیڈروجن اور آکسیجن کے ملاپ سے پانی بنا۔ یہ پانی فضا سے بارش کی شکل میں سالہا سال تک زمین پر برستا رہا۔ اس کے…
Read the full tafseer →24 الطّامۃ : الطَّمُّ بمعنی پانی سے بھرا ہوا اور ٹھاٹھیں مارتا ہوا سمندر اور الطامہ ایسی آفت جو دوسری تمام مصیبتوں پر حاوی ہوجائے۔ اور الکبریٰ کا لفظ اس بڑی آفت کو مزید نمایاں کرنے کے لیے تاکید کے طور پر آیا ہے اور اس سے مراد قیامت کا دن ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–36
15۔ (اسی چشم ظاہری سے) دیدۂ بصیرت سے تو آج بھی غیب پر ہر ایمان رکھنے والا دوزخ کو دیکھ رہا ہے آخرت میں وہ مومن و کافر سب کے رویت ومشاہدہ میں انہیں ظاہری آنکھوں سے آجائے گی۔ (آیت) ” الطآمۃ الکبری “۔ طامۃ۔ وہ شے ہے جو دوسری چیزوں پر غالب آجائے۔ الطامۃ الداھیۃ التی تطم علی الدواھی اے تعلووتغلب (کشاف) قیامت چونکہ ہر چیز کی حالت بدل دے گی، اور سارے ممکنات وموجودات پر غالب آجائے گی، اس لئے قدرۃ اس کا لقب الطامۃ الکبر) قرار پایا۔ (آیت) ” ما سعی “۔ ما کے عموم سے یہ نکلا کہ دنیا کا کیا ہوا ہر عمل، اچھا ہو یا برا، بڑا ہو یا چھوٹا، اس وقت پیش نظر ہوجائے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–36
والارض بعد ذلک دحھا اس آیت میں زمین و پھیلانے اور ہموار کرنے کا ذکر ہے، خلق یعنی (پیدا کرنا) اور چیز ہے اور دحی (پھیلانا) اور چیز ہے، زمین کا مادہ تخلیق آسمان سے پہلے پیدا کیا البتہ زمین کو ہموار تخلیق آسمان کے بعد کیا اور پھیلانے کا مطلب صرف ہموار کرنا ہی نہیں ہے بلکہ زمین کو رہائش کے قابل بنانا اور اس پر رہنے بسنے والوں کے لئے تمام ضروریات زندگی کے اسباب مہیا کرنا ہے۔
Read the full tafseer →فاذا جاءت الطامۃ الکبریٰ . فاء سببی ہے یعنی جب اس کائنات کی ایجاد سے اللہ کا قادر ہونا ظاہر ہوگیا اور
قیامت کا امکان ہوگیا اور پھر اللہ کے خبر دینے سے حشر کا ثبوت بھی ہوچکا تو اب الطامۃ الکبرٰی کا لفظ بول کر اللہ نے قیامت کے آنے کا وقت اور اس کے احوال بتائے۔ یہ لفظ اس لیے اختیار کیا کہ (تفصیل بیان کرنے سے پہلے) عنوان سے ہی قیامت کے کچھ احوال معلوم ہوجائیں۔ لغت میں طَمٌّ کا معنی ہے غلبہ ‘ سمندر کو طمّ کہنے کی وجہ یہی ہے کہ وہ ہر چیز پر غالب ہے۔ عرب ناقابل برداشت مصیبت کو الطامۃُ کہتے ہیں ‘ قیامت کو طامۃ کہنے کی وجہ بھی یہی ہے کہ حادثۂ قیامت تمام حوادث و مصائب پر غالب ہے (سب سے بڑی مصیبت ہے)…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–35
(34۔ 35) سو جس وقت قیامت قائم ہوگی اور اس کا ہنگامہ ہر ایک چیز کو گھیرے گا اس روز کافر یعنی نضر بن حارث اپنے اعمال کفریہ کا یاد کریں گے اور ان کو جان لیں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–35
(فاذا جآء ت الطآمۃ الکبری :”الطآمۃ“ اس مصیبت کو کہتے ہیں جو ہر چیز پر چھا جائے، مراد قیامت ہے۔ مزید ہولناکی بیان کرنے کے لئے فرمایا ”الکبری“ کہ جو سب سے بڑی (مصیبت) ہے۔
Read the full tafseer →فاذا جاءت الطامۃ الکبری۔۔۔ تا۔۔۔ لمن یری۔
فاذا جاءت الطامۃ الکبری۔ طامہ کبری سے مراد بڑی مصیبت ہے اس سے مراد دوسرا نفخہ ہے جس کے ساتھ دوبارہ اٹھانا ہوگا ضحاک نے حضرت ابن عباس سے یہی روایت نقل کی ہے، حضرت حسن بصری کا بھی یہی قول ہے۔ حضرت ابن عباس اور ضحاک سے یہ بھی منقول ہے کہ اس سے مراد قیامت ہے اسے یہ نام اس لیے دیا گیا ہے کہ وہ ہر چیز پر غالب آجائے گی یہ اپنی ہولناکی کی وجہ سے ہر دوسری مصیبت پر چھاجائے گی عربوں کی امثال میں سے ایک یہ بھی ہے۔ جری الواد فطم علی لقری۔ وادی یہی یہاں تک کہ اپنی گزرگاہ سے باہر نکل آئی۔ مبرد نے کہا، عربوں کے ہاں طامہ اس مصیبت کو کہتے ہیں جس کو برداشت کرنے کی طاقت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–35
14۔ ابن المنذر وابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت فاذا جاءت الطامۃ الکبری۔ جب وہ بڑا حادثہ آئے گا۔ میں الطامہ قیامت کے ناموں میں سے ایک نام ہے۔
15۔ ابن ابی شیبہ وابن المنذر نے قاسم بن الولید الہمدانی (رح) سے آیت فاذا جاءت الطامۃ الکبری کے بارے میں روایت کیا کہ جب جنت والے جنت کی طرف اور دوزخ والے دوزخ کی طرف بھیجے جائیں گے۔
16۔ ابن ابی شیبہ وابن المنذر نے عمرو بن قیس الکندی (رح) سے روایت کیا کہ آیت فاذا جاءت الطامۃ الکبری سے مراد ہے جب کہا جائے گا کہ تم اس کے سبب دوزخ کی طرف چلے جاؤ۔
Read the full tafseer →[فَاِذَا جَاۗءَتِ : پھر جب آئے گی ][ الطَّاۗمَّةُ الْكُبْرٰى: وہ سب سے بڑی چھا جانے والی (قیامت تو یہ سب درہم برہم ہوجائے گا)]
ط م م
[طَمًّا : (ن) کسی کا کسی چیز کو ڈھانک لینا۔ کسی پر چھا جانا۔]
[ طَامَّۃٌ اسم الفاعل ہے۔ چھا جانے والی۔ آفت، زیر مطالعہ آیت۔ 34 ۔]
(آیت۔ 34 ۔ 35) ۔ فَاِذَا جَائَ تْ میں اِذَا شرطیہ ہے، اس کا جواب شرط محذوف ہے، کہ جب اَلطَّامَّۃُ الْکُبْریٰ آئے گی تو سابقہ آیات میں آسمان و زمین کی بناوٹ، سب درہم برہم ہوجائے گی۔ یَوْمَ اسی محذوف جواب شرط کا ظرف ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–39
ان آیات میں قیامت کا منظر بتایا ہے۔ ﴿ الطَّآمَّةُ الْكُبْرٰى ﴾ جس کا ترجمہ بڑی مصیبت سے کیا گیا ہے یہ طم یَطُمُّ سے ماخوذ ہے جو بلند ہونے پر دلالت کرتا ہے قیامت کے لیے اس لفظ کا اطلاق اس لیے کیا گیا کہ اس دن کی مصیبت ہر مصیبت پر غالب ہوگی۔ اس سے بڑی مصیبت اس سے پہلے کسی نے نہیں دیکھی ہوگی۔ صاحب روح المعانی لکھتے ہیں :
والطامة اعظم الدواھی لانہ من طم بمعنی علا کما وردفی المثل جری الوادی فطم علی القری وجاء السیل فطم الر کی وعلوھا علی الدواھی غلب تھا علیھا فیرجع لما ذكر، قیل فوصفھا بالکبریٰ للتاکید ولو فسر کونھا طامة بکونھا غالبة للخلائق لا یقدرون علی دفعھا لکان الوصف مخصصا، وقیل کونھا طامة…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–46
اعلان خداوندی بقدرت کاملہ وعاجزی و پستی کائنات پیش عظمت الہی :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” ء انتم اشد خلقا ام السمآء ........ الی ........... الا عشیۃ اوضحہا “۔
(ربط) گزشتہ آیات میں خداوندعالم نے اپنی شان حاکمیت عظمت و جلال کا ذکر کرتے ہوئے قیامت اور قیامت کے احوال بیان فرمائے تھے، اور یہ کہ کائنات کا یہ سارا نظام دم کے دم میں درہم برہم ہوجائے گا، زمین و آسمان اور پہاڑ چاند سورج اور ستارے غرض سب ہی ختم کردیئے جائیں گے اور دلوں کا اضطراب وبے چینی کا عالم ناقابل تصور ہوگا تو اب ان آیات میں حق تعالیٰ شانہ، اپنی قدرت کاملہ کا اعلان فرما رہے ہیں، اور یہ کہ کائنات کی کوئی طاقت اور قوت خداوند عالم کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–35
13:۔ ” فاذا جاءت “ یہ تخویف اخروی ہے۔ ” الطامۃ الکبری “ سب سے بڑی مصیبت جو ہر چیز پر غالب آجائے اور جس کا مقابلہ نہ کیا جاسکے۔ مراد نفخہ ثانیہ ہے جس کے بعد قیامت قائم ہوجائے گی۔ ای الداھیۃ العظمی وھی النفخۃ الثانیۃ التی یکون معہا البعث قالہ ابن عباس۔ المبرد : الطامۃ عند العرب الداھیۃ التی لا تستطاع (قرطبی ج 19 ص 204) جب قیامت قائم ہوجائیگی اس دن ہر آدمی اپنے تمام نیک وبد اعمال کو یاد کرلے گا اور ہر ایک کو اپنے اعمال خیر و شر خود بخود یاد آجائیں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–36
(بعث بعد الموت )
اس سورة میں اللہ تعالیٰ نے قیامت کا ذکر فرمایا ہے ۔ اور منکر ین قیامت کا رد فرمایا ہے۔ یہ لوگ کہتے ہیں کہء انا لمردودون فی الحافرۃ کیا ہم الٹے پاؤں پہلی حالت پر لوٹائے جائیں گے یعنی کیا ہمیں دنیا والی ویسی ہی زندگی مل جائے گی ۔ جو جسم اور روح سے مرکب ہوتی ہے ۔ حالانکہ ہماری یہ حالت ہوچکی ہوگی ” کنا عظاما نخرۃ کہ بوسیدہ ہڈیاں ہوچکے ہونگے۔ تو ان حالات میں دوبارہ لوٹنا تو بڑا خسارے کا سود اہوگا ۔ حالا ن کہ مشرکین اس بات کو تسلیم کرتے ہیں کہ انسانوں اور باقی مخلوق سب کو اللہ تعالیٰ نے ہی پیدا کیا ہے ۔ جب انہیں انسان کی پہلی دفعہ پیدائش کا انکار نہیں ہے۔ آسمان کے پیدا کرنے کا بھی…
Read the full tafseer →فَاِذَا جَاۗءَتِ الطَّاۗمَّۃُ الْكُبْرٰى 34 ۡ ۖ
إذا
إذا يعبّر به عن کلّ زمان مستقبل، وقد يضمّن معنی الشرط فيجزم به، وذلک في الشعر أكثر، و «إذ» يعبر به عن الزمان الماضي، ولا يجازی به إلا إذا ضمّ إليه «ما» نحو :إذ ما أتيت علی الرّسول فقل له
( اذ ا ) اذ ا
۔ ( ظرف زماں ) زمانہ مستقبل پر دلالت کرتا ہے کبھی جب اس میں شرطیت کا مفہوم پایا جاتا ہے تو فعل مضارع کو جزم دیتا ہے اور یہ عام طور پر نظم میں آتا ہے اور اذ ( ظرف ) ماضی کیلئے آتا ہے اور جب ما کے ساتھ مرکب ہو ( اذما) تو معنی شرط کو متضمن ہوتا ہے جیسا کہ شاعر نے کہا ع (11) اذمااتیت علی الرسول فقل لہ جب تو رسول اللہ کے پاس جائے تو ان سے کہنا ۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–41
ترکیب ¦ فاذا اشرط الطامۃ قال المبردھی عند العرب الداھیۃ طمم طمم درانپا شتن (ععاض 2) یقال فوق کل ذی طامۃ طامۃ و بریدن والطامۃ قیامت صراح قال المبردھی من قولھم طم افرس طمیما اذا استفرغ جھدہ فی الجری وطم الماء اذا ملاء النھر کا وقال اللیث الطم طم البئیریا بالتراب وھوا لکبس ویقال للشیء الذی یکبر حتی یعلوطم والطامۃ الحاوثۃ تطم علی ماسواھا کبیر۔ والعامل فی اذا جوا بھا وھو معنی قولہ یوم یتذکر قال الواحدی جواب اذا محذوف والتقدیر اذا جاءت الطامۃ الکبرٰی دخل اھل النار النار واھل الجنۃ الجنۃ وقیل جو ابھا قولہ فان الجھیمھی الماویٰ وکانہ جزاء مرکب علی شرطین یوم یتذکر الظرف بدل من اذا وقیل من الطامۃ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–36
فَاِذَا جَآئَ تِ الطَّـآمَّۃُ الْـکُبْرٰی۔ یَوْمَ یَتَذَکَّرُالْاِنْسَانُ مَاسَعٰی۔ وَبُرِّزَتِ الْجَحِیْمُ لِمَنْ یَّرٰی۔ (النازعات : 34 تا 36)
(اور جب وہ ہنگامہ عظیم برپا ہوگا۔ اس دن انسان اپنا سب کیا دھرا یاد کرے گا۔ اور دوزخ ہر دیکھنے والے کے لیے بےنقاب کردی جائے گی۔ )
احوالِ قیامت
الطَّـآمَّۃُ الْـکُبْرٰی … طَّـآمَّۃُ ، ایسی بڑی آفت کو کہتے ہیں جو سب پر چھا جائے۔ کُبْرٰی کا معنی ہے بڑی۔ اسے صفت کے طور پر لایا گیا ہے۔ اس لحاظ سے اس کا معنی ہوگا، بہت بڑی آفت، بہت بڑا ہنگامہ، بہت بڑی ہلچل، مراد اس سے قیامت ہے۔ اشارہ اس بات کی طرف ہے کہ اللہ تعالیٰ کی حکمت کے مطابق محض اس کی قدرت سے ایک دن…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–41
فہم القرآن
ربط کلام : قیامت کا انکار کرنے والے قیامت کی ہولناکیوں اور ان کی کیفیت کو نہیں جانتے اس لیے قیامت کا انکار اور اس سے لاپرواہی کرتے ہیں۔ ان کی لاپرواہی کو دور کرنے کے لیے قیامت کی ہولناکیوں اور اس کی ہیبت کا ذکر کیا گیا ہے۔
جس قیامت کا لوگ انکار کرتے ہیں اس کی ابتدا ہی ایسے زور دار دھماکے سے ہوگی کہ جو ہر چیز کو ہلا کے رکھ دے گا۔ اللہ تعالیٰ کے سوا زمین آسما نوں میں کوئی چیز باقی نہیں رہے گی اس کے لیے یہاں دو الفاظ استعمال کیے گئے ہیں ” اَلطَّآمَّۃُ الْکُبْرٰی “ کا معنٰی کسی چیز کا لبالب بھرا ہونا ہے۔ ” الکبریٰ “ یعنی قیامت سب سے بڑی آفت ہوگی اور وہ اپنی حولناکیوں کے اعتبار سے ہمہ…
Read the full tafseer →قیامت بڑا ہنگامہ :
34 : فَاِذَا جَآ ئَ تِ الطَّآ مَّۃُ الْکُبْرٰی (پس جب وہ بڑاہنگامہ آوے گا) الطامۃ الکبرٰیؔ بڑی مصیبت جو تمام مصیبتوں سے
بڑھ جائے گی۔ اور ان پر غالب آجائے گی اس سے ثانیہ مراد ہے یا وہ وقت جس میں اہل جنت کو جنت اور اہل نار کو نار کی طرف لے جایا جائے گا۔
Read the full tafseer →33 ۔ متاعا لکم ولا نعامکم۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–41
34۔ 41۔ دنیا کی موجودات ایک دن اجڑ کر اس کے بعد سزا و جزا کا دوسرا نظام قائم ہوگا جس کا نام قیامت ہے طامہ اس آفت کو کہتے ہیں جس کی برداشت نہ ہو سکے۔ یہاں طامہ سے مطلب قیامت ہے۔ اس دن دوزخ کو لوگوں کی آنکھوں کے سامنے لایا جائے گا سورج ایک میل کے فاصلہ کی بلندی پر آجائے گا۔ ادھر سورج کی گرمی اور ادھر دوزخ کی آگ کی گرمی۔ اس لئے پسینہ کی وہ حالت ہوگی کہ ہوش و حواس ٹھکانے نہ رہیں گے۔ نیکی بدی کے تولے جانے کا ‘ پل صراط پر گزرنے کا جدا خوف لگا ہوگا غرض ایسی ایسی خوفناک آفتیں اس دن آدمی کو پیش آنے والی ہیں جس کی برداشت اس قدر مشکل ہے کہ جس کو خود اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے والساعۃ ادھیٰ وامر جس کا مطلب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–35
یعنی جب قیامت کبری اور بہت بڑی سختی، جس کے سامنے ہر سختی ہیچ ہے، آئے گی اس وقت باپ اپنے بیٹے سے دوست اپنے دوست سے اور محب اپنے محبوب سے غافل ہوجائے گا۔ تب اسے اپنے اس نفع اور خسارے کی حقیقت معلوم ہوگی جو اس نے دنیا کے اندر کمایا۔ اعمال کے سوا تمام اسباب اور تعلقات منقطع ہوجائیں گے جو وہ دنیا کے اندر رکھتا تھا۔
Read the full tafseer →(26) قیامت کے حادثہ کبری کی تذکیر و یاد دہانی : سو ارشاد فرمایا گیا اور قیامت کے اس حادثہ کبری کی تذکیر و یاد دہانی کے طور پر ارشاد فرمایا گیا کہ " جب بپا ہوجائے گا وہ سب سے بڑا ہنگامہ " مراد ہے قیامت کا ہنگامہ جو کہ سب سے بڑھ کر اور سب پر حاوی ہے۔ چناچہ جب سیلاب کسی چٹان کو اپنے اندر دفن کرلیتا ہے تو عرب کہتے ہیں " طم السیل الرکبۃ " (حاشیہ جامع البیان) یعنی " سیلاب نے اس چٹان کو دفن کردیا "۔ اور " طامۃ " کا لفظ جو اسی مادے سے ماخوذ ہے اس میں اس کے لیے انتہائی مبالغے کا مفہوم پایا جاتا ہے، اور جب اس کی صفت " الکبری " واقع ہوگئی جو کہ تانیث ہے " اکبر " اسم تفضیل کی، تو اس میں مبالغہ اور بھی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–46
جس نے کائنات بنائی وہ تمہیں بھی بنا سکتا ہے
تشریح : یہاں ایک تو انسان کو یہ بتایا گیا ہے کہ وہ اپنی سرکشی اور نافرمانی میں یہ بھول جاتا ہے کہ وہ خود کوئی حیثیت نہیں رکھتا خود اس کو بھی اللہ نے ہی بنایا ہے اور اس کے رہن سہن کے لیے پوری کائنات بنائی ہے۔ جو یقینا انسان کی پیدائش سے کئی گنا زیادہ پیچیدہ اور مشکل کام ہے اگر وہ اللہ کی قدرت حکمت اور بڑائی پر غور کرے تو وہ اللہ کی دی گئی اس خبر کو ہرگز معمولی یا جھوٹ نہ سمجھے کہ '' قیامت آنے والی ہے۔ قیامت کے بعد حساب کا دن ضرور آئے گا ''۔
ان آیات میں اس یقین دہانی کے علاوہ فطرت اور کائنات کے مضبوط ' معقول اور بہترین انتظامات کا ذکر بھی بڑی خوبصورتی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–46
آیات 27 تا 46۔
اسرار ومعارف۔
اگر انہیں دوبارہ زندہ ہونے کا اعتبار نہیں آتا اور اسے مشکل جانتے ہیں تو موجودہ حیات پہ غورکریں کہ بندہ کو دوبارہ بنانامشکل ہے یا آسمانوں کی تخلیق جن کو ان کے بیشمار امور اور مخلوق کے ساتھ بنادیا اور ایسا بنایا کہ کہیں کوئی خامی باقی نہ رہی بلکہ وہ شب وروز کی آمدورفت اور سورج کے طلوع و غروب کے باعث پورے نظام حیات کو چلانے کا سبب بن گیا اس کے بعد زمین کو بچھادیا کہ اپنی کروی صورت کے باوجود ہر جگہ برابر بچھی ہوئی ہے اور اس میں زندگی کے اسباب نہریں دریا اور سبزہ پیدا کردیے ہیں اور اس بڑے بڑے پہاڑ کھڑے کردیے جو بیشمار نعمتوں کا سبب ہیں اور جن سب امور کے نتیجے میں تم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–36
ف 2 یعنی مومن ہوں یا کافر سب اسے دیکھیں گے۔ مومن اسے دیکھ کر اللہ تعالیٰ کا شکر بجا لائیں گے کہ اس سے محفوظ رہے اور کافر شدید غم اور حشرت میں مبتلا ہوں گے۔
Read the full tafseer →(79:34) فاذا جاءت الطامۃ الکبری۔ علامہ پانی پتی اس آیت کی تفسیر بیان کرتے ہوئے تحریر فرماتے ہیں۔
سببیہ ہے یعنی جب اس کائنات کی ایجاد سے اللہ کا قادر ہونا ثابت ہوگیا اور قیامت کا امکان ہوگیا اور پھر اللہ تعالیٰ کے خبر دینے سے حشر کا ثبوت بھی ہوچکا تو اب طامۃ الکبری کا لفظ بول کر اللہ تعالیٰ نے قیامت کے آنے کا وقت اور اس کے احوال بتا دئیے۔
یہ لفظ اس لئے اختیار کیا کہ (تفصیل بیان کرنے سے پہلے) عنوان سے ہی قیامت کے کچھ احوال معلوم ہوجائیں لغت میں طم کے معنی ہیں غلبہ۔ سمندر کو طم اس لئے کہتے ہیں کہ وہ ہر چیز پر غالب ہے۔ عرب ناقابل برداشت مصیبت کو طامۃ کہتے ہیں ۔ قیامت کو طامۃ کہنے کی وجہ بھی یہی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–46
لغات القرآن
النازعات۔ گھسیٹنے والے۔ غرق۔ ڈوب کر۔ الناشطات ۔ بند کھولنے والے۔ السابحات۔ تیرنے والے۔ السابقات۔ آگے بڑھ جانے والے۔ المدبرات۔ انتظام کرنے والے ۔ واجفہ۔ دھڑکنے والے۔ الحافرۃ۔ پہلی پیدائش۔ نخرۃ ۔ گلی سڑی۔ کرۃ۔ دوبارہ۔ رجرۃ واحدۃ۔ ایک زبردست ڈانٹ۔ الساھرہ۔ میدان۔ اری۔ دکھایا۔ الایۃ الکبری۔ بڑی نشانی۔ حشر۔ اس نے جمع کیا۔ نکال۔ سزا۔ اشدخلقا۔ زیادہ مشکل ہے بنانا۔ رفع۔ بلند کردیا۔ سمک۔ اٹھان۔ اغطش۔ اس نے سیاہ کردیا۔ ضحی۔ چڑھتی دھوپ۔ دحی۔ اس نے پھیلایا۔ مری۔ چارہ (جانوروں کی غذا) ۔ الطامہ۔ آفت و مصیبت۔ برزت۔ ظاہر کردی گئی۔ اثر۔ اس نے اختیار کیا۔ ترجیح دی۔ الماوی ۔ ٹھکانا۔ نھی النفس۔ اپنے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–41
روز قیامت کی مشکلات۔
(ف 5) دنیا کے موجودات کے ذکر کے بعد قیامت کا ذکر فرمایا تاکہ معلوم ہوجائے کہ یہ موجودات ہمیشہ رہنے والی چیزیں نہیں ہیں بلکہ یہ سب موجودات ایک دن اجڑ کر اس کے بعد سزا وجزا کا دوسرا انتظام قائم ہوگا جس کا نام قیامت ہے۔ الطامہ اس آفت کو کہتے ہیں جس کی برداشت نہ ہوسکے، یہاں الطامہ سے مطلب قیامت ہے ، اس دن دوزخ کو لوگوں کی آنکھوں کے سامنے لایاجائے گا، سورج ایک میل کے فاصلہ کی بلندی پر آجائے گا ادھر سے سورج کی گرمی اورادھر دوزخ کی گرمی، اس لیے پسینہ کی وہ حالت ہوگی کہ ہوش و حواس ٹھکانے نہ رہیں گے نیکی وبدی کے تولے جانے کا، پل صراط پر گذرنے کا جداخوف لگا ہوگا، غرض ایسی ایسی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–42
[13] یعنی زمین کی ہر چیز اس بات کی شہادت دے رہی ہے کہ وہ بڑی حکمت کے ساتھ کسی نہ کسی مقصد کو پورا کرنے کے لئے بنائی گئی ہے پھر یہ کیسے ممکن ہے کہ انسان کی زندگی کا کوئی مقصد نہ ہو اور وہ کھائے پیئے اور ختم ہوجائے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–38
زمین کب پیدا ہوئی ؟
1: بعد ذلک دحھا سے نظام لیل ونہار کو پیدا کرنے کے بعد زمین کو پیدا کیا گیا ہے ۔ حالانکہ دوسرے مقامات میں بالتصریح فرمایا ہے کہ آسمان کی تخلیق زمین کی تخلیق کے آخر میں ہوئی ہے ۔ جواب یہ ہے کہ پیدا کرنے میں اور دحو میں لغتہ ایک باریک فرق ہے اور وہ یہ ہے کہ دخو کے منی یہ ہیں کہ زمین کو اس طرح پاؤں تلے بچھادیا جائے کہ اس میں افادہ کی قابلیت اور استعداد ہو ۔ اس لئے معنی یہ ہوں گے کہ گو زمین کو پیدا تو پہلے کیا گیا ہے ۔ مگر مفید بعد میں بنایا گیا ہے ۔ جیسا کہ علم الحیات کے ماہرین کا خیال ہے ۔ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ بعد یہاں تربیت کے لئے نہ ہو ۔ بلکہ تربیت وتعقیب بیان کے لئے ہو ۔…
Read the full tafseer →(34) پھرجب وہ بڑی آفت اور بڑا ہنگامہ رونماہوگا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–39
ف 7۔ رات اور دن کو آسمان کی طرف اس لئے منسوب کیا کہ رات اور دن آفتاب کے طلوع اور غروب سے ہوتے ہیں اور آفتاب آسمان میں ہے۔
Read the full tafseer →پس جب وہ بڑی آفت یعنی قیامت آئے گی
۔ 34 (الطامۃ) ( کا اصل مادہ ط م م ہے۔ بلائے بزرگ ، بڑی آفت ، بڑا ہنگامہ ، قیامت جس میں ہر ایک چیز کو تہ وبالا کردیا جائے گا۔ طم سے جس کے معنی کسی چیز کے اتنے زیادہ ہونے کے ہیں کہ وہ چھا جائے اور غالب آجائے۔ اسم فاعل کا صیغہ واحد مئونث اور اس لئے (طامۃ) کے معنی اس بڑی مصیبت کے آتے ہیں کہ جو ہرچیز پر چھا جائے اور اس جگہ اس سے قیامت ہی مراد ہے کیونکہ ہنگامہ قیامت سب کو اپنی لپیٹ میں لے لے گا پھر اس ہنگامہ کو (الکبری) کے لظ سے مزیدب ڑا کردیا ہے اور ظاہر ہے کہ قیامت سے بڑھ کر کوئی چیز زیادہ ہولناک نہیں ہو سکتی یعنی سخت عذاب والی۔ ایسی ہلچل مچا دینے والی کہ کسی کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–36
فَأَخَذَهُ اللَّـهُ نَكَالَ الْآخِرَةِ وَالْأُولَىٰ (So, Allah seized him for the deterrent punishment in the Hereafter and the present world....79:25). The word nakal means an 'exemplary punishment' or 'an extremely severe punishment given to an offender to deter others against committing a similar offence or sin'. The phrase 'punishment of the 'akhirah' refers to the punishment of the Hereafter that will be meted out to Fir'aun (the Pharaoh). The phrase 'punishment of the 'al a' refers to the punishment meted out to Fir'aun (the Pharaoh) and his army in this world whereby they were…
Read the full tafseer →19 This implies the Resurrection for which the words at-Taammat alkubra have been used. Taammah by itself is a grievous calamity which afflicts everybody. Then it has been further qualified by the word kubra (great) , which shows that the mere word taammah is not enough to describe fully its intensity and severity.
Read the full tafseer →