An-Naazi'aat 79:23

An-Naazi'aat · from ayah 23

79:23

فَحَشَرَ فَنَادٰی ۟ؗۖفَحَشَرَ فَنَادٰى

اور (لوگوں کو) اکٹھا کیا اور پکارا

— Fateh Muhammad Jalandhari

And he gathered [his people] and called out

— Saheeh International

Juz 30 · Ruku 1 of surah · Ruku 3 of juz

Read the whole surah · Surah An-Naazi'aat

All translations of 79:23

اور لوگوں کو جمع کر کے اس نے پکار کر کہا

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور (لوگوں کو) اکٹھا کیا اور پکارا

— مولانا فتح محمد جالندہری

پھر سب کو جمع کرکے پکارا

— مولانا محمد جوناگڑہی

پھر سب کو اکٹھا کیا اور آواز لگائی۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

تو لوگوں کو جمع کیا پھر پکارا،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

پھر اس نے (لوگوں کو) جمع کیا اور پکارنے لگا،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

پھر اس نے اکٹھا کیا، پس پکارا۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اس نے لوگوں کو اکٹھا کیا اور پکارا

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

پس جمع کیا اور اعلان کیا

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

چناچہ اس نے (لوگوں کو) جمع کر کے پکار کر کہا

— مولانا اسحاق مدنی

اور (لوگوں کو) جمع کیا پھر بلند آواز سے تقریر کی

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

پھر اس نے (اپنی رعیت کو) جمع کیا اور اعلان کیا۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

لوگوں کو اکٹھا کیا اور پکارا

— محترمہ رفعت اعجاز

and gathered his people and declared:

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

then he gathered (his people) and shouted

— Muhammad Taqi Usmani

then he gathered (his people) and shouted

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

So he gathered and called out,

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

And he gathered [his people] and called out

— Saheeh International

and gathered his people together

— Muhammad Sarwar

Then he gathered (men) and called out.

— Muhammad Habib Shakir

Then he gathered and cried aloud,

— Abdul Majid Daryabadi

Then he collected (his men) and made a proclamation,

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 79:23

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 15–26

معفرت دل حق کا مطیع و فرماں بردار ہوتا ہے اللہ تعالیٰ اپنے رسول حضرت محمد ﷺ کو خبر دیتا ہے کہ اس نے اپنے بندے اور رسول حضرت موسیٰ ؑ کو فرعون کی طرف بھیجا اور معجزات سے ان کی تائید کی، لیکن باوجود اس کے فرعون اپنی سرکشی اور اپنے کفر سے باز نہ آیا بالاخر اللہ کا عذاب اترا اور برباد ہوگیا، اسی طرح اے پیغمبر آخر الزمان ﷺ آپ کے مخالفین کا بھی حشر ہوگا۔ اسی لئے اس واقعہ کے خاتمہ پر فریاد ڈر والوں کے لئے اس میں عبرت ہے، پس فرماتا ہے کہ تجھے خبر بھی ہے ؟ موسیٰ ؑ کو اس کے رب نے آواز دی جبکہ وہ ایک مقدس میدان میں تھے جس کا نام طویٰ ہے۔ اس کا تفصیل سے بیان سورة طہ میں گزر چکا ہے، آواز دے کر فرمایا کہ…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 23–24

سورة النّٰزِعٰت 11 فرعون کا یہ دعویٰ کئی مقامات پر قرآن مجید میں بیان کیا گیا ہے۔ ایک موقع پر اس نے حضرت موسیٰ سے کہا کہ " اگر تم نے میرے سوا کسی اور کو خدا بنایا تو میں تمہیں قید کر دوں گا "۔ (الشعراء آیت 29)۔ ایک اور موقع پر اس نے اپنے دربار میں لوگوں کو خطاب کر کے کہا " اے سرداران قوم، میں نہیں جانتا کہ میرے سوا تمہارا کوئی اور خدا بھی ہے "۔ (القصص، آیت 38)۔ ان ساری باتوں سے فرعون کا یہ مطلب نہ تھا اور نہیں ہوسکتا تھا کہ وہی کائنات کا خالق ہے اور اسی نے یہ دنیا پیدا کی ہے۔ یہ مطلب بھی نہ تھا کہ وہ اللہ تعالیٰ کی ہستی کا منکر اور خود رب العالمین ہونے کا مدعی تھا۔ یہ مطلب بھی نہ تھا کہ وہ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 5–24

پانچویں صفت فالْمُدَبِّرٰتِ اَمْرًا ہے۔ امر الٰہی کی تدبیر و تنفیذ کرنے والے یعنی ان ملائکہ موت کا آخری کام یہ ہوگا کہ جس روح کو ثواب اور راحت دینے کا حکم ہوگا اس کے لئے راحت کے سامان جمع کردیں اور جس کو عذاب اور تکلیف میں ڈالنے کا حکم ہوگا اس کے لئے اس کا انتظام کردیں۔ قبر میں ثواب وعذاب موت کے وقت فرشتوں کا آنا اور انسان کی روح قبض کرکے آسمان کی طرف لیجانا پھر اسکے اچھے یا برے ٹھکانے پر جلدی سے پہنچا دینا اور وہاں ثواب یا عذاب، تکلیف یا راحت کے انتظامات کردینا ان آیات مذکورہ سے ثابت ہوگیا۔ یہ عذاب وثواب قبر یعنی برزخ میں ہوگا۔ حشر کا عذاب وثواب اس کے بعد ہے احادیث صحیحہ میں اس کی بڑی…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 23–24

یہ فرعون کی اس تدبیر کی طرف اشارہ ہے جو اس نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کے بڑھتے ہوئے اثر کو روکنے کے لیے سب سے آخر میں اختیار کی ہے۔ سورۂ زخرف سے معلوم ہوتا ہے کہ جب مصر پر کوئی آفت آتی تو وہ حضرت موسیٰ علیہ السلام سے درخواست کرتا کہ وہ اپنے رب سے دعا کریں کہ یہ بلا ٹل جائے، اگر ان کی دعا سے یہ بلا ٹل گئی تو وہ ان کا مطالبہ ضرور تسلم کر لے گا لیکن جب وہ بلا ٹل جاتی تو وہ پھر اپنے وعدے سے مکر جاتا۔ اس کی بار بار کی اس روش کا اثر یہ ہوا کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی سچائی کا اثر خود قبطیوں میں بہت بڑھنے لگا۔ اس سے گھبرا کر فرعون نے قوم کے تمام بااثر افراد کو جمع کیا اور ان کے اندر اپنا اثر بحال…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 22–24

22۔ 1 یعنی اس نے ایمان و اطاعت سے انکار ہی نہیں کیا بلکہ زمین میں فساد پھیلائے اور موسیٰ ؑ کا مقابلہ کرنے کی سعی کرتا رہا، چناچہ جادوگروں کو جمع کر کے ان کا مقابلہ حضرت موسیٰ ؑ سے کرایا تاکہ موسیٰ ؑ کو جھوٹا ثابت کیا جاسکے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 20–24

7: یعنی یہ معجزہ دکھایا کہ ان کی لاٹھی سانپ بن گئی اور ان کا ہاتھ چمکنے لگا (دیکھئے سورة طہ : 17 تا 22)

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 22–23

ثم ادبر ........................ الاعلی (24:79) ” پھر چال بازیاں کرنے کے لئے پلٹا اور لوگوں کو جمع کرکے اس نے پکار کر کہا ” میں تمہارا سب سے بڑا رب ہوں “۔ سیاق کلام میں یہاں اس سرکش کافر کی بات کو نہایت سرعت کے ساتھ پیش کیا جاتا ہے اور اس کی مساعی کی تفصیلات ، جادوگروں کا جمع کیا جانا ، اور مقابلہ آرائی کی تفصیلات کو یہاں حذف کردیا جاتا ہے۔ پس اتنا ہی کہا جاتا ہے کہ وہ حضرت موسیٰ کو چھوڑ کر چلا گیا۔ اپنی سعی اور تدبیریں کرتا رہا اور عوام کو بھی جمع کیا اور جادوگروں کو بھی جمع کرلایا۔ اور پس یہاں یہاں اس کی ایک ہی مکروہ اور گندی بات کو نقل کردی ، جو جہالت اور غزور اور سرکش سے اٹی پڑی ہے کہ ”…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 23–24

6 یعنی سب سے بڑا رب تو میں ہوں۔ یہ موسیٰ کسی کا بھیجا ہوا آیا ہے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 22–23

آیت 22{ ثُمَّ اَدْبَرَ یَسْعٰی۔ } ”پھر وہ پلٹا بھاگ دوڑ کرنے کے لیے۔“ حضرت موسیٰ علیہ السلام کا مقابلہ کرنے کے لیے اس نے ملک بھر سے ماہر جادوگروں کو اکٹھا کرنے کی کوششیں شروع کردیں۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 22–23

16 فرعون کی سرکشی :۔ فرعون اور درباریوں کو یہ معجزہ دیکھ کر یقین تو آچکا تھا کہ موسیٰ (علیہ السلام) واقعی اللہ کا رسول ہے۔ مگر مشکل یہ تھی کہ یہ بات تسلیم کرلینے سے ان سب کو اپنے اپنے اقتدار اور مناصب سے دستبردار ہو کر سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) کا مطیع فرمان بننا پڑتا تھا اور یہ بات ان کے لیے موت تھی۔ لہذا انہوں نے عوام الناس کو یہ یقین دلانے کی کوشش کی کہ یہ اللہ کی طرف سے عطا کردہ معجزہ نہیں بلکہ جادو کا کرشمہ ہے۔ اپنے اس جھوٹ کو سچا بنانے کے لیے انہوں نے یہ چال چلی کہ ملک بھر کے ماہر جادوگروں کا برسر عام موسیٰ (علیہ السلام) سے مقابلہ کروا دیا جائے۔ فرعون نے جادوگروں کو لالچ بھی بہت دیا۔…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 23–24

10۔ مصریوں کے عقیدہ میں سب سے بڑا دیوتا سورج تھا، اور جو بادشاہ وقت ہوتا وہ اسی معبود اعظم کا اوتار ہوتا، اور اسی طرح خود بھی معبود اعظم کا درجہ رکھتا تھا۔ یہی بادشاہ فرعون کہلاتا تھا۔ شاہ پرستی کا یہ مذہب بابل (کلدانیہ) میں بھی رہ چکا ہے، اور آج بھی (1944 ء ؁ میں) اس کانمونہ جاپان میں مل سکتا ہے۔ میکاڈوگویاترجمہ ہے فرعون کا ... ملاحظہ ہوں سورة الشعراء (پ 19) اور سورة القصص (پ 20) کے حاشیے۔ نیز حاشیہ تفسیر انگریزی۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 14–24

فاذا ھم بالساھرۃ، ساھرۃ، سے مراد سطح زمین ہے، قیامت کے دن پوری زمین سطح اور چٹیل میدان ہوجائے گی، نہ کہیں نشیب و فراز ہوگا اور نہ آڑ پہاڑ، اس کے بعد کفار اور منکرین بعث کی ضد سے جو آنحضرت ﷺ کو ایذاء پہنچی تھی اس کا ازالہ فرعون اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا قصہ بیان کر کے کیا گیا ہے کہ مخالفین سے ایذاء پہنچ جانا کچھ آپ ﷺ کے ساتھ خاص نہیں، انبیاء سابقین (علیہم السلام) کو بھی بڑی بڑی اذیتیں دی گئی تھیں انہوں نے صبر کیا آپ ﷺ بھی صبر کیجئے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 21–26

(21۔ 26) پھر ایمان سے یا کہ موسیٰ سے اعراض کر کے ان کے خلاف کوشش کرنے لگایا، یا یہ کہ اپنے متعلقین کی طرف دوڑتا ہوا آیا اور اپنے لوگوں کو جمع کرے کے بلند آواز سے ان کے سامنے تقریر کی اور کہنے لگا کہ میں تمہارا رب ہوں، اور تمہارے بڑے بتوں کا بھی رب ہوں، سو تم ان کی عبادت کو مت چھوڑو، چناچہ اللہ تعالیٰ نے اس کو دنیا و آخرت کے عذاب میں پکڑا، یا یہ مطلب ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس کو اس کی پہلی اور دوسری بات پر سزا دی اور دونوں باتوں کے درمیان چالیس سال کا وقفہ تھا، پہلی بات تو اس کی یہ تھی ما علمت من الہ غیری اور دوسری بات یہ ہے انا ربکم الاعلی، اس واقعہ میں ڈرنے والے کے لیے بہت بڑی عبرت ہے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

Explained with ayahs 20–24

فارہ الایۃ الکبریٰ : بڑی نشانی سے مراد لاٹھی کا سانپ بن جانا ہے۔ ”الایۃ“ کو واحد کے بجائے جنس مان لیں تو عصائے موسیٰ اور ید بیضا دونوں مراد ہوسکتے ہیں، بلکہ موسیٰ ؑ کو عطا کئے جانے والے ”تسع آیات بینات“ (9 معجزے) بھی مراد ہوسکتے ہیں۔ دیکھیے سورة بنی اسرائیل (101)۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

فحشر فنادی۔ فقال اناربکم الاعلی۔ اس نے اپنے ساتھیوں کو بلایا تاکہ وہ اسے سانپ سے بچائیں ایک قول یہ کیا گیا ہے اس نے جنگ کرنے کے لیے اپنے لشکروں کو جمع کیا اور مقابلہ کے لیے جادوگروں کو جمع کیا۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے اس نے لوگوں کو جمع کیا اس نے لوگوں کو بلند آواز سے ندا دی، میں تمہارا بڑا رب ہوں میرے اوپر کوئی تمہارا رب نہیں، یہ ذکر کیا جاتا ہے کہ ابلیس نے فرعون کے سامنے انسان کی صورت بنائی جب کہ وہ مصر میں ایک حمام میں تھا فرعون نے اس پر ناپسندیدگی کا اظہار کیا، ابلیس نے اسے کہا، تجھ پر افسوس کیا تو مجھے نہیں پہچانتا ؟ فرعون نے کہا، نہیں شیطان نے کہا، تو کیسے مجھے نہیں پہنچانتا جبکہ تو نے…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 17–27

1۔ فریابی وعبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت اذہب الی فرعون انہ طغی۔ فرعون کے پاس جاؤ کیونکہ اس نے سرکشی کی ہے۔ یعنی نافرمانی کی۔ آیت فاراہ الاٰیۃ الکبری۔ پس اس نے اس کو بڑی نشانی دکھائی۔ یعنی اپنی لاٹھی اور اپنا ہاتھ آیت ثم ادبر یسعی۔ پھر کوشش کرتا ہوا واپس لوٹا یعنی پھر وہ فساد کے اعمال کرنے لگا۔ آیت فاخذہ اللہ نکال الاٰخرۃ والاولیٰ پھر اللہ نے اس کو آخرت اور دنیا کے عذاب میں پکڑ لی ادنیا کا عذاب اس لیے کہ وہ کہتا تھا میں تمہارے لیے اپنے علاوہ کسی اور کو معبود نہیں جانتا۔ اور آخرت کا عذاب اس لیے کہ وہ کہتا تھا میں تمہارا بڑا رب ہوں۔ 2۔ عبدالرزاق وعبد بن…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 15–23

حضرت موسیٰ (علیہ السلام) بنی اسرائیل میں سے تھے جو حضرت یوسف (علیہ السلام) کے زمانے سے مصر میں رہتے تھے وہاں جو ان کی مظلومیت کا حال تھا اس کی تفصیلات پہلے گزر چکی ہیں ان پر فرعون اور آل فرعون کی طرف سے مظالم کے پہاڑ ٹوٹتے تھے، حضرت موسیٰ (علیہ السلام) ان ہی حالات میں وہاں پیدا ہوئے پھر فرعون کے محل میں پلے بڑھے جوان ہوئے ایک اسرائیلی یعنی ان کی قوم کے آدمی اور قبطی (فرعون کی قوم کے ایک فرد) کے درمیان لڑائی ہو رہی تھی۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) وہاں سے گزر رہے تھے اسرائیلی نے ان سے مدد طلب کی، انہوں نے قبطی کو ایک گھونسہ مار دیا گھونسہ کا لگنا تھا کہ وہ تو اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھا وہیں اس کا…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 1–26

ہیبت و اضطراب در روز محشر و فلاح وکامرانی اہل ایمان : قال اللہ تعالیٰ (آیت) ” والنزعت غرقا ....... الی ......... ان فی ذلک لعبرۃ لمن یخشی “۔ (ربط) سورة نبا میں منکرین قیامت کا قیامت کے بارے میں معاندانہ سوال اور تمسخر کا ذکر تھا اور ان کے جواب ورد کے بعد روز محشر کی حاضری کی کچھ کیفیات ذکر کی گئی تھیں، اب اس سورت میں بالخصوص قیامت قائم ہونے پر جو اضطراب وبے چینی قلوب پروارد ہوگی، اور بدحواسی کا عالم لوگوں پر ہوگا اس کا بیان ہے، جزاء وسزا اور مومنین ومجرمین کا فرق بھی بیان کیا جارہا ہے اور یہ کہ اللہ رب العزت حق کو کس طرح باطل پر غلبہ اور کامیابی عطا فرماتا ہے ؟ اس کے لیے حضرت موسیٰ (علیہ…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 20–25

9:۔ ” فاراہ الایۃ الکبری “۔ مراد تمام آیات و معجزات ہیں۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے تمام معجزات کا اس کو مشاہدہ کرایا مگر اس کے باوجود اس نے جھٹلایا اور موسیٰ (علیہ السلام) کی نافرمانی کی۔ ” ثم ادبر یسعی ” ہدایت سے اعراض کیا اور زمین میں شر و فساد پھیلانے کی کوشش کرتا رہا۔ موسیٰ (علیہ السلام) کی طرف سے دعوت توحید کے مقابلے میں اس نے اپنی رعیت کو جمع کیا اور ان میں اعلان کیا کہ میں تمہار اسب سے بڑا رب ہوں مجھ سے بڑا کوئی نہیں، اس لیے تم موسیٰ کی باتوں کی طرف توجہ نہ کرنا۔ ” فاخذہ اللہ “ ’ نکال ‘ منصوب بنزع خافض ہے ای بنکال الاخرۃ (قرطبی) ۔ اللہ تعالیٰ نے اس کو دنیا اور آخرت کی سزا میں پکڑ لیا۔…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 15–26

(گذشتہ سے پیوستہ ) اس سورة مبارکہ میں حکما کے نقطہ نظر سے وقوع قیامت پر دلیل قائم کی گئی ہے ۔ کفار ومشرکین کہتے تھے کہ کیا مرنے کے بعد ہم پھر پہلی حالت پر لوٹائے جائیں گے ۔ یعنی اسی طرح جسم وروح کے ساتھ زندہ ہوجائیں گے جیسا کہ دنیوی زندگی میں تھے ۔ حالانکہ ہم مر کر عظاما نخرۃ بوسیدہ ہڈیاں ہوجائیں گے اگر ایسا ہوا تو یہ بہت افسوس ناک بات ہوگی ۔ وہ لوگ بعث بعد الممات کو بالکل ناممکن خیال کرتے تھے۔ اس حصہ میں اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور فرعون کا تذکرہ بیان فرمایا ۔ اس واقعہ سے ایک طرف آپ کو تسلی دلانا مقصود ہے تو دوسری طرف قیامت کا مسئلہ بھی سمجھا دیا ۔ فرعون بھی قیامت کا انکار…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

فَحَشَرَ فَنَادٰى۝ 23 ۡ ۖ حشر الحَشْرُ : إخراج الجماعة عن مقرّهم وإزعاجهم عنه إلى الحرب ونحوها، وروي : «النّساء لا يُحْشَرن» أي : لا يخرجن إلى الغزو، ويقال ذلک في الإنسان وفي غيره، يقال : حَشَرَتِ السنة مال بني فلان، أي : أزالته عنهم، ولا يقال الحشر إلا في الجماعة، قال اللہ تعالی: وَابْعَثْ فِي الْمَدائِنِ حاشِرِينَ [ الشعراء/ 36] ، وقال تعالی: وَالطَّيْرَ مَحْشُورَةً [ ص/ 19] ، وقال عزّ وجلّ : وَإِذَا الْوُحُوشُ حُشِرَتْ [ التکوير/ 5] ، وقال : لِأَوَّلِ الْحَشْرِ ما ظَنَنْتُمْ أَنْ يَخْرُجُوا [ الحشر/ 2] ، وَحُشِرَ لِسُلَيْمانَ جُنُودُهُ مِنَ الْجِنِّ وَالْإِنْسِ وَالطَّيْرِ فَهُمْ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 15–26

ترکیب ¦ ھل استفہامیۃ او بمعنی قدر والجملۃ مستانفۃ لبیان مسئلۃ النبوۃ اذ متعلق بحدیث۔ لاباتاک لا ختلاف وقیتھما طویٰ قریٔ بالتنوین و ترکہ و ھما سبعیتان فمن صرفۃ جعلہ اسم وادٍ و مکانٍ وجعلہ نکرۃ ومن لم یصرفہ جعلہ بلدۃ وبقعۃ وجعلہ معرفۃ وھو وادٍ بین الشام وقلزم وھوبدل من الوادال اذھب ای قال اذھب وقیل ھو تفسیر للنداء تزکی قرء الجہور بالتخفیف وقرأنافع وابن کثیر بتشدید الرائے علی ادغام التاء فی الزای قال ابو عمر و بن العلاء علی الاول مسناہ تکون زکیاء مؤمنا وعلی الثافی الصدقۃ۔ والیٰ متعلقۃ بمحذوف وھو رغبۃ او توجہ وھو مبتدالک خبرہ واھدیک معطوف علی تزکی منصوب بان والفاء فی فتخشی لترتیب الخشیۃ علی…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 23–24

فَحَشَرَ فَنَادٰی۔ فَقَالَ اَنَا رَبُّـکُمُ الْاَعْلٰی۔ (النازعات : 23، 24) (پس لوگوں کو جمع کیا اور اعلان کیا۔ پس اس نے کہا کہ میں تمہارا سب سے بڑا رب ہوں۔ ) جمع کی ایک صورت تو وہ ہے جس کا ہم نے اس سے پہلے ذکر کیا کہ تمام ملک کے جادوگروں کو ایک کھلے میدان میں جمع کرکے مجمعِ عام کے سامنے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے مقابلہ کرایا گیا۔ اور مقابلے سے پہلے اس نے لوگوں کے سامنے اعلان کیا کہ میں تمہارا سب سے بڑا رب ہوں۔ تو آخر یہ دونوں بھائی کس کے سفیر بن کے آئے ہیں۔ اور دوسری صورت یہ ہے کہ جب اس کھلے مقابلے میں ساحرانِ مصر نے شکست کھائی تو فرعون نے محسوس کیا کہ موسیٰ اور ہارون کے اثرات کو روکنا اب…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 15–26

فہم القرآن ربط کلام : قیامت کو جھٹلانے والوں میں فرعون بھی شامل تھا اس لیے اس کا دنیا میں برا انجام ہے۔ اہل مکہ قیامت کا بار بار مذاق اڑا رہے تھے اس پر انہیں انتباہ کرنے کے لیے موسیٰ (علیہ السلام) اور فرعون کے درمیان ہونے والی کشمکش اور اس کے نتیجہ میں فرعون کے ساتھ پیش آنے والے واقعہ کا حوالہ دے کر سمجھایا کہ کیا آپ کو موسیٰ (علیہ السلام) کے واقعہ کا علم ہے کہ جب طویٰ وادی میں اسے اس کے رب نے فرمایا کہ فرعون کے پاس جاؤ ! کیونکہ وہ بڑا باغی بن چکا ہے جس کا بڑا سبب یہ ہے کہ وہ قیامت کا منکر ہے۔ اسے سمجھاؤ کہ کیا تو تیار ہے کہ شرک اور ظلم وستم سے بچنے کی کوشش کرے ؟ میں تیرے رب کی طرف سے تیری…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

23 : فَحَشَرَ فَنَادٰی ( اور جمع کیا پھر بآواز بلند تقریر کی) فحشرؔ اس نے اپنے لشکروں اور جادوگروں کو جمع کیا۔ پھر وہاں کھڑے ہو کر اجتماع میں اعلان کیا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

22 ۔” ثم ادبر “ پیٹھ پھیری اور ایمان سے اعراض کیا۔ ” یسعیٰ “ زمین میں فساد کے کام کرتا ہے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 15–26

15۔ 26۔ اوپر قیامت کا ذکر تھا ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) اور فرعون کا قصہ یاد دلا کر اہل مکہ کو یہ تنبیہ فرمائی ہے کہ عذاب الٰہی کچھ قیامت پر ہی منحصر نہیں اگر یہ لوگ اللہ کے رسول کے جھٹلانے پر اپنی عادت کے موافق اڑے رہے تو اللہ کی قدرت سے کچھ بعید نہیں کہ جس طرح رسول وقت کی نافرمانی سے فرعون پر دنیا میں آفت آگئی اسی طرح ان لوگوں پر بھی کوئی آفت آجائے چناچہ اس تنبیہ کی غرض سے اس قصہ کے ذکر کے بعد فرمایا کہ جس شخص کے دل میں خدا کا خوف ہے اس کو اس قصہ سے نصیحت پکڑنی چاہئے اسی طرح کی تنبیہ کے مطلب کو اللہ تعالیٰ نے سورة الم سجدہ میں ان لفظوں سے ادا فرمایا ہے۔ ولنذیقنھم من…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 23–24

( فَحَشَرَ ) پس اس نے اپنے لشکروں کو جمع کیا (فَنَادٰى، فَقَالَ ) اور پکارا اور ان سے کہا (اَنَا رَبُّكُمُ الْاَعْلٰى) میں تمہارا سب سے بڑا رب ہوں۔ پس جب اس نے ان کو کمزور پایا تو انہوں نے اس کے سامنے سراطاعت خم کردیا اور اس کے باطل کا اقرار کرلیا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 22–23

(17) فرعون کی اللہ کے رسول کے خلاف چالبازیوں کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اس نے جھٹلایا یعنی اس نے جھٹلایا پیغام حق و ہدایت کو، اور نافرمانی کی اللہ کے رسول کی، اور پھر وہ پلٹ کر اپنی چالبازیوں میں لگ گیا۔ یعنی اپنی بدبختی کے سبب حق کو ماننے اور قبول کرنے کی بجائے وہ بدبخت الٹا حق کے خلاف مصروف پیکار ہوگیا۔ اور اس کو نیچا دکھانے کے لیے چالبازیوں میں لگ گیا۔ والعیاذ باللہ۔ اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور حضرت ہارون (علیہ السلام) کو شکست دینے کے لیے وہ اپنی کافرانہ سرگرمیوں میں مشغول ہوگیا۔ چناچہ اس ملعون نے پہلے تو اپنے درباریوں سے اس بارے میں مشورہ کیا، انہوں نے اس کو یہ رائے دی کہ…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 15–26

فرعون کا انکار اور تباہی تشریح : اکثر لوگ یہ کہتے ہیں کہ پرانے قصے قران پاک میں بار بار بیان کئے جاتے ہیں۔ ٹھیک ہے مگر ہر دفعہ کسی مختلف وجہ کے لیے بیان کئے جاتے ہیں۔ جیسا کہ یہاں آخرت کے انکار کرنے والوں کو سبق دینے کے لیے فرعون کا بیان سنایا گیا ہے۔ کہ اللہ کی سچائیوں کو ماننے سے جو لوگ انکار کرتے ہیں ان کا حال دنیا و آخرت میں ایسے ہی خراب ہوتا ہے جیسا فرعون کا حال ہوا۔ پہلے غرق کردیا گیا مگر لاش انتہائی خوفناک حالات میں دنیا کے سامنے ڈال دی گئی جو لوگوں کو عبرت دلانے کے لیے اور اللہ کی قدرت اور حاکمیت کا یقین دلانے کے لیے لوگوں کے سامنے موجود رکھ دی گئی ہے جو یوں تو معمول کے بالکل خلاف ہے…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–26

سورة نازعات۔ آیات 1 تا 26۔ اسرار ومعارف۔ قسم ہے ان فرشتوں کی جو کافر کی روح کھینچ کرنکالتے ہیں کہ ملک الموت ایک ایک بال اور ناخن کی جڑوں تک سے کھینچ کر نکالتا ہے اس لیے کہ وقت موت برزخ سامنے آجاتا ہے اور عذاب الٰہی دیکھ کر کافر کی روح چمٹی رہناچاہتی ہے اور قسم ہے ان فرشتوں کی جو آرام سے مومن کی روح نکال لیتے ہیں گویا وقت موت ہی کافر پہ سختی اور مومن کو راحت شروع ہوجاتی ہے اس سے ظاہری حالت مراد نہیں نہ ظاہر سے اندازہ ہوسکتا ہے الاماشاء اللہ یعنی بہت کم لوگوں کے حال سے پتہ چلتا ہے اس سے مراد باطنی کیفیات ہیں جو دونوں پہ گزررہی ہوتی ہیں پھر ان روحوں کو لے کر آسمان کی طرف تیزی سے جاتے ہیں اور ان…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(79:23) فحشر فنادی : ہر دو فاء عاطفہ بمعنی ثم ہیں۔ فحشر ای ثم حشر (جمع) قومہ و جنودہ والسحرۃ (مدارک، خازن) پھر اس نے اپنی قوم کو، افواج کو اور جادوگروں کو جمع کیا۔ حشر ماضی کا صیغہ واحد مذکر غائب حشر (باب نصر) مصدر۔ بمعنی اکٹھا کرنا۔ فنادی :عاطفہ نادی ماضی واحد مذکر غائب مناواۃ ونداء (مفاعلۃ) مصدر۔ (ن د ی حروف مادہ) بمعنی پکارنا۔ آواز دینا۔ پھر اس نے (ان کو مخاطب کرکے) پکارا۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 1–46

لغات القرآن النازعات۔ گھسیٹنے والے۔ غرق۔ ڈوب کر۔ الناشطات ۔ بند کھولنے والے۔ السابحات۔ تیرنے والے۔ السابقات۔ آگے بڑھ جانے والے۔ المدبرات۔ انتظام کرنے والے ۔ واجفہ۔ دھڑکنے والے۔ الحافرۃ۔ پہلی پیدائش۔ نخرۃ ۔ گلی سڑی۔ کرۃ۔ دوبارہ۔ رجرۃ واحدۃ۔ ایک زبردست ڈانٹ۔ الساھرہ۔ میدان۔ اری۔ دکھایا۔ الایۃ الکبری۔ بڑی نشانی۔ حشر۔ اس نے جمع کیا۔ نکال۔ سزا۔ اشدخلقا۔ زیادہ مشکل ہے بنانا۔ رفع۔ بلند کردیا۔ سمک۔ اٹھان۔ اغطش۔ اس نے سیاہ کردیا۔ ضحی۔ چڑھتی دھوپ۔ دحی۔ اس نے پھیلایا۔ مری۔ چارہ (جانوروں کی غذا) ۔ الطامہ۔ آفت و مصیبت۔ برزت۔ ظاہر کردی گئی۔ اثر۔ اس نے اختیار کیا۔ ترجیح دی۔ الماوی ۔ ٹھکانا۔ نھی النفس۔ اپنے…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 15–26

(ف 3) اوپر قیامت کا ذکر تھا ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ اور فرعون کا قصہ یاد دلا کر کفار کو یہ تنبیہ فرمائی ہے کہ عذاب الٰہی کچھ قیامت پر ہی منحصر نہیں اگر یہ لوگ اللہ کے رسول کے جھٹلانے پر اپنی عادت کے موافق اڑے رہے تو اللہ کی قدرت سے کچھ بعید نہیں کہ جس طرح رسول وقت کی نافرمانی سے فرعون پر دنیا میں آفت آگئی اسی طرح ان لوگوں پر بھی کوئی آفت آجائے چناچہ اس تنبیہ کی غرج سے اس قصہ کے ذکر کے بعد فرمایا کہ جس شخص کے دل میں خدا کا خوف ہے اس کو اس قصہ سے نصیحت پکڑنی چاہے یہ قصہ کئی جگہ مفصل گذرچکا ہے اور اسی طرح تنبیہ کے مطلب کو اللہ نے سورة الم سجدہ میں فرمایا ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 21–23

[8] یعنی موسیٰ (علیہ السلام) کو اللہ کا رسول تسلیم نہیں کیا اور ان کی دعوت کو جو آیات 19-18 میں بیان ہوئی ہے ماننے سے انکار کردیا۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 4–25

ف 2: السبحت وہ ہیں جو سبک سیری مکینوں کی مانند ہیں ۔ اور فالسبقت وہ ہیں کہ تیزی میں ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی کوشش کرتے رہتے ہیں ۔ اور فالمدبرات سے مراد وہ کواکب ہیں جو اپنی طبعی خاصیتوں کی بنا پر دنیا پر اپنا مستقل اثر قائم کرتے رہتے ہیں ۔ اس طرح گویا ان نجوم کواکب کو انسانی زندگی کے بمنزلہ قرار دیا گیا ہے ۔ کہ بعض لوگ بہت طویل عمر کے ہوتے ہیں اور ان کی ولادت اور موت کا مطلع ومغرب دور دور ہوتا ہے ۔ بعض وہ ہوتے ہیں جو تھوڑی عمر پاتے ہیں اور ہنسی خوشی گزار دیتے ہیں ۔ بعض کی زندگی حوادث اور مقابلہ وتقدم سے مبرا ہوتی ہے ۔ اور وہ سبک سیر سیاروں کی طرح فضائے حیات میں تیر کر منزل تک پہنچ جاتے ہیں…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 12–24

ف 4۔ کیونکہ ہم نے تو اس کے لئے کچھ سامان کیا نہیں، مقصود اس سے تمسخر تھا اہل حق کے اس عقیدہ کے ساتھ یعنی مسلمانوں کے عقیدہ پر تو ہم بڑے خسارہ میں ہوں گے جیسے کوئی شخص کسی کو خیر خواہی سے ڈرائے کہ اس راہ مت جانا، شری ملے گا اور مخاطب تکذیب کے طور پر کسی سے کہے کہ بھائی ادھر مت جانا شیر کھا جائے گا۔ مطلب یہ کہ قیامت کوئی چیز نہیں ہے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

پس اس نے لوگوں کو جمع کیا اور منادی کرا دی ۔ 23 فرعون نے موسیٰ (علیہ السلام) کے مقابلہ کے لئے ملک مصر کے بڑے ماہر لوگوں کو شاہی دعوت نامے دیئے اور ان کو ایک دن مقرر کردیا کہ فلاں تاریخ کو فلاں میدان میں تم کو ملک مصر کے ایک ساحر سے مناظرہ کرنا ہے جس میں اس بات پر دلائل پیش کرنا ہیں کہ قوم بنی اسرائیل کو اس ملک کی قلیدی اسامیوں پر متعینن ہیں کیا جاسکتا یہ صرف اور صرف قبطیوں کا حق ہے وہ اس ملک پر حکومت کریں اور قلیدی آسامیوں پر متعین کئے جائیں ظاہر ہے کہ ایک زمانہ تک قوم بنی اسرائیل بھی اس ملک کے سیاہ وسفید کی مالک رہ چکی تھی اور بنی اسرائیل سے پہلے بھی اس ملک پر حکمران کرتے رہے تھے اب دونوں…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 5–24

The fifth quality of the angels: فَالْمُدَبِّرَ‌اتِ أَمْرً‌ا (then manage [ to do ] everything [ they are ordered to do,]...79:5). In other words, the last task of these angels of death will be as follows: Those who are commanded to reward and comfort the deserving souls, will gather means of reward and comfort for them; and those who are commanded to punish and cause pain to [ the evil souls ] will organize means for that. Reward and Punishment in the Grave The Surah thus far confirms that at the time of death, the angels will arrive and extract human souls. Then they will take them to the…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 23–24

11 This proclamation of Pharaoh has been mentioned at several places in the Qur'an. On one occasion he said to the Prophet Moses: "lf you took another one as a deity beside me, I would cast you in the prison." (Ash-Shua`ra': 29) . On another occasion he had addressed his courtiers, saying: "O chiefs, I do not know of any other god of yours than myself. (Al-Qasas.: 38) . By this Pharaoh did not mean, nor could he ever mean, that he himself was the creator of the universe and he had made the world, nor that he denied the existence of Allah and claimed to be lord of the universe, nor that he…

Read the full tafseer →