ثُمَّ اَدْبَرَ یَسْعٰی ۟ؗۖثُمَّ اَدۡبَرَ يَسۡعٰى
پھر لوٹ گیا اور تدبیریں کرنے لگا
— Fateh Muhammad Jalandhari
Then he turned his back, striving.
— Saheeh International
Juz 30 · Ruku 1 of surah · Ruku 3 of juz
ثُمَّ اَدْبَرَ یَسْعٰی ۟ؗۖثُمَّ اَدۡبَرَ يَسۡعٰى
پھر لوٹ گیا اور تدبیریں کرنے لگا
— Fateh Muhammad Jalandhari
Then he turned his back, striving.
— Saheeh International
Juz 30 · Ruku 1 of surah · Ruku 3 of juz
Read the whole surah · Surah An-Naazi'aat
پھر چالبازیاں کرنے کے لیے پلٹا
پھر لوٹ گیا اور تدبیریں کرنے لگا
پھر پلٹا دوڑ دھوپ کرتے ہوئے
پھر دوڑ دھوپ کرنے کے لیے پلٹا۔
پھر پیٹھ دی اپنی کوشش میں لگا
پھر وہ (حق سے) رُوگرداں ہو کر (موسٰی علیہ السلام کی مخالفت میں) سعی و کاوش کرنے لگا،
پھر واپس پلٹا، دوڑ بھاگ کرتا تھا۔
پھر لوٹ گیا اور تدبیریں کرنے لگا
پھر پلٹا اپنی سرگرمیوں کو تیز کرتے ہوئے
پھر وہ پلٹ کر (ان کے خلاف) کوشش میں لگ گیا
پھر وہ جدا ہو کر کوشش کرنے لگا۔
پھر وہ پلٹا بھاگ دوڑ کرنے کے لیے۔
پھر لوٹ گیا اور تدبیریں کرنے لگا
and then he turned back to have recourse to his craftiness,
then he turned back, and tried hard (to refute the Messenger) ,
then he turned back, and tried hard (to refute the Messenger) ,
Then he turned back, striving.
Then turned he away in haste,
— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran
Then he turned his back, striving.
Then he turned away in a hurry,
Then he went back hastily.
Then he turned back striving.
Further, he turned his back, striving hard (against Allah).
— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary
Explained with ayahs 15–26
معفرت دل حق کا مطیع و فرماں بردار ہوتا ہے اللہ تعالیٰ اپنے رسول حضرت محمد ﷺ کو خبر دیتا ہے کہ اس نے اپنے بندے اور رسول حضرت موسیٰ ؑ کو فرعون کی طرف بھیجا اور معجزات سے ان کی تائید کی، لیکن باوجود اس کے فرعون اپنی سرکشی اور اپنے کفر سے باز نہ آیا بالاخر اللہ کا عذاب اترا اور برباد ہوگیا، اسی طرح اے پیغمبر آخر الزمان ﷺ آپ کے مخالفین کا بھی حشر ہوگا۔ اسی لئے اس واقعہ کے خاتمہ پر فریاد ڈر والوں کے لئے اس میں عبرت ہے، پس فرماتا ہے کہ تجھے خبر بھی ہے ؟ موسیٰ ؑ کو اس کے رب نے آواز دی جبکہ وہ ایک مقدس میدان میں تھے جس کا نام طویٰ ہے۔ اس کا تفصیل سے بیان سورة طہ میں گزر چکا ہے، آواز دے کر فرمایا کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–22
سورة النّٰزِعٰت 10 اس کی تفصیل دوسرے مقامات پر قرآن مجید میں یہ بیان کی گئی ہے کہ اس نے تمام مصر سے ماہر جادوگروں کو بلوایا اور ایک مجمع عام میں ان لاٹھیوں اور رسیوں کے اژدھے بنوا کر دکھائے تاکہ لوگوں کو یقین آجائے کہ موسیٰ ؑ کوئی نبی نہیں بلکہ ایک جادوگر ہیں، اور لاٹھی کا اژدہا بنا کر جو کرشمہ انہوں نے دکھایا ہے وہ دوسرے جادوگر بھی دکھا سکتے ہیں۔ لیکن اس کی یہ چال الٹی پڑی اور جادوگروں نے شکست کھا کر خود تسلیم کرلیا کہ موسیٰ ؑ نے جو کچھ دکھایا ہے وہ جادو نہیں بلکہ معجزہ ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–24
پانچویں صفت فالْمُدَبِّرٰتِ اَمْرًا ہے۔ امر الٰہی کی تدبیر و تنفیذ کرنے والے یعنی ان ملائکہ موت کا آخری کام یہ ہوگا کہ جس روح کو ثواب اور راحت دینے کا حکم ہوگا اس کے لئے راحت کے سامان جمع کردیں اور جس کو عذاب اور تکلیف میں ڈالنے کا حکم ہوگا اس کے لئے اس کا انتظام کردیں۔ قبر میں ثواب وعذاب موت کے وقت فرشتوں کا آنا اور انسان کی روح قبض کرکے آسمان کی طرف لیجانا پھر اسکے اچھے یا برے ٹھکانے پر جلدی سے پہنچا دینا اور وہاں ثواب یا عذاب، تکلیف یا راحت کے انتظامات کردینا ان آیات مذکورہ سے ثابت ہوگیا۔ یہ عذاب وثواب قبر یعنی برزخ میں ہوگا۔ حشر کا عذاب وثواب اس کے بعد ہے احادیث صحیحہ میں اس کی بڑی…
Read the full tafseer →یعنی حضرت موسیٰ علیہ السلام کی باتیں سن کر ہٹا تو ان کو شکست دینے کی سرگرمیوں میں مصروف ہو گیا۔ قرآن کے دوسرے مقامات میں ان سرگرمیوں کی تفصیل موجود ہے۔ اس نے چاہا کہ جادوگروں سے مقابلہ کرا کر حضرت موسیٰ علیہ السلام اور حضرت ہارون علیہ السلام کو شکست دی جائے لیکن درباریوں سے مشورہ کیا تو انھوں نے یہ رائے دی کہ یہ دونوں (موسیٰ اور ہارون علیہما السلام) بڑے ماہر جادوگر ہیں، عام جادوگروں سے ان کا مقابلہ کرانا شکست اور جگ ہنسائی کا سبب ہو سکتا ہے۔ بہتر یہ ہے کہ مملکت کے تمام اطراف کے ماہر جادوگروں کو دعوت دی جائے اور ایک کھلے میدان میں ان دونوں سے ان کا مقابلہ کرایا جائے۔ چنانچہ اس مشورے پر عمل کیا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–24
22۔ 1 یعنی اس نے ایمان و اطاعت سے انکار ہی نہیں کیا بلکہ زمین میں فساد پھیلائے اور موسیٰ ؑ کا مقابلہ کرنے کی سعی کرتا رہا، چناچہ جادوگروں کو جمع کر کے ان کا مقابلہ حضرت موسیٰ ؑ سے کرایا تاکہ موسیٰ ؑ کو جھوٹا ثابت کیا جاسکے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–24
7: یعنی یہ معجزہ دکھایا کہ ان کی لاٹھی سانپ بن گئی اور ان کا ہاتھ چمکنے لگا (دیکھئے سورة طہ : 17 تا 22)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–23
ثم ادبر ........................ الاعلی (24:79) ” پھر چال بازیاں کرنے کے لئے پلٹا اور لوگوں کو جمع کرکے اس نے پکار کر کہا ” میں تمہارا سب سے بڑا رب ہوں “۔ سیاق کلام میں یہاں اس سرکش کافر کی بات کو نہایت سرعت کے ساتھ پیش کیا جاتا ہے اور اس کی مساعی کی تفصیلات ، جادوگروں کا جمع کیا جانا ، اور مقابلہ آرائی کی تفصیلات کو یہاں حذف کردیا جاتا ہے۔ پس اتنا ہی کہا جاتا ہے کہ وہ حضرت موسیٰ کو چھوڑ کر چلا گیا۔ اپنی سعی اور تدبیریں کرتا رہا اور عوام کو بھی جمع کیا اور جادوگروں کو بھی جمع کرلایا۔ اور پس یہاں یہاں اس کی ایک ہی مکروہ اور گندی بات کو نقل کردی ، جو جہالت اور غزور اور سرکش سے اٹی پڑی ہے کہ ”…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–22
5 یعنی وہ ملعون ماننے والا کہاں تھا۔ اس فکر میں چلا کہ لوگوں کو جمع کرے اور جادو گروں کو تلاش کر کے بلوائے کہ وہ موسیٰ کے معجزات کا مقابلہ کریں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–23
آیت 22{ ثُمَّ اَدْبَرَ یَسْعٰی۔ } ”پھر وہ پلٹا بھاگ دوڑ کرنے کے لیے۔“ حضرت موسیٰ علیہ السلام کا مقابلہ کرنے کے لیے اس نے ملک بھر سے ماہر جادوگروں کو اکٹھا کرنے کی کوششیں شروع کردیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–23
16 فرعون کی سرکشی :۔ فرعون اور درباریوں کو یہ معجزہ دیکھ کر یقین تو آچکا تھا کہ موسیٰ (علیہ السلام) واقعی اللہ کا رسول ہے۔ مگر مشکل یہ تھی کہ یہ بات تسلیم کرلینے سے ان سب کو اپنے اپنے اقتدار اور مناصب سے دستبردار ہو کر سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) کا مطیع فرمان بننا پڑتا تھا اور یہ بات ان کے لیے موت تھی۔ لہذا انہوں نے عوام الناس کو یہ یقین دلانے کی کوشش کی کہ یہ اللہ کی طرف سے عطا کردہ معجزہ نہیں بلکہ جادو کا کرشمہ ہے۔ اپنے اس جھوٹ کو سچا بنانے کے لیے انہوں نے یہ چال چلی کہ ملک بھر کے ماہر جادوگروں کا برسر عام موسیٰ (علیہ السلام) سے مقابلہ کروا دیا جائے۔ فرعون نے جادوگروں کو لالچ بھی بہت دیا۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–22
9۔ (موسی (علیہ السلام) رسول اور آپ (علیہ السلام) کے لائے ہوئے پیام کی تردید وتکذیب کی) (آیت) ” الایۃ الکبری “۔ یہ نشانی یا نشانیاں ظاہر ہے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی تصدیق نبوت و رسالت کی تھیں۔ الایۃ کے صیغہ واحد سے یہاں عموما معجزہ عصا سے مراد لی گئی ہے۔ یہ بھی جائز ہے کہ (آیت) ” الایۃ “ کو اسم جنس قرار دے کر سارے معجزات موسوی اسکے تحت میں داخل سمجھے جائیں۔ وجوز ان مراد بھا مجموع معجزاتہ (علیہ السلام) (روح)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–24
فاذا ھم بالساھرۃ، ساھرۃ، سے مراد سطح زمین ہے، قیامت کے دن پوری زمین سطح اور چٹیل میدان ہوجائے گی، نہ کہیں نشیب و فراز ہوگا اور نہ آڑ پہاڑ، اس کے بعد کفار اور منکرین بعث کی ضد سے جو آنحضرت ﷺ کو ایذاء پہنچی تھی اس کا ازالہ فرعون اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا قصہ بیان کر کے کیا گیا ہے کہ مخالفین سے ایذاء پہنچ جانا کچھ آپ ﷺ کے ساتھ خاص نہیں، انبیاء سابقین (علیہم السلام) کو بھی بڑی بڑی اذیتیں دی گئی تھیں انہوں نے صبر کیا آپ ﷺ بھی صبر کیجئے۔
Read the full tafseer →ثم ادبر یسعی . جب سانپ کو فرعون نے اپنی طرف تیزی سے آتے دیکھا تو منہ پھیر کر پشت موڑ کر تیزی سے بھاگا۔ یسعٰی ضمیر ادبر سے حال ہے (دوڑتا ہوا ‘ تیزی سے بھاگتا ہوا) یا یہ معنی ہے کہ اس نے ملک میں تباہی کی کوشش کرتے ہوئے ایمان اور طاعت سے پشت پھیری۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–26
(21۔ 26) پھر ایمان سے یا کہ موسیٰ سے اعراض کر کے ان کے خلاف کوشش کرنے لگایا، یا یہ کہ اپنے متعلقین کی طرف دوڑتا ہوا آیا اور اپنے لوگوں کو جمع کرے کے بلند آواز سے ان کے سامنے تقریر کی اور کہنے لگا کہ میں تمہارا رب ہوں، اور تمہارے بڑے بتوں کا بھی رب ہوں، سو تم ان کی عبادت کو مت چھوڑو، چناچہ اللہ تعالیٰ نے اس کو دنیا و آخرت کے عذاب میں پکڑا، یا یہ مطلب ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس کو اس کی پہلی اور دوسری بات پر سزا دی اور دونوں باتوں کے درمیان چالیس سال کا وقفہ تھا، پہلی بات تو اس کی یہ تھی ما علمت من الہ غیری اور دوسری بات یہ ہے انا ربکم الاعلی، اس واقعہ میں ڈرنے والے کے لیے بہت بڑی عبرت ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–24
فارہ الایۃ الکبریٰ : بڑی نشانی سے مراد لاٹھی کا سانپ بن جانا ہے۔ ”الایۃ“ کو واحد کے بجائے جنس مان لیں تو عصائے موسیٰ اور ید بیضا دونوں مراد ہوسکتے ہیں، بلکہ موسیٰ ؑ کو عطا کئے جانے والے ”تسع آیات بینات“ (9 معجزے) بھی مراد ہوسکتے ہیں۔ دیکھیے سورة بنی اسرائیل (101)۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–22
فکذب وعصی، ثم ادبر یسعی۔ اس نے اللہ تعالیٰ کے نبی حضرت موسیٰ کو جھٹلایا اور اپنے رب کی نافرمانی کی پھر ایمان سے اعراض کرتے ہوئے پیٹھ پھیرلی اور زمین میں فساد برپا کرنے کی کوشش کرنے لگا، ایک قول یہ کیا گیا ہے وہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو سزا دینے کی کوشش کرنے لگا ایک قول یہ کیا گیا ہے وہ سانپ دیکھ کر بھاگ کھڑا ہوا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–27
1۔ فریابی وعبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت اذہب الی فرعون انہ طغی۔ فرعون کے پاس جاؤ کیونکہ اس نے سرکشی کی ہے۔ یعنی نافرمانی کی۔ آیت فاراہ الاٰیۃ الکبری۔ پس اس نے اس کو بڑی نشانی دکھائی۔ یعنی اپنی لاٹھی اور اپنا ہاتھ آیت ثم ادبر یسعی۔ پھر کوشش کرتا ہوا واپس لوٹا یعنی پھر وہ فساد کے اعمال کرنے لگا۔ آیت فاخذہ اللہ نکال الاٰخرۃ والاولیٰ پھر اللہ نے اس کو آخرت اور دنیا کے عذاب میں پکڑ لی ادنیا کا عذاب اس لیے کہ وہ کہتا تھا میں تمہارے لیے اپنے علاوہ کسی اور کو معبود نہیں جانتا۔ اور آخرت کا عذاب اس لیے کہ وہ کہتا تھا میں تمہارا بڑا رب ہوں۔ 2۔ عبدالرزاق وعبد بن…
Read the full tafseer →[ثُمَّ اَدْبَرَ يَسْعٰى: پھر اس نے پیٹھ پھیری بھاگ دوڑ کرتے ہوئے ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–23
حضرت موسیٰ (علیہ السلام) بنی اسرائیل میں سے تھے جو حضرت یوسف (علیہ السلام) کے زمانے سے مصر میں رہتے تھے وہاں جو ان کی مظلومیت کا حال تھا اس کی تفصیلات پہلے گزر چکی ہیں ان پر فرعون اور آل فرعون کی طرف سے مظالم کے پہاڑ ٹوٹتے تھے، حضرت موسیٰ (علیہ السلام) ان ہی حالات میں وہاں پیدا ہوئے پھر فرعون کے محل میں پلے بڑھے جوان ہوئے ایک اسرائیلی یعنی ان کی قوم کے آدمی اور قبطی (فرعون کی قوم کے ایک فرد) کے درمیان لڑائی ہو رہی تھی۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) وہاں سے گزر رہے تھے اسرائیلی نے ان سے مدد طلب کی، انہوں نے قبطی کو ایک گھونسہ مار دیا گھونسہ کا لگنا تھا کہ وہ تو اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھا وہیں اس کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–26
ہیبت و اضطراب در روز محشر و فلاح وکامرانی اہل ایمان : قال اللہ تعالیٰ (آیت) ” والنزعت غرقا ....... الی ......... ان فی ذلک لعبرۃ لمن یخشی “۔ (ربط) سورة نبا میں منکرین قیامت کا قیامت کے بارے میں معاندانہ سوال اور تمسخر کا ذکر تھا اور ان کے جواب ورد کے بعد روز محشر کی حاضری کی کچھ کیفیات ذکر کی گئی تھیں، اب اس سورت میں بالخصوص قیامت قائم ہونے پر جو اضطراب وبے چینی قلوب پروارد ہوگی، اور بدحواسی کا عالم لوگوں پر ہوگا اس کا بیان ہے، جزاء وسزا اور مومنین ومجرمین کا فرق بھی بیان کیا جارہا ہے اور یہ کہ اللہ رب العزت حق کو کس طرح باطل پر غلبہ اور کامیابی عطا فرماتا ہے ؟ اس کے لیے حضرت موسیٰ (علیہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–25
9:۔ ” فاراہ الایۃ الکبری “۔ مراد تمام آیات و معجزات ہیں۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے تمام معجزات کا اس کو مشاہدہ کرایا مگر اس کے باوجود اس نے جھٹلایا اور موسیٰ (علیہ السلام) کی نافرمانی کی۔ ” ثم ادبر یسعی ” ہدایت سے اعراض کیا اور زمین میں شر و فساد پھیلانے کی کوشش کرتا رہا۔ موسیٰ (علیہ السلام) کی طرف سے دعوت توحید کے مقابلے میں اس نے اپنی رعیت کو جمع کیا اور ان میں اعلان کیا کہ میں تمہار اسب سے بڑا رب ہوں مجھ سے بڑا کوئی نہیں، اس لیے تم موسیٰ کی باتوں کی طرف توجہ نہ کرنا۔ ” فاخذہ اللہ “ ’ نکال ‘ منصوب بنزع خافض ہے ای بنکال الاخرۃ (قرطبی) ۔ اللہ تعالیٰ نے اس کو دنیا اور آخرت کی سزا میں پکڑ لیا۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–26
(گذشتہ سے پیوستہ ) اس سورة مبارکہ میں حکما کے نقطہ نظر سے وقوع قیامت پر دلیل قائم کی گئی ہے ۔ کفار ومشرکین کہتے تھے کہ کیا مرنے کے بعد ہم پھر پہلی حالت پر لوٹائے جائیں گے ۔ یعنی اسی طرح جسم وروح کے ساتھ زندہ ہوجائیں گے جیسا کہ دنیوی زندگی میں تھے ۔ حالانکہ ہم مر کر عظاما نخرۃ بوسیدہ ہڈیاں ہوجائیں گے اگر ایسا ہوا تو یہ بہت افسوس ناک بات ہوگی ۔ وہ لوگ بعث بعد الممات کو بالکل ناممکن خیال کرتے تھے۔ اس حصہ میں اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور فرعون کا تذکرہ بیان فرمایا ۔ اس واقعہ سے ایک طرف آپ کو تسلی دلانا مقصود ہے تو دوسری طرف قیامت کا مسئلہ بھی سمجھا دیا ۔ فرعون بھی قیامت کا انکار…
Read the full tafseer →ثُمَّ اَدْبَرَ يَسْعٰى 22 ۡ ۖ دبر ( پيٹھ) دُبُرُ الشّيء : خلاف القُبُل وكنّي بهما عن، العضوین المخصوصین، ويقال : دُبْرٌ ودُبُرٌ ، وجمعه أَدْبَار، قال تعالی: وَمَنْ يُوَلِّهِمْ يَوْمَئِذٍدُبُرَهُ [ الأنفال/ 16] ، وقال : يَضْرِبُونَ وُجُوهَهُمْ وَأَدْبارَهُمْ [ الأنفال/ 50] أي : قدّامهم وخلفهم، وقال : فَلا تُوَلُّوهُمُ الْأَدْبارَ [ الأنفال/ 15] ، وذلک نهي عن الانهزام، وقوله : وَأَدْبارَ السُّجُودِ [ ق/ 40] : أواخر الصلوات، وقرئ : وَإِدْبارَ النُّجُومِ ( وأَدْبَار النّجوم) فإدبار مصدر مجعول ظرفا، ( د ب ر ) دبر ۔ بشت ، مقعد یہ قبل کی ضد ہے اور یہ دونوں لفظ بطور کنایہ جائے مخصوص کے معنی میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–26
ترکیب ¦ ھل استفہامیۃ او بمعنی قدر والجملۃ مستانفۃ لبیان مسئلۃ النبوۃ اذ متعلق بحدیث۔ لاباتاک لا ختلاف وقیتھما طویٰ قریٔ بالتنوین و ترکہ و ھما سبعیتان فمن صرفۃ جعلہ اسم وادٍ و مکانٍ وجعلہ نکرۃ ومن لم یصرفہ جعلہ بلدۃ وبقعۃ وجعلہ معرفۃ وھو وادٍ بین الشام وقلزم وھوبدل من الوادال اذھب ای قال اذھب وقیل ھو تفسیر للنداء تزکی قرء الجہور بالتخفیف وقرأنافع وابن کثیر بتشدید الرائے علی ادغام التاء فی الزای قال ابو عمر و بن العلاء علی الاول مسناہ تکون زکیاء مؤمنا وعلی الثافی الصدقۃ۔ والیٰ متعلقۃ بمحذوف وھو رغبۃ او توجہ وھو مبتدالک خبرہ واھدیک معطوف علی تزکی منصوب بان والفاء فی فتخشی لترتیب الخشیۃ علی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–22
فَکَذَّبَ وَعَصٰی۔ ثُمَّ اَدْبَرَیَسْعٰی۔ (النازعات : 21، 22) (تو اس نے جھٹلایا اور نافرمانی کی۔ پھر پلٹا تاکہ (ان کے اثرات کو روکنے کے لیے) کوششیں تیز کردے۔ ) فرعون کا رویہ اتنے بڑے معجزے کو دیکھنے کے بعد بھی فرعون نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو رسول ماننے سے انکار کردیا۔ آپ کو اور آپ کے بھائی کو بھی ساحر اور مفتری قرار دیا اور ان کی تکذیب کردی۔ اور آپ جس بات کی طرف دعوت دے رہے تھے اس کو ماننے سے انکار کردیا۔ اور پھر اس انکار پر خاموش ہو کر نہیں رہ گیا بلکہ اس نے محسوس کیا کہ ان دونوں بھائیوں کی دعوت اپنے اندر بےپناہ اثرات رکھتی ہے اور جس معجزے کا انھوں نے اظہار کیا ہے اگر اس کا تدارک جادو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–26
فہم القرآن ربط کلام : قیامت کو جھٹلانے والوں میں فرعون بھی شامل تھا اس لیے اس کا دنیا میں برا انجام ہے۔ اہل مکہ قیامت کا بار بار مذاق اڑا رہے تھے اس پر انہیں انتباہ کرنے کے لیے موسیٰ (علیہ السلام) اور فرعون کے درمیان ہونے والی کشمکش اور اس کے نتیجہ میں فرعون کے ساتھ پیش آنے والے واقعہ کا حوالہ دے کر سمجھایا کہ کیا آپ کو موسیٰ (علیہ السلام) کے واقعہ کا علم ہے کہ جب طویٰ وادی میں اسے اس کے رب نے فرمایا کہ فرعون کے پاس جاؤ ! کیونکہ وہ بڑا باغی بن چکا ہے جس کا بڑا سبب یہ ہے کہ وہ قیامت کا منکر ہے۔ اسے سمجھاؤ کہ کیا تو تیار ہے کہ شرک اور ظلم وستم سے بچنے کی کوشش کرے ؟ میں تیرے رب کی طرف سے تیری…
Read the full tafseer →22 : ثُمَّ اَدْبَرَ یَسْعٰی (پھر جدا ہو کر کوشش کرنے لگا) ادبرؔ موسیٰ (علیہ السلام) سے منہ موڑا۔ یسعٰیؔ اور اپنی تدبیر کے متعلق کوشش کرنے لگا۔ نمبر 2۔ جب اس نے سانپ کو دیکھا تو مرعوب ہوا۔ پھر پیٹھ پھیر کر بھاگ کھڑا ہوا وہ جلدی جوش میں آنے والا ہلکا پھلکا تھا۔
Read the full tafseer →21 ۔” فکذب “ اس بات کی کہ وہ دونوں اللہ کی طرف سے ہیں۔ ” وعصیٰ “۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–26
15۔ 26۔ اوپر قیامت کا ذکر تھا ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) اور فرعون کا قصہ یاد دلا کر اہل مکہ کو یہ تنبیہ فرمائی ہے کہ عذاب الٰہی کچھ قیامت پر ہی منحصر نہیں اگر یہ لوگ اللہ کے رسول کے جھٹلانے پر اپنی عادت کے موافق اڑے رہے تو اللہ کی قدرت سے کچھ بعید نہیں کہ جس طرح رسول وقت کی نافرمانی سے فرعون پر دنیا میں آفت آگئی اسی طرح ان لوگوں پر بھی کوئی آفت آجائے چناچہ اس تنبیہ کی غرض سے اس قصہ کے ذکر کے بعد فرمایا کہ جس شخص کے دل میں خدا کا خوف ہے اس کو اس قصہ سے نصیحت پکڑنی چاہئے اسی طرح کی تنبیہ کے مطلب کو اللہ تعالیٰ نے سورة الم سجدہ میں ان لفظوں سے ادا فرمایا ہے۔ ولنذیقنھم من…
Read the full tafseer →( ثُمَّ اَدْبَرَ يَسْعٰى) پھر لوٹ گیا اور تدبیریں کرنے لگا۔ یعنی حق کا مقابلہ اور اس کے خلاف جنگ میں جدوجہد کرنے لگا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–23
(17) فرعون کی اللہ کے رسول کے خلاف چالبازیوں کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اس نے جھٹلایا یعنی اس نے جھٹلایا پیغام حق و ہدایت کو، اور نافرمانی کی اللہ کے رسول کی، اور پھر وہ پلٹ کر اپنی چالبازیوں میں لگ گیا۔ یعنی اپنی بدبختی کے سبب حق کو ماننے اور قبول کرنے کی بجائے وہ بدبخت الٹا حق کے خلاف مصروف پیکار ہوگیا۔ اور اس کو نیچا دکھانے کے لیے چالبازیوں میں لگ گیا۔ والعیاذ باللہ۔ اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور حضرت ہارون (علیہ السلام) کو شکست دینے کے لیے وہ اپنی کافرانہ سرگرمیوں میں مشغول ہوگیا۔ چناچہ اس ملعون نے پہلے تو اپنے درباریوں سے اس بارے میں مشورہ کیا، انہوں نے اس کو یہ رائے دی کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–26
فرعون کا انکار اور تباہی تشریح : اکثر لوگ یہ کہتے ہیں کہ پرانے قصے قران پاک میں بار بار بیان کئے جاتے ہیں۔ ٹھیک ہے مگر ہر دفعہ کسی مختلف وجہ کے لیے بیان کئے جاتے ہیں۔ جیسا کہ یہاں آخرت کے انکار کرنے والوں کو سبق دینے کے لیے فرعون کا بیان سنایا گیا ہے۔ کہ اللہ کی سچائیوں کو ماننے سے جو لوگ انکار کرتے ہیں ان کا حال دنیا و آخرت میں ایسے ہی خراب ہوتا ہے جیسا فرعون کا حال ہوا۔ پہلے غرق کردیا گیا مگر لاش انتہائی خوفناک حالات میں دنیا کے سامنے ڈال دی گئی جو لوگوں کو عبرت دلانے کے لیے اور اللہ کی قدرت اور حاکمیت کا یقین دلانے کے لیے لوگوں کے سامنے موجود رکھ دی گئی ہے جو یوں تو معمول کے بالکل خلاف ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–26
سورة نازعات۔ آیات 1 تا 26۔ اسرار ومعارف۔ قسم ہے ان فرشتوں کی جو کافر کی روح کھینچ کرنکالتے ہیں کہ ملک الموت ایک ایک بال اور ناخن کی جڑوں تک سے کھینچ کر نکالتا ہے اس لیے کہ وقت موت برزخ سامنے آجاتا ہے اور عذاب الٰہی دیکھ کر کافر کی روح چمٹی رہناچاہتی ہے اور قسم ہے ان فرشتوں کی جو آرام سے مومن کی روح نکال لیتے ہیں گویا وقت موت ہی کافر پہ سختی اور مومن کو راحت شروع ہوجاتی ہے اس سے ظاہری حالت مراد نہیں نہ ظاہر سے اندازہ ہوسکتا ہے الاماشاء اللہ یعنی بہت کم لوگوں کے حال سے پتہ چلتا ہے اس سے مراد باطنی کیفیات ہیں جو دونوں پہ گزررہی ہوتی ہیں پھر ان روحوں کو لے کر آسمان کی طرف تیزی سے جاتے ہیں اور ان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–22
ف 13 یعنی مجھ سے اوپر کون خڈا ہے جس کے متعلق موسیٰ ( علیہ السلام) دعویٰ کرتا ہے کہ وہ اس کا بھیجا ہوا ہے ؟
Read the full tafseer →(79:22) ثم اربع یسعی : ثم تراخی فی الوقت کے لئے ہے۔ پھر۔ اس کے بعد ۔ ادبر ۔ ادبار (افعال) سے ماضی کا صیغہ واحد مذکر غائب۔ اس نے پیٹھ پھیری۔ دبر سے جس کے معنی پیٹھ کے ہیں۔ یسعی مضارع کا صیغہ واحد مذکر غائب ۔ سعی (باب فتح) مصدر سے ۔ وہ دوڑتا ہے۔ وہ دوڑے گا دوڑتا ہوا۔ تدبیریں کرتا ہوا یہاں ضمیر فاعل ادبر سے حال ہے پھر روگرداں ہوکر (فتنہ انگیزی میں) کوشاں ہوگیا۔ یا سانپ کو اپنی طرف آتا دیکھ کر دوڑتا ہوا پیچھے مڑا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–46
لغات القرآن النازعات۔ گھسیٹنے والے۔ غرق۔ ڈوب کر۔ الناشطات ۔ بند کھولنے والے۔ السابحات۔ تیرنے والے۔ السابقات۔ آگے بڑھ جانے والے۔ المدبرات۔ انتظام کرنے والے ۔ واجفہ۔ دھڑکنے والے۔ الحافرۃ۔ پہلی پیدائش۔ نخرۃ ۔ گلی سڑی۔ کرۃ۔ دوبارہ۔ رجرۃ واحدۃ۔ ایک زبردست ڈانٹ۔ الساھرہ۔ میدان۔ اری۔ دکھایا۔ الایۃ الکبری۔ بڑی نشانی۔ حشر۔ اس نے جمع کیا۔ نکال۔ سزا۔ اشدخلقا۔ زیادہ مشکل ہے بنانا۔ رفع۔ بلند کردیا۔ سمک۔ اٹھان۔ اغطش۔ اس نے سیاہ کردیا۔ ضحی۔ چڑھتی دھوپ۔ دحی۔ اس نے پھیلایا۔ مری۔ چارہ (جانوروں کی غذا) ۔ الطامہ۔ آفت و مصیبت۔ برزت۔ ظاہر کردی گئی۔ اثر۔ اس نے اختیار کیا۔ ترجیح دی۔ الماوی ۔ ٹھکانا۔ نھی النفس۔ اپنے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–26
(ف 3) اوپر قیامت کا ذکر تھا ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ اور فرعون کا قصہ یاد دلا کر کفار کو یہ تنبیہ فرمائی ہے کہ عذاب الٰہی کچھ قیامت پر ہی منحصر نہیں اگر یہ لوگ اللہ کے رسول کے جھٹلانے پر اپنی عادت کے موافق اڑے رہے تو اللہ کی قدرت سے کچھ بعید نہیں کہ جس طرح رسول وقت کی نافرمانی سے فرعون پر دنیا میں آفت آگئی اسی طرح ان لوگوں پر بھی کوئی آفت آجائے چناچہ اس تنبیہ کی غرج سے اس قصہ کے ذکر کے بعد فرمایا کہ جس شخص کے دل میں خدا کا خوف ہے اس کو اس قصہ سے نصیحت پکڑنی چاہے یہ قصہ کئی جگہ مفصل گذرچکا ہے اور اسی طرح تنبیہ کے مطلب کو اللہ نے سورة الم سجدہ میں فرمایا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–23
[8] یعنی موسیٰ (علیہ السلام) کو اللہ کا رسول تسلیم نہیں کیا اور ان کی دعوت کو جو آیات 19-18 میں بیان ہوئی ہے ماننے سے انکار کردیا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–25
ف 2: السبحت وہ ہیں جو سبک سیری مکینوں کی مانند ہیں ۔ اور فالسبقت وہ ہیں کہ تیزی میں ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی کوشش کرتے رہتے ہیں ۔ اور فالمدبرات سے مراد وہ کواکب ہیں جو اپنی طبعی خاصیتوں کی بنا پر دنیا پر اپنا مستقل اثر قائم کرتے رہتے ہیں ۔ اس طرح گویا ان نجوم کواکب کو انسانی زندگی کے بمنزلہ قرار دیا گیا ہے ۔ کہ بعض لوگ بہت طویل عمر کے ہوتے ہیں اور ان کی ولادت اور موت کا مطلع ومغرب دور دور ہوتا ہے ۔ بعض وہ ہوتے ہیں جو تھوڑی عمر پاتے ہیں اور ہنسی خوشی گزار دیتے ہیں ۔ بعض کی زندگی حوادث اور مقابلہ وتقدم سے مبرا ہوتی ہے ۔ اور وہ سبک سیر سیاروں کی طرح فضائے حیات میں تیر کر منزل تک پہنچ جاتے ہیں…
Read the full tafseer →(22) پھر روگردانی کی اور اس کے خلاف کوشش کرنے لگا۔ یعنی مجلس سے اٹھ کر چلا گیا اور موسیٰ کو ناکام کرنے کی کوشش کرنے لگا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–24
ف 4۔ کیونکہ ہم نے تو اس کے لئے کچھ سامان کیا نہیں، مقصود اس سے تمسخر تھا اہل حق کے اس عقیدہ کے ساتھ یعنی مسلمانوں کے عقیدہ پر تو ہم بڑے خسارہ میں ہوں گے جیسے کوئی شخص کسی کو خیر خواہی سے ڈرائے کہ اس راہ مت جانا، شری ملے گا اور مخاطب تکذیب کے طور پر کسی سے کہے کہ بھائی ادھر مت جانا شیر کھا جائے گا۔ مطلب یہ کہ قیامت کوئی چیز نہیں ہے۔
Read the full tafseer →پھر اس نے روگردانی کی اور موسیٰ کے خلاف کوششیں شروع کر دیں ۔ 22 برہحال مختلف مجالس میں مکالمت (Dialouge) کا یہ سلسلہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور فرعون کے درمیان جاری رہا۔ فرعون حضرت موسیٰ اور ہارون (علیہ السلام) کے روشن اور پر از صداقت دلائل سن سن کر اگرچہ پیچ و تاب کھاتا مگر لاجواب ہوجانے کی وجہ سے کوئی صورت نہیں بنتی تھی کہ موسیٰ (علیہ السلام) سے رستگاری حاصل کرے۔ وہ خوب جانتا تھا کہ میری ربوبیت اور الوہیت کی بنیاد اس قدر کمزور ہے کہ دلائل موسیٰ کی صداقت کے سامنے تار عنکبوت کی طرح تار تار ہوجاتی ہے اور درباری بھی اس کو اچھی طرح سمجھتے تھے اس لئے فرعون کے لئے یہ بات سخت ناقابل برداشت تھی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–24
The fifth quality of the angels: فَالْمُدَبِّرَاتِ أَمْرًا (then manage [ to do ] everything [ they are ordered to do,]...79:5). In other words, the last task of these angels of death will be as follows: Those who are commanded to reward and comfort the deserving souls, will gather means of reward and comfort for them; and those who are commanded to punish and cause pain to [ the evil souls ] will organize means for that. Reward and Punishment in the Grave The Surah thus far confirms that at the time of death, the angels will arrive and extract human souls. Then they will take them to the…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–22
10 According to the details given at other places in the Qur'an, he summoned skilful magicians from all over Egypt and made them produce serpents out of sticks and cords in front of the assembled people so that they were convinced that Moses (peace be upon him was not a Prophet but a magician, and that the miracle worked by him of turning a staff into a serpent, could also be worked by other magicians. But this device of his recoiled upon himself and the defeated magicians themselves admitted that what Moses (peace be on him) had displayed was no magic but a miracle.
Read the full tafseer →