فَاَرٰىهُ الْاٰیَةَ الْكُبْرٰی ۟ؗۖفَاَرٰٮهُ الۡاٰيَةَ الۡكُبۡرٰى
غرض انہوں نے اس کو بڑی نشانی دکھائی
— Fateh Muhammad Jalandhari
And he showed him the greatest sign,
— Saheeh International
Juz 30 · Ruku 1 of surah · Ruku 3 of juz
فَاَرٰىهُ الْاٰیَةَ الْكُبْرٰی ۟ؗۖفَاَرٰٮهُ الۡاٰيَةَ الۡكُبۡرٰى
غرض انہوں نے اس کو بڑی نشانی دکھائی
— Fateh Muhammad Jalandhari
And he showed him the greatest sign,
— Saheeh International
Juz 30 · Ruku 1 of surah · Ruku 3 of juz
Read the whole surah · Surah An-Naazi'aat
پھر موسیٰؑ نے (فرعون کے پاس جا کر) اُس کو بڑی نشانی دکھائی
غرض انہوں نے اس کو بڑی نشانی دکھائی
پس اسے بڑی نشانی دکھائی
چنانچہ موسیٰ نے اس کو بڑی زبردست نشانی دکھائی
پھر موسیٰ نے اسے بہت بڑی نشانی دکھائی
پھر موسٰی ؑ نے اسے بڑی نشانی دکھائی،
چناچہ اس نے اسے بہت بڑی نشانی دکھائی۔
چناچہ موسیٰ نے اسے بہت بڑی نشانی دکھائی
پس اس کو ایک بڑی نشانی دکھائی
پھر (فرعون کے پاس پہنچنے کے بعد) موسیٰ نے دکھائی اس کو (اپنی نبوت کی) وہ بڑی نشانی
پھر ہم نے اسے بڑی نشانی دکھائی
تو موسیٰ ؑ نے اس کو دکھائی بہت بڑی نشانی۔
غرض انہوں نے اس کو بڑی نشانی دکھائی
Then Moses (went to Pharaoh and) showed him the Great Sign;
So, he (Musa) showed him the biggest sign.
So, he (Musa) showed him the biggest sign.
Then he showed him the great sign.
And he showed him the tremendous token.
— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran
And he showed him the greatest sign,
Moses showed him the great miracle
So he showed him the mighty sign.
Then he shewed him the great sign.
Then did (Moses) show him the Great Sign.
— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary
Explained with ayahs 15–26
معفرت دل حق کا مطیع و فرماں بردار ہوتا ہے اللہ تعالیٰ اپنے رسول حضرت محمد ﷺ کو خبر دیتا ہے کہ اس نے اپنے بندے اور رسول حضرت موسیٰ ؑ کو فرعون کی طرف بھیجا اور معجزات سے ان کی تائید کی، لیکن باوجود اس کے فرعون اپنی سرکشی اور اپنے کفر سے باز نہ آیا بالاخر اللہ کا عذاب اترا اور برباد ہوگیا، اسی طرح اے پیغمبر آخر الزمان ﷺ آپ کے مخالفین کا بھی حشر ہوگا۔ اسی لئے اس واقعہ کے خاتمہ پر فریاد ڈر والوں کے لئے اس میں عبرت ہے، پس فرماتا ہے کہ تجھے خبر بھی ہے ؟ موسیٰ ؑ کو اس کے رب نے آواز دی جبکہ وہ ایک مقدس میدان میں تھے جس کا نام طویٰ ہے۔ اس کا تفصیل سے بیان سورة طہ میں گزر چکا ہے، آواز دے کر فرمایا کہ…
Read the full tafseer →سورة النّٰزِعٰت 9 بڑی نشانی سے مراد عصا کا اژدہا بن جانا ہے جس کا ذکر قرآن مجید میں متعدد مقامات پر کیا گیا ہے۔ ظاہر ہے کہ اس سے بڑی نشانی اور کیا ہو سکتی ہے کہ ایک بیجان لاٹھی سب دیکھنے والوں کی آنکھوں کے سامنے علانیہ اژدہا بن جائے جادوگر اس کے مقابلے میں لاٹھیوں اور رسیوں کے جو مصنوعی اژدھے بنا کردکھائیں ان سب کو وہ نگل جائے، اور پھر حضرت موسیٰ جب اس کو پکڑ کر اٹھا لیں تو وہ پھر لاٹھی بن کر رہ جائے۔ یہ اس بات کی صریح علامت تھی کہ وہ اللہ رب العالمین ہی ہے جس کی طرف سے حضرت موسیٰ بھیجے گئے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–24
پانچویں صفت فالْمُدَبِّرٰتِ اَمْرًا ہے۔ امر الٰہی کی تدبیر و تنفیذ کرنے والے یعنی ان ملائکہ موت کا آخری کام یہ ہوگا کہ جس روح کو ثواب اور راحت دینے کا حکم ہوگا اس کے لئے راحت کے سامان جمع کردیں اور جس کو عذاب اور تکلیف میں ڈالنے کا حکم ہوگا اس کے لئے اس کا انتظام کردیں۔ قبر میں ثواب وعذاب موت کے وقت فرشتوں کا آنا اور انسان کی روح قبض کرکے آسمان کی طرف لیجانا پھر اسکے اچھے یا برے ٹھکانے پر جلدی سے پہنچا دینا اور وہاں ثواب یا عذاب، تکلیف یا راحت کے انتظامات کردینا ان آیات مذکورہ سے ثابت ہوگیا۔ یہ عذاب وثواب قبر یعنی برزخ میں ہوگا۔ حشر کا عذاب وثواب اس کے بعد ہے احادیث صحیحہ میں اس کی بڑی…
Read the full tafseer →حضرت موسیٰ علیہ السلام نے یہ باتیں چونکہ اللہ تعالیٰ کے رسول کی حیثیت سے فرمائیں اور ساتھ ہی فرعون کو اس بات سے بھی آگاہ فرمایا کہ وہ اپنے پاس خدا کے رسول ہونے کی سند بھی رکھتے ہیں تو فرعون نے کہا کہ میں تو اپنے سوا کسی اور رب سے واقف نہیں، اگر تمہارے پاس خدا کے رسول ہونے کی کوئی سند ہے تو وہ دکھاؤ۔ اس کے اس مطالبے پر حضرت موسیٰ علیہ السلام نے ان کو بڑی نشانی دکھائی۔ ’بڑی نشانی‘ سے اشارہ عصا کی نشانی کی طرف ہے۔ اس کو بڑی نشانی سے اس لیے تعبیر فرمایا کہ ید بیضاء کے سوا ان کے سارے معجزات درحقیقت اسی کے اندر مضمر تھے اور اسی کے ذریعہ سے ظاہر ہوئے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–21
20۔ 1 یعنی اپنی صداقت کے وہ دلائل پیش کئے جو اللہ کی طرف سے انہیں عطا کئے گئے تھے۔ بعض کہتے ہیں کہ اس سے مراد وہ معجزات ہیں جو حضرت موسیٰ ؑ کو دیئے گئے تھے۔ مثلاً ید بیضا اور عصا اور بعض کے نزدیک آیات تسعہ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–24
7: یعنی یہ معجزہ دکھایا کہ ان کی لاٹھی سانپ بن گئی اور ان کا ہاتھ چمکنے لگا (دیکھئے سورة طہ : 17 تا 22)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–21
فارہ ................ وعصی (21:79) ” پھر موسیٰ نے اس کو بڑی نشانی دکھائی ، مگر اس نے جھٹلا دیا اور نہ مانا “۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے وہ بات پہنچادی جو پہنچائی تھی۔ اور اسی انداز میں اور اسی اسلوب میں پہنچادی جس میں ان کے رب نے ان کو حکم دیا تھا لیکن اس قسی القلب اور سرکش آدمی کے ہاں یہ اسلوب ، کامیاب نہ ہوا کیونکہ مرد نادان پر کلام نرم ونازک بےاثر ہوا کرتا ہے تو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے وہ عظیم معجزات پیش کیے ، عصا پیش کیا اور یدبیضا پیش کیا ، جیسا کہ دوسری سورتوں میں تفصیلات آتی ہیں۔ تو اس نے ” جھٹلایا اور نہ مانا “ یوں اختصار کے ساتھ یہ منظر تکذیب اور معصیت پر ختم ہوتا ہے۔ اب اسی…
Read the full tafseer →4 یعنی وہاں پہنچ کر اللہ کا پیغام پہنچایا اور اس پر حجت تمام کرنے کے لئے وہ سب سے بڑا معجزہ عصا کے اژدہا بننے کا دکھلایا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–21
آیت 20{ فَاَرٰٹہُ الْاٰیَۃَ الْکُبْرٰی۔ } ”تو موسیٰ علیہ السلام نے اس کو دکھائی بہت بڑی نشانی۔“ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے فرعون کو اپنی رسالت کے بارے میں بھی بتایا ‘ اللہ تعالیٰ کا پیغام بھی اس تک پہنچایا اور عصا کے اژدھا بن جانے والا معجزہ بھی اسے دکھا دیا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–21
15 فرعون کا معجزہ کا مطالبہ :۔ اس انتہائی نرم گفتگو کے باوجود اور بات کو سمجھ جانے کے باوجود فرعون اپنے اقتدار اور متکبرانہ روش سے دستبردار ہونے کے لیے قطعاً تیار نہ ہوا اور پوچھنے لگا کہ تم اپنے اس دعویٰ رسالت کی تائید میں اللہ کی طرف سے کوئی نشانی بھی پیش کرسکتے ہو ؟ موسیٰ (علیہ السلام) نے اس سوال کا اثبات میں جواب دیا اور بھرے دربار میں اپنا عصا جو زمین پر پھینکا تو وہ ایک اژدھا بن گیا جس سے فرعون اور سب درباری سخت مرعوب اور دہشت زدہ ہوگئے۔ بالآخر فرعون نے سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) سے التجا کی کہ وہ جلد از جلد اس اژدھا کو سنبھال لیں۔ چناچہ آپ نے آگے بڑھ کر اسے پکڑ لیا تو وہ پھر سے وہی پہلے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–22
9۔ (موسی (علیہ السلام) رسول اور آپ (علیہ السلام) کے لائے ہوئے پیام کی تردید وتکذیب کی) (آیت) ” الایۃ الکبری “۔ یہ نشانی یا نشانیاں ظاہر ہے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی تصدیق نبوت و رسالت کی تھیں۔ الایۃ کے صیغہ واحد سے یہاں عموما معجزہ عصا سے مراد لی گئی ہے۔ یہ بھی جائز ہے کہ (آیت) ” الایۃ “ کو اسم جنس قرار دے کر سارے معجزات موسوی اسکے تحت میں داخل سمجھے جائیں۔ وجوز ان مراد بھا مجموع معجزاتہ (علیہ السلام) (روح)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–24
فاذا ھم بالساھرۃ، ساھرۃ، سے مراد سطح زمین ہے، قیامت کے دن پوری زمین سطح اور چٹیل میدان ہوجائے گی، نہ کہیں نشیب و فراز ہوگا اور نہ آڑ پہاڑ، اس کے بعد کفار اور منکرین بعث کی ضد سے جو آنحضرت ﷺ کو ایذاء پہنچی تھی اس کا ازالہ فرعون اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا قصہ بیان کر کے کیا گیا ہے کہ مخالفین سے ایذاء پہنچ جانا کچھ آپ ﷺ کے ساتھ خاص نہیں، انبیاء سابقین (علیہم السلام) کو بھی بڑی بڑی اذیتیں دی گئی تھیں انہوں نے صبر کیا آپ ﷺ بھی صبر کیجئے۔
Read the full tafseer →فاراہ الایۃ الکبری
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–20
(17۔ 20) کہ تم فرعون کے پاس جاؤ اس نے بڑا تکبر اور کفر اختیار کیا ہے اور اس سے کہو کہ اے فرعون کیا تجھے اس بات کی خواہش ہے کہ تو درست ہوجائے اور توحید خداوندی کا قائل ہوجائے اور میں تجھ کو تیرے پروردگار کی طرف بلاؤں تو تو اس سے ڈرنے لگے اور اسلام قبول کرے، پھر موسیٰ نے اس کو بڑی نشانی یعنی عصا اور ید بیضا دکھایا تو اس نے اس کے اللہ کی جانب سے ہونے کو جھٹلایا اور اسے قبول نہیں کیا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–24
فارہ الایۃ الکبریٰ : بڑی نشانی سے مراد لاٹھی کا سانپ بن جانا ہے۔ ”الایۃ“ کو واحد کے بجائے جنس مان لیں تو عصائے موسیٰ اور ید بیضا دونوں مراد ہوسکتے ہیں، بلکہ موسیٰ ؑ کو عطا کئے جانے والے ”تسع آیات بینات“ (9 معجزے) بھی مراد ہوسکتے ہیں۔ دیکھیے سورة بنی اسرائیل (101)۔
Read the full tafseer →فاراہ الایۃ الکبری۔ تو حضرت موسیٰ نے اسے بڑی نشانی دکھائی یہ معجزہ ہے ایک قول یہ کیا گیا ہے، اس سے مراد عصا ہے ایک قول یہ کیا گیا ہے اس سے یدبیضاء مراد ہے جو سورج کی طرح چمکتا تھا، ضحاک نے حضرت ابن عباس سے روایت نقل کی ہے کہ آیۃ کبری سے مراد عصا ہے، حضرت حسن بصری نے کہا، اس سے مراد ید بیضاء اور عصا ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے اس سے مراد سمندر کا پھٹنا ہے ایک قول یہ کیا گیا ہے، آیہ سے مراد تمام نشانیاں اور معجزات ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–27
1۔ فریابی وعبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت اذہب الی فرعون انہ طغی۔ فرعون کے پاس جاؤ کیونکہ اس نے سرکشی کی ہے۔ یعنی نافرمانی کی۔ آیت فاراہ الاٰیۃ الکبری۔ پس اس نے اس کو بڑی نشانی دکھائی۔ یعنی اپنی لاٹھی اور اپنا ہاتھ آیت ثم ادبر یسعی۔ پھر کوشش کرتا ہوا واپس لوٹا یعنی پھر وہ فساد کے اعمال کرنے لگا۔ آیت فاخذہ اللہ نکال الاٰخرۃ والاولیٰ پھر اللہ نے اس کو آخرت اور دنیا کے عذاب میں پکڑ لی ادنیا کا عذاب اس لیے کہ وہ کہتا تھا میں تمہارے لیے اپنے علاوہ کسی اور کو معبود نہیں جانتا۔ اور آخرت کا عذاب اس لیے کہ وہ کہتا تھا میں تمہارا بڑا رب ہوں۔ 2۔ عبدالرزاق وعبد بن…
Read the full tafseer →[فَاَرٰىهُ : تو انھوں (علیہ السلام) نے دکھائی اس (فرعون) کو ][ الْاٰيَةَ الْكُبْرٰى: وہ سب سے بڑی نشانی ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–23
حضرت موسیٰ (علیہ السلام) بنی اسرائیل میں سے تھے جو حضرت یوسف (علیہ السلام) کے زمانے سے مصر میں رہتے تھے وہاں جو ان کی مظلومیت کا حال تھا اس کی تفصیلات پہلے گزر چکی ہیں ان پر فرعون اور آل فرعون کی طرف سے مظالم کے پہاڑ ٹوٹتے تھے، حضرت موسیٰ (علیہ السلام) ان ہی حالات میں وہاں پیدا ہوئے پھر فرعون کے محل میں پلے بڑھے جوان ہوئے ایک اسرائیلی یعنی ان کی قوم کے آدمی اور قبطی (فرعون کی قوم کے ایک فرد) کے درمیان لڑائی ہو رہی تھی۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) وہاں سے گزر رہے تھے اسرائیلی نے ان سے مدد طلب کی، انہوں نے قبطی کو ایک گھونسہ مار دیا گھونسہ کا لگنا تھا کہ وہ تو اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھا وہیں اس کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–26
ہیبت و اضطراب در روز محشر و فلاح وکامرانی اہل ایمان : قال اللہ تعالیٰ (آیت) ” والنزعت غرقا ....... الی ......... ان فی ذلک لعبرۃ لمن یخشی “۔ (ربط) سورة نبا میں منکرین قیامت کا قیامت کے بارے میں معاندانہ سوال اور تمسخر کا ذکر تھا اور ان کے جواب ورد کے بعد روز محشر کی حاضری کی کچھ کیفیات ذکر کی گئی تھیں، اب اس سورت میں بالخصوص قیامت قائم ہونے پر جو اضطراب وبے چینی قلوب پروارد ہوگی، اور بدحواسی کا عالم لوگوں پر ہوگا اس کا بیان ہے، جزاء وسزا اور مومنین ومجرمین کا فرق بھی بیان کیا جارہا ہے اور یہ کہ اللہ رب العزت حق کو کس طرح باطل پر غلبہ اور کامیابی عطا فرماتا ہے ؟ اس کے لیے حضرت موسیٰ (علیہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–25
9:۔ ” فاراہ الایۃ الکبری “۔ مراد تمام آیات و معجزات ہیں۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے تمام معجزات کا اس کو مشاہدہ کرایا مگر اس کے باوجود اس نے جھٹلایا اور موسیٰ (علیہ السلام) کی نافرمانی کی۔ ” ثم ادبر یسعی ” ہدایت سے اعراض کیا اور زمین میں شر و فساد پھیلانے کی کوشش کرتا رہا۔ موسیٰ (علیہ السلام) کی طرف سے دعوت توحید کے مقابلے میں اس نے اپنی رعیت کو جمع کیا اور ان میں اعلان کیا کہ میں تمہار اسب سے بڑا رب ہوں مجھ سے بڑا کوئی نہیں، اس لیے تم موسیٰ کی باتوں کی طرف توجہ نہ کرنا۔ ” فاخذہ اللہ “ ’ نکال ‘ منصوب بنزع خافض ہے ای بنکال الاخرۃ (قرطبی) ۔ اللہ تعالیٰ نے اس کو دنیا اور آخرت کی سزا میں پکڑ لیا۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–26
(گذشتہ سے پیوستہ ) اس سورة مبارکہ میں حکما کے نقطہ نظر سے وقوع قیامت پر دلیل قائم کی گئی ہے ۔ کفار ومشرکین کہتے تھے کہ کیا مرنے کے بعد ہم پھر پہلی حالت پر لوٹائے جائیں گے ۔ یعنی اسی طرح جسم وروح کے ساتھ زندہ ہوجائیں گے جیسا کہ دنیوی زندگی میں تھے ۔ حالانکہ ہم مر کر عظاما نخرۃ بوسیدہ ہڈیاں ہوجائیں گے اگر ایسا ہوا تو یہ بہت افسوس ناک بات ہوگی ۔ وہ لوگ بعث بعد الممات کو بالکل ناممکن خیال کرتے تھے۔ اس حصہ میں اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور فرعون کا تذکرہ بیان فرمایا ۔ اس واقعہ سے ایک طرف آپ کو تسلی دلانا مقصود ہے تو دوسری طرف قیامت کا مسئلہ بھی سمجھا دیا ۔ فرعون بھی قیامت کا انکار…
Read the full tafseer →فَاَرٰىہُ الْاٰيَۃَ الْكُبْرٰى 20ۡ ۖ رأى والرُّؤْيَةُ : إدراک الْمَرْئِيُّ ، وذلک أضرب بحسب قوی النّفس : والأوّل : بالحاسّة وما يجري مجراها، نحو : لَتَرَوُنَّ الْجَحِيمَ ثُمَّ لَتَرَوُنَّها عَيْنَ الْيَقِينِ [ التکاثر/ 6- 7] ، والثاني : بالوهم والتّخيّل، نحو : أَرَى أنّ زيدا منطلق، ونحو قوله : وَلَوْ تَرى إِذْ يَتَوَفَّى الَّذِينَ كَفَرُوا [ الأنفال/ 50] . والثالث : بالتّفكّر، نحو : إِنِّي أَرى ما لا تَرَوْنَ [ الأنفال/ 48] . والرابع : بالعقل، وعلی ذلک قوله : ما كَذَبَ الْفُؤادُ ما رَأى[ النجم/ 11] ، ( ر ء ی ) رای الرؤیتہ کے معنی کسی مرئی چیز کا ادراک کرلینا کے ہیں اور قوائے نفس ( قوائے مدر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–26
ترکیب ¦ ھل استفہامیۃ او بمعنی قدر والجملۃ مستانفۃ لبیان مسئلۃ النبوۃ اذ متعلق بحدیث۔ لاباتاک لا ختلاف وقیتھما طویٰ قریٔ بالتنوین و ترکہ و ھما سبعیتان فمن صرفۃ جعلہ اسم وادٍ و مکانٍ وجعلہ نکرۃ ومن لم یصرفہ جعلہ بلدۃ وبقعۃ وجعلہ معرفۃ وھو وادٍ بین الشام وقلزم وھوبدل من الوادال اذھب ای قال اذھب وقیل ھو تفسیر للنداء تزکی قرء الجہور بالتخفیف وقرأنافع وابن کثیر بتشدید الرائے علی ادغام التاء فی الزای قال ابو عمر و بن العلاء علی الاول مسناہ تکون زکیاء مؤمنا وعلی الثافی الصدقۃ۔ والیٰ متعلقۃ بمحذوف وھو رغبۃ او توجہ وھو مبتدالک خبرہ واھدیک معطوف علی تزکی منصوب بان والفاء فی فتخشی لترتیب الخشیۃ علی…
Read the full tafseer →فَاَرٰہُ الْاٰیَۃَ الْـکُبْرٰی۔ (النازعات : 20) (پھر موسیٰ نے فرعون کو بڑی نشانی دکھائی۔ ) سندِ ماموریت کے طور پر عظیم معجزہ کا اظہار سابقہ حکم کے تحت حضرت حضرت موسیٰ (علیہ السلام) فرعون کے دربار میں پہنچے اور اسے جا کر اس کائنات کے اصل رب کی طرف دعوت دی اور اپنا اور اپنے بھائی کا تعارف کراتے ہوئے بتایا کہ ہم اس کے بھیجے ہوئے رسول یعنی اس کے سفیر ہیں۔ اور ہم تمہارے پاس اس کا پیغام لے کر آئے ہیں۔ تو اس نے ایک حکمران کی حیثیت سے پوچھا کہ تمہارے سفیر ہونے کی دلیل اور سند تمہارے پاس کیا ہے۔ تو آپ نے ان کو سندماموریت کے طور پر وہ سب سے بڑی نشانی دکھائی جسے عصائے موسیٰ کہا جاتا ہے۔ اس کو بڑی نشانی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–26
فہم القرآن ربط کلام : قیامت کو جھٹلانے والوں میں فرعون بھی شامل تھا اس لیے اس کا دنیا میں برا انجام ہے۔ اہل مکہ قیامت کا بار بار مذاق اڑا رہے تھے اس پر انہیں انتباہ کرنے کے لیے موسیٰ (علیہ السلام) اور فرعون کے درمیان ہونے والی کشمکش اور اس کے نتیجہ میں فرعون کے ساتھ پیش آنے والے واقعہ کا حوالہ دے کر سمجھایا کہ کیا آپ کو موسیٰ (علیہ السلام) کے واقعہ کا علم ہے کہ جب طویٰ وادی میں اسے اس کے رب نے فرمایا کہ فرعون کے پاس جاؤ ! کیونکہ وہ بڑا باغی بن چکا ہے جس کا بڑا سبب یہ ہے کہ وہ قیامت کا منکر ہے۔ اسے سمجھاؤ کہ کیا تو تیار ہے کہ شرک اور ظلم وستم سے بچنے کی کوشش کرے ؟ میں تیرے رب کی طرف سے تیری…
Read the full tafseer →20 : فَاَرٰہُ الْاٰیَۃَ الْکُبْرٰی (پھر اس کو بڑی نشانی دکھلائی) تقدیر کلام یہ ہے : فذھب فارٰی موسٰی فرعون الْعَصَا پس موسٰی (علیہ السلام) گئے اور فرعون کو عصا کی بڑی نشانی دکھائی۔ نمبر 2۔ عصا اور ید بیضاء کیونکہ یہ دونوں ایک نشانی کے حکم میں ہیں۔
Read the full tafseer →19 ۔” واھدیک الی ربک فتخشیٰ “ یعنی میں تجھے اللہ کی عبادت اور اس کی توحید کی طرف بلاتا ہوں پس تو اس کی سزا سے ڈر۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–26
15۔ 26۔ اوپر قیامت کا ذکر تھا ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) اور فرعون کا قصہ یاد دلا کر اہل مکہ کو یہ تنبیہ فرمائی ہے کہ عذاب الٰہی کچھ قیامت پر ہی منحصر نہیں اگر یہ لوگ اللہ کے رسول کے جھٹلانے پر اپنی عادت کے موافق اڑے رہے تو اللہ کی قدرت سے کچھ بعید نہیں کہ جس طرح رسول وقت کی نافرمانی سے فرعون پر دنیا میں آفت آگئی اسی طرح ان لوگوں پر بھی کوئی آفت آجائے چناچہ اس تنبیہ کی غرض سے اس قصہ کے ذکر کے بعد فرمایا کہ جس شخص کے دل میں خدا کا خوف ہے اس کو اس قصہ سے نصیحت پکڑنی چاہئے اسی طرح کی تنبیہ کے مطلب کو اللہ تعالیٰ نے سورة الم سجدہ میں ان لفظوں سے ادا فرمایا ہے۔ ولنذیقنھم من…
Read the full tafseer →(فَاَرٰىهُ الْاٰيَةَ الْكُبْرٰى) پس اس نے اس کو بڑی نشانی دکھائی۔ یعنی بڑی نشانی کی جنس اور یہ ان نشانیوں کے تعدد کے منافی نہیں ہے جیسے اللہ کا فرمان ہے۔ (فالقٰی عصاہ فاذاھی ثعبان مبین۔ ونزع یداہ فاذاھی بیضاء للناظرین۔ الاعراف، 107، 108) موسیٰ نے اپنا عصا ڈالا تو وہ یکایک صاف ایک اژدھا بن گیا اور اپنا ہاتھ باہر نکالا تو وہ سب دیکھنے والوں کے لیے روشن چمکتا ہوا ہوگیا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–21
16 حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے فرعون کو بڑی نشانی دکھانے کا ذکر وبیان۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ پھر موسیٰ (علیہ السلام) نے اس کو دکھائی وہ سب سے بڑی نشانی۔ جو اللہ پاک نے ایک عظیم الشان معجزے کے طور پر آنجناب کو بطور خاص عطا فرمائی تھی یعنی عصا اور ید بیضا کا وہ عظیم الشان معجزہ جو کہ آنجناب کی صداقت و حقانیت کی ایک واضح دلیل اور اس کا کھلا ثبوت تھا پھر چونکہ یہ دونوں نشانیاں ایک ہی مقصد کے لیے تھیں اس لیے ان دونوں کو ایک ہی نشانی (آیتہ الکبری) قرار دیا گیا اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اس سے عصا کا معجزہ ہی مراد ہو جو کہ اصل اور بڑی نشانی تھی باقی سب نشانیاں اس کے تابع تھیں (محاسن اور مدارک وغیرہ)…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–26
فرعون کا انکار اور تباہی تشریح : اکثر لوگ یہ کہتے ہیں کہ پرانے قصے قران پاک میں بار بار بیان کئے جاتے ہیں۔ ٹھیک ہے مگر ہر دفعہ کسی مختلف وجہ کے لیے بیان کئے جاتے ہیں۔ جیسا کہ یہاں آخرت کے انکار کرنے والوں کو سبق دینے کے لیے فرعون کا بیان سنایا گیا ہے۔ کہ اللہ کی سچائیوں کو ماننے سے جو لوگ انکار کرتے ہیں ان کا حال دنیا و آخرت میں ایسے ہی خراب ہوتا ہے جیسا فرعون کا حال ہوا۔ پہلے غرق کردیا گیا مگر لاش انتہائی خوفناک حالات میں دنیا کے سامنے ڈال دی گئی جو لوگوں کو عبرت دلانے کے لیے اور اللہ کی قدرت اور حاکمیت کا یقین دلانے کے لیے لوگوں کے سامنے موجود رکھ دی گئی ہے جو یوں تو معمول کے بالکل خلاف ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–26
سورة نازعات۔ آیات 1 تا 26۔ اسرار ومعارف۔ قسم ہے ان فرشتوں کی جو کافر کی روح کھینچ کرنکالتے ہیں کہ ملک الموت ایک ایک بال اور ناخن کی جڑوں تک سے کھینچ کر نکالتا ہے اس لیے کہ وقت موت برزخ سامنے آجاتا ہے اور عذاب الٰہی دیکھ کر کافر کی روح چمٹی رہناچاہتی ہے اور قسم ہے ان فرشتوں کی جو آرام سے مومن کی روح نکال لیتے ہیں گویا وقت موت ہی کافر پہ سختی اور مومن کو راحت شروع ہوجاتی ہے اس سے ظاہری حالت مراد نہیں نہ ظاہر سے اندازہ ہوسکتا ہے الاماشاء اللہ یعنی بہت کم لوگوں کے حال سے پتہ چلتا ہے اس سے مراد باطنی کیفیات ہیں جو دونوں پہ گزررہی ہوتی ہیں پھر ان روحوں کو لے کر آسمان کی طرف تیزی سے جاتے ہیں اور ان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–20
ف 11 یعنی اس کے بندوں پر ظلم کرنے سے بازآئے۔12 یعنی ایسی تدبیریں سوچنے لگا جن سے حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) کو زک دے سکے اور لوگوں کو ان کی آواز پر کان دھرنے سے باز رکھ سکے۔
Read the full tafseer →(79:20) فارہ الایۃ الکبری : فارہکا عطف محذوف پر ہے ای فذھب وبلغ فارہ الایۃ الکبری۔ (بیضاوی) حضرت موسیٰ گئے اور فرعون کے پاس پہنچے اور اس کو بڑی نشانی دکھائی ۔ اری، اراء ۃ (افعال) مصدر سے ماضی کا صیغہ واحد مذکر غائب۔ اس نے اس کو دکھلایا۔ الایۃ الکبری صفت موصوف مل کر مفعول ثانی اری کا۔ بڑی نشانی وہی قلب العصاء حیۃ فانہ کان المقدم والاصل (بیضاوی) اور یہ عصا کا سانپ کی شکل میں تبدیل ہوجانا ہے اور یہ ہی پہلا اور اصل معجزہ تھا۔ یا الایۃ الکبری سے مراد ہیں معجزات۔ لیکن تمام معجزات چونکہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی صداقت ظاہر کرنے میں ایک ہی معجزہ کی طرح تھے۔ اس لئے بصیغہ واحد ذکر کیا گیا ہے۔ (تفسیر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–46
لغات القرآن النازعات۔ گھسیٹنے والے۔ غرق۔ ڈوب کر۔ الناشطات ۔ بند کھولنے والے۔ السابحات۔ تیرنے والے۔ السابقات۔ آگے بڑھ جانے والے۔ المدبرات۔ انتظام کرنے والے ۔ واجفہ۔ دھڑکنے والے۔ الحافرۃ۔ پہلی پیدائش۔ نخرۃ ۔ گلی سڑی۔ کرۃ۔ دوبارہ۔ رجرۃ واحدۃ۔ ایک زبردست ڈانٹ۔ الساھرہ۔ میدان۔ اری۔ دکھایا۔ الایۃ الکبری۔ بڑی نشانی۔ حشر۔ اس نے جمع کیا۔ نکال۔ سزا۔ اشدخلقا۔ زیادہ مشکل ہے بنانا۔ رفع۔ بلند کردیا۔ سمک۔ اٹھان۔ اغطش۔ اس نے سیاہ کردیا۔ ضحی۔ چڑھتی دھوپ۔ دحی۔ اس نے پھیلایا۔ مری۔ چارہ (جانوروں کی غذا) ۔ الطامہ۔ آفت و مصیبت۔ برزت۔ ظاہر کردی گئی۔ اثر۔ اس نے اختیار کیا۔ ترجیح دی۔ الماوی ۔ ٹھکانا۔ نھی النفس۔ اپنے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–26
(ف 3) اوپر قیامت کا ذکر تھا ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ اور فرعون کا قصہ یاد دلا کر کفار کو یہ تنبیہ فرمائی ہے کہ عذاب الٰہی کچھ قیامت پر ہی منحصر نہیں اگر یہ لوگ اللہ کے رسول کے جھٹلانے پر اپنی عادت کے موافق اڑے رہے تو اللہ کی قدرت سے کچھ بعید نہیں کہ جس طرح رسول وقت کی نافرمانی سے فرعون پر دنیا میں آفت آگئی اسی طرح ان لوگوں پر بھی کوئی آفت آجائے چناچہ اس تنبیہ کی غرج سے اس قصہ کے ذکر کے بعد فرمایا کہ جس شخص کے دل میں خدا کا خوف ہے اس کو اس قصہ سے نصیحت پکڑنی چاہے یہ قصہ کئی جگہ مفصل گذرچکا ہے اور اسی طرح تنبیہ کے مطلب کو اللہ نے سورة الم سجدہ میں فرمایا ہے۔
Read the full tafseer →[7] یعنی وہاں پہنچ کر اللہ کا پیغام پہنچایا اور بطور اتمام حجت سب سے بڑا معجزہ عصا کے اژدہا بننے کا دکھلایا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–25
ف 2: السبحت وہ ہیں جو سبک سیری مکینوں کی مانند ہیں ۔ اور فالسبقت وہ ہیں کہ تیزی میں ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی کوشش کرتے رہتے ہیں ۔ اور فالمدبرات سے مراد وہ کواکب ہیں جو اپنی طبعی خاصیتوں کی بنا پر دنیا پر اپنا مستقل اثر قائم کرتے رہتے ہیں ۔ اس طرح گویا ان نجوم کواکب کو انسانی زندگی کے بمنزلہ قرار دیا گیا ہے ۔ کہ بعض لوگ بہت طویل عمر کے ہوتے ہیں اور ان کی ولادت اور موت کا مطلع ومغرب دور دور ہوتا ہے ۔ بعض وہ ہوتے ہیں جو تھوڑی عمر پاتے ہیں اور ہنسی خوشی گزار دیتے ہیں ۔ بعض کی زندگی حوادث اور مقابلہ وتقدم سے مبرا ہوتی ہے ۔ اور وہ سبک سیر سیاروں کی طرح فضائے حیات میں تیر کر منزل تک پہنچ جاتے ہیں…
Read the full tafseer →(20) پھر موسیٰ نے اس کو وہ بڑا معجزہ اور بڑی نشانی دکھائی - شاید عصا کا معجزہ یا یدبیضا کا معجزہ یا دونوں بطور جنس۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–24
ف 4۔ کیونکہ ہم نے تو اس کے لئے کچھ سامان کیا نہیں، مقصود اس سے تمسخر تھا اہل حق کے اس عقیدہ کے ساتھ یعنی مسلمانوں کے عقیدہ پر تو ہم بڑے خسارہ میں ہوں گے جیسے کوئی شخص کسی کو خیر خواہی سے ڈرائے کہ اس راہ مت جانا، شری ملے گا اور مخاطب تکذیب کے طور پر کسی سے کہے کہ بھائی ادھر مت جانا شیر کھا جائے گا۔ مطلب یہ کہ قیامت کوئی چیز نہیں ہے۔
Read the full tafseer →پھر اس نے فرعون کو ایک بڑی نشانی دکھائی ۔ 20 یہ بڑی نشانی کیا تھی ؟ موسیٰ (علیہ السلام) فرعون کے پاس گئے ، اسے دعوت حق دی اور اپنی صداقت پر دلیل پیش کی۔ اپنا عصا اس کے سامنے زمین پر پھینکا جو اژدھا بن کر پھنکارنے لگا ، لیکن اتنی بڑی نشانی دیکھ کر بھی وہ آپ کی تکذیب سے باز نہ آیا اور کہنے لگا کہ یہ سب جادو کی کرشمہ سازی ہے۔ یہ عصا جو موسیٰ (علیہ السلام) نے فرعون کے سامنے پھینکا وہ کیا تھا ؟ یہ بلاشبہ وہی لاٹھی تھی جو موسیٰ (علیہ السلام) اپنے ہاتھ میں رکھتے تھے لیکن اس جگہ اس سے مراد بنی اسرائیل کی حکومت کے قیام کے ہیں کہ اس وقت جو حکومت برسر اقتدار ہے اس کو اقتدار پر قابض رہنے کا کوئی حق نہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–24
The fifth quality of the angels: فَالْمُدَبِّرَاتِ أَمْرًا (then manage [ to do ] everything [ they are ordered to do,]...79:5). In other words, the last task of these angels of death will be as follows: Those who are commanded to reward and comfort the deserving souls, will gather means of reward and comfort for them; and those who are commanded to punish and cause pain to [ the evil souls ] will organize means for that. Reward and Punishment in the Grave The Surah thus far confirms that at the time of death, the angels will arrive and extract human souls. Then they will take them to the…
Read the full tafseer →9 "The great Sign" : the turning of the staff into a serpent, as has been mentioned at several places in the Qur'an. Obviously there could be no greater sign than that a lifeless staff should turn into a living serpent right in front of the eyes of the people, that it should devour the artificial serpents produced by the magicians out of their staffs and cords, and vKhen the Prophet Moses should pick it up, it should become a walking stick again. This was proof that it was Allah, Lord of the worlds, Who had sent Moses as a Prophet.
Read the full tafseer →