An-Naazi'aat 79:19

An-Naazi'aat · from ayah 19

79:19

وَاَهْدِیَكَ اِلٰی رَبِّكَ فَتَخْشٰی ۟ۚوَاَهۡدِيَكَ اِلٰى رَبِّكَ فَتَخۡشٰى‌ۚ

اور میں تجھے تیرے پروردگار کا رستہ بتاؤں تاکہ تجھ کو خوف (پیدا) ہو

— Fateh Muhammad Jalandhari

And let me guide you to your Lord so you would fear [Him]?'"

— Saheeh International

Juz 30 · Ruku 1 of surah · Ruku 3 of juz

Read the whole surah · Surah An-Naazi'aat

All translations of 79:19

اور میں تیرے رب کی طرف تیری رہنمائی کروں تو (اُس کا) خوف تیرے اندر پیدا ہو؟"

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور میں تجھے تیرے پروردگار کا رستہ بتاؤں تاکہ تجھ کو خوف (پیدا) ہو

— مولانا فتح محمد جالندہری

اور یہ کہ میں تجھے تیرے رب کی راه دکھاؤں تاکہ تو (اس سے) ڈرنے لگے

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور یہ کہ میں تمہیں تمہارے پروردگار کا راستہ دکھاؤں تو تمہارے دل میں خوف پیدا ہوجائے ؟

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور تجھے تیرے رب کی طرف راہ بتاؤں کہ تو ڈرے

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور (کیا تو چاہتا ہے کہ) میں تیرے رب کی طرف تیری رہنمائی کروں تاکہ تو (اس سے) ڈرنے لگے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور میں تیرے رب کی طرف تیری راہ نمائی کروں، پس تو ڈر جائے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اور میں تجھے تیرے پروردگار کی راہ دکھاؤں اور تو ڈر جائے ؟

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

کیا میں تمہیں تمہارے رب کی راہ دکھاؤں کہ تم اس سے ڈرنے والے بنو ؟

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور میں تجھے تیرے رب کی طرف راہنمائی کروں کہ تو (اس سے) ڈرنے لگے

— مولانا اسحاق مدنی

اور میں تیری رہنمائی تیرے پروردگار کی طرف کردوں جس سے تو خشیت اختیار کرلے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور میں تمہاری راہنمائی کروں تمہارے رب کی طرف تاکہ تمہارے اندر خشیت پیدا ہو ؟

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور میں تجھے تیرے رب کا راستہ بتاؤں تاکہ تجھے خوف پیدا ہو

— محترمہ رفعت اعجاز

that I may direct you to your Lord and then you hold Him in awe?'”

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

and that I should guide you to your Lord, so that you fear (Him) ?‘

— Muhammad Taqi Usmani

and that I should guide you to your Lord, so that you fear (Him) ?‘

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

"And that I guide you to your Lord, so you should fear Him"

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Then I will guide thee to thy Lord and thou shalt fear (Him).

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And let me guide you to your Lord so you would fear [Him]?'"

— Saheeh International

I shall guide you to your Lord so that you may perhaps have fear of Him".

— Muhammad Sarwar

And I will guide you to your Lord so that you should fear.

— Muhammad Habib Shakir

Then shall guide thee Unto thy Lord so that thou shalt fear.

— Abdul Majid Daryabadi

"'And that I guide thee to thy Lord, so thou shouldst fear Him?'"

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 79:19

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 15–26

معفرت دل حق کا مطیع و فرماں بردار ہوتا ہے اللہ تعالیٰ اپنے رسول حضرت محمد ﷺ کو خبر دیتا ہے کہ اس نے اپنے بندے اور رسول حضرت موسیٰ ؑ کو فرعون کی طرف بھیجا اور معجزات سے ان کی تائید کی، لیکن باوجود اس کے فرعون اپنی سرکشی اور اپنے کفر سے باز نہ آیا بالاخر اللہ کا عذاب اترا اور برباد ہوگیا، اسی طرح اے پیغمبر آخر الزمان ﷺ آپ کے مخالفین کا بھی حشر ہوگا۔ اسی لئے اس واقعہ کے خاتمہ پر فریاد ڈر والوں کے لئے اس میں عبرت ہے، پس فرماتا ہے کہ تجھے خبر بھی ہے ؟ موسیٰ ؑ کو اس کے رب نے آواز دی جبکہ وہ ایک مقدس میدان میں تھے جس کا نام طویٰ ہے۔ اس کا تفصیل سے بیان سورة طہ میں گزر چکا ہے، آواز دے کر فرمایا کہ…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 17–19

سورة النّٰزِعٰت 8 یہاں چند باتیں اچھی طرح سمجھ لینی چاہیں (1) حضرت موسیٰ کو منصب نبوت پر مقرر کرتے وقت جو باتیں ان کے اور اللہ کے درمیان ہوئی تھیں ان کو قرآن مجید میں حسب موقع کہیں مختصر اور کہیں مفصل بیان کیا گیا ہے۔ یہاں موقع اختصار کا طالب تھا، اس لیے ان کا صرف خلاصہ بیان کیا گیا ہے۔ سورة طہٰ ، آیات 9 تا 48، سورة شعراء آیات 10 تا 17، سورة نمل، آیات 7 تا 12، اور سورة قصص، آیات 29 تا 35 میں ان کی تفصیل بیان ہوئی ہے۔ (2) فرعون کی جس سرکشی کا یہاں ذکر کیا گیا ہے اس سے مراد بندگی کی حد سے تجاوز کر کے خالق اور خلق، دونوں کے مقابلے میں سرکشی کرنا ہے۔ خالق کے مقابلے میں اس سرکشی کا ذکر تو آگے آ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 5–24

پانچویں صفت فالْمُدَبِّرٰتِ اَمْرًا ہے۔ امر الٰہی کی تدبیر و تنفیذ کرنے والے یعنی ان ملائکہ موت کا آخری کام یہ ہوگا کہ جس روح کو ثواب اور راحت دینے کا حکم ہوگا اس کے لئے راحت کے سامان جمع کردیں اور جس کو عذاب اور تکلیف میں ڈالنے کا حکم ہوگا اس کے لئے اس کا انتظام کردیں۔ قبر میں ثواب وعذاب موت کے وقت فرشتوں کا آنا اور انسان کی روح قبض کرکے آسمان کی طرف لیجانا پھر اسکے اچھے یا برے ٹھکانے پر جلدی سے پہنچا دینا اور وہاں ثواب یا عذاب، تکلیف یا راحت کے انتظامات کردینا ان آیات مذکورہ سے ثابت ہوگیا۔ یہ عذاب وثواب قبر یعنی برزخ میں ہوگا۔ حشر کا عذاب وثواب اس کے بعد ہے احادیث صحیحہ میں اس کی بڑی…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

’وَأَہْدِیَکَ إِلٰی رَبِّکَ فَتَخْشٰی‘۔ یعنی اس وقت تو تمہارے اوپر اپنی خدائی کا بھوت سوار ہے اس وجہ سے بالکل بگٹٹ چل رہے ہو لیکن بات سننے اور سمجھنے کا کچھ شوق ہو تو میں بتاؤں کہ تمہارا اور تمام جہان کا رب کون ہے جس سے سب کو ڈرنا چاہیے۔ یہ امر یہاں ملحوظ رہے کہ پاکیزہ زندگی خدا کی خشیت سے اور خدا کی خشیت اس کی صحیح معرفت سے پیدا ہوتی ہے۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے ان دو فقروں میں فرعون کو اسی حقیقت کی طرف توجہ دلائی۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

19۔ 1 یعنی اس کی توحید اور عبادت کا راستہ، تاکہ تو اس کے عقاب سے ڈرے۔ اس لئے کہ اللہ کا خوف اسی دل میں پیدا ہوتا ہے جو ہدایت پر چلنے والا ہوتا ہے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 16–19

6: اس سے مراد صحرائے سینا کی وہ وادی ہے جس میں پہلی بار حضرت موسیٰ ؑ کو پیغمبر بنایا گیا۔ تفصیل کے لیے دیکھئے سورة طہ : 9 تا 48 اور ان کے حواشی

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 17–19

اذھب .................... فتخشیٰ (19:79) ” فرعون کے پاس جاوہ سرکش ہوگیا ہے ، اور اس سے کہہ کیا تو اس کے لئے تیار ہے کہ پاکیزگی اختیار کرے اور میں تیرے رب کی طرف تیری رہنمائی کروں تو (اس کا) خوف تیرے اندر پیدا ہو ؟ “۔ اذھب .................... طغی (17:79) ”’ فرعون کے پاس جاﺅوہ سرکش ہوگیا ہے “۔ سرکشی ایسا گناہ ہے کہ اسے واقع ہی نہیں ہونا چاہئے اور اگر یہ سرزد ہوجائے تو اسے باقی نہیں رہنا چاہئے۔ یہ ایک ناپسندیدہ فعل ہے۔ اس سے زمین میں فساد پھیلتا ہے۔ اللہ سرکشی کو پسند نہیں کرتا ، سرکشی کے نتیجے میں بیشمار مکروہات جنم لیتی ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے بلند ترین انبیاء میں سے ایک ممتاز نبی کو صرف اس…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 17–19

3 یعنی اگر تجھے سنورنے کی خواہش ہو تو اللہ کے حکم سے سنوار سکتا ہوں اور ایسی راہ بتاسکتا ہوں جس پر چلنے سے تیرے دل میں اللہ کا خوف اور اس کی کامل معرفت جم جائے کیونکہ خوف کا ہونا بدون کمال معرفت کے متصور نہیں۔ معلوم ہوا حضرت موسیٰ کی بعثت کا مقصد فرعون کی اصلاح بھی تھی۔ محض بنی اسرائیل کو قید سے چھڑانا ہی نہ تھا۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 18–19

آیت 18{ فَقُلْ ہَلْ لَّکَ اِلٰٓی اَنْ تَزَکّٰی۔ } ”اور اسے کہو کہ کیا تو چاہتا ہے کہ پاک ہوجائے ؟“ آپ علیہ السلام اس کے پاس جا کر اسے باقاعدہ دعوت دیں ‘ تاکہ اگر وہ راہ راست پر آنا چاہے تو آجائے اور اپنے عقائد و اعمال کو درست کرلے۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

14 فرعون کو اللہ کا پیغام پہنچانا :۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے اسی مقام پر ایک استدعا یہ بھی کی تھی کہ میرے بھائی ہارون کو بھی نبوت عطا کرکے میرے ہمراہ روانہ کیا جائے تاکہ کم از کم میرا ایک ساتھی تو میرا مددگار ہو۔ اللہ تعالیٰ نے سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) کی یہ استدعا قبول فرمائی اور سیدنا ہارون کو نبی بنا کر آپ کے ہمراہ کردیا مگر ساتھ ہی یہ تاکید کردی کہ فرعون چونکہ متکبر اور بددماغ ہے لہذا اس سے جو بات کہنی ہو نہایت نرم لہجے میں کہنا۔ اسی طرح ممکن ہے کہ وہ آپ کی بات سننے پر آمادہ ہوجائے ورنہ وہ جوش غضب میں بھڑک اٹھے گا۔ چناچہ موسیٰ (علیہ السلام) نے نہایت نرم اور دل نشین انداز میں اسے سمجھایا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 18–19

8۔ (اور پاک وصاف بن جائے) (آیت) ” ھل لک الی “۔ عربی محاورہ میں ھل ترغیب الیہ کے مرادف ہے۔ (آیت) ” ھل لک “۔ کی اصل ترکیب، ھل، میل لک بھی سمجھی گئی ہے اے حل لک میل الی ان تزکی (روح) (آیت) ” ھل .... تزکی “۔ شہنشاہ مصر، فرعون قاہروجابر کی اسرائیلی رعایا کے ایک فرد موسیٰ عمران کو حکم ملتا ہے کہ جاکر اپنے فرمانرواپر توحید کی تبلیغ کرو۔ لیکن حکمت وخوش اسلوبی کے کن دقائق کو ملحوظ رکھ کر، آپ (علیہ السلام) اس سے جاکرکہتے ہیں کہ دینی فلاح تو سب ہی کو عزیز ہوتی ہے، آپ کو بھی ہوگی، تو آپ ہی کی خیرخواہی میں صلاح و فلاح کی تدبیریں آپ کو بتانا چاہتا ہوں۔ (آیت) ” واھدیک الی ربک “۔ یعنی میں آپ کے پروردگار کی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 14–24

فاذا ھم بالساھرۃ، ساھرۃ، سے مراد سطح زمین ہے، قیامت کے دن پوری زمین سطح اور چٹیل میدان ہوجائے گی، نہ کہیں نشیب و فراز ہوگا اور نہ آڑ پہاڑ، اس کے بعد کفار اور منکرین بعث کی ضد سے جو آنحضرت ﷺ کو ایذاء پہنچی تھی اس کا ازالہ فرعون اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا قصہ بیان کر کے کیا گیا ہے کہ مخالفین سے ایذاء پہنچ جانا کچھ آپ ﷺ کے ساتھ خاص نہیں، انبیاء سابقین (علیہم السلام) کو بھی بڑی بڑی اذیتیں دی گئی تھیں انہوں نے صبر کیا آپ ﷺ بھی صبر کیجئے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

واھدیک الی ربک فتخشی . اور کیا تجھے اس بات کی خواہش ہے کہ میں تجھے اللہ کی معرفت ‘ عبادت اور توحید کا راستہ بتاؤں اور نتیجہ میں تو اس کے عذاب سے ڈرنے لگے یعنی فرائض کو ادا کرے اور ممنوعات سے اجتناب رکھے۔ فتخشٰی میں فاء سببی ہے۔ خشیت الٰہی (خوف خدا) نتیجہ معرفت ہے اور معرفت ثمرۂ ہدایت (لہٰذا خوف خدا نتیجہ ہدایت ہے) ۔

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 17–20

(17۔ 20) کہ تم فرعون کے پاس جاؤ اس نے بڑا تکبر اور کفر اختیار کیا ہے اور اس سے کہو کہ اے فرعون کیا تجھے اس بات کی خواہش ہے کہ تو درست ہوجائے اور توحید خداوندی کا قائل ہوجائے اور میں تجھ کو تیرے پروردگار کی طرف بلاؤں تو تو اس سے ڈرنے لگے اور اسلام قبول کرے، پھر موسیٰ نے اس کو بڑی نشانی یعنی عصا اور ید بیضا دکھایا تو اس نے اس کے اللہ کی جانب سے ہونے کو جھٹلایا اور اسے قبول نہیں کیا۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

Explained with ayahs 17–19

19(1) اذھب الی فرعون…: فرعون کے پاس جانے کا حکم دینے کے ساتھ اسے دی جانے والی دعوت بھی سکھلائی، دعوت کے الفاظ میں اختصار کے باوجود نرمی اور ترغیب و ترہیب واضح طور پر نمایاں ہیں۔ سورة طہ میں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے موسیٰ اور ہ اورن ؑ کو فرمایا تھا :(فقولا لہ قولاً لیناً لعلہ یتذکراویخشی) (طہ : 33)”فرعون سے نرم بات کرنا، شاید وہ نصیحت قبول کرلے یا ڈر جائے۔“ (2) انہ طغی :”یقیناً وہ حد سے بڑھ گیا ہے۔“ فرعون کا حد سے بڑھنا ایک تو بندگی کی حد سے بڑھ کر یہ کہنا تھا کہ میں تمہارا رب اعلیٰ ہوں، دوسرا خلق خدا پر اس کی طغیانی یہ تھی کہ اس نے قوم کو طبقوں میں تقسیم کر کے اپنا غلام بنا رکھا تھا۔ خصوصاً بنی…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

واھدیک الی ربک فتخشی۔ میں تیری تیرے رب کی اطاعت کی طرف راہنمائی کروں تو تو اس سے ڈرے اور تقوی اختیار کرے، نافع اور ابن کثیر نے تزکی پڑھا ہے، کہ تاء کو زاء میں مدغم کردیا گیا ہے کیونکہ یہ اصل میں تتز کی تھا، باقی قراء نے اسے تزکی پڑھا ہے، معنی ہوگا تو پاکیزہ مومن بنے یعنی حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے فرعون کو دعا دی کہ وہ پاکیزہ مومن بن جائے، کہا، اس وجہ سے ہم نے تخفیف کو اختیار کیا ہے صخر بن جویریہ نے کہا، جب اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو فرعون کی طرف بھیجا تو حضرت موسیٰ کو فرمایا، اذھب الی فرعون، حضرت موسیٰ نے عرض کی میں اس کے پاس کیسے جاؤں جبکہ تو جانتا ہے کہ وہ اسطرح نہیں کرے…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 17–27

1۔ فریابی وعبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت اذہب الی فرعون انہ طغی۔ فرعون کے پاس جاؤ کیونکہ اس نے سرکشی کی ہے۔ یعنی نافرمانی کی۔ آیت فاراہ الاٰیۃ الکبری۔ پس اس نے اس کو بڑی نشانی دکھائی۔ یعنی اپنی لاٹھی اور اپنا ہاتھ آیت ثم ادبر یسعی۔ پھر کوشش کرتا ہوا واپس لوٹا یعنی پھر وہ فساد کے اعمال کرنے لگا۔ آیت فاخذہ اللہ نکال الاٰخرۃ والاولیٰ پھر اللہ نے اس کو آخرت اور دنیا کے عذاب میں پکڑ لی ادنیا کا عذاب اس لیے کہ وہ کہتا تھا میں تمہارے لیے اپنے علاوہ کسی اور کو معبود نہیں جانتا۔ اور آخرت کا عذاب اس لیے کہ وہ کہتا تھا میں تمہارا بڑا رب ہوں۔ 2۔ عبدالرزاق وعبد بن…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[وَاَهْدِيَكَ : اور (اس طرف) کہ میں تیری رہنمائی کروں ][ اِلٰى رَبِكَ : تیرے رب کی طرف ][ فَتَخْشٰى: نتیجتاً تو رعب محسوس کرے (اس کا)]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 15–23

حضرت موسیٰ (علیہ السلام) بنی اسرائیل میں سے تھے جو حضرت یوسف (علیہ السلام) کے زمانے سے مصر میں رہتے تھے وہاں جو ان کی مظلومیت کا حال تھا اس کی تفصیلات پہلے گزر چکی ہیں ان پر فرعون اور آل فرعون کی طرف سے مظالم کے پہاڑ ٹوٹتے تھے، حضرت موسیٰ (علیہ السلام) ان ہی حالات میں وہاں پیدا ہوئے پھر فرعون کے محل میں پلے بڑھے جوان ہوئے ایک اسرائیلی یعنی ان کی قوم کے آدمی اور قبطی (فرعون کی قوم کے ایک فرد) کے درمیان لڑائی ہو رہی تھی۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) وہاں سے گزر رہے تھے اسرائیلی نے ان سے مدد طلب کی، انہوں نے قبطی کو ایک گھونسہ مار دیا گھونسہ کا لگنا تھا کہ وہ تو اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھا وہیں اس کا…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 1–26

ہیبت و اضطراب در روز محشر و فلاح وکامرانی اہل ایمان : قال اللہ تعالیٰ (آیت) ” والنزعت غرقا ....... الی ......... ان فی ذلک لعبرۃ لمن یخشی “۔ (ربط) سورة نبا میں منکرین قیامت کا قیامت کے بارے میں معاندانہ سوال اور تمسخر کا ذکر تھا اور ان کے جواب ورد کے بعد روز محشر کی حاضری کی کچھ کیفیات ذکر کی گئی تھیں، اب اس سورت میں بالخصوص قیامت قائم ہونے پر جو اضطراب وبے چینی قلوب پروارد ہوگی، اور بدحواسی کا عالم لوگوں پر ہوگا اس کا بیان ہے، جزاء وسزا اور مومنین ومجرمین کا فرق بھی بیان کیا جارہا ہے اور یہ کہ اللہ رب العزت حق کو کس طرح باطل پر غلبہ اور کامیابی عطا فرماتا ہے ؟ اس کے لیے حضرت موسیٰ (علیہ…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 15–19

ف 8: ” ھل اتک “ یہ تخویف دنیوی ہے۔ ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو وادی مقدس طوی میں آواز دی اور نبوت سے سرفراز فرما کر فرعون کی طرف بھیجا اور کہا فرعون کے پاس جاؤ وہ نہایت سرکش اور طاغی ہوچکا ہے۔ اسے نرمی کے ساتھ توحید کی دعوت دو اور اسے ہدایت کی راہ دکھاؤ۔ ” فقل ھل لک “ اسے جا کر کہو کیا تیرا اس طرف میلان ہے کہ تو اللہ کی توحید اور اس کے دین کو قبول کر کے گناہوں سے پاک ہوجائے۔ یہ پہلا مرتبہ ہے مراد یہ ہے کہ معجزہ دیکھے بغیر ہی مان لے۔ ” واھدیک الی ربک فتخشی “ میں تجھے تیرے پروردگار کی راہ دکھاؤں تو تیرے دل میں خوف خدا پیدا ہو۔ یہ دونوں مرتبے دوسری جگہ بھی مذکور ہیں۔ جیسا کہ ارشاد ہے۔ ” لعلہ…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 15–26

(گذشتہ سے پیوستہ ) اس سورة مبارکہ میں حکما کے نقطہ نظر سے وقوع قیامت پر دلیل قائم کی گئی ہے ۔ کفار ومشرکین کہتے تھے کہ کیا مرنے کے بعد ہم پھر پہلی حالت پر لوٹائے جائیں گے ۔ یعنی اسی طرح جسم وروح کے ساتھ زندہ ہوجائیں گے جیسا کہ دنیوی زندگی میں تھے ۔ حالانکہ ہم مر کر عظاما نخرۃ بوسیدہ ہڈیاں ہوجائیں گے اگر ایسا ہوا تو یہ بہت افسوس ناک بات ہوگی ۔ وہ لوگ بعث بعد الممات کو بالکل ناممکن خیال کرتے تھے۔ اس حصہ میں اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور فرعون کا تذکرہ بیان فرمایا ۔ اس واقعہ سے ایک طرف آپ کو تسلی دلانا مقصود ہے تو دوسری طرف قیامت کا مسئلہ بھی سمجھا دیا ۔ فرعون بھی قیامت کا انکار…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَاَہْدِيَكَ اِلٰى رَبِّكَ فَتَخْشٰى۝ 19 ۚ هدى الهداية دلالة بلطف، وهداية اللہ تعالیٰ للإنسان علی أربعة أوجه : الأوّل : الهداية التي عمّ بجنسها كلّ مكلّف من العقل، والفطنة، والمعارف الضّروريّة التي أعمّ منها كلّ شيء بقدر فيه حسب احتماله كما قال : رَبُّنَا الَّذِي أَعْطى كُلَّ شَيْءٍ خَلْقَهُ ثُمَّ هَدى [ طه/ 50] . الثاني : الهداية التي جعل للناس بدعائه إيّاهم علی ألسنة الأنبیاء، وإنزال القرآن ونحو ذلك، وهو المقصود بقوله تعالی: وَجَعَلْنا مِنْهُمْ أَئِمَّةً يَهْدُونَ بِأَمْرِنا [ الأنبیاء/ 73] . الثالث : التّوفیق الذي يختصّ به من اهتدی، وهو المعنيّ بقوله تعالی: وَالَّذِينَ اهْتَدَوْا زادَهُمْ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 15–26

ترکیب ¦ ھل استفہامیۃ او بمعنی قدر والجملۃ مستانفۃ لبیان مسئلۃ النبوۃ اذ متعلق بحدیث۔ لاباتاک لا ختلاف وقیتھما طویٰ قریٔ بالتنوین و ترکہ و ھما سبعیتان فمن صرفۃ جعلہ اسم وادٍ و مکانٍ وجعلہ نکرۃ ومن لم یصرفہ جعلہ بلدۃ وبقعۃ وجعلہ معرفۃ وھو وادٍ بین الشام وقلزم وھوبدل من الوادال اذھب ای قال اذھب وقیل ھو تفسیر للنداء تزکی قرء الجہور بالتخفیف وقرأنافع وابن کثیر بتشدید الرائے علی ادغام التاء فی الزای قال ابو عمر و بن العلاء علی الاول مسناہ تکون زکیاء مؤمنا وعلی الثافی الصدقۃ۔ والیٰ متعلقۃ بمحذوف وھو رغبۃ او توجہ وھو مبتدالک خبرہ واھدیک معطوف علی تزکی منصوب بان والفاء فی فتخشی لترتیب الخشیۃ علی…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 17–19

اِذْھَبْ اِلٰی فِرْعَوْنَ اِنَّـہٗ طَغٰی۔ فَقُلْ ھَلْ لَّـکَ اِلٰٓی اَنْ تَزَکّٰی۔ وَاَھْدِیَکَ اِلٰی رَبِّکَ فَتَخْشٰی۔ (النازعات : 17 تا 19) (کہ تم فرعون کے پاس جاؤ وہ سرکش ہوگیا ہے۔ اور اس سے کہو کیا تم میں کچھ اپنے کو سدھارنے کا جذبہ ہے ؟ کیا میں تمہیں تمہارے رب کی راہ دکھائوں کہ تم اس سے ڈرنے لگو۔ ) فرعون کی سرکشی اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی ہمدردانہ دعوت حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو منصب نبوت پر مقرر کرتے وقت جو حکم دیا گیا یہ اس کا بیان ہے۔ وہ حکم یہ تھا کہ تم فرعون کے پاس جاؤ کیونکہ وہ بہت سرکش ہوگیا ہے۔ فرعون کی سرکشی کے دو پہلو تھے۔ ایک تو اللہ تعالیٰ کے مقابلے میں تھا۔ یعنی وہ…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 15–26

فہم القرآن ربط کلام : قیامت کو جھٹلانے والوں میں فرعون بھی شامل تھا اس لیے اس کا دنیا میں برا انجام ہے۔ اہل مکہ قیامت کا بار بار مذاق اڑا رہے تھے اس پر انہیں انتباہ کرنے کے لیے موسیٰ (علیہ السلام) اور فرعون کے درمیان ہونے والی کشمکش اور اس کے نتیجہ میں فرعون کے ساتھ پیش آنے والے واقعہ کا حوالہ دے کر سمجھایا کہ کیا آپ کو موسیٰ (علیہ السلام) کے واقعہ کا علم ہے کہ جب طویٰ وادی میں اسے اس کے رب نے فرمایا کہ فرعون کے پاس جاؤ ! کیونکہ وہ بڑا باغی بن چکا ہے جس کا بڑا سبب یہ ہے کہ وہ قیامت کا منکر ہے۔ اسے سمجھاؤ کہ کیا تو تیار ہے کہ شرک اور ظلم وستم سے بچنے کی کوشش کرے ؟ میں تیرے رب کی طرف سے تیری…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

19 : وَاَھْدِیَکَ اِلٰی رَبَّکِ فَتَخْشٰی (اور میں تجھ کو تیرے رب کی طرف سے راہنمائی کروں تو تو ڈرنے لگے) اور اللہ تعالیٰ کی صفات کے تذکرہ سے اس کی پہچان کی طرف تیری راہنمائی کرتا ہوں تاکہ تو اس کو پہچان لے پس تو ڈرنے لگے کیونکہ خشیت معرفت سے ہی پیدا ہوتی ہے۔ جیسا اللہ تعالیٰ نے فرمایا انما یخشی اللہ من عبادہ العلماء ] فاطر : 28[ یعنی اس کی جان پہچان والے۔ قولِ حکماء : اللہ تعالیٰ کو پہچانو ! جس نے اللہ تعالیٰ کو پہچان لیا وہ ایک پلک جھپک کیلئے اس کی نافرمانی نہیں کرسکتا۔ پس خشیت تو اس کا مغز ہے۔ جو اللہ تعالیٰ سے ڈرا وہ بھلائیاں کرے گا اور جو بےخوف ہوا وہ ہر برائی کی طرف ہاتھ مارتا ہے۔ اس…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

18 ۔” فقل ھل لک الی ان تزکی “ اہل حجاز اور یعقوب نے زاء کی شد کے ساتھ پڑھا ہے یعنی شرک سے پاک وصاف ہوجائے اور دیگر حضرات نے تخفیف کے ساتھ پڑھا ہے یعنی تو اسلام لے آ اور نیک کام کرے ۔ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں اس کی گواہی دے کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ہے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 15–26

15۔ 26۔ اوپر قیامت کا ذکر تھا ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) اور فرعون کا قصہ یاد دلا کر اہل مکہ کو یہ تنبیہ فرمائی ہے کہ عذاب الٰہی کچھ قیامت پر ہی منحصر نہیں اگر یہ لوگ اللہ کے رسول کے جھٹلانے پر اپنی عادت کے موافق اڑے رہے تو اللہ کی قدرت سے کچھ بعید نہیں کہ جس طرح رسول وقت کی نافرمانی سے فرعون پر دنیا میں آفت آگئی اسی طرح ان لوگوں پر بھی کوئی آفت آجائے چناچہ اس تنبیہ کی غرض سے اس قصہ کے ذکر کے بعد فرمایا کہ جس شخص کے دل میں خدا کا خوف ہے اس کو اس قصہ سے نصیحت پکڑنی چاہئے اسی طرح کی تنبیہ کے مطلب کو اللہ تعالیٰ نے سورة الم سجدہ میں ان لفظوں سے ادا فرمایا ہے۔ ولنذیقنھم من…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

(وَاَهْدِيَكَ اِلٰى رَبِّكَ ) یعنی میں اس کی طرف تیری رہنمائی کروں اور اس کی ناراضی کے مواقع میں سے اس کی رضا کے مواقع واضح کروں ( فَتَخْشٰى) پس جب تجھے صراط مستقیم معلوم ہوجائے تو اللہ سے ڈرجائے۔ جس چیز کی طرف حضرت موسیٰ نے فرعون کو دعوت دی تھی، فرعون نے اسے قبول کرنے سے انکار کردیا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 18–19

(15) حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی طرف سے فرعون کے دل پر ایک دستک : سو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے فرعون کے دل پر دستک دیتے ہوئے اس سے کہا کہ کیا تو اس کے لیے تیار ہے کہ تو پاکی اختیار کرلے ؟ کہ نور حق و ہدایت سے سرفرازی کے لئے اس کی طلب و تڑپ اولین شرط ہے۔ سو اس سے معلوم ہوا کہ خوف و خشیت خداوندی ہر خوبی و کمال کی اساس و بنیاد ہے، اور اس سے بےخوفی و لاپرواہی ہر شر و فساد اور خرابی کی جڑ بنیاد ( کشاف وغیرہ) والعیاذ باللہ۔ سو خوف و خشیت خداوندی کی بنا پر انسان راہ حق ہدایت کو اپناتا اور اس پر قائم رہتا ہے، ورنہ وہ ایک حیوان بن جاتا ہے۔ والعیاذ باللہ، جل وعلا۔ بہرکیف موسیٰ (علیہ السلام) نے فرعون…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 15–26

فرعون کا انکار اور تباہی تشریح : اکثر لوگ یہ کہتے ہیں کہ پرانے قصے قران پاک میں بار بار بیان کئے جاتے ہیں۔ ٹھیک ہے مگر ہر دفعہ کسی مختلف وجہ کے لیے بیان کئے جاتے ہیں۔ جیسا کہ یہاں آخرت کے انکار کرنے والوں کو سبق دینے کے لیے فرعون کا بیان سنایا گیا ہے۔ کہ اللہ کی سچائیوں کو ماننے سے جو لوگ انکار کرتے ہیں ان کا حال دنیا و آخرت میں ایسے ہی خراب ہوتا ہے جیسا فرعون کا حال ہوا۔ پہلے غرق کردیا گیا مگر لاش انتہائی خوفناک حالات میں دنیا کے سامنے ڈال دی گئی جو لوگوں کو عبرت دلانے کے لیے اور اللہ کی قدرت اور حاکمیت کا یقین دلانے کے لیے لوگوں کے سامنے موجود رکھ دی گئی ہے جو یوں تو معمول کے بالکل خلاف ہے…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–26

سورة نازعات۔ آیات 1 تا 26۔ اسرار ومعارف۔ قسم ہے ان فرشتوں کی جو کافر کی روح کھینچ کرنکالتے ہیں کہ ملک الموت ایک ایک بال اور ناخن کی جڑوں تک سے کھینچ کر نکالتا ہے اس لیے کہ وقت موت برزخ سامنے آجاتا ہے اور عذاب الٰہی دیکھ کر کافر کی روح چمٹی رہناچاہتی ہے اور قسم ہے ان فرشتوں کی جو آرام سے مومن کی روح نکال لیتے ہیں گویا وقت موت ہی کافر پہ سختی اور مومن کو راحت شروع ہوجاتی ہے اس سے ظاہری حالت مراد نہیں نہ ظاہر سے اندازہ ہوسکتا ہے الاماشاء اللہ یعنی بہت کم لوگوں کے حال سے پتہ چلتا ہے اس سے مراد باطنی کیفیات ہیں جو دونوں پہ گزررہی ہوتی ہیں پھر ان روحوں کو لے کر آسمان کی طرف تیزی سے جاتے ہیں اور ان…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 19–20

ف 11 یعنی اس کے بندوں پر ظلم کرنے سے بازآئے۔12 یعنی ایسی تدبیریں سوچنے لگا جن سے حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) کو زک دے سکے اور لوگوں کو ان کی آواز پر کان دھرنے سے باز رکھ سکے۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(79:19) واھدیک الی ربک فتخشی : جملہ معطوف ہے واؤ عاطفہ ہے۔ اھدیک کا عطف تزکی پر ہے۔سببیہ ہے۔ اھدیک : اھدی مضارع کا صیغہ واحد متکلم منصوب بوجہ عمل ان جملہ سابقہ ھدایۃ (باب ضرب) مصدر ک ضمیر مفعول واحد مذکر حاضر۔ میں تجھ کو راہ بتاؤں ۔ میں تجھ کو راہ دکھاؤں۔ تخشی : خشیۃ (باب سمع) مصدر سے مضارع واحد مذکر حاضر۔ توڑ دے ۔ مطلب یہ ہے :۔ اور کیا تجھے اس بات کی خواہش ہے کہ میں تجھے اللہ کی معرفت، عبادت اور توحید کا راستہ دکھاؤں اور نتیجہ میں تو اس کے عذاب سے ڈرنے لگے۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 1–46

لغات القرآن النازعات۔ گھسیٹنے والے۔ غرق۔ ڈوب کر۔ الناشطات ۔ بند کھولنے والے۔ السابحات۔ تیرنے والے۔ السابقات۔ آگے بڑھ جانے والے۔ المدبرات۔ انتظام کرنے والے ۔ واجفہ۔ دھڑکنے والے۔ الحافرۃ۔ پہلی پیدائش۔ نخرۃ ۔ گلی سڑی۔ کرۃ۔ دوبارہ۔ رجرۃ واحدۃ۔ ایک زبردست ڈانٹ۔ الساھرہ۔ میدان۔ اری۔ دکھایا۔ الایۃ الکبری۔ بڑی نشانی۔ حشر۔ اس نے جمع کیا۔ نکال۔ سزا۔ اشدخلقا۔ زیادہ مشکل ہے بنانا۔ رفع۔ بلند کردیا۔ سمک۔ اٹھان۔ اغطش۔ اس نے سیاہ کردیا۔ ضحی۔ چڑھتی دھوپ۔ دحی۔ اس نے پھیلایا۔ مری۔ چارہ (جانوروں کی غذا) ۔ الطامہ۔ آفت و مصیبت۔ برزت۔ ظاہر کردی گئی۔ اثر۔ اس نے اختیار کیا۔ ترجیح دی۔ الماوی ۔ ٹھکانا۔ نھی النفس۔ اپنے…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 15–26

(ف 3) اوپر قیامت کا ذکر تھا ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ اور فرعون کا قصہ یاد دلا کر کفار کو یہ تنبیہ فرمائی ہے کہ عذاب الٰہی کچھ قیامت پر ہی منحصر نہیں اگر یہ لوگ اللہ کے رسول کے جھٹلانے پر اپنی عادت کے موافق اڑے رہے تو اللہ کی قدرت سے کچھ بعید نہیں کہ جس طرح رسول وقت کی نافرمانی سے فرعون پر دنیا میں آفت آگئی اسی طرح ان لوگوں پر بھی کوئی آفت آجائے چناچہ اس تنبیہ کی غرج سے اس قصہ کے ذکر کے بعد فرمایا کہ جس شخص کے دل میں خدا کا خوف ہے اس کو اس قصہ سے نصیحت پکڑنی چاہے یہ قصہ کئی جگہ مفصل گذرچکا ہے اور اسی طرح تنبیہ کے مطلب کو اللہ نے سورة الم سجدہ میں فرمایا ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

[6] اوپر کی آیات میں عذاب قیامت کی تصویر تھی۔ اب یہاں اس عذاب کی تاریخی شہادت کا حوالہ ہے جس سے رسولوں کے جھٹلانے والوں کو اس دنیا میں سابقہ پیش آیا ہے۔ اس کے لئے موسیٰ (علیہ السلام) اور فرعون کی سرگزشت کا انتخاب فرمایا ہے جو سب سے زیادہ مشہور اور معروف شہادت ہے۔ یہ سرگزشت تفصیل کے ساتھ سورة اعراف آیت 103 تا 137 صفحہ 356، 358، 360، 362 سورة طہٰ آیت 9 تا 82 صفحہ 718، 720، 722، 724، 726 میں گزر چکی ہے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 4–25

ف 2: السبحت وہ ہیں جو سبک سیری مکینوں کی مانند ہیں ۔ اور فالسبقت وہ ہیں کہ تیزی میں ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی کوشش کرتے رہتے ہیں ۔ اور فالمدبرات سے مراد وہ کواکب ہیں جو اپنی طبعی خاصیتوں کی بنا پر دنیا پر اپنا مستقل اثر قائم کرتے رہتے ہیں ۔ اس طرح گویا ان نجوم کواکب کو انسانی زندگی کے بمنزلہ قرار دیا گیا ہے ۔ کہ بعض لوگ بہت طویل عمر کے ہوتے ہیں اور ان کی ولادت اور موت کا مطلع ومغرب دور دور ہوتا ہے ۔ بعض وہ ہوتے ہیں جو تھوڑی عمر پاتے ہیں اور ہنسی خوشی گزار دیتے ہیں ۔ بعض کی زندگی حوادث اور مقابلہ وتقدم سے مبرا ہوتی ہے ۔ اور وہ سبک سیر سیاروں کی طرح فضائے حیات میں تیر کر منزل تک پہنچ جاتے ہیں…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(19) اور میں تیرے پروردگار کی جانب تیری رہنمائی کروں تو تو اس سے ڈر جائے۔ یعنی شرک اور دیگر اخلاق رذیلہ اور ظلم و سرکشی سے تو پاک ہوجائے اور تیری اصلاح ہوجائے اور جو برائیاں تجھ میں سلطنت کے غرور وتکبر سے پیدا ہوگئی ہیں وہ تجھ میں سے نکل جائیں اور تو سنور جائے اور بجائے برائیوں کے بھلائیوں سے آراستہ ہوجائے اور میں حضرت حق جل مجدہ کی ذات وصفات بیان کرکے اس کی معرفت کی جانب تیری رہنمائی کروں کہ تو اس سے ڈر جائے اور ڈر کر سنور جائے۔ والنازعات کی ان دونوں آیتوں میں انبیاء علیہم الصلوٰۃ والسلام کی تعلیم اور تبلیغ کا نچوڑ ہے ایک تزکیہ اور دوسرے خشیت اور یہی دونوں باتیں اصلاح باطن کے لئے بہت ضروری…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 12–24

ف 4۔ کیونکہ ہم نے تو اس کے لئے کچھ سامان کیا نہیں، مقصود اس سے تمسخر تھا اہل حق کے اس عقیدہ کے ساتھ یعنی مسلمانوں کے عقیدہ پر تو ہم بڑے خسارہ میں ہوں گے جیسے کوئی شخص کسی کو خیر خواہی سے ڈرائے کہ اس راہ مت جانا، شری ملے گا اور مخاطب تکذیب کے طور پر کسی سے کہے کہ بھائی ادھر مت جانا شیر کھا جائے گا۔ مطلب یہ کہ قیامت کوئی چیز نہیں ہے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

۔ 19 فرعون کے پاس جا کر اس کو تلقین کریں کہ میں تجھ کو اپنے پروردگار کی طرف آنے کی دعوت دیتا ہوں کہ تو رب ذوالجلال والا کرام سے ڈر جا کیونکہ اس نے ظلم کی انتہا کردی ہے کہ مخلوق ہو کر خالق بن بیٹھا ہے۔ آپ اس کے پاس جائیں اور اسے سمجھائیں کہ اس مشت خاک کو یہ غرور زیبا نہیں ہے اگر تو چاہے تو میں تجھے رذائل سے پاک ہونے کا طریقہ سکھا سکتا ہوں۔ اگر تیری خواہش ہو تو تجھے تیرے رب کریم کی طرف بلا سکتا ہوں جو اللہ تعالیٰ کی معرفت کی راہ ہے۔ اس طرح تیرے دل سے غرور و پندار دور ہوجائے گا اور تیرے دل میں اللہ تعالیٰ کا ڈر اور خوف پیدا ہوجائے گا اور جب اس کا خوف پیدا ہوگیا تو یہ ساری بد اعتدالیاں کا فور…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 5–24

The fifth quality of the angels: فَالْمُدَبِّرَ‌اتِ أَمْرً‌ا (then manage [ to do ] everything [ they are ordered to do,]...79:5). In other words, the last task of these angels of death will be as follows: Those who are commanded to reward and comfort the deserving souls, will gather means of reward and comfort for them; and those who are commanded to punish and cause pain to [ the evil souls ] will organize means for that. Reward and Punishment in the Grave The Surah thus far confirms that at the time of death, the angels will arrive and extract human souls. Then they will take them to the…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

8 Here, one should understand a few things well: (1) The dialogue that took place between the Prophet Moses and Allah Almighty at the time of appointing him to the office of Prophethood has been related at some places briefly and at others in full detail in the Qur'an as the occasion demanded. Here; brevity was the need; therefore, only a resume has been given. Fuller details are found in Ta Ha: 9-48, Ash-Shua`ra': 10-17, An=Naml: 7-12, AI-Qasas: 29-35. (2) The rebellion of the Pharaoh referred to here relates to his transgressing the bounds of service and rebelling both against the Creator…

Read the full tafseer →