An-Naba 78:1

78. An-Nabaالنبإ

The Announcement · Meccan · 40 ayahs · 2 rukus

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

78:1

عَمَّ یَتَسَآءَلُوْنَ ۟ۚعَمَّ يَتَسَآءَلُوۡنَ‌ۚ‏

(یہ) لوگ کس چیز کی نسبت پوچھتے ہیں؟

— Fateh Muhammad Jalandhari

About what are they asking one another?

— Saheeh International

Juz 30 · Ruku 1 of surah · Ruku 1 of juz

Read the whole surah · Surah An-Naba

All translations of 78:1

یہ لوگ کس چیز کے بارے میں پوچھ گچھ کر رہے ہیں؟

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

(یہ) لوگ کس چیز کی نسبت پوچھتے ہیں؟

— مولانا فتح محمد جالندہری

یہ لوگ کس چیز کے بارے میں پوچھ گچھ کر رہے ہیں

— مولانا محمد جوناگڑہی

یہ (کافر) لوگ کس چیز کے بارے میں سوالات کر رہے ہیں ؟

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

یہ آپس میں کاہے کی پوچھ گچھ کررہے ہیں

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

یہ لوگ آپس میں کس (چیز) سے متعلق سوال کرتے ہیں،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

کس چیز کے بارے میں وہ آپس میں سوال کر رہے ہیں ؟

— مولانا عبد السلام بھٹوی

کس چیز کے متعلق وہ آپس میں سوال کرتے ہیں ؟

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

یہ لوگ کس چیز کے بارے میں چہ میگوئیاں کررہے ہیں ؟

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

یہ لوگ کس چیز کے بارے میں آپس میں پوچھ گچھ کر رہے ہیں ؟

— مولانا اسحاق مدنی

یہ لوگ کس چیز کی بابت دریافت کررہے ہیں ؟

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

کس چیز کے بارے میں یہ لوگ آپس میں پوچھ گچھ کر رہے ہیں ؟

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

یہ لوگ کس چیز کے بارے میں پوچھتے ہیں

— محترمہ رفعت اعجاز

About what are they asking one another?

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

About what are they asking each other?

— Muhammad Taqi Usmani

About what are they asking each other?

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

What are they asking about

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

About what are they asking one another?

— Saheeh International

What do they quarrel about?

— Muhammad Sarwar

Of what do they ask one another?

— Muhammad Habib Shakir

Of what ask they?

— Abdul Majid Daryabadi

Tafseer of 78:1

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 1–16

پہاڑیوں کی تنصیب، زمین کی سختی اور نرمی دعوت فکر ہے جو مشرک اور کفار قیامت کے آنے کے منکر تھے اور بطور انکار کے آپس میں سوالات کیا کرتے تھے اور مرنے کے بعد جی اٹھنے پر تعجب کرتے تھے ان کے جواب میں اور قیامت کے قائم ہونے کی خبر میں اور اس کے دلائل میں پروردگار عالم فرماتا ہے کہ یہ لوگ آپس میں کس چیز کے بارے میں سوالات کر رہے ہیں ؟ پھر خود فرماتا ہے کہ یہ قیامت کے قائم ہونے کی بابت سوالات کرتے ہیں جو بڑا بھاری دن ہے اور نہایت دل ہلا دینے والا امر ہے۔ حضرت قتادہ اور ابن زید نے اس نبا عظیم (بہت بڑی خبر) سے مرنے کے بعد دوبارہ جی اٹھنا مراد لیا ہے۔ مگر حضرت مجاہد سے یہ مروی ہے کہ اس سے مراد قرآن…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 1–3

سورة النَّبَا 1 بڑی خبر سے مراد قیامت اور آخرت کی خبر ہے جس کو اہل مکہ آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر سنتے تھے، پھر ہر محفل میں اس پر طرح طرح کی چہ مگوئیاں ہوتی تھیں۔ پوچھ گچھ سے مراد یہی چہ میگوئیاں ہیں۔ لوگ جب ایک دوسرے سے ملتے تھے تو کہتے تھے کہ بھائی، کبھی پہلے بھی تم نے سنا ہے کہ مر کے کوئی دوباہ زندہ ہوگا ؟ کیا یہ ماننے کے قابل بات ہے کہ گل سڑ کر جو ہڈیاں ریزہ ریزہ ہوچکی ہیں ان میں نئے سرے سے جان پڑے گی ؟ کیا عقل میں یہ بات سماتی ہے کہ اگلی پچھلی ساری نسلیں اٹھ کر ایک جگہ جمع ہوں گی ؟ کیا یہ ممکن ہے کہ یہ بڑے بڑے جمے ہوئے پہاڑ ہوا میں روئی کے گالوں کی طرح اڑنے لگیں گے ؟ کیا یہ ہوسکتا ہے کہ چاند…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 1–8

خلاصہ تفسیر یہ (قیامت کا انکار کرنے والے) لوگ کس چیز کا حال دریافت کرتے ہیں اس بڑے واقعہ کا حال دریافت کرتے ہیں جس میں یہ لوگ (اہل حق کیساتھ) اختلاف کر رہے ہیں (مراد قیامت ہے اور دریافت کرنے سے مراد بطور انکار کے دریافت کرنا ہے اور مقصود اس سوال و جواب سے اذہان کا ادھر متوجہ کرنا اور تفسیر بعدالابہام سے اس کا اہتمام شان ظاہر کرنا ہے، آگے ان کے اختلاف کا بےوجہ اور باطل ہونا بیان کیا گیا ہے کہ جیسا یہ لوگ سمجھتے ہیں کہ قیامت نہ آوے گی) ہرگز ایسا نہیں (بلکہ قیامت آوے گی اور) ان کو ابھی معلوم ہوا جاتا ہے (یعنی جب دنیا سے رخصت ہونے کے بعد ان پر عذاب واقع ہوگا تب حقیقت اور حقیقت قیامت کی منکشف…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

’عَمَّ‘ دراصل ہے تو ’عَمَّا‘ لیکن عام استعمال میں جس طرح بعض حروف کی آواز دب جاتی ہے اسی طرح ’عَمَّا‘ سے بھی ’الف‘ ساقط ہو گیا ہے اور یہ اسی طرح استعمال ہوتا ہے۔ منکرین قیامت کا استہزاء: ’تَسَاءُ لٌ‘ کے معنی آپس میں کسی چیز سے متعلق پوچھ گچھ کرنے کے ہیں۔ پوچھ گچھ دریافت حال اور تحقیق کے لیے بھی ہوتی ہے اور بعض اوقات محض سخن گستری اور استہزاء کے لیے بھی۔ یہاں یہ استہزاء کے مفہوم میں ہے۔ قرآن میں جگہ جگہ یہ ذکر ہے کہ نبی ﷺ نے قریش کو جب انذار قیامت پر مشتمل سورتیں سنائیں تو لب و لہجہ کی حرارت، انداز بیان کی سطوت و ہیبت اور دلائل کی قطعیت نے ان کا چرچا بہت جلد ہر حلقہ میں پھیلا دیا۔ قریش نے اپنے…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 1–2

1۔ 1 جب رسول اللہ ﷺ کو خلعت نبوت سے نوازا گیا اور آپ نے توحید، قیامت وغیرہ کا بیان فرمایا اور قرآن کی تلاوت فرمائی تو کفار و مشرکین باہم ایک دوسرے سے پوچھتے کہ یہ قیامت کیا واقعی ممکن ہے، جبکہ یہ شخص دعویٰ کر رہا ہے یا یہ قرآن، واقعی اللہ کی طرف سے نازل کردہ ہے جیسا کہ محمد ﷺ کہتا ہے استفہام کے ذریعے سے اللہ نے پہلے ان چیزوں کی وہ حیثیت نمایاں کی جو ان کی ہے۔ پھر خود ہی جواب دیا کہ۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 1–3

1: اس سے قیامت اور آخرت مراد ہے۔ کافر لوگ قیامت کے بارے میں طرح طرح کی باتیں بنایا کرتے تھے۔ کوئی اس کا مذاق اڑاتا، کوئی اس کے خلاف دلیلیں پیش کرتا، کوئی مسلمانوں سے اس کی تفصیلات کے بارے میں سوالات کرتا، اور سوال کرنے کا مقصد حق کی تلاش نہیں، بلکہ استہزاء ہوتا تھا۔ ان آیتوں میں ان کے اسی طرز عمل کی طرف اشارہ ہے۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے کائنات میں پھیلی ہوئی اپنی قدرت کی نشانیوں کا ذکر فرمایا ہے کہ جب تم یہ مانتے ہو کہ یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ نے پیدا فرمایا ہے، تو اس کی یہ قدرت تسلیم کرنے میں تمہیں کیوں مشکل پیش آرہی ہے کہ وہ اس عالم کو ایک مرتبہ ختم کر کے دوبارہ پیدا فرما دے گا۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

آغاز کلام ہی ان نام نہاد سوال کرنے والوں کے سوالات پر سرزنش سے ہوتا ہے۔ تعجب اس پر کیا جاتا ہے کہ یہ لوگ اس قدر ظاہروباہر بات کے بارے میں قیل وقال کرتے ہیں۔ ان لوگوں کے سوالات دراصل قیام قیامت کے بارے میں تھے اور یہی موضوع تھا جس کے بارے میں وہ نہایت ہی شک اور خلجان میں مبتلا تھے اور سخت مجادلہ اور مباحثہ کرتے تھے۔ ان لوگوں کے تصور میں یہ بات نہ آتی تھی کہ ایسا بھی ہوسکتا ہے ، حالانکہ ایسا لازمی ہونا چاہئے اور قیام قیامت بالکل ایک منطقی امر ہے۔ عم یتساءلون (1:78) ” یہ لوگ کس چیز کے بارے میں پوچھ گچھ کررہے ہیں “۔ اور کس چیز کے بارے میں یہ مباحثے کررہے ہیں اور اس کے بعد خود اس کا جواب دے دیا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

1 یعنی لوگ کس بات کا کھوج لگانے اور کس چیز کی تحقیق و تفتیش میں مشغول ہیں۔ کیا ان میں ایسی استعداد ہے کہ بہت پوچھ پاچھ کرنے سے وہ چیز ان کی سمجھ میں آجائے گی۔ ہرگز نہیں۔ یا یہ مطلب ہے کہ کفار جو از راہ انکار و استہزاء آپس میں ایک دوسرے سے نیز پیغمبر اور مومنین سے سوال کرتے ہیں کہ ہاں صاحب ! وہ قیامت کب آئے گی ؟ ابھی کیوں نہیں آجاتی ؟ جانتے ہو یہ کس چیز کی نسبت سوال کر رہے ہیں ؟ وہ بہت عظیم الشان چیز ہے جس کا علم ان کو عنقریب ہوجائے گا۔ جب اپنی آنکھ سے اس کے ہولناک مناظر دیکھیں گے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 1{ عَمَّ یَتَسَآئَ لُوْنَ۔ } ”کس چیز کے بارے میں یہ لوگ آپس میں پوچھ گچھ کر رہے ہیں ؟“ یہ منظر کشی کا بہت خوبصورت انداز ہے۔ ان دو الفاظ میں گویا اس بےچینی اور ہلچل کی تصویر کھینچ دی گئی ہے جو اہل مکہ کے ہاں رسول اللہ ﷺ کی دعوت کے سبب پیدا ہوگئی تھی۔ جیسے ہر شخص کے ذہن میں ایک ہی سوال ہو کہ محمد ﷺ نے یہ کیا نئی بات کردی ہے ؟ یہ بھلا کیا بات ہوئی کہ ایک دن یہ دنیا ختم ہوجائے گی ! پھر قیامت برپا ہوگی ! تمام انسانوں کو پھر سے زندہ کرلیا جائے گا ! ہر انسان سے اس کے ایک ایک عمل کا حساب ہوگا ! وہاں کوئی کسی کا ُ پرسانِ حال اور مددگار نہیں ہوگا ! بھلا یہ سب کیسے ہوسکتا ہے ؟ مرنے کے بعد سب کا پھر…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 1–2

1 کفار مکہ کے نزدیک قیامت کا تصور اور نظریہ ایک عجوبہ چیز تھی۔ جب قرآن نے ببانگ دہل یہ اعلان کیا کہ قیامت فی الواقع آنے والی ہے اور تمہیں تمہارے مٹی میں گل سڑ جانے کے بعد دوبارہ زندہ کرکے تمہارے اعمال کی باز پرس کی جائے گی تو اس کا مذاق اڑانے لگے۔ وہ مسلمانوں اور پیغمبر اسلام کے سامنے آپس میں ہی گفتگو کرتے کہ بھئی یہ قیامت کیا بلا ہے ؟ ہم مٹی میں مل جانے کے بعد کیونکر زندہ ہوسکتے ہیں ؟۔ آج تک تو کوئی مرا ہوا زندہ ہوا نہیں۔ پھر یہ کیسی انہونی بات ہے اور یہ آئے گی کب ؟ یہی وہ سوالات تھے جو ان کی دلچسپی کا موضوع بنے ہوئے تھے۔ وہ مسلمانوں سے بھی، نبی آخرالزمان سے بھی اور آپس میں بھی ایسے سوالات…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 1–3

1۔ (اہل حق سے) (آیت) ” یتسآء لون “۔ یعنی یہ منکرین حشر اہل جاہلیت بطور طنز وتعریض سوال کررہے ہیں، سوالات اور سوالیہ فقروں سے خطبات کی ابتداء کرنا دوسری زبانوں کی طرح خطبات عرب میں حسن انشاء وخطابت کا ایک بہترین نمونہ سمجھا گیا ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 1–8

ترجمہ : شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے، یہ قریشی آپس میں کس چیز کے بارے میں پوچھ گچھ کر رہے ہیں ؟ کیا اس بڑی خبر کے بارے میں جس کے متعلق یہ لوگ مختلف قسم کی چہ میگوئیاں کرتے ہیں ؟ (عن النبا العظیم) (شئی مسئولہ کا) عطف بیان ہے، اور استفہام اسی شئی کی عظمت کو بیان کرنے کے لئے ہے اور وہ قرآن ہے جس کو نبی ﷺ لائے جو کہ بعث وغیرہ پر مشتمل ہے، (بایں طور) کہ مومنین اس کو ثابت کرتے ہیں اور کافر اس کا انکار کرتے ہیں، خبردار ! ان کو عنقریب وہ چیز معلوم ہوجائے گی جو ان کے اوپر اس کے انکار کی وجہ سے نازل ہوگی (کلا) حرف توبیخ ہے، پھر بالیقین انہیں بہت جلد معلوم ہوجائے گا، یہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

عم . عَمَّ اصل میں عَنْ مَا تھا۔ مَا استفہامیہ اگر حرف جر کے بعد آتا ہے تو الف کو حذف کردیا جاتا ہے (اور مَا کو م پڑھا جاتا ہے) جیسے : لِمَ ۔ فِیْمَ ۔ عَمَّ ۔ مِمَّ ۔ اس حذف کے دو سبب ہیں : 1 : کثرت استعمال ‘ 2) مَا استفہامیہ کا مَا موصولہ سے فرق۔ (عَنْ مَا کے الف کو حذف کردینے کے بعد نون کو میم میں ادغام کردیا جاتا ہے اور پھر) ع کو م کے ساتھ ملا کر عَمّ لکھا جاتا ہے کیونکہ حذف نون کے بعد ع تنہا رہ جاتا ہے۔ اسی طرح مَا کا الف حذف ہو کر م رہ جاتا ہے۔ اللہ سے کوئی چیز پوشیدہ نہیں ‘ اس لیے اس کے کلام میں استفہام سوالیہ نہیں ہوتا بلکہ جس چیز کے متعلق سوال کیا جاتا ہے اس کی عظمت اور ہولناکی کو…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 1–5

(1۔ 5) یہ قریش کس چیز کے متعلق میں گفتگو کر رہے ہیں اس عظیم الشان قرآن حکیم کے متعلق جس کی یہ لوگ تکذیب اور بعض تصدیق کر رہے ہیں کیونکہ جبریل امین جس وقت حضور کے پاس قرآن کریم لے کر آئے، اور آپ نے قریش کے سامنے اس کو پڑھا تو اس بارے میں وہ لوگ گفتو و شنید کرنے لگے، چناچہ ان میں سے بعض نے تو اس کی تصدیق کی اور بعض نے تکفیر کی۔ ہرگز ایسا نہیں ان کو موت کے وقت عنقریب معلوم ہوجائے گا کہ ان کے ساتھ کیا برتاؤ کیا جائے اور ان کو ابھی معلوم ہوا جاتا ہے کہ ان کے ساتھ قبر میں کیا معاملہ ہوگا۔ شان نزول : عَمَّ يَتَسَاۗءَلُوْنَ (الخ) ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے حضرت حسن سے روایت کیا ہے کہ جب رسول اکرم…

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

(1) عم یتسآء لون…: اس سورت میں قیامت کے حق ہونے کے دلائل اور اس کے کچھ احوال بیان کئے گئے ہیں۔ جب رسول اللہ ﷺ نے توحید و رسالت پر ایمان لانے کی دعوت کے ساتھ ساتھ یہ بتایا کہ ایک دن تمہیں زندہ ہو کر اللہ کے سامنے پیش ہونا ہے اور تمہیں تمام نیک و بد اعمال کی جزا ملنی ہے تو سننے والوں نے آپ سے میں سوال شروع کردیئے کہ کیا واقعی قیامت ہوگی ؟ آیا یہ ممکن بھی ہے ؟ پھر وہ قیامت کس طرح ہوگی ؟ وغیرہ، اس پر یہ آیات نازل ہوئیں۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

عم یتساء لون۔۔ تا۔۔۔ سیعلمون۔ عم یتساء لون۔ عم استفہام کا لفظ ہے اس وجہ سے ما کا الف حذف کردیا گیا ہے تاکہ خبر استفہام سے ممتاز ہوجائے اس طرح فیم اور مم ہے جب ان کے ساتھ سوال کیا جائے معنی ہوگا وہ ایک دوسرے کے بارے میں کس چیز کے متعلق سوال کرتے ہیں۔ زجاج نے کہا، عم اصل میں عن ما تھا نون کو میم میں مدغم کردیا گیا کیونکہ نون غنہ میں میم کے ساتھ شریک ہے۔ یتساء لون میں ضمیر قریش کے لیے ہے، ابوصالح نے حضرت ابن عباس سے روایت نقل کی ہے جب قرآن حکیم نازل ہوا توقریش بیٹھا کرتے وہ آپس میں گفتگو کرتے ان میں سے کچھ تصدیق کرنے والے ہوتے اور کچھ جھٹلانے والے تو یہ آیات نازل ہوئیں، ایک قول یہ کیا گیا ہے،…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 1–3

1۔ عبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم وابن مردویہ نے حسن ؓ سے روایت کیا کہ جب نبی ﷺ بھیجے گئے تو لوگ آپس میں سوال کرنے لگے تو یہ آیت نازل ہوئی آیت عم یتساء لون۔ عن النبا العظیم۔ کس چیز کی بابت وہ آپس میں سوال کرتے ہیں اس بڑی خبر کے بارے میں۔ 2۔ ابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے آیت یساء لون عن النبا العظیم کے بارے میں روایت کیا کہ بڑی خبر سے مراد ہے قرآن۔ 3۔ عبدالرزاق وعبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت عم یتساء لون عن النبا العظیم سے مراد ہے قرآن مجید اور فرمایا آیت الذی ہم فیہ مختلفون۔ جس میں وہ اختلاف کر رہے ہیں۔ یعنی کوئی اس کی تصدیق کرنے والا ہے…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[عَمَّ : کس چیز کے بارے میں ][ يَتَسَاۗءَلُوْنَ : یہ لوگ ایک دوسرے سے پوچھتے ہیں ] نوٹ 1: عَمَّ دراصل دو حرفوں عن اور ما سے مرکب ہے۔ حرف مَا استفہام کے لیے آتا ہے۔ اس ترکیب میں حرف مَا سے الف ساقط کردیا جاتا ہے۔ معنی ہوئے کس چیز کے بارے میں۔ (معارف القرآن) نوٹ 2: مکہ معظمہ میں جب اوّل اوّل رسول اللہ ﷺ نے اسلام کی تبلیغ کا آغاز کیا تو اس کی بنیاد تین چیزیں تھیں۔ ایک یہ بات کہ اللہ کے ساتھ کسی کو خدائی میں شریک نہ مانا جائے۔ دوسری یہ کہ آپ 1 کو اللہ نے اپنا رسول مقرر کیا ہے۔ تیسری یہ کہ اس دنیا کا ایک روز خاتمہ ہوجائے گا اور اس کے بعد ایک دوسرا عالم برپا ہوگا جس میں تمام اولین و آخرین دوبارہ…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 1–3

یہاں سے سورة النباء شروع ہو رہی ہے اس کے ابتداء میں لفظ عم ہے یہ عن حرف جار اور ما استفہامیہ سے مرکب ہے اس میں آخر سے الف ساقط ہوگیا اور نون ساکن کا میم میں ادغام کردیا گیا۔ تفسیر قرطبی میں لکھا ہے کہ جب رسول اللہ ﷺ پر قرآن نازل ہوتا تو قریش مکہ آپس میں بیٹھ کر باتیں کیا کرتے تھے (قرآن مجید میں قیامت کا ذکر بھی ہوتا تھا) اسے سن کر بعض لوگ تصدیق کرتے اور بعض تکذیب کرتے تھے اور معالم التنزیل میں ہے کہ وہ لوگ قیامت کی باتیں سن کر کہتے تھے : ما جاء بہ محمد ﷺ کہ (محمد ﷺ کیا لے کر آئے ہیں ؟ ) ان لوگوں کی اس گفتگو پر ﴿ عَمَّ يَتَسَآءَلُوْنَ۠ۚ001 ﴾ نازل ہوئی کہ یہ لوگ کس چیز کے بارے میں سوال کرتے ہیں…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 1–30

سورة النبا : گستاخی مجرمین بصورت سوال ومطالبہ روز قیامت وذکر قانون جزاء وسزا مع دلائل قدرت : قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” عم یتسآء لون ........ الی ......... فلن نزیدکم الا عذابا “۔ (ربط) سورة نباء مکی سورت ہے جس کی چالیس آیات اور دو رکوع ہیں۔ اس سے قبل سورة المرسلات میں حق تعالیٰ شانہ نے بڑی ہی قوت و عظمت کے ساتھ اعلان فرمایا کہ جس قیامت کا انسانوں سے وعدہ کیا گیا وہ یقیناً برپا ہو کر رہے گی، اس کے لئے خداوند عالم نے ہواؤں اور فرشتوں کی قسم کھا کر نہ صرف یہ کہ وقوع قیامت کا اعلان فرمایا بلکہ احوال قیامت بھی ذکر کردئیے گئے کہ جب نظام عالم درہم برہم ہوگا، تو زمین و آسمان اور چاند سورج اور کواکب…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 1–3

2:۔ ” عَمَّ یَتَسَآءَلُوْنَ “۔ منکرین حشر و نشر پر زجر ہے۔ جب رسول اللہ ﷺ نے اہل مکہ کو توحید کی دعوت دی اور ان کو بعث بعد الموت کا مسئلہ بتایا تو وہ قیامت کے بارے میں ایک دوسرے سے پوچھنے لگے کہ محمد ﷺ یہ کیا کہتا ہے کہ مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کیے جاؤ گے۔ ” عَنِ النَّبَاِ الْعَظِیْمِ “ یہ ” یَتَسَاءَلُوْنَ “ مقدر سے متعلق ہے ہاں وہ ایک عظیم خبر کے بارے میں سوال و جواب کر رہے ہیں یا آپس میں اختلاف کر رہے ہیں۔ بعض تو اس کا صاف صاف انکار کرتے ہیں اور بعض شک میں پڑتے ہیں (مظہری) ۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

(قیامت ایک بڑی خبر) جب قرآن پاک نازل ہونا شروع ہوا۔ تو حضور ﷺ نے مشرکین مکہ کو دعوت الی التوحید والا یمان دی اس دعوت ایمانی میں قیامت کا بھی ذکر تھا ۔ تو کفارنے طرح کی بیہودہ باتیں کرنی شروع کردیں ۔ اور وقوع قیامت کے عقید ہ پر اعتراضات کئے ۔ کوئی کہتا تھا متی ھذا الوعد یعنی یہ وعد ہ کب پورا ہوگا ۔ قیامت کب آئے گی ۔ دوسراکہتا مد ظن الساعۃ قائمۃ میراگمان نہیں ہے کہ قیامت آئے گی ۔ کوئی کہتا ھذا اساطیر الا ولین یہ تو پہلے لوگوں کے قصے کہا نیاں ہیں ۔ کوئی قیامت نہیں ہے ۔ اور پھر اس پر دلیل قائم کرتےء اذاضللنا فی الا رضء انا لفی خلق جدید یعنی جب ہم زمین میں رل مل جائیں گے ۔ تو دوبارہ کیسے اٹھائے…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

عَمَّ يَتَسَاۗءَلُوْنَ۝ 1 ۚ ما مَا في کلامهم عشرةٌ: خمسة أسماء، وخمسة حروف . فإذا کان اسما فيقال للواحد والجمع والمؤنَّث علی حدّ واحد، ويصحّ أن يعتبر في الضّمير لفظُه مفردا، وأن يعتبر معناه للجمع . فالأوّل من الأسماء بمعنی الذي نحو : وَيَعْبُدُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ ما لا يَضُرُّهُمْ [يونس/ 18] ثمّ قال : هؤُلاءِ شُفَعاؤُنا عِنْدَ اللَّهِ [يونس/ 18] لمّا أراد الجمع، وقوله : وَيَعْبُدُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ ما لا يَمْلِكُ لَهُمْ رِزْقاً ... الآية [ النحل/ 73] ، فجمع أيضا، وقوله : بِئْسَما يَأْمُرُكُمْ بِهِ إِيمانُكُمْ [ البقرة/ 93] . الثاني : نكرة . نحو : نِعِمَّا يَعِظُكُمْ بِهِ [ النساء/ 58]…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 1–3

ترکیب ¦ عم اصلہ عن ما فادغمت النون فی المیم وحذفت الالف لیتمیز الخبر عن الاستفھام وکذلک فیم وبم۔ والاستفھام فی اللفظ وفی المعنی تفخیم القصۃ کما تقول ای شیء ترید اذا عظّمت شانہ عن النباء العظیم عن بدل من الاولی والف الاستفہام التی ینبغی ان تعادمحذوفۃ وعن الاولیٰ متعلقہ بیتساء لون وقیل عن الثانیۃ متعلقۃ بفعل محذوف غیر مستفھم عنہ ای یتساء لون عن النباء علی ھذا التقدیر عن النباء جواب الاستفھام کما فی قولہ تعالیٰ لمن الملک الیوم للہ الواحد القہار الذی ھم فیہ مختلفون الموصول صفۃ للنباء بعد وصفہ بکونہ عظیمًا۔ تفسیر ¦ اس سورت کو سورة تساؤل اور سورة نباء بھی کہتے ہیں۔ یہ بالاتفاق مکہ میں نازل ہوئی…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

عَمَّ یَتَسَآئَ لُوْنَ ۔ (النبا : 1) (یہ لوگ کس چیز کے بارے میں پوچھ گچھ کررہے ہیں۔ ) عَمَّ … اصل میں عَنْ مَا ہے۔ یعنی یہ عَنْ اور مَا دو حرفوں سے مرکب ہے۔ حرف مَا میں سے الف ساقط کردیا گیا ہے۔ مَا استفہام کے لیے ہے۔ اس کا معنی ہے کس چیز کے بارے میں۔ یَتَسَآئَ لُوْنَ تسأل اس کا مصدر ہے۔ اس کا معنی آپس میں ایک دوسرے کے متعلق پوچھ گچھ کرنا ہے۔ پوچھ گچھ تحقیق کے لیے بھی ہوتی ہے اور کبھی محض استہزاء کے لیے بھی۔ یہاں یہ استہزاء کے مفہوم میں ہے۔

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 1–11

فہم القرآن ربط سورت : المرسلات میں ان لوگوں کی تردید کی گئی ہے جو قیامت کی تکذیب کرتے ہیں۔ سورت النّباء میں بتایا گیا ہے کہ قیامت بڑی ہولناک چیز ہے اور اس کا برپا ہونا ہر صورت یقینی ہے لیکن قیامت کا انکار کرنے والے اس کے باوجود اس کے بارے میں قیل وقال کرتے ہیں عنقریب ان لوگوں کو اس کی حقیقت کا علم ہوجائے گا۔ قرآن مجید کے مرکزی مضامین میں تیسرا بڑا مضمون قیام قیامت ہے جو اس دنیا کا آخری دن ہوگا۔ جس نے قرآن مجید کی ہدایت کے مطابق زندگی بسر کی وہ کامیاب ہوگا اور جس نے قرآن مجید کی ہدایت سے انحراف کیا وہ اپنے کیے کی سزا پائے گا۔ اس دنیا کا انجام آخرت ہے اس لیے چند سورتوں کے سوا المرسلات سے لے کر…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

1 : عَمَّ یَتَسَآ ئَ لُوْنَ (یہ لوگ کس چیزکا حال دریافت کرتے ہیں) عم ؔ کی اصل عن، ماتھی اور اس طرح بھی پڑ ھا گیا ہے پھر نون کو میم میں ادغام کردیا تو عَمَّا ہوگیا اور اس طرح بھی پڑھا گیا پھر الف بطور تخفیف حذف کردیا گیا۔ اور حذف کی وجہ استفہام میں کثرت سے استعمال ہے اور زیادہ استعمال اسی کا ہے یہ استفہام اس چیز کی تفخیم اور ہولناکی کو ظاہر کرنے کیلئے ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ سے تو کوئی چیز پوشیدہ اور چھپی ہوئی نہیں ہے۔ یَتَسَآ ئَ لُوْنَ (وہ ایک دوسرے سے سوال کرتے ہیں) ۔ نمبر 2۔ وہ دوسروں سے پوچھتے ہیں۔ اہل مکہ ایمان والوں سے استہزاء ًپوچھتے اور آپس میں بھی اس کے متعلق بات کرتے رہتے تھے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 1–5

1۔ 5۔ اگرچہ مجاہد 1 ؎ کا قول یہ ہے کہ بڑی خبر سے مراد قرآن شریف ہے لیکن قتادہ 2 ؎ اور اکثر سلف کا قول یہ ہے کہ بڑی خبر سے مراد حشر اور قیامت ہے۔ آگے کی آیتوں میں خود اللہ تعالیٰ نے بھی قیامت کا ہی ذکر فرمایا ہے۔ اس لئے یہی قول قرآن شریف کے مطلب کے موافق معلوم ہوتا ہے۔ اس واسطے حافظ 3 ؎ ابن کثیر نے (اس قول کو ترجیح دی ہے۔ حشر اور قیامت کی بہت سی باتیں انسان کی عقل میں نہیں آتیں اس واسطے اسلام لانے سے پہلے مکہ کے لوگ آنحضرت ﷺ اور صحابہ ؓ سے حشر اور قیامت کی باتوں میں طرح طرح سے جھگڑتے تھے کبھی کہتے تھے کہ مرنے کے بعد انسان کی خاک رواں دواں ہوجائے گی ‘ پھر اس خاک کا پتلا کیوں کر بن جائے گا کبھی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 1–5

یعنی اللہ تعالیٰ کی آیات کو جھٹلانے والے کس چیز کے بارے میں پوچھ رہے ہیں ؟ پھر اللہ تعالیٰ نے اس چیز کے بارے میں بیان فرمایا جس کے بارے میں وہ پوچھ رہے ہیں ؟ چناچہ فرمایا (عَنِ النَّبَاِ الْعَظِيْمِ ۝ۙالَّذِيْ هُمْ فِيْهِ مُخْـتَلِفُوْنَ ) یعنی عظیم خبر کے بارے میں پوچھ رہے ہیں جس میں تکذیب اور مستبعد ہونے کی وجہ سے ان کا نزاع طول پکڑ گیا اور ان کی مخالفت پھیل گئی، حالانکہ وہ ایسی خبر ہے جو شک کو قبول کرتی ہے نہ اس میں کوئی شبہ داخل ہوسکتا ہے مگر مکذبین کا حال یہ ہے کہ اگر ان کے پاس تمام نشانیاں ہی کیوں نہ آجائیں یہ اپنے رب سے ملاقات پر اس وقت تک ایمان نہیں لائیں گے جب تک وہ دردناک عذاب نہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 1–2

1 منکرین و مکذبین کی حماقت و بدبختی کے ایک نمونے کا حوالہ و ذکر : سو منکرین کے بارے میں واضح فرمایا گیا کہ یہ لوگ قیامت و آخرت سے ڈرنے اور اس کے لیے فکر مند ہونے کی بجائے الٹا اس کا مذاق اڑاتے اور کہتے ہیں کہ کیسے ہوسکتا ہے کہ جب ہم مر کر مٹی ہوجائیں گے تو ہم کو دوبارہ اٹھایا جائے گا سو اس پر ان بدبختوں کے بارے میں ارشاد فرمایا گیا کہ کا ہے کے بارے میں باہم پوچھ گچھ اور چہ مگوئیاں کر رہے ہیں یہ لوگ ؟ کیا یہ اسی بڑی خبر کے بارے میں پوچھ گچھ اور چہ مگوئیاں کر رہے ہیں جس کے بارے میں یہ خود اختلاف میں پڑے ہوئے ہیں ؟ اور استفہام یہاں پر تفحیم و تبویل کے لیے ہے، یعنی جس چیز کے بارے میں یہ لوگ تمسخر…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 1–5

بہت بڑی خبر (قیامت) تشریح : جب رسول اللہ ﷺ نے اللہ کی وحدانیت کا تصور لوگوں کو دیا اور ساتھ ہی قیامت کا ذکر کیا اور دوبارہ زندہ کرکے حساب لینے کا ذکر کیا تو لوگ حیران و پریشان ہوگئے اور بہت سے لوگ آپ کی ان باتوں کا مذاق اڑانے لگے اور دونوں باتوں کو ہنسی مذاق کا ذریعہ بنا لیا۔ کچھ نے تو جان بوجھ کر اور کچھ نے کم علمی کیوجہ سے۔ دونوں ہی باتیں ان کے لیے سوائے خیالی باتوں کے اور کچھ نہ تھا۔ تو وہ لوگ اٹھتے بیٹھتے طرح طرح سے مذاق اڑاتے کہ دیکھو محمد ﷺ (نعوذ باللہ) دیوانہ ہوگیا ہے کیسی انہونی باتیں کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ انہی دیوانے لوگوں کو خبر دے رہے ہیں کہ اگرچہ تم یقین نہیں کرتے مگر قیامت کا آنا…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–30

سورة النبا۔ آیات 1 تا 30۔ اسرار ومعارف۔ کفار اس بات کا مذاق اڑاتے ہیں کہ اور کہتے ہیں کہ بھلاقیامت کب ہوگی جس کے بارے میں اس قدر ڈرایا جارہا ہے پھر اس میں مختلف رائے رکھتے ہیں کہ کوئی کہتا ہے جواب تک مرچکے ہیں ان کی ہو کیوں نہیں جاتی اور دوسرا کہتا ہے کہ کچھ ہونے والا نہیں لیکن یاد رکھو سب لوگ خوب جان لیں گے کہ جب واقع ہوگی تو سب کی غلط فہمیاں دور ہوجائیں گی جس قادرمطلق نے زمین میں بیشمار نعمتیں رکھ کر اسے تمہارے لیے آرام دہ اور زندگی کی تمام سہولیات مہیا کرنے والی بنادیا جیسے بچھونا آرام فراہم کرتا ہے پھر اس پہاڑوں کو گاڑ دیا کہ مع دنیات سے بھرپورا اور وادیاں پھلوں سے لدی کھڑی ہیں جنگل اور…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 2 یا کس چیز کے متعلق باتیں کررہے ہیں، مفسرین کہتے ہیں جب آنحضرت ﷺ کی بعث ہوئی اور آپ ﷺ نے لوگوں کو توحید اور زندگی بعد موت کی خبر دی اور انہیں قرآن سنانا شروع کیا تو کفار آپس میں چہ میگوئیاں کرنے لگے کہ یہ کیا چیز ہے جسے محمد ﷺ پیش کررہے ہیں۔ اس وقت اللہ تعالیٰ نے یہ آیات نازل فرمائیں۔ (شوکانی)

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(78:1) عم یتساء لون : عما کس چیز سے یہ اصل میں عن ما تھا نون کا میم میں ادغام کیا گیا ہے۔ کیونکہ ن اور م دونوں غنے میں شریک ہیں۔ اور ما کے الف کو اس لئے حذف کیا گیا ہے تاکہ ما استفہامیہ اور ما خبریہ میں تمیز باقی رہے۔ جس طرح سے نیم اور مم میں آیات ذیل میں ہوا ہے :۔ (1) فیم کی مثال : ان الذین توفہم الملئکۃ ظالمی انفسھم قالوا فیم کنتم قالوا کنا مستضعفین فی الارض (4: 97) ان لوگوں کی جان جنہوں نے اپنے اوپر ظلم کر رکھا ہے جب فرشتے قبض کریں گے تو ان سے کہیں گے کہ تم کس کام میں تھے۔ وہ بولیں گے ہم اس ملک میں بےبس تھے ۔ (ترجمہ عبد الماجد دریا بادی (رح)) (3) مم کی مثال :۔ فلینظر الانسان مم خلق (89:15)…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 1–40

لغات القرآن۔ عم۔ کس سے۔ کسی چیز کے متعلق ؟ ۔ یتساء لون (تساول) ۔ وہ پوچھے ہیں۔ النبا العظیم۔ ایک بڑی خبر۔ مھد۔ بچھونا۔ راحت کی چیز۔ اوتاد۔ میخیں۔ سبات۔ راحت و آرام۔ معاش۔ روزی، روز، کمائی۔ بنینا۔ ہم نے بنایا۔ سبع شداد۔ مضبوط سات (آسمان) ۔ سراج۔ چراغ۔ وھاج۔ دھکتا ہوا۔ المعصرات۔ پانی سے بھرپور بادل۔ ثجاج (ثج) ۔ تیز بہنے والی بارش۔ حب۔ غلہ ۔ نبات۔ ہریالی۔ سبزی۔ الفاق۔ گھنے پتوں والے۔ میقات۔ وقت مقرر۔ فتاتون۔ پھر وہ آئیں گے۔ سیرت۔ چلائی گئی۔ سراب۔ چمکتا ریت۔ مرصاد۔ گھات میں بیٹھنے کی جگہ۔ لبثین۔ پڑے ہوئے ہوں گے۔ وہ رہیں گے۔ احقاب۔ بہت طویل عرصہ۔ غساق۔ پیپ۔ وفاق۔ پوراپورا۔ مفاز۔ کامیابی۔ حدائق۔…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 1–5

قیامت کے بارے میں عقلی دلائل اور قدرت کے انمول عجائبات و احسانات۔ (ف 1) اگرچہ مجاہد کا قول یہ ہے کہ مجاہد کا قول ہے کہ بڑی خبر سے مراد قرآن شریف ہے لیکن قتادہ اور اکثر سلف کا قول یہ ہے کہ بڑی خبر سے مراد حشر اور قیامت ہے ، آگے کی آیتوں میں خود اللہ تعالیٰ نے بھی قیامت کا ہی ذکر فرمایا ہے اس لیے یہی قول قرآن شریف کے مطلب کے موافق معلوم ہوتا ہے، اس واسطے حافظ ابن کثیر نے اس قول کو ترجیح دی ہے حشر اور قیامت کی بہت سی باتیں انسان کی عقل میں نہیں آتیں اس واسطے اسلام لانے سے پہلے مکہ کے لوگ نبی ﷺ وصحابہ سے حشر اور قیامت کی باتوں میں طرح طرح سے جھگڑتے تھے کہ مرنے کے بعد انسان کی خاک رواں دواں ہوجائے…

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 1–5

سورة النباء 1: قیامت کے تخیل کو اس تفصیل اور اس اہمیت کے ساتھ صرف اسلام نے پیش کیا ہے اس لئے مکہ کے مادہ پرست مشرکین کو جو مذہبی معارف سے محض ناآشنا تھے ۔ یہ بات قرین عقل وثواب نظر نہیں آتی تھی ۔ وہ برملا کہتے تھے کہ ہم اس بات کو تسلیم نہیں کرسکتے کہ یہ دنیائے زینت و آرائش یکایک ایک دن تباہی و بربادی کے ساتھ بدل جائے گی ۔ ان کی رائے میں یہ مسئلہ محض طبع زاد حیثیت رکھتا تھا ۔ جس سے مقصود لوگوں کو خواہ مخواہ مرعوب کرتا تھا ۔ اس لئے اس کے متعلق اکثر بحث رہتی کہ قیامت کے امکانات کیا ہیں اور وہ کب وقوع پذیر ہوگی ۔ کیونکر ایسا ہوگا کہ یہ عالم آن کی آن میں تہ وبالا ہوجائے ۔ اس پر اس سورت میں ان کو…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(1) منکرین قیامت باہم کسی چیز کی پوچھ گچھ کررہے ہیں اور کس چیز کا حال دریافت کررہے ہیں۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 1–4

ف 5۔ مراد قیامت ہے اور دریافت کرنے سے مراد بطور انکار کے دریافت کرنا ہے اور مقصود اس سوال و جواب سے اذہان کا ادھر متوجہ کرنا اور تفسیر بعد الابہام سے اس کا اہتمام شان ظاہر کرنا ہے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

یہ لوگ کس چیز کے متعلق آپس میں سوال کرتے ہیں ۔ 1 (عم) کس چیز سے ؟ یہ دراصل عن ماتھان کو م میں مدغم کردیا گیا کیونکہ نون اور میم دونوں غنے میں شریک ہیں اور ما کا الف اس غرض سے حذف کیا گیا تاکہ ما استفہامیہ اور ماخبر یہ میں تمیز باقی رہے۔ جس طرح (فیم) اور (مم) وغیرہ میں ہوا ہے۔ (فتح القدیر قاضی شو کافی ج 5 ص 353 طبع مصر) خیال رہے کہ قرآن کریم میں (عما) بھی استعمال ہوا ہے جس کے معنی جس چیز سے کئے ہیں اور یہ بھی اصل میں عن ماہی تھا جب قاعدہ سباق اس میں ادغام ہوا اور الف کو اس لئے حذف نہیں کیا گیا کہ ماموصولہ ہے اور یہی ان دونوں میں اصل فرق ہے۔ منکرین کو متوجہ کرنے کیلئے بطور سوال پوچھا جا رہا ہے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Commentary عَمَّ يَتَسَاءَلُونَ (About what are they asking each other?...78:1). The word ` amma is made up of two particles: [ 1] The preposition' عن an (about); and [ 2] the interrogative particle ما 'ma' (what?) (the last letter, that is, 'ma' has been omitted according to the grammatical composition. The sense is: About what are they asking each other?' Allah Himself replies to the question when He says:

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 1–3

1 "The Great News": the news of the Resurrection and Hereafter, which the people of Makkah heard with amazement, then raised questions and doubts about it in their assemblies. When they met each other they would ask: "Did you ever hear that the dead will be resurrected to life? Is it credible that life will be infused once again into the bones which have decayed and become rotten? Does it stand to reason that the former and the latter generations will rise up and gather together at one place? Is it possible that these huge mountains which are so firmly set in the earth will fly about like…

Read the full tafseer →