Al-Mursalaat 77:50

Al-Mursalaat · from ayah 50

77:50

فَبِاَیِّ حَدِیْثٍ بَعْدَهٗ یُؤْمِنُوْنَ ۟۠فَبِاَىِّ حَدِيۡثٍۢ بَعۡدَهٗ يُؤۡمِنُوۡنَ

اب اس کے بعد یہ کون سی بات پر ایمان لائیں گے؟

— Fateh Muhammad Jalandhari

Then in what statement after the Qur'an will they believe?

— Saheeh International

Juz 29 · Ruku 2 of surah · Ruku 22 of juzع

Read the whole surah · Surah Al-Mursalaat

All translations of 77:50

اب اِس (قرآن) کے بعد اور کونسا کلام ایسا ہو سکتا ہے جس پر یہ ایمان لائیں؟

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اب اس کے بعد یہ کون سی بات پر ایمان لائیں گے؟

— مولانا فتح محمد جالندہری

اب اس قرآن کے بعد کس بات پر ایمان ﻻئیں گے؟

— مولانا محمد جوناگڑہی

اب اس کے بعد اور کون سی بات ہے جس پر یہ ایمان لائیں گے ؟

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

پھر اس کے بعد کون سی بات پر ایمان لائیں گے

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

پھر وہ اِس (قرآن) کے بعد کس کلام پر ایمان لائیں گے؟،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

پھر اس کے بعد وہ کس بات پر ایمان لائیں گے ؟

— مولانا عبد السلام بھٹوی

پھر اس کلام (قرآن) کے بعد اور کونسا کلام ہوسکتا ہے جس پر یہ ایمان لائیں گے ؟

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اب اس کے بعد وہ بھلا کس چیز پر ایمان لائیں گے !

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

تو آخر کس کلام پر ایمان لائیں گے یہ لوگ اس (قرآن حکیم کے) کلام (معجز نظام) کے بعد ؟

— مولانا اسحاق مدنی

) آخر یہ اس (قرآن) کے بعد کس بات پر ایمان لائیں گے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

تو اب اس (قرآن) کے بعد یہ اور کس کلام پر ایمان لائیں گے ؟

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اب اس کے بعد یہ کونسی بات پر ایمان لائیں گے ؟

— محترمہ رفعت اعجاز

In what discourse after this (Qur'an) will they, then, believe?

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Now, in which discourse, after this, will they believe?

— Muhammad Taqi Usmani

Now, in which discourse, after this, will they believe?

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Then in what statement after this will they believe

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

In what statement, after this, will they believe?

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

Then in what statement after the Qur'an will they believe?

— Saheeh International

In which word other than the Quran will they believe?

— Muhammad Sarwar

In what announcement, then, after it, will they believe?

— Muhammad Habib Shakir

In what discourse, then, after it, will they believe?

— Abdul Majid Daryabadi

Then what Message, after that, will they believe in?

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 77:50

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 41–50

دنیا اور آخرت کے فائدوں کا موازنہ : اوپر چونکہ بدکاروں کی سزاؤں کا بیان ہوا تھا یہاں نیک کاروں کی جزا کا بیان ہو رہا ہے کہ جو لوگ متقی پرہیزگار تھے اللہ کے عبادت گزار تھے فرائض اور واجبات کے پابند تھے۔ اللہ کی نافرمانیوں سے حرام کاریوں سے بچتے تھے وہ قیامت کے دن جنتوں میں ہوں گے، جہاں قسم قسم کی نہریں چل رہی ہیں۔ گنہگار سیاہ بدبو دار دھوئیں میں گھرے ہوئے ہوں گے اور یہ نیک کردار جنتوں کے گھنے ٹھنڈے اور پرکیف سایوں میں بہ آرام تمام لیٹے بیٹھے ہوں گے۔ سامنے صاف شفاف چشمے اپنی پوری پوری روانی سے جاری ہیں۔ قسم قسم کے پھل میوے اور ترکاریاں موجود ہیں، جسے جب جی چاہے کھائیں، نہ روک ٹوک ہے نہ کمی اور…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 49–50

سورة الْمُرْسَلٰت 27 یعنی جو بڑی سے بڑی چیز انسان کو حق و باطل کا فرق سمجھانے والی اور ہدایت کا راستہ دکھانے والی ہو سکتی تھی وہ قرآن کی صورت میں نازل کردی گئی ہے۔ اس کو پڑھ کر یا سن کر بھی اگر کوئی شخص ایمان نہیں لاتا تو اس کے بعد پھر اور کیا چیز ایسی ہو سکتی ہیں جو اس کو راہ راست پر لا سکے ؟

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

فَبِاَيِّ حَدِيْثٍۢ بَعْدَهٗ يُؤْمِنُوْنَ ، یعنی جب یہ لوگ قرآن جیسی عجیب و غریب بلیغ اور رحمتوں سے پر واضح دلائل کی کتاب پر ایمان نہ لائے تو اس کے بعد اب کس بات پر ایمان لائیں گے مراد ان کے ایمان سے مایوسی کا اظہار ہے۔ حدیث میں ہے کہ جب تلاوت کرنے وال اس آیت پر پہنچے تو اس کو کہنا چاہئے امنا باللہ یعنی ہم اللہ پر ایمان لے آئے۔ نماز سے خارج میں اور نوافل میں یہ الفاظ کہنے چاہئیں مگر فرائض میں اور سنن میں اس زیادتی سے احتراز کرنا روایات حدیث سے ثابت ہے اس لئے اس میں نہ کہا جائے۔ واللہ اعلم تمت سورة المرسلت بحمد اللہ الاخریوم من رجب 1391 ھ و بحمد تم الجزالتاسع والعشرون من القرآن اللہ الموفق…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

منکرین کی ہٹ دھرمی پر ملامت: یہ ان منکرین کی ہٹ دھرمی پر ملامت اور ان کے ایمان سے مایوسی کا اظہار ہے کہ جب یہ اس انذار پر ایمان نہیں لا رہے ہیں جس کو قرآن اتنے واضح دلائل کے ساتھ سنا رہا ہے تو اس کے بعد کس بات پر ایمان لائیں گے! مطلب یہ ہے کہ نہ کوئی چیز حسن استدلال میں قرآن سے بڑھ کر ہو سکتی نہ حسن بیان اور قوت تاثیر و تسخیر میں، تو جب یہ ان کی عقلوں اور ان کے دلوں پر اثر انداز نہ ہو سکا تو اس سے بڑھ کر کیا چیز ہو سکتی ہے جو اثر انداز ہو سکے گی؟ یہ نبی ﷺ کے لیے تسلی ہے کہ ان کا مرض لاعلاج ہے۔ یہ دلیل اور بیان سے سمجھنے والے لوگ نہیں ہیں بلکہ اس وقت مانیں گے جب سب کچھ آنکھوں سے دیکھ لیں گے…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

50۔ 1 یعنی جب قرآن پر ایمان نہیں لائیں گے تو اس کے بعد اور کون سا کلام ہے جس پر ایمان لائیں گے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 33–50

10: یہاں یہ حقیقت بیان فرمائی گئی ہے کہ دوزخ کی آگ کے شعلے اتنے بڑے ہوں گے جیسے عظیم الشان محل ہوتے ہیں، اور ان سے جو شاخیں نکلیں گی، وہ زرد رنگ کے اونٹوں جیسی ہوں گی۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 48–50

حالانکہ وہ دیکھ رہے ہیں اور انہیں اس خوبصورتی کے ساتھ سمجھایا اور ڈرایا جارہا ہے۔ اگر یہ اس انداز کلام سے متاثر نہیں ہوتے جس سے پہاڑ بھی ہل جاتے ہیں اور جمادات کے اندر بھونچال برپا ہوجاتا ہے۔ تو اس کے بعد ان پر کوئی کلام کار گر نہیں ہوسکتا۔ گویا یہ لوگ نہایت شقی ، بدبخت اور برے انجام تک پہنچنے والے ہیں۔ اور ان کی قسمت میں ہلاکت لکھی ہوئی ہے۔ اور ان پر کلام نرم ونازک بےاثر ہے۔ یہ پوری سورت اپنے مضامین ، اپنے انداز تعبیر ، اپنے الفاظ کے ترنم ، اپنے خوفناک مشاہد ومناظر اور اپنے چبھنے والے تیز اشارات کی وجہ سے اس قدر موثر ہے کہ کوئی دل اس کے مقابلے میں اپنی جگہ ٹھہر نہیں سکتا۔ کوئی وجود متاثر…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

18 یعنی قرآن سے بڑھ کر کامل اور موثر بیان کس کا ہوگا۔ اگر یہ مکذبین اس پر یقین نہیں لاتے تو اور کس بات پر ایمان لائیں گے ؟ کیا قرآن کے بعد کسی اور کتاب کے منتظر ہیں جو آسمان سے اترے گی ؟

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 50{ فَبِاَیِّ حَدِیْثٍم بَعْدَہٗ یُؤْمِنُوْنَ۔ } ”تو اب اس قرآن کے بعد یہ اور کس کلام پر ایمان لائیں گے ؟“ قرآن جیسا کلام سن کر بھی جس انسان کی آنکھیں نہیں کھلیں ‘ تو اس کے بعد اس کی آنکھیں بھلا کب کھلیں گی ؟

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 49–50

28 یعنی حق و باطل میں امتیاز کے لحاظ سے پندو نصیحت کے لحاظ سے، انسان کو نیک و بد سمجھانے کے لحاظ سے اور اسے اس اخروی انجام سے آگاہ کرنے کے لحاظ سے قرآن سے بہتر کوئی کتاب نہیں ہوسکتی۔ پھر اگر یہ لوگ اس پر بھی ایمان لانے کو تیار نہیں تو کیا اس کے بعد کوئی اور کتاب آسمان سے اترنے والی ہے جس پر یہ ایمان لائیں گے۔ حدیث میں ہے کہ جب کوئی شخص اس آیت پر پہنچے تو یوں کہے : امنا باللّٰہ (مستدرک حاکم)

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

19۔ (تو اب اے پیغمبر آپ ان کے قبول حق کی کوئی امید ہی نہ رکھیے کہ جب اس بلیغ ترین، مؤثر ترین کلام سے بھی ان کے دل نہیں پگھلتے تو پھر یہ آخر کس چیز سے متاثر ہوں گے) (آیت) ” بعدہ “۔ ضمیرہ قرآن مجید کی جانب ہے۔ اے بعد القرآن (کشاف۔ مدارک) بحمد اللہ آج شنبہ 21 فروری 1948 ؁ء مطابق 10 ربیع الثانی 1347 ؁ھ کو قبل نماز ظہر اس انتیسویں پارہ کی نظر ثانی سے فراغت پائی، دو شنبہ 2 اکتوبر 1950 ؁ء مطابق 19 ذی الحج 1369 ؁ھ قبل نماز ظہر نظر ثالث سے فراغت پائی۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

فبای حدیث بعدہ یومنون، یعنی جب یہ لوگ قرآن جیسی عجیب و غریب حکمتوں سے پر، واضح دلائل اور سابقہ تمام آسمانی کتابوں کی تصدیق کرنے والی کتاب پر ایمان نہیں لاتے تو پھر کونسی کتاب پر ایمان لائیں گے ؟ حدیث شریف میں ہے کہ جب قاری اس آیت پر پہنچے تو اس کو کہنا چاہیے، آمنا باللہ یعنی ہم اللہ پر ایمان لائے مگر فرائض میں ان الفاظ کے کہنے سے احتراز کرے۔ (معارف ملخصًا) بحمدتم اللہ

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

فبای حدیث بعدہ یومنون . یعنی قرآن کے بعد کس بات کو مانیں گے۔ استفہام انکاری ہے یعنی وہ قرآن جس کے اندر طرح طرح کا لفظی اور معنوی اعجاز ہے ‘ جس میں کھلے ہوئے دلائل اور روشن براہین ہیں ‘ جب اس پر ان کا ایمان نہیں تو پھر کسی دوسری دلیل کو یہ نہیں مانیں گے۔ جیسا سورة الانسان (الدہر) میں اکثر مہربانی آمیز مضامین کا اظہار ہے ویسا ہی اس سورت میں تخویف و تہدید (ڈراوا ‘ دھمکی) کا مضمون ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : مجھے (سورۂ ) ہود ؔ اور الواقعہؔ اور المرسلاتؔ اور عم یتساء لونؔ اور اذا الشمس کوّ رتؔ نے بوڑھا کردیا۔ حاکم نے حضرت ابن عباس ؓ کی روایت سے اور ابن مردویہ ؓ نے حضرت سعید ؓ کی روایت سے یہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 49–50

(49۔ 50) اللہ تعالیٰ رسول اکرم، کتاب اور بعث بعد الموت جھٹلانے والوں کے لیے قیامت کے دن بہت سخت عذاب ہے پھر اگر یہ لوگ اس کتاب پر ایمان نہیں لاتے تو پھر قرآن حکیم کے بعد کون سی کتاب پر ایمان لائیں گے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

فبای …: یعنی قرآن جو اللہ کا اپنا کلام ہے اور جس کا انداز انتہائی موثر اور دل نشیں ہے، جس کی چھوٹی سے چھوٹی سورت کا جواب کوئی پیش کرسکے گا، اس پر یہ کفار ایمان نہیں لاتے تو پھر وہ کون سی بات پر ایمان لائیں گے ؟

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

فبای حدیث بعدہ یومنون۔ یعنی اگر وہ قرآن کی تصدیق نہ کریں جو معجزہ ہے اور رسول اللہ کی صداقت پر دلیل ہے تو پھر وہ کس چیز کی تصدیق کریں گے ؟۔ ویل یومئذللمکذبین۔ کو مکررذکر کیا گیا ہے تاکہ تحریف اور وعید کا اعادہ ہو، ایک قول یہ کیا گیا ہے، یہ تکرار نہیں کیونکہ ہر قول سے ایسی چیز کا ارادہ کیا گیا جو دوسرے قول سے ارادہ نہیں کیا گیا تھا گویا ایک چیز کا ذکر کیا گیا اور فرمایا، جو اس کو جھٹلاتا ہے اس کے لیے ہلاکت ہے پھر ایک چیز کا ذکر کیا اور کہا، جو اس کو جھٹلاتا ہے اس کے لیے ہلاکت ہے پھر ایک اور چیز کا ذکر کیا گیا اور کہا جو اس کو جھٹلاتا ہے اس کے لیے ہلاکت ہے پھر آخرتک اسی طرح ہے۔

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 48–50

35۔ عبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ واذا قیل لہم ارکعوا لا یرکعون۔ اور جب ان سے کہا جاتا تھا کہ رکوع کرو تو وہ رکوع نہ کرتے تھے۔ یہ آیت قبیلہ بنو ثقیف کے بارے میں نازل ہوئی۔ 36۔ عبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت واذا قیل لہم ارکعوا سے نماز پڑھنا مراد ہے یعنی جب ان سے نماز پڑھنے کو کہا جاتا تھا تو وہ نماز نہ پڑھتے تھے۔ 37۔ عبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت واذا قیل لہم ارکعوا سے مراد ہے کہ تم پر لازم ہے اچھی طرح رکوع کرنا کیونکہ نماز اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک دجہ ہے…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[فَبِاَيِّ حَدِيْثٍۢ: تو (اب) کسی بات پر ] [بَعْدَهٗ : اس (قرآن) کے بعد ] [يُؤْمِنُوْنَ : وہ لوگ ایمان لائیں گے ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

آخر میں فرمایا ﴿فَبِاَيِّ حَدِيْثٍۭ بَعْدَهٗ يُؤْمِنُوْنَ (رح) 0050﴾ (کہ یہ لوگ اس قرآن کو سنتے ہیں جو طرح طرح سے سمجھاتا ہے اس کی فصاحت اور بلاغت کو بھی مانتے ہیں لیکن اس پر ایمان نہیں لاتے، جب اس پر ایمان نہیں لاتے تو انہیں کس چیز کا انتظار ہے اس کے بعد کس چیز پر ایمان لائیں گے ؟ الحمد للہ علٰی تمام تفسیر سورة المرسلت اولا وآخرًا وباطنًا وظاھرًا

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 1–50

اعلان پراگند کی نظام عالم برائے تکمیل وعدۂ قیامت و بربادی مجرمین وانعام والطاف بر مومنین : قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” والمرسلت عرفا ...... الی ........ فبای حدیث بعدہ یؤمنون “۔ (ربط) گذشتہ سورت میں انسانی ہستی کا بیان تھا کہ کائنات کی تخلیق اور دنیا میں انسانوں کی آبادی اس طرح پیش آئی کہ ایک وقت تھا کہ انسان کا کوئی وجود ہی نہ تھا اللہ نے اپنی قدرت کاملہ سے اس کو عدم سے وجود بخشا اور اسی کے لئے یہ کارخانہ قائم کیا جیسے کہ فرمان ہے (آیت) ” وخلق لکم مافی الارض جمیعا “۔ اور ظاہر ہے کہ تخلیق انسان اور نظام کائنات قائم کرنے کی غرض ہے اللہ کی عبادت و بندگی ہے جس پر انسانوں کے دو گروہ بٹ گئے ایک گروہ…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

14:۔ ” فبای حدیث “ یہ معاندین قرآن ایسی معجز، فصیح وبلیغ، دلائل عقل و نقل اور شواہد آفاق وانفس سے لبریز کتاب پر ایمان نہیں لائے تو اس کے بعد وہ کس کتاب پر ایمان لائیں گے۔ یعنی قرآن کے بعد کوئی پند و نصیحت ان پر اثر انداز نہیں ہوسکتی اس لیے اب ان کا ایمان لانا امکان سے خارج ہے کیونکہ ان کے دلوں پر مہر جباریت لگ چکی ہے۔ سورة المرسلات ختم ہوئی

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

فَبِاَيِّ حَدِيْثٍؚبَعْدَہٗ يُؤْمِنُوْنَ۝ 50 ۧ أيا أَيُّ في الاستخبار موضوع للبحث عن بعض الجنس والنوع وعن تعيينه، ويستعمل ذلک في الخبر والجزاء، نحو : أَيًّا ما تَدْعُوا فَلَهُ الْأَسْماءُ الْحُسْنى [ الإسراء/ 110] ، وأَيَّمَا الْأَجَلَيْنِ قَضَيْتُ فَلا عُدْوانَ عَلَيَّ [ القصص/ 28] ( ا ی ی ) ای ۔ جب استفہام کیلئے ہو تو جنس یا نوع کی تعیین اور تحقیق کے متعلق سوال کے لئے آتا ہے اور یہ خبر اور جزا کے لئے بھی استعمال ہوتا ہے چناچہ فرمایا :۔ { أَيًّا مَا تَدْعُوا فَلَهُ الْأَسْمَاءُ الْحُسْنَى } ( سورة الإسراء 110) جس نام سے اسے پکارا اس کے سب نام اچھے ہیں { أَيَّمَا الْأَجَلَيْنِ قَضَيْتُ فَلَا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 48–50

ترکیب : واذا شرط لایرکعون ای ھم لایرکعون الجملۃ جو ابہ فبای الباء تتعلق بیؤمنون بعدہ ظرف لیؤمنون والجملۃ استفہامیہ والاستفہام استقراری۔ تفسیر : فقال واذا قیل لہم ارکعوالا یرکعون یعنی وہ ایسے سرکش اور حق کی طرف سے پھرے ہوئے ہیں کہ جب دنیا میں کہا جاتا ہے (رسول یا اس کے نائب کہتے ہیں) خدا کی طرف جھکو کہ اس کے احکام مانو ‘ نواہی سے بچو تو نہیں جھکتے۔ مومن و کافر میں ایک یہ بھی بڑا امتیاز ہے کہ مومن مصیبت کے وقت ‘ راحت کے وقت ‘ بیماری میں تندرستی میں ‘ افلاس ‘ میں تواندگی میں ہر حال میں خدا کی طرف جھکتا ہے۔ اس کا مرکز اصل وہی ہے جب کسی مانع نے روک بھی لیا تو جب مانع اٹھ گیا ادھر ہی چلا آیا اس…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

فَبِاَیِّ حَدِیْثٍ م بَعْدَہٗ یُؤْمِنُوْنَ ۔ (المرسلات : 50) (اب اس قرآن کے بعد وہ کس چیز پر ایمان لائیں گے۔ ) آخری تنبیہ قرآن کریم آخری کتاب ہے جو نوع انسانی کو خیر و شر کا امتیاز سکھانے اور اس کی حقیقی منزل واضح کرنے کے لیے نازل ہوئی ہے۔ اس کے بعد دنیا کی ہدایت کے لیے کوئی نسخہ کیمیا نازل نہیں ہوگا۔ اور نہ نبی کریم ﷺ کی بعثت کے بعد کوئی اور نبی آئے گا۔ یہ لوگ اگر آنحضرت ﷺ کی بعثت اور قرآن کے نزول کے بعد بھی راہ راست اختیار کرنے کے لیے تیار نہیں تو پھر دنیا میں اور کوئی ایسی چیز نہیں ہوسکتی جو حق و باطل کا فرق سمجھانے والی اور ہدایت کا راستہ دکھانے والی ہو۔ قرآن کریم سے اعراض اور آنحضرت ﷺ…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 46–50

فہم القرآن ربط کلام : جنتی کے لیے جنت میں حکم ہوگا کہ مزے سے کھاؤ اور پیو ! یہ تمہاری نیکیوں کا صلہ ہے۔ جہنمیوں کے لیے دنیا میں حکم ہے کہ کھا، پی لو مگر یاد رکھو کہ تم حقیقت میں اپنے رب کے مجرم ہو اور تمہارا انجام جہنم ہوگا۔ جنت کی زندگی اور اس کی نعمتوں کے مقابلے میں دنیا کی نعمتیں اور زندگی نہایت قلیل اور حقیر ہے۔ جو لوگ قیامت کا انکار کرتے ہیں اور اپنی مرضی سے زندگی گزارتے ہیں ان پر اللہ تعالیٰ ناراض ہوتا ہے جس وجہ سے انہیں یوں مخاطب کیا گیا ہے کہ کھاؤ اور مزے اڑاؤ ! لیکن یاد رکھو ! دنیا کا فائدہ اور کھانا پینا قلیل اور تھوڑی مدت کے لیے ہے بالفاظ دیگر انہیں یہ وارننگ دی گئی ہے کہ کھاؤ اور…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

50 : فَبِاَیِّ حَدِیْثٍم بَعْدَہٗ یُؤْمِنُوْنَ (تو پھر اس کے بعد اور کونسی بات پر ایمان لاویں گے) ۔ بعدہؔ یعنی قرآن کے بعد۔ یؤمنونؔ اگر وہ قرآن پر ایمان نہیں لاتے حالانکہ وہ بصارت افروز نشانی اور کھلا معجزہ ہے۔ آسمانی کتابوں میں سے اس کا معجزہ ہونا ظاہر ہے۔ پس اس کتاب کے بعد اور کس کتاب پر وہ ایمان لائیں گے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 41–50

41۔ 50۔ متقیوں سے مطلب ان آیتوں میں یہ ہے کہ جو لوگ دنیا میں شرک سے بچتے رہے کیونکہ متقیوں کا لفظ ان آیتوں میں ان مشرک لوگوں کے مقابلہ میں فرمایا ہے جن کا ذکر شروع سورة سے یہاں تک تھا یہ اوپر گزرچکا ہے کہ کلمہ گو گناہ گار اگرچہ اپنے گناہوں کی سزا میں ایک وقت مقررہ تک دوزخ میں جائیں گے لیکن پھر آخر ان کو جنت نصیب ہوگی اور یہی نعمتیں ان کو ملیں گی جن کا ذکر ان آیتوں میں ہے اس لئے لفظ متقی کے جو معنی بیان کئے گئے ان میں سب جنتی شامل ہوسکتے ہیں۔ دوزخیوں کی چھائوں وہ ہے جس کا ذکر اوپر گزرا۔ یہ جنتی لوگوں کی چھاؤں جنت کے عالی شان مکانوں اور میوہ کے نہایت سایہ دار درختوں کی ہوگی۔ علاوہ اس کے فقط…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

پس جب انہوں نے اس قرآن کریم کو جھٹلادیا جو علی الاطلاق صدق و یقین کے بلند ترین مرتبے پر ہے (فَبِاَيِّ حَدِيْثٍۢ بَعْدَهٗ يُؤْمِنُوْنَ ) تو اس کے بعد وہ کون سی بات پر ایمان لائیں گے ؟ کیا وہ باطل پر ایمان لائیں گے جو اپنے نام کی مانند جس پر کوئی دلیل تو کجا، کوئی شبہ بھی قائم نہیں ہوتا ؟ یا وہ کسی مشرک، کذاب اور کھلے بہتان طراز کے کلام پر ایما لائیں گے ؟ پس نور مبین کے بعد گھٹا ٹوپ اندھیروں کے سوا کچھ نہیں رہتاصدق کے بعد جس پر قطعی دلائل اور براہین قائم ہوں صریح بہتان اور کھلے جھوٹ کے سوا کچھ باقی نہیں بچتا جو صرف اسی شخص کے لائق ہے جس سے یہ مناسبت رکھتا ہے۔ ہلاک ہے ان کے لیے وہ کتنے اندھے…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 25–50

میت کی کوئی چیز فروخت نہیں ہوسکتی، دفن کردینی چاہیے قول باری ہے (الم نجعل الارض کفاتا احیاء وامواتا۔ کیا ہم نے زمین کو سمیٹ کر رکھنے والی نہیں بنایا۔ زندوں کے لئے بھی اور مردوں کے لئے بھی) شعبی کا قول ہے کہ زمین کا ظاہری حصہ زندوں کے لئے ہے اور باطنی حصہ مردوں کے لئے کفات ضمام یعنی سمیٹنے کو کہتے ہیں۔ مراد یہ ہے کہ زمین دونوں حالتوں میں انہیں سمیٹ کر رکھتی ہے۔ اسرائیل نے ابویحییٰ سے اور انہوں نے مجاہد سے روایت کی ہے کہ درج بالا آیت کی تفسیر میں انہوں نے فرمایا : ” زمین میت کو سمیٹ لیتی ہے اور اس کا کوئی حصہ باہر نظر نہیں آتا۔ زمین زندوں کو بھی سمیٹتی ہے۔ ایک شخص اپنے گھر میں ہوتا ہے اور اس کا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 49–50

39 ۔ منکرین و مکذبین کے لئے بڑی ہی خرابی و ہلاکت : سو ارشاد فرمایا گیا کہ بڑی ہی خربای اور ہلاکت ہوگی اس دن جھٹلانے والوں کے لئے جو اپنے کبر و غرور کے باعث اپنے رب کے حضور نہیں جھکتے اور جو بار بار کی تنبیہات اور طرح طرح کی دعوت کے باوجود اپنے رب کے حضور جھکنے کے شرف اور اس سعادت سے محروم رہے جو کہ درحقیقت ہر خیر سے محرومی ہے، العیاذ باللہ، جیسا کہ پہلے بھی گزارا اس آیت کریمہ کو اس سورة کریمہ میں دس بار دہرایا گیا ہے۔ قرطبی وغیرہ بعض ثفہ مفسرین کرام کا کہنا ہے کہ یہ محض تکرار نہیں، بلکہ اس میں ہر مرتبہ اس سے ایک نیا مفہوم مراد ہے اور یہی قرآن حکیم کی شان عالی کے لائق بھی ہے، گویا کہ ایک بات…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 41–50

نیکوکاروں کے لیے رحمتیں تشریح : اللہ بڑا ہی رحمن و رحیم ہے وہ سب کو اپنی نعمتیں دیتا ہے جو شکر گزار اور عبادت گزار ہیں ان کے لیے اس نے بہترین جنت میں ٹھکانے دینے کا وعدہ کر رکھا ہے جو ضرور پورا ہوگا اور جو اس کے نافرمان اور ناشکرے لوگ ہیں اور باوجود رسول ﷺ کے بتانے کے بھی ایمان نہیں لاتے اللہ کو رسول ﷺ کو اور حساب کے دن، یعنی آخرت کو نہیں مانتے تو پھر ایسے لوگوں کے لیے اللہ جبار اور قہار بھی ہے اسی لیے ان لوگوں کے لیے جہنم کے بدترین ٹھکانے کی بری خبر کا اعلان کیا گیا ہے۔ جو ان کو مل کر رہے گا۔ آج کے اس ترقی یافتہ دور میں یہ بات سمجھ لینی بڑی آسان ہے کہ قیامت ضرور آئے گی۔ قیامت کا تصور موجودہ…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 41–50

آیات 41 تا 50۔ اسرار ومعارف۔ البتہ جنہوں نے اللہ سے اطاعت کا رشتہ قائم کیا ان کے لیے یہاں بھی سایہ ہوگا اور خوبصورت نہریں اور طرح طرح کے میوے کہ مزے سے کھاتے ہوں گے اور حکم ہوگا کہ عیش کرو کھاؤ پیو کہ تم نے دنیا میں اللہ کی اطاعت کی اور خلوص دل سے اطاعت کرنے والوں کو ہم ایسے ہی انعام عطا کرتے ہیں مگر انکار کرنے والوں کے لیے صرف بربادی ہوگی بلکہ اے بدکارو ، دنیا میں چند روز مہلت سے موج کرلو آخر کار تمہارے نصیب میں بربادی ہی ہے یہاں بھی وہاں بھی۔ نظام اسلام۔ جب انہیں اللہ کے سامنے جھکنے کے لیے کہا جاتا ہے یعنی اللہ کا نظام قبول کرنے کا کہا جاتا ہے تو مان کر نہیں دیتے تو پھر ان کے لیے ماسوی…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 49–50

ف 8 یعنی قرآن جو اللہ تعالیٰ کا اپنا کلام ہے اور جس کا انداز بیان انتہائی موثر اور دلنشین ہے۔ اگر یہ کفار اس پر بھی ایمان نہیں لارہے تو آخر کون سی کتاب ہے جس کا وہ انتظار کررہے ہیں کہ وہ آئے تو اس پر ایمان لائیں ؟ کیا قرآن کے بعد بھی کوئی کتاب آنے والی ہے ؟۔ حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جب کوئی شخص اس آیت پر پہنچے تو اسے یہ کہنا چاہیے ” امنا باللہ “ ہم اللہ پر ایمان لائے۔ (ابن کثیربحوالہ ابودائود ترمذی، مسند امام احمد وغیرہ )

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(77:50) فبای حدیث بعدہ یؤمنون : یہ جملہ استفہامیہ انکاریہ ہے۔ بعدہ میں ہ ضمیر واحد غائب کا مرجع القرآن ہے۔ ای۔ کونسا۔ کس (پر) اب اس قرآن کے بعد یہ لوگ کس بات پر ایمان لائیں گے یعنی وہ قرآن جس کے اندر طرح طرح کا لفظی و معنوی اعجاز ہے جس میں کھلے ہوئے دلائل اور روشن براہین ہیں اگر اس پر ایمان نہیں تو پھر کسی دوسری دلیل کو یہ نہیں مانیں گے۔ حدیث۔ جمع احادیث۔ بات ۔ ہر وہ کلام جو انسان تک پہنچ سکے۔ خواہ بذریعہ سماعت، خواہ بذریعہ وحی۔ عالم خواب میں ہو یا بحالت بیداری اس کو حدیث کہتے ہیں۔ تمت بالخیر بعون اللہ وبفضلہ۔ 3 شوال المکرم 1418 ھ۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 1–50

لغات القرآن۔ المرسلات۔ چلنے والیاں۔ عرف۔ فائدہ پہنچانا۔ عصفت۔ تیز چلنے والیاں۔ نشرات۔ پھیلانے والیاں۔ فرقت۔ پھارنے والیاں۔ الملقیت۔ لانے والیاں۔ طمست۔ مٹا دی گئی۔ نسفت۔ ریزہ ریزہ کردی گئی۔ اقتت ۔ مقرر کی گئی۔ اجلت۔ ملتوی کردی گئی۔ یوم الفصل۔ فیصلے کا دن۔ ویل۔ خرابی ۔ بربادی۔ ماء مھین۔ حقیر پانی۔ کفات۔ اکٹھا کرنے والاشمخت۔ اونچے۔ فرات۔ میٹھا پانی ۔ ذی ثلث شعب۔ تین شاخوں والا ۔ ترمی۔ وہ پھینکتی ہے۔ جملت، صفر، ۔ زرد اونٹ۔ لا ینطقون۔ وہ نہ بولیں گے۔ یعتذرون۔ وہ عذر پیش کریں گے۔ ظلل۔ سائے۔ عیون (عین) ۔ چشمے۔ ای حدیث۔ کونسی بات۔ تشریح : سورة المرسلات کی ابتدائی چھ آیتوں میں ہواؤں اور ان پر متعین…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 46–50

(ف 2) دنیا میں اس طرح کے عقبی کے منکرون کی جو کچھ خوشحالی ہے وہ تھوڑے دنوں کی ہے کیونکہ نہ دنیا رہنے والی چیز ہے نہ اس کی خوشحالی ۔ آنکھ بند ہوتے ہی پھر طرح طرح کی خرابی ہے کیونکہ جس اللہ نے ان کو پیدا کیا ہے خالص اس کے نام پر سرجھکانے کو یہ لوگ عار سمجھتے ہیں ۔ تفسیر مقاتل بن سلیمان میں ہے کہ ثقیف ایک قبیلہ نے نماز سے انکار کرکے یہ کہا کہ کمر جھکانے کو ہم لوگ عارسمجھتے ہیں پھر فرمایا کہ ان لوگوں کو جس اپنی فصاحت وبلاغت کا بڑا دعوی تھا قرآن کی فصاحت وبلاغت نے وہ دعوی تو ان کا باقی نہ رکھا جس سے یہ لوگ خوب سمجھ گئے کہ قرآن کسی انسان کا کلام نہیں، اس پر بھی ان لوگوں کا قرآن کے احکام کو نہ ماننا…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 49–50

[19] اس دن پچھتائیں گے کہ دنیا میں احکام الٰہی کے آگے کیوں نہ جھکے۔ وہاں سر جھکاتے تو یہاں تباہی سے دوچار نہ ہوتے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 41–50

ف 1: جہنم کی تفصیلات کے بعد ضروری تھا ۔ کہ پاکبازوں کو بشارت سنائی جائے ۔ چناچہ فرمایا ۔ کہ اہل تقویٰ کے لئے جو سائے ہیں ۔ وہ ٹھنڈے اور رحمت کے سائے ہیں ۔ وہ میٹھے اور شیریں چشموں میں ہوں گے ۔ ان کو ہر نوع کے مرغوب میوے ملیں گے ۔ اور کہا جائیگا ۔ کہ چونکہ تم نے دنیا میں اپنی خواہشات کے خلاف ہمارے دین کا ساتھ دیا ہے ۔ اور نیک زندگی بسر کی ہے ۔ اس لئے تمہاری خواہشات کو یہاں ملحوظ رکھا جائے گا ۔ تمہیں اجازت ہے ۔ کہ اس باغ میں رہو سہو اور جو چاہو کھاؤ پیو ۔ حل لغات :۔ کید ۔ مکر اور تدبیر عیون ۔ جمع عین ھدایتا ۔ خوش گواری کے ساتھ ۔

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(50) اب آخر یہ لوگ اسی کلام کے بعد اور کون سی بات پر ایمان لائیں گے یعنی اس کلام الٰہی کے بعد اور قرآن کے بعد اب کسی بات کا انتظار کررہے ہیں اور اس کے بعد کون سی بات پر ایمان لائیں گے کیا یہ کسی اور کتاب کے نازل ہونے کے منتظر ہیں، یعنی قرآن جیسی مفصل اور دلائل سے لبریز کتاب کے بعد پھر اور کون سی کتاب پر ایمان لائیں گے۔ حدیث میں آتا ہے کہ جب نبی کریم ﷺ سورة مرسلات کی آخری آیت تلاوت کرتے تو فرماتے امنت باللہ وبما انزل۔ تم تفسیر سورة المرسلات

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 34–50

ف 3۔ ان تفریعات و تہدید ات قرآنیہ کا مقتضا یہ تھا کہ یہ سنتے ہی ڈر کر ایمان لے آتے مگر جب اس پر بھی ان کو اثر نہیں تو پھر اس قرآن بلیغ الالفاظ والانداز کے بعد اور کس بات پر ایمان لائیں گے اس میں کفار پر توبیخ اور ان کے ایمان سے آپ کا اقناط ہے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

Explained with ayahs 48–50

(اور جب حکم دیا گیا انہیں کہ رکوع والی عبادت کرو) ۔۔۔ اور ظاہر ہے کہ عمل کے وجود کے لیے ایمان شرط ہے ، تو ان کے لیے اس حکم پر عمل ممکن نہیں جب تک ایمان نہ لائیں۔۔۔ (تو) وہ اس حکم پر عمل (نہیں کرتے) یعنی مسلمان نہیں ہوتے ، اس واسطے کہ کلمہ شہادتین کے بعد اسلام میں رکن اعظم نماز ہے۔ نماز دین کا ستون ہے ، اور دین اس کے سبب سے قائم ہے۔۔ تو۔۔ (ہلاکی ہے اس دن جھٹلانے والوں کی) اور پھٹکار ہے ان پر جو اسلام سے مشرف نہیں ہوتے۔ (تو کس بات کو اس کے بعد) یعنی قرآن کے بعد (مانیں گے) اگر قرآن پر ایمان نہیں لاتے کہ وہ ایک معجزہ ہے کھلی ہوئی دلیلوں اور روشن معنوں پر تو پھر وہ کس چیز پر ایمان لائیں گے۔ حدیث…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

فَبِأَيِّ حَدِيثٍ بَعْدَهُ يُؤْمِنُونَ (Now, in which discourse, after this, will they believe? ...77:50) The Holy Qur'an is the last Book of Allah which explains its message and wisdom most lucidly, excellently, eloquently, elegantly, and its arguments most convincingly. Its style is extremely effective and the admonition soul-capturing. If they do not believe in such a Book, then for which word are they waiting? This is to express disappointment in them. A Hadith narrative instructs that when one recites this verse, he should say 'I believe in Allah'. This statement must be made outside the…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 49–50

27 That is, the greatest Message that could distinguish the Truth from falsehood for man and show him right guidance, has been sent down in the shape of the Qur'an. if a person does not believe even after reading it or hearing it read, what else after this can show him the correct guidance?

Read the full tafseer →