77. Surah Al-Mursalaat

المرسلاتThe Emissaries · 50 ayahsتفسیر بیان القرآن

Ayahs 77:1–3

وَ الْمُرْسَلٰتِ عُرْفًاۙ Open ayah 77:1 in the Quran reader

قسم ہے ان ہوائوں کی جو چلائی جاتی ہیں بڑی آہستگی سے۔

فَالْعٰصِفٰتِ عَصْفًاۙ Open ayah 77:2 in the Quran reader

پھر تیز و تند جھکڑ ّکی صورت میں چلتی ہیں۔

وَّ النّٰشِرٰتِ نَشْرًاۙ Open ayah 77:3 in the Quran reader

اور ان ہوائوں کی قسم جو (بادلوں کو) پھیلا دیتی ہیں۔

آیت 1{ وَالْمُرْسَلٰتِ عُرْفًا۔ } ”قسم ہے ان ہوائوں کی جو چلائی جاتی ہیں بڑی آہستگی سے۔“ اللہ تعالیٰ ان ہوائوں کو خاص مقاصد کے لیے باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت چلاتا ہے۔
Ayah 77:4

فَالْفٰرِقٰتِ فَرْقًاۙ Open ayah 77:4 in the Quran reader

پھر تقسیم کرتی ہیں جدا جدا۔

آیت 4{ فَالْفٰرِقٰتِ فَرْقًا۔ } ”پھر تقسیم کرتی ہیں جدا جدا۔“ سورة الذاریات میں ہوائوں کی اس خصوصیت کا ذکر { فَالْمُقَسِّمٰتِ اَمْرًا۔ } کے الفاظ میں ہوا ہے۔ یعنی ہوائیں سمندر سے بخارات کو بادلوں کی صورت میں دور دراز علاقوں تک لے جاتی ہیں ‘ پھر وہ اس پانی کو اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق مختلف علاقوں میں بارش کی صورت میں تقسیم کرتی ہیں۔ اس تقسیم میں ان کا معاملہ ہر جگہ یکساں نہیں ہوتا بلکہ ُ جدا جدا ہوتا ہے۔ کہیں اللہ تعالیٰ کی حکمت اور مشیت سے َجل تھل ہوجاتا ہے اور کوئی علاقہ خشک رہ جاتا ہے۔
Ayah 77:5

فَالْمُلْقِیٰتِ ذِكْرًاۙ Open ayah 77:5 in the Quran reader

پھر قسم ہے ان (فرشتوں) کی جو ذکر کا القاء کرتے ہیں۔

آیت 5{ فَالْمُلْقِیٰتِ ذِکْرًا۔ } ”پھر قسم ہے ان فرشتوں کی جو ذکر کا القاء کرتے ہیں۔“ گزشتہ چار آیات کے بارے میں تقریباً تمام مفسرین متفق ہیں کہ ان میں ہوائوں کا ذکر ہے۔ البتہ اس آیت کے حوالے سے زیادہ تر مفسرین کا خیال ہے کہ اس سے فرشتے مراد ہیں ‘ جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے وحی لے کر آتے ہیں۔ البتہ بعض لوگوں کی رائے یہ ہے کہ اس آیت میں بھی ہوائوں ہی کا تذکرہ ہے۔ اس حوالے سے ان مفسرین کا استدلال یہ ہے کہ کسی نبی یا کسی داعی کی آواز بھی تو ہوا ہی کے ذریعے سے لوگوں تک پہنچتی ہے۔ یعنی پیغامات و معلومات کی ترسیل و تقسیم کا ذریعہ medium تو بہرحال ہوا ہی ہے۔
Ayah 77:6

عُذْرًا اَوْ نُذْرًاۙ Open ayah 77:6 in the Quran reader

عذر کے طور پر یا خبردار کرنے کے لیے۔

آیت 6{ عُذْرًا اَوْ نُذْرًا۔ } ”عذر کے طور پر یا خبردار کرنے کے لیے۔“ وحی یا ذکر یاد دہانی کا ابلاغ یا تو اس لیے ہوتا ہے کہ لوگوں پر اتمامِ حجت ہو اور ان کا عذر ختم ہوجائے۔ جیسا کہ سورة النساء کی آیت 165 میں انبیاء و رسل - کی بعثت کا مقصد واضح کرتے ہوئے فرمایا گیا : { لِئَلاَّ یَکُوْنَ لِلنَّاسِ عَلَی اللّٰہِ حُجَّۃٌم بَعْدَ الرُّسُلِط } ”تا کہ نہ رہ جائے لوگوں کے پاس اللہ کے مقابلے میں کوئی حجت دلیل رسولوں علیہ السلام کے آنے کے بعد“۔ یعنی اللہ تعالیٰ نے تمام رسولوں علیہ السلام کو دنیا میں اسی لیے بھیجا تھا کہ ان کی بعثت کے بعد لوگوں کے پاس اس کے ہاں پیش کرنے کے لیے کوئی عذرنہ رہ جائے۔ وحی یا یاددہانی کا دوسرا مقصد یہاں یہ بتایا گیا ہے کہ یہ لوگوں کو خبردار کرنے نُذْرًا کے لیے ہوتی ہے کہ اگر وہ جاگنا چاہیں تو جاگ جائیں اور راہ راست پر آنا چاہیں تو آجائیں۔ اب اگلی آیت میں ان قسموں کے مقسم علیہ کا ذکر ہے کہ یہ قسمیں کس حقیقت کو واضح کرنے کے لیے کھائی گئی ہیں :
Ayah 77:7

اِنَّمَا تُوْعَدُوْنَ لَوَاقِعٌؕ Open ayah 77:7 in the Quran reader

جس چیز کا تم سے وعدہ کیا جا رہا ہے وہ واقع ہو کر رہے گی۔

آیت 7{ اِنَّمَا تُوْعَدُوْنَ لَـوَاقِعٌ۔ } ”جس چیز کا تم سے وعدہ کیا جا رہا ہے وہ واقع ہو کر رہے گی۔“ یعنی جس قیامت کے بارے میں تم لوگوں کو بار بار متنبہ کیا جا رہا ہے وہ ضرور آکر رہے گی۔ واضح رہے کہ سورة قٓ سے لے کر سورة الناس تک مکی سورتوں کا موضوع انذارِ آخرت ہے۔ اس لیے سورة الذاریات کی قسموں کا مقسم علیہ بھی انذارِ آخرت ہی سے متعلق تھا : { اِنَّمَا تُوْعَدُوْنَ لَصَادِقٌ - وَّاِنَّ الدِّیْنَ لَوَاقِعٌ۔ } ”جو وعدہ تمہیں دیا جا رہا ہے وہ یقینا سچ ہے۔ اور جزا و سزا ضرور واقع ہو کر رہے گی“۔ البتہ سورة الصافات کے آغاز میں مذکور قسموں کا انداز تو بالکل ایسا ہی ہے لیکن وہاں ان قسموں کے مقسم علیہ کا تعلق توحید سے ہے : { اِنَّ اِلٰہَکُمْ لَوَاحِدٌ۔ } ”یقینا تمہارا اِلٰہ ایک ہی ہے“۔ اس لیے کہ سورة الصافات کا تعلق سورتوں کے جس گروپ سے ہے اس گروپ کا مرکزی مضمون ہی توحید ہے۔
Ayah 77:8

فَاِذَا النُّجُوْمُ طُمِسَتْۙ Open ayah 77:8 in the Quran reader

پس جب ستارے مٹا دیے جائیں گے۔

آیت 8{ فَاِذَا النُّجُوْمُ طُمِسَتْ۔ } ”پس جب ستارے مٹا دیے جائیں گے۔“ یعنی بےنور کردیے جائیں گے اور ان کی روشنی ختم ہوجائے گی۔
Ayah 77:9

وَ اِذَا السَّمَآءُ فُرِجَتْۙ Open ayah 77:9 in the Quran reader

اور جب آسمان میں شگاف پڑجائیں گے۔

آیت 9{ وَاِذَا السَّمَآئُ فُرِجَتْ۔ } ”اور جب آسمان میں شگاف پڑجائیں گے۔“ ایسی آیات ہمارے لیے آیات متشابہات کا درجہ رکھتی ہیں۔ البتہ توقع کی جاسکتی ہے کہ جیسے جیسے سائنسی ترقی کی بدولت انسان کی معلومات بڑھیں گی ‘ ان آیات کا مفہوم بتدریج واضح ہوتا چلا جائے گا۔
Ayah 77:10

وَ اِذَا الْجِبَالُ نُسِفَتْۙ Open ayah 77:10 in the Quran reader

اور جب پہاڑ (ریت بنا کر) اُڑا دیے جائیں گے۔

آیت 10{ وَاِذَا الْجِبَالُ نُسِفَتْ۔ } ”اور جب پہاڑ ریت بنا کر اُڑا دیے جائیں گے۔“ قیامت کے زلزلے کے باعثپہاڑ ریزہ ریزہ ہو کر ریت کے ٹیلوں کی مانند ہوجائیں گے اور ان ٹیلوں کے ذرّات ہوا میں اڑتے پھریں گے۔
Ayahs 77:11–12

وَ اِذَا الرُّسُلُ اُقِّتَتْؕ Open ayah 77:11 in the Quran reader

اور جب رسولوں ؑ (کے کھڑے ہونے) کا وقت آپہنچے گا۔

لِاَیِّ یَوْمٍ اُجِّلَتْؕ Open ayah 77:12 in the Quran reader

(یہ معاملہ) کس دن کے لیے موخر کیا گیا ہے ؟

آیت 1 1{ وَاِذَا الرُّسُلُ اُقِّتَتْ۔ } ”اور جب رسولوں علیہ السلام کے کھڑے ہونے کا وقت آپہنچے گا۔“ جب انبیاء ورسل - اللہ تعالیٰ کی عدالت میں شہادتیں دینے کے لیے کھڑے ہوں گے۔
Ayahs 77:13–14

لِیَوْمِ الْفَصْلِۚ Open ayah 77:13 in the Quran reader

فیصلے کے دن کے لیے۔

وَ مَاۤ اَدْرٰىكَ مَا یَوْمُ الْفَصْلِؕ Open ayah 77:14 in the Quran reader

اور تم لوگ کیا سمجھتے ہو کہ فیصلے کا دن کیا ہے ؟

آیت 13{ لِیَوْمِ الْفَصْلِ۔ } ”فیصلے کے دن کے لیے۔“ یعنی انبیاء و رسل - کی اپنی اپنی قوموں کے خلاف گواہی کہ اے اللہ ! ہم نے تیرا پیغام ان لوگوں تک پہنچا دیا تھا ‘ اب یہ لوگ خود جوابدہ ہیں اور خود متعلقہ اقوام کے افراد سے پوچھ گچھ جیسے معاملات اسی فیصلے کے دن کے لیے موخر کیے گئے ہیں۔
Ayahs 77:15–16

وَیْلٌ یَّوْمَئِذٍ لِّلْمُكَذِّبِیْنَ Open ayah 77:15 in the Quran reader

(ہلاکت اور) بربادی ہے اس دن جھٹلانے والوں کے لیے۔

اَلَمْ نُهْلِكِ الْاَوَّلِیْنَؕ Open ayah 77:16 in the Quran reader

کیا ہم نے پہلوں کو ہلاک نہیں کیا ؟

آیت 15{ وَیْلٌ یَّوْمَئِذٍ لِّلْمُکَذِّبِیْنَ۔ } ”ہلاکت اور بربادی ہے اس دن جھٹلانے والوں کے لیے۔“ لفظ ”ویل“ کے معنی تباہی اور بربادی کے بھی ہیں اور یہ جہنم کی ایک وادی کا نام بھی ہے ‘ جس کی سختیوں سے خود جہنم بھی پناہ مانگتی ہے۔
Ayahs 77:17–18

ثُمَّ نُتْبِعُهُمُ الْاٰخِرِیْنَ Open ayah 77:17 in the Quran reader

پھر ہم ان کے پیچھے لگاتے رہے بعد میں آنے والوں کو۔

كَذٰلِكَ نَفْعَلُ بِالْمُجْرِمِیْنَ Open ayah 77:18 in the Quran reader

اسی طرح ہم کرتے رہے ہیں مجرموں کے ساتھ۔

آیت 17{ ثُمَّ نُتْبِعُہُمُ الْاٰخِرِیْنَ۔ } ”پھر ہم ان کے پیچھے لگاتے رہے بعد میں آنے والوں کو۔“ اس سے نوع انسانی کی مختلف نسلوں کا یکے بعد دیگرے معمول کے مطابق دنیا میں آنا بھی مراد ہے اور ایک قوم کی تباہی کے بعد اس کی جگہ دوسری قوم کا اٹھایا جانا بھی۔ جیسے قوم نوح علیہ السلام کی ہلاکت کے بعد قوم عاد اور قوم عاد کی بربادی کے بعد قوم ثمود کو پیدا کیا گیا۔
Ayah 77:19

وَیْلٌ یَّوْمَئِذٍ لِّلْمُكَذِّبِیْنَ Open ayah 77:19 in the Quran reader

(ہلاکت اور) بربادی ہے اس دن جھٹلانے والوں کے لیے۔

آیت 19{ وَیْلٌ یَّوْمَئِذٍ لِّلْمُکَذِّبِیْنَ۔ } ”ہلاکت اور بربادی ہے اس دن جھٹلانے والوں کے لیے۔“ یہ اس سورت کی ترجیعی بار بار دہرائی جانے والی آیت ہے جو اس میں دس مرتبہ آئی ہے۔
Ayah 77:20

اَلَمْ نَخْلُقْكُّمْ مِّنْ مَّآءٍ مَّهِیْنٍۙ Open ayah 77:20 in the Quran reader

کیا ہم نے تمہیں حقیر پانی سے پیدا نہیں کیا ؟

آیت 20{ اَلَمْ نَخْلُقْکُّمْ مِّنْ مَّآئٍ مَّہِیْنٍ۔ } ”کیا ہم نے تمہیں حقیر پانی سے پیدا نہیں کیا ؟“ انسان کا مادئہ تخلیق ایسی گھٹیا چیز ہے کہ جس کا نام بھی کوئی اپنی زبان پر لانا پسند نہیں کرتا۔ سورة الدھر میں اس حقیقت کا ذکر اس طرح آیا ہے : { ہَلْ اَتٰی عَلَی الْاِنْسَانِ حِیْنٌ مِّنَ الدَّہْرِ لَمْ یَکُنْ شَیْئًا مَّذْکُوْرًا۔ } ”کیا انسان پر اس زمانے میں ایک ایسا وقت بھی گزرا ہے جبکہ وہ کوئی قابل ذکر شے نہیں تھا ؟“
Ayahs 77:21–22

فَجَعَلْنٰهُ فِیْ قَرَارٍ مَّكِیْنٍۙ Open ayah 77:21 in the Quran reader

پھر ہم نے اس (نطفے) کو رکھ دیا ایک محفوظ مقام میں۔

اِلٰى قَدَرٍ مَّعْلُوْمٍۙ Open ayah 77:22 in the Quran reader

ایک طے شدہ مدت تک۔

آیت 21{ فَجَعَلْنٰــہُ فِیْ قَرَارٍ مَّکِیْنٍ۔ } ”پھر ہم نے اس نطفے کو رکھ دیا ایک محفوظ مقام میں۔“ یعنی اس حقیر پانی کی بوند کو مختلف مراحل سے گزارنے کے لیے ہم نے اسے ایک محفوظ مقام یعنی رحم مادر میں رکھا جو اس کے لیے ایک مضبوط قلعے کی حیثیت رکھتا ہے۔
Ayahs 77:23–25

فَقَدَرْنَا١ۖۗ فَنِعْمَ الْقٰدِرُوْنَ Open ayah 77:23 in the Quran reader

تو ہم نے اندازہ مقرر کیا اور ہم کیا ہی اچھے ہیں اندازہ مقرر کرنے والے !

وَیْلٌ یَّوْمَئِذٍ لِّلْمُكَذِّبِیْنَ Open ayah 77:24 in the Quran reader

(ہلاکت اور) بربادی ہے اس دن جھٹلانے والوں کے لیے۔

اَلَمْ نَجْعَلِ الْاَرْضَ كِفَاتًاۙ Open ayah 77:25 in the Quran reader

کیا ہم نے زمین کو نہیں بنا دیا سمیٹ لینے والی ؟

آیت 23 { فَقَدَرْنَاق فَنِعْمَ الْقٰدِرُوْنَ۔ } ”تو ہم نے اندازہ مقرر کیا ‘ اور ہم کیا ہی اچھے ہیں اندازہ مقرر کرنے والے !“ اس آیت کا ایک مفہوم یہ بھی ہے کہ ہم نے یہ سب کچھ اپنی قدرت سے کیا اور ہم کیا ہی اچھی قدرت رکھنے والے ہیں !
Ayahs 77:26–27

اَحْیَآءً وَّ اَمْوَاتًاۙ Open ayah 77:26 in the Quran reader

زندوں کو بھی اور ُ مردوں کو بھی !

وَّ جَعَلْنَا فِیْهَا رَوَاسِیَ شٰمِخٰتٍ وَّ اَسْقَیْنٰكُمْ مَّآءً فُرَاتًاؕ Open ayah 77:27 in the Quran reader

اور ہم نے اس کے اندر بنا دیے خوب جمے ہوئے اونچے اونچے پہاڑ اور ہم نے تمہیں پلایا (اس میں سے) تسکین بخش پانی۔

آیت 26 { اَحْیَآئً وَّاَمْوَاتًا۔ } ”زندوں کو بھی اور ُ مردوں کو بھی !“ اللہ تعالیٰ نے یہ زمین ایسی بنائی ہے کہ یہ اپنے اوپر موجود ہر زندہ وجود کی تمام ضروریات پوری کر رہی ہے اور ہر قسم کے مردہ کو بھی تحلیل کر کے اپنے اندر جذب کرلیتی ہے۔ اس حیثیت سے اللہ تعالیٰ نے اس زمین میں ایسی گنجائش رکھی ہے کہ یہ تاقیامِ قیامت تمام زندوں اور تمام ُ مردوں کے لیے کفایت کرے گی۔
Ayah 77:28

وَیْلٌ یَّوْمَئِذٍ لِّلْمُكَذِّبِیْنَ Open ayah 77:28 in the Quran reader

(ہلاکت اور) بربادی ہے اس دن جھٹلانے والوں کے لیے۔

آیت 28 { وَیْلٌ یَّوْمَئِذٍ لِّلْمُکَذِّبِیْنَ۔ } ”ہلاکت اور بربادی ہے اس دن جھٹلانے والوں کے لیے۔“ ان تمام آیات میں تذکیر بآلاء اللہ کا انداز ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ کی قدرتوں ‘ نعمتوں اور اس کے احسانات کے ذکر سے یاد دہانی کرائی جا رہی ہے۔
Ayah 77:29

اِنْطَلِقُوْۤا اِلٰى مَا كُنْتُمْ بِهٖ تُكَذِّبُوْنَۚ Open ayah 77:29 in the Quran reader

چلو اب اسی چیز کی طرف جس کو تم جھٹلایا کرتے تھے۔

آیت 29 { اِنْطَلِقُوْٓا اِلٰی مَا کُنْتُمْ بِہٖ تُکَذِّبُوْنَ۔ } ”چلو اب اسی چیز کی طرف جس کو تم جھٹلایا کرتے تھے۔“ یعنی جہنم کی آگ کی طرف۔ یہ وہ حکم ہے جو میدانِ محشر میں اہل جہنم کو سنایا جائے گا۔
Ayahs 77:30–40

اِنْطَلِقُوْۤا اِلٰى ظِلٍّ ذِیْ ثَلٰثِ شُعَبٍۙ Open ayah 77:30 in the Quran reader

چلو اس تین شاخوں والے سائے کی طرف !

لَّا ظَلِیْلٍ وَّ لَا یُغْنِیْ مِنَ اللَّهَبِؕ Open ayah 77:31 in the Quran reader

نہ تو وہ سایہ دار ہے اور نہ ہی آگ کی تپش سے بچانے والا۔

اِنَّهَا تَرْمِیْ بِشَرَرٍ كَالْقَصْرِۚ Open ayah 77:32 in the Quran reader

وہ آگ اتنے بڑے بڑے انگارے پھینک رہی ہوگی جیسے کہ وہ محل ہوں۔

كَاَنَّهٗ جِمٰلَتٌ صُفْرٌؕ Open ayah 77:33 in the Quran reader

(یا) جیسے وہ زرد رنگ کے اونٹ ہوں۔

وَیْلٌ یَّوْمَئِذٍ لِّلْمُكَذِّبِیْنَ Open ayah 77:34 in the Quran reader

(ہلاکت اور) بربادی ہے اس دن جھٹلانے والوں کے لیے۔

هٰذَا یَوْمُ لَا یَنْطِقُوْنَۙ Open ayah 77:35 in the Quran reader

یہ ہے وہ دن جس میں یہ بول نہیں سکیں گے۔

وَ لَا یُؤْذَنُ لَهُمْ فَیَعْتَذِرُوْنَ Open ayah 77:36 in the Quran reader

اور نہ ہی انہیں اجازت دی جائے گی کہ وہ کوئی عذر تراشیں۔

وَیْلٌ یَّوْمَئِذٍ لِّلْمُكَذِّبِیْنَ Open ayah 77:37 in the Quran reader

(ہلاکت اور) بربادی ہے اس دن جھٹلانے والوں کے لیے۔

هٰذَا یَوْمُ الْفَصْلِ١ۚ جَمَعْنٰكُمْ وَ الْاَوَّلِیْنَ Open ayah 77:38 in the Quran reader

یہ ہے فیصلے کا دن ہم نے جمع کرلیا تمہیں بھی اور پہلوں کو بھی۔

فَاِنْ كَانَ لَكُمْ كَیْدٌ فَكِیْدُوْنِ Open ayah 77:39 in the Quran reader

اب اگر تمہارے پاس کوئی چال ہے تو میرے خلاف وہ چال چل دیکھو۔

وَیْلٌ یَّوْمَئِذٍ لِّلْمُكَذِّبِیْنَ۠ Open ayah 77:40 in the Quran reader

(ہلاکت اور) بربادی ہے اس دن جھٹلانے والوں کے لیے۔

آیت 30{ اِنْطَلِقُوْٓا اِلٰی ظِلٍّ ذِیْ ثَلٰثِ شُعَبٍ۔ } ”چلو اس تین شاخوں والے سائے کی طرف !“ میدانِ محشر کی چلچلاتی دھوپ اور شدید گرمی میں جب وہ لوگ جہنم کو دیکھیں گے تو دور سے وہ انہیں تین اطراف میں پھیلے ہوئے سائے والی کسی جگہ کی طرح نظرآئے گی۔ چناچہ انہیں کہا جائے گا کہ اگر تمہیں وہ سایہ نظر آتا ہے تو چلو اس سائے کی طرف ! لیکن اس ”سائے“ کی حقیقت یہ ہوگی کہ :