77. Surah Al-Mursalaat

المرسلاتThe Emissaries · 50 ayahsتفسیرِ مدنی

Ayahs 77:1–2

وَ الْمُرْسَلٰتِ عُرْفًاۙ Open ayah 77:1 in the Quran reader

قسم ہے ان (ہواؤں) کی جو چھوڑی جاتی ہیں پے درپے

فَالْعٰصِفٰتِ عَصْفًاۙ Open ayah 77:2 in the Quran reader

پھر جو جھکڑ بن جاتی ہیں زور پکڑ کر

عرفاً کا معنی و مطلب ؟ : سوی یہ " عرفا " کا ایک مطلب ہوا۔ یعنی اس سے پے در پے چلنے والی ہواؤں کی قسم کھائی گئی ہے۔ دوسرا مطلب اس کا یہ بھی ہوسکتا ہے کہ عرف کو معروف اور احسان کے معنی میں لیا جائے یعنی جو کہ چھوڑی جاتی ہیں احسان کرنے کے لئے۔ سو عرفاً کا اطلاق ان دونوں معنوں پر ہوتا ہے۔ (ابن کثیر، مراغی، قرطبی وغیرہ) ۔ " عرف " دراصل گھوڑے کی ایال کے ان بالوں کے لئے آتا ہے جو اس کی پیشانی پر لٹکے ہوئے ہوتے ہیں، گھوڑوں کی ایال کے ان بالوں کو پکڑ کر ان کو روکا بھی جاسکتا ہے اور ان کو چھوڑ کر ان کی جولانیوں کے لئے چھوڑا بھی جاسکتا ہے، سو اس آیت کریمہ میں ہواؤں کو گھوڑوں سے اور ان کو آزاد کرنے کو ان کی ایال چھوڑ دینے سے تعبیر فرمایا گیا ہے اور یہ تعبیر و تشبیہہ نہایت ہی بلیغ ہے، اس سے مقصود اس حقیقت کا اظہار کرنا ہے کہ ہوائیں نہ خود کار ہیں اور نہ خود مختار، بلکہ ان کی پیشانی خداوند قدوس کی مٹھی میں ہے، وہ جب چاہتا ہے ان کو روک لیتا ہے اور جب چاہتا ہے ان کو چھوڑ دیتا ہے، جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا ہے۔ " مامن دابتہ الاہوآخذ بناصیہتا " (ھود :56) یعنی " کوئی جاندار ایسا نہیں جس کی پیشانی اللہ نے نہ پکڑ رکھی ہو " سو اس سے اس اہم اور بنیادی حقیقت کو واضح فرمایا گیا ہے کہ ہر چیز اپنے نفع و نقصان میں اللہ تعالیٰ کے اذن و ارشاد کے تابع ہے۔ جیسا اس کی طرف سے حکم و ارشاد ہو وہ ویسا ہی کرے گی۔ سو اسی اصول کے مطابق ہوا جو اسانی زندگی کے لئے سب سے زیادہ اہم اور بنیادی ضرورت ہے یہ بھی نفع و ضرر رسانی کے لئے اللہ تعالیٰ ہی کے حکم و ارشاد کے تابع ہے سو ہواؤں کی ان قسموں سے اسی اہم اور بنیادی حقیقت کی طرف توجہ دلائی گئی ہے۔
Ayahs 77:3–6

وَّ النّٰشِرٰتِ نَشْرًاۙ Open ayah 77:3 in the Quran reader

اور قسم ہے ان کی جو پھیلا دیتی ہیں (بادلوں کو ایک پُر حکمت طریقے سے) ابھار کر

فَالْفٰرِقٰتِ فَرْقًاۙ Open ayah 77:4 in the Quran reader

پھر جو جدا کردیتی ہیں (ان کو) پھاڑ کر

فَالْمُلْقِیٰتِ ذِكْرًاۙ Open ayah 77:5 in the Quran reader

پھر جو ڈال دیتی ہیں (دلوں میں خدا کی) یاد

عُذْرًا اَوْ نُذْرًاۙ Open ayah 77:6 in the Quran reader

عذر کے طور پر یا ڈراوے کے طور پر3

3 تصرفات ہوا کے ذکر سے اصل مقصد کا بیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ پھر وہ ڈال دیتی ہیں ذکر اور یاد عذر یا ڈراوے کے طور پر کہ خوف و ہراس کے اس منظر سے بہت سے دل حق کی طرف رجوع ہوجاتے ہیں، ان پانچ صفات کے موصوفوں کے بارے میں حضرات مفسرین کرام کے بہت سے اقوال ہیں، جیسا کہ ابن جریر، ابن کثیر، قرطبی، مدارک اور صفوہ وغیرہ میں اس کی تفصیل موجود و مذکور ہے، کسی نے ان سب کا موصوف ہواؤں کو قرار دیا اور اسی کو ہم نے بھی اختیار کیا اور کسی نے سب کا موصوف فرشتوں کو بنایا اور کسی نے پہلی تین کا مصداق ہواؤں کو اور آخری دو کا فرشتوں کو اور کسی نے اس کے بالکل برعکس کیا، وغیرہ مزید تفصیل انشاء اللہ اپنی مفصل تفسیر میں عرض کریں گے۔ وباللہ التوفیق بہر کیف یہاں پر ہاؤں کے ان تصرفات کے ذکر سے اصل مقصد کی وضاحت فرما دی گئی کہ حضرت حق جل مجدہ ہواؤں کے یہ مختلف کرشمے اس لئے دکھاتا ہے کہ تاکہ اس طرح وہ لوگوں پر اتمام حجت کر دے اور اس طور پر کہ ان کے لیے کسی عذر و معذرت کی کوئی گنجائش نہ رہے۔ یا اس سے غفلت میں پڑے لوگ بیدار ہو کر اپنے رب کی طرف متوجہ ہوجائیں۔ سو ہواؤں کے ان تصرفات اور عظیم الشان کرشموں سے ان لوگوں پر حجت تمام ہوجاتی ہے جو غفلت کی سرمتی میں پڑے رہنا چاہتے ہیں اور جو یاد دہانی حاصل کرنا چاہتے ہیں ان کو یاد دہانی ہوجاتی ہے۔ وباللہ التوفیق۔
Ayah 77:7

اِنَّمَا تُوْعَدُوْنَ لَوَاقِعٌؕ Open ayah 77:7 in the Quran reader

بلاشبہ جس چیز کا تم سے وعدہ کیا جاتا ہے (اے لوگو ! ) اس نے ضرور ہو کر رہنا ہے

4 قسموں کے مقسم علیہ کا ذکر : مگر غافل دنیا اس طرف توجہ ہی نہیں کرتی الا ماشاء اللہ، ولایعاذ باللہ سو ارشاد فرمایا گیا اور ادوات تاکید کے ساتھ ارشاد فرمایا گیا کہ بلاشبہ جس چیز کا تم سے وعدہ کیا جا رہا ہے اے لوگو ! اس نے بہرحال ہو کر رہنا ہے۔ یعنی قیام قیامت اور سزا و جزا، کیونکہ ان طرح طرح کی ہواؤں اور ان کے مختلف اثرات اور فوائد و نتائج سے دو حقیقتیں ابھر کر سامنے جاتی ہیں۔ ایک یہ کہ یہ سب کچھ جس قادر مطلق اور مختار کل ذات اقدس و اعلیٰ کے قبضہ قدرت و اختیار میں ہے، اس کے لئے نہ تو اس جہان رنگ و بو اور اس کے باسیوں کو مٹا دینا کچھ مشکل ہے، اور نہ ہی اس سب کو دوبارہ وجود میں لانا اور اس کے لئے اس کو کسی طرح کی تیاری کی بھی کوئی ضرورت نہیں ہوگی۔ بلکہ صرف اس کے ارادہ اور اشارہ کی دیر ہوگی اور بس ۔ اور دوسری حقیقت اس سے یہ سامنے آتی ہے کہ نہ تو حکمتوں بھری یہ کائنات بےکار اور بےمقصد ہوسکتی ہے اور نہ ہی اس میں رہنے بسنے اور پلنے بڑھنے والا وہ انسان بےکار اور بےمقصد ہوسکتا ہے، جو طرح طرح کے فائدے اس کی اس گوناں گوں مخلوق سے اٹھاتا ہے اور بےحد و حساب شکلوں میں اس سے مستفید ہوتا ہے، پس عقل و نقل دونوں کا لازمی اور بدیہی تقاضا ہے کہ ایک دن ایسا آئے کہ جب اس انسان سے یہ پوچھ ہو کہ تو نے ان بےحد و حساب نعمتوں کا کیا حق ادا کیا اور سک طرح ؟ تاکہ نیکو کاروں کو جزا ملے اور بدکاروں کو سزا اور اس طرح عدل اور انصاف کے تقاضے پورے ہو سکیں، وہی ہے بدلے کا دن اور اسی کو روز جزا کتے ہیں اور اسی کو کہتے ہیں قیامت، سو کائنات کے یہ تمام آثار و شواہد اور تغیرات بتاتے اور تقاضا کرتے ہیں کہ وہ دن واقع ہو تاکہ عدل و انصاف کے تقاضے پورے ہوں، اور اپنی آخری اور کامل شکل میں پورے ہوں۔ ورنہ یہ سارا کارخانہ قدرت عبث اور بیکار ہو کر رہ جائے گا۔ والعیاذ باللہ العظیم۔
Ayahs 77:8–9

فَاِذَا النُّجُوْمُ طُمِسَتْۙ Open ayah 77:8 in the Quran reader

سو جب مٹا دیئے جائیں گے (یہ جھلمل کرتے روشن) ستارے

وَ اِذَا السَّمَآءُ فُرِجَتْۙ Open ayah 77:9 in the Quran reader

اور پھاڑ دیا جائے گا (یہ مضبوط و مستحکم) آسمان

5 ۔ وقوع قیامت کی ہلچل کا ذکر وبیان : سو امکان قیامت اور ضرورت قیامت کے ذکر وبیان اور اس کے اثبات کے بعد اب یہاں سے وقوع ہلچل کا ذکر وبیان فرمایا جا رہا ہے۔ چناچہ ارشاد فرمایا گیا کہ جب جھلمل کرتے ان ستاروں کو مٹا دیا جائے گا کہ ان کی روشنی ختم ہوجائے گی، جیسا کہ دوسری جگہ فرمایا گیا واذا النجوم انکدرت پہلے امکان قیامت کا بیان تھا اور اب یہ وقع قیامت کا ذکر ہے، سو یہ اس ہلچل کی تصویر پیش فرمائی جا رہی ہے جو قیامت کے اس ہولناک دن میں وقوع پذیر ہوگی اور اس کائنات کی وہ تمام نمایاں چیزیں جو آج بڑی پرشوکت لگتی اور غیر فانی دکھائی دیتی ہیں اس روز یہ سب بےنشان اور بےحقیقت ہو کر رہ جائیں گی، سو اس روز آسمان کے ان جھلمل کرتے ستاروں کو بےنور اور بےنشان کردیا جائے گا اور آسمان کی یہ عظیم الشان چھٹ پھٹ پڑے گی اور اس دنیا کو ختم کر کے ایک اور جہان کو قائم کیا جائے گا اور جس کے قوانین ونوامیس ابدی ہوں گے۔
Ayah 77:10

وَ اِذَا الْجِبَالُ نُسِفَتْۙ Open ayah 77:10 in the Quran reader

اور جب دھنک ڈالا جائے گا ان (دیو ہیکل) پہاڑوں کو

6 ۔ قیامت کے روز پہاڑوں کا حال کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اس روز دھنک ڈالا جائے گا ان دیوہیکل پہاڑوں کو : اور یہ روئی کے گالوں کی طرح اڑتے پھریں گے اور اس زمین کو ایک چٹیل میدان بنادیا جائے گا جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا قل ینسفھا ربی نسفا قیدرھا قاعا صفصفا الاتری فیھا عوجا ولا امتا " (طحہ 105-107) نشکف کے معنی کسی چیز کو پیس ڈالنے اور ریزہ ریزہ کردینے کے ہیں اور اس کو پراگندہ کرنے اور بکھیر دینے کے آتے ہیں، سو جب ان دیوہیکل اور فلک بوس پہاڑوں کا یہ حال ہوگا جو کہ اپنی پختگی اور مضبوطی میں ضرب المثل کی حیثیت رکھتے ہیں اور جن کو یہ لوگ بہت اٹل اور بڑا مضبوط سمجھتے ہیں تو پھر دوسری چیزوں کے کہنے ہی کیا، سو پہاڑوں کے اس انجام سے گویا پوری زمین کا حشر بیان کردیا گیا۔ سو اوپر کی دو آیتوں میں آسمان کا حشر بیان فرمایا گیا اور اب اس آیت کریمہ میں زمین کے حال کی طرف اشارہ فرمایا جا رہا ہے۔ زمین کی چیزوں میں استحکام اور عظمت و وسعت کے لحاظ سے چونکہ سب سے بڑا درجہ پہاڑوں ہی کا ہے اس لئے سب سے پہلے انہی کا ذکر فرمایا گیا ہے کفار مکہ اور منکرین قیامت اسی بناء پر مذاق کے طور پر ان پہاڑوں کے بارے میں سوال کیا کرتے تھے جیسا کہ ابھی اوپر سورة طہ کی آیات کریمہ کے حوالے سے گذرا اور جب پہاڑوں کا باینہم عظمت و استحکام یہ حال ہوگا تو پھر دوسری مختلف چیزوں کے کہنے ہی کیا۔ سو یہ سب کچھ اس روز ملیا میٹ کردیا جائیگا۔
Ayah 77:11

وَ اِذَا الرُّسُلُ اُقِّتَتْؕ Open ayah 77:11 in the Quran reader

اور جب آپہنچے گا رسولوں کی حاضری کا وقت (تو اس وقت تم خود دیکھ لو گے زندگی بھر کے اپنے کئے کرائے کا انجام)

7 ۔ رسولوں اور ان کی قوموں کی روبکاری کا ذکر وبیان : سو اس یوم حساب میں رسولوں اور ان کی قوموں کی روبکاری کی ذکر کے سلسلے میں ارشاد فرمایا گیا اور جب رسولوں کی حاضری کا وقت آپہنچے گا۔ تاکہ ان کی گواہی سے ان کے اور ان کی امتوں کے درمیان فیصلہ کیا جائے، جیسا کہ دوسری جگہ فرمایا گیا یوم یجمع اللہ الرسل فیقول ماذا اجبتم الایۃ (المائٓدۃ ۔ 9 " " اقتت " " وقت " سے ماخوذ ہے اور یہ اصل میں " وقتت " تھا۔ واؤ کو حمزہ سے بدل دیا گیا، تسہیل و تحفیف کی غرض سے، اور عربی زبان میں یہ طریقہ شائع و ذائع اور مشہور و معروف ہے، بہرکیف اس سے مراد یہ ہے کہ قیامت کے روز حضرات انبیاء و رسل کرام علیھم الصلوۃ والسلام تشریف لائیں گے، تاکہ وہ اپنی اپنی امتوں پر گواہی دیں اور اس طرح عدل و انصاف کے تقاضوں کی پوری طرح سے تکمیل ہوسکے (ابن کثیر، ابن جریر، خازن، مدارک، وغیرہ) سو " اقتت " کے معنی ہیں کہ جب رسولوں کی حاضری کا وقت آپہنچے گا۔ چناچہ حضرات اہل علم نے " اقتت " کے معنی اس طرح کے الفاظ سے کئے ہیں۔ ای جان وقتھا (تفسیر التحریر والتنویر لابن عاشورہ و المظہری وغیرہ ذالک) یعنی جب رسولوں کی حاضری کے لئے مقرر کیا گیا وقت آپہنچے گا۔ سو حضرات انبیاء و رسل اور ان کی قوموں کی یہ روبکاری بہرحال ہوگی۔ جیسا کے دسرے مقام پر اس بارے تاکید مکرر کے ساتھ ارشاد فرمایا گیا۔ " فلنسالن الذین ارسل الیہم ولنسالن المرسلین، فلنقصن علیہم بعلم وما کنا غائبین " (الاعراب : 6-7)
Ayahs 77:12–13

لِاَیِّ یَوْمٍ اُجِّلَتْؕ Open ayah 77:12 in the Quran reader

کس دن کے لئے اٹھا رکھا گیا ہے ان سب امور (و احوال) کو

لِیَوْمِ الْفَصْلِۚ Open ayah 77:13 in the Quran reader

فیصلے کے دن کے لئے

8 ۔ قیام قیامت کے اصل مقصد کا ذکر وبیان : سو اس وقت کوئی اپنے زندگی بھر کے لئے کرانے کا نتیجہ و انجام خود دیکھ لیگا۔ سو یہ " اذا " کے جواب مقدر کی طرف اشارہ ہے (التحریر ولتنویر لابن عاشور) پس جب یہ سب کچھ ہوجائے گا تو اس وقت تم لوگ اپنے زندگی بھر کے کئے کرائے کا نتیجہ و انجام خود دیکھ لو گے اور اس سب کا تم پورا پورا صلہ و بدلہ پا سکو گے، سو اس روز وہ سب کچھ تمہارے سامنے موجود ہوگا، جو کہ آج پردہ غیب میں ہونے کے سبب تم سے مخفی ہے اور نگاہوں سے اوجھل ہونے اور دائرہ حواس و ادراک سے خارج و وراء ہونے کی وجہ سے تمہیں اس پر یقین نہیں آ رہا، وہ سب کچھ کشف حقائق اور ظہور نتائج کے اس جہان غیب میں تمہاری آنکھوں کے سامنے موجود ہوگا اور تم یقین نہیں آ رہا، وہ سب کچھ کشف حقائق اور ظہور نتائج کے اس جہان غیب میں تمہاری آنکھوں کے سامنے موجود ہوگا اور تم سب سے آگے بڑھ کر اور چیخ چیخ کر اسے مانو گے، مگر اس وقت کا وہ ماننا تمہارے کچھ کام نہ آسکے گا، اسمع بھم و ابصریوم سب سے آگے بڑھ کر اور چیخ چیخ کر اسے مانو گے، مگر اس وقت کا وہ ماننا تمہارے کچھ کام نہ آسکے گا، اسمع بھم وابصریوم یاتوننا لکن الظلمون الیوم فی ضلل مبین (مریم :38) بہرکیف اس ارشاد سے اس اصل مقصد کو واضح فرما دیا گیا جس کے لئے ہنگامہ قیامت بپا ہوگا یعنی یہ کہ اس طرح ہر شخص کو اس کے زندگی بھر کے کئے کرائے کا بدلہ ملے اور پورے طور اور بھرپور انداز میں ملے۔ تاکہ اس طرح عدل و انصاف کے تقاضے پورے ہوں اور بھرپور انداز میں پورے ہوں۔ ورنہ یہ سارا کارخانہ ہست و بودعبث و بیکار ہو کر رہ جائے گا۔ جو کہ ہر حضرت خالق حکیم کی صفت عدل و حکمت کے تقاضوں کے خلاف ہے سبحانہ و تعالیٰ ۔
Ayah 77:14

وَ مَاۤ اَدْرٰىكَ مَا یَوْمُ الْفَصْلِؕ Open ayah 77:14 in the Quran reader

اور تمہیں کیا خبر کہ کیا ہے فیصلے کا وہ دن ؟

9 ۔ استفہام برائے تعظیم و تہویل : سو جب بات اس یوم عظیم کے ذکر تک جا پہنچی تو اس کی عظمت وہیبت کے اظہار وبیان کے لئے مخاطبوں کے سامنے یہ سوال رکھ دیا کہ تمہیں کچھ خبر ہے کہ کس دن کے لئے اٹھا رکھا گیا ہے ان سب امور کو۔ اسفہام خواب غفلت میں پڑے لوگوں کے ضمیروں کو جھنجھوڑنے اور اس یوم عظیم کی ہیبت و ہولناک کو واضح اور آشکارا کرنے کے لئے ہے اور اس یوم عظیم و مہیب کی عظمت وہیبت کو مزید نکھارنے اور آشکارا کرنے کے لئے اور اس یوم الفصل (فیصلے کے دن) کے بارے میں پھر استفہام کے ذریعے جھنجھوڑا گیا ہے، جیسا کہ آگے آ رہا ہے نیز اس سے ان منکرین و مکذبین کے انکار واستبعاد کی جڑ بھی کاٹ دی گئی ہے، جو بار بار ہا کرتے تھے کہ وہ دن آخر آتا کیوں نہیں اور یہ کہ وہ کب آئے گا، (متی ھذا الوعد ان کنتم صادقین) سو اس ارشاد ربانی سے یہ واضح فرما دیا گیا کہ اس کے لئے بہرحال ایک دن مقرر ہے، اس سے پہلے وہ کیسے آسکتا ہے، جیسا کہ ہر آدمی کی موت کے لئے ایک دن مقرر ہے اس سے پہلے وہ نہیں آسکتی، سو محض اس بناء پر اس کا انکار کرنا کہ اس کے آناے کا دن معلوم نہیں یا ایسے لوگوں کے مالبے پر اس کو دکھایا نہیں جاسکتا، منکرین کی اپنی حماقت ہے، والعیاذ باللہ العظیموہ اپنے وقت مقرر پر بہرحال آ کر رہے گا۔ سو عقل و خرد کا تقاضا یہ ہے کہ اس کے عذاب سے بچنے کی فکر اور کوشش کی جائے۔ نہ کہ اس کا انکار کر کے اس کا مذاق اڑایا جائے کہ یہ انتہاء درجے کی محرومی اور بدنیتی ہے۔ والعیاذ باللہ العظیم بہر کیف سو اس یوم فصل کی عظمت وہیبت کے اظہار وبیان کے لئے ارشاد اور تم کیا جانو کہ کیا ہے وہ فیصلے کا دن ؟ استفہام تہویل و تعظیم کے لئے ہے، یعنی وہ دن بڑا ہی ہولناک اور نیا جہاں بسایا جائیگا، جس میں بالکل نئے قوانین و فورمین کا دور دورہ ہوگا اور جو ابدی اور دائمی ہوگا، سو قیامت کا وہ یوم عظیم الشان دن ہوگا کہ اس روز اس کا کی بساط لپیٹ دی جائیگی اور ایک عظیم انسان اور ہے۔ اس قدر عظیم الشان اور اتنا ہولناک کہ اس کی دوسری کوئی نظیر و مثال ممکن ہی نہیں، نہ اس کا کوئی نمونہ کسی نے اس دنیا میں کبھی دیکھا، نہ دیکھنا ممکن ہی ہے، پس بڑا ہی بدنصیب و محرم اور غلط کار ہے وہ انسان، ج و اس سے غافل ہو کر عمر رواں کی اپنی اس فرصت محدود کو یونہی گنوا دے، والعیاذ باللہ العظیم سو عقل و نقل کا تقاضا ہے کہ انسان اس یوم عظیم کو ہمیشہ یاد رکھے اور اس کے لئے تیاری کرے، وباللہ التوفیق۔ بہرکیف یہاں پر استفہام مکرر کے ذریعے اس یوم عظیم کی عظمت وہیبت کو مزید اجاگر فرما دیا گیا۔
Ayah 77:15

وَیْلٌ یَّوْمَئِذٍ لِّلْمُكَذِّبِیْنَ Open ayah 77:15 in the Quran reader

بڑی تباہی ہوگی اس دن جھٹلانے والوں کے لئے

10 ۔ منکرین و مکذبین کے لئے اور اس بڑی ہی خرابی و ہلاکت۔ والعیاذ باللہ : سو ارشاد فرمایا گیا اور صاف وصریح طور پر ارشاد فرمایا گیا کہ بڑی ہی ہلاکت اور خرابی ہوگی اس دن جھٹلانے والوں کے لئے جنہوں نے عمر رواں کی اپنی انمول فرصت کو یہ سمجھتے ہوئے گنوا دیا تھا کہ آخرت وغیرہ کوئی نہیں ہوگی اور حساب کتاب کچھ نہیں ہونے کا، بلکہ یہی دنیا اور اس کی لذتیں اور منافع سب کچھ ہیں اور بس۔ پس اپنے اس جرم تکذیب کی بناء پر اب ان لوگوں کو دائمی عذاب بھگتنا ہوگا، والعیاذ باللہ العظیم اس آیت کریمہ کو اس سورة کریمہ میں دس مرتبہ دہرایا گیا ہے جس سے معلوم ہوا کہ تکذیب حق کا جرم بہت بڑا اور سنگین جرم ہے کہ درحقیقت یہ دوسرے تمام بڑے جرائم کا منبع ومصدر اور فساد کی جڑ ہے، والعیاذ باللہ کہ کیونکہ تکذیب حق اور خاص کر قیامت کے یوم عظیم کو جھٹلانے سیا نسان قطعی طور پر غیر ذمہ دار اور لا ابالی اور ایک لایعنی شخص بن کر رہ جاتا ہے اور اس کی زندگی کا رخ ہی تبدیل ہوجاتا ہے اور اس کا سارا سفر حیات ہی غلط اور ہلاکت و تباہی کا باعث بن کر رہ جاتا ہے۔ والعیاذ باللہ العظیم من کل شائبتہ من شوائب التکذیب والانکار اللہ تعالیٰ ہمیشہ اپنی حفاظت و پناہ میں رکھے آمین ثم آمین۔
Ayahs 77:16–17

اَلَمْ نُهْلِكِ الْاَوَّلِیْنَؕ Open ayah 77:16 in the Quran reader

کیا ہم نے ہلاک نہیں کیا اگلوں کو ؟

ثُمَّ نُتْبِعُهُمُ الْاٰخِرِیْنَ Open ayah 77:17 in the Quran reader

پھر انہی کے پیچھے ہم چلتا کردیں گے بعد والوں کو

11 ۔ منکرین و مکذبین کی عبرت پذیری کے لئے تاریخ کا حوالہ و ذکر : سو منکرین و مذبین کی آنکھیں کھولنے کے لئے تاریخ ماضی کا حوالہ دیتے ہوئے ارشاد فرمایا گیا کہ کیا ہم نے ہلاک نہیں کیا اگلوں کو ؟ استفہام تقریری ہے، یعنی ہاں ضرور ایسے کیا، چناچہ قوم عاد قوم ثمود قوم لوط اور قوم فرعون وغیرہ وغیرہ کتنی ہی قومیں ایسی گزری ہیں جو کہ اپنے کفر و تکذیب کے اسی جرم عظیم کی بناء پر مٹ مٹا کر قصہ پارینہ بن گئیں۔ سو اس معلوم ہوا کہ انکار آخرت کا جرم ایسا سنگین اور اس قدر ولناک جرم ہے کہ اس پر آخرت کے اس سنگین اور دائمی عذاب سے پہلے اس دنیا میں بھی عذاب ملتا ہے۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ سو جب تاریخ اپنے ان واقعات اور شواہد کی بناء پر اور ان کی صورت میں بار بار اور لگاتار یہ گواہی دے رہی ہے کہ جن قوموں نے رسولوں اور ان کے انداز کی تکذیب کی ان کو ہم نے بالاخر پکڑا اور ان کو ہلاک کر کے ان کے کیفر کردار تک پہنچایا تو یہ اس بات کا کھلا اور تاریخی ثبوت ہے کہ حضرات انبیاء ورسل کی دعوت کی تکذیب اور آخرت کا انکار و استہزاء ایک ایسا سنگین اور اس قدر ہولناک جرم ہے کہ اس کا نتیجہ و انجام بہرحال ہلاکت و تباہی ہے اور جب یہ ایک حقیقت واقعی ہے تو پھر تکذیب و انکار کی اس روش پر چلنے والے دور حاضر کے منکرین اپنے اس انجام سے کیسے اور کیونکر بچ جائیں گے ؟ اور ان کے حق میں قدرت کی یہ قدیم سنت آخر کیوں تبدیل ہوجائے گی ؟ اور اس کا یہ قدیم قانون اور دستور آخر کیوں بدل جائے گا ؟
Ayah 77:18

كَذٰلِكَ نَفْعَلُ بِالْمُجْرِمِیْنَ Open ayah 77:18 in the Quran reader

اسی طرح کرتے ہیں ہم مجرموں کے ساتھ1

12 مجرموں کے لئے ایک قاعدہ کلیہ کا ذکر وبیان : سو ایسا نہیں اور ہرگز نہیں اللہ کا قانون ہے لاگ اور سب کے یکساں ہے۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ ہم اسی طرح کرتے ہیں مجرموں کے ساتھ۔ یعنی یہ ہمارا ایک ایسا قاعدہ کلیہ، اٹل ضابطہ اور عام قانون ہے کہ اس میں کوئی استثناء نہ اس سے پہلے تھا نہ اب ہوگا، ہم اگلوں کی ہلاکت کے بعد ان کی روش پر چلنے والے پچھلوں کو بھی انہی کے ساتھ شامل کرتے رہے، سو ہماری اس سنت میں کسی تبدیل کا کوئی امکان نہیں، نہ پہلے کبھی اس میں کوئی استثناء ہوا نہ آئندہ کبھی ہوگا، مجرموں کے ساتھ ہمارا معاملہ ہمیشہ یہی رہا اور یہی رہے گا اور اللہ کے رسول نے مجرموں کے لئے جس انجام کی خبر دی ہے وہ اپنے وقت پر بہرحال اسی طرح ہو کر رہے گا اور قیامت کے روز جو حشر تمام مجرموں کا ہوگا وہ دور حاضر کے ان مجرموں کا بھی ہوگا کہ اللہ کا قانون بےلاگ اور سب کے لئے یکساں ہے۔ جو بھی جرم اور خاص کر جرم انکار و تکذیب کا مرتکب ہوگا وہ اپنے کئے کرائے کی سزا پائے گا اور اس کا بھگتان بھگتے گا کہ وہاں پر فلاں ابن فلاں کی نوعیت کی کسی بھی بات کی کوئی قدر و قیمت نہیں ہوگی۔ بلکہ انسان کو اپنا ایمان و عقیدہ اور عمل و کردار ہی کام آسکے گا۔ وباللہ التوفیق۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ اپنی رضا و خوشنودی کی راہوں پر مستقیم و ثالث قدم رکھے، آمین
Ayahs 77:19–22

وَیْلٌ یَّوْمَئِذٍ لِّلْمُكَذِّبِیْنَ Open ayah 77:19 in the Quran reader

بڑی ہی خرابی ہوگی اس دن جھٹلانے والوں کے لئے

اَلَمْ نَخْلُقْكُّمْ مِّنْ مَّآءٍ مَّهِیْنٍۙ Open ayah 77:20 in the Quran reader

کیا ہم نے تم کو پیدا نہیں کیا ایک بےقدرے (اور حقیر) پانی سے ؟

فَجَعَلْنٰهُ فِیْ قَرَارٍ مَّكِیْنٍۙ Open ayah 77:21 in the Quran reader

پھر ہم نے اس کو ٹھہرائے رکھا (اپنی حکمت وقدرت سے) ایک محفوظ ٹھکانے میں

اِلٰى قَدَرٍ مَّعْلُوْمٍۙ Open ayah 77:22 in the Quran reader

ایک مقررہ مدت تک

13 ۔ منکرین و مکذبین کے لئے بڑی ہی خرابی و ہلاکت۔ والعیاذ باللہ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ بڑی ہی خرابی اور ہلاکت ہوگی اس روز جھٹلانے والوں کے لئے جنہوں نے تاریخ اقوام او واقعات عالم کے اس دستور سے بھی کوئی سبق نہ لیا، اس سے بھی ان کی آنکھیں نہ کھل سکیں اور وہ حق اور حقیقت کو جھٹلاتے ہی گئے یہاں تک کہ فرصت حیات جو ان کو حضرت حق جل مجدہ کی طرف سے دراصل آخرت کی اس حقیقی اور ابدی زندگی کو بنانے سنوارنے ہی کے لئے دی گئی تھی، وہ تمام ہوئی اور یہ کفر و تکذیب اور انکار وعناد کی ظلمتوں ہی کے ساتھ اس دنیا سے ہمیشہ کے لئے رخصت ہوگئے اور اپنے کئے کرائے کے نتیجے میں یہ اس دائمی خسران و ہلاکت سے ہمکنار ہوگئے، جس سے بچنے اور نکلنے کی اب کوئی صورت ان کے لئے ممکن نہ ہوگی، سو یہ خسارہ سب سے بڑا اور ایسا ہولناک خسارہ ہے کہ اس کی دوسری کوئی نظیر و مثال بھی ممکن نہیں کہ اس کی پھر تلافی وتدارک کی کوئی صورت ممکن نہ ہوگی۔ والعیاذ باللہ العظیم لا الہ الا ھو وایاہ نسال التوفیق والسداد لما یحب ویرضی جل وعلا۔
Ayah 77:23

فَقَدَرْنَا١ۖۗ فَنِعْمَ الْقٰدِرُوْنَ Open ayah 77:23 in the Quran reader

پھر ہم نے (اس کی ہر چیز کا) ایک اندازہ ٹھہرایا سو ہم کیا ہی خوب اندازہ ٹھہرانے والے ہیں

16 ۔ قدرت کی شان رحمت و عنایت میں دعوت غور و فکر : سو ارشاد فرمایا گیا کہ ہم کیا ہی خوب اندازہ ٹھہرانے والے ہیں، کہ کس طرح اس انسان کو ایک محفوظ گوشے میں رکھواتے ہیں اور دوسرا مطلب اس کا یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ہم ہی ہیں اس سب پر قدرت رکھنے والے اور کیا ہی خوب ہیں ہم قدرت رکھنے والے، یعنی یہ لفظ قدرے بھی ماخوذ و مشتق ہوسکتا ہے، جس کے معنی اندازہ کرنے کے ہیں اور قدرت سیبھی ہوسکتا ہے، جس کے معنی قدرت کے ہیں اور بعض نے کہا کہ اس میں پہلا لفظ تو قدر سے ماخوذ ہے اور دوسرا قدرت سے، یعنی اس کے لئے ہم ہی نے ایک انداز مقرر کیا اور ہم بڑی ہی قدرت والے ہیں جو اس قدر باریکی اور ایسی حکمت وقدرت سے ایسے پر حکمت انداز سے مقرر کرتے ہیں اور انسان کو اس قرار مکین اور گوشہ محفوظ میں نہایت ہیپرحکمت طریقے سے رکھواتے ہیں تاکہ جن صلاحیتوں سے اس کو نوازنا مقصود ہوتا ہے وہ اس کی فطرت وجبلت کے اندر اپنی جگہ بنالیں۔ پھر اس کے بعد یہ قدرت ہی کی حکمت اور عنایت ہوتی ہے جو اس کو اس قرار مکین اور گوشہ محفوظ سے باہر لاتی ہے۔
Ayahs 77:24–25

وَیْلٌ یَّوْمَئِذٍ لِّلْمُكَذِّبِیْنَ Open ayah 77:24 in the Quran reader

بڑی خرابی ہوگی اس دن جھٹلانے والوں کے لئے

اَلَمْ نَجْعَلِ الْاَرْضَ كِفَاتًاۙ Open ayah 77:25 in the Quran reader

کیا ہم نے نہیں بنایا (اپنی قدرت و حکمت سے) اس زمین کو سمیٹنے والی ؟3

17 ۔ منکرین و مکذبین کے لئے بڑی ہی خرابی و ہلاکت۔ والعیاذ باللہ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ بڑی خرابی اور ہلاکت ہے جھٹلانے والوں کے لئے جنہوں نے خود اپنے اندر پائی جانے والی اس دلیل قدرت و حکمت پر بھی غور نہیں کیا، تاکہ اس سے ان کو حق اور حقیقت کا ادراک نصیب ہوجاتا اور یہ تکذیب حق پر کمر بستہ نہ رہتے، سو بعث بعد الموت یعنی مرنے کے بعد دوبارہ اٹھنے سے متعلق پیدا ہونے والے سوالات اور اس بارہ وارد کئے جانے والے شکوکو شبہات کی تردید کے لئے خود انسان کی اپنی خلعت ہی کافی ہے، بشرطیکہ انسان اس میں صحیح طور سے غور و فکر سے کام لے، مگر مشکل اور مشکلوں کی مشکل یہ ہے کہ غفلت کا مارا انسان اس بارہ سوچتا ہی نہیں بلکہ وہ اس سب سے آنکھیں بند کر کے خواہشات نفس کی بندگی میں لگا ہوا ہے۔ والعیاذ باللہ العظیمسو انسان اگر اپنے وجود ہی میں سوچے اور اسی کے بارے میں غور و فکر سے کام لے اور ان حیرت انگیز تصرفات ہی پر نگاہ عبرت و بصیرت ڈالے جو قدرت کی طرف سے اس قطرے کو گوہر بنانیح پر کئے جاتے ہیں تو سب حقائق اس کے سامنے روشن اور واضح ہوجائیں اور اس کو معلوم ہوجائے کہ جس قادر مطلق نے اس کو اس قدر حکمت و عنایت اور رحمت و رعایت کے ساتھ پیدا کیا اور وجود بخشا ہے۔ تو اس نے اس کو یونہی عبث اور بیکار نہیں پیدا کیا بلکہ اس کو کسی خاص مقصد اور غایت کے ساتھ وجود بخشا ہے اور وہ مقصد غایت یہی ہے کہ یہ اپنے رب کی معرفت اور اس کی اطاعت و بندگی کی زندگی گزارے۔ تاکہ یہ ابد الآباد کی سعادت مندی سے بہرہ ور ہو سکے۔ مگر مشکل یہ ہے کہ انسان اس بارے سوچتا ہی نہیں۔ الا ماشاء اللہ ولعیاد باللہ جل و عالیٰ
Ayah 77:26

اَحْیَآءً وَّ اَمْوَاتًاۙ Open ayah 77:26 in the Quran reader

زندوں کو بھی اور مردوں کو بھی

18 ۔ بچھونہ ارضی میں دعوت غور و فکر : سو انسانوں کے قلوب و ضمائر پر دستک کے طور پر سوالیہ انداز میں ارشاد فرمایا گیا کہ کیا ہم نے اس زمین کو نہیں بنایا سمیٹنے والی زندوں اور مردوں کو ؟۔ استفہام تقریری ہے۔ یعنی ہاں ہم نے اس کو ایسا ہی بنایا ہے کہ یہ مردوں کو سمیٹتی ہے اپنے پیٹ میں اور زندوں کو اپنی پیٹھ پر اور ان کے لئے ہم نے زندگی کی تمام ضروریات کا سامان بھی اس میں رکھ دیا، تو جس قادر مطلق نے یہ سب کچھ کردیا، اس کے لئے اس انسان ضعیف البنیان کو دوبارہ پیدا کرنا آخر کیوں اور کیا مشکل ہوسکتا ہے ؟ اور عقل و فکر اور عدل و انصاف کا تقاضا بھی یہی ہے کہ وہ ان سب کو دوبارہ زندہ کر کے اپنی ان نعمتوں کا ان سے حساب لے، جو زندگی میں اس نے ان کو عطا فرمائی تھیں اور اس حساب و کتاب اور امتحان میں کامیابی ہونے والوں کو وہ اپنے فضل سے دائمی اور حقیقی انعام سے نوازے اور ناکام ہونے والے ناشکروں اور منکروں کو ان کے جرم کی اپنی عدل و انصاف کے مطابق سزا دے، تاکہ ہر کوئی اپنے زندگی بھر کے کئے کرائے کا پورا پورا صلہ و بدلہ پا سکے، اور اس طرح عدل و انصاف کے تقاضے پورے ہو سکیں اور بھرپور طریقے سے پورے ہو سکیں، سوربوبیت و پرورش کا یہ عظیم الشان سامان جو قدرت نے اس باریک اور بےمثال اہتمام کے ساتھ اس زمین میں رکھا ہے، اس بات کا متقتضی ہے کہ یوم الفصل قائم ہو اور ہر انسان کو اس کے زندگی بھر کے کئے کرائے کا صلہ اور بدلہ ملے تاکہ عدل و انصاف کے تقاضے علی وجہ التمام والکمال پورے ہوں۔
Ayah 77:27

وَّ جَعَلْنَا فِیْهَا رَوَاسِیَ شٰمِخٰتٍ وَّ اَسْقَیْنٰكُمْ مَّآءً فُرَاتًاؕ Open ayah 77:27 in the Quran reader

اور (کیا یہ امر واقع نہیں ہے کہ) ہم نے اس میں جما دئیے بلند وبالا یہ (فلک بوس اور دیو ہیکل) پہاڑ ؟ اور ہم نے پلایا تم لوگوں کو (صاف ستھرا اور) میٹھا پانی ؟

19 ۔ پہاڑوں میں سامان غور و فکر : سو پہاڑوں کے اندر موجود سامان غور و فکر میں دعوت غور و فکر کے طور پر ارشاد فرمایا گیا کہ کیا ہم نے زمین میں ان بلند وبالا پہاڑوں کے عظیم الشان لنگر نہیں ڈال دیئے ؟ تاکہ تین حصے پانی میں گھرا ہوا یہ کرہ ارضی کہیں اپنے ساکنوں کو لے کر ڈولنے نہ لگے اور اس طرح ان کا اس میں رہنا بسنا دوبھر نہ ہوجائے، جیسا کہ سورة نحل میں فرمایا گیا " والقی فی الارض رواسی ان تمیدبھم " الا بۃ (النحل :16) اور سورة انبیاء میں ارشاد فرمایا گیا۔ " وجعلنا فی الارض رواسی ان تمیدبھم الابۃ (الانبیائ :31) نیز سورة لقمن بھی ارشاد فرمایا گیا۔ " والقی فی الارض رواسی ان تمید بھم " (لقمن :10) سو یہ اللہ پاک کا ایک عظیم الشان کرم اور انعام و احسان ہے، سبحانہ و تعالیٰ ، سو زمین کے اس عظیم الشان کرے کو انسان کی رہائش اور اس کی پرورش کے لئے گہوارہ بنانے میں ان عظیم الشان پہاڑوں کے وجود اور ان کی تنصیب و ترکیز کو بڑا دخل ہ، اسی لئے دوسرے مقام پر ان کے ذریعے قائم کئے جانے والے تناسب کے اعتبار سے ان کو زمین کی میخیں قرار دیا گیا ہے، چناچہ وہاں ارشاد فرمایا گیا۔ " الم نجعل الارض مہادا والجبال اوتادا " (النبا :6-7) یعنی کیا یہ امر واقع نہیں کہ میں نے اس زمین کو ایک عظیم الشان بچھونا بنادیا ؟ اور اس کے قرار و تناسب کے لئے اس میں پہڑاوں کی یہ عظیم الشان میخیں ٹھونک دیں ؟ ان عظیم الشان اور فلک بوس پہاڑوں کے یہ دیوہیکل سلسلے اپنی زبان حال سے پکار پکار کر دنیا کو دعوت غور و فکر اور اپنے خالق ومالک کی قدرت و حکمت، اس کی رحمت و عنایت اور اس کی وحدانیت ویکتائی کا درس دے رہے ہیں مگر غفلت کی ماری دنیا ہے کہ وہ اس پر کان دھرنے کے لئے تیار نہیں۔ کتنے لوگ ماؤنٹ ایورسٹ جیسی چوٹیوں کو سر کرنے کے لئے تو جان کی بازی تک لگا دیتے ہیں مگر ان کو اس بارے سوچنے اور غور و فکر کرنے کی توفیق نہیں ملتی کہ ان عظیم الشان پہاڑوں اور فلک بوس چوٹیوں کو پیدا کس نے کیا اور ان کو اس قدر پختگی اور مضبوطی سے نصب کس نے کیا ؟ اس کا ہم پر کیا حق ہے ؟ اس کے اس حق کو ادا کرنے کی صورت کیا ہوسکتی ہے۔ سو ان کو اس بارے سوچنے کی توفیق نہیں ہوئی۔ الا ماشاء اللہ۔ 20 ۔ میٹھے پانی کی نعمت میں سامان غور و فکر : سو پانی کی اس عظیم الشان نعمت میں جس پر کہ حیوانی اور نباتاتی زندگی کا مدارو انحصار ہے اس میں دعوت غور و فکر کے لئے ارشاد فرمایا گیا کہ کیا ہم نے تمہیں صاف سھترا اور میٹھا پانی پلانے کا انتظام نہیں کیا ؟ استفہام تقریری ہے یعنی ہاں ہم نے ایسا انتظام کیا اور ضرور کیا اور حیرت انگیز طریقے سے کیا، سو تم ذرہ دیکھو تو سہی کہ سمندر کی صورت میں موجود پانی کے اس عظیم الشان ذخیررے کو کس طرح گرم کر کے اور بھاپ بنا کر ہواؤں کے دوش پر لاد کر ہمالیہ جیسے دور دراز پہاڑوں اور دوسرے مختلف علاقوں اور پہاڑی سلسلوں پر لے جا کر برسایا جاتا ہے اور اس طرح کہ سمندر میں تو وہ پانی سخت کھاری اور کڑوا ہوتا ہے۔ مگر اس کے بعد اس کو میٹھا اور خوشگوار بنادیا جاتا ہے۔ پھر اس کا کچھ حصہ ندیوں نالوں اور نہروں دریاؤں کی شکل میں دور دور پہنچا دیا جاتا ہے اور کچھ کو زمین کے اندر محفوظ کرنے کے بعد چشموں، سوتوں اور کنوؤں کی شکل میں نکالا جاتا ہے اور کچھ کو بلند وبالا پہاڑی سلسلوں پر برف کی شکل میں جما کر سٹور کردیا جاتا ہے جو بعد میں حسب ضرورت و موقع پگھل پھگل کر انسانی ضرورتوں کی طرح طرح سے تکمیل کرتا ہے، تو کیا دنیا کی کوئی بڑی سے بڑی ترقی یافتہ حکومت یا سب حکومتیں باہمل مل کر بھی اور تمام ذرائع و وسائل کو استعمال کر کے بھی ایسا انتظام کرسکتی ہیں ؟ اور جب نہیں اور یقیناً اور ہرگز نہیں، تو پھر تم لوگ خود سوچ لو اور یہ اندازہ کرلو کہ وہ خالق ومالک کیسا قادر مطلق، حکیم مطلق، رحیم و کریم اور کس قدر مہربان ہے سبحانہ و تعالیٰ پھر کیسے ہوسکتا ہے کہ یہ حکمتوں اور نعمتوں و رحمتوں بھری کائنات تو انسان کے لئے ہو، اور خود انسان کی زندگی اور اس کا وجود بےمقصد و بکیار ہو ؟ آخر ایسا کیوں اور کس طرح ممکن ہوسکتا ہے ؟ سو ایسا نہیں اور ہرگز نہیں بلکہ اصل حقیقت یہ ہے کہ یہ سب کچھ تو حضرت خالق حکیم اور رب رحیم و کریم نے اپنے بندوں کی خدمت و بھلائی اور ان کے نفع اور بہتری کے لئے پیدا فرمایا ہے اور بندوں کو اپنی عبادت و بندگی کے لئے جیسا کہ فرمایا گیا۔ الدنیا خلقت لکم و انکم خلقتم الاخرۃ یعنی " اس دنیا ساری کو تو تمہارے لئے پیدا کیا گیا ہے اور تم کو آخرت کے لئے پیدا کیا گیا ہے۔ " وباللہ التوفیق لمایحث ویریدو علی مایحب ویرید۔
Ayah 77:28

وَیْلٌ یَّوْمَئِذٍ لِّلْمُكَذِّبِیْنَ Open ayah 77:28 in the Quran reader

بڑی ہی خرابی ہوگی اس دن جھٹلانے والوں کے لئے2

21 ۔ منکرین و مکذبین کے لئے بڑی خرای اور ہلاکت والعیاذ باللہ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ بڑی ہی خرابی اور ہلاکت ہے اس دن جھٹلانے والوں کے لئے۔ جو اس کائنات میں پھیلے ہوئے اس قدر عظیم الشان نشانائے قدرت اور آثار رحمت و ربوبیت سے منہ موڑ کر تکذیب وعناد کی روش ہی پر قائم رہے، یہاں تک کہ وہ اپنی عمر کی انتہاء اور ابدی شقاوت کو پہنچ گئے اور اپنے کفر و تکذیب کی نتیجے میں اپنے اس آخری انجام سے دوچار ہوگئے، جس سے بچنے اور نکلنے کی پھر کوئی صورت ان کے لئے ممکن نہ ہوگی۔ والعیاذ باللہ سو اس میں حکمتوں بھری کائنات کی اس عظیم الاشن اور کھلی کتاب میں غور فکر سے کام لینے اور اس سے درسہائے عبرت و بصیرت اپنانے کے لئے تحریک وتحریض ہے، تاکہ اس طرح انسان اپنے باطن کو نور معرفت سے مزید از مزید منور و معمور کرسکے اور اس کے نتیجے میں اپنے خالق ومالک کے حضور دل و جان سے جھک کر اپنے لیے دارین کی سعادت و سرخروئی کا سامان کرسکے۔ وباللہ التوفیق۔ اللہ ہمیشہ اپنی رضا و خوشنودی کی راہوں پر چلنا نصیب فرمائے۔ آمین
Ayahs 77:29–30

اِنْطَلِقُوْۤا اِلٰى مَا كُنْتُمْ بِهٖ تُكَذِّبُوْنَۚ Open ayah 77:29 in the Quran reader

(اس روز کہا جائے گا کہ) اب چلو تم لوگ اسی چیز کی طرف جس کو تم جھٹلایا کرتے تھے

اِنْطَلِقُوْۤا اِلٰى ظِلٍّ ذِیْ ثَلٰثِ شُعَبٍۙ Open ayah 77:30 in the Quran reader

چلو تم تین شاخوں والے ایک ایسے ہولناک سائے کی طرف

22 ۔ مشاہد قیامت کی تصویر اور منکرین و مکذبین کی تذلیل و تخیل : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اس روز منکرین و مکذبین سے کہا جائے گا کہ اب چلو تم لوگ اس چیز کیطرف جس کو تم جھٹلایا کرتے تھے۔ سو اب چلو تم لوگ تین شاخوں والے اس ہولناک دھوئیں کی طرف جس میں نہ کسی طرح کا کوئی سایہ ہوگا اور نہ ہی آگ کی لپیٹ سے کوئی بچاؤ۔ جو کہ نام کا تو سایہ ہوگا مگر حقیقت میں وہ دوزخ کا ایسا شدید دھواں اور ہولناک عذاب ہوگا جسے تہکم اور تذلیل کے طور پر سایہ فرمایا گیا ہے اور وہ ان کفار و فجار اور منکرین و مکذبین پر وہاں پر چھایا ہوگا۔ والعیاذ باللہ۔ جب کہ اہل ایمان وتقویٰ عرش عظیم کے سایہ حمت کے نیچے ہوں گے اور پھر جنت کی بہاروں اور وہاں کے باغوں اور چشموں میں اللہ نصیب فرمائے آمین، (روح، صفوۃ، محاسن وغیرہ) سو تین شاخوں والا وہ سایہ حقیقت میں سایہ نہیں ہوگا، بلکہ وہ جہنم کی آگ کا اٹھتا ہوا ہولناک دھواں ہوگا، والعیاذ باللہ العظیم کمال قال تعالیٰ وظل من یحموم " 43 " لابارد ولاکریم " 44 " (الواقعۃ 43-44) سو اس سے مشاہد قیامت کی تصویر اور منکرین و مکذبین کی تذلیل و تجیل کا منظر پیش فرمایا گیا۔ اللہ ہمیشہ اپنی حفاظت و پناہ میں رکھے، آمین ثم آمین۔
Ayahs 77:31–32

لَّا ظَلِیْلٍ وَّ لَا یُغْنِیْ مِنَ اللَّهَبِؕ Open ayah 77:31 in the Quran reader

جس میں نہ کوئی ٹھنڈک ہوگی اور نہ ہی وہ کچھ کام آسکے گا آگ کی لپٹ سے بچانے میں

اِنَّهَا تَرْمِیْ بِشَرَرٍ كَالْقَصْرِۚ Open ayah 77:32 in the Quran reader

وہ آگ ایسی ہولناک چنگاریاں پھینک رہی ہوگی جو کہ (اپنی جسامت میں) محل کی طرح ہوں گی

23 ۔ دوزخ کے دھوئیں کی ہولناکی کا ذکر وبیان : سو دوزخ کے اس دھوئیں کی ہولناکی کے ذکر وبیان کے سلسلے میں ارشاد فرمایا گیا کہ جس میں نہ کوئی ٹھنڈک ہوگی اور نہ آگ کی لپیٹ سے کوئی بچاؤ اور یہی دو اصل فائدے ہوتے ہیں جو کہ سایہ سے اصل میں مقصود ہوتے ہیں، مگر ان دونوں میں سے کوئی بھی فائدہ وہاں کے اس دھوئیں سے حاصل نہیں ہوگا، سو اس دھوئیں کے اندر اذیت اور تکلیف کے سب پہلو تو موجود ہوں گے اور پوری شدت کے ساتھ موجود ہوں گے لیکن آرام و راحت اور نفع و فائدے کی کوئی چیز اس میں بہرحال نہیں ہوگی، یہاں پر بھی واضح رہے کہ سمتیں بہرحال چار ہی ہوتی ہیں، ان لوگوں کے لئے ایک سمت کو کھلا اور اس دھوئیں سے محفوظ رکھا جائے گا جدھر ان کو کھڑا کیا جائے گا، باقی تین طرفوں سے ان کو اس دھوئیں نے گھیر رکھا ہوگا اس لئے اس کو تین شاخوں والا فرمایا گیا ہے۔ سو اس دھوئیں کی صفت ذی ثلث شعب لانے سے اس حقیقت کو واضح فرما دیا گیا کہ وہ ان کے آگے تمام سمتوں میں پھیلا ہوا ہوگا۔ اس کی صرف وہی سمت خالی ہوگی جس سے ان بدبخت مکذبین و منکرین کو کھد یڑ کر لایا جائے گا جس کے بعد انکے لئے ہر طرف دھواں ہی دھواں ہوگا۔ والعیاذ باللہ العظیم اللہ ہمیشہ اپنی پناہ میں کھے آمین
Ayah 77:33

كَاَنَّهٗ جِمٰلَتٌ صُفْرٌؕ Open ayah 77:33 in the Quran reader

(جو اپنی کثرت اور اچھل کود میں ایسے لگتی ہوں گی کہ) جیسے کہ وہ اونٹ ہیں زرد رنگ کے

24 ۔ دوزخ کی چنگاریوں کی ہولناکی کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ وہ آگ محلوں جیسے ہولناک شعلے پھینک رہی ہوگی اور اس کے شعلے زرد اونٹوں کی طرح ہوں گے۔ یعنی اپنی رفتار اور قطار بندی کے اعتبار سے، یا اس طرح کہ شروع میں وہ چنگاریوں بڑے بڑے محلوں کے برابر ہوں گی، لیکن آگے چل کر ٹوٹ ٹوٹ کر وہ اونٹوں کے برابر ہوجائیں گی، جیسا کہ چنگاریوں میں عام طور پر ہوتا ہے، کہ شروع میں وہ بڑی بڑی ہوتی ہیں، مگر آگے ٹوٹ ٹوٹ کر وہ چھوٹی ہوتی جاتی ہیں (روح، ابن کثیر، کبیر اور مراغی وغیرہ) سو اس سے اندازہ کرلو کہ جس آگ کے شراروں، شعلوں اور اس کی چنگاریوں کا یہ عالم ہوگا وہ خود کیسی ہوگی ؟ والعیاذ باللہ العظیم سو یہ تشبیہہ شعلوں اور چنگاریوں کے رنگ کو بھی نمایاں کر رہی ہے، اور ان کی بڑائی کو بھی اور صفرہ (زرد رنگ) کے ذکر سے یہ واضح فرما دیا گیا کہ دھوئیں کی آڑ سے شعلوں کا رنگ زرد رنگ کے اونٹوں سے بالکل مشابہ ہوتا ہے، والعیاذ باللہ العظیم من کل نوع من انواع العذاب اللہ ہمیشہ اور ہر طرح سے اپنی حفاظت و پناہ میں رکھے۔ آمین
Ayahs 77:34–35

وَیْلٌ یَّوْمَئِذٍ لِّلْمُكَذِّبِیْنَ Open ayah 77:34 in the Quran reader

بڑی خرابی ہوگی اس دن جھٹلانے والوں کے لئے

هٰذَا یَوْمُ لَا یَنْطِقُوْنَۙ Open ayah 77:35 in the Quran reader

یہ وہ دن ہوگا کہ جس میں نہ تو وہ کچھ بول سکیں گے

25 منکرین و مکذبین کے لئے بڑی ہی خرابی اور ہلاکت۔ والعیاذ باللہ العظیم : سو ارشاد فرمایا گیا کہ بڑی خرابی اور ہلاکت ہوگی اس دن جھٹلانے والوں کے لئے جو بار بار کی ان تنبیہات کے باوجود اپنے کفر و تکذیب سے باز نہ آئے اور انہوں نے اس صاف وصریح حق کو مان کر نہ دیا یہاں تک کہ وہ دنیا سے کفر و تکذیب کی ظلمات کے ساتھ ہی رخصت ہوئے اور انجام کار دوزخ کی اس ہولناک آگ کا لقمہ بن گئے، جس کی چنگاریوں کی ہولناکی اس درجہ کی ہوگی اور اس کا لقمہ بھی وہ ہمیشہ کے لئے بنے اور ایسے کہ اس سے گریز و فرار کی پھر کوئی راہ ان کے لئے ممکن نہ ہوگی، سو کفر و انکار اور تکذیب حق و صدق خرابیوں کی خرابی اور دائمی ہلاکت و تباہی کی جڑ بنیاد ہے، والعیاذ باللہ من کل شائبۃ من شوائب التکذیب و الارتیاب وھوجل وعلانعم المولی و نعم النصیر : سو نجات و فلاح کا راستہ یہی اور صرف یہی ہے کہ انسان اپنی اس دنیاوی زندگی میں صدق دل سے ویم جزا پر ایمان لا کر اس کے لئے تیاری کیر۔ وباللہ التوفیق اور زندگی کو اپنے خالق ومالک کے احکام و ہدایات کے مطابق گزارے اور ہمیشہ اور ہر حال میں اسی کی رضا و خوشنودی کی حصول کو اپنا اصل مقصد اور نصب العین بنائے۔ وباللہ التوفیق لیا یحب ویریدو علی مایحب ویریدو علیہ نتوکل وبہ نستعین۔ بکل حال بن الاحوال و فی کل حین من الحیان
Ayah 77:36

وَ لَا یُؤْذَنُ لَهُمْ فَیَعْتَذِرُوْنَ Open ayah 77:36 in the Quran reader

اور نہ ہی انہیں اس کی اجازت دی جائے گی کہ وہ کوئی عذر پیش کریں

26 ۔ قیامت کے روز منکرین کی بولتی بند : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اس روز یہ لوگ بول بھی نہ سکیں گے۔ یعنی ایسا بولنا کہ جس سے ان کو کوئی فائدہ پہنچ سکے، کہ بولنے عالنے اور عذر معذرت پیش کرنے کے سب مراحل گذر چکے ہوں گے اور اب ان کا جرم اس طرح کہ محاورے میں بولا جاتا ہے کہ ہم نے فلاں شخص کی بولتی بند کردی، اس کی زبان کو تالا لگا دیا، وغیرہ، بہرکیف وہاں پر نہ ان کے کسی بول سے ان کو کوئی فایدہ پہنچ سکے گا اور نہ کسی عذر و معذرت کا، جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا " فیومئذ لاینفع الذین ظلموا معذرتھم ولاھم یستعبون " (الروم :57) نیز ایک اور مقام پر فرمایا گیا۔ " یوم لاینفع الذین ظلموا معذرتھم ولھم اللغۃ ولھم سوء الدار " (المومن :52) بہرکیف اس سے منکروں کی قیامت کے روز کی بےبسی اور درماندگی کی تصویر پیش فرما دی گئی ہے، کہ آج تو یہ لوگ قیامت کی تکذیب کے لئے آگے بڑھ بڑھ کر باتیں کر رہے ہیں اپنی چرب لسانی سے کام لیتے اور اپنی زبان درازیوں اور طلاقت لسانی کا ثبوت دے رہے ہیں، لیکن کل قیامت کے اس یوم عظیم میں ان کی زبانیں اس طرح کنگ ہو کر رہ جائیں گی کہ یہ لوگ کوئی بات بھی نہ کرسکیں گے، جیسا کہ اگلی سورت میں ارشاد فرمایا گیا " لایملکون منہ خطابا " (النبا :37) " اس دن مجرم لوگ اس سے خطاب نہ کرسکیں گے " سو جو لوگ آج اپنے کفر و انکار اور تکذیب و اعراض کے لئے بڑی منطق بازی کا مظاہرہ کرتے ہیں ان کو اس دن کی اپنی اس بےبسی کی تصویر کو اپنے پیش نظر رکھنا چاہئے۔ والعیاذ باللہ العظیم اللہ ہمیشہ اپنی حفاظت و پناہ میں رکھے آمین ثم آمین۔
Ayah 77:37

وَیْلٌ یَّوْمَئِذٍ لِّلْمُكَذِّبِیْنَ Open ayah 77:37 in the Quran reader

بڑی ہی خرابی ہوگی اس دن جھٹلانے والوں کے لئے

27 ۔ منکرین و مکذبین کے بڑی ہی خرابی و ہلاکت : سو ارشاد فرمایا گیا کہ بڑی ہی خرابی اور ہلاکت ہوگی اس دن جھٹلانے والوں کے لئے جنہوں نے دنیا میں حق کی دعوت کو ہمیشہ جھٹلایا تاآنکہ فرصت عمران کے ہاتھ سے نکل گئی اور یہ اپنے اس آخری اور دائمی انجام سے اس طرح ہمکنار ہوگئے کہ اب اس سے چھٹکارے اور گلو خلاصی کی کوئی صورت ان کے لئے ممکن نہیں ہوگی۔ والعیاذ باللہ اور قرآن حکیم کی ایسی ایسی تنبیہات و تذکیرات کے باوصف اور پغیمبر کی زبان حق ترجمان سے اس یوم مہیب کی ان ہولناکیوں کو سننے کے باوجود ان لوگوں نے اس کے بارے میں نہ کوئی فکر کی نہ پرواہ، نہ دعوت حق پر کان دھرا اور نہ راہ حق و ہدایت کو اپنایا یہاں تک کہ فرصت عمر کو تمام کردیا اور وہ کفر و تکذیب اور انکار حق کے ساتھ اس جہان فانی سے آخرت کے اس عالم جاودانی کی طرف سدھار گئے۔ سو دعوت حق کی تکذیب و انکار اور اس سے روگردانی و اعراض منبع شراد فساد، ہلاکتوں کی ہلاکت، اور دائمی و ابدی محرومی کا باعث ہے۔ والعیاذ باللہ العظیم اللہ ہمیشہ اور ہر اعتبار سے اپنی حافظت و پناہ میں رکھ۔
Ayahs 77:38–39

هٰذَا یَوْمُ الْفَصْلِ١ۚ جَمَعْنٰكُمْ وَ الْاَوَّلِیْنَ Open ayah 77:38 in the Quran reader

(ان سے کہا جائے گا کہ) یہ ہے فیصلے کا دن ہم نے جمع کرلیا تم کو بھی اور (تم سے) پہلے گزرے ہوئے لوگوں کو بھی

فَاِنْ كَانَ لَكُمْ كَیْدٌ فَكِیْدُوْنِ Open ayah 77:39 in the Quran reader

پس اگر تم لوگوں کے پاس کوئی چال ہے تو اب تم مجھ پر چلا کر دیکھ لو1

28 ۔ منکرین و مکذبین کی تخیل و تذلیل کا ایک منظر : سو اس سے واضح فرمادیا گیا کہ روز ایسے بدبختوں کی تخیل و تذلیل کے لئے ان سے کہا جائے گا کہ یہ ہے فیصلے کا وہ دن ہم نے جمع کرلیا تم کو بھی اور تمہارے اگلوں کو بھی۔ سب کو ایک ہی مقام میں جس کو تم بعید اور ناممکن سمجھت تھے، سو اب وہ تمہاری آنکھوں کے سامنے موجود ہے، پس اب اپنے ہاتھوں کی کاشت کردہ اس فصل کو تم خود کاٹو اور اپنے اس ہولناک انجام کو تم لوگ اب ہمیشہ کے لئے بھگتتے رہو، جس کا سامان تم نے اپنی دنیاوی زندگی کی اس فرصت عمل میں خود کیا تھا، والعیاذ باللہ العظیم یہاں پر یہ امر واضح رہے کہ کفار جب قیامت کا مذاق اڑاتے تو کہتے کہ کیا جب قیامت آئے گی تو اس وقت ہمارے اگلے باپ دادا کو بھی جمع کیا جائے گا اور اپنے اس طنزیہ سوال سے وہ قیامت کا ناممکن ہونا ثابت کرنا چاہتے کہ یہ تو ایک انہونی بات ہے کہ ہمارے ان آباؤ و اجداد کو بھی از سر نو زندہ کر کے اٹھایا جائے گا جو کتنے ہی زمانے پہلے مرکھپ کر ختم ہوگئے ہیں، سو ان کے اسی طنزیہ سوال کے پیش نظر اس روز ان سے کہا جائے گا کہ لو آج تم بھی ہمارے سامنے موجود ہو اور تمہایر اگلے باپ دادا بھی اور یہی وہ آخری اور ہلناک انجام تھا جس سے تم لوگوں کو دنیا میں خبردار کیا جاتا تھا اور اس کے جواب میں تم لوگ تعجب و انکار کرتے ہوئے طنزیہ انداز میں کہا کرتے تھے۔ " ائذا متنا وکنا تراباً وعظامات ائنا لمبعوثون اوبائنا الاولون " الصافات :16-17) یعنی " کیا جب ہم لوگ مر کر مٹی ہو کر اور ہڈیوں کا پنجر بن کر رہ جائیں گے تو کیا واقعی ہمیں دوبارہ زندہ کر کے اٹھایا جائے گا اور ہمارے اگلے باپ دادا کو بھی اور اسی بات کو سورة واقعہ کی آیت نمبر 47-48 میں بھی ذکر فرمایا گیا ہے۔ سو اس روز ان سے کہا جائے گا کہ لو اب ہم نے تم سب کو جمع کردیا ہے اور تم ہمارے سامنے موجود ہو۔
Ayah 77:40

وَیْلٌ یَّوْمَئِذٍ لِّلْمُكَذِّبِیْنَ۠ Open ayah 77:40 in the Quran reader

بڑی ہی خرابی ہوگی اس دن جھٹلانے والوں کے لئے

30 ۔ منکرین و مکذبین کے لئے بڑی ہی خرابی و ہلاکت : سو ارشاد فرمایا گیا کہ بڑی خرابی اور ہلاکت ہوگی اس دن جھٹلانے والوں کے لئے جنہوں نے یہ سب کچھ سننے کے باوجود عبرت نہ پکڑی اور وہ حق کے آگے نہ جھکے۔ بلکہ انہوں نے دنیا میں عقل و فکر کی اپنی خدا داد صلاحیتوں کو قبول حق اور خدمت حق میں صرف کرنے کی بجائے الٹا ان کو حق اور اہل حق کے خلاف استعمال کر کے اپنے لئے دوزخ کی آتش سوزاں کا سامان کیا، والعیاذ باللہ اور انہوں نے حق کو قبول کرنے کی بجائے اس کو نیچا دکھانے اور اس کا راستہ روکنے کے لئے طرح طرح کی چالیں چلیں اور تکذیب و انکار کے اس ہولناک انجام کو سن کر بھی انہوں نے آنکھیں نہ کھولیں۔ اور حق پر کان دھنے اور اس کے آگے جھکنے کی بجائے اپنے کفر و انکار ہی پر اصرار کیا اور دعوت حق کو سننے ماننے کی بجائے اس سے اندھے اور بہرے بن کر وہ دائمی خسارے اور ابدی محرومی کے اس ہولناک انجام کو پہنچ کر رہے ہیں۔ والعیاذ باللہ العظیم اللہ تعالیٰ ہمیشہ اور ہر اعتبار سے اپنی حفاظت و پناہ میں رکھے۔ آمین ثم آمین۔