Ayahs 77:1–7ترکیب : والمرسلٰت الواوللقسم عرفا مصدر فی موضع الحال ای متتابعۃ او مفعول لہ ای ارسلت للاحسان والمعروف ‘ فالعاصفات الفاء للعطف و کذامابعدھا معطوف علی المرسلات عصفا مصدر مؤکد یقال عصف بالشیء اذا اباوہ واھل کہ یقال ناقد عصوف و عصفت العرب بالقوم ای ذھبت بھم ذکرا مفعول بہ نشرا۔ وفرقا مصدر ان عذرا او نذرا قیل مصدران لیکن وسطھما اویضم وقیل جمع عذیر و نذیر فعلی الاول ینتصبان علی المفعول لہ اوعلی البدل من ذکرا و بذکرا وعلی الثانی حالان من الضمیر فی الملقیات ای معذورین و منذرین انما اصلہ ان ماما بمعنی الذی والخبر لواقع والجملۃ جواب القسم ولذاصدرت بان للتاکید۔
تفسیر : یہ سورة حسن و عکرمہ وعطاء و جابر کے نزدیک مکہ میں نازل ہوئی اور جمہور کا اسی طرف رجحان ہے۔ قتادہ کہتے ہیں مگر یہ آیت واذاقیل لہم ارکعوالایرکعون مدینہ میں نازل ہوئی اور بخاری ومسلم کی وہ روایت جو ابن مسعود ؓ سے ہے اسی کی مؤید ہے وہ یہ کہ ابن مسعود ؓ فرماتے ہیں کہ ہم نبی ﷺ کے ساتھ منٰی کے ایک غار میں تھے کہ سورة مرسلات نازل ہوئی اور نبی ﷺ اس کو پڑھ رہے تھے اور میں آپ کے منہ سے لے رہا تھا اور ہنوذ آپ کا دہن مبارک تر ہی تھا کہ ایک سانپ ہم پر کود پڑا۔ آپ نے فرمایا اس کو مارو ہم مارنے دوڑے لیکن وہ چلا گیا۔ آپ نے فرمایا کہ اس کو حق سبحانہ ٗ نے تم سے بچا لیا جس طرح تم کو اس سے بچا لیا۔
اور شیخین وغیرہما نے ابن عباس ؓ سے نقل کیا ہے کہ میں اس سورة کو پڑھ رہا تھا ام الفضل نے سن کر کہا اے فرزند ! تیرے اس پڑھنے نے مجھے یاد دلادیا کہ اخیر جو کچھ ہم نے آنحضرت ﷺ کو پڑھتے سنا وہ یہی سورة تھی کہ آپ اس کو مغرب کی نماز میں پڑھ رہے تھے۔
ربط اس سورة کو سورة دہر سے یہ ہے کہ ابتداء میں کافروں کے لیے عذاب شدید کی نذیر تھی۔ بقولہ انا اعتدنا للکافرین سلاسل و اغلالا وسعیرا اور اس کے اخیر میں ظالموں کے لیے عذاب الیم تیار کرنا فرمایا ہے۔ کفار کو اس عذاب میں شک تھا کس لیے کہ دنیا میں اس کا ظہور نہیں تھا آخرت کے منکر تھے اس سورة میں چند چیزوں کی جو اس کے کمال قدرت کے نمونہ اور تغیرات عالم کے اسباب ہیں قسم کھا کر یہ ثابت کرتا ہے کہ اس عذاب کا گھر اور موقع دارآخرت ہے نہ داردنیا۔ الحاصل اس سورة میں مسئلہ معاد پر کلام تمام کیا تھا۔ اس سورة کی ابتداء میں مسئلہ معاد کو ایک نئے اسلوب سے ثابت کیا اور نئے نئے اسلوب سے ایک مدعا کو باربار دلکش عبارت میں بیان فرمانا دلوں پر نہایت اثر رکھتا ہے اور یہی وجہ ہے کہ ایک ہی مضمون کو متعدد سورتوں میں اعادہ کیا گیا ہے۔ والمرسلات عرفاً الخ اس سورة میں پانچ چیزوں کی قسم کھا کر بیان فرمایا ہے انما تو عدون لواقع کہ جس کا تم سے وعدہ کیا جاتا ہے دارآخرت میں منکروں کے لیے ان کے اعمالِ بد پر عذاب اور نیکوں کے لیے اعمال صالحہ پر ثواب یہ ہو کر رہے گا۔ اس میں کوئی شبہ اور شک نہیں۔ یہ مسئلہ کہ روح جسم چھوڑنے کے بعد ایک خاص پیکر میں باقی رہتی ہے اور اس کو جسمانی وقت کی باتیں یاد رہتی ہیں اور اس کے دنیاوی اعمال و اعتقادات اس کے سامنے عذاب وثواب ‘ رنج و راحت بن کر پیش آتے ہیں جمیع اہل ادیان کے نزدیک ثابت ہے البتہ دہری اور کچھ جہلاء اور ناتربیت یافتہ دماغ اس کے منکر ہیں اور تھے جیسا کہ عرب کے جاہل اور قریش مکہ اسی وجہ سے ان کے مقابلہ میں اس مسئلہ کے ثبوت کے لیے قسم کھا کر بیان فرمایا جاتا ہے اور اس سے زیادہ جہلاء کے نزدیک جو دروغگوئی کو عیب سمجھتے تھے اس شخص سے جس کی نسبت ان کو راست بازی کا پورا یقین تھا اور کوئی صورت یقین دلانے کی نہیں۔
ان پانچ چیزوں میں قدماء مفسرین کے کہ جن میں جلیل القدر صحابہ وتابعین بھی ہیں مختلف اقوال ہیں ملائکہ مراد ہیں۔ اول قول یہ ہے کہ ان پانچوں چیزوں سے مراد ملائکہ ہیں۔ مرسلات عرفاً وہ فرشتے جو وحی کے ساتھ حضرات انبیاء (علیہم السلام) پر لگاتار بھیجے گئے۔ (عرفاً ای ارسالاً متتابعاً یتبع بعضہا بعضا کعرف الفرس 1 ؎) یا عرفا کے معنی میں نیکی اور بھلائی کے لیے (ضدالنکرو انتصابہ علی ھذا الوجہ علی انہ مفعول لاجلہ) یعنی انتظام دنیا اور مصالح دینی کے لیے ملائکہ جو بھیجے جاتے ہیں اور ان سے تدابیر وابستہ ہیں ہم ان کی قسم کھاتے ہیں فالعاصفات عصفا پھر ان ملائکہ کی قسم جو ہلاک کرتے اور عالم میں تغیر عظیم پیدا کرتے اور تہلکہ ڈال دیتے ہیں۔ والناشرات نشرا اور قسم ہے ان فرشتوں کی جو پھیلاتے ہیں کھول کر۔ دنیا میں جو امور آیندہ مخفی ہوتے ہیں ان کے اظہار اور نشر کے لیے ملائکہ کی ایک جماعت ہے اقبال و بداقبال قحط و ارزانی تمام امور مخفیہ جو ظاہر ہوتے ہیں اور دنیا بھر میں پھیل جاتے ہیں۔ قضاء وقدر نے ان کے لیے ملائکہ معین کر رکھے ہیں ان میں ادیان حقہ اور وحی کا پھیلانا بھی آگیا۔ فالفارقات فرقاً پھر ان فرشتوں کی جوہر ایک معاملہ میں فرق وامتیا کردیتے ہیں مذاہبِ حق و باطلہ میں ‘ فاتح و مفتوح قوموں میں ‘ سعادت مندوں اور نحسوں میں ‘ فریبیوں اور خدا پرستوں میں فرق کرنے والے اور اسی طرح عہد جوانی، بڑھاپے اور لڑکپن اور حیات و ممات اور ایک قرن سے دوسرے قرن میں فرق کرنا ظلمات کو نور سے الگ کرنا اشیاء عنصریہ میں قوت نامیہ کے ہر ایک کام میں اور اسی طرح اجزائِ متشابہ انسان و حیوانات و نباتات میں فرق کر کے پتے اور پھول اور شاخ و ثمر کو جدا کردینا اور ہر ایک کو اس کے خواص و کمال میں دوسرے سے امتیاز دینا اسی طرح انسانی نطفہ میں کوئی امتیاز نہیں ہوتا پھر اسی میں سے سر اور پائوں ناک اور آنکھ وغیرہ اجزاء جدا جدا نمودار کرنا سب اسی جماعت کے متعلق ہے ان کی بھی قسم کھاتا ہے فالملقیات ذکرا عذرا اونذرا پھر ان فرشتوں کی قسم جو مخلوق کی تکمیل کے بعد ان میں ذکر ڈال دیتے ہیں۔ ذکرِ الٰہی اور اپنے خالق کے وجود وقدرت کاملہ پر گواہی دینا بھی ذکر ہے پھر یہ ذکر دو قسم پر ہے غیراختیاری جس کو تسبیح قہری کہتے ہیں۔ یہ ذکر ان ملائکہ نے ہر مخلوق کی سرشت میں ڈال دیا ہے۔ نباتات ‘ حیوانات ‘ پرندو چرند ‘ و حوش و طیور سب اسی کے ذکر میں مصروف ہیں ؎
بذکرش ہرچہ بینی درخروش است ولے دا ندورے معنی کہ گوش است
دوسری قسم ذکر اختیاری ذوی العقول کا جیسا کہ اہل ایمان انسان و جن و ملائکہ و ان باخدا مسلمانوں کے دل میں اس کا ذکر القاء بھی ملائکہ کی طرف سے ہے۔ ان کے حق میں بازپرس آخرت سے یہ ذکر عذر ہوگا اور نجات پائیں گے اور یہی ذکر اس سے غافل رہنے والوں کے لیے عذاب آخرت کا ایک خوفناک پیغام یا تنبیہ ہے۔ یا یہ کہ ذکر سے مراد قرآن و وحی ہو اور ذکر کا اطلاق قرآن و وحی پر بھی ہوا ہے جیسا کہ ان آیات میں ص والقرآن ذی الذکر وانہ لذکرلک ولقومک۔ وہذاذکر مبارک تب یہ معنی ہوں گے کہ قسم ہے ان فرشتوں کی جو قرآن لاتے ہیں یعنی نازل ہوتے ہیں۔ جبرئیل (علیہ السلام) کے ساتھ ہیں اور قرآن ماننے والوں کے لیے عذر ہے یعنی اس کے سبب وہ جمیع معاتبات سے معذور اور مغفور ہوں گے اور نہ ماننے والوں کے لیے نذروخوف و اتمام حجت ہے۔
1 ؎ عرف الفرس گھوڑے کی ایال یعنی اس کے گردن کے بال اور اسی طرح عرب الدیک مرغ کا تاج۔ گھوڑے کی ایال میں بال مجمع ہوتے ہیں اور ایک قطار سے یکے بعد دیگر ہوتے ہیں گویا یہ لفظ اس محاورہ سے ماخوذ ہے۔ 12 منہ
ان پانچ اقسام کے فرشتوں کی قسم کھانے میں عالم کی آفرینش اور ہر چیز کے وجود کی ابتدائی حالت اور پھر اس کی قوت و کمال تک پہنچ جانے کی نہایت اور پھر ممکنات کے اکتساب خیروشر اور اس کے بعد تک کی حالت اور پھر بقائِ عالم کے اسباب اور ہر چیز کی نشوونما کی کیفیت کہ عالم عدم سے عالم ظہور میں ایک چیز کیا کیا صورتیں پیدا کرتی ہے اور اس پر کیا کیا انقلابات ہوتے ہیں اور پھر سب کی پیدائش کا نتیجہ دارآخرت کی تیاری (جو ہوشیار کے لیے عذر اور اس سے غافل کے لیے نذر ہے) کس عمدہ اسلوب میں بتائی گئی ہے۔ ان سے ہوائیں مراد ہیں۔ دوسرا قول جمہور مفسرین کا ہے کہ ان پانچوں چیزوں سے مراد ہوا ہے۔ ہرچند فرشتے مخلوق میں عمدہ اور بہتر ہیں مگر ہوا کو بھی اس عالم کی بقاء اور فنا اور کاروبار میں عجب دخل ہے۔ سننا ‘ دیکھنا، چکھنا، ٹٹولنا، سونگھنا ہوا ہی پر موقوف ہے کس لیے کہ آواز جب متکیف ہوتی ہے تو ہوا کے ذریعہ سے کان کے سوراخ تک پہنچتی ہے اور دیکھنے میں شعاع آنکھوں سے نکلتے ہیں اور ہواچون کہ عنصر لطیف ہے ان کا حائل نہیں اس لیے چیزیں دکھائی دیتی ہیں اور سونگھنے میں ہوا ہی متکیف ہو کر ناک کے رستہ سے وہ کیفیت پہنچاتی ہے اور چھونے میں بھی ہوا کو دخل ہے کس لیے کہ حرارت و بردوت رطوبت و یبوست اشیاء کو مسام میں سے گھستی ہے اور نیز اندرونی کیفیت ہوا ہی کے ذریعہ سے جلد تک پہنچتی ہے اور تیز ہوا ہی پر جانداروں کی زندگی کا مدار ہے۔ سانس بند ہوا اور مرا اور نباتات کی بالیدگی وغیرہ بھی ہوا ہی کے ذریعہ سے ہے۔ دریا میں کشتیوں کو ہوا ہی لیے پھرتی ہے اور ہوا میں لطافت بھی ہے اس وجہ سے اس کو فرشتوں سے کمال مناسبت ہے۔
پس والمرسلات عرفا سے وہ ہوائیں نرم نرم مراد ہیں جن کے چلنے سے دل خوش ہوتا ہے اور انہیں سے روئیدگی ہوتی ہے اور ابر اٹھتا ہے اور عاصفات عصفا سے مراد آندھیاں اور سخت ہوائیں ہیں جن سے انقلابات عظیم پیدا ہوتے ہیں۔ دریا میں طوفان ہوتا ہے، صحرا میں درخت جڑ سے اکھڑ جاتے ہیں، درخت پژمردہ ہوجاتے ہیں۔ لفظ فاگویا اس طرف اشارہ ہے کہ نرم نرم چلنا اور سخت چلنا یکے بعد دیگر ایک ہی چیز کا کام ہے اور دونوں ایک ہی چیز کے ہر دو وصف ہیں۔ نرم نرم چلنے کے بعد وہی ہوا تند اور تیز ہوتی ہے اور اس کی یہ حالت بتلاتی ہے کہ دنیا میں انقلاب ہے اور نیز جو راحت کا سامان ہے وہی آفت بن جاتی ہے۔ مال اولاد و عورت وغیرہما تمام اسباب عیش و فرحت میں یہی بات ملحوظ ہے۔ والناشرات نشراً قسم ہے ان ہوائوں کی کہ جو دنیا میں پھیلاتی ہیں۔ بادلوں کو بھی ہوا ہی پھیلاتی ہے اگر نہ پھیلیں اور لگاتار ایک ہی جابر سے جائیں تو طوفان برپا ہوجائے اور نیز ہر چیز کے اجزائِ لطیفہ کو ایک جاء سے دوسری جاء لے جاتی ہے۔ کارخانہ جمع و تالیف ‘ نقل و تحویل ‘ کیفیات اجزائِ لطیفہ اشیاء کا جس پر ایجادو احداث اشیاء عجیبیہ مربوط ہے ‘ ہوا ہی پر منحصر ہے۔ فالفارقات فرقاً پس قسم ہے ان ہوائوں کی جو بالکل جدا کرتی ہیں۔ یہ بھی ہوا کا کام ہے کہ دانہ کا گھاس سے جدا کرنا اور پانی کا کدورت سے صاف کرنا اس کے سبب سے ہے اور اجزائِ نباتیہ و حیوانیہ کا باہم جدا ہونا ہوا ہی کے نشوونما سے ہے۔ سبزو ترّشی کے اجزاء بھی ہوا ہی جدا کرتی ہے۔ متکبروں اور پر غرور اجسام کے اجزا مرنے کے بعد ہوا ہی اڑاتی ہے، سرِ پُر غرور کے اجزاء کہیں پڑے ہوتے ہیں اور نازنین ہاتھوں کے کہیں۔ اس میں بھی انقلاب عظیم کی طرف اشارہ ہے کہ جس طرح جمع و تالیف ہوائوں کے وسیلے سے تھا تفریق و انتشار بھی آخر انہیں کے سبب سے دیکھ لیا یہاں بھی فا اس پر دلالت کرتا ہے کہ ناشرات اور فارقات ایک ہی چیز کے دو وصف یکے بعد دیگر ہیں۔ وہی ناشرات بعد میں فارقات ہوجاتی ہیں جس ہوا کی تازگی سے سرور و ان اور دلکش صورت لیے پھرتے ہیں آج اسی نے اس کے ریزے ادھر ادھر بکھیر دیے ع
صباء نے اس کے کو چے سے اڑا کر خدا جانے ہماری خاک کیا کی
غبار کو عبرت کی نگاہوں سے دیکھنا چاہیے کہ یہ ذرے کس کس جسم کے ہیں ان پر حیات میں کیا کیا بہاریں تھیں ؟ فالملقیات ذکراً پھر قسم ہے ذکر پہنچانے والی ہوائوں کی۔ ذکر سے مراد کلام اللہ کا وجود لفظی ہے کہ جس کو قرآن متلو کہتے ہیں۔ اس ذکر کے پہنچانے میں ہوا کو دخل ہے کس لیے کہ لفظ ایک کیفیت ہے جو آواز کو عارض ہوتی ہے اور پھر ہوا کے ذریعہ سے کان میں پہنچتی ہے۔ پس یہ ہوا لوگوں کے کانوں میں قرآن پہنچانے کے لیے ایک خادم ہے اور حقیقت جبرئیل (علیہ السلام) کا ایک شعبہ ہے اور اس لیے کہتے ہیں کہ حضرت جبرئیل (علیہ السلام) ہوائوں پر مؤکل ہیں۔ اس ذکر کے کانوں میں پہنچنے سے ایک تغیر اور انقلاب عظیم پیدا ہوتا ہے پھر یا سعادت کی طرف مائل ہوتا ہے اگر روح نے اس کو قبول کرلیا اور یا شقاوت کی طرف مائل ہوگیا اگر قبول نہ کیا۔ جیسا کہ فرماتا ہے عذرا یعنی کلام الٰہی کا پہنچانا یا اس لیے ہے کہ وقت بازپرس کے وہ کہے کہ یہ کام میں نے خدا کے فرمودہ کے موافق کیا اور یہ کام اس کے فرمانے کی وجہ سے چھوڑ دیا۔ بہرحال اس کے عذر اور سند اور دست آویز ہے۔ یہ عذر ہونا خاص اس کلام الٰہی کی بابت ہے جو متضمن اوامرو نواحی یا اعتقادیات ہو جیسا کہ ذات وصفات کے متعلق اور تمام کی نسبت یہی ہوسکتا ہے۔ کس لیے کہ قصص و حکایات میں تصدیق کے سوا عبرت و نتائج حاصل کرنے کا بھی موقع دیا جاتا ہے اور نذراً اور شقی ازلی ہے تو اس کو کلام الٰہی محض ڈرانے کے لیے سنایا جاتا ہے۔
اور ان پانچوں قسم کی ہوا میں ملائکہ منتظمان عالم کی ہر ایک صفت کی رعایت بھی ملحوظ ہے کس لیے کہ صفت اول مرسلات عرفا میں حقیقت میکائیلی ملحوظ ہے کیونکہ پرورش عالم انہیں کے متعلق ہے اور منجملہ اسباب پرورش کے ہوائوں کا نرم نرم چلنا بھی ہے جن سے نشوونمائے ابدان ہوتا ہے اور صفت دوم عاصفات میں حقیقت عزرائیلی ملحوظ ہے کس لیے کہ عالم کا درہم و برہم کرنا یا انقلاب عظیم انہیں کے ساتھ وابستہ ہے اور اس انقلاب کے اسباب میں سخت ہوائوں کا چلنا بھی ہے جو بڑے بڑے نشانوں کو مٹاتی ہے اور صفت سوم و چہارم ناشرات و فارقات میں صفت اسرافیلی ملحوظ ہے کس لیے کہ نفخ ارواح کے ابدان میں اور نیز حق و باطل میں امتیاز اور نیز دنیا میں ارواح کو ابدان سے متعلق کرنا انہیں کے سپرد ہے۔ یہ ہوائیں بھی انہیں کے کام میں کارآمد ہیں صفت پنجم فالملقیات ذکرا حقیقت جبرئیلی کا شعبہ ہے چونکہ یہ صفت بلند مرتبہ ہے اس لیے فائِ تعقیب اس پر لائے۔ گویا یوں فرمایا کہ صفات سابقہ کے بعد اس صفت کی قسم کھاتے ہیں بخلاف فائِ تعقیب فالعاصفات فالفارقات کے کس لیے کہ وہ تعقیب ایک فعل کی دوسرے فعل کے لیے ہے نہ تعقیب قسم کے لیے گویا تین چیزوں کی قسم ہے اول نرم نرم چلنے اور سخت چلنے والی ہوائوں کی دوم پھیلانے اور فرق کرنے والی ہوائوں کی سوم ذکر پہنچانے والی ہوائوں کی۔
تیسرا قول : تیسرا قول یہ ہے کہ ان پانچوں چیزوں سے ایک قسم کی چیزیں مراد نہیں بلکہ متعدد پھر اس میں کئی قول ہیں بعض کہتے ہیں کہ پہلی چاروں چیزوں سے ہوائیں مراد ہیں اور پانچویں سے ملائکہ جو ذکر یعنی کلام الٰہی دنیا میں لاتے ہیں۔ بعض کہتے ہیں اول دونوں صفات سے مراد ہوائیں اور اخیر تینوں سے ملائکہ۔ اور ملائکہ و ہوا میں کمال مناسبت ہے لطافت کی وجہ سے۔ قراء کہتے ہیں کہ ان پانچوں چیزوں سے مراد آیات قرآنیہ ہیں کہ اہل ایمان کے دل کو نرم کرتی ہیں پے در پے نازل ہوئی ہیں۔ کفار و مشرکین پر آندھی کا اثر رکھتی ہیں اور آثار ہدایت و انوار سعادت کو جہان میں منتشر کرتی ہیں۔ پھر اہل حق و باطل میں فرق ظاہر کردیتی ہیں پھر ایمانداروں کے دل میں یاد خدا پیدا کرتی ہیں اگر عمل کیا تو حجت ہیں ورنہ خوف کا پیغام۔ بعض سب سے حضرات انبیاء (علیہم السلام) مراد لیتے ہیں۔ حضرات صوفیہ فرماتے ہیں کہ مرسلات عرفاً سے مراد دواعی و الہامات ربانیہ ہیں کہ سالک کے نفع کے لیے پے در پے اس کے دل پر وارد ہوتے ہیں اور عاصفات سے مراد جذب و کشش الٰہی کے جھونکے ہیں کہ اس کے دل کو جب ماسوائے اللہ سے اکھیڑ دیتی ہیں اور ناشرات سے مراد اشغال و اذکار ہیں کہ تمام جوارح میں انوار پھیلا دیتی ہیں اور فارقات سے مراد وارداتِ الٰہیہ ہیں کہ وجود ناسوتی کو فنا کر کے وجود حقیقی اور مجازی میں فرق کردیتے ہیں اور ملقیات ذکر اسے علوم و معارف ہیں جو بقا حاصل کرنے کے بعد حاصل ہوتے ہیں محبت کے طریق سے جو عذر ہے یا خوف کے طریق سے جو نذر ہے۔
Ayahs 77:8–19ترکیب : فاذا ھذہ ومابعدھا کلھا شرط وجوابھا محذوف تقدیرہ بان الامراو فصل طمست یقال طمس الشیء اذادس و ذہب اثرہ نسفت یقال نسفت الشیء وانسفۃ اذا اخذتہ بسرعۃ وقیل جعلت کالحب الذی ینسف بالمنسف 1 ؎ قال المبرد نسفت قلعت من مواضعہا اقتت الھمزۃ بدل من الواوا المضمومۃ وکل واو مضمومۃ بضمۃ لازمہ یجوزا ابدالھا بالھمزۃ وقدقریٔ بالوا ولاھیّ یوم اجلت الامور اوالرسل الجملۃ استفھامیۃ والاستفھام للتعظیم والتعجب مقولۃ یقول مقدر اے یقال۔ قبل ھو جواب لاذاللمکذبین خبرہ و کر رت ھذہ الآیۃ فی ھذہ السورۃ عشر مرات علی تعداد مستحقی الویل ثم نبتعھما لجمھور علی الرفع ای ثم نحن نبتعھم ولیس بمعطوف لان العطف یوجب ان یکون المعنی اھلکنا الآخرین بعد الاولین ولیس کذلک۔
تفسیر … اول علامت قیامت : یوم جزا کے واقع ہونے کی خبر دے کر اس کے علامات و اسباب بیان فرماتا ہے۔ فقال فاذا النجوم طمست جبکہ ستارے بےنور ہوجائیں یا اکھڑ جائیں اسی بات کو ایک جگہ یوم فرمایا ہے اذا النجوم انکدرت کہ جب ستارے دھندلے ہوجائیں ان کی روشنی جاتی رہے اور ایسا ہی ہوگا۔ بھی اول بےنور ہوجائیں گے جس طرح مرنے سے پہلے انسان کی تازگی جاتی رہتی ہے اس کے بعد گر پڑیں گے جیسا کہ ایک جگہ فرمایا ہے اذا الکواکب انتثرت جبکہ ستارے جھڑ جائیں گے۔ یہ اس وقت ہوگا کہ جب ان کا مدبر یا روح یا نفس یا فرشتہ موکل ان سے الگ ہوجائے گا جو ان کو حرکت دے رہا ہے اور وہ ایسا ہی ہے جیسا کہ بدن انسانی کے لیے روح یا نفس ناطقہ اس کا علیحدہ ہونا ہے کہ ان کا مردہ اور بےنور ہو کر گر پڑتا ہے۔ دوسری علامت : واذالسماء فرجت اور جبکہ آسمان پھٹ جائیں۔ فلسفہ قدیم کے نزدیک آسمان اور ستاروں کا گرنا اور پھٹنا محال ہے جن دلائل کے بھروسے پر حکماء نے یہ کہا ہے ان کا نقص علمائے کلام نے ثابت کردیا ہے۔ فلسفہ حال کے نزدیک آسمان کوئی چیز نہیں ایک فضائے وسیع ہے جس میں ستارے اور ماہتاب لاکھوں کوسوں کے فاصلے پر ایک خاص مدار پر حرکت کرتے ہیں اور مشتری ایسا جلدرفتار ہے کہ ایک گھنٹے میں کئی ہزار میل کا فاصلہ طے کرتا ہے اور یہ اجرام علویہ زمین سے سینکڑوں حصے بڑے ہیں اور زمین بھی ان کے رہنے والوں کو ایک چھوٹا سا تارہ حرکت کرتا معلوم ہوتا ہے۔ فلاسفہ حال و قدیم کا رد : مگر ان کے نزدیک ان سب باتوں کا موجدو و محرک مادہ ہے جس کو وہ قدیم کہتے ہیں جو نہ دکھائی دے سکتا ہے نہ کسی حس سے محسوس ہوسکتا ہے مگر جب الہامی عقل کی دوربین صافی سے صحیح النظر ذرا بھی دیکھے گا تو فوراً ایمان لے آئے گا کہ یہ مادہ کا کام نہیں کس لیے اگر مادہ ہی سب باتوں کی علت فاعلیہ ہے تو مادہ سب کا یکساں ہے پھر اس نے سب جا یکساں کام کیوں نہیں کیا۔ اور سب کو ایک صورت کیوں نہیں دی اور پھر صورت اور مادہ دونوں غیرعقل و غیرمدرک ہیں ان میں اس نظام قائم کرنے کی کیا عقل کہ ہزاروں برسوں سے یہ کارخانہ چلا آتا ہے۔ کوئی ستارہ دوسرے سے ٹکرا نہیں جاتا اور غیرمحسوس چیز کے تم قائل نہیں۔ پھر قائل ہوئے تو کیوں نہیں دوچار قدم آگے بڑھ کر یہ دیکھتے کہ وہ غیرمحسوس سب کا موجد مادہ کا تقسیم کرنے والا نئی نئی صورتیں پہنانے والا خدا تعالیٰ ہے اور جس فضائِ وسیع کو تم مانتے ہو وہی آسمان ہے اور یہ بات کہ لطافت کی وجہ سے اس کا جسم کماینبغی تم کو کسی دوربین سے محسوس نہیں ہوتا نہ ہوگا پھر کیا یہ ناممکن ہے کہ وہ خالق ان ستاروں کو باہم ایک وقت ٹکرا کر چورا چورا کر دے اور آسمان پھٹ جائے ؟ بیشک ممکن ہے۔
تیسری علامت : واذا الجبال نسفت کہ جب پہاڑ اڑتے پھریں گے اور زمین سے اکھڑ جائیں۔ قیامت کے دن جو پہاڑوں پر واقع گزرے گا اس کا قرآن مجید میں متعدد الفاظ میں بیان ہوا ہے ان سب کی مطابقت اس طور پر ہے کہ اول زلزلہ عظیم کے سبب پہاڑ آپس میں ٹکرا کر چورا چورا ہوجائیں گے جیسا کہ فرمایا ہے وحملت الارض والجبال فدکتا دکۃ واحدۃً پھر اس چورا ہونے کے بعد اس زبرزیر ہونے سے ریزہ ریزہ ہوجائیں گے جیسا کہ فرمایا وکانت الجبال کثیبا مہیلا اور فرمایا فکانت ہباء ً منبثاً پھر ہوا کی شدت اور تموج سے ان کا غبار بادلوں کی طرح اڑتا پھرے گا جیسا کہ فرمایا وتری الجبال تحسبھا جامدۃ وھی تمرمرّا لسحاب اور اس اڑنے میں پہاڑوں کی رنگتوں کے سبب ایک رنگت سرخی نما معلوم ہوگی جیسا کہ فرمایا وتکون الجبال کالعہن المنفوش۔ پھر زمین پہاڑوں سے صاف ہوجائے گی جیسا کہ فرمایا ویوم نسیرالجبال وتری الارض بازرۃ یہ تینوں علامت نفخ صور کے بعد ہوں گی یہاں تک کہ سب کچھ فنا ہوجائے گا اس کے بعد خدا تعالیٰ ایک نئی زمین اور ایک نیا آسمان پیدا کر دے گا اور بنی آدم زندہ ہوں گے اور حساب کے لیے دربار قائم ہوگا۔ اب اس وقت کے حالات بیان فرماتا ہے فقال واذالرسل اقتت اور جبکہ رسولوں کے لیے میدان حشر میں وقت مقرر کیا جائے تاکہ باری باری ہر ایک رسول اپنے وقت مقررہ پر اپنی اپنی امت کی کوشش کرے (ان سب شرطوں کا جواب جو لفظ اذا سے مذکور تھیں محذوف ہے جو قرینہ سے سمجھا جاتا ہے) وہ یہ کہ جب یہ باتیں ہوں گی تب وہ عہد پورا ہوجائے گا جو تم سے رسول حساب و کتاب کی بابت کرتے ہیں اور تم اپنی غفلت یا حُبِ دنیا اور لذات و شہوات کی کو ری سے انکار کرتے ہو۔
اس بیان کو سن کر بھی منکرین قیامت یہ کہتے تھے کہ پھر کس دن کے لیے دیر کی گئی ہے لای یومٍ اجلت کہ کس دن کے لیے ان باتوں کے آنے میں دیر کی گئی ہے کیوں ابھی نہیں ہوجاتیں ؟ اس کے جواب میں فرماتا ہے لیوم الفصل کہ فیصلہ کے دن آنے کے لیے دیر کی گئی ہے جب وہ دن آئے گا تو یہ سب چیزیں واقع ہوں گی اور اس دن کی تاخیر کا راز ایسا نہیں کہ تمہاری ناقص سمجھ میں آجائے۔ اس مضمون کو اس آیت میں بیان فرمایا وما ادراک مایوم الفصل کہ اے مخاطب ! تو اس فیصلہ کے دن کی حقیقت کیا جانے اور کیا کیا اسرار اس کی تاخیر میں ہیں ؟ اور یوں بھی اس عالم کی تخریب اور باردیگر بناء تمہاری سمجھ میں نہیں آتی۔ مگر سمجھ میں آئے یا نہ آئے وہ دن مصیبت کا ضرور آنے والا ہے جس میں ویل ٌ یومئذ للمکذبین اس دن جھٹلانے والوں کی خرابی ہے ہو سکے تو کچھ اس کا بندوبست کرو۔
اعادہ ویل کی وجہ : واضح ہو کہ یہ جملہ اس سورة میں دس جگہ ارشاد ہوا ہے اس کی وجہ چند ہیں۔ اول یہ کہ فصحائِ عرب اپنے کلام میں چند جملوں کے بعد ایک خاص جملہ بولتے تھے پھر چند جملوں کے بعد اسی کا اعادہ کرتے تھے اور یہ جملے گویا اس کے ادلہ متعددہ ہوتے ہیں جس سے مخاطب کے دل پر ہر بار اثر پیدا ہوتا ہے جیسا کہ مخمس و مسدس میں ہر بار اخیر میں وہی مصرعہ یا شعر ذکر کیا جاتا ہے۔ دوم یہ کہ ان منکرین قیامت کو دس وجہ سے اس روز مصیبت پیش آئے گی۔ ہر ایک وجہ کے لیے اس کلام کا اعادہ کیا گیا۔ واضح ہو کہ انسان میں مبدء فیاض نے تین قوتیں رکھی ہیں جن کی اصلاح سے سعادت اور فساد سے شقاوت دارین نصیب ہوتی ہے۔ اول قوت نظریہ جس پر اعتقادات و ادراک صحیح کا مدار ہے کفار نے اس کو بگاڑ رکھا تھا کئی وجہ سے اول خدا کی ذات پاک دائم اس کی صفات میں بیہودہ خیالات پیدا کر رکھے تھے۔ دوم ملائکہ کرام کی نسبت یہ خیال تھا کہ وہ خدا کی بیٹیاں ہیں ہمارے کاروبار کے وہی مستقل مالک ہیں۔ سوم مر کر باردیگر جیسے اور اعمال پر حساب ہو کر حشر میں جزا و سزا کے منکر تھے۔ چہارم مخلوقات کو قضاء وقدرت میں شریک جانتے تھے۔ پنجم حضرات انبیاء (علیہم السلام) اور کتب الہامیہ کا انکار اور ان کے اوامر عبادت و صلہ رحمی سے سرتابی تھے۔ دوسری قوت شہویہ ہے اس میں افراط اس درجہ تھی کہ بہائم کی حد تک پہنچ گئے تھے اور تفریط بھی تھی کہ حلال اشیاء کو حرام جانتے تھے یہ دو وجہ ہوئیں۔ تیسری قوت غضبیہ ہے۔ اس میں بھی افراط یہاں تک تھی کہ ظلم وتعدی میں درندوں میں بڑھ کر تھے اور تفریط بھی یہاں تک تھی کہ محارمِ الٰہیہ اور اس کی گستاخی میں دست درازی کرنے والے پر غصہ تو کیا جوں بھی کان پر نہیں چلتی تھی۔ یہ بھی دو وجہ ہوئیں۔ پس یہ دس سبب ان میں ایسے تھے کہ جن میں سے ہر ایک کی وجہ سے ویل کے مستحق تھے اور اسی لیے قیامت میں ہر ایک سبب کے بدلے ایک قسم کا عذاب ہوگا اس لیے دس بار یہ جملہ آیا یا یوں کہو کہ اس طرح سے ویل ہوگا خواہ اس کا سبب ایک ہو یا متعدد۔
واضح ہو کہ ان کے دس عذاب مذکورہ بالا میں سے بعض کا یہاں ذکر ضمنی کر کے اس کا جواب دیتا ہے۔ چناچہ قیامت کی بابت ان کو سخت انکار تھا اور کہتے تھے کہ بھلا یہ تو دیکھا اور سنا بھی گیا ہے کہ ایک حادثہ ایک مکان یا شہر یا خاندان پر آیا اور وہ برباد ہوا مگر یہ نہیں کہ تمام دنیا اور آسمان و زمین سب ایک بار برباد ہوجائیں۔ اس کا جواب یہ ہے الم نہلک الاولین کیا ہم نے پہلوں کو ہلاک نہیں کردیا ہے ؟ اپنے سے سو دو سو برس پہلے کے لوگوں کو خیال کرو اور ان کے اسباب معاش اور مکانوں کو بھی غور کرو۔ اس تمامی دنیا میں سے اب کوئی ایک بھی باقی ہے ؟ ظاہر ہے کہ کوئی بھی نہیں۔ پھر یہ سب مخلوق فنا ہوگئی یا نہیں اور اسی طرح تمہارے بعد آنے والے اور تم فنا ہوجاؤ گے ثم نتبعھم الآخرین ان کے پیچھے لگاتے ہیں ہم فنا ہونے میں پچھلوں کو کہ پچھلے قرون بھی یوں ہی ہلاک ہوں گے کذلک نفعل بالمجرمین یہاں تک کہ پچھلے قرنوں میں قریب قیامت کے کوئی نیک بندہ باقی نہیں رہے گا جو قیامت برپا ہونے میں حاجب ہو سب بدکار اور گنہگار ہی رہ جائیں گے جس طرح کہ پہلے اور بعد کے قرنوں کو ہم نے فنا کردیا یکبارگی ان کو بھی ہلاک کردیں گے۔ صور پھونکنے سے۔ بس یہی سلسلہ قیامت کا ہے جس کا ایک سرا اب بھی موجود ہے اور پہلے سے چلا آتا ہے پھر اس میں شک و شبہ کی کیا بات ہے۔
ان آیات میں اس طرف بھی اشارہ ہے کہ اے کفار قریش ! تم اپنے زور وزر پر غرور کر کے کیوں حکم آسمانی کا مقابلہ کرتے ہو کیا تم نے نہیں سنا کہ ہم نے پہلے لوگوں کو ہلاک کردیا جو تم سے بھی زیادہ قوت و شوکت میں تھے عاد کا حال تم کو معلوم ہے اور ان کے بعد میں ہم نے پچھلوں کو ہلاک کیا۔ کیا تمہیں نہیں معلوم کہ ہم نے قوم ثمود کو ہلاک کیا اور قریات لوط (علیہ السلام) کو الٹ دیا۔ ہماری عادت ہے کہ ہم مجرموں کے ساتھ ایسا ہی کیا کرتے ہیں پھر تم کیا چیز ہو جو اس سرکشی اور مقابلہ میں ہمارے سامنے ٹھہرو گے ؟ اس میں ان کفار قریش کو اور ان جیسے اور بدکار لوگوں کو رب العالمین کی طرف سے ایک اعلان ہلاکت ہے جس سے ہر عاقل کو لرزنا چاہیے۔ کوئی بدکار قوم دنیا میں ہلاکت کی سزا سے نہیں بچی رہی اور اب بھی اس کا یہ قانون برابر جاری ہے۔
اس دن سے پہلے ہر عاقل کو درست ہوجانا چاہیے کس لیے کہ اگر وہ روز آگیا تو پھر ویل یومئذ للمکذبین اس روز اس دن کے جھٹلانے اور اس سے غافل رہنے والوں کی خرابی ہے۔ وہ کیا ؟ عذاب الٰہی جس میں نئی قسم کا دکھ ہوگا۔
Ayahs 77:20–28ترکیب : الیٰ قدر الجارمتعلق یجعلنا بمعنی اثبناہ فقدرنا قرء نافع و عبداللہ بن عامر بالتشدید والباقون بالتخفیف علی الاول من التقدیر (اندازہ کردن) وعلی الثانی من القدرۃ کفاتا قیل ھو جمع کا فت کالصائم و الصیام وقیل مصدر مثل کتاب و حساب و التقدیر ذات کفت ای جمع۔ و معنی الکفت فی اللغۃ الضم والجمع یقال کفت الشیء اے ضممۃ ویقال جراب کفیت ٌ و کفت ٌ اذاکان لایضیع شیئا ممایجعل فیہ وقال صاحب الکشاف ھواسم مایکفت کقولھم الصمام والجماع لمایضم ویجمع احیائً وامواتًا منصوبات اماعلی انھما مفعول کفات ای الم نجعل الارض کفات احیائٍ و امواتٍ فاذانون نصب مابعدہ واماعلی انھما المفعول الثانی لجعلنا ای جعلنا بعض الارض احیاء بالبنات وکفاتًا علی ھذا حال واماعلی انھما حالان من الارض اومن الضمیر بتقدیر نکفتکم احیاء و امواتاً شامخاتٍ الرواسی الثوابت والشامخات الطوال وکل عالٍ فھو شامخ۔
تفسیر : منکرین حشر و نشر کا زیادہ انکار انسان کی آخری حالت پر مبنی تھا کہ اخیر وہ مر کر ریزہ ریزہ و جاتا ہے اس کے اجزائے بدن منتشر ہوجاتے ہیں پھر ان کا باہم جمع کرنا اور بدستور اول اس قالب میں سینکڑوں ہزاروں برسوں کے بعد جان ڈالنا اور اس کی زندگی چند روزہ کے حالات ‘ افعال و اقوال یاد کرانا جیسا کہ انبیاء (علیہم السلام) خصوصاً قرآن کہتا ہے ‘ سمجھ میں نہیں آتا۔ ان کی قوت نظریہ کے فساد کو جس کا منشا غلط فہمی تھی انسان کی ابتدائی حالت سے ثابت فرماتا ہے اور اس ابتدائی حات پر ان کو یقین تھا اور ہونا بھی چاہیے اور سب کو یقین ہے۔
انسانی توالد و تناسل کا حیرتناک حال : فقال الم نخلقم من مارٍمھین کہ کیا ہم نے تم کو اے بنی آدم ذلیل اور بےقدر اور بدبودار پانی سے نہیں بنایا یعنی منی سے ؟ اس کو سب مانتے ہیں اور مسلم الثبوت بات ہے کہ انسان کی آفرینش منی سے ہے۔ اب دیکھنا چاہیے کہ منی کن کن غذائوں سے بنی ہے اور کس طرح سے اس حکیم مطلق نے انسان کے تمام ہضمون اور متعدد استحالوں کے بعد یہ قطرہ بنا کر اس کے محل میں تیار رکھا ہے۔ پھر دوسری بات قابل عبرت یہ ہے کہ اس قطرہ میں تمام وہ قوتیں ودیعت رکھی گئی ہیں جو اس سے بننے والے شخص میں ہوں گی اور تمام اجزائِ انسانیہ کا بھی مادہ اسی ایک چیز مساوی الحقیقت والصورۃ میں رکھا ہوا ہے کوئی حکیم و دانشمند تمیز نہیں کرسکتا کہ اس قطرہ کے کون سے حصے سے سر بنے گا کس سے دل کس سے جگر۔
تیسری بات حیرت ناک یہ ہے فجعلناہ فی قرار مکین کہ ہم نے اپنی قدرت کاملہ سے اس نطفہ کو ہوائے خارجی اور مفسدات داخلی سے بچا کر مرد کے آلہ تناسب کے محفوظ نل سے اس کے ٹھہرنے کی جگہ عورت کے رحم یا بچہ دان میں پہنچایا اور وہاں کس حکمت بالغہ سے رکھا کہ جس سے بڑے بڑے حکیم حیرت میں ہیں۔ رحم کی تشریح اور اس کے انثیین کی حالت اور اس کے نلیوں کی کیفیت اور ان میں نطفہ کا جا کر نئی نئی صورتیں پیدا کرنا اور پھر اس میں اعضاء اور دیگر چیزیں نمودار ہونا اور ان میں قویٰ کا رکھا جانا جو کتب طب قدیم و جدید میں مذکور ہے ‘ اس کے دیکھنے سے حیرت ہوتی ہے۔ چوتھی بات حیرت ناک یہ ہے الیٰ قدر معلوم اس کو اس رحم میں ایک وقت معین تک رکھا جس سے مراد مدت حمل ہے جو کمتر چھ مہینے اور زیادہ سے زیادہ دو برس اور بعض کے نزدیک چار برس اور کثیر الوقوع نو مہینے ہیں۔ چونکہ یہ مدت مختلف ہے اس لیے ایک عام و شامل لفظ میں بیان فرما دیا ایک خاص مدت کا نام نہیں لیا۔ پھر اس مدت میں ہم نے اس کے اعضاء بنائے اور اس کی تکمیل کے تمام اسباب جمع کئے اور ان سب باتوں کے کرنے پر ہم قادر ہوئے۔ فقدرنا فنعم القادرون پھر دیکھو ہم کیسے قادر ہیں۔ جب وہ کامل ہوچکا تو اپنی قدرت کاملہ کے زور سے اس کو کشاں کشاں اس تنگ و تاریک مکان سے باہر لائے۔ پھر جب یہ ثابت ہوا کہ ہم بڑے قادر ہیں اور ہماری بےانتہا قدرت کا تم نمونہ دیکھ چکے تو کیا اس کے اجزائے متفرقہ کو جمع کر کے باردیگر اس میں روح پھونکنے پر قادر نہیں ؟ ضرور قادر ہیں۔ اے کوتاہ بینو ! ابتدائی حالت پر انتہائی کا قیاس کیوں نہیں کرتے ؟ پھر کس لیے حشر کا انکار کرتے ہو بلکہ یہ بھی انسانی تکمیل کا تتمہ ہے کہ جس طرح اس کو اس تنگ و تاریک مکان سے باہر لائے اور وسیع جگہ میں رکھا اسی طرح یہ جہان اس دوسرے جہان کی نسبت ایسا ہی تنگ و تاریک ہے جیسا کہ ماں کا پیٹ دنیا کی نسبت۔ جس طرح حمل کی حالت کا تصور حمل میں نہیں معلوم ہوتا بلکہ باہر آنے کے بعد۔ اسی طرح تم اس دنیا کے پیٹ میں حمل کی حالت میں ہو یہاں کا تصور بھی یہاں نہیں معلوم ہوتا بلکہ اس حمل سے باہر ہونے کے بعد معلوم ہوگا یعنی دوسرے جہان میں صرف اتنا فرق ہے کہ حمل مادری میں تم کو اپنی تکمیل کی قدرت نہ تھی اس حمل دنیاوی میں تم کو قدرت دی ہے پھر جس میں اعمال و اقوالِ بد اور عقائدِ فاسدہ کے قصور رہیں گے اس جہان میں ویل یومئذ للمکذبین اس فیصلہ کے دن ان ناقصوں کی خرابی ہوگی جو اس دن کو جھٹلاتے ہیں۔
فائدہ : بعض علماء نے لفظ قدرنا کو تشدید سے پڑھا ہے جس کے معنی یہ ہیں کہ حالت حمل میں اندازہ کیا یعنی اس کے اعضائِ ظاہریہ اور قوائے باطنیہ کو ایک خاص انداز پر بنایا نہ دنیا کے کاریگروں کی طرح کہ کچھ مصالحہ اندازہ سے بچ رہا ہو یا اس مصنوع میں کوئی کمی رہ گئی ہو۔ اور یہ بھی معنی ہیں کہ رحم میں ٹھہرنے اور تکمیل کر کے باہر آنے کا زمانہ جو ہم نے اندازہ کرلیا تھا اس میں وہ تکمیل ہوگئی جیسی شکل جیسا قد بنانا تھا بنا دیا اور پردہ سے باہر لے آئے۔
یہ تو حمل مادری میں اس کی قدرت کا نمونہ تھا جو خاص انسان ہی کی آفرنیش سے متعلق تھا جس میں غور کرنا اپنی ہی ذات سے خدا کا پہچاننا ہے جیسا کہ عرفا کہتے ہیں من عرف نفسہ فقد عرف ربہ کہ جس نے اپنے رب کو پہچان لیا کہ میں کیا تھا اور کیونکر بنا اس نے اپنے رب کو بھی پہچان لیا کس لیے کہ مصنوع سے صانع کا علم آنا لازمی بات ہے اور ان دلائل کو دلائل النفس کہتے ہیں۔ دوسری دلیل حشر پر : اس کے بعد حمل دنیاوی میں جو کچھ انسان اس کی قدرت کے نمونے دیکھتا ہے اور نہ صرف وہ اس کی قدرت بےانتہا کے نمونہ ہی ہیں بلکہ ان سے حمل دنیاوی میں انسان کی پرورش بھی ہوتی ہے اور اس کے لیے رحمت ہیں ان کو ذکر کرتا ہے اور ان دلائلِ کو دلائل آفاق کہتے ہیں۔ فقال الم نجعل الارض کفاتا احیاء و امواتا کہ کیا ہم نے زمین کو تمہارے لیے سمیٹنے والی اور جگہ دینے والی نہیں بنایا ؟ زندوں کے لیے بھی اور مردوں کے لیے بھی یعنی زمین میں وہ صلاحیت رکھی کہ جس سے تمہاری معاش اور بودوباش کا زندگی میں کام چلتا ہے اور مرنے کے بعد اس میں دفن ہوتے ہیں یا یوں کہو زمین تمہارے اسباب معاش اور بودوباش کے لیے ہم نے بنا دی۔ سرسبزی کی حالت میں بھی اور اس کی خشکی کی حالت میں بھی۔ زمین سرسبز کو زندہ سے اور خشک کو مردہ سے تعبیر کیا کرتے ہیں۔ قرآن میں احیاء الارض بعدمو تھا وجعلنا فیہا رواسی شامخات اور اس زمین میں ٹھہرنے والے بلند پہاڑ بنائے جن کے منافع بیشمار ہیں۔ ازانجملہ یہ ہے واسقینا کم ماء ً فراتًا کہ پہاڑوں سے شیریں پانی کے چشمے پھوٹ کر نکلتے ہیں اور ندیاں بن کر بہتے ہیں جن کا پانی پی کر انسان زندگی بسر کرتا ہے اور یوں بھی بارش اور کنوئوں کے ذریعے سے شیریں پانی پلاتا ہے۔ اب ان میں سے ہر ایک چیز کی قدرت بناوٹ اور ان کے منافع میں غور کرنے سے صاف معلوم ہوجائے گا کہ یہ اس قادر حکیم کا کام ہے جو باردیگر دنیا کو فنا کر کے قائم کرسکتا ہے پھر ان ناشکروں کے لیے ویل یومئذ للمکذبین خرابی ہے وہ اس کی قدرت اور نعمت کو جھٹلاتے ہیں۔
Ayahs 77:29–40ترکیب : ذی ثلٰث شعب نعت لظل وکذالا ظلیل نعت لہ۔ بشرر۔ قرء الجمھور بفتح السین وقرء ابن عباس و ابن مقسم شرار بکسرہا مع الف بین الرائین قال الواحدی شررۃ و شرر وشرارۃ وھو مانظائر من النارتبدو فی کل جہتٍ واصلہ من شررت الثوب اذا اظھرتہ وبسطتہ للشمس والشرارینبسط مبتداء کالقصر فیہ قولان الاول ان المرادمنہ البناء المسمٰی بالقصر والثانی انھا جمع قصرۃ ساکنۃ الصادکتمرۃ وتمرو جمرۃ وجمر قال المبرد یقال للواحدمن الحطب الجزل الغلیظ قصرۃ والجمع قصر عن ابن عباس قال ھو خشب کناندخرہ للشتاء نقطعہ وکنانسمیۃ والقصر وھذا قول سعید بن جبیرو مقاتل والضحاک۔ قرء الجمہور باسکان الصادوقری بفتحھا وھو جمع قصرۃ وھی اصل النخلۃ والشجرۃ۔ جمالات قرء حمزۃ والکسائی وحفص جمالۃ جمع جمل وقرء الجمھور جمالات بکسرالجیم وھی جمع جمال وھی الابل اوجمع جمالۃ وقرء ابن عباس جمالات بضم الجیم وھوقرۃ یعقوب ولہ وجوہ منھا انھا من الشیء المحمل یقال اجملت الحساب وجاء القوم جملۃ ای مجتمعین والمعنی ان الشررۃ ترتفع کانھا شیء مجموع غلیظ اصفروھذاقول الفراء ھذا مبتداء یوم لاینطقون خبرہ و قریٔ بفتح المیم فھو منصوب علی الظرفیۃ ولایؤذن لھم معطوف علی الخبر فیعتذرون فی رفعہ وجہان احدھما انہ نفی کالذی قبلہ والثانی انہ مستانف وقیل اصلہ فیعتذروا ولکن زیدت النون لتوافق رؤس الآیات فان کان لکم شرط فکیدون بحذف الیائی الجملۃ جواب۔
تفسیر : دلائل النفس و آفاق سے قیامت کا برپا ہونا ثابت کر کے اس کے بعد قیامت میں جو کچھ منکرین کی حالت ہوگی جس کو کئی بار بلفظ ویل سے تعبیر کیا تھا اس کو بیان فرماتا ہے۔ فقال انطلقوا الی ماکنتم بہ تکذبون کہ منکرین کو قبروں سے اٹھانے کے بعد جبکہ آفتاب کی تپش کے مارے دماغ ابلتے ہوں گے اور ایمانداروں کے لیے عرش کا سایہ ہوگا اور ان کے لیے نہ ہوگا اور یہ حیرت و شدت میں ہوں گے فرشتے یوں کہیں گے چلو اس چیز کی طرف جس کو تم دنیا میں جھٹلایا کرتے تھے وہ کیا ؟ حساب اور اعمالِ بد پر عذاب۔ ثواب چلو اس کو دیکھ لو۔ یہ سن کر نہایت گریہ وزاری سے کہیں گے کہ سردست ہم کو سایہ ملے کہ کچھ تو اس بلا سے نجات پائیں۔ فرشتے کہیں گے انطلقوا الی ظل ذی ثلٰث شعب ٍ چلو اس سایہ کی طرف جس کی تین شاخیں نمودار ہیں وہ دور سے سایہ نمودار ہوگا وہاں آئیں گے تو کچھ اور ہی پائیں گے وہ کیا ؟ لاظلیل ولایغنی من اللہب نہ دراصل وہ سایہ ہے کہ جس میں ٹھنڈک ہو اور نہ بیرونی تپش اور لو کے دفع کرنے میں کارآمد ہے۔ پھر وہ کیا ہے ؟ جہنم کا دھواں ہے اور جب دھواں گرم اور بہت ہوتا ہے اور اس کا بقّد اٹھتا ہے تو اوپر سے اس کی کئی شاخیں ہوجاتی ہیں کچھ ادھر کچھ ادھر۔ اسی سایہ کو سورة واقعہ میں یوں بیان فرمایا ہے وظل من یحموم لاباردولاکریم کہ وہ سایہ دھوئیں کے سایہ میں ہوں گے جو نہ ٹھنڈا ہے نہ اس میں کوئی آرام ہے۔
علماء فرماتے ہیں اس دھوئیں کی ایک شاخ ان کے دائیں ایک بائیں ایک سر پر محیط ہوگی یعنی ہر طرف سے گھیر لے گا۔ اور سر اس کا عرفاء نے یوں ارشاد کیا ہے کہ عالم مثالی میں ان کے اعمال فاسدہ و عقائدِ باطلہ جس کی تاریکی میں ہر طرف سے گھرے ہوئے تھے دھوئیں کی صورت میں ظاہر ہوں گے۔ انسان کے اندر تین لطیفے غیبی ہیں ان کی اصلاح جماعت ملائکہ میں ملا دیتی ہے اور فساد سے شیاطین کے زمرہ میں مل جاتا ہے۔ اول دل جو بائیں طرف ہے منجملہ اس کے فساد کے ایک یہ ہے کہ قوت غضبیہ حد سے بڑھ جائے اور ظلم وتعدی پر کمر باندھ لے اس لیے ایک دھواں اس جانب سے نکل کر محیط ہوگا۔ دوم جگر جو دائیں جانب ہے اس کے فساد میں سے ایک یہ ہے کہ قوت شہوانیہ بڑھ جائے اور فسق و فجور میں ڈوب جائے اس لیے ایک دھواں اس طرف سے نکل کر محیط ہوگا۔ اور یہ ظاہر ہے کہ تمام قوائے شہوانیہ کا خزانہ اور جڑ جگر ہے کس لیے کہ خون یہیں بنتا ہے اور اس سے تمام جگہ پھیلتا ہے اور انسان کی قوت اکل و شرب ‘ جماع کا دارومدار اسی خون پر ہے۔ بدن میں خون ہے تو سب کچھ سوجھتی ہے۔ سوم دماغ جو قوت ادراکیہ کا چشمہ ہے اگر یہ خراب ہوگیا اور اوہام باطلہ اور عقائدِ فاسدہ میں مبتلا ہوا تو تیسری شاخ دھوئیں کی انہیں سے نکل کر محیط ہوگی۔ یا یوں کہو کہ حس و خیال و وہم ہی روح کو انوار قدس سے منور ہونے میں مانع ہیں اور ہر ایک کی ان تینوں میں سے ایک ایک ظلمت ہے اس لیے ہر ایک ظلمت دھوئیں کی صورت میں ظاہر ہوگی۔ صوفیہ کرام کے نزدیک قوت غضبیہ و شہویہ دونوں کا منشٰی دل ہے مگر غضب اس کی دائیں جانب سے اور شہوت بائیں سے تعلق رکھتی ہے اس لیے کہتے ہیں کہ قوت غضبیہ کا دھواں دائیں جانب سے اور شہوانیہ کا بائیں سے احاطہ کرے گا۔
یہ دھواں حساب سے فارغ ہونے تک محیط رہے گا اس کے بعد جہنم میں ڈال دیے جائیں گے اور جہنم کے کنارے پر کھڑے کر کے ان سے حساب لیا جائے گا۔ بعض کہتے ہیں یہ کیفیت جہنم میں پیش آئے گی۔ اس کے بعد جہنم کی کیفیت بیان فرماتا ہے جہاں سے یہ دھواں اٹھتا ہے۔ فقال انہاترمی بشرر کالقصر کہ جہنم سے محل جیسے چنگاریاں اڑیں گی۔ قصر کے معنی میں علماء مفسرین کے دو قول ہیں : اول تو یہی کہ قصر سے مراد محل ہے یعنی بڑا مکان جس کی جمع قصور ہے۔ دوم کہ یہ قصرہ کی جمع ہے اور قصرہ لکڑیوں کے انبار کو کہتے ہیں جو جلانے اور تاپنے کے لیے رکھی جاتی ہیں۔ ابن عباس ؓ سے اس کے جو کسی نے معنی پوچھے تو انہوں نے بھی یہی معنی بتائے کہ ہم تین ہاتھ یا اس سے کم یا زیادہ لکڑیوں کو جمع کرتے اور اس کو قصر کہا کرتے تھے۔ (رواہ البخاری) اس کے مطابق یہ معنی ہوں گے کہ اس قدر بڑی چنگاریاں باہر پھینکیں گی جیسا کہ لکڑیوں کا ایک ڈھیر ہوتا ہے۔ مجاہد کہتے ہیں کہ قصر درخت کے تنا کو کہتے ہیں اور سعید بن جبیر و ضحاک کہتے ہیں بڑے درخت کے تنا کو قصر کہتے ہیں۔ ایسی ایسی چنگاریاں اڑیں گی جیسے کہ بڑے درخت کا تنا کہ جس پر وہ قائم ہوتا ہے۔ زرد اونٹوں سے چنگاریوں کی تشبیہ دینے کی وجہ : کانہ جمالۃ صفر وہ شرارہ یعنی چنگاریاں گویا زرد اونٹ ہیں کہ قطار میں ایک کے بعد دوسرا چلا آتا ہے۔ چنگاریوں کو زرد اونٹوں سے کئی باتوں میں تشبیہ دی بڑائی میں ‘ رنگت میں ‘ پے در پے جلد جلد ایک کے بعد دوسرے کے آنے میں۔ چنگاریاں جو جہنم سے اڑیں گی آگ ہوں گی اور آگ روشن زرد ہوتی ہے اور ایک کے بعد دوسری آئے گی لگاتار جیسا کہ قطار میں ایک اونٹ کے بعد دوسرا متصلاً آتا ہے اور بڑے بھی ایسے ہی ہوں گے کہ جیسا اونٹ اور یہ بھی ہے کہ اس قدر جسامت کی چنگاریاں گول نہیں ہوتیں بلکہ لمبی اور آگے سے پتلی اس حالت میں ان کی نوک کو اونٹ کی گردن سے اور باقی کو جسم سے پوری تشبیہ ہے۔ بخاری میں ابن عباس ؓ کا قول منقول ہے کہ جمالات سے مراد جمال السفن کشتی کے رستے ہیں۔ تجمع حتی تکون کا وساط الرحال جو باہم ملائے جانے سے اونٹ کی درمیانی کاٹھی کے برابر ہوجائیں۔ اور بھی اس کے معنی علماء نے بیان کئے ہیں اول تقدیر پر جمالۃ جمل کی جمع ہے جس کے معنی ہیں اونٹ اور ت تاکید کے لیے زیادہ کر کے جملہ بھی کہتے ہیں۔
چنگاریوں کو اونٹ کے ساتھ تشبیہ دیتے ہیں اور یہی لطیفہ ہے کہ کفار مکہ کو دنیا میں بڑی حسرت دنیا اور اس کے تجملات کی تھی اور آرزو کرتے تھے کہ سفر میں بھی ہمارے خیمے اور سامان عیش اونٹوں پر لد کر ساتھ چلا کریں ان کی یہ حسرت اس روز ان چنگاریوں کی شکل میں ظاہر ہوگی جو زرد اونٹوں کی قطار سے مشابہ ہوگی۔ اور زرد اونٹ عرب کے نزدیک بڑا مرغوب ہے۔ گویا یہ دکھایا جائے کہ لو تمہارے سایہ کرنے کے سامان لے کر یہ زرد اونٹ جہنم سے قطار باندھے نکل رہے ہیں لو اس دھوئیں میں تمہارے لیے سفری اور حضری دونوں قسم کا سایہ ہے۔ پھر جب ان کو اونٹوں کی قطار کا دھیان آئے گا تو کیسی حسرت ہوگی اور روح کو دوگنا عذاب ہوگا نعوذباللہ منہا۔ اس لیے فرماتا ہے ویل یومئذ للمکذبین کہ اس روز جھٹلانے والوں کی خرابی ہے کہ ایک تو سایہ کی جگہ جہنم کے گرم دھوئیں کا سایہ جس میں جی بھی گھٹے اور ٹھنڈک بھی نہ ہو دوسرے یہ کہ چنگاریوں کی بوچھاڑ کہ جن سے مفر نہیں اڑ اڑ کر اوپر گر رہی ہیں۔ تیسرے ان چنگاریوں کی قطار سے زرد اونٹوں کی قطار کا دھیان آنا یہ کیا کم خرابی ہے نعوذباللہ منہا۔
ایسی مصیبت جان گداز کے وقت خلاصی کی یہ بھی ایک تدبیر ہے کہ چرب زبانی سے انکار کرے یا عذرومعذرت کرے۔ سو یہ دونوں باتیں بھی وہاں ان کو میسر نہ آئیں گی کس لیے کہ ھذایوم لاینطقون یہ وہ دن ہوگا کہ جس میں اس وقت بات نہ کرسکیں گے۔ حیرت و دہشت میں بدحواسی ہوگی۔ چرب زبانی اور انکار بھی منہ سے نہ نکلے گا سن ہوجائیں گے۔ ولایؤذن لہم فیعتذرون اور نہ ان کو عذر و معذرت کی بھی اجازت ہوگی۔ یہ ایک اور خرابی ہوگی اس لیے فرماتا ہے ویل یومئذ للمکذبین کہ اس دن جھٹلانے والوں کی یہ ایک اور خرابی ہوگی۔ اشکال : قرآن مجید میں اس موقع پر کافروں کا ساکت رہنا اور عذرآوری کی اجازت نہ ملنا مذکور ہے۔ مگر دوسری آیات میں اس کے خلاف آیا ہے کہ کفار کہیں گے واللہ ربناماکنا مشرکین کہ بخدا ہم مشرک نہ تھے اور ایک جگہ یوں آیا ہے ثم انکم یوم القیامۃ عندربکم تختصمون تم قیامت میں اپنے رب کے پاس جھگڑو گے اور بہت آیات ہیں جن میں کفار کا کلام کرنا بروز قیامت ثابت ہے۔ جواب : اس کا جواب ابن عباس ؓ نے یوں دیا ہے کہ قیامت کا دن ایک بڑا دن ہزاروں برس کے برابر ہوگا۔ کلام نہ کرنا کسی خاص وقت اور خاص جگہ میں ہوگا اور کرنا کسی دوسرے وقت اور دوسری جگہ میں اس لیے کچھ منافات نہیں۔ حسن بصری (رح) کہتے ہیں کہ کلام کرنے سے مراد اور عذر کرنے سے مراد معقول کلام اور معقول عذر کرنا ہے سو وہ میسر نہ ہوگا۔ رہی بکواس سو وہ دراصل کلام اور عذر نہیں اس لیے منافات نہیں۔ اب ایک اور مصیبت ہے کہ ھذایوم الفصل یہ دن فیصلہ کا ہے اور فیصلہ کے وقت مجرم کو مہلت نہیں دی جاتی کہ چند مدت کو یہ بلا ٹل جاتی۔ دوم فصل کے معنی فرق کے بھی ہیں کہ نیک بدوں میں جدائی کردی جائے گی وہ ان سے جدا یہ ان سے جدا اب یہ بھی توقع جاتی رہی کہ ان بزرگواروں سے شفاعت کروائیں اور ان کی عرض معروض پر رستگاری ہوجائے۔ تیسری مصیبت جمعنا کم والاولین کہ ہم نے تمہیں اور پہلوں سب کو جمع کرلیا اب یہ روسیاہی اور ذلت تمام خلائق اولین و آخرین کے سامنے ہوگی۔ اور نیز معاصروں سے قرابت و محبت کے رشتے منقطع ہوں گے۔ اسی طرح اگلے بھی جن سے رشتہ ٔ قرابت و عقیدت تھا جدا ہوجائیں گے۔ اب یہ بھی امید نہیں کہ حضرت آدم و حضرت نوح و حضرت ابراہیم و حضرت موسیٰ (علیہم السلام) کچھ عرض کریں گے کس لیے کہ ان میں اور ان میں بھی جدائی ہوجائے گی۔ مصیبت کے وقت ایک یہ بھی ارمان ہوا کرتا ہے کہ گزشتہ ناموروں کو جن کی جناب میں عقیدت ہوتی ہے یاد کیا کرتے ہیں اور کہتے ہیں اگر وہ ہوتے تو مشکل کشائی ہوجاتی۔ ہم فلاں بزرگ کو پوجتے تھے اگر وہ ہوتے تو یوں کرتے اور اس لیے اب بھی بوقت مصیبت ہر قوم کے مشرک اپنے اپنے معتقد علیہم کو پکارتے ہیں۔ ہنود کہتے ہیں یاہنومان مددبھیروں کی دہائی، علیٰ ہذا القیاس۔ یہودی اور پارسی اور نصاریٰ خصوصاً رومن کیتھولک بھی پکارا کرتے تھے اور عرب کا تو تمام دستور تھا سینکڑوں معبود تھے بوقت مصیبت انہیں کو پکارتے تھے اور جہلائے اہل اسلام بھی بزرگان دین کو ہی پکارا کرتے ہیں۔ صبح و شام اٹھتے بیٹھتے یہی ورد رہتا ہے اللہ جل شانہ ٗ سے جانے کیا بدگمانی ہے اس کی دہائی اور اس متبرک نام کو کم پکارتے ہیں۔ فرماتا ہے اس روز وہ بھی سب جمع ہوں گے فان کان لکم کید فکیدون اگر ان کی 1 ؎ مدد سے کچھ دائوں کرسکتے ہو یعنی ہمارے عذاب کو ٹال سکتے ہو تو ٹالو اور مجھ سے دائوں کرو اور کوئی حیلہ باقی نہ چھوڑو مگر کیا کرسکیں گے وتقطعت بہم الاسباب ان کے سب وسائل منقطع ہوجائیں گے پھر اس وقت ویل یومئذ للمکذبین جھٹلانے والوں کی ضرور خرابی ہوگی۔
اس خرابی سے کیا بڑھ کر ہوگی کہ کوئی تدبیر کارگر نہیں ہوسکتی تمام امیدیں منقطع ہوگئیں۔ دنیا میں عمر بھر جن کو پکارتے اور ان کی کوشش کرتے تھے آج ان کی طرف منہ بھی نہیں کرتے اور ان کی بات بھی نہیں سنتے پھر کبھی حسرت ہے اور کبھی غصہ ہے کہ ناحق حق جل علا کو چھوڑ کر ہم نے ان کی پرستش کی آج تو سوائے اس کے اور کسی کی بھی سلطنت اور حکومت دکھائی نہیں دیتی اور اس سے دنیا میں کچھ بھی واسطہ نہ رکھا نہ اس کو کامل قاضی الحاجات سمجھا نہ قادر مطلق جانا۔ اس کی طرف سے غافل رہنے کی جو کچھ حسرت ہوگی وہ بھی ایک روحانی عذاب ہوگا جس کو لفظ ویل حاوی ہے۔
فائدہ : بعض علماء کہتے ہیں کہ یہ آیت فان کان لکم کید فکیدون ممکن ہے کہ دنیا میں رسول کی طرف سے ہو۔ کفار کے لیے کہ یہ بات ہونے والی ہے۔ اب میں نے تم کو مطلع کردیا اگر تم ناخوش ہو تو جو تم سے میرے لیے مکروفریب ہو سکے کرلو مگر پہلے معنی چسپاں زیادہ ہیں کس لیے کہ قیامت میں جب حقوق العباد کی بابت کفار سے مطالبہ ہوگا تو ان سے کہا جائے گا جو کچھ دنیا میں تم حیلہ بازی اور مکر سے حق تلفی کیا کرتے تھے تو اب کرلو۔ یہاں کوئی حیلہ بازی نہ چلے گی۔