77. Surah Al-Mursalaat

المرسلاتThe Emissaries · 50 ayahsعروۃ الوثقٰی

Ayahs 77:1–4

وَ الْمُرْسَلٰتِ عُرْفًاۙ Open ayah 77:1 in the Quran reader

ان نرم اور خوشگوار ہواؤں (کے رب ) کی قسم جو (فرحت کے لیے) بھیجی جاتی ہیں

فَالْعٰصِفٰتِ عَصْفًاۙ Open ayah 77:2 in the Quran reader

پھر ان تند و تیز ہواؤں (کے رب ) کی قسم

وَّ النّٰشِرٰتِ نَشْرًاۙ Open ayah 77:3 in the Quran reader

اور ان ہواؤں (کے رب ) کی قسم جو (بادلوں کو) پھیلا دیتی ہیں

فَالْفٰرِقٰتِ فَرْقًاۙ Open ayah 77:4 in the Quran reader

پھر ان ہواؤں (کے رب ) کی قسم جو (بادلوں کو) پھڑ کر جدا جدا کردیتی ہیں

(قسم ہے ان کی جو چھوڑی جاتی ہیں خوب) یعنی ان فرشتوں کی مبارک ہیئتوں کی جو نیکی کے ساتھ بھیجی جاتی ہیں ، یعنی جو فرشتے محمد ﷺ پر امر و نہی۔۔ یا ۔۔ قرآن کی آیتوں کے ساتھ بھیجے گئے۔۔ یا ۔۔ ان ہواؤں کے ساتھ جو پئے بہ پئے چلائی گئیں ہیں۔ (پھر) وہ ہستیاں جو (جھونکے دینے والی ) ہیں (سخت) یعنی پھر قسم ان فرشتوں کی جو تیز سخت اور جلد جاتے ہیں اور احکام الہی تیزی سے بجا لاتے ہیں۔ یا۔۔ احکام کلام اللہ کی قسم جو اور احکام کو محو کردینے والے ہیں یعنی اگلی شریعتوں اور دینوں کو منسوخ کردینے والے ہیں۔ یا۔۔ ان ہواؤں کی قسم جو سختی کے ساتھ کسی قوم پر عذاب کے لیے چلنے والی ہیں۔ (اور قسم ہے خوب اٹھانے والی ہستیوں کی) یعنی قسم ان فرشتوں کی جو ظاہر کرنے والے ہیں شریعتوں اور کتابوں کے جیسا کہ ظاہر کرنے کا حق ہے۔ یا۔۔ قرآن کی جو آیتیں خواص و عوام کے واسطے ہدایت کے آثار منتشر کرتی ہیں ان کی قسم۔۔ یا ۔۔ جو نرم ہوائیں لوگوں کی راحت و آرام کے واسطے چلتی ہیں ان کی قسم۔ (پھر حق ناحق کو خوب جدا کرنے والی شخصیتوں کی) قسم۔ یعنی پھر ان فرشتوں کی قسم جو حق کو باطل سے جدا کرنے والے ہیں۔۔ یا ۔۔ قرآن کی آیتوں کی قسم جو خیر کو شر سے جدا کرتی ہیں ۔۔ یا ۔۔ جو ہوائیں بدلیوں کو پراگندہ کرتی ہیں ان کی قسم ۔۔ یا۔۔
Ayah 77:5

فَالْمُلْقِیٰتِ ذِكْرًاۙ Open ayah 77:5 in the Quran reader

پھر ان طاقتوں (کے رب ) کی قسم جو (دِلوں میں اللہ کی) یاد ڈالتی ہیں

(پھر ذکر کا القاء کرنے والی ہستیوں کی) یعنی ان فرشتوں کی قسم جو پیغمبروں پر القاء کرنے والے اور ڈالنے والے ہوں وحی کو۔۔ یا ۔۔ کلام اللہ کی آیتیں جو اہل عالم میں حق تعالیٰ کا ذکر ڈالتی ہیں ان کی قسم یا۔۔ جو ہوائیں کہ یاد الہی کا سبب ہوتی ہیں ان کی قسم۔ اس واسطے کہ ہواؤں کے چلنے کا معاہدہ خدا کی یاد کا اور اس کی قدرت پر دلیل پکڑنے کا موجب ہے۔ اب رہا سوال کہ یہ القاء اور کس لیے ہے ۔۔ تو۔۔۔۔
Ayah 77:6

عُذْرًا اَوْ نُذْرًاۙ Open ayah 77:6 in the Quran reader

حُجت تمام کرنے یا ڈرانے کے لیے

(حیلہ ختم کرنے ۔۔ یا ۔۔ ڈرانے کو) یعنی اہل حق کے عذر کے واسطے۔۔ یا ۔۔ ان کے ڈرانے کے لیے جو باطل پر ہیں۔ تو جو فرشتے اللہ تعالیٰ کی وحی اور اس کے پیغام کو انبیاء تک پہنچاتے ہیں۔۔ یا ۔۔ انبیاء (علیہم السلام) مخلوق کو اللہ کے احکام پر عمل کرنے کی دعوت دیتے ہیں وہ اس لیے ہے کہ مخلوق پر اللہ کی حجت قائم ہوجائے تاکہ کل قیامت کے دن جب کسی شخص سے پوچھا جائے کہ تم اللہ پر ایمان کیوں نہیں لائے ؟۔۔ یا ۔۔ تم نے برے اعمال ترک کیوں نہیں کیے ؟۔۔ یا ۔۔ نیک اعمال کیوں نہیں انجام دیے ؟ تو وہ یہ نہ کہہ سکے کہ ہمارے پاس تو اللہ کے احکام پہنچے ہی نہیں تھے۔ یا ۔۔ رسولوں کو اس لیے احکام دے کر لوگوں کے پاس بھیجا کہ وہ ان کو عذاب سے ڈرا کر اعمال ترک کرنے اور نیک اعمال کرنے پر آمادہ کریں۔ المختصر۔۔۔ اوپر مذکور باعظمت ہستیوں ، متبرک اشیاء اور قدرت خداوندی کے مظاہر کی قسم۔۔۔
Ayahs 77:7–11

اِنَّمَا تُوْعَدُوْنَ لَوَاقِعٌؕ Open ayah 77:7 in the Quran reader

بلاشبہ تم سے جو وعدہ کیا جاتا ہے وہ ضرور ہو کر رہے گا

فَاِذَا النُّجُوْمُ طُمِسَتْۙ Open ayah 77:8 in the Quran reader

پس (یہ وہ وقت ہوگا) جب تارے بےنور ہوجائیں گے

وَ اِذَا السَّمَآءُ فُرِجَتْۙ Open ayah 77:9 in the Quran reader

اور جب آسمان پھٹ جائے گا

وَ اِذَا الْجِبَالُ نُسِفَتْۙ Open ayah 77:10 in the Quran reader

اور جب پہاڑ اڑنے لگیں گے

وَ اِذَا الرُّسُلُ اُقِّتَتْؕ Open ayah 77:11 in the Quran reader

اور جب رسولوں کو معین وقت پر جمع کیا جائے گا

(کہ جو وعدہ دیے جاتے ہو یقینا ہو کر رہنے والا ہے) یعنی قیامت اور اس کے متعلقات کا ظہور یقینی طور پر ہوگا۔ (تو جب تارے میٹ دیے گئے) یعنی ان کا نور لے لیا جائے گا۔ (اور جب آسمان میں رخنہ ڈال دیا گیا) یعنی آسمان کو پھاڑ دیا گیا۔ (اور جب پہاڑ پھونک اڑائے گئے) ۔ یعنی اپنی جگہوں سے پراگندہ کردیے گئے اور ریزہ ریزہ کرکے اڑا دیے گئے (اور جب رسولوں کا وقت آگیا) تو جمع کیے جائیں گے اس وقت اور اس جگہ پر جہاں اپنی امتوں کا ان کا گواہی دینا مقرر ہوگا۔ پھر کہیں گے کہ ۔۔۔
Ayahs 77:12–13

لِاَیِّ یَوْمٍ اُجِّلَتْؕ Open ayah 77:12 in the Quran reader

(یہ سب کچھ) کس دن کے لیے ملتوی رکھا گیا ہے ؟

لِیَوْمِ الْفَصْلِۚ Open ayah 77:13 in the Quran reader

فیصلہ کے دن کے لیے

(کس دن کے لیے ٹھہرائے گئے تھے) یعنی یہ ستاروں کا بےنور ہونا ، آسمان کا پھٹ جانا ، اور پہاڑوں کا ریزہ ریزہ ہو کر اڑ جانا۔۔ الغرض۔۔ قیامت کے بڑے بڑے آثار کے ظہور کے لیے کون سا دن مقرر فرمایا گیا تھا ؟ اس کا جواب یہ ہوگا کہ یہ سب کچھ (فیصلہ کے دن کے لیے) ٹھہرائے گئے تھے۔ یعنی جدا کرنے کے دن کے واسطے کہ وہ دن آج ہے۔ مومن اور کافر مطیع اور عاصی کے درمیان جدا کرنا مکافات میں ہوگا۔ یا اس دن کے واسطے جب خلق کے درمیان حکم کرنا ہوگا۔
Ayahs 77:14–19

وَ مَاۤ اَدْرٰىكَ مَا یَوْمُ الْفَصْلِؕ Open ayah 77:14 in the Quran reader

اور (اے مخاطب ! ) تجھے کیا معلوم کہ وہ فیصلے کا دن کیا ہے ؟

وَیْلٌ یَّوْمَئِذٍ لِّلْمُكَذِّبِیْنَ Open ayah 77:15 in the Quran reader

اس دن جھٹلانے والوں کے لیے بڑی ہی خرابی ہو گی

اَلَمْ نُهْلِكِ الْاَوَّلِیْنَؕ Open ayah 77:16 in the Quran reader

کیا ہم نے اگلوں کو ہلاک نہیں کر ڈالا ؟

ثُمَّ نُتْبِعُهُمُ الْاٰخِرِیْنَ Open ayah 77:17 in the Quran reader

پھر ہم ان پچھلوں کو بھی انہیں کے پیچھے بھیج دیں گے

كَذٰلِكَ نَفْعَلُ بِالْمُجْرِمِیْنَ Open ayah 77:18 in the Quran reader

گنہگاروں کے ساتھ ہم ایسا ہی کیا کرتے ہیں

وَیْلٌ یَّوْمَئِذٍ لِّلْمُكَذِّبِیْنَ Open ayah 77:19 in the Quran reader

اس دن جھٹلانے والوں کے لیے بڑی ہی خرابی ہے

(اور کیا اٹکل ہو تمہیں کہ کیا ہے فیصلہ کا دن) ؟ اس لیے کہ اس کی کنہ کو بذات خود کوئی نہیں جان سکتا۔ (ہلاکی ہے اس دن ) اس دن کے (جھٹلانے والوں کی) غور کرو کہ (کیا نہیں برباد کردیا ہم نے اگلوں کو) جیسے قوم نوح ، قوم ھود ، اور قوم ثمود کو۔ (پھر پیچھے لگا دیں گے ہم) ہلاکت میں (ان کے ان پچھلوں کو) یعنی کفار مکہ کو ۔ (اسی طرح کرتے ہیں ہم مجرموں کے ساتھ) جو کفر و شرک کے جرائم کا ارتکاب کرتے ہیں۔ (ہلاکی ہے اس دن) اس وعید کے (جھٹلانے والوں کی) ہم قادر مطلق ہیں جو چاہا کیا ، جو چاہتے ہیں کرتے ہیں ، اور جو چاہیں گے کریں گے۔
Ayahs 77:20–23

اَلَمْ نَخْلُقْكُّمْ مِّنْ مَّآءٍ مَّهِیْنٍۙ Open ayah 77:20 in the Quran reader

کیا ہم نے تم کو حقیر پانی (کی ایک بوند) سے پیدا نہیں کیا

فَجَعَلْنٰهُ فِیْ قَرَارٍ مَّكِیْنٍۙ Open ayah 77:21 in the Quran reader

پھر جس کو ایک محفوظ جگہ پر (رحم مادر میں) رکھا گیا

اِلٰى قَدَرٍ مَّعْلُوْمٍۙ Open ayah 77:22 in the Quran reader

(صرف) ایک معین وقت تک

فَقَدَرْنَا١ۖۗ فَنِعْمَ الْقٰدِرُوْنَ Open ayah 77:23 in the Quran reader

پھر ہم نے ایک اندازہ ٹھہرایا پس ہم کیا ہی خوب اندازہ ٹھہرانے والے ہیں

(کیا نہیں پیدا فرمایا ہم نے تمہیں ایک بےقدر قطرہ سے) ؟ یعنی ذلیل و خوار بےمقدار منی سے ۔ (پھر کردیا ہم نے اسے ایک محفوظ جگہ میں) یعنی مضبوط قرار گاہ میں اور وہ رحم ہے (وقت معلوم تک) کے لیے ، اور وہ پیدا ہونے کا زمانہ ہے۔ (تو اندازہ مقرر کیا ہم نے۔ تو کتنے اچھے ہم قادر ہیں) کہ کیسا اچھا اندازہ کرنے والے ہیں۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ بچہ کی پیدائش کے لیے جس مدت کا اندازہ فرماتا ہے ، وہ اللہ تعالیٰ کی بہت بڑی نعمت اور بہت بڑا احسان ہے۔ عام طور پر حمل کی مدت نو ماہ ہوتی ہے ۔ اس مدت میں پیٹ میں بچہ بتدریج نشو ونما کے مراحل طے کرتا ہے ، اور اس کی ماں بتدریج اس کا بوجھ اٹھانے کی عادی ہوجاتی ہے۔ اس میں اللہ تعالیٰ کی بڑی حکمت ہے کہ عورت کو سخت اور جان لیوا مصیبت سے بچا لیتا ہے ، تو یہ بتدریج پیدائش بھی خدا کی بہت بڑی نعمت ہے۔ تو اس کا تقاضا یہ تھا کہ انسان اللہ تعالیٰ کی توحید کی تصدیق کرتا ۔۔۔ تو ۔۔۔
Ayahs 77:24–26

وَیْلٌ یَّوْمَئِذٍ لِّلْمُكَذِّبِیْنَ Open ayah 77:24 in the Quran reader

اس دن جھٹلانے والوں کے لیے بڑی ہی خرابی ہے

اَلَمْ نَجْعَلِ الْاَرْضَ كِفَاتًاۙ Open ayah 77:25 in the Quran reader

کیا ہم نے زمین کو سمیٹنے والی نہیں بنایا

اَحْیَآءً وَّ اَمْوَاتًاۙ Open ayah 77:26 in the Quran reader

زندوں کے لیے اور مردوں کے لیے

(ہلاکی ہے اس دن) خدا کی توحید کو (جھٹلانے والوں کی) اور قدرت خداوندی کو باور نہ کرنے والوں کی۔ (کیا نہیں بنایا ہم نے زمین کو سمیٹنے والی۔ زندوں اور مردوں کو) ؟ یعنی زندوں کو اپنے اوپر اور مردوں کو اپنے اندر رکھتی ہے ۔۔ چنانچہ۔۔ زندہ انسان زمین پر گھروں میں رہتے ہیں ، اور مردہ انسان زمین میں بنائی ہوئی قبروں میں رہتے ہیں۔ ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے سب سے پہلے زمین کا ذکر فرمایا ، کیونکہ ہمارے باہر کی چیزوں میں جو چیز ہم سے سب سے زیادہ قریب ہے ، وہ زمین ہے ۔
Ayahs 77:27–28

وَّ جَعَلْنَا فِیْهَا رَوَاسِیَ شٰمِخٰتٍ وَّ اَسْقَیْنٰكُمْ مَّآءً فُرَاتًاؕ Open ayah 77:27 in the Quran reader

اور ہم نے زمین پر اونچے اونچے پہاڑ رکھ دیئے اور ہم نے تم کو میٹھا پانی (بھی) پلایا

وَیْلٌ یَّوْمَئِذٍ لِّلْمُكَذِّبِیْنَ Open ayah 77:28 in the Quran reader

اس دن جھٹلانے والوں کے لیے بڑی ہی خرابی ہے

(اور کردیا ہم نے اس میں پہاڑ اونچے اونچے ، اور پلایا ہم نے تم لوگوں کو میٹھا پانی) تو جو لوگ خدا کی نعمتوں کا شکر ادا نہیں کرتے اور اپنے منعم کو نہیں پہچانتے اور اس کی تکذیب کرتے ہیں تو (ہلاکی ہے اس دن) ان خدا ناشناس (جھٹلانے والوں کی) اور تکذیب کرنے والوں سے اس دن کہیں گے۔۔۔
Ayahs 77:29–31

اِنْطَلِقُوْۤا اِلٰى مَا كُنْتُمْ بِهٖ تُكَذِّبُوْنَۚ Open ayah 77:29 in the Quran reader

(اب) اس (عذاب کی) طرف چلو جسے تم جھٹلایا کرتے تھے

اِنْطَلِقُوْۤا اِلٰى ظِلٍّ ذِیْ ثَلٰثِ شُعَبٍۙ Open ayah 77:30 in the Quran reader

تم (دوزخ کے) اس سائے کی طرف چلو جس کے تین حصے ہیں

لَّا ظَلِیْلٍ وَّ لَا یُغْنِیْ مِنَ اللَّهَبِؕ Open ayah 77:31 in the Quran reader

جس میں نہ (ٹھنڈا) سایہ ہوگا اور نہ وہ (آگ کی) لپٹ سے بچائے گا

(چلو ادھر جسے جھٹلاتے تھے) یعنی جہنم اور اس کے عذاب کی طرف۔ اور (چل پڑو ایک سایہ کی طرف تین شاخوں والا) جو (نہ) تو (سایہ دار) ہے کہ ٹھنڈا ہو اور اس میں رہنے میں راحت ہو (اور نہ) ہی (بچا سکے) گا دوزخی کو جہنم کی (لپٹ سے) اس سے دوزخ کے دھویں کا سایہ مراد ہے کہ بڑائی اور زیادتی کے سبب سے متفرق ہوجائے گا کئی شاخ ہو کر ، اور ہر شاخ ایک طرف جائے گی ، انوار میں ہے کہ جہنم کے دھوئیں کے تین شعبے ہوں گے۔ ایک کافر کے سر پر ٹھہرے گا اور ایک اس کے داہنے پر اور ایک اس کے بائیں پر۔ اور اس عذاب میں ڈالنے والی دماغ میں ، قوت واہمہ ، اور قلب کے داہنی طرف ، قوت غضبیہ ہے ، اور بائیں طرف قوت شہویہ ہے۔ تو جو چاہتا ہے کہ فردائے قیامت اس دھویں کی آفتوں سے بےخوف ہوجائے ، اسے چاہیے کہ نور عقل کو مضبوط پکڑ کے صفت بیہمی اور صفت سبعی سے گزر جائے۔
Ayahs 77:32–34

اِنَّهَا تَرْمِیْ بِشَرَرٍ كَالْقَصْرِۚ Open ayah 77:32 in the Quran reader

(بلکہ) وہ (بڑے بڑے) انگارے برسائے گا جیسے محل (ہوتے ہیں)

كَاَنَّهٗ جِمٰلَتٌ صُفْرٌؕ Open ayah 77:33 in the Quran reader

گویا یہ زرد اونٹوں کی قطاریں ہیں

وَیْلٌ یَّوْمَئِذٍ لِّلْمُكَذِّبِیْنَ Open ayah 77:34 in the Quran reader

اس دن جھٹلانے والوں کے لیے بڑی ہی خرابی ہے

(بیشک وہ جہنم پھینکتی ہے چنگاریاں ، جیسے بلند محل۔ گو یا وہ ) شرر (اونٹ ہیں زرد زرد) آتش دوزخ کے رنگ پر۔ بعض کہتے ہیں صفر سود کے معنی میں ہے۔ اور چونکہ دوزخ کی آگ سیاہ ہے تو اس کا شرارہ بھی سیاہ ہوگا۔ اور اونچے محل کے ساتھ شرارہ کی تشبیہ بڑائی کی جہت سے ہے ۔ اور زرد اور سیاہ اونٹوں کے ساتھ شبیہ رنگ اور کثرت کے باعث سے ، اور ایک کے پیچھے ایک رہنے اور جلدی حرکت کرنے کی وجہ سے ہے۔ (ہلاکی ہے اس دن جھٹلانے والوں کی) جو دوزخ اور اس کے شراروں کی کیفیت اور صفت باور نہیں رکھتے۔
Ayahs 77:35–37

هٰذَا یَوْمُ لَا یَنْطِقُوْنَۙ Open ayah 77:35 in the Quran reader

یہ وہ دن ہوگا کہ وہ کچھ بول (بھی) نہ سکیں گے

وَ لَا یُؤْذَنُ لَهُمْ فَیَعْتَذِرُوْنَ Open ayah 77:36 in the Quran reader

اور نہ ہی ان کو کوئی عذر پیش کرنے کی اجازت ہو گی

وَیْلٌ یَّوْمَئِذٍ لِّلْمُكَذِّبِیْنَ Open ayah 77:37 in the Quran reader

اس دن جھٹلانے والوں کے لیے بڑی ہی خرابی ہے

( یہ دن ہے اس کا کہ ) کفار (بول نہ سکیں گے ) بعضے مواقف پر۔۔ یا ۔۔ خدا کے سامنے دلیل اور حجت قائم کر کے بات نہ کریں گے۔ (اور نہ اجازت دی جائے گی انہیں کہ بہانے تراشیں ) اور عذر خوارہی کریں۔ اور عذر بھی کچھ فائدہ نہ دے گا۔ (ہلاکی) یعنی سختی اور رنج (ہے اس دن جھٹلانے والوں کی) جو تکذیب کرتے ہیں ان چیزوں کی۔
Ayahs 77:38–40

هٰذَا یَوْمُ الْفَصْلِ١ۚ جَمَعْنٰكُمْ وَ الْاَوَّلِیْنَ Open ayah 77:38 in the Quran reader

یہ فیصلے کا دن ہے ہم تم کو اور پہلوں کو جمع کرلیں گے

فَاِنْ كَانَ لَكُمْ كَیْدٌ فَكِیْدُوْنِ Open ayah 77:39 in the Quran reader

پھر اگر تمہارے پاس کوئی تدبیر ہے تو مجھ سے کر چلو

وَیْلٌ یَّوْمَئِذٍ لِّلْمُكَذِّبِیْنَ۠ Open ayah 77:40 in the Quran reader

اس دن جھٹلانے والوں کے لیے بڑی ہی خرابی ہے

(یہ ہے فیصلہ کا دن) اس میں جو حق پر ہے اور اس میں جو باطل پر ہے۔ تو یہ دن ایسا ہے (کہ اکٹھا کردیا ہم نے تمہیں) اے اس امت کے تکذیب کرنے والو ! (اور اگلوں کو) جنہوں نے اگلے رسولوں کی تکذیب کی۔ (تو اگر ہو تمہارا کوئی داؤں) اور مکر و حیلہ جیسا کہ دنیا میں مومنوں کی نسبت کرتے تھے ، (تو چلا لو مجھ پر) اور پیش لے جاؤ میرے ساتھ۔ یہ ان کے عجز کے آثار ظاہر کرنا ہے یعنی خدا کے ساتھ حیلہ پیش نہ جائے گا اور مکر و فریب کر کے اپنے اوپر سے عذاب نہ دفع کرسکو گے۔ (ہلاکی ہے اس دن جھٹلانے والی کی) جو غم و غصہ کا شکار ہوں گے کہ حیلہ کر کے عذاب سے نہ رہائی پائیں گے۔ ان کے برخلاف۔۔۔