Ayah 77:11۔ ابن الضریس والنحاس وابن مردویہ والبیہقی نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت والمرسلت عرفا۔ مکہ میں نازل ہوئی۔
2۔ البخاری ومسلم والنسائی وابن مردویہ نے ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ اس درمیان کہ ہم نبی ﷺ کے ساتھ منی کے مقام پر غار میں تھے اچانک آپ پر سورة والمرسلت عرفا نازل ہوئی آپ اس کی تلاوت فرمانے لگے اور میں اسے آپ کے منہ مبارک سے توجہ کے ساتھ سننے لگا۔ آپ کا منہ ابھی اس سے تازہ تھا اچانک ایک سانپ آپ پر کود پڑا۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا اس کو قتل کردو۔ ہم اس کی طرف دوڑے مگر وہ بھاگ گیا۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا اس کو تمہارے شر سے بچالیا گیا جیسے تم کو اس کے شر سے بچا لیا گیا۔
3۔ ابن مردویہ نے ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ آیت والمرسلت عرفا سانپ کی رات نازل ہوئی صحابہ ؓ نے پوچھا سانپ کی رات کیا ہے ؟ تو انہوں نے فرمایا ایک سانپ نکلا تو نبی مکرم ﷺ نے فرمایا اس کو قتل کردو تو وہ ایک سوراخ میں غائب ہوگیا۔ آپ نے فرمایا اس کو چھوڑدو کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس کو تمہارے شر سے بچالیا جیسے تم کو اس کے شر سے بچالیا گیا۔
3۔ ابن مردویہ نے ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ آیت والمرسلت عرفا سانپ کی رات نازل ہوئی صحابہ ؓ نے پوچھا سانپ کی رات کیا ہے ؟ تو انہوں نے فرمایا ایک سانپ نکلا تو نبی مکرم ﷺ نے فرمایا اس کو قتل کردو تو وہ ایک سوراخ میں غائب ہوگیا۔ آپ نے فرمایا اس کو چھوڑدو کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس کو تمہارے شر سے بچالیا جیسے تم کو اسکے شر سے بچالیا۔
4۔ الحاکم وصححہ وابن مردویہ نے ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ ہم نبی اکرم ﷺ کے ساتھ ایک غار میں تھے تو آپ پر آیت والمرسلت نازل ہوئی میں نے آپ دہن مبارک سے اسے حاصل کرلیا ابھی آپ کا منہ مبارک اس سے تازہ تھا اور میں نہیں جانتا تھا کہ کس آیت کے ساتھ یہ سورة ختم ہوئی آیت فبای حدیث بعدہ یومنون کے ساتھ پس اس کے بعد کس بات پر ایمان لائیں گے یا آیت واذا قیل لہم لا یرکعون کے ساتھ اور جب ان سے کہا جاتا تھا کہ رکوع کرو تو وہ رکوع نہ کرتے تھے۔
5۔ ابن ابی شیبہ و بخاری ومسلم وابن ماجہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ ام الفضل ؓ نے سنا آپ آیت والمرسلت عرفا۔ پڑھ رہے تھے تو انہوں نے کہا اے میرے بیٹے تو نے مجھے اپنی قراءت کے ساتھ یہ سورت یا ددلا دی ہے۔ اور یہ وہ آخری سورت ہے جو میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنی۔ آپ ﷺ اس کو مغرب کی نماز میں پڑھ رہے تھے۔
6۔ طبرانی نے الاوسط میں عبدالعزیز ابی مسکین (رح) سے روایت کیا کہ میں انس بن مالک ؓ کے پاس آیا اور میں نے کہا مجھے رسول اللہ ﷺ کی نماز کے بارے میں بتائیے تو انہوں نے ہم کو ظہر کی نماز پڑھائی اور آہستہ قراءت کے ساتھ سورة مرسلات والنازعات اور عم یتسا ئلون اور ان جیسی سورتیں پڑھیں۔
7۔ ابن ابی حاتم والحاکم وصححہ نے ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ آیت والمرسلت عرفا سے فرشتے مراد ہیں وہ فرشتے ہیں جو معروف یعنی نیک کام کے ساتھ بھیجے گئے۔
8۔ ابن جریر نے مسروعق کے طریق سے ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ آیت والمرسلت عرفا سے مراد وہ فرشتے ہیں جو معروف یعنی نیک کام کے ساتھ بھیجے گئے۔
Ayah 77:29۔ ابن مردویہ نے عمرو بن شعیب سے روایت کیا کہ وہ اپنے باپ دادا سے روایت کرتے ہیں کہ ہوائیں آٹھ قسم کی ہی ان میں سے چار عذاب کی ہیں اور چار رحمت کی ہیں ان میں سے عذاب والی عاصف، صرصر، عقیم اور قاصف ہیں اور میں سے رحمت والی ناشرات، مبشرات، مرسلات اور ذاریات ہیں اللہ تعالیٰ مرسلات کو بھیجتے ہیں وہ بادلوں کو اٹھاتی ہیں۔ پھر مبشرات کو بھیجتے ہیں وہ بادلوں پانی سے بھردیتی ہیں پھر ذاریات کو بھیجتے ہیں وہ بادلوں کو اٹھاتی ہیں اور وہ اس طرح بھرے ہوتے ہیں جس طرح دودھ دینے والی کا تھن بھرا ہوا ہوتا ہے پھر وہ بارش برساتی ہیں اور یہی لواقح ہے۔ پھر وہ ناشرات کو بھیجتے ہیں اور وہ اسے وہاں تک پھیلا دیتی ہے جہاں تک اللہ چاہتے ہیں۔
مرسلات سے کیا مراد ہیں
10۔ عبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر وابن ابو حاتم نے ابوالعبید بن (رح) کے طریق سے روایت کیا کہ انہوں نے ابن مسعود ؓ سے آیت والمرسلت عرفا کے بارے میں پوچھا۔ تو فرمایا اس سے مراد ہوا ہے پھر پوچھا آیت فالعصفت عصفا کیا ہے۔ فرمایا یہ ہوا ہے۔ پھر پوچھا والنشرات نشرا کیا ہے۔ فرمایا یہ ہوا ہے پھر پڑھا آیت فالفرقت فرقا تو آپ نے فرمایا کہ تجھ کو یہ کافی ہے۔
11 ابن راہویہ وابن المنذر وعبد بن حمید والبیہقی فی الشعب والحاکم وصححہ نے خالد بن عرعرہ (رح) سے روایت کیا کہ ایک آدمی حضرت علی ؓ کے پاس کھڑا ہوا اور پوچھا کہ العصفت عصفا سے کیا مراد ہے ؟ فرمایا کہ یہ ہوائیں ہیں۔
12۔ ابن جریر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت والمرسلت عرفا۔ ان ہواؤں کی قسم ہے جو نفع پہنچانے کے لیے بھیجی جاتی ہیں سے مراد ہے ہوائیں۔ آیت فالعصفت عصفا پھر ان ہواؤں کی قسم جو تیزی سے چلتی ہیں سے مراد ہے۔ ہوائیں۔ آیت فالفرقت فرقا پھر ان فرشتوں کی قسم ! جو بادلوں کو متفرق کردیتے ہیں سے مراد ہے فرشتے آیت فالملقیت ذکرا پھر ان فرشتوں کی قسم ! جو دل میں اللہ کی یاد کا القا کرتے ہیں سے مراد ہیں فرشتے۔
13۔ ابن المنذر نے ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ آتی والمرسلت عرفا سے مراد ہیں فرشتے آیت فالفرقت فرقا یہ بھی فرشتوں کی صفت ہے کہ انہوں نے حق اور باطل کے درمیان فرق کردیا آیت فالملقیت ذکرا یعنی نازل ہونے والے فرشتے۔
14۔ ابن جریر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت والمرسلت عرفا سے مراد ہے ہوا آیت فالعصفت عصفا سے مراد ہے ہوا
Ayahs 77:3–7۔ آیت والنشرت نشرا سے مراد ہے ہو۔
15۔ عبدالرزاق وعبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آتی والمرسلت عرفا سے مراد ہے ہوا آیت فالعصفت عصفا سے مرد ہے ہوا آیت فالفرقت فرقا سے مراد ہے قرآن کہ جس کے ذریعہ اللہ تعالیٰ نے حق اور باطل کے درمیان فرق کردیا۔ آیت فالملقیت ذکرا سے وہ فرشتے مراد ہیں جو رسولوں پر ذکر القا کرتے ہی پھر رسول یہی ذکر بنی آدم کے پاس لاتے ہیں حجت تمام کرنے کے لیے یا ڈرانے کے لیے کافروں کو پھر فرمایا کہ یہ اللہ تعالیٰ کی جانب سے اس کی مخلوق کے لیے اتمام حجت ہے ڈراوا ہے۔
16۔ عبد بن حمید نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت فالعصفت عصفا والنشرات نشرا فالفرقات فرقا فالملقیت ذکرا۔ اور ان فرشتوں کی قسم جن کو پیہم احکام دے کر بھیجا جاتا ہے۔ اور وہ احکام کی تعمیل میں تیزی کے ساتھ چلتے ہیں اور اللہ کے احکام کو زمین پر پھیلاتے ہیں اور حق و باطل میں تفریق کردیتے ہیں اور انبیاء کے دلوں میں وحی کا القاء کرتے ہیں۔ یا مومنوں کے دلوں میں ذکر خدا سے یقین پیدا کرتے ہیں۔ یعنی ان سب سے مراد فرشتے ہیں۔
17۔ ابن جریر نے مسروق (رح) سے روایت کیا کہ آیت والمرسلت عرفا سے مراد فرشتے ہیں۔
18۔ عبد بن حمید وابو الشیخ فی العظمہ وابن المنذر نے ابو صالح (رح) سے روایت کیا کہ آیت والمرسلت عرفا سے مراد وہ رسول ہیں جن کو معروف یعنی نیکی کے ساتھ بھیجا جاتا ہے۔ آیت فالعصفت عصفا سے ہوا مرد ہے آیت والمرسلت عرفا سے بارش مراد ہے آیت فالفرقت فرا سے رسل (علیہم السلام) مراد ہیں۔
19۔ عبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر نے دوسری سند سے ابو صالح (رح) سے روایت کیا کہ آیت والمرسلت عرفا سے وہ فرشتے مراد ہیں جو نیکیوں کے ساتھ آتے ہیں آیت فالعصفت عصفا سے مراد ہے تیز ہوائیں آیت والنشرات نشرا سے مراد وہ فرشتے ہیں جو کتابوں کو پھیلاتے ہیں آیت فالفرقت فرقا سے وہ فرشتے مراد ہیں جو اللہ تعالیٰ کی جانب قرآن مجید اور دوسری کتابیں لے کر آتے ہیں حجت تمام کرنے کے لیے یا اللہ کی جانب سے ڈرانے کے لیے لوگوں کی طرف آتے ہیں اور لوگوں سے مراد وہ رسول ہیں جو حجت بھی تام کرتے ہیں اور ڈراتے بھی ہیں۔
20۔ ابن الانبار نے الوقف والابتداء میں والحاکم وصححہ وضعفہ الذہب نے زید بن ثابت ؓ سے روایت کیا کہ نبی ﷺ نے فرمایا قرآن تفخیم یعنی تعظیم تکریم کے ساتھ نازل کیا گیا۔ عمار بن عبدالملک (رح) نے فرمایا جیسے اس کی طرز پر آیت عذرا او نذرا۔ الصدقین۔ الا لہ الخلق والامر۔ فرمایا۔ اور ان کے مشابہ الفاظ قرآن میں ہیں۔
Ayahs 77:8–1021۔ ابن المنذر نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ آیت فاذ النجوم طمست۔ اور جب ستارے مٹادئیے جائیں گے۔ یعنی ستارے مٹ جائیں گے اور ان کی روشنی ختم ہوجائے گی۔
Ayahs 77:11–1922۔ سعید بن منصور وعبد بن حمید وابن المنذر نے ابراہیم نخعی (رح) سے روایت کیا کہ آیت واذ الرسل اقتت۔ اور جب رسول وقت معین پر جمع کیے جائیں گے۔ یعنی جب رسولوں سے وعدہ لیاجائے گا۔
23۔ عبد بن حمید نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت اقتت سے مراد ہے اجلت یعنی جبکہ رسولوں کے لیے وقت مقرر کیا جائے گا۔
24۔ ابن جریر وابن ابی حاتم نے عوفی کے طریق سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت اقتت سے مراد ہے جب رسول جمع کیے جائیں گے۔
25۔ عبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ ” یوم الفصل “ سے مراد وہ دن ہے جس میں اللہ تعالیٰ بندوں کے درمیان ان کے اعمال کے بدلے میں جنت یا دوزخ کی طرف فیصلہ فرمائیں گے۔ آیت وما ادرٰک ما یوم الفصل۔ اور آپ کو کیا معلوم کہ فیصلہ کا دن کیا ہے۔ یعنی اس کے ساتھ وہ ان کو نصیحت فرما رہے ہیں۔ آیت ویل یو مئذ للمکذبین۔ اس دن جھٹلانے والوں کے لیے ہلاکت ہے۔ یعنی ان کے لیے ہلاکت ہے۔ اللہ کی قسم جھٹلانے والوں کے لیے طویل ہلاکت ہے۔
26۔ سعید بن منصور وابن المنذر نے ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ ویل جہنم میں ایک وادی ہے جس میں دوزخ والوں کی پیپ بہتی ہے۔ اور اس کو جھٹلانے والوں کے لیے بنایا گیا ہے۔ واللہ اعلم۔
Ayahs 77:20–221۔ ابن جریر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت الم نخلقکم من ماء مہین۔ کیا ہم نے تمہیں ایک ذلیل پانی سے نہیں پیدا کیا۔ یعنی ” بالمہین “ سے مراد ہے کمزور اور حقیر پانی۔
2۔ عبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت من ماء مہین یعنی ایسا پانی جو ٹھہرانے کی محفوظ جگہ میں ضعیف اور کمزور ہے۔
Ayahs 77:23–243۔ ابن المنذر نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا کہ آیت فقدرنا فنعم القدرون۔ پھر ہم نے اندازہ لگایا تو ہم کیسے اچھے اندازہ لگانے والے ہیں۔ پس ہم مالک ہیں اور ہم کتنے اچھے مالک ہیں۔
4۔ ابن جریر نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ آیت فقدرنا فنعم القدرون یعنی ہم نے پیدا کیا تو ہم کتنے اچھے مالک ہیں۔
Ayahs 77:25–265۔ ابن جریر وابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت کفاتا سے مراد ہے چھپانا حفاظت کرنا۔
6۔ سعید بن منصور وعبد بن حمید وابن جریر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت الم نجعل الارض کفاتا (کیا ہم نے زمین کو جمع کرنے والی نہیں بنایا) سے مراد ہے کہ زمین ان کو چھپاتی ہے اس حال میں کہ وہ مرد ہوں اور وہ حفاظت کرتی ہے جب وہ زندہ ہوں۔
7۔ سعید بن منصور وعبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر والبیہقی نے اپنی سنن میں ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے ایک جوں کو پکڑا اور اس کو مسجد میں دفن کردیا۔ پھر یہ آیت پڑھی۔ آیت الم نجعل الارض کفاتا۔ احیاء وامواتا۔ کیا ہم نے زمین کو جمع کرنے والی نہیں بنایا زندوں اور مردوں کو۔
8۔ عبد بن حمید وابن المنذر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت کفاتا۔ کہ وہ زمین چھپالیتی میت کو اور اس میں سے کوئی چیز نہیں دیکھی جاتی اور آیت احیاء۔ یعنی آدمی اپنے گھر میں ہوتا ہے کہ اس کے عمل میں سے کوئی چیز نہیں دیکھی جاتی۔
Ayahs 77:27–299۔ ابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے علی کے طریق سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ ” رواسی “ سے مراد ہے اونچے اور بلند پہاڑ ” فراتا “ سے مراد ہے میٹھا ” بشرر کالقصر “ سے مراد ہے ایسے انگارے جو عظیم محل کی طرح ہوں گے۔ ” جملت صفر “ یعنی ایسے اونٹ جو رنگ میں خاص تانبے کی طرح ہوں گے۔
Ayahs 77:30–3110۔ عبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت ظل ذی ثلث شعب۔ سائبان تین حصوں والا سے مراد ہے جہنم کا دھواں۔
11۔ عبدالرزاق کلبی (رح) سے آیت ظل ذی ثلث شعب کے بارے میں روایت کیا کہ وہ ایسے ہی ہیں جیسے اللہ تعالیٰ کا یہ قول آیت نارا احاط بہم سرادقہا (الکہف آیت 29) ان کو اس کی قناتیں گھیرلیں گی۔ اور ” سرادق “ سے مراد ہے دھواں یعنی آگ کا دھوں سو ان کو اس دھویں نے گھیر لیا پھر وہ متفرق ہو کر تین شاخوں میں بٹ گیا۔ ایک شاخ یہاں ایک شاخ وہاں پر ایک اور شاخ یہاں۔
12۔ ابن جریر نے قتادہ (رح) سے اسی طرح روایت کیا۔
Ayahs 77:32–3413۔ عبدالرزاق والفریابی والبخاری وعبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر وابن مردویہ والحاکم نے عبدالرحمن بن عابس (رح) کے طریق سے روایت کیا کہ میں نے ابن عباس ؓ کو اللہ تعالیٰ کے اس قول آیت انہا ترمی بشرر کا القصر کے بارے میں سنا کہ انہوں نے فرمایا کہ ہم محل یعنی خیمے کی لکڑیوں کو تین ذراع یا اس سے کم بلند کرتے تھے اور ہم اس کو سردی کے موسم کے لیے اٹھاتے تھے۔ اور ہم اس کا قصر نام رکھتے تھے۔ راوی نے کہا اور میں نے سنا کہ آپ سے اللہ تعالیٰ کے اس قول آیت جملت صفر کے بارے میں سوال کیا گیا تو انہوں نے فرمایا اس سے مراد ہے کشتیوں کی رسیاں کہ بعض کو بعض کی طرف جمع کیا جاتا ہے یہاں تک کہ وہ اوسط الرجال یعنی طاقت ور اور شریف لوگ کی طرح مضبوط ہوجاتی ہیں۔
14۔ ابن جریر وابن المنذر نے سعید بن جبیر کے طریق سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے اس کو ” کالقصر “ قاف اور صاد کے فتح کے ساتھ پڑھا پھر فرمایا اس سے مراد کھجور کے تنے ہیں اور آپ ” جملت “ جیم کے ضمہ کے ساتھ پڑھتے تھے۔
15۔ سعید بن منصور نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ ” کالقصر “ سے مراد ہے جیسے کھجور کی جڑیں۔
16۔ ابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ عرب لوگ جاہلیت میں کہتے تھے ” اقصروا لنا الحطب “ ہمارے لیے لکڑیاں کاٹ لاؤ تو ان کو ایک ذراع یا ود ذراع کی مقدار پر کاٹا جاتا تھا۔
17۔ سعید بن منصور وعبد بن حمید وابن المنذر وابن ابی حاتم والطبرانی نے الاوسط میں ابن مسعود ؓ سے آیت ترمی بشرر کالقصر کے بارے میں روایت کیا کہ وہ انگارے درختوں اور پہاڑوں کی طرح نہیں ہیں لیکن وہ شہروں اور قلعوں کی طرح ہیں۔
18۔ عبد بن حمید وابن المنذر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت ” کالقصر “ سے مراد ہے محل آیت کانہ جملت صفر سے مراد ہے زرد اونٹ۔
19۔ ابن الانباری نے کتاب الاضداد میں حسن (رح) سے روایت کیا کہ آیت کانہ جملت صفر میں الصفر سے مراد ہے سیاہ آیت جملت صفر سے مراد ہے پل اور دوسرے لفظ میں فرمایا کہ اس سے مراد ہے پہاڑ۔
20۔ ابن جریر نے سعید بن جبیر (رح) سے روایت کیا کہ ” کالقصر “ سے مراد ہے کھجور کے تنے کی طرح۔
21۔ ابن جریر نے ضحاک (رح) سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا کہ ” کالقصر “ سے مراد ہے بڑے درخت کی جڑیں گویا کہ وہ زرد اونٹوں کے اجواز ہیں ابن جریر (رح) سے فرمایا کہ ہر چیز کا درمیانہ حصہ جوزہ ہے۔
22۔ ابن جریر نے ہارون (رح) سے روایت کیا کہ حسن (رح) نے ” القصر “ کو صاد کے جزم کے ساتھ پڑھا اور فرمایا کہ اس سے مراد ہے موٹی لکڑی۔
23۔ ابن جریر نے حسن (رح) سے روایت کیا کہ آیت کانہ جملت صفر سے مراد ہے گویا کہ وہ سیاہ اونٹوں کی طرح ہیں۔
24۔ ابن جریر نے علی کے طریق سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت کانہ جملت صفر سے مراد ہے تانبے کے ٹکڑے۔
25۔ عبد بن حمید وابن جریر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ ” کالقصر “ سے مراد ہے درختوں کا گٹھا اور کھجور کے درخت کے ٹکڑے آیت کانہ جملت صفر سے مراد ہے پلوں کے پہاڑ۔
26۔ عبدالرزاق وعبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ ” کالقصر “ سے مراد ہے درختوں کے تنے اور کھجور کے تنے آیت کانہ جملت صفر سے مراد ہے گویا کہ وہ سیاہ اونٹوں کی طرح ہیں۔
27۔ عبد بن حمید نے عکرمہ (رح) سے روایت کیا کہ وہ یہ پڑھتے تھے ” کالقصر “ سے مراد ہے جیسے پھل نکالنے والی کھجور کا ٹکڑا کانہ جملت صفر سے مراد ہے گویا وہ لمبی ٹانگوں والے جوان اونٹ ہیں۔