77. Surah Al-Mursalaat

المرسلاتThe Emissaries · 50 ayahsبصیرتِ قرآن

تعارف

تعارف

تعارف سورة المرسلات سورة نمبر 77 کل رکوع 2 آیات 50 الفاظ و کلمات 181 حروف 846 مقام نزول مکہ مکرمہ تعارف : سورة المرسلات میں اللہ تعالیٰ نے ہوائوں کی قسم کھا کر فرمایا ہے کہ اللہ نے قیامت کے لئے جو دن اور وقت مقرر کر رکھا ہے اس کے آنے میں شک کرنے کی کوئی وجہ نہیں ہے کیونکہ جس اللہ نے زمین و آسمان کو پیدا کرکے ایک زبردست اور حیرت انگیز نظم و انتظام بنایا ہے وہ جب چاہے گا اس نظام کو توڑ کر رکھ دے گا کیونکہ اس کائنات میں ساری طاقت و قوت اور قدرت اللہ ہی کی ہے۔ فرمایا ان ہواؤں کی قسم جو نرم اور خوشگوار انداز سے مسلسل چلتی ہیں اور کبھی طوفانی رفتار سے چلتی ہیں، بادلوں کو اٹھا کر پھیلاتی اور ان کو پھاڑ کر الگ الگ کردیتی ہیں۔ پھر دلوں میں اللہ کی یاد کو عذر و یا ڈرواے کے طور پر پیدا کرتی ہیں۔ جس چیز کا (قیامت کا) تم سے وعدہ کیا گیا ہے وہ ضرور واقع ہو کر رہے گی۔ جب ستارے ماند پڑجائیں گے، آسمان پھاڑ دیا جائے گا اور یہ مضبوط پہاڑ ریزہ ریزہ ہوکر اڑتے پھریں گے اور رسولوں کی حاضری کا وقت آپہنچے گا وہی فیصلے کا دن ہوگا جو اس دن کو جھٹلانے والوں کے لئے تباہی اور بربادی کا دن ہوگا۔ اللہ نے اپنی قدرت کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا کہ کیا ہم نے تم سے پہلے زبردست قوموں کو ان کے برے اعمال کی وجہ سے تباہ و برباد نہیں کیا ؟ اور کیا وہ تمہیں بھی ان کے پیچھے چلتا نہیں کرسکتا ؟ کیونکہ مجرموں کے ساتھ ہم ایسا ہی برتائو کرتے ہیں۔ فرمایا کہ کیا ہم نے تمہیں ایک حقیر پانی سے پیدا نہیں کیا ؟ جسے ایک مقرر مدت تک ایک محفوظ جگہ (رحم مادر) میں ٹھہرائے نہیں رکھا ؟ اگر تم اس پر غور کروگے تو کہہ اتھو گے کہ اللہ ہی بہترین قوت رکھنے والا ہے۔ فرمایا کہ کیا ہم نے زمین کو زندہ اور مردہ دونوں کو سمیٹ کر رکھنے والا نہیں بنایا ؟ کیا ہم نے اس میں بلندو بال پہاڑ نہیں جما دئیے ؟ اور کیا تمہیں میٹھا پانی نہیں پلایا ؟ فرما یا جائے گا کہ اب تم اس طرف چلو جس کو تم جھٹلایا کرتے تھے۔ تم اس سائے کی طرف چلو جو تین شاخوں والا ہے جس میں نہ تو ٹھنڈک پہنچانے کی صلاحیت ہے اور نہ وہ ا اگے کے شعلوں سے بچانے والا ہے۔ اور یہ وہ آگ ہوگی جو محلوں جیسی بڑی بڑی چنگاریاں پھینکنے والا ہوگا۔ ایسا محسوس ہوگا جیسے زرد اونٹوں کا قافلہ چلا آرہا ہے۔ یہ دن ایسا ہیبت ناک ہوگا جس میں کسی کو منہ بات نکالنا مشکل ہوگا اگر وہ معذرت کرنا چاہیں گے تو ان کو معذرت اور اظہار شرمندگی کا موقع نہ دیا جائے گا۔ فرمایا کہ یہ ہے وہ فیصلے کا دن جس میں ہم نے تمہیں اور تم سے پہلی گزری ہوئی قوموں کو جمع کردیا ہے۔ اب سب مل کر اگر کوئی چال چل سکتے ہو تو میرے مقابلے میں اس کو چل کر دکھائو۔ فرمایا کہ اگر ایک طرف قیامت اور اس کی تبارہ کاریاں اور کافروں کا برا انجام ہوگا تو دوسری طرف وہ لوگ جو اہل تقویٰ ہیں اس دن سایوں اور چشموں میں ہوں گے وہ جو بھی پھل مانگیں گے انکو اسی وقت دیا جائے گا۔ ان سے کہا جائے گا کہ وہ خوب کھائیں اور پئیں یہ ان کے اعمال کا بدلہ ہے جو وہ دنیا میں کیا کرتے تھے۔ اور ہم نیک اور اہل تقویٰ کو ایسا ہی بدلہ دیا کرتے ہیں۔ اللہ نے مجرم اور گناہ گاروں سے فرمایا ہے کہ تم کچھ دن خوب مزے اڑا لو لیکن حقیقت یہ ہے کہ تم اللہ کی نظر میں مجرم ہو۔ جب تم سے کہا جاتا تھا کہ تم اللہ کے آگے جھکو تو اسکے سامنے جھکنے سے انکار کردیا کرتے تھے اب تم اس کی سزا بھگتو۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ بتائو اس (قرآن کریم) کے بعد وہ کون سا کلام ہے جس پر تم ایمان لائو گے ؟ اللہ تعالیٰ نے اس سورت میں متعدد مرتبہ فرمایا ہے کہ ”……“ تباہی ہے ان جھٹلانے والوں کے لئے۔ یعنی جب قیامت آئے گی تو یہ کفار بدحواس ہوجائیں گے اور ہر طرف سے ان کی تباہی کے سامان ہوں گے۔

Ayahs 77:1–50

وَ الْمُرْسَلٰتِ عُرْفًاۙ Open ayah 77:1 in the Quran reader

ان ہوائوں کی قسم جو نفع پہنچانے والی ہیں۔

فَالْعٰصِفٰتِ عَصْفًاۙ Open ayah 77:2 in the Quran reader

پھر ان ہوائوں کی قسم جو طوفانی انداز سے چلتی ہیں۔

وَّ النّٰشِرٰتِ نَشْرًاۙ Open ayah 77:3 in the Quran reader

قسم ان ہوائوں کی جو بادلوں کو اٹھا کر پھیلاتی ہیں۔

فَالْفٰرِقٰتِ فَرْقًاۙ Open ayah 77:4 in the Quran reader

پھر ان ہوائوں کی قسم ( جو بادلوں کو پھاڑ کر) جدا کردیتی ہیں۔

فَالْمُلْقِیٰتِ ذِكْرًاۙ Open ayah 77:5 in the Quran reader

(پھر ان ہوائوں کی قسم) جو دل میں اللہ کی یاد ڈالتی ہیں۔

عُذْرًا اَوْ نُذْرًاۙ Open ayah 77:6 in the Quran reader

یہ اللہ کی یاد عذر کے طور پر یا ڈراوے کے طور پر۔

اِنَّمَا تُوْعَدُوْنَ لَوَاقِعٌؕ Open ayah 77:7 in the Quran reader

جس کا تم سے وعدہ کیا گیا ہے (قیامت) وہ ضرور واقع ہوگی۔

فَاِذَا النُّجُوْمُ طُمِسَتْۙ Open ayah 77:8 in the Quran reader

جب ستارے ماند پڑجائیں گے۔

وَ اِذَا السَّمَآءُ فُرِجَتْۙ Open ayah 77:9 in the Quran reader

جب آسمان میں شگاف ڈال دیئے جائیں گے

وَ اِذَا الْجِبَالُ نُسِفَتْۙ Open ayah 77:10 in the Quran reader

اور جب پہاڑ اڑا دیے جائیں گے

وَ اِذَا الرُّسُلُ اُقِّتَتْؕ Open ayah 77:11 in the Quran reader

اور جب رسولوں کے پیش ہونے کا وقت مقرر کردیا جائے گا۔

لِاَیِّ یَوْمٍ اُجِّلَتْؕ Open ayah 77:12 in the Quran reader

کس دن کے لئے تاخیر کی گئی تھی ؟

لِیَوْمِ الْفَصْلِۚ Open ayah 77:13 in the Quran reader

فیصلے والے دن کے لئے۔

وَ مَاۤ اَدْرٰىكَ مَا یَوْمُ الْفَصْلِؕ Open ayah 77:14 in the Quran reader

اور کیا تمہیں معلوم ہے کہ وہ فیصلے کا دن کیا ہے ؟

وَیْلٌ یَّوْمَئِذٍ لِّلْمُكَذِّبِیْنَ Open ayah 77:15 in the Quran reader

اس دن جھٹلانے والوں کی بڑی تباہی ہے۔

اَلَمْ نُهْلِكِ الْاَوَّلِیْنَؕ Open ayah 77:16 in the Quran reader

کیا ہم ان سے پہلے لوگوں کو (نافرمانیوں کی وجہ سے ) برباد نہیں کرچکے ؟

ثُمَّ نُتْبِعُهُمُ الْاٰخِرِیْنَ Open ayah 77:17 in the Quran reader

پھر ہم بعد والوں کو بھی اگلے لوگوں کے ساتھ ملا دیں گے۔

كَذٰلِكَ نَفْعَلُ بِالْمُجْرِمِیْنَ Open ayah 77:18 in the Quran reader

ہم گناہگاروں کے ساتھ ایسا ہی سلوک کیا کرتے ہیں۔

وَیْلٌ یَّوْمَئِذٍ لِّلْمُكَذِّبِیْنَ Open ayah 77:19 in the Quran reader

اس دن جھٹلانے والوں کے لئے بڑی تباہی ہے۔

اَلَمْ نَخْلُقْكُّمْ مِّنْ مَّآءٍ مَّهِیْنٍۙ Open ayah 77:20 in the Quran reader

کیا ہم نے تمہیں ایک بےقدر (نطفے) پانی سے نہیں بنایا ؟

فَجَعَلْنٰهُ فِیْ قَرَارٍ مَّكِیْنٍۙ Open ayah 77:21 in the Quran reader

پھر ہم نے ہی اس نطفے کو ایک محفوط ومضبوط مقام پر نہیں ٹھہرایا ؟

اِلٰى قَدَرٍ مَّعْلُوْمٍۙ Open ayah 77:22 in the Quran reader

ایک مقررہ اندازے تک رکھا۔

فَقَدَرْنَا١ۖۗ فَنِعْمَ الْقٰدِرُوْنَ Open ayah 77:23 in the Quran reader

پھر ہم نے (اسی بناوٹ کا) ایک اندازہ کیا اور ہم کیسا اچھا بنانے پر قدرت رکھنے والے ہیں ؟

وَیْلٌ یَّوْمَئِذٍ لِّلْمُكَذِّبِیْنَ Open ayah 77:24 in the Quran reader

اس دن جھٹلانے والوں کے لئے بڑی تباہی ہے۔

اَلَمْ نَجْعَلِ الْاَرْضَ كِفَاتًاۙ Open ayah 77:25 in the Quran reader

کیا ہم نے زمین کو سمیٹنے والا نہیں بنایا ؟

اَحْیَآءً وَّ اَمْوَاتًاۙ Open ayah 77:26 in the Quran reader

سب زندہ اور مردہ لوگوں کو

وَّ جَعَلْنَا فِیْهَا رَوَاسِیَ شٰمِخٰتٍ وَّ اَسْقَیْنٰكُمْ مَّآءً فُرَاتًاؕ Open ayah 77:27 in the Quran reader

اور کیا ہم نے اس میں اونچے اونچے بوجھل پہاڑ نہیں بنائے ؟ اور کیا ہم نے لوگوں کو میٹھا پانی نہیں پلایا ؟

وَیْلٌ یَّوْمَئِذٍ لِّلْمُكَذِّبِیْنَ Open ayah 77:28 in the Quran reader

اس دن جھٹلانے والوں کے لئے بڑی تباہی ہے۔

اِنْطَلِقُوْۤا اِلٰى مَا كُنْتُمْ بِهٖ تُكَذِّبُوْنَۚ Open ayah 77:29 in the Quran reader

اس دن کافروں سے کہا جائے گا کہ تم جس عذاب کو جھٹلاتے تھے اس طرف چلو۔

اِنْطَلِقُوْۤا اِلٰى ظِلٍّ ذِیْ ثَلٰثِ شُعَبٍۙ Open ayah 77:30 in the Quran reader

تم دھوئیں کے ایک سائبان کی طرف چلو جس کی تین شاخیں ہیں

لَّا ظَلِیْلٍ وَّ لَا یُغْنِیْ مِنَ اللَّهَبِؕ Open ayah 77:31 in the Quran reader

جس میں نہ سایہ ہے کہ وہ آگے کی لپیٹ سے بچاتا ہے۔

اِنَّهَا تَرْمِیْ بِشَرَرٍ كَالْقَصْرِۚ Open ayah 77:32 in the Quran reader

وہ ایسی چنگاریاں پھینکتا ہے جیسے بڑے بڑے محل۔

كَاَنَّهٗ جِمٰلَتٌ صُفْرٌؕ Open ayah 77:33 in the Quran reader

جیسے وہ زردی مائل کالے کالے (اونٹوں کا قافلہ ہو) ۔

وَیْلٌ یَّوْمَئِذٍ لِّلْمُكَذِّبِیْنَ Open ayah 77:34 in the Quran reader

اس دن جھٹلانے والوں کے لئے بڑی خرابی ہے۔

هٰذَا یَوْمُ لَا یَنْطِقُوْنَۙ Open ayah 77:35 in the Quran reader

یہ دن وہ ہوگا ( اس میں یہ لوگ) بول بھی نہ سکیں گے۔

وَ لَا یُؤْذَنُ لَهُمْ فَیَعْتَذِرُوْنَ Open ayah 77:36 in the Quran reader

نہ ان کو عذر پیش کرنے کی اجازت دی جائے گی۔ اور پھر وہ عذر بھی نہ کرسکیں گے ۔

وَیْلٌ یَّوْمَئِذٍ لِّلْمُكَذِّبِیْنَ Open ayah 77:37 in the Quran reader

اس دن جھٹلانے والوں کے لئے بڑی تباہی ہے۔

هٰذَا یَوْمُ الْفَصْلِ١ۚ جَمَعْنٰكُمْ وَ الْاَوَّلِیْنَ Open ayah 77:38 in the Quran reader

یہ ہے وہ فیصلے کا دن جس میں ہم نے تمہیں اور تم سے پہلے لوگوں کو بھی جمع کرلیا ہے۔

فَاِنْ كَانَ لَكُمْ كَیْدٌ فَكِیْدُوْنِ Open ayah 77:39 in the Quran reader

پھر اگر تمہاری کوئی تدبیر تو وہ مجھ پر آزمائو۔

وَیْلٌ یَّوْمَئِذٍ لِّلْمُكَذِّبِیْنَ۠ Open ayah 77:40 in the Quran reader

اس دن جھٹلانے والوں کے لئے بڑی تباہی ہے۔

اِنَّ الْمُتَّقِیْنَ فِیْ ظِلٰلٍ وَّ عُیُوْنٍۙ Open ayah 77:41 in the Quran reader

بیشک پرہیزگار سایوں اور چشموں میں ہوں گے۔

وَّ فَوَاكِهَ مِمَّا یَشْتَهُوْنَؕ Open ayah 77:42 in the Quran reader

اور وہ جو بھی پھل چاہیں گے ان کو ملے گا۔

كُلُوْا وَ اشْرَبُوْا هَنِیْٓئًۢا بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ Open ayah 77:43 in the Quran reader

اور ان سے کہا جائے گا کہ جو کچھ تم کرتے تھے اس کے بدلے میں خوب اچھی طرح کھائو پیو۔

اِنَّا كَذٰلِكَ نَجْزِی الْمُحْسِنِیْنَ Open ayah 77:44 in the Quran reader

بیشک نیکوکاروں کو ہم ایسی ہی جزا دیا کرتے ہیں۔

وَیْلٌ یَّوْمَئِذٍ لِّلْمُكَذِّبِیْنَ Open ayah 77:45 in the Quran reader

اس دن جھٹلانے والوں کے لئے بڑی تباہی ہے۔

كُلُوْا وَ تَمَتَّعُوْا قَلِیْلًا اِنَّكُمْ مُّجْرِمُوْنَ Open ayah 77:46 in the Quran reader

(اور کافروں سے کہا جائے گا) تم تھوڑے دنوں تک کھالو اور فائدے حاصل کرلو یقینا تم (اللہ کے) مجرم ہو۔

وَیْلٌ یَّوْمَئِذٍ لِّلْمُكَذِّبِیْنَ Open ayah 77:47 in the Quran reader

اور اس دن جھٹلانے والوں کیلئے بڑی تباہی ہے۔

وَ اِذَا قِیْلَ لَهُمُ ارْكَعُوْا لَا یَرْكَعُوْنَ Open ayah 77:48 in the Quran reader

اور جب ان سے کہا جاتا تھا کہ (اللہ کے سامنے) جھکو تو وہ جھکتے نہ تھے۔

وَیْلٌ یَّوْمَئِذٍ لِّلْمُكَذِّبِیْنَ Open ayah 77:49 in the Quran reader

اس دن جھٹلانے والوں کے لئے بڑی تباہی ہے۔

فَبِاَیِّ حَدِیْثٍۭ بَعْدَهٗ یُؤْمِنُوْنَ۠ Open ayah 77:50 in the Quran reader

آخر یہ لوگ اس کلام کے بعد اور کس بات پر ایمان لائیں گے ؟

لغات القرآن۔ المرسلات۔ چلنے والیاں۔ عرف۔ فائدہ پہنچانا۔ عصفت۔ تیز چلنے والیاں۔ نشرات۔ پھیلانے والیاں۔ فرقت۔ پھارنے والیاں۔ الملقیت۔ لانے والیاں۔ طمست۔ مٹا دی گئی۔ نسفت۔ ریزہ ریزہ کردی گئی۔ اقتت ۔ مقرر کی گئی۔ اجلت۔ ملتوی کردی گئی۔ یوم الفصل۔ فیصلے کا دن۔ ویل۔ خرابی ۔ بربادی۔ ماء مھین۔ حقیر پانی۔ کفات۔ اکٹھا کرنے والاشمخت۔ اونچے۔ فرات۔ میٹھا پانی ۔ ذی ثلث شعب۔ تین شاخوں والا ۔ ترمی۔ وہ پھینکتی ہے۔ جملت، صفر، ۔ زرد اونٹ۔ لا ینطقون۔ وہ نہ بولیں گے۔ یعتذرون۔ وہ عذر پیش کریں گے۔ ظلل۔ سائے۔ عیون (عین) ۔ چشمے۔ ای حدیث۔ کونسی بات۔ تشریح : سورة المرسلات کی ابتدائی چھ آیتوں میں ہواؤں اور ان پر متعین فرشتوں کی قسمیں کھا کر ارشاد فرمایا گیا ہے کہ قرآن کریم نے قیامت کے ہولناک دن کے متعلق جو بھی خبریں دی ہیں وہ اسی طرح واقع ہو کر رہیں گی۔ یہ دن کفار و مشرکین اور اللہ کے نافرمانوں کے لئے بہت سخت ہوگا اور اللہ کے فرماں بردار اہل ایمان بندوں سے فرمایا جائے گا کہ وہ دنیا میں زندگی بھر جو بھی اعمال کرتے رہے ہیں آج ان کے صلے اور بدلے میں وہ بہت اعلیٰ جنتوں سے ہر طرح عیش و آرام کا سامان حاصل کریں۔ فرمایا ان ہواؤں کی قسم جو نفع پہنچانے والی، زور سے چل کر طوفان بن جانے والی، بادلوں کو اٹھا کر پھیلانے والی، بادلوں کو جدا کرکے بکھیر دینے والی اور عذر سے یا ڈرواوے کے طور پر دلوں میں اللہ کی یاد کو تازہ کردینے والی ہیں وہ وعدہ جو تم سے کیا گیا ہے یعنی قیامت کا آنا وہ دن بہت جلد آنے والا ہے اور واقع ہر کر رہے گا۔ سارا نظام کائنات درہم برہم کردیا جائے گا۔ ستاروں سے روشنی چھین کر ان کو بےنور کردیا جائے گا، آسمان پھٹ جائیں گے، پہاڑ فضاؤں میں اڑتے پھریں گے۔ اس دن اللہ کے تمام پیغمبر اپنی امتوں کے معاملے میں گواہی دینے کے لئے حاضر ہوجائیں گے کہ انہوں نے اللہ کا پیغام ان تک پہنچا دیا تھا۔ یہ فیصلے کا دن ہوگا جو اللہ و رسول اور اس کے دین کو جھٹلانے والوں کے لئے بڑی تباہی و بربادی کا دن ہوگا۔ اللہ تعالیٰ نے نافرمانوں قوموں کے انجام کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا کہ ان لوگوں کو گزری ہوئی قوموں کے بدترین انجام سے عبرت حاصل کرنی چاہیے کہ جو لوگ دنیا کے ذرا سے مال و دولت پر اس قدر اترایا کرتے تھے اور ہر سچائی کے پیغام کو جھٹلا کر اپنے آپ کو بہت طاقت ور اور زور آور سمجھتے رہے تھے وہ اس دن کی ہولناکیوں کے سامنے نہایت بےبس اور عاجز نظر آئیں گے۔ ان کی آنکھیں پھٹی رہ جائیں گی۔ ان کے منہ پر ہیبت اور خوف سے تالے پڑجائیں گے اور وہ اپنی دلی کیفیات کا اظہار تک کرنے کے قابل نہ رہیں گے۔ اگر وہ کوئی عذر پیش کرنا چاہیں گے تو ان کو عذرپیش کرنے کی مہلت تک نہ مل سکے گی۔ فرمایا کہ انسان کس بات پر اتنا اتراتا اور غرور وتکبر کرتا ہے کبھی اس نے اپنی پیدائش پر غور کیا۔ وہ پانی کے ایک حقیر اور بےقدر قطرے سے پیدا نہیں کیا گیا ؟ اس کے نطفے کو ہم نے ایک محفوط مقام پر رکھ کر ایک خاص مدت میں رکھ کر جیتا جاگتا انسان نہیں بنایا ؟ فرمایا کہ کیا اس نے زمین کی پیدائش پر بھی کبھی غور کیا ہے کہ اللہ نے اس کو ہلنے اور حرکت سے بچانے کے لئے اس پر بوجھل پہاڑ بنائے۔ اسی زمین سے اللہ نے اپنی قدرت و حکمت سے میٹھا پانی پیدا کیا جس کو پی کر ہر جاندار زندہ رہتا ہے۔ زمین سر سبز و شادات رہتی ہے۔ اور آدمی اس سے ہر طرح کے فائدے حاصل کرتا ہے لیکن پھر بھی شکر ادا نہیں کرتا۔ انسان اور زمین کی پیدائش میں عبرت و نصیحت کے ہزاروں پہلو پوشیدہ ہیں۔ انسانی زندگی اور زمین پر اتار چڑھائو خود اس بات کی دلیل ہے کہ یہاں کی کسی چیز کو قرار نہیں ہے آئے دن اس میں انقلاب آتے رہتے ہیں۔ اسی طرح کا ایک زبردست دھماکہ اور انقلاب اس کائنات کی تباہی کا سبب بھی بن جائے گا۔ اور قیامت آجائے گی۔ اس قیامت کے دن ان کفار سے کہا جائے گا کہ تم زندگی بھر جس قیامت کے دن کو جھٹلاتے رہے تھے وہ دن آگیا ہے اب تم دھوئیں گے کے اس سائبان کی طرف چلو جس کی تین شاخیں بن جائیں گی جس میں نہ سایہ ہوگا نہ وہ سایہ ان کو آگ کی لپیٹ سے بچا سکے گا۔ اس دھوئیں سے ایسی چنگاریاں نکل رہی ہوں گے جیسے بڑی بڑی بلڈنگیں یا زردی مائل کالے اونٹ ہیں۔ اس دن یہ کفار نہ سوال کرسکیں گے نہ ان کو عذر اور معذرت پیش کرنے کا موقع ملے گا ۔ کہا جائے گا کہ آج فیسلے کا دن آگیا ہے جس میں ہم نے اگلے پچھلے تمام لوگوں کو جمع کرلیا ہے۔ تم دنیا میں اللہ کے دین کو جھٹلانے کی ہر تدبیر کرچکے ہو۔ اب بھی اگر تمہارے اندر طاقت ہے تو یہاں بھی اپنی چالیں چل کر دیکھ لو لیکن تم اپنی چالوں میں کامیاب نہ ہوسکو گے۔ اللہ تعالیٰ نے سورة المرسلات میں بار بار ای ہی بات کو دھرایا ہے کہ اس فیصلے کے دن ان لوگوں کے لئے زبردست تباہی اور بربادی ہے جو اس کو اور اس کے دین کو جھٹلاتے رہے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اس دن وہ لوگ عیش و آرام اور جنت کی راحتوں میں ہوں گے جنہوں نے خوف الٰہی کے ساتھ اپنے فرائض زندگی کو احسن طریقے پر پوری طرح ادا کیا ہوگا۔ وہ چشموں اور درختوں کی گھنی چھاؤں میں ہوں گے۔ ان کے لئے ہر طرح کی نعمتیں ہوں گی وہ اس جنت میں جو چاہیں گے بلا روک ٹوک ان کو عطا کیا جائے گا اور ان سے کہا جائے گا کہ آج تم پر کوئی پابندی نہیں ہے خوب کھائو، پیو اور عیش و آرام سے رہو۔ یہ ان کی نیکیوں کا صلہ ہوگا کیونکہ اللہ تعالیٰ نیکو کاروں کو اسی طرح کا بدلہ دیا کرتے ہیں۔ کفار سے کہا جا رہا ہے کہ تم تھوڑے دنوں تک خوب کھا پی لو۔ فائدے حاصل کرلو لیکن اس بات کو یاد رکھو کہ تم اللہ کے مجرم ہو اور تم کسی رعایت کے مستحق نہیں ہو۔ کیونکہ جب تم سے یہ کہا جاتا تھا کہ تم اللہ کے سامنے جھکو تو تم اس کا مذاق اڑاتے ہوئے کہتے تھے کہ ہم جانوروں کی طرح جھکنے کو اپنی توہین سمجھتے ہیں۔ ایسے لوگوں سے قیامت کے دن فرمایا جائے گا کہ اگر تم دنیا میں اللہ کے سامنے اپنی گردنیں جھکا دیتے تو آج شرمندی سے تمہاری گردنیں نہ جھکتیں۔ فرمایا کہ یہ تمام باتیں ایسی سچائیاں ہیں کہ ان پر یقین کرنا چاہیے۔ اس کے باوجود بھی اگر یہ لوگ اللہ کی باتوں پر یقین نہیں کرتے تو پھر وہ کون سی بات ہوگی جس پر وہ ایمان لائیں گے ؟