Al-Mursalaat 77:49

Al-Mursalaat · from ayah 49

77:49

وَیْلٌ یَّوْمَىِٕذٍ لِّلْمُكَذِّبِیْنَ ۟وَيۡلٌ يَّوۡمَئِذٍ لِّلۡمُكَذِّبِيۡنَ

اس دن جھٹلانے والوں کی خرابی ہے

— Fateh Muhammad Jalandhari

Woe, that Day, to the deniers.

— Saheeh International

Juz 29 · Ruku 2 of surah · Ruku 22 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Mursalaat

All translations of 77:49

تباہی ہے اُس روز جھٹلانے والوں کے لیے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اس دن جھٹلانے والوں کی خرابی ہے

— مولانا فتح محمد جالندہری

اس دن جھٹلانے والوں کی تباہی ہے

— مولانا محمد جوناگڑہی

بڑی خرابی ہوگی اس دن ایسے لوگوں کی جو حق کو جھٹلاتے ہیں۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اس دن جھٹلانے والوں کی خرابی،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اس دن جھٹلانے والوں کے لئے بڑی تباہی ہے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اس دن جھٹلانے والوں کے لیے بڑی ہلاکت ہے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اس دن جھٹلانے والوں کے لیے تباہی ہے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اس دن جھٹلانے والوں کی تباہی ہے

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

بڑی ہی خرابی ہوگی اس دن جھٹلانے والوں کے لئے

— مولانا اسحاق مدنی

بڑی خرابی ہے اس روز جھٹلانے والوں کے لئے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

(ہلاکت اور) بربادی ہے اس دن جھٹلانے والوں کے لیے۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اس دن جھٹلانے والوں کی خرابی ہے

— محترمہ رفعت اعجاز

Woe on that Day to those that give the lie to the Truth!

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Woe that Day to the deniers!

— Muhammad Taqi Usmani

Woe that Day to the deniers!

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Woe that Day to the deniers!

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Woe, that Day, to the deniers.

— Saheeh International

On that day, woe would be upon those who have rejected God's revelations!

— Muhammad Sarwar

Woe on that day to the rejecters.

— Muhammad Habib Shakir

Woe on that day Unto the beliers!

— Abdul Majid Daryabadi

Ah woe, that Day, to the Rejecters of Truth!

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 77:49

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 41–50

دنیا اور آخرت کے فائدوں کا موازنہ : اوپر چونکہ بدکاروں کی سزاؤں کا بیان ہوا تھا یہاں نیک کاروں کی جزا کا بیان ہو رہا ہے کہ جو لوگ متقی پرہیزگار تھے اللہ کے عبادت گزار تھے فرائض اور واجبات کے پابند تھے۔ اللہ کی نافرمانیوں سے حرام کاریوں سے بچتے تھے وہ قیامت کے دن جنتوں میں ہوں گے، جہاں قسم قسم کی نہریں چل رہی ہیں۔ گنہگار سیاہ بدبو دار دھوئیں میں گھرے ہوئے ہوں گے اور یہ نیک کردار جنتوں کے گھنے ٹھنڈے اور پرکیف سایوں میں بہ آرام تمام لیٹے بیٹھے ہوں گے۔ سامنے صاف شفاف چشمے اپنی پوری پوری روانی سے جاری ہیں۔ قسم قسم کے پھل میوے اور ترکاریاں موجود ہیں، جسے جب جی چاہے کھائیں، نہ روک ٹوک ہے نہ کمی اور…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 49–50

سورة الْمُرْسَلٰت 27 یعنی جو بڑی سے بڑی چیز انسان کو حق و باطل کا فرق سمجھانے والی اور ہدایت کا راستہ دکھانے والی ہو سکتی تھی وہ قرآن کی صورت میں نازل کردی گئی ہے۔ اس کو پڑھ کر یا سن کر بھی اگر کوئی شخص ایمان نہیں لاتا تو اس کے بعد پھر اور کیا چیز ایسی ہو سکتی ہیں جو اس کو راہ راست پر لا سکے ؟

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 48–49

وَاِذَا قِيْلَ لَهُمُ ارْكَعُوْا لَا يَرْكَعُوْنَ ، یہاں اکثر مفسرین کے نزدیک رکوع سے مراد اس کے لغوی معنی یعنی جھکنا اور اطاعت کرنا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ جب دنیا میں ان کو احکام الٰہیہ کی اطاعت کے لئے کہا جاتا تھا تو یہ اطاعت نہ کرتے تھے۔ اور بعض حضرات نے رکوع کے اصطلاحی معنے بھی مراد لئے ہیں اور مطلب آیت کا یہ ہے کہ جب ان کو نماز کی طرف بلایا جاتا تھا تو یہ نماز نہ پڑھتے تھے۔ رکوع بول کر پوری نماز مراد لی گئی ہے۔ (روح)

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

اس کے بعد آیت ترجیع ہے جس کا موقع بالکل واضح ہے کہ جو برخود غلط اپنا فرض ادا کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں لیکن حقوق حاصل کرنا چاہتے ہیں انھیں یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ ان کی آرزوئیں پوری ہونے والی نہیں ہیں۔ وہ دن آئے گا کہ یہ دیکھیں گے کہ وہاں ان کے ساتھ کیا معاملہ ہوتا ہے۔ یہاں وہ بات بھی یاد رکھیے جو سورۂ قلم میں گزر چکی ہے کہ قیامت کے دن اس طرح کے مستکبرین سجدہ کرنے کے لیے بلائے جائیں گے لیکن انھوں نے دنیا کی زندگی میں سجدہ نہیں کیا اس وجہ سے اس دن بھی وہ سجدہ نہ کر سکیں گے۔ یہ چیز ثابت کر دے گی کہ یہ بھی مستکبرین میں سے ہیں اس وجہ سے یہ اسی سزا کے مستحق ہیں جو مستکبرین کے لیے خاص ہے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 33–50

10: یہاں یہ حقیقت بیان فرمائی گئی ہے کہ دوزخ کی آگ کے شعلے اتنے بڑے ہوں گے جیسے عظیم الشان محل ہوتے ہیں، اور ان سے جو شاخیں نکلیں گی، وہ زرد رنگ کے اونٹوں جیسی ہوں گی۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 48–50

حالانکہ وہ دیکھ رہے ہیں اور انہیں اس خوبصورتی کے ساتھ سمجھایا اور ڈرایا جارہا ہے۔ اگر یہ اس انداز کلام سے متاثر نہیں ہوتے جس سے پہاڑ بھی ہل جاتے ہیں اور جمادات کے اندر بھونچال برپا ہوجاتا ہے۔ تو اس کے بعد ان پر کوئی کلام کار گر نہیں ہوسکتا۔ گویا یہ لوگ نہایت شقی ، بدبخت اور برے انجام تک پہنچنے والے ہیں۔ اور ان کی قسمت میں ہلاکت لکھی ہوئی ہے۔ اور ان پر کلام نرم ونازک بےاثر ہے۔ یہ پوری سورت اپنے مضامین ، اپنے انداز تعبیر ، اپنے الفاظ کے ترنم ، اپنے خوفناک مشاہد ومناظر اور اپنے چبھنے والے تیز اشارات کی وجہ سے اس قدر موثر ہے کہ کوئی دل اس کے مقابلے میں اپنی جگہ ٹھہر نہیں سکتا۔ کوئی وجود متاثر…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

17 اس دن پچھتائیں گے کہ دنیا میں احکام الٰہی کے سامنے کیوں نہ جھکے۔ وہاں سر جھکاتے تو آج یہاں سربلند ہوتے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 46–49

آیت 46{ کُلُوْا وَتَمَتَّعُوْا قَلِیْلًا اِنَّکُمْ مُّجْرِمُوْنَ۔ } ”اے کفار و مشرکین ! تم کھا پی لو تھوڑی دیر کے لیے ‘ یقینا تم لوگ مجرم ہو۔“ تم لوگ اپنی دنیوی زندگی میں عیش کر رہے ہو تو کرتے جائو۔ بالآخر قیامت کے دن تمہیں مجرموں کی حیثیت سے ہمارے سامنے پیش ہونا ہے۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 49–50

28 یعنی حق و باطل میں امتیاز کے لحاظ سے پندو نصیحت کے لحاظ سے، انسان کو نیک و بد سمجھانے کے لحاظ سے اور اسے اس اخروی انجام سے آگاہ کرنے کے لحاظ سے قرآن سے بہتر کوئی کتاب نہیں ہوسکتی۔ پھر اگر یہ لوگ اس پر بھی ایمان لانے کو تیار نہیں تو کیا اس کے بعد کوئی اور کتاب آسمان سے اترنے والی ہے جس پر یہ ایمان لائیں گے۔ حدیث میں ہے کہ جب کوئی شخص اس آیت پر پہنچے تو یوں کہے : امنا باللّٰہ (مستدرک حاکم)

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 48–49

18۔ (جو کسی دعوت وتبلیغ حق کا اثر نہیں قبول کرتے، بلکہ ہر ربانی صداقت سے انکار ہی پر مصر ہیں اور اپنے جرم کو جرم ہی نہیں سمجھتے) (آیت) ” واذا قیل لھم ارکعوا “۔ یعنی جب انہیں یہ پیام ملتا ہے کہ ایمان اور عبدیت کی راہ اختیار کرو، رکوع ہمیشہ اپنے اصطلاحی معنی یعنی ایک رکن نماز ہی کے معنی میں نہیں بلکہ کبھی اپنے لغوی مفہوم یعنی خشوع و تواضع کے معنی میں بھی آتا ہے۔ الرکوع یستعمل تارۃ فی التواضع والتذلل (راغب) اور یہاں یہی مراد ہیں۔ اے خشعوا اللہ وتواضعوا لہ یقبول وجھہ واتباع دینہ (کشاف۔ مدارک) صوفیہ عارفین نے کہا ہے کہ قبول حق کا مقدمہ خشوع و تواضع ہی ہے۔ اور بڑا مانع راہ نخوت ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 48–49

واذا قیل لھم ارکعوا لا یرکعون، کہا گیا ہے کہ یہ آیت بنی ثقیف … میں نازل ہوئی، جب کہ ان سے کہا گیا کہ نماز پڑھو، تو انہوں نے کہا ہم جھک نہیں سکتے جھکنا ہمارے لئے مشکل ہے، تو آپ ﷺ نے فرمایا ” لا خیر فی دین لیس فیہ رکوع و لا سجود “ اور کہا گیا ہے کہ یہ ان سے آخرت میں کہا جائے گا، مگر وہ رکوع و سجدہ پر قادر نہ ہوں گے۔ (فتح القدیر، شوکانی) اکثر مفسرین کے نزدیک یہاں ” رکوع “ کے لغوی معنی یعنی جھکنا اور اطاعت کرنا مراد ہیں، مطلب یہ ہے کہ جب ان سے دنیا میں احکام الٰہیہ کی اطاعت کے لئے کہا جاتا تھا تو یہ اطاعت نہ کرتے تھے، اور بعض حضرات نے رکوع کے اصطلاحی معنی بھی مراد لئے ہیں اور مطلب آیت کا یہ ہے کہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 49–50

(49۔ 50) اللہ تعالیٰ رسول اکرم، کتاب اور بعث بعد الموت جھٹلانے والوں کے لیے قیامت کے دن بہت سخت عذاب ہے پھر اگر یہ لوگ اس کتاب پر ایمان نہیں لاتے تو پھر قرآن حکیم کے بعد کون سی کتاب پر ایمان لائیں گے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

Explained with ayahs 48–49

واذا قلیل لھم ازکعوا…: رکوع کا معنی جھکنا یعنی اللہ کے احکام کے سامنے سرتسلیم خم کردینا ہے اور رکوع بول کر نماز بھی مراد لی جاتی ہے، کیونکہ رکوع اس کا ایک حصہ ہے، یعنی ان مکذبین کے جھٹلانے کا اصل سبب یہ ہے کہ وہ اللہ کے احکام کے سامنے جھکنے کے لئے تیار نہیں اور نہ ہی وہ نمازپ ڑھنے پر آمادہ ہیں، یہی کبر ان کے انکار کا باعث بن گیا ہے، جس طرح شیطان کے لئے بنا تھا۔ حقیقت یہ ہے کہ ایمان کا اصل اللہ کے سامنے جھک جانا ہے اور کفر کا اصل اللہ کے سامنے جھکنے سے اناکر ہے اور ایسے لوگوں کیلئے قیامت کے دن بہت بڑی خرابی اور بربادی ہے۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 48–49

واذا قیل لھم الرکعوا۔۔ تا۔۔۔ یومنون۔ واذا قیل لھم الرکعوا لایرکعون۔ جب ان مشرکوں کو یہ کہا جاتا ہے، نماز پڑھو تو وہ نماز نہیں پڑھتے، یہ مجاہد کا قول ہے، مقاتل نے کہا، یہ بنوثقیف کے بارے میں نازل ہوئی جو نماز پڑھنے سے رک گئے یہ آیت ان کے بارے میں نازل ہوئی، مقاتل نے کہا، نبی کریم نے انہیں کہا، اسلام قبول کرلو، اور انہیں نماز کا حکم دیاتوان کے بارے میں یہ حکم نازل ہوا۔ انہوں نے کہا، ہم نہیں جھکیں گے کیونکہ یہ ہمارے لیے گالی ہے، نبی کریم نے ارشاد فرمایا، ایسے دین میں کوئی بھلائی نہیں جس میں رکوع و سجود نہ ہو۔ یہ بات ذکر کی جاتی ہے، کہ امام مالک نماز عصر کے بعد مسجد میں داخل ہوئے آپ نماز عصرت کے…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 48–50

35۔ عبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ واذا قیل لہم ارکعوا لا یرکعون۔ اور جب ان سے کہا جاتا تھا کہ رکوع کرو تو وہ رکوع نہ کرتے تھے۔ یہ آیت قبیلہ بنو ثقیف کے بارے میں نازل ہوئی۔ 36۔ عبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت واذا قیل لہم ارکعوا سے نماز پڑھنا مراد ہے یعنی جب ان سے نماز پڑھنے کو کہا جاتا تھا تو وہ نماز نہ پڑھتے تھے۔ 37۔ عبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت واذا قیل لہم ارکعوا سے مراد ہے کہ تم پر لازم ہے اچھی طرح رکوع کرنا کیونکہ نماز اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک دجہ ہے…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[وَيْلٌ يَّوْمَىِٕذٍ لِلْمُكَذِّبِيْنَ : تباہی ہے اس دن جھٹلانے والوں کے لیے ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 46–49

اس کے بعد کافروں سے خطاب فرمایا کہ تم دنیا میں تھوڑے دن کھالو اور اللہ کی نعمتوں کو برت لو ان سے فائدہ اٹھا لو تم مجرم ہو کافر اور مشرک ہو عذاب کے مستحق ہو اگر تم ایمان نہ لائے تو عذاب میں جانا پڑے گا۔ ﴿ وَيْلٌ يَّوْمَىِٕذٍ لِّلْمُكَذِّبِيْنَ 00﴾ (بڑی خرابی ہے اس دن جھٹلانے والوں کے لیے) ۔ دنیا میں جب ان سے کہا جاتا ہے کہ اللہ کے سامنے جھکو رکوع کرو سجدہ کرو اور نماز پڑھو تو فرمانبرداری نہیں کرتے اللہ کی بارگاہ میں نہیں جھکتے، نماز سے دور رہتے ہیں اور ایمان سے دور بھاگتے ہیں۔ ﴿ وَيْلٌ يَّوْمَىِٕذٍ لِّلْمُكَذِّبِيْنَ 00﴾ (بڑی خرابی ہے اس دن جھٹلانے والوں کے لیے) ۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 1–50

اعلان پراگند کی نظام عالم برائے تکمیل وعدۂ قیامت و بربادی مجرمین وانعام والطاف بر مومنین : قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” والمرسلت عرفا ...... الی ........ فبای حدیث بعدہ یؤمنون “۔ (ربط) گذشتہ سورت میں انسانی ہستی کا بیان تھا کہ کائنات کی تخلیق اور دنیا میں انسانوں کی آبادی اس طرح پیش آئی کہ ایک وقت تھا کہ انسان کا کوئی وجود ہی نہ تھا اللہ نے اپنی قدرت کاملہ سے اس کو عدم سے وجود بخشا اور اسی کے لئے یہ کارخانہ قائم کیا جیسے کہ فرمان ہے (آیت) ” وخلق لکم مافی الارض جمیعا “۔ اور ظاہر ہے کہ تخلیق انسان اور نظام کائنات قائم کرنے کی غرض ہے اللہ کی عبادت و بندگی ہے جس پر انسانوں کے دو گروہ بٹ گئے ایک گروہ…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 48–49

13:۔ ” واذا قیل “ جب ان سے کہا جاتا ہے کہ کبر و غرور چھوڑ دو اور اللہ کے سامنے عاجزی کرو اس پر ایمان لے آؤ اور اس کے اوامرو نواہی کے سامنے سر تسلیم جھکا دو تو وہ اس پر آمادہ نہیں ہوتے اور عناد و تعنت اور غرور و استکبار سے باز نہیں آتے۔ تو بھلا ایسے معاندین و مکذبین کیلئے اس دن ہلاکت اور تباہی کے سوا کیا ہوگا۔ اخشعوا للہ وتواضعوا الیہ بقبول وحیہ واتباع ادینہ ودعوا ھذا الاستکبار (مدارک) ۔ یا مطلب یہ ہے آخرت میں ان سے کہا جائیگا کہ سجدہ کرو تو وہ سجدہ نہیں کرسکیں گے۔ یہ تفسیر حضرت ابن عباس سے مروی ہے۔ پہلی تفسیر حضرت قتادہ سے منقول ہے۔ وقال ابن عباس انما یقال لہم ھذا فی الاخرۃ حین یدعون الی…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَيْلٌ يَّوْمَىِٕذٍ لِّلْمُكَذِّبِيْنَ۝ 49 ويل قال الأصمعيّ : وَيْلٌ قُبْحٌ ، وقد يستعمل علی التَّحَسُّر . ووَيْسَ استصغارٌ. ووَيْحَ ترحُّمٌ. ومن قال : وَيْلٌ وادٍ في جهنّم، قال عز وجل : فَوَيْلٌ لَهُمْ مِمَّا كَتَبَتْ أَيْدِيهِمْ وَوَيْلٌ لَهُمْ مِمَّا يَكْسِبُونَ [ البقرة/ 79] ، وَوَيْلٌ لِلْكافِرِينَ [إبراهيم/ 2] وَيْلٌ لِكُلِّ أَفَّاكٍ أَثِيمٍ [ الجاثية/ 7] ، فَوَيْلٌ لِلَّذِينَ كَفَرُوا [ مریم/ 37] ، فَوَيْلٌ لِلَّذِينَ ظَلَمُوا [ الزخرف/ 65] ، وَيْلٌ لِلْمُطَفِّفِينَ [ المطففین/ 1] ، وَيْلٌ لِكُلِّ هُمَزَةٍ [ الهمزة/ 1] ، يا وَيْلَنا مَنْ بَعَثَنا[يس/ 52] ، يا وَيْلَنا إِنَّا كُنَّا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 48–50

ترکیب : واذا شرط لایرکعون ای ھم لایرکعون الجملۃ جو ابہ فبای الباء تتعلق بیؤمنون بعدہ ظرف لیؤمنون والجملۃ استفہامیہ والاستفہام استقراری۔ تفسیر : فقال واذا قیل لہم ارکعوالا یرکعون یعنی وہ ایسے سرکش اور حق کی طرف سے پھرے ہوئے ہیں کہ جب دنیا میں کہا جاتا ہے (رسول یا اس کے نائب کہتے ہیں) خدا کی طرف جھکو کہ اس کے احکام مانو ‘ نواہی سے بچو تو نہیں جھکتے۔ مومن و کافر میں ایک یہ بھی بڑا امتیاز ہے کہ مومن مصیبت کے وقت ‘ راحت کے وقت ‘ بیماری میں تندرستی میں ‘ افلاس ‘ میں تواندگی میں ہر حال میں خدا کی طرف جھکتا ہے۔ اس کا مرکز اصل وہی ہے جب کسی مانع نے روک بھی لیا تو جب مانع اٹھ گیا ادھر ہی چلا آیا اس…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 48–49

وَاِذَا قِیْلَ لَھُمُ ارْکَعُوْا لاَ یَرْکَعُوْنَ ۔ وَیْلٌ یَّوْمَئِذٍ لِّلْمُکَذِّبِیْنَ ۔ (المرسلات : 48، 49) (اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ اپنے رب کے آگے جھکو تو نہیں جھکتے۔ تباہی ہے اس روز جھٹلانے والوں کے لیے۔ ) منکرینِ قیامت کو ملامت گزشتہ آیت کریمہ میں قریش کے لیڈروں سے خطاب فرمایا گیا تھا، اب ان سے منہ پھیر کر فرمایا گیا ہے بلکہ انھیں ملامت کی گئی ہے کہ یہ اپنے موجودہ طور اطوار کو اپنے برسرحق ہونے کی دلیل سمجھتے ہوئے نہ صرف قیامت کا انکار کرتے ہیں بلکہ ان کا حال تو یہ ہے کہ جب ان سے یہ کہا جائے کہ تم اپنے رب کے سامنے جھکو تو باوجود اس کے کہ وہ اسے اپنا رب سمجھتے ہیں لیکن اس کے سامنے…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 46–50

فہم القرآن ربط کلام : جنتی کے لیے جنت میں حکم ہوگا کہ مزے سے کھاؤ اور پیو ! یہ تمہاری نیکیوں کا صلہ ہے۔ جہنمیوں کے لیے دنیا میں حکم ہے کہ کھا، پی لو مگر یاد رکھو کہ تم حقیقت میں اپنے رب کے مجرم ہو اور تمہارا انجام جہنم ہوگا۔ جنت کی زندگی اور اس کی نعمتوں کے مقابلے میں دنیا کی نعمتیں اور زندگی نہایت قلیل اور حقیر ہے۔ جو لوگ قیامت کا انکار کرتے ہیں اور اپنی مرضی سے زندگی گزارتے ہیں ان پر اللہ تعالیٰ ناراض ہوتا ہے جس وجہ سے انہیں یوں مخاطب کیا گیا ہے کہ کھاؤ اور مزے اڑاؤ ! لیکن یاد رکھو ! دنیا کا فائدہ اور کھانا پینا قلیل اور تھوڑی مدت کے لیے ہے بالفاظ دیگر انہیں یہ وارننگ دی گئی ہے کہ کھاؤ اور…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

49 : وَیْلٌ یَّوْمَپذٍ لِّلْمُکَذِّبِیْنَ (اس روز جھٹلانے والوں کی بڑی خرابی ہوگی) جو اللہ تعالیٰ کے امرو نہی کی تکذیب کرنے والے ہیں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

48 ۔” واذا قلیل لھم ارکعوا “ یعنی تم نماز پڑھو۔ ” لا یرکعون “ وہ نماز نہیں پڑھتے۔ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں یہ ان کو قیامت کے دن کہا جائے گا جب وہ سجدہ کی طرف بلائے جائیں گے۔ پس وہ اس کی طاقت نہ رکھیں گے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 41–50

41۔ 50۔ متقیوں سے مطلب ان آیتوں میں یہ ہے کہ جو لوگ دنیا میں شرک سے بچتے رہے کیونکہ متقیوں کا لفظ ان آیتوں میں ان مشرک لوگوں کے مقابلہ میں فرمایا ہے جن کا ذکر شروع سورة سے یہاں تک تھا یہ اوپر گزرچکا ہے کہ کلمہ گو گناہ گار اگرچہ اپنے گناہوں کی سزا میں ایک وقت مقررہ تک دوزخ میں جائیں گے لیکن پھر آخر ان کو جنت نصیب ہوگی اور یہی نعمتیں ان کو ملیں گی جن کا ذکر ان آیتوں میں ہے اس لئے لفظ متقی کے جو معنی بیان کئے گئے ان میں سب جنتی شامل ہوسکتے ہیں۔ دوزخیوں کی چھائوں وہ ہے جس کا ذکر اوپر گزرا۔ یہ جنتی لوگوں کی چھاؤں جنت کے عالی شان مکانوں اور میوہ کے نہایت سایہ دار درختوں کی ہوگی۔ علاوہ اس کے فقط…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 47–49

(وَيْلٌ يَّوْمَىِٕذٍ لِّلْمُكَذِّبِيْنَ ) اس دن ہلاکت ہے جھٹلانے والوں کے لیے، ان کی ایک ہلاکت یہ بھی ہے کہ ان پر توفیق کے تمام دروازے بند ہوجائیں گے اور وہ ہر بھلائی سے محروم ہوجائیں گے۔

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 25–50

میت کی کوئی چیز فروخت نہیں ہوسکتی، دفن کردینی چاہیے قول باری ہے (الم نجعل الارض کفاتا احیاء وامواتا۔ کیا ہم نے زمین کو سمیٹ کر رکھنے والی نہیں بنایا۔ زندوں کے لئے بھی اور مردوں کے لئے بھی) شعبی کا قول ہے کہ زمین کا ظاہری حصہ زندوں کے لئے ہے اور باطنی حصہ مردوں کے لئے کفات ضمام یعنی سمیٹنے کو کہتے ہیں۔ مراد یہ ہے کہ زمین دونوں حالتوں میں انہیں سمیٹ کر رکھتی ہے۔ اسرائیل نے ابویحییٰ سے اور انہوں نے مجاہد سے روایت کی ہے کہ درج بالا آیت کی تفسیر میں انہوں نے فرمایا : ” زمین میت کو سمیٹ لیتی ہے اور اس کا کوئی حصہ باہر نظر نہیں آتا۔ زمین زندوں کو بھی سمیٹتی ہے۔ ایک شخص اپنے گھر میں ہوتا ہے اور اس کا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 49–50

39 ۔ منکرین و مکذبین کے لئے بڑی ہی خرابی و ہلاکت : سو ارشاد فرمایا گیا کہ بڑی ہی خربای اور ہلاکت ہوگی اس دن جھٹلانے والوں کے لئے جو اپنے کبر و غرور کے باعث اپنے رب کے حضور نہیں جھکتے اور جو بار بار کی تنبیہات اور طرح طرح کی دعوت کے باوجود اپنے رب کے حضور جھکنے کے شرف اور اس سعادت سے محروم رہے جو کہ درحقیقت ہر خیر سے محرومی ہے، العیاذ باللہ، جیسا کہ پہلے بھی گزارا اس آیت کریمہ کو اس سورة کریمہ میں دس بار دہرایا گیا ہے۔ قرطبی وغیرہ بعض ثفہ مفسرین کرام کا کہنا ہے کہ یہ محض تکرار نہیں، بلکہ اس میں ہر مرتبہ اس سے ایک نیا مفہوم مراد ہے اور یہی قرآن حکیم کی شان عالی کے لائق بھی ہے، گویا کہ ایک بات…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 41–50

نیکوکاروں کے لیے رحمتیں تشریح : اللہ بڑا ہی رحمن و رحیم ہے وہ سب کو اپنی نعمتیں دیتا ہے جو شکر گزار اور عبادت گزار ہیں ان کے لیے اس نے بہترین جنت میں ٹھکانے دینے کا وعدہ کر رکھا ہے جو ضرور پورا ہوگا اور جو اس کے نافرمان اور ناشکرے لوگ ہیں اور باوجود رسول ﷺ کے بتانے کے بھی ایمان نہیں لاتے اللہ کو رسول ﷺ کو اور حساب کے دن، یعنی آخرت کو نہیں مانتے تو پھر ایسے لوگوں کے لیے اللہ جبار اور قہار بھی ہے اسی لیے ان لوگوں کے لیے جہنم کے بدترین ٹھکانے کی بری خبر کا اعلان کیا گیا ہے۔ جو ان کو مل کر رہے گا۔ آج کے اس ترقی یافتہ دور میں یہ بات سمجھ لینی بڑی آسان ہے کہ قیامت ضرور آئے گی۔ قیامت کا تصور موجودہ…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 41–50

آیات 41 تا 50۔ اسرار ومعارف۔ البتہ جنہوں نے اللہ سے اطاعت کا رشتہ قائم کیا ان کے لیے یہاں بھی سایہ ہوگا اور خوبصورت نہریں اور طرح طرح کے میوے کہ مزے سے کھاتے ہوں گے اور حکم ہوگا کہ عیش کرو کھاؤ پیو کہ تم نے دنیا میں اللہ کی اطاعت کی اور خلوص دل سے اطاعت کرنے والوں کو ہم ایسے ہی انعام عطا کرتے ہیں مگر انکار کرنے والوں کے لیے صرف بربادی ہوگی بلکہ اے بدکارو ، دنیا میں چند روز مہلت سے موج کرلو آخر کار تمہارے نصیب میں بربادی ہی ہے یہاں بھی وہاں بھی۔ نظام اسلام۔ جب انہیں اللہ کے سامنے جھکنے کے لیے کہا جاتا ہے یعنی اللہ کا نظام قبول کرنے کا کہا جاتا ہے تو مان کر نہیں دیتے تو پھر ان کے لیے ماسوی…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 49–50

ف 8 یعنی قرآن جو اللہ تعالیٰ کا اپنا کلام ہے اور جس کا انداز بیان انتہائی موثر اور دلنشین ہے۔ اگر یہ کفار اس پر بھی ایمان نہیں لارہے تو آخر کون سی کتاب ہے جس کا وہ انتظار کررہے ہیں کہ وہ آئے تو اس پر ایمان لائیں ؟ کیا قرآن کے بعد بھی کوئی کتاب آنے والی ہے ؟۔ حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جب کوئی شخص اس آیت پر پہنچے تو اسے یہ کہنا چاہیے ” امنا باللہ “ ہم اللہ پر ایمان لائے۔ (ابن کثیربحوالہ ابودائود ترمذی، مسند امام احمد وغیرہ )

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(77:49) ویل یومئذ للمکذبین۔ تباہی ہوگی اس روز جھٹلانے والوں کے لئے جو اوامرو نواہی کی تکذیب کرتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 1–50

لغات القرآن۔ المرسلات۔ چلنے والیاں۔ عرف۔ فائدہ پہنچانا۔ عصفت۔ تیز چلنے والیاں۔ نشرات۔ پھیلانے والیاں۔ فرقت۔ پھارنے والیاں۔ الملقیت۔ لانے والیاں۔ طمست۔ مٹا دی گئی۔ نسفت۔ ریزہ ریزہ کردی گئی۔ اقتت ۔ مقرر کی گئی۔ اجلت۔ ملتوی کردی گئی۔ یوم الفصل۔ فیصلے کا دن۔ ویل۔ خرابی ۔ بربادی۔ ماء مھین۔ حقیر پانی۔ کفات۔ اکٹھا کرنے والاشمخت۔ اونچے۔ فرات۔ میٹھا پانی ۔ ذی ثلث شعب۔ تین شاخوں والا ۔ ترمی۔ وہ پھینکتی ہے۔ جملت، صفر، ۔ زرد اونٹ۔ لا ینطقون۔ وہ نہ بولیں گے۔ یعتذرون۔ وہ عذر پیش کریں گے۔ ظلل۔ سائے۔ عیون (عین) ۔ چشمے۔ ای حدیث۔ کونسی بات۔ تشریح : سورة المرسلات کی ابتدائی چھ آیتوں میں ہواؤں اور ان پر متعین…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 46–50

(ف 2) دنیا میں اس طرح کے عقبی کے منکرون کی جو کچھ خوشحالی ہے وہ تھوڑے دنوں کی ہے کیونکہ نہ دنیا رہنے والی چیز ہے نہ اس کی خوشحالی ۔ آنکھ بند ہوتے ہی پھر طرح طرح کی خرابی ہے کیونکہ جس اللہ نے ان کو پیدا کیا ہے خالص اس کے نام پر سرجھکانے کو یہ لوگ عار سمجھتے ہیں ۔ تفسیر مقاتل بن سلیمان میں ہے کہ ثقیف ایک قبیلہ نے نماز سے انکار کرکے یہ کہا کہ کمر جھکانے کو ہم لوگ عارسمجھتے ہیں پھر فرمایا کہ ان لوگوں کو جس اپنی فصاحت وبلاغت کا بڑا دعوی تھا قرآن کی فصاحت وبلاغت نے وہ دعوی تو ان کا باقی نہ رکھا جس سے یہ لوگ خوب سمجھ گئے کہ قرآن کسی انسان کا کلام نہیں، اس پر بھی ان لوگوں کا قرآن کے احکام کو نہ ماننا…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 49–50

[19] اس دن پچھتائیں گے کہ دنیا میں احکام الٰہی کے آگے کیوں نہ جھکے۔ وہاں سر جھکاتے تو یہاں تباہی سے دوچار نہ ہوتے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 41–50

ف 1: جہنم کی تفصیلات کے بعد ضروری تھا ۔ کہ پاکبازوں کو بشارت سنائی جائے ۔ چناچہ فرمایا ۔ کہ اہل تقویٰ کے لئے جو سائے ہیں ۔ وہ ٹھنڈے اور رحمت کے سائے ہیں ۔ وہ میٹھے اور شیریں چشموں میں ہوں گے ۔ ان کو ہر نوع کے مرغوب میوے ملیں گے ۔ اور کہا جائیگا ۔ کہ چونکہ تم نے دنیا میں اپنی خواہشات کے خلاف ہمارے دین کا ساتھ دیا ہے ۔ اور نیک زندگی بسر کی ہے ۔ اس لئے تمہاری خواہشات کو یہاں ملحوظ رکھا جائے گا ۔ تمہیں اجازت ہے ۔ کہ اس باغ میں رہو سہو اور جو چاہو کھاؤ پیو ۔ حل لغات :۔ کید ۔ مکر اور تدبیر عیون ۔ جمع عین ھدایتا ۔ خوش گواری کے ساتھ ۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 34–50

ف 3۔ ان تفریعات و تہدید ات قرآنیہ کا مقتضا یہ تھا کہ یہ سنتے ہی ڈر کر ایمان لے آتے مگر جب اس پر بھی ان کو اثر نہیں تو پھر اس قرآن بلیغ الالفاظ والانداز کے بعد اور کس بات پر ایمان لائیں گے اس میں کفار پر توبیخ اور ان کے ایمان سے آپ کا اقناط ہے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

Explained with ayahs 48–50

(اور جب حکم دیا گیا انہیں کہ رکوع والی عبادت کرو) ۔۔۔ اور ظاہر ہے کہ عمل کے وجود کے لیے ایمان شرط ہے ، تو ان کے لیے اس حکم پر عمل ممکن نہیں جب تک ایمان نہ لائیں۔۔۔ (تو) وہ اس حکم پر عمل (نہیں کرتے) یعنی مسلمان نہیں ہوتے ، اس واسطے کہ کلمہ شہادتین کے بعد اسلام میں رکن اعظم نماز ہے۔ نماز دین کا ستون ہے ، اور دین اس کے سبب سے قائم ہے۔۔ تو۔۔ (ہلاکی ہے اس دن جھٹلانے والوں کی) اور پھٹکار ہے ان پر جو اسلام سے مشرف نہیں ہوتے۔ (تو کس بات کو اس کے بعد) یعنی قرآن کے بعد (مانیں گے) اگر قرآن پر ایمان نہیں لاتے کہ وہ ایک معجزہ ہے کھلی ہوئی دلیلوں اور روشن معنوں پر تو پھر وہ کس چیز پر ایمان لائیں گے۔ حدیث…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 48–49

وَإِذَا قِيلَ لَهُمُ ارْ‌كَعُوا لَا يَرْ‌كَعُونَ (And when it is said to them, "Bow down", they do not bow down...77:48) According to most commentators, the word ruku' is used here in its primitive sense 'to bow down and submit'. The verse signifies that when they were told to submit to the Divine commands, they refused to comply. Some scholars take the word ruku` in its technical sense and interpret the verse to signify 'when they are called to prayer, they refused to pray.' The ruku` is a part of the prayer, but it refers here to the whole prayer. [ Ruh ]

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 49–50

27 That is, the greatest Message that could distinguish the Truth from falsehood for man and show him right guidance, has been sent down in the shape of the Qur'an. if a person does not believe even after reading it or hearing it read, what else after this can show him the correct guidance?

Read the full tafseer →