Al-Mursalaat 77:48

Al-Mursalaat · from ayah 48

77:48

وَاِذَا قِیْلَ لَهُمُ ارْكَعُوْا لَا یَرْكَعُوْنَ ۟وَاِذَا قِيۡلَ لَهُمُ ارۡكَعُوۡا لَا يَرۡكَعُوۡنَ

اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ (خدا کے آگے) جھکو تو جھکتے نہیں

— Fateh Muhammad Jalandhari

And when it is said to them, "Bow [in prayer]," they do not bow.

— Saheeh International

Juz 29 · Ruku 2 of surah · Ruku 22 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Mursalaat

All translations of 77:48

جب اِن سے کہا جاتا ہے کہ (اللہ کے آگے) جھکو تو نہیں جھکتے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ (خدا کے آگے) جھکو تو جھکتے نہیں

— مولانا فتح محمد جالندہری

ان سے جب کہا جاتا ہے کہ رکوع کر لو تو نہیں کرتے

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور جب ان لوگوں سے کہا جاتا ہے کہ اللہ کے آگے جھک جاؤ، تو یہ جھکتے نہیں ہیں۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور جب ان سے کہا جائے کہ نماز پڑھو تو نہیں پڑھتے،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ تم (اﷲ کے حضور) جھکو تو وہ نہیں جھکتے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ جھک جاؤ تو وہ نہیں جھکتے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اور جب انہیں (اللہ کے آگے) جھکنے کو کہا جاتا تھا تو وہ نہیں جھکتے تھے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور جب ان کو کہا جاتا ہے کہ اپنے رب کے آگے جھکو تو نہیں جھکتے۔

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ تم لوگ جھک جاؤ (اپنے اللہ کے آگے) تو یہ نہیں جھکتے ہیں

— مولانا اسحاق مدنی

اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ جھکو تو نہیں جھکتے

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ (اپنے رب کے سامنے) جھکو تو یہ جھکتے نہیں ہیں۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ اللہ کے آگے جھکو تو جھکتے نہیں

— محترمہ رفعت اعجاز

When it is said to them: “Bow down (before Allah),” they do not bow down.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

And when it is said to them, :Bow down (i.e. submit to Allah‘s commands) , they do not bow down.

— Muhammad Taqi Usmani

And when it is said to them, :Bow down (i.e. submit to Allah‘s commands) , they do not bow down.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

And when it is said to them: "Bow down yourself!" They bow not down.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

When it is said unto them: Bow down, they bow not down!

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And when it is said to them, "Bow [in prayer]," they do not bow.

— Saheeh International

When they are told to say their prayers, they do not bow down (in prayer).

— Muhammad Sarwar

And where it is said to them: Bow down, they do not bow down.

— Muhammad Habib Shakir

And when it is said Unto them: 'bow down, they bow not down.

— Abdul Majid Daryabadi

And when it is said to them, "Prostrate yourselves!" they do not so.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 77:48

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 41–50

دنیا اور آخرت کے فائدوں کا موازنہ : اوپر چونکہ بدکاروں کی سزاؤں کا بیان ہوا تھا یہاں نیک کاروں کی جزا کا بیان ہو رہا ہے کہ جو لوگ متقی پرہیزگار تھے اللہ کے عبادت گزار تھے فرائض اور واجبات کے پابند تھے۔ اللہ کی نافرمانیوں سے حرام کاریوں سے بچتے تھے وہ قیامت کے دن جنتوں میں ہوں گے، جہاں قسم قسم کی نہریں چل رہی ہیں۔ گنہگار سیاہ بدبو دار دھوئیں میں گھرے ہوئے ہوں گے اور یہ نیک کردار جنتوں کے گھنے ٹھنڈے اور پرکیف سایوں میں بہ آرام تمام لیٹے بیٹھے ہوں گے۔ سامنے صاف شفاف چشمے اپنی پوری پوری روانی سے جاری ہیں۔ قسم قسم کے پھل میوے اور ترکاریاں موجود ہیں، جسے جب جی چاہے کھائیں، نہ روک ٹوک ہے نہ کمی اور…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 47–48

سورة الْمُرْسَلٰت 26 اللہ کے آگے جھکنے سے مراد صرف اس کی عبادت کرنا ہی نہیں ہے، بلکہ اس کے بھیجے ہوئے رسول اور اس کی نازل کردہ کتاب کو ماننا اور اس کے احکام کی اطاعت کرنا بھی اس میں شامل ہے۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 48–49

وَاِذَا قِيْلَ لَهُمُ ارْكَعُوْا لَا يَرْكَعُوْنَ ، یہاں اکثر مفسرین کے نزدیک رکوع سے مراد اس کے لغوی معنی یعنی جھکنا اور اطاعت کرنا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ جب دنیا میں ان کو احکام الٰہیہ کی اطاعت کے لئے کہا جاتا تھا تو یہ اطاعت نہ کرتے تھے۔ اور بعض حضرات نے رکوع کے اصطلاحی معنے بھی مراد لئے ہیں اور مطلب آیت کا یہ ہے کہ جب ان کو نماز کی طرف بلایا جاتا تھا تو یہ نماز نہ پڑھتے تھے۔ رکوع بول کر پوری نماز مراد لی گئی ہے۔ (روح)

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

ان کو تنبیہ کرنے کے بعد پھر خطاب کی جگہ غائب کا اسلوب آ گیا جس میں ان کو ملامت ہے کہ یہ بدبخت لوگ اپنی موجودہ رفاہیت کو اس بات کی دلیل تو بنائے بیٹھے ہیں کہ آخرت ہوئی تو وہاں بھی ان کے لیے عیش ہی عیش ہے لیکن جب ان کو اس عیش و رفاہیت کا حق ادا کرنے کے لیے خدا کے آگے جھکنے کی دعوت دی جاتی ہے تو نہیں جھکتے بلکہ اکڑتے ہیں۔ ’رکوع‘ سے یہاں نماز کی تعبیر فرمائی گئی ہے جو اللہ تعالیٰ کی شکرگزاری کا سب سے اعلیٰ مظہر اور کبر و غرور کی سب سے بڑی قامع ہے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 33–50

10: یہاں یہ حقیقت بیان فرمائی گئی ہے کہ دوزخ کی آگ کے شعلے اتنے بڑے ہوں گے جیسے عظیم الشان محل ہوتے ہیں، اور ان سے جو شاخیں نکلیں گی، وہ زرد رنگ کے اونٹوں جیسی ہوں گی۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 48–50

حالانکہ وہ دیکھ رہے ہیں اور انہیں اس خوبصورتی کے ساتھ سمجھایا اور ڈرایا جارہا ہے۔ اگر یہ اس انداز کلام سے متاثر نہیں ہوتے جس سے پہاڑ بھی ہل جاتے ہیں اور جمادات کے اندر بھونچال برپا ہوجاتا ہے۔ تو اس کے بعد ان پر کوئی کلام کار گر نہیں ہوسکتا۔ گویا یہ لوگ نہایت شقی ، بدبخت اور برے انجام تک پہنچنے والے ہیں۔ اور ان کی قسمت میں ہلاکت لکھی ہوئی ہے۔ اور ان پر کلام نرم ونازک بےاثر ہے۔ یہ پوری سورت اپنے مضامین ، اپنے انداز تعبیر ، اپنے الفاظ کے ترنم ، اپنے خوفناک مشاہد ومناظر اور اپنے چبھنے والے تیز اشارات کی وجہ سے اس قدر موثر ہے کہ کوئی دل اس کے مقابلے میں اپنی جگہ ٹھہر نہیں سکتا۔ کوئی وجود متاثر…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 46–49

آیت 46{ کُلُوْا وَتَمَتَّعُوْا قَلِیْلًا اِنَّکُمْ مُّجْرِمُوْنَ۔ } ”اے کفار و مشرکین ! تم کھا پی لو تھوڑی دیر کے لیے ‘ یقینا تم لوگ مجرم ہو۔“ تم لوگ اپنی دنیوی زندگی میں عیش کر رہے ہو تو کرتے جائو۔ بالآخر قیامت کے دن تمہیں مجرموں کی حیثیت سے ہمارے سامنے پیش ہونا ہے۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 47–48

27 اس کا ایک مطلب تو یہ ہے کہ جب انہیں اللہ کی آیات اور اس کے احکام کے سامنے سرتسلیم خم کرنے کو کہا جاتا تو وہ تسلیم کرنے کے بجائے اکڑ بیٹھتے تھے اور دوسرا مطلب یہ ہے کہ جب انہیں نماز کے لیے کہا جاتا تو انکار کردیتے تھے۔ کہتے ہیں کہ یہ آیت قبیلہ بنو ثقیف کے حق میں نازل ہوئی۔ رسول اللہ ﷺ نے انہیں نماز ادا کرنے کا حکم دیا تو کہنے لگے کہ نماز میں تو جھکنا پڑتا ہے اور جھکنے میں ہمیں شرم محسوس ہوتی ہے۔ ایسے لوگوں کے لیے اس دن تباہی ہی تباہی ہے۔ ایسے لوگ قیامت کے دن اللہ کے حضور سجدہ کرنا چاہیں گے لیکن کر نہ سکیں گے۔ ان کی پشتوں کے پٹھے اکڑ جائیں گے جیسا کہ سورة القلم کی آیت نمبر 42 اور 43 میں پہلے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 48–49

18۔ (جو کسی دعوت وتبلیغ حق کا اثر نہیں قبول کرتے، بلکہ ہر ربانی صداقت سے انکار ہی پر مصر ہیں اور اپنے جرم کو جرم ہی نہیں سمجھتے) (آیت) ” واذا قیل لھم ارکعوا “۔ یعنی جب انہیں یہ پیام ملتا ہے کہ ایمان اور عبدیت کی راہ اختیار کرو، رکوع ہمیشہ اپنے اصطلاحی معنی یعنی ایک رکن نماز ہی کے معنی میں نہیں بلکہ کبھی اپنے لغوی مفہوم یعنی خشوع و تواضع کے معنی میں بھی آتا ہے۔ الرکوع یستعمل تارۃ فی التواضع والتذلل (راغب) اور یہاں یہی مراد ہیں۔ اے خشعوا اللہ وتواضعوا لہ یقبول وجھہ واتباع دینہ (کشاف۔ مدارک) صوفیہ عارفین نے کہا ہے کہ قبول حق کا مقدمہ خشوع و تواضع ہی ہے۔ اور بڑا مانع راہ نخوت ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 48–49

واذا قیل لھم ارکعوا لا یرکعون، کہا گیا ہے کہ یہ آیت بنی ثقیف … میں نازل ہوئی، جب کہ ان سے کہا گیا کہ نماز پڑھو، تو انہوں نے کہا ہم جھک نہیں سکتے جھکنا ہمارے لئے مشکل ہے، تو آپ ﷺ نے فرمایا ” لا خیر فی دین لیس فیہ رکوع و لا سجود “ اور کہا گیا ہے کہ یہ ان سے آخرت میں کہا جائے گا، مگر وہ رکوع و سجدہ پر قادر نہ ہوں گے۔ (فتح القدیر، شوکانی) اکثر مفسرین کے نزدیک یہاں ” رکوع “ کے لغوی معنی یعنی جھکنا اور اطاعت کرنا مراد ہیں، مطلب یہ ہے کہ جب ان سے دنیا میں احکام الٰہیہ کی اطاعت کے لئے کہا جاتا تھا تو یہ اطاعت نہ کرتے تھے، اور بعض حضرات نے رکوع کے اصطلاحی معنی بھی مراد لئے ہیں اور مطلب آیت کا یہ ہے کہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

واذا قیل لھم ارکعوا لا یرکعون . اس شان نزول کی بناء پر اس جملہ میں کافروں کی مذمت کی گئی ہے ‘ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ اس کا عطف مجرموں پر ہو اور تفنن عبارت کے لیے خطاب سے غَیْبَتْ کی طرف انتقال کیا گیا ہو ‘ اس وقت حاصل مطلب یہ ہوگا کہ تم مجرم ہو ‘ تم کو نماز کے لیے بلایا جاتا ہے تو رکوع نہیں کرتے۔ یہ بھی احتمال ہے کہ للمکذبین کے مفہوم پر عطف ہو یعنی ان لوگوں کے لیے ویل ہے ‘ جنہوں نے تکذیب کی اور ان کو نماز کو بلایا گیا تو نماز نہیں پڑھی۔

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 45–48

(45۔ 48) جھٹلانے والوں کے لیے بڑی خرابی ہے اے گروہ مکذبین تم دنیا میں تھوڑے اور کھا پی لو تم مشرک ہو تمہارا آخرت میں ٹھکانا دوزخ ہے قیامت کے دن جھٹلانے والوں کو سخت عذاب ہوگا اور جب ان جھٹلانے والوں سے دنیا میں کہا جاتا تھا کہ اللہ کی توحید کے سامنے جھک جاؤ تو یہ توحید کو نہیں مانتے تھے یا یہ کہ یہ بات آخرت میں ہوگی جس وقت اللہ تعالیٰ ان سے فرمائے گا اگر تم اپنے دعوے میں سچے ہو کہ ہم مشرک نہیں تھے تو پھر سجدہ کرو تو یہ لوگ سجدہ کرنے پر قادر نہ ہوں گے اور ان کی کمریں تختوں کی طرح ہوجائیں گی اور کہا گیا ہے کہ یہ آیت قبیلہ ثقیف کے بارے میں نازل ہوئی ہے کیونکہ ان لوگوں نے کہا تھا کہ ہم اپنی کمروں…

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

Explained with ayahs 48–49

واذا قلیل لھم ازکعوا…: رکوع کا معنی جھکنا یعنی اللہ کے احکام کے سامنے سرتسلیم خم کردینا ہے اور رکوع بول کر نماز بھی مراد لی جاتی ہے، کیونکہ رکوع اس کا ایک حصہ ہے، یعنی ان مکذبین کے جھٹلانے کا اصل سبب یہ ہے کہ وہ اللہ کے احکام کے سامنے جھکنے کے لئے تیار نہیں اور نہ ہی وہ نمازپ ڑھنے پر آمادہ ہیں، یہی کبر ان کے انکار کا باعث بن گیا ہے، جس طرح شیطان کے لئے بنا تھا۔ حقیقت یہ ہے کہ ایمان کا اصل اللہ کے سامنے جھک جانا ہے اور کفر کا اصل اللہ کے سامنے جھکنے سے اناکر ہے اور ایسے لوگوں کیلئے قیامت کے دن بہت بڑی خرابی اور بربادی ہے۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 48–49

واذا قیل لھم الرکعوا۔۔ تا۔۔۔ یومنون۔ واذا قیل لھم الرکعوا لایرکعون۔ جب ان مشرکوں کو یہ کہا جاتا ہے، نماز پڑھو تو وہ نماز نہیں پڑھتے، یہ مجاہد کا قول ہے، مقاتل نے کہا، یہ بنوثقیف کے بارے میں نازل ہوئی جو نماز پڑھنے سے رک گئے یہ آیت ان کے بارے میں نازل ہوئی، مقاتل نے کہا، نبی کریم نے انہیں کہا، اسلام قبول کرلو، اور انہیں نماز کا حکم دیاتوان کے بارے میں یہ حکم نازل ہوا۔ انہوں نے کہا، ہم نہیں جھکیں گے کیونکہ یہ ہمارے لیے گالی ہے، نبی کریم نے ارشاد فرمایا، ایسے دین میں کوئی بھلائی نہیں جس میں رکوع و سجود نہ ہو۔ یہ بات ذکر کی جاتی ہے، کہ امام مالک نماز عصر کے بعد مسجد میں داخل ہوئے آپ نماز عصرت کے…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 48–50

35۔ عبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ واذا قیل لہم ارکعوا لا یرکعون۔ اور جب ان سے کہا جاتا تھا کہ رکوع کرو تو وہ رکوع نہ کرتے تھے۔ یہ آیت قبیلہ بنو ثقیف کے بارے میں نازل ہوئی۔ 36۔ عبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت واذا قیل لہم ارکعوا سے نماز پڑھنا مراد ہے یعنی جب ان سے نماز پڑھنے کو کہا جاتا تھا تو وہ نماز نہ پڑھتے تھے۔ 37۔ عبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت واذا قیل لہم ارکعوا سے مراد ہے کہ تم پر لازم ہے اچھی طرح رکوع کرنا کیونکہ نماز اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک دجہ ہے…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[وَاِذَا قِيْلَ لَهُمُ : اور جب کہا جاتا ہے ان سے ] [ارْكَعُوْا لَا يَرْكَعُوْنَ : تم لوگ رکوع کرو تو وہ رکوع نہیں کرتے ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 46–49

اس کے بعد کافروں سے خطاب فرمایا کہ تم دنیا میں تھوڑے دن کھالو اور اللہ کی نعمتوں کو برت لو ان سے فائدہ اٹھا لو تم مجرم ہو کافر اور مشرک ہو عذاب کے مستحق ہو اگر تم ایمان نہ لائے تو عذاب میں جانا پڑے گا۔ ﴿ وَيْلٌ يَّوْمَىِٕذٍ لِّلْمُكَذِّبِيْنَ 00﴾ (بڑی خرابی ہے اس دن جھٹلانے والوں کے لیے) ۔ دنیا میں جب ان سے کہا جاتا ہے کہ اللہ کے سامنے جھکو رکوع کرو سجدہ کرو اور نماز پڑھو تو فرمانبرداری نہیں کرتے اللہ کی بارگاہ میں نہیں جھکتے، نماز سے دور رہتے ہیں اور ایمان سے دور بھاگتے ہیں۔ ﴿ وَيْلٌ يَّوْمَىِٕذٍ لِّلْمُكَذِّبِيْنَ 00﴾ (بڑی خرابی ہے اس دن جھٹلانے والوں کے لیے) ۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 1–50

اعلان پراگند کی نظام عالم برائے تکمیل وعدۂ قیامت و بربادی مجرمین وانعام والطاف بر مومنین : قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” والمرسلت عرفا ...... الی ........ فبای حدیث بعدہ یؤمنون “۔ (ربط) گذشتہ سورت میں انسانی ہستی کا بیان تھا کہ کائنات کی تخلیق اور دنیا میں انسانوں کی آبادی اس طرح پیش آئی کہ ایک وقت تھا کہ انسان کا کوئی وجود ہی نہ تھا اللہ نے اپنی قدرت کاملہ سے اس کو عدم سے وجود بخشا اور اسی کے لئے یہ کارخانہ قائم کیا جیسے کہ فرمان ہے (آیت) ” وخلق لکم مافی الارض جمیعا “۔ اور ظاہر ہے کہ تخلیق انسان اور نظام کائنات قائم کرنے کی غرض ہے اللہ کی عبادت و بندگی ہے جس پر انسانوں کے دو گروہ بٹ گئے ایک گروہ…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 48–49

13:۔ ” واذا قیل “ جب ان سے کہا جاتا ہے کہ کبر و غرور چھوڑ دو اور اللہ کے سامنے عاجزی کرو اس پر ایمان لے آؤ اور اس کے اوامرو نواہی کے سامنے سر تسلیم جھکا دو تو وہ اس پر آمادہ نہیں ہوتے اور عناد و تعنت اور غرور و استکبار سے باز نہیں آتے۔ تو بھلا ایسے معاندین و مکذبین کیلئے اس دن ہلاکت اور تباہی کے سوا کیا ہوگا۔ اخشعوا للہ وتواضعوا الیہ بقبول وحیہ واتباع ادینہ ودعوا ھذا الاستکبار (مدارک) ۔ یا مطلب یہ ہے آخرت میں ان سے کہا جائیگا کہ سجدہ کرو تو وہ سجدہ نہیں کرسکیں گے۔ یہ تفسیر حضرت ابن عباس سے مروی ہے۔ پہلی تفسیر حضرت قتادہ سے منقول ہے۔ وقال ابن عباس انما یقال لہم ھذا فی الاخرۃ حین یدعون الی…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَاِذَا قِيْلَ لَہُمُ ارْكَعُوْا لَا يَرْكَعُوْنَ۝ 48 إذا إذا يعبّر به عن کلّ زمان مستقبل، وقد يضمّن معنی الشرط فيجزم به، وذلک في الشعر أكثر، و «إذ» يعبر به عن الزمان الماضي، ولا يجازی به إلا إذا ضمّ إليه «ما» نحو :إذ ما أتيت علی الرّسول فقل له ( اذ ا ) اذ ا ۔ ( ظرف زماں ) زمانہ مستقبل پر دلالت کرتا ہے کبھی جب اس میں شرطیت کا مفہوم پایا جاتا ہے تو فعل مضارع کو جزم دیتا ہے اور یہ عام طور پر نظم میں آتا ہے اور اذ ( ظرف ) ماضی کیلئے آتا ہے اور جب ما کے ساتھ مرکب ہو ( اذما) تو معنی شرط کو متضمن ہوتا ہے جیسا کہ شاعر نے کہا ع (11) اذمااتیت علی الرسول فقل لہ جب تو رسول اللہ کے پاس جائے تو ان سے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 48–50

ترکیب : واذا شرط لایرکعون ای ھم لایرکعون الجملۃ جو ابہ فبای الباء تتعلق بیؤمنون بعدہ ظرف لیؤمنون والجملۃ استفہامیہ والاستفہام استقراری۔ تفسیر : فقال واذا قیل لہم ارکعوالا یرکعون یعنی وہ ایسے سرکش اور حق کی طرف سے پھرے ہوئے ہیں کہ جب دنیا میں کہا جاتا ہے (رسول یا اس کے نائب کہتے ہیں) خدا کی طرف جھکو کہ اس کے احکام مانو ‘ نواہی سے بچو تو نہیں جھکتے۔ مومن و کافر میں ایک یہ بھی بڑا امتیاز ہے کہ مومن مصیبت کے وقت ‘ راحت کے وقت ‘ بیماری میں تندرستی میں ‘ افلاس ‘ میں تواندگی میں ہر حال میں خدا کی طرف جھکتا ہے۔ اس کا مرکز اصل وہی ہے جب کسی مانع نے روک بھی لیا تو جب مانع اٹھ گیا ادھر ہی چلا آیا اس…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 48–49

وَاِذَا قِیْلَ لَھُمُ ارْکَعُوْا لاَ یَرْکَعُوْنَ ۔ وَیْلٌ یَّوْمَئِذٍ لِّلْمُکَذِّبِیْنَ ۔ (المرسلات : 48، 49) (اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ اپنے رب کے آگے جھکو تو نہیں جھکتے۔ تباہی ہے اس روز جھٹلانے والوں کے لیے۔ ) منکرینِ قیامت کو ملامت گزشتہ آیت کریمہ میں قریش کے لیڈروں سے خطاب فرمایا گیا تھا، اب ان سے منہ پھیر کر فرمایا گیا ہے بلکہ انھیں ملامت کی گئی ہے کہ یہ اپنے موجودہ طور اطوار کو اپنے برسرحق ہونے کی دلیل سمجھتے ہوئے نہ صرف قیامت کا انکار کرتے ہیں بلکہ ان کا حال تو یہ ہے کہ جب ان سے یہ کہا جائے کہ تم اپنے رب کے سامنے جھکو تو باوجود اس کے کہ وہ اسے اپنا رب سمجھتے ہیں لیکن اس کے سامنے…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 46–50

فہم القرآن ربط کلام : جنتی کے لیے جنت میں حکم ہوگا کہ مزے سے کھاؤ اور پیو ! یہ تمہاری نیکیوں کا صلہ ہے۔ جہنمیوں کے لیے دنیا میں حکم ہے کہ کھا، پی لو مگر یاد رکھو کہ تم حقیقت میں اپنے رب کے مجرم ہو اور تمہارا انجام جہنم ہوگا۔ جنت کی زندگی اور اس کی نعمتوں کے مقابلے میں دنیا کی نعمتیں اور زندگی نہایت قلیل اور حقیر ہے۔ جو لوگ قیامت کا انکار کرتے ہیں اور اپنی مرضی سے زندگی گزارتے ہیں ان پر اللہ تعالیٰ ناراض ہوتا ہے جس وجہ سے انہیں یوں مخاطب کیا گیا ہے کہ کھاؤ اور مزے اڑاؤ ! لیکن یاد رکھو ! دنیا کا فائدہ اور کھانا پینا قلیل اور تھوڑی مدت کے لیے ہے بالفاظ دیگر انہیں یہ وارننگ دی گئی ہے کہ کھاؤ اور…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

48 : وَاِذَا قِیْلَ لَھُمُ ارْکَعُوْا (جب ان سے کہا جاتا ہے جھکو تم) اللہ تعالیٰ کیلئے خشوع اختیار کرو۔ اور اسکی وحی کو قبول کر کے تواضع اختیار کرو اور اسکے دین کی اتباع کرو اور یہ تکبر چھوڑ دو ۔ لَایَرْکَعُوْنَ (تو نہیں جھکتے) وہ خشوع اختیار نہیں کرتے اور نہ اسکو قبول کرتے ہیں اور اپنے تکبر پر مصر ہیں۔ یا اذا قیل لھم صلوا لایصلون جب انکو نماز پڑھنے کیلئے کہا جاتا تو وہ نماز نہیں پڑھتے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 41–50

41۔ 50۔ متقیوں سے مطلب ان آیتوں میں یہ ہے کہ جو لوگ دنیا میں شرک سے بچتے رہے کیونکہ متقیوں کا لفظ ان آیتوں میں ان مشرک لوگوں کے مقابلہ میں فرمایا ہے جن کا ذکر شروع سورة سے یہاں تک تھا یہ اوپر گزرچکا ہے کہ کلمہ گو گناہ گار اگرچہ اپنے گناہوں کی سزا میں ایک وقت مقررہ تک دوزخ میں جائیں گے لیکن پھر آخر ان کو جنت نصیب ہوگی اور یہی نعمتیں ان کو ملیں گی جن کا ذکر ان آیتوں میں ہے اس لئے لفظ متقی کے جو معنی بیان کئے گئے ان میں سب جنتی شامل ہوسکتے ہیں۔ دوزخیوں کی چھائوں وہ ہے جس کا ذکر اوپر گزرا۔ یہ جنتی لوگوں کی چھاؤں جنت کے عالی شان مکانوں اور میوہ کے نہایت سایہ دار درختوں کی ہوگی۔ علاوہ اس کے فقط…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 47–49

(وَيْلٌ يَّوْمَىِٕذٍ لِّلْمُكَذِّبِيْنَ ) اس دن ہلاکت ہے جھٹلانے والوں کے لیے، ان کی ایک ہلاکت یہ بھی ہے کہ ان پر توفیق کے تمام دروازے بند ہوجائیں گے اور وہ ہر بھلائی سے محروم ہوجائیں گے۔

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 25–50

میت کی کوئی چیز فروخت نہیں ہوسکتی، دفن کردینی چاہیے قول باری ہے (الم نجعل الارض کفاتا احیاء وامواتا۔ کیا ہم نے زمین کو سمیٹ کر رکھنے والی نہیں بنایا۔ زندوں کے لئے بھی اور مردوں کے لئے بھی) شعبی کا قول ہے کہ زمین کا ظاہری حصہ زندوں کے لئے ہے اور باطنی حصہ مردوں کے لئے کفات ضمام یعنی سمیٹنے کو کہتے ہیں۔ مراد یہ ہے کہ زمین دونوں حالتوں میں انہیں سمیٹ کر رکھتی ہے۔ اسرائیل نے ابویحییٰ سے اور انہوں نے مجاہد سے روایت کی ہے کہ درج بالا آیت کی تفسیر میں انہوں نے فرمایا : ” زمین میت کو سمیٹ لیتی ہے اور اس کا کوئی حصہ باہر نظر نہیں آتا۔ زمین زندوں کو بھی سمیٹتی ہے۔ ایک شخص اپنے گھر میں ہوتا ہے اور اس کا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

38 ۔ خالق کے حضور جھکنے کی سعادت سے محرومی ہر خبر سے محرومی ہے : والعیاذ باللہ سو ان کی محرومی اور بدبختی کے ایک اور مظہر اور ان کی محرومی کے اصل سبب کے بیان کے طور پر ارشاد فرمایا گیا کہ جب ان سے کہا جاتا ہے کہ تم لوگ جھک جاؤ اپنے خالق ومالک کے حضور، تو یہ نہیں جھکتے۔ اپنے کبر و غرور کی بناء پر، والعیاذ باللہ حالانکہ اس وحدہ لاشریک کے حضور جھکنا اور سجدہ ریز ہونا اس کا حق بھی ہے کہ ہم سب اس کے بندے اور اس کی مخلوق ہیں، نیز اس کے حضور یہ رکوع و سجود بندے کے لئے عظیم الشان شرف و اعزازھی ہے اور دارین کی سعادت و سخروئی کا ذریعہ و وسیلہ بھی، سو بڑے محروم اور بدنصیب ہیں وہ لوگ جو اپنے خالق ومالک…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 41–50

نیکوکاروں کے لیے رحمتیں تشریح : اللہ بڑا ہی رحمن و رحیم ہے وہ سب کو اپنی نعمتیں دیتا ہے جو شکر گزار اور عبادت گزار ہیں ان کے لیے اس نے بہترین جنت میں ٹھکانے دینے کا وعدہ کر رکھا ہے جو ضرور پورا ہوگا اور جو اس کے نافرمان اور ناشکرے لوگ ہیں اور باوجود رسول ﷺ کے بتانے کے بھی ایمان نہیں لاتے اللہ کو رسول ﷺ کو اور حساب کے دن، یعنی آخرت کو نہیں مانتے تو پھر ایسے لوگوں کے لیے اللہ جبار اور قہار بھی ہے اسی لیے ان لوگوں کے لیے جہنم کے بدترین ٹھکانے کی بری خبر کا اعلان کیا گیا ہے۔ جو ان کو مل کر رہے گا۔ آج کے اس ترقی یافتہ دور میں یہ بات سمجھ لینی بڑی آسان ہے کہ قیامت ضرور آئے گی۔ قیامت کا تصور موجودہ…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 41–50

آیات 41 تا 50۔ اسرار ومعارف۔ البتہ جنہوں نے اللہ سے اطاعت کا رشتہ قائم کیا ان کے لیے یہاں بھی سایہ ہوگا اور خوبصورت نہریں اور طرح طرح کے میوے کہ مزے سے کھاتے ہوں گے اور حکم ہوگا کہ عیش کرو کھاؤ پیو کہ تم نے دنیا میں اللہ کی اطاعت کی اور خلوص دل سے اطاعت کرنے والوں کو ہم ایسے ہی انعام عطا کرتے ہیں مگر انکار کرنے والوں کے لیے صرف بربادی ہوگی بلکہ اے بدکارو ، دنیا میں چند روز مہلت سے موج کرلو آخر کار تمہارے نصیب میں بربادی ہی ہے یہاں بھی وہاں بھی۔ نظام اسلام۔ جب انہیں اللہ کے سامنے جھکنے کے لیے کہا جاتا ہے یعنی اللہ کا نظام قبول کرنے کا کہا جاتا ہے تو مان کر نہیں دیتے تو پھر ان کے لیے ماسوی…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 45–48

ف 7 جھکنے سے مراد اللہ تعالیٰ کے عام احکام کے سامنے جھکنا بھی ہوسکتا ہے، اگرچہ متب اور معنی نماز میں جھکنا ہی ہیں۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(77:48) واذا قیل لہم ارکعوا لایرکعون۔ ابن منذر نے مجاہد کی روایت سے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ثقیف کے نمائندوں سے کہا کہ ایمان لاؤ اور نماز پڑھو انہوں نے جواب دیا مگر تجبیہ نہیں کریں گے ۔ کیونکہ یہ گالی ہے یعنی بڑی ذلت ہے۔ تجبیہ کا معنی ہے گھٹنوں یا زمین پر ہاتھ رکھنا یا سرنگوں ہونا۔ اس پر مندرجہ بالا آیت نازل ہوئی۔ واذا قیل لہم ارکعو جملہ شرط ہے۔ لایرکعون۔ اس کا جواب ارکعوا رکوع (باب فتح) مصدر سے امر کا صیغہ جمع مذکر حاضر ہے تم جھکو، تم رکوع کرو۔ لا یرکعون : مضارع منفی جمع مذکر غائب۔ وہ نہیں جھکتے ہیں۔ وہ رکوع نہیں کرتے ہیں۔ آیت کی مندرجہ ذیل صورتیں ہوسکتی ہیں :۔ (1) شان نزول متذکرہ…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 1–50

لغات القرآن۔ المرسلات۔ چلنے والیاں۔ عرف۔ فائدہ پہنچانا۔ عصفت۔ تیز چلنے والیاں۔ نشرات۔ پھیلانے والیاں۔ فرقت۔ پھارنے والیاں۔ الملقیت۔ لانے والیاں۔ طمست۔ مٹا دی گئی۔ نسفت۔ ریزہ ریزہ کردی گئی۔ اقتت ۔ مقرر کی گئی۔ اجلت۔ ملتوی کردی گئی۔ یوم الفصل۔ فیصلے کا دن۔ ویل۔ خرابی ۔ بربادی۔ ماء مھین۔ حقیر پانی۔ کفات۔ اکٹھا کرنے والاشمخت۔ اونچے۔ فرات۔ میٹھا پانی ۔ ذی ثلث شعب۔ تین شاخوں والا ۔ ترمی۔ وہ پھینکتی ہے۔ جملت، صفر، ۔ زرد اونٹ۔ لا ینطقون۔ وہ نہ بولیں گے۔ یعتذرون۔ وہ عذر پیش کریں گے۔ ظلل۔ سائے۔ عیون (عین) ۔ چشمے۔ ای حدیث۔ کونسی بات۔ تشریح : سورة المرسلات کی ابتدائی چھ آیتوں میں ہواؤں اور ان پر متعین…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 46–50

(ف 2) دنیا میں اس طرح کے عقبی کے منکرون کی جو کچھ خوشحالی ہے وہ تھوڑے دنوں کی ہے کیونکہ نہ دنیا رہنے والی چیز ہے نہ اس کی خوشحالی ۔ آنکھ بند ہوتے ہی پھر طرح طرح کی خرابی ہے کیونکہ جس اللہ نے ان کو پیدا کیا ہے خالص اس کے نام پر سرجھکانے کو یہ لوگ عار سمجھتے ہیں ۔ تفسیر مقاتل بن سلیمان میں ہے کہ ثقیف ایک قبیلہ نے نماز سے انکار کرکے یہ کہا کہ کمر جھکانے کو ہم لوگ عارسمجھتے ہیں پھر فرمایا کہ ان لوگوں کو جس اپنی فصاحت وبلاغت کا بڑا دعوی تھا قرآن کی فصاحت وبلاغت نے وہ دعوی تو ان کا باقی نہ رکھا جس سے یہ لوگ خوب سمجھ گئے کہ قرآن کسی انسان کا کلام نہیں، اس پر بھی ان لوگوں کا قرآن کے احکام کو نہ ماننا…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

[18] رب کے آگے جھکنے سے مراد صرف نماز ہی نہیں ہے بلکہ اللہ کے احکام کی اطاعت بھی ہے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 41–50

ف 1: جہنم کی تفصیلات کے بعد ضروری تھا ۔ کہ پاکبازوں کو بشارت سنائی جائے ۔ چناچہ فرمایا ۔ کہ اہل تقویٰ کے لئے جو سائے ہیں ۔ وہ ٹھنڈے اور رحمت کے سائے ہیں ۔ وہ میٹھے اور شیریں چشموں میں ہوں گے ۔ ان کو ہر نوع کے مرغوب میوے ملیں گے ۔ اور کہا جائیگا ۔ کہ چونکہ تم نے دنیا میں اپنی خواہشات کے خلاف ہمارے دین کا ساتھ دیا ہے ۔ اور نیک زندگی بسر کی ہے ۔ اس لئے تمہاری خواہشات کو یہاں ملحوظ رکھا جائے گا ۔ تمہیں اجازت ہے ۔ کہ اس باغ میں رہو سہو اور جو چاہو کھاؤ پیو ۔ حل لغات :۔ کید ۔ مکر اور تدبیر عیون ۔ جمع عین ھدایتا ۔ خوش گواری کے ساتھ ۔

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(48) اور جب ان منکروں سے کہا جاتا ہے کہ جھکو تو نہیں جھکتے۔ یعنی اللہ تعالیٰ کے احکام کے سامنے جھک جائو اور ایمان اور عبدیت اختیار کرلو تو نہیں جھکتے یا یہ مطلب ہے کہ جب ان سے کہا جاتا ہے کہ رکوع کرو اور مسلمان جس طرح نماز پڑھتے ہیں اس طرح پڑھو اور اسلام میں داخل ہوجائو تو رکوع نہیں کرتے۔ یہ شاید اس لئے فرمایا کہ رکوع مسلمانوں کے علاوہ کسی اور دین میں نہیں ہے قیام اور سجدہ اہل کتاب کے ہاں اور خالی ماتھا ٹیکنا منکروں میں رائج ہے۔ لیکن ایسی عبادت جس میں رکو ، سجدہ ، اور قیام ہو دوسر ملل میں نہیں پائی جاتی اور اہل عرب تو کمر جھکانے کو بہت ہی معیوب سمجھتے تھے۔ جیسا کہ بنی ثقیف کے رئیسوں نے کہا…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 34–50

ف 3۔ ان تفریعات و تہدید ات قرآنیہ کا مقتضا یہ تھا کہ یہ سنتے ہی ڈر کر ایمان لے آتے مگر جب اس پر بھی ان کو اثر نہیں تو پھر اس قرآن بلیغ الالفاظ والانداز کے بعد اور کس بات پر ایمان لائیں گے اس میں کفار پر توبیخ اور ان کے ایمان سے آپ کا اقناط ہے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

Explained with ayahs 48–50

(اور جب حکم دیا گیا انہیں کہ رکوع والی عبادت کرو) ۔۔۔ اور ظاہر ہے کہ عمل کے وجود کے لیے ایمان شرط ہے ، تو ان کے لیے اس حکم پر عمل ممکن نہیں جب تک ایمان نہ لائیں۔۔۔ (تو) وہ اس حکم پر عمل (نہیں کرتے) یعنی مسلمان نہیں ہوتے ، اس واسطے کہ کلمہ شہادتین کے بعد اسلام میں رکن اعظم نماز ہے۔ نماز دین کا ستون ہے ، اور دین اس کے سبب سے قائم ہے۔۔ تو۔۔ (ہلاکی ہے اس دن جھٹلانے والوں کی) اور پھٹکار ہے ان پر جو اسلام سے مشرف نہیں ہوتے۔ (تو کس بات کو اس کے بعد) یعنی قرآن کے بعد (مانیں گے) اگر قرآن پر ایمان نہیں لاتے کہ وہ ایک معجزہ ہے کھلی ہوئی دلیلوں اور روشن معنوں پر تو پھر وہ کس چیز پر ایمان لائیں گے۔ حدیث…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 48–49

وَإِذَا قِيلَ لَهُمُ ارْ‌كَعُوا لَا يَرْ‌كَعُونَ (And when it is said to them, "Bow down", they do not bow down...77:48) According to most commentators, the word ruku' is used here in its primitive sense 'to bow down and submit'. The verse signifies that when they were told to submit to the Divine commands, they refused to comply. Some scholars take the word ruku` in its technical sense and interpret the verse to signify 'when they are called to prayer, they refused to pray.' The ruku` is a part of the prayer, but it refers here to the whole prayer. [ Ruh ]

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 47–48

26 "Bowing before Allah": does not only imply worshipping Him but also means believing in the Messenger sent by Allah and in the Book revealed by Him and following and obeying His Commands.

Read the full tafseer →