Al-Mursalaat 77:47

Al-Mursalaat · from ayah 47

77:47

وَیْلٌ یَّوْمَىِٕذٍ لِّلْمُكَذِّبِیْنَ ۟وَيۡلٌ يَّوۡمَئِذٍ لِّلۡمُكَذِّبِيۡنَ

اس دن جھٹلانے والوں کی خرابی ہے

— Fateh Muhammad Jalandhari

Woe, that Day, to the deniers.

— Saheeh International

Juz 29 · Ruku 2 of surah · Ruku 22 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Mursalaat

All translations of 77:47

تباہی ہے اُس روز جھٹلانے والوں کے لیے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اس دن جھٹلانے والوں کی خرابی ہے

— مولانا فتح محمد جالندہری

اس دن جھٹلانے والوں کے لیے سخت ہلاکت ہے

— مولانا محمد جوناگڑہی

بڑی خرابی ہوگی اس دن ایسے لوگوں کی جو حق کو جھٹلاتے ہیں۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اس دن جھٹلانے والوں کی خرابی،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اس دن جھٹلانے والوں کے لئے بڑی خرابی ہے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اس دن جھٹلانے والوں کے لیے بڑی ہلاکت ہے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اس دن جھٹلانے والوں کے لیے تباہی ہے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اس دن تباہی ہے جھٹلانے والوں کے لئے۔

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

بڑی ہی خرابی ہوگی اس دن جھٹلانے والوں کے لئے

— مولانا اسحاق مدنی

بڑی خرابی ہے اس روز جھٹلانے والوں کیلئے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

جس دن ہلاکت اور بربادی ہوگی (تمہارے جیسے تمام) جھٹلانے والوں کے لیے۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اس دن جھٹلانے والوں کی خرابی ہے

— محترمہ رفعت اعجاز

Woe on that Day to those that give the lie to the Truth!

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Woe that Day to the deniers!

— Muhammad Taqi Usmani

Woe that Day to the deniers!

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Woe that Day to the deniers!

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Woe, that Day, to the deniers.

— Saheeh International

On that day, woe would be upon those who have rejected God's revelations!

— Muhammad Sarwar

Woe on that day to the rejecters.

— Muhammad Habib Shakir

Woe on that day Unto the beliers!

— Abdul Majid Daryabadi

Ah woe, that Day, to the Rejecters of Truth!

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 77:47

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 41–50

دنیا اور آخرت کے فائدوں کا موازنہ : اوپر چونکہ بدکاروں کی سزاؤں کا بیان ہوا تھا یہاں نیک کاروں کی جزا کا بیان ہو رہا ہے کہ جو لوگ متقی پرہیزگار تھے اللہ کے عبادت گزار تھے فرائض اور واجبات کے پابند تھے۔ اللہ کی نافرمانیوں سے حرام کاریوں سے بچتے تھے وہ قیامت کے دن جنتوں میں ہوں گے، جہاں قسم قسم کی نہریں چل رہی ہیں۔ گنہگار سیاہ بدبو دار دھوئیں میں گھرے ہوئے ہوں گے اور یہ نیک کردار جنتوں کے گھنے ٹھنڈے اور پرکیف سایوں میں بہ آرام تمام لیٹے بیٹھے ہوں گے۔ سامنے صاف شفاف چشمے اپنی پوری پوری روانی سے جاری ہیں۔ قسم قسم کے پھل میوے اور ترکاریاں موجود ہیں، جسے جب جی چاہے کھائیں، نہ روک ٹوک ہے نہ کمی اور…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 47–48

سورة الْمُرْسَلٰت 26 اللہ کے آگے جھکنے سے مراد صرف اس کی عبادت کرنا ہی نہیں ہے، بلکہ اس کے بھیجے ہوئے رسول اور اس کی نازل کردہ کتاب کو ماننا اور اس کے احکام کی اطاعت کرنا بھی اس میں شامل ہے۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 46–47

كُلُوْا وَتَمَتَّعُوْا قَلِيْلًا اِنَّكُمْ مُّجْرِمُوْنَ ، یعنی کھاؤ پیو اور آرام اٹھا لو تھوڑے دن کیونکہ تم مجرم ہو، آخر کار سخت عذاب میں جانا ہے۔ یہ مکذبین کو خطاب ہے۔ دنیا میں، انبیاء کے ذریعہ ان کو کہا گیا ہے کہ یہ تمہارا عیش و آرام چند روزہ ہے پھر عذاب ہی عذاب ہے (کذا فسرہ، ابوحیان)

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

’وَیْْلٌ یَوْمَئِذٍ لِّلْمُکَذِّبِیْنَ‘۔ یہ آیت ترجیع ہے اور اس کا موقع و محل بالکل واضح ہے کہ نابکاروں کے لیے اس دن بڑی تباہی ہے جس کا اندازہ اس دنیا میں نہیں کیا جا سکتا۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 46–47

46۔ 1 یہ مکذبین قیامت کو خطاب ہے اور یہ امر، تہدید و وعید کے لئے ہے، یعنی اچھا چند روز خوب عیش کرلو، تم جیسے مجرمین کے لئے شکنجہ عذاب تیار ہے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 33–50

10: یہاں یہ حقیقت بیان فرمائی گئی ہے کہ دوزخ کی آگ کے شعلے اتنے بڑے ہوں گے جیسے عظیم الشان محل ہوتے ہیں، اور ان سے جو شاخیں نکلیں گی، وہ زرد رنگ کے اونٹوں جیسی ہوں گی۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

ویل یومئذ للمکذبین (47:77) ” آج قیامت میں جھٹلانے والوں کے لئے تباہی ہے “۔ اور قیامت کے بعد زمانے ختم نہ ہوں گے۔ اب تعجب کا اظہار کیا جارہا ہے مخاطبین قرآن پر کہ انہیں ایسی دعوت دی جارہی ہے اور یہ قبول نہ کرتے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

15 جو دنیا کے عیش و بہار اور لذتوں پر ریجھ رہے تھے، یہ خبر نہ تھی کہ جس چیز کو پھولوں کا ہار سمجھ کر گلے میں ڈال رہے ہیں وہ کالا ناگ ہے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 46–49

آیت 46{ کُلُوْا وَتَمَتَّعُوْا قَلِیْلًا اِنَّکُمْ مُّجْرِمُوْنَ۔ } ”اے کفار و مشرکین ! تم کھا پی لو تھوڑی دیر کے لیے ‘ یقینا تم لوگ مجرم ہو۔“ تم لوگ اپنی دنیوی زندگی میں عیش کر رہے ہو تو کرتے جائو۔ بالآخر قیامت کے دن تمہیں مجرموں کی حیثیت سے ہمارے سامنے پیش ہونا ہے۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 47–48

27 اس کا ایک مطلب تو یہ ہے کہ جب انہیں اللہ کی آیات اور اس کے احکام کے سامنے سرتسلیم خم کرنے کو کہا جاتا تو وہ تسلیم کرنے کے بجائے اکڑ بیٹھتے تھے اور دوسرا مطلب یہ ہے کہ جب انہیں نماز کے لیے کہا جاتا تو انکار کردیتے تھے۔ کہتے ہیں کہ یہ آیت قبیلہ بنو ثقیف کے حق میں نازل ہوئی۔ رسول اللہ ﷺ نے انہیں نماز ادا کرنے کا حکم دیا تو کہنے لگے کہ نماز میں تو جھکنا پڑتا ہے اور جھکنے میں ہمیں شرم محسوس ہوتی ہے۔ ایسے لوگوں کے لیے اس دن تباہی ہی تباہی ہے۔ ایسے لوگ قیامت کے دن اللہ کے حضور سجدہ کرنا چاہیں گے لیکن کر نہ سکیں گے۔ ان کی پشتوں کے پٹھے اکڑ جائیں گے جیسا کہ سورة القلم کی آیت نمبر 42 اور 43 میں پہلے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 46–47

17۔ (جو آج دنیا میں بار بار کی تنبیہوں اور فہمائشوں کے بعد بھی انکار واعراض سے باز نہیں آتے) قلیلا “۔ یعنی اس دنیاوی زندگی کی چند روزہ مدت میں۔ (آیت) ” کلوا ...... مجرمون “۔ یہ دنیا میں کافروں سے خطاب ہورہا ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 41–47

ترجمہ : بیشک پرہیز گار لوگ سایوں یعنی گھنے درختوں میں ہوں گے اس لئے کہ (وہاں) سورج نہیں ہوگا، کہ اس کی گرمی سے سایہ حاصل کیا جائے اور بہتے ہوئے پانی کے چشموں میں ہوں گے، یعنی ابلتے ہوئے پانی کے، اور دل پسند میووں میں ہوں گے اس میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ جنت میں کھانے پینے کی چیزیں حسب خواہش ہوں گی بخلاف دنیا کے کہ یہاں وہی میوے (پھل) ملتے ہیں جو اغلباً لوگوں کو دستیاب ہوتے ہیں اور ان سے کہا جائے گا (اے جنتیو ! ) تم خوشگواری کے ساتھ اپنے طاعت اعمال کے صلہ میں کھائو پیو، ھنیئا حال ہے ای متھنئین، بیشک ہم ایسی جزاء جیسی کہ تمام پرہیزگاروں کو دی ہے ہر نیکوکار کو دیں گے، اس دن جھٹلانے والوں کے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

ویل یومئذ للمکذبین . مکذبین کے لیے اس روز ویل ہوگی ‘ تھوڑے سے مزہ کے لیے عذاب الیم برداشت کرنے کو وہ تیار ہوگئے۔ ابن منذرنے مجاہد (رح) کی روایت سے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے بنی ثقیف کے نمائندوں کو ایمان لانے اور نماز پڑھنے کا حکم دیا ‘ انہوں نے جواب دیا مگر ہم تجبیہ نہیں کریں گے کیونکہ یہ گالی ہے یعنی بڑی ذلت ہے۔ تجبیہ کا معنی ہے گھٹنوں یا زمین پر ہاتھ رکھنا یا سرنگوں ہونا (قاموس) اس پر مندرجہ ذیل آیت نازل ہوئی۔

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 45–48

(45۔ 48) جھٹلانے والوں کے لیے بڑی خرابی ہے اے گروہ مکذبین تم دنیا میں تھوڑے اور کھا پی لو تم مشرک ہو تمہارا آخرت میں ٹھکانا دوزخ ہے قیامت کے دن جھٹلانے والوں کو سخت عذاب ہوگا اور جب ان جھٹلانے والوں سے دنیا میں کہا جاتا تھا کہ اللہ کی توحید کے سامنے جھک جاؤ تو یہ توحید کو نہیں مانتے تھے یا یہ کہ یہ بات آخرت میں ہوگی جس وقت اللہ تعالیٰ ان سے فرمائے گا اگر تم اپنے دعوے میں سچے ہو کہ ہم مشرک نہیں تھے تو پھر سجدہ کرو تو یہ لوگ سجدہ کرنے پر قادر نہ ہوں گے اور ان کی کمریں تختوں کی طرح ہوجائیں گی اور کہا گیا ہے کہ یہ آیت قبیلہ ثقیف کے بارے میں نازل ہوئی ہے کیونکہ ان لوگوں نے کہا تھا کہ ہم اپنی کمروں…

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

Explained with ayahs 46–47

کلوا وتمتعوا قلیلاً…: سورت کے آخر میں قیامت کو جھٹلانے والوں کو پھر خطاب ہے کہ دنیا میں کھلاو اور فائدہ اٹھا لو، یہ سامان بالکل قلیل ہے، جیسا کہ فرمایا ا :(قل متاع الدنیا قلیل) (النسائ : 88) ”کہہ دے دنیا کا سامان بہت تھوڑا ہے۔“ یقیناً تم مجرم ہو، قیامت کے دن تمہارے جیسے جھٹلانے والوں کے لئے بہت بڑی خرابی اور بربادی ہے۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 46–47

کلواوتمتعوا۔۔ تا۔۔ للمکذبین۔ اس کلام کو متقین کے متعلق کلام سے قبل کلام کی طرف پھیرا جائیگا، یہ کلام وعید اور دھمکی ہے یہ المکذبین سے حال ہے مطلب یہ ہوگا کہ جس وقت انہیں یہ کہا جائیگا اس وقت ان کے لیے ہلاکت ثابت ہوگی کیونکہ تم مجرم ہو یعنی کافر ہو تم ایسا عمل (شرک وکفر) کرنے والے ہو جو تمہیں آخرت میں نقصان پہنچائے گا۔

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 46–47

34۔ ابن جریر نے ابن زید (رح) سے روایت کیا کہ آیت کلوا وتمتعوا قلیلا۔ (کھاؤ اور چند روز فائدہ اٹھاؤ) یعنی اس سے اہل کفر مراد ہیں۔

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[وَيْلٌ يَّوْمَىِٕذٍ لِلْمُكَذِّبِيْنَ : تباہی ہے اس دن جھٹلانے والوں کے لیے ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 46–49

اس کے بعد کافروں سے خطاب فرمایا کہ تم دنیا میں تھوڑے دن کھالو اور اللہ کی نعمتوں کو برت لو ان سے فائدہ اٹھا لو تم مجرم ہو کافر اور مشرک ہو عذاب کے مستحق ہو اگر تم ایمان نہ لائے تو عذاب میں جانا پڑے گا۔ ﴿ وَيْلٌ يَّوْمَىِٕذٍ لِّلْمُكَذِّبِيْنَ 00﴾ (بڑی خرابی ہے اس دن جھٹلانے والوں کے لیے) ۔ دنیا میں جب ان سے کہا جاتا ہے کہ اللہ کے سامنے جھکو رکوع کرو سجدہ کرو اور نماز پڑھو تو فرمانبرداری نہیں کرتے اللہ کی بارگاہ میں نہیں جھکتے، نماز سے دور رہتے ہیں اور ایمان سے دور بھاگتے ہیں۔ ﴿ وَيْلٌ يَّوْمَىِٕذٍ لِّلْمُكَذِّبِيْنَ 00﴾ (بڑی خرابی ہے اس دن جھٹلانے والوں کے لیے) ۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 1–50

اعلان پراگند کی نظام عالم برائے تکمیل وعدۂ قیامت و بربادی مجرمین وانعام والطاف بر مومنین : قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” والمرسلت عرفا ...... الی ........ فبای حدیث بعدہ یؤمنون “۔ (ربط) گذشتہ سورت میں انسانی ہستی کا بیان تھا کہ کائنات کی تخلیق اور دنیا میں انسانوں کی آبادی اس طرح پیش آئی کہ ایک وقت تھا کہ انسان کا کوئی وجود ہی نہ تھا اللہ نے اپنی قدرت کاملہ سے اس کو عدم سے وجود بخشا اور اسی کے لئے یہ کارخانہ قائم کیا جیسے کہ فرمان ہے (آیت) ” وخلق لکم مافی الارض جمیعا “۔ اور ظاہر ہے کہ تخلیق انسان اور نظام کائنات قائم کرنے کی غرض ہے اللہ کی عبادت و بندگی ہے جس پر انسانوں کے دو گروہ بٹ گئے ایک گروہ…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 46–47

12:۔ ” کلوا وتمتعوا “ یہ مکذبین کیلئے زجر و تخویف ہے اگر یہ کلام قیامت کے دن کہا جائیگا تو اس سے پہلے کان یقال لہم فی الدنیا مقدر ہوگا۔ یا یہ خطاب دنیا میں ہے یعنی دنیا میں کھا پی لو اور دنیوی ساز و سامان سے فوائد و منافع چند روزہ حاصل کرلو، تم مجرم ہو اور مجرموں کے لیے آخرت میں ویل اور ہلاکت ہے۔

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَيْلٌ يَّوْمَىِٕذٍ لِّلْمُكَذِّبِيْنَ۝ 47 ويل قال الأصمعيّ : وَيْلٌ قُبْحٌ ، وقد يستعمل علی التَّحَسُّر . ووَيْسَ استصغارٌ. ووَيْحَ ترحُّمٌ. ومن قال : وَيْلٌ وادٍ في جهنّم، قال عز وجل : فَوَيْلٌ لَهُمْ مِمَّا كَتَبَتْ أَيْدِيهِمْ وَوَيْلٌ لَهُمْ مِمَّا يَكْسِبُونَ [ البقرة/ 79] ، وَوَيْلٌ لِلْكافِرِينَ [إبراهيم/ 2] وَيْلٌ لِكُلِّ أَفَّاكٍ أَثِيمٍ [ الجاثية/ 7] ، فَوَيْلٌ لِلَّذِينَ كَفَرُوا [ مریم/ 37] ، فَوَيْلٌ لِلَّذِينَ ظَلَمُوا [ الزخرف/ 65] ، وَيْلٌ لِلْمُطَفِّفِينَ [ المطففین/ 1] ، وَيْلٌ لِكُلِّ هُمَزَةٍ [ الهمزة/ 1] ، يا وَيْلَنا مَنْ بَعَثَنا[يس/ 52] ، يا وَيْلَنا إِنَّا كُنَّا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 41–47

ترکیب : ان اسمھا المتقین فی ظلال خبرھا وعیون وکذافوا کہ عطف علی الخبر وممایشتھون من بیانیۃ ماموصولۃ یشتھون صلۃ والعائد محذوف ای یشتھونہ والجملۃ مجروربمن ای متعلقہ بمحذوف نعت لفواکھہ۔ کلواواشربوا فی محل الحال من ضمیر المتقین فی الخبر بتقدیر القول ای مقولا لھم کلواواشبروا۔ ھنیئًا منصوب علی انہ صفۃ مصدر محذوف ای اکلاً ھنیئًا وشرباً ھنیئا (ھن) گواراشدن طعام و شراب۔ یقال ھنت الطعام ای تھنات بہ ومنہ قولہ تعالیٰ فکلوہ ھنیئًا مریئًا من باب فتح یفتح وکرم یکرم (من الصراح) بما الباء لسببیۃ کلواوتمتعواقلیلا ای زماناً قلیلا الجملۃ حال من المکذبین ای الویل ثابت لھم فی حال مایقال لھم کلواوتمتعوا ایذاناً…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 46–47

کُلُوْا وَتَمَتَّـعُوْا قَلِیْلاً اِنَّـکُمْ مُّجْرِمُوْنَ ۔ وَیْلٌ یَّوْمَئِذٍ لِّلْمُکَذِّبِیْنَ ۔ (المرسلات : 46، 47) (کھالو اور مزے کرلو تھوڑے دن، حقیقت میں تم لوگ مجرم ہو۔ تباہی ہے اس روز جھٹلانے والوں کے لیے۔ ) اشرافِ قریش سے براہ راست خطاب اشرافِ قریش کو یوں تو قیامت سے انکار تھا لیکن کبھی کبھی وہ یہ بات بھی کہتے کہ اگر واقعی قیامت ہوئی جیسا کہ محمد ﷺ کہتے ہیں تو ہم وہاں بھی اسی طرح تم سے بہتر سلوک کے مستحق سمجھے جائیں گے۔ کیونکہ جس پروردگار نے ہمیں دنیا میں خوش عیشی سے نوازا ہے، یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ وہ قیامت کے دن ہمیں سزا دے۔ قرآن کریم نے جابجا اس غلط فہمی کا ازالہ کیا۔ یہاں بھی ان…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 46–50

فہم القرآن ربط کلام : جنتی کے لیے جنت میں حکم ہوگا کہ مزے سے کھاؤ اور پیو ! یہ تمہاری نیکیوں کا صلہ ہے۔ جہنمیوں کے لیے دنیا میں حکم ہے کہ کھا، پی لو مگر یاد رکھو کہ تم حقیقت میں اپنے رب کے مجرم ہو اور تمہارا انجام جہنم ہوگا۔ جنت کی زندگی اور اس کی نعمتوں کے مقابلے میں دنیا کی نعمتیں اور زندگی نہایت قلیل اور حقیر ہے۔ جو لوگ قیامت کا انکار کرتے ہیں اور اپنی مرضی سے زندگی گزارتے ہیں ان پر اللہ تعالیٰ ناراض ہوتا ہے جس وجہ سے انہیں یوں مخاطب کیا گیا ہے کہ کھاؤ اور مزے اڑاؤ ! لیکن یاد رکھو ! دنیا کا فائدہ اور کھانا پینا قلیل اور تھوڑی مدت کے لیے ہے بالفاظ دیگر انہیں یہ وارننگ دی گئی ہے کہ کھاؤ اور…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

47 : وَیْلٌ یَّوْمَپذٍ لِّلْمُکَذِّبِیْنَ (اس دن بڑی خرابی ہے۔ جھٹلانے والوں کی) جو منعم کو جھٹلاتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

46 ۔” پھر کفار مکہ کو کہا ” کلو ا وتمتعوا قلیلا “ دنیا میں۔” انکم مجرمون “ اللہ کے ساتھ شرک کرنے والے ہو، عذاب کے مستحق ہو۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 41–50

41۔ 50۔ متقیوں سے مطلب ان آیتوں میں یہ ہے کہ جو لوگ دنیا میں شرک سے بچتے رہے کیونکہ متقیوں کا لفظ ان آیتوں میں ان مشرک لوگوں کے مقابلہ میں فرمایا ہے جن کا ذکر شروع سورة سے یہاں تک تھا یہ اوپر گزرچکا ہے کہ کلمہ گو گناہ گار اگرچہ اپنے گناہوں کی سزا میں ایک وقت مقررہ تک دوزخ میں جائیں گے لیکن پھر آخر ان کو جنت نصیب ہوگی اور یہی نعمتیں ان کو ملیں گی جن کا ذکر ان آیتوں میں ہے اس لئے لفظ متقی کے جو معنی بیان کئے گئے ان میں سب جنتی شامل ہوسکتے ہیں۔ دوزخیوں کی چھائوں وہ ہے جس کا ذکر اوپر گزرا۔ یہ جنتی لوگوں کی چھاؤں جنت کے عالی شان مکانوں اور میوہ کے نہایت سایہ دار درختوں کی ہوگی۔ علاوہ اس کے فقط…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 47–49

(وَيْلٌ يَّوْمَىِٕذٍ لِّلْمُكَذِّبِيْنَ ) اس دن ہلاکت ہے جھٹلانے والوں کے لیے، ان کی ایک ہلاکت یہ بھی ہے کہ ان پر توفیق کے تمام دروازے بند ہوجائیں گے اور وہ ہر بھلائی سے محروم ہوجائیں گے۔

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 25–50

میت کی کوئی چیز فروخت نہیں ہوسکتی، دفن کردینی چاہیے قول باری ہے (الم نجعل الارض کفاتا احیاء وامواتا۔ کیا ہم نے زمین کو سمیٹ کر رکھنے والی نہیں بنایا۔ زندوں کے لئے بھی اور مردوں کے لئے بھی) شعبی کا قول ہے کہ زمین کا ظاہری حصہ زندوں کے لئے ہے اور باطنی حصہ مردوں کے لئے کفات ضمام یعنی سمیٹنے کو کہتے ہیں۔ مراد یہ ہے کہ زمین دونوں حالتوں میں انہیں سمیٹ کر رکھتی ہے۔ اسرائیل نے ابویحییٰ سے اور انہوں نے مجاہد سے روایت کی ہے کہ درج بالا آیت کی تفسیر میں انہوں نے فرمایا : ” زمین میت کو سمیٹ لیتی ہے اور اس کا کوئی حصہ باہر نظر نہیں آتا۔ زمین زندوں کو بھی سمیٹتی ہے۔ ایک شخص اپنے گھر میں ہوتا ہے اور اس کا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

37 ۔ منکرین و مکذبین کے لئے بڑی ہی خرابی اور ہلاکت۔ والعیاذ باللہ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ بڑی ہی خرابی و ہلاکت ہوگی اس دن جھٹلانے الوں کے لئے جو ایسے مغالطوں کی بناء پر نور حق و ہدایت سے محروم رہے اور جن ہو نے ترغیب و ترہیب کے کسی اسلوب سے بھی کوئی اثر نہ لیا اور وہ برابر تکذیب ہی کرتے رہے، اور دائمی عذاب کے مستحق بن گئے کہ ان کی شقاوت و بدبختی اور حرمان نصیبی کا کوئی ٹھکانا نہیں والعیاذ باللہ العظیم کہ تکذیب اور انکار حق بیماریو کی بیماری اور خرابیوں کی خرابی ہے، جس سے آگے طرح طرح کی برائیاں پیدا ہوتی اور جنم لیتی ہیں، سو جو لوگ ان کار اور تکذیب حق کی اس ام الامراض کے ساتھ اس دارالعمل سے…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 41–50

نیکوکاروں کے لیے رحمتیں تشریح : اللہ بڑا ہی رحمن و رحیم ہے وہ سب کو اپنی نعمتیں دیتا ہے جو شکر گزار اور عبادت گزار ہیں ان کے لیے اس نے بہترین جنت میں ٹھکانے دینے کا وعدہ کر رکھا ہے جو ضرور پورا ہوگا اور جو اس کے نافرمان اور ناشکرے لوگ ہیں اور باوجود رسول ﷺ کے بتانے کے بھی ایمان نہیں لاتے اللہ کو رسول ﷺ کو اور حساب کے دن، یعنی آخرت کو نہیں مانتے تو پھر ایسے لوگوں کے لیے اللہ جبار اور قہار بھی ہے اسی لیے ان لوگوں کے لیے جہنم کے بدترین ٹھکانے کی بری خبر کا اعلان کیا گیا ہے۔ جو ان کو مل کر رہے گا۔ آج کے اس ترقی یافتہ دور میں یہ بات سمجھ لینی بڑی آسان ہے کہ قیامت ضرور آئے گی۔ قیامت کا تصور موجودہ…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 41–50

آیات 41 تا 50۔ اسرار ومعارف۔ البتہ جنہوں نے اللہ سے اطاعت کا رشتہ قائم کیا ان کے لیے یہاں بھی سایہ ہوگا اور خوبصورت نہریں اور طرح طرح کے میوے کہ مزے سے کھاتے ہوں گے اور حکم ہوگا کہ عیش کرو کھاؤ پیو کہ تم نے دنیا میں اللہ کی اطاعت کی اور خلوص دل سے اطاعت کرنے والوں کو ہم ایسے ہی انعام عطا کرتے ہیں مگر انکار کرنے والوں کے لیے صرف بربادی ہوگی بلکہ اے بدکارو ، دنیا میں چند روز مہلت سے موج کرلو آخر کار تمہارے نصیب میں بربادی ہی ہے یہاں بھی وہاں بھی۔ نظام اسلام۔ جب انہیں اللہ کے سامنے جھکنے کے لیے کہا جاتا ہے یعنی اللہ کا نظام قبول کرنے کا کہا جاتا ہے تو مان کر نہیں دیتے تو پھر ان کے لیے ماسوی…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 45–48

ف 7 جھکنے سے مراد اللہ تعالیٰ کے عام احکام کے سامنے جھکنا بھی ہوسکتا ہے، اگرچہ متب اور معنی نماز میں جھکنا ہی ہیں۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 1–50

لغات القرآن۔ المرسلات۔ چلنے والیاں۔ عرف۔ فائدہ پہنچانا۔ عصفت۔ تیز چلنے والیاں۔ نشرات۔ پھیلانے والیاں۔ فرقت۔ پھارنے والیاں۔ الملقیت۔ لانے والیاں۔ طمست۔ مٹا دی گئی۔ نسفت۔ ریزہ ریزہ کردی گئی۔ اقتت ۔ مقرر کی گئی۔ اجلت۔ ملتوی کردی گئی۔ یوم الفصل۔ فیصلے کا دن۔ ویل۔ خرابی ۔ بربادی۔ ماء مھین۔ حقیر پانی۔ کفات۔ اکٹھا کرنے والاشمخت۔ اونچے۔ فرات۔ میٹھا پانی ۔ ذی ثلث شعب۔ تین شاخوں والا ۔ ترمی۔ وہ پھینکتی ہے۔ جملت، صفر، ۔ زرد اونٹ۔ لا ینطقون۔ وہ نہ بولیں گے۔ یعتذرون۔ وہ عذر پیش کریں گے۔ ظلل۔ سائے۔ عیون (عین) ۔ چشمے۔ ای حدیث۔ کونسی بات۔ تشریح : سورة المرسلات کی ابتدائی چھ آیتوں میں ہواؤں اور ان پر متعین…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 46–50

(ف 2) دنیا میں اس طرح کے عقبی کے منکرون کی جو کچھ خوشحالی ہے وہ تھوڑے دنوں کی ہے کیونکہ نہ دنیا رہنے والی چیز ہے نہ اس کی خوشحالی ۔ آنکھ بند ہوتے ہی پھر طرح طرح کی خرابی ہے کیونکہ جس اللہ نے ان کو پیدا کیا ہے خالص اس کے نام پر سرجھکانے کو یہ لوگ عار سمجھتے ہیں ۔ تفسیر مقاتل بن سلیمان میں ہے کہ ثقیف ایک قبیلہ نے نماز سے انکار کرکے یہ کہا کہ کمر جھکانے کو ہم لوگ عارسمجھتے ہیں پھر فرمایا کہ ان لوگوں کو جس اپنی فصاحت وبلاغت کا بڑا دعوی تھا قرآن کی فصاحت وبلاغت نے وہ دعوی تو ان کا باقی نہ رکھا جس سے یہ لوگ خوب سمجھ گئے کہ قرآن کسی انسان کا کلام نہیں، اس پر بھی ان لوگوں کا قرآن کے احکام کو نہ ماننا…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

[17] یعنی اس دنیا میں جو عیش و آرام تمہیں حاصل ہے اس سے اس مغالطے میں نہ رہو کہ آخرت ہوئی تو یہی کچھ تمہیں وہاں بھی حاصل ہوگا۔ تکذیب کے نتیجے میں تمہیں وہ کچھ ملے گا جس کی تفصیل سنا دی گئی۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 41–50

ف 1: جہنم کی تفصیلات کے بعد ضروری تھا ۔ کہ پاکبازوں کو بشارت سنائی جائے ۔ چناچہ فرمایا ۔ کہ اہل تقویٰ کے لئے جو سائے ہیں ۔ وہ ٹھنڈے اور رحمت کے سائے ہیں ۔ وہ میٹھے اور شیریں چشموں میں ہوں گے ۔ ان کو ہر نوع کے مرغوب میوے ملیں گے ۔ اور کہا جائیگا ۔ کہ چونکہ تم نے دنیا میں اپنی خواہشات کے خلاف ہمارے دین کا ساتھ دیا ہے ۔ اور نیک زندگی بسر کی ہے ۔ اس لئے تمہاری خواہشات کو یہاں ملحوظ رکھا جائے گا ۔ تمہیں اجازت ہے ۔ کہ اس باغ میں رہو سہو اور جو چاہو کھاؤ پیو ۔ حل لغات :۔ کید ۔ مکر اور تدبیر عیون ۔ جمع عین ھدایتا ۔ خوش گواری کے ساتھ ۔

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(47) اس دن حق کی تکذیب کرنے والوں اور جھٹلانے والوں کی بڑی خرابی اور بڑی تباہی ہے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 34–50

ف 3۔ ان تفریعات و تہدید ات قرآنیہ کا مقتضا یہ تھا کہ یہ سنتے ہی ڈر کر ایمان لے آتے مگر جب اس پر بھی ان کو اثر نہیں تو پھر اس قرآن بلیغ الالفاظ والانداز کے بعد اور کس بات پر ایمان لائیں گے اس میں کفار پر توبیخ اور ان کے ایمان سے آپ کا اقناط ہے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

Explained with ayahs 46–47

(یہاں کھالو) اے جھٹلانے والو ! دنیا کی فانی نعمتیں۔ (اور رہ لو کچھ دن) اور فائدہ اٹھا لو تھوڑنے زمانے تک ، (بیشک تم لوگ مجرم ہو) اور شرک کرنے والے ہو ، تمہارا انجام عذاب دائمی ہے۔ تو (ہلاکی ہے اس دن جھٹلانے والوں کی) ۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 46–47

كُلُوا وَتَمَتَّعُوا قَلِيلًا إِنَّكُم مُّجْرِ‌مُونَ ("Eat and drink for a while! You are guilty ones...77:46) This verse addresses the infidels through the Holy Prophet ﷺ . They may eat and drink and enjoy themselves in this world, but the span is short, and then there will be nothing but punishment for them. [ Abu Hayyan ].

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 47–48

26 "Bowing before Allah": does not only imply worshipping Him but also means believing in the Messenger sent by Allah and in the Book revealed by Him and following and obeying His Commands.

Read the full tafseer →