77. Surah Al-Mursalaat

المرسلاتThe Emissaries · 50 ayahsانوار البیان

Ayah 77:1

وَ الْمُرْسَلٰتِ عُرْفًاۙ Open ayah 77:1 in the Quran reader

ہواؤں کی قسم جو نرم نرم چلتی ہیں

(77:1) والمرسلت عرفا۔ واؤ تسمیہ۔ المرسلت اسم مفعول جمع مؤنث۔ المرسلۃ واحد۔ ارسال (افعال) رسل اونٹ یا بکری پیہم نرم رفتار کو کہتے ہیں۔ اگر یکے بعد دیگرے قطار در قطار ہوکر گھوڑے یا اونٹ آئیں یا آدمی آئیں تو جاء وا ارسالا کہا جاتا ہے آیت ہذا اور اگلی آیات میں اللہ تعالیٰ نے پانچ چیزوں کی قسم کھائی ہے۔ مثلا :۔ (1) المرسلت۔ (2) العصفت۔ (3) النشرت۔ (4) الغرقت۔ (5) الملقیت۔ ان چیزوں سے جن کی قسم کھائی گئی ہے کیا مراد ہے ؟ اس میں مفسرین کے مختلف اقوال ہیں۔ مثلا :۔ (1) ان پانچوں چیزوں سے مراد ملائکہ ہیں۔ (مقاتل) (2) ان پانچوں چیزوں سے مراد ہوائیں ہیں۔ (مجاہد، قتادہ) (3) ان پانچوں چیزوں سے مراد ایک قسم کی چیزیں نہیں ہیں۔ بلکہ متعدد چیزیں مراد ہیں پھر اس میں بھی مختلف اقوال ہیں :۔ (1) بعض کہتے ہیں پہلی چار چیزوں سے مراد ہوائیں ہیں۔ اور پانچویں سے ملائکہ۔ (2) بعض کہتے ہیں کہ اول دونوں سے مراد ہوائیں ہیں۔ اور اخیر تینوں سے ملائکہ ہیں۔ (3) ان پانچوں چیزوں سے مراد آیات قرآنیہ ہیں۔ (فرائ) (4) یہ بھی احتمال ہے کہ ان پانچوں چیزوں سے راد نفوس انبیاء ہیں۔ چونکہ جمہور مفسرین اس طرف گئے ہیں کہ ان سے مراد ہوائیں ہیں لہٰذا ہم یہاں سے ہوائیں مراد لے کر تشریح کریں گے۔ عرفا۔ نیکی، احسان، بخشش، متواتر، پے در پے ۔ عرف کا استعمال دو معنی میں ہوتا ہے۔ ایک بمعنی معروف، یعنی نیکی اور نیک کام۔ دوسرے پے در پے۔ محاورہ ہے جاء القوم عرفا عرفا : یعنی لوگ پے در پے اور لگاتار ایک دوسرے کے پیچھے آئے۔ اس معنی میں یہ عرف الفرس سے ماخوذ ہے۔ ” عرف فرس “ گھوڑے کے ایال (گردن کے لمبے لمبے بال) کو کہتے ہیں۔ یعنی جس طرح ایال کے بال لگاتار ایک دوسرے کے پیچھے ہوتے ہیں۔ اسی طرح لوگوں کی آمدورفت ہوئی۔ آیت والمرسلت عرفا میں دونوں معنی کئے گئے ہیں۔ یعنی نیکی اور خوبی کے ساتھ بھیجی ہوئی۔ یا پے در پے بھیجی ہوئی ہوائیں۔ عرفا کے منصوب ہونے کی چار وجہیں ہوسکتی ہیں :۔ (1) مفعول لہ ہونے کی بنا پر منصوب ہے یعنی المرسلت لاجل العرف اس صورت میں عرف بمعنی خوبی و احسان ہوگا۔ (2) حال ہونے کی وجہ سے یعنی متتابعۃ۔ (پے در پے) یعنی اس حال میں بھیجی گئیں کہ وہ پے در پے تھیں۔ (3) مفعول مطلق ہے بعمنی مصدر۔ اور ارسالا کے معنی دے بمعنی المرسلت ارسالا اس صورت میں بھی ارسالا بمعنی لگاتار اور پے در پے ہوگا۔ (4) منصوب ہے نیزع خافض (زیر دینے والے حرف کو حذف کرنا) بمعنی المرسلت بالعرف اس صورت میں عرف بمعنی معروف ہوگا۔ آیت کا ترجمہ ہوگا :۔ قسم ہے ان ہواؤں کی جو پے در پے بھیجی جاتی ہیں یعنی وہ ہوائیں جو پیہم چلتی ہیں نرم نرم خوشگوار، روئیدگی میں مدد دینے والی۔ ابرا ٹھانے والی۔ بابرکت۔
Ayah 77:2

فَالْعٰصِفٰتِ عَصْفًاۙ Open ayah 77:2 in the Quran reader

پھر زور پکڑ کر جھکڑ ہوجاتی ہیں

(77:2) فالعصفت عصفا :عاطفہ ہے اس کا عطف المرسلت پر ہے۔ عصفا مصدر کو بطور مؤکد لایا گیا ہے۔ پھر قسم ہے ان ہواؤں کی جو تندوتیز چلتی ہیں۔ عصفت جھونکا دینے والی۔ وہ ہوائیں جو تیز و تند چلتی ہیں۔ آندھیاں۔ وہ ہوائیں جو چیزوں کو توڑ کر بھس بنادیں کیونکہ عصف بھس کو کہتے ہیں۔ عصف (باب ضرب) مصدر سے اسم فاعل کا صیغہ جمع مؤنث۔
Ayah 77:3

وَّ النّٰشِرٰتِ نَشْرًاۙ Open ayah 77:3 in the Quran reader

اور (بادلوں کو) پھاڑ کر پھیلا دیتی ہیں

(77:3) والنشرت نشرا واؤ قسمیہ، النشرت نشر (باب ضرب) مصدر بمعنی پھیلانا اسم فاعل کا صیغہ جمع مؤنث ناشرۃ اسم فاعل واحد مؤنث۔ (ابر کو) پھیلانے والی اور اس کا اٹھا کر بارش لانیوالی ہوائیں۔ نشرا مصدر کو بطور مفعول مطلق تاکید کے لئے لایا گیا ہے۔ ترجمہ : اور قسم ہے ان ہواؤں کی جو بادل کو پھیلا کر اٹھا کر بارش لاتی ہیں۔ اس جملہ کا عطف المرسلت پر ہے۔
Ayah 77:4

فَالْفٰرِقٰتِ فَرْقًاۙ Open ayah 77:4 in the Quran reader

پھر انکو پھاڑ کر جدا جدا کردیتی ہیں

(77:4) فالفرقت فرقا :عاطفہ، واؤ قسیمہ محذوف۔ الفرقت فرق (باب نصر) مصدر سے اسم فاعل کا صیغہ جمع مؤنث۔ الفارقۃ واحد فرقا مصدر جو کہ بطور تاکید لایا گیا ہے۔ اس کا عطف بھی مرسلت پر ہے۔ ترجمہ :۔ پھر قسم ہے ان ہواؤں کی جو (بادلوں کو) پارہ پارہ کرنے والی ہیں۔
Ayah 77:5

فَالْمُلْقِیٰتِ ذِكْرًاۙ Open ayah 77:5 in the Quran reader

پھر فرشتوں کی قسم جو وحی لاتے ہیں

(77:5) فالملقیت ذکرا۔عاطفہ واؤ قسمیہ محذوف۔ الملقیت القاء (افعال) مصدر سے۔ اسم فاعل کا صیغہ جمع مؤنث۔ بقول ابن کثیر بالاجماع یہاں مراد فرشتوں کی جماعت ہے ، جو اللہ کی وحی کو انبیاء تک پہنچانے والے ہیں۔ صاحب ضیاء القرآن نے ان پانچ چیزوں سے ہوائیں مراد لیتے ہوئے یہ ترجمہ کیا ہے :۔ پھر قسم ہے ان ہواؤں کی جو (دلوں میں) ذکر کا القاء کرنے والی ہیں۔ ذکرا مفعول بہٖ ہے۔
Ayah 77:6

عُذْرًا اَوْ نُذْرًاۙ Open ayah 77:6 in the Quran reader

تاکہ عذر (رفع) کردیا جائے یا ڈر سنا دیا جائے

(77:6) عذرا اونذرا۔ اس آیت کی تشریح میں متعدد اقوال ہیں جو کتب تفسیر میں ملاحظہ کئے جاسکتے ہیں۔ عذر کے معنی ہیں وہ دلیل کہ جس کے ذریعے عذر پیش کئے جاسکتے ہیں۔ اور نذرا بمعنی ڈرانا۔ ہر دو ذکرا سے بدل ہیں۔ یعنی وہ ذکر جو پہلوں کے لئے الزام اتارنے کے لئے معذرت پیش کرنا اور دوسروں کے لئے اعمال سوء سے بچنے کے لئے ڈرانا ہے۔ (ملاحظہ ہو لغات القرآن) روح المعانی ، تفسیر مظہری وغیرہ)
Ayah 77:7

اِنَّمَا تُوْعَدُوْنَ لَوَاقِعٌؕ Open ayah 77:7 in the Quran reader

کہ جس کا تم سے وعدہ کیا جاتا ہے وہ ہو کر رہیگی

(77:7) انما توعدون لراقع۔ یہ جملہ جواب قسم ہے جو آیات متذکرہ بالا میں مذکور ہیں۔ انما مرکب ہے حرف تاکید اور ما بمعنی الذی سے۔ توعدون مضارع مجہول جمع مذکر حاضر (باب ضرب) مصدر سے (جس کا) تم سے وعدہ کیا گیا ہے (یعنی قیامت) لواقع لام تاکید کا ہے واقع وقع (باب فتح) مصدر سے اسم فاعل کا صیغہ واحد مذکر۔ ان کی خبر ہے۔ وہ ضرور وقوع پذیر ہوگی۔ وہ ضرور آئے گی۔
Ayah 77:8

فَاِذَا النُّجُوْمُ طُمِسَتْۙ Open ayah 77:8 in the Quran reader

جب تاروں کی چمک جاتی رہے

(77:8) فاذا النجوم طمست : فاذا شرطیہ ہے اسی طرح اگلی آیات نمبر 9، 10، 11 میں اذا شرطیہ ہے اور سارے جملے شرطیے ہیں جن کا جواب محذوف ہے۔ یعنی اس روز اہل جنت اور اہل دوزخ کو جدا جدا کردیا جائے گا۔ طمست۔ ماضی مجہول واحد مؤنث غائب۔ طمس (باب ضرب و نصر) مصدر۔ وہ مٹائی گئی ۔ یا بمعنی مستقبل۔ وہ مٹائی جائے گی۔ (وہ ستارے مٹا دئیے جائیں گے۔ بےنور کر دئیے جائیں گے۔ طمس کا استعمال متعدی اور غیر متعدی دونوں طرح پر ہوتا ہے۔ یعنی مٹانے اور محو کردینے کے معنی بھی آتے ہیں۔ اور ہٹ جانے اور محو ہوجانے کے بھی۔ آیت ہذا میں بعض اہل لغت نے اس کے معنی ” جب ستارے مٹائے جائیں “ لئے ہیں۔ لیکن ابن سیدہ نے محکم میں تصریح کی ہے کہ نجم، قمر، بصر، کے ساتھ جب طمس کا استعمال ہوگا تو ” بےنور ہونے “ اور ” روشنی زائل ہوجانے “ کے معنی ہوں گے۔ اسی طرح ازہری نے تھذیب اللغۃ میں لکھا ہے کہ طموس الکواکب کے معنی ستاروں کے بےنور ہونے اور روشنی ماند پڑجانے کے ہیں۔ اس اعتبار سے آیت ہذا میں ستاروں کا بےنور ہونا اور ماند پڑجانا مراد ہوگا۔
Ayah 77:9

وَ اِذَا السَّمَآءُ فُرِجَتْۙ Open ayah 77:9 in the Quran reader

اور جب آسمان پھٹ جائے

(77:9) واذا السماء فرجت (جملہ شرطیہ۔ ملاحظہ ہو آیت نمبر 8 متذکرہ بالا) ۔ فرجت : ماضی مجہول واحد مؤنث غائب فرج (باب ضرب) مصدر اور جب آسمان پھاڑ دیا جائے گا۔
Ayah 77:10

وَ اِذَا الْجِبَالُ نُسِفَتْۙ Open ayah 77:10 in the Quran reader

اور جب پہاڑ اڑے اڑے پھریں

(77:10) واذا الجبال نسفت (جملہ شرطیہ) نسفت ماضی مجہول (بمعنی مستقبل) صیغہ واحد مؤنث غائب ۔ نسف (باب ضرب) مصدر۔ اور آسمان ریزہ ریزہ کرکے بکھیر دئیے جائیں گے۔
Ayah 77:11

وَ اِذَا الرُّسُلُ اُقِّتَتْؕ Open ayah 77:11 in the Quran reader

اور جب پیغمبر فراہم کئے جائیں

(77:11) واذ الرسل اقتت (جملہ شرطیہ) اقتت ماضی (بمعنی مستقبل) مجہول واحد مؤنث غائب۔ توقیت (تفعیل) مصدر بمعنی وقت مقرر کرنا۔ اور جب پیغمبروں (کو اکٹھا کرنے) کا وقت مقرر کیا جائے گا۔ اقتت اصل میں وقتت تھا۔ واؤ مضموم کو ہمزہ سے بدل لیا کیونکہ ہر وہ واؤ جو کہ مضموم ہو اور اس کا ضمہ لازم ہو اس کو ہمزہ سے بدلنا جاء ہے۔ وقت مادہ۔ ان چاروں جملوں (آیات 8، 9، 10، 11) کا جواب شرط ” تو اس روز اہل جنت اور اہل دوزخ کو جدا جدا کردیا جائے گا “ محذوف ہے۔ (تفسیر مظہری)
Ayah 77:12

لِاَیِّ یَوْمٍ اُجِّلَتْؕ Open ayah 77:12 in the Quran reader

بھلا ان امور میں تاخیر کس دن کیلئے کی گئی

(77:12) لای یوم اجلت۔ لام حرف جار علت کے لئے ہے ای استفہامیہ ہے۔ لای یوم۔ کس دن کے لئے۔ کون سے دن کے لئے۔ اجلت۔ ماضی مجہول واحد مؤنث غائب : تاجیل (تفعیل) مصدر ۔ دیر کی گئی ملتوی کیا گیا۔ لای یوم کا تعلق اجلت سے ہے یہ استفہام (نا معلوم چیز کو معلوم کرنے کے لئے نہیں ہے بلکہ) مجازا تعجب اور روز قیامت کی ہولناکی ظاہر کرنے کے لئے ہے یعنی حوادث میں تاخیر کیوں ہے۔ اور ان کے واقع ہونے کا کونسا وقت مقرر کیا گیا ہے۔
Ayah 77:13

لِیَوْمِ الْفَصْلِۚ Open ayah 77:13 in the Quran reader

فیصلے کے دن کے لیے

(77:13) لیوم الفصل : لای یوم سے بدل ہے یعنی حوادث مذکور کی تاخیر و تعجل فیصلہ کے دن کے لئے ہے۔ یوم الفصل مضاف مضاف الیہ۔ فیصلہ کا دن۔ جس دن تمام مقدمات و اختلافات کا فیصلہ کردیا جائے گا۔
Ayah 77:14

وَ مَاۤ اَدْرٰىكَ مَا یَوْمُ الْفَصْلِؕ Open ayah 77:14 in the Quran reader

اور تمہیں کیا خبر کہ فیصلے کا دن کیا ہے ؟

(77:14) وما ادرک ما یوم الفصل : ما استفہامیہ ہے بمعنی کیا۔ کون، کس نے۔ ادرک : ماضی واحد مذکر۔ ادراء (افعال) مصدر بمعنی واقف کرنا۔ بتانا۔ ک ضمیر مفعول واحد مذکر حاضر۔ اور کس چیز نے تجھے بتایا کہ یوم الفصل کیا ہے۔ مطلب یہ کہ تجھے کیا علم کہ یوم الفصل کیا ہے۔ فعل تعجب اظہار تعجب کے لئے ہے۔ تعجب بالائے تعجب یوم الفصل کی عظمت کو ظاہر کرنے کے لئے ہے۔ مطلب یہ کہ یوم الفصل عظیم الشان چیز ہے تم کو اس کی حقیقت معلوم نہیں نہ اس کی مثل تم نے کوئی دن دیکھا۔ (مظہری)
Ayah 77:15

وَیْلٌ یَّوْمَئِذٍ لِّلْمُكَذِّبِیْنَ Open ayah 77:15 in the Quran reader

اس دن جھٹلانے والوں کے لیے خرابی ہے

(77:15) ویل یومئذ للمکذبین : ویل باوجودنکرہ ہونے کے مبتدا ہے اصل میں مصدر منصوب قائم مقام فعل محذوف کے تھا۔ عدول کرکے اس کو رفع دیا گیا تاکہ اس کے معنی (ہلاکت) کے ثبات اور دوام پر دلالت ہوجائے (مدارک التنزیل والکشاف) مثال اس کی سلام علیکم ہے۔ علامہ پانی پتی لکھتے ہیں :۔ ویل مصدر ہے اصل میں اس کا معنی ہے تباہی اور خرابی پیدا ہوجانا۔ یہ جملہ فعلیہ تھا۔ اور ویلا مفعول مطلق ہونے کی بنا پر منصوب تھا۔ اور فعل محذوف تھا۔ مفو ول کی بجائے ویل کو بصورت مبتداء مرفوع لایا گیا۔ تاکہ تباہی اور خرابی کے دوام پر دلالت ہوجائے (کیونکہ فعل سے عدول کرکے جملہ اسمیہ کو ذکر کرنا ثبات و دوام فعل پر دلدلت کرتا ہے) یہ جملہ بددعائیہ ہے۔ یومئذ اسم ظرف ہے منصوب : یوم مضاف اذ مضاف الیہ ۔ اس دن ، مبتدا کا ظرف ہے۔ للمکذبین اس کی خبر ہے۔ مکذبین تکذیب (تفعیل) مصدر سے اسم فاعل کا صیغہ جمع مذکر۔ جھٹلانے والے۔ یعنی توحید و رسالت، بعثت بعد الموت، سزاء و جزاء کی تکذیب کرنے والے۔
Ayah 77:16

اَلَمْ نُهْلِكِ الْاَوَّلِیْنَؕ Open ayah 77:16 in the Quran reader

کیا ہم نے پہلے لوگوں کو ہلاک نہیں کر ڈالا

(77:16) الم نھلک الاولین۔ الف استفہام انکاری کے لئے۔ لم نھلک مضارع نفی جحد بلم کا صیغہ جمع متکلم اہلاک (افعال) مصدر سے، الاولین الاول کی جمع۔ اگلے۔ پہلے (لوگ) کیا ہم نے پہلوں کو غارت نہیں کردیا تھا۔ (جیسے قوم نوح قوم عاد، قوم ثمود وغیرہ
Ayah 77:17

ثُمَّ نُتْبِعُهُمُ الْاٰخِرِیْنَ Open ayah 77:17 in the Quran reader

پھر ان پچھلوں کو بھی انکے پیچھے بھیج دیتے ہیں

(77:17) ثم نتبعھم الاخرین : ثم بمعنی پھر۔ نتبع مضارع جمع متکلم اتباع (افعال) مصدر ہم ضمیر مفعول جمع مذکر غائب، ہم انکے پیچھے بھیج دیتے ہیں یا بھیج دیں گے۔ الاخرین : پیچھے آنے والوں کو، اس سے مراد اہل مکہ کے کفار ہیں جو تکذیب انبیاء کے راستہ پر کفار سلف کی طرح چلتے تھے۔ یعنی ہم پھر ان کفار سلف کے پیچھے ان دوسروں کو چلائیں گے۔ یعنی ان کو بھی ان کی طرح عذاب سے ہلاک کردیں گے۔
Ayah 77:18

كَذٰلِكَ نَفْعَلُ بِالْمُجْرِمِیْنَ Open ayah 77:18 in the Quran reader

ہم گنہگاروں کے ساتھ ایسا ہی کرتے ہیں

(77:18) کذلک۔ کاف تشبیہ کا۔ ذلک کا اشارہ ہے کفار سلف کے ارتکاب جرم کی پاداش میں ہلاک ہونا۔ مطلب یہ کہ ہم مجرموں کے ساتھ ایسا ہی سلوک کرتے ہیں۔
Ayah 77:19

وَیْلٌ یَّوْمَئِذٍ لِّلْمُكَذِّبِیْنَ Open ayah 77:19 in the Quran reader

اس دن جھٹلانے والوں کی خرابی ہے

(77:19) ویل ۔۔ الخ۔ یعنی اللہ کی وعید کی تکذیب کرنے والوں کے لئے اس روز ویل ہے۔
Ayah 77:20

اَلَمْ نَخْلُقْكُّمْ مِّنْ مَّآءٍ مَّهِیْنٍۙ Open ayah 77:20 in the Quran reader

کیا ہم نے تم کو حقیر پانی نہیں پیدا کیا ؟

(77:20) الم نخلقکم : أ ھمزہ استفہامیہ ہے لم نخلق مضارع نفی جحد بلم کم ضمیر مفعول جمع مذکر حاضر۔ کیا ہم نے تم کو پیدا نہیں کیا ماء مھین موصوف و صفت ، مھین ھون (باب نصر) مصدر سے اسم مفعول کا صیغہ واحد مذکر۔ یہ اصل میں مہیون تھا۔ بروزن مفعول۔ حقیر، ذلیل، گندہ مرادیہاں نطفہ منی سے ہے۔ کیا ہم نے تمہیں حقیر پانی سے پیدا نہیں کیا۔ یعنی ضرور کیا ہے۔
Ayah 77:21

فَجَعَلْنٰهُ فِیْ قَرَارٍ مَّكِیْنٍۙ Open ayah 77:21 in the Quran reader

(پہلے) اس کو ایک محفوظ جگہ میں رکھا

(77:21) فجعلنہ فی قرار مکین۔ جملہ کا عطف الم نخلقکم کے مضمون پر ہے اور فجعلنہ میںتفسیری ہے تعقیبی نہیں ہے (یعنی جملہ سابقہ کی تفصیل اور تشریح اس جملہ میں ہے ایسا نہیں ہے کہ فعلتحقیق کے بعد رحم مادر میں استقرار نطفہ ہوتا ہے) ۔ قرار مکین : موصوف و صفت، قرار۔ آرام کی جگہ، ٹھہرنے کی جگہ۔ پانی ٹھہرنے کی جگہ۔ رحم ۔ مکین۔ عزت والا۔ مرتبہ والا۔ محفوظ جگہ۔ پختہ اور مضبوط جگہ۔ مکانۃ (باب کرم) مصدر سے۔ صفت مشبہ کا صیغہ ۔ واحد مذکر۔ پھر ہم نے رکھ دیا اس کو ایک محفوظ جگہ میں۔ (رحم مادر میں)
Ayah 77:22

اِلٰى قَدَرٍ مَّعْلُوْمٍۙ Open ayah 77:22 in the Quran reader

ایک معین وقت تک

(77:22) الی قدر معلوم ایک معینہ مدت تک۔ یعنی ایک اتنے وقت تک جس کی مقدار عرفا (عام لوگوں کو) معلوم ہے۔ یا ایک ایسی مدت تک جو اللہ کو معلوم ہے۔ قدر معلوم موصوف و صفت۔ ایک معلوم مقدار۔ ایک معلوم مدت۔
Ayah 77:23

فَقَدَرْنَا١ۖۗ فَنِعْمَ الْقٰدِرُوْنَ Open ayah 77:23 in the Quran reader

پھر اندازہ مقرر کیا اور ہم کیا ہی خوب اندازہ مقرر کرنیوالے ہیں

(77:23) فقدرنا۔تعقیب کا ہے قدرنا ماضی جمع متکلم۔ قدر (باب ضرب) مصدر سے۔ پھر ہم نے ایک اندازہ مقرر کیا۔ (یعنی ہم نے ماں کے پیٹ میں رہنے کا۔ وقت پیدائش کا۔ پیدا ہونے کے بعد اعمال زندگی، مدت زندگی، اور رزق کا اور نیک بخت یا بدبخت ہونے کا ایک اندازہ مقرر کردیا۔ (تفسیر مظہری) فنعم القدرون : نعم فعل ہے اور انشاء (بیان) ومدح (تعریف) کے لئے آتا ہے اس کی گردان نہیں آتی۔ ترجمہ آیت :۔ (1) پس ہم کتنے بہتر اندازہ ٹھہرانے والے ہیں۔ (ضیاء القرآن) (2) ہم کیا ہی خوب اندازہ مقرر کرنے والے ہیں۔ (فتح محمد جالندھری) (3) پھر ہم کیا ہی اچھے دار ہیں۔ (تفسیر حقانی) القادرون اندازہ کرنے والے۔
Ayah 77:24

وَیْلٌ یَّوْمَئِذٍ لِّلْمُكَذِّبِیْنَ Open ayah 77:24 in the Quran reader

اس دن جھٹلانے والوں کی خرابی ہے

(77:24) ویل یؤمئذ للمکذبین۔ تباہی ہے اس روز جھٹلانے والوں کے لئے۔
Ayah 77:25

اَلَمْ نَجْعَلِ الْاَرْضَ كِفَاتًاۙ Open ayah 77:25 in the Quran reader

کیا ہم نے زمین کو سمیٹنے والی نہیں بنایا ؟

(77:25) الم نجعل الارض کفاتا۔ استفہام تقریری ہے۔ ہمزہ استفہامیہ لم نجعل مضارع نفی جحد بلم۔ صیغہ جمع متکلم۔ جعل (باب فتح) مصدر سے ، کیا ہم نے نہیں بنایا۔ الارض مفعول نجعل کا۔ کفاتا مفعول ثانی۔ صاحب قاموس نے لکھا ہے کہ کفات جمع کرنے کے مقام کو بھی کہتے ہیں۔ اس صورت میں مطلب بغیر کسی توجیہہ کے بالکل واضح ہے۔ کیا ہم نے زمین کو مخلوق کے جمع کرنے کا مقام نہیں بنایا۔ (یعنی ضرور بنایا ہے) مثل مشہور ہے کہ :۔ المازل کفات الاحیاء والمقابر کفات الاموات مکان زندوں کو سمیٹنے کے مقام ہیں اور قبریں مردوں کو۔ اصل عبارت یوں ہوگی :۔ الم نجعل الارض کفاتا للخلق۔
Ayah 77:26

اَحْیَآءً وَّ اَمْوَاتًاۙ Open ayah 77:26 in the Quran reader

(یعنی) زندوں اور مردوں کو بنایا

(77:26) احیاء وامواتا۔ احیاء حی کی جمع زندہ لوگ۔ امواتا میت کی جمع مردہ لوگ۔ دونوں خلق (محذوف) سے حال ہیں۔ بدیں وجہ منصوب ہیں۔ (مزید تشریح کے لئے ملاحظہ ہو تفسیر مظہری)
Ayah 77:27

وَّ جَعَلْنَا فِیْهَا رَوَاسِیَ شٰمِخٰتٍ وَّ اَسْقَیْنٰكُمْ مَّآءً فُرَاتًاؕ Open ayah 77:27 in the Quran reader

اور اس پر اونچے اونچے پہاڑ رکھ دئیے اور تم لوگوں کو میٹھا پانی پلایا

(77:27) وجعلنا فیہا رواسی شمخت۔ واؤ عاطفہ ہے جملہ کا عطف جملہ سابقہ الم نجعل الارض پر ہے فیہا میں ضمیر ھا واحد مؤنث غائب الارض کے لئے ہے۔ رواسی شمخت موصوف صفت مل کر جعلنا کا مفعول۔ رواسی جمع ہے راسیۃ کی بمعنی بوجھ۔ پہاڑ۔ رواسی کا استعمال ٹھیرے ہوئے پہاڑوں کے لئے ہوتا ہے۔ یہ رسو سے مشتق ہے جس کے معنی کسی چیز پر قائم رہنے اور استوار ہونے کے ہیں۔ شمخت : شموخ (باب فتح) مصدر سے۔ اسم فاعل کا صیغہ جمع مؤنث ہے، بمعنی بلند، اونچا، رواسی شمخت بلند و بالا پہاڑ جو ایک جگہ ٹھہرے ہوئے ہیں ۔ واسقینکم ماء فراتا۔ جملہ معطوف ہے اس کا عطف جملہ ماقبل پر ہے۔ اسقینا ماضی کا صیغہ جمع متکلم اسقاء (افعال) مصدر۔ بمعنی سیراب کرنا۔ پلانا۔ کم ضمیر مفعول جمع مذکر حاضر۔ ماء فراتا موصوف و صفت مل کر اسقینا کا مفعول ثانی فراتا فروتہ (باب کرم) مصدر سے صفت مشبہ کا صیغہ بحالت نصب ہے۔ بہت شیریں پانی ، شیریں ہونا۔ لیکن اسی مادہر ت سے (باب نصر) سے فرت یفرت مصدر سے معنی ہونگے زنا کار اور بدچلن ہونا۔ اور اباب سمع سے معنی ہوں گے بیوقوف ہونا۔ اسی سے ہے پیر فرتوت بیوقوف ، کمزور رائے والا آدمی۔
Ayah 77:28

وَیْلٌ یَّوْمَئِذٍ لِّلْمُكَذِّبِیْنَ Open ayah 77:28 in the Quran reader

اس دن جھٹلانے والوں کی خرابی ہے

(77:28) ویل یؤمئذ للمکذین۔ تباہی ہے اس روز جھٹلانے والوں کیلئے۔
Ayah 77:29

اِنْطَلِقُوْۤا اِلٰى مَا كُنْتُمْ بِهٖ تُكَذِّبُوْنَۚ Open ayah 77:29 in the Quran reader

جس چیز کو تم جھٹلایا کرتے تھے اب اس کی طرف چلو

(77:29) انطلقوا الی ما کنتم بہ تکذبون : ای قیل لہم انطلقوا۔ فعلامر جمع مذکر حاضر ۔ (ان سے کہا جائے گا کہ تم اس کے وقوع پذیر ہونے کی تکذیب کیا کرتے تھے۔ (اب) واقع ہوگئی ہے چلو اور اپنی ہٹ دھرمی کا مزہ چکھو۔
Ayahs 77:30–31

اِنْطَلِقُوْۤا اِلٰى ظِلٍّ ذِیْ ثَلٰثِ شُعَبٍۙ Open ayah 77:30 in the Quran reader

(یعنی) اس سائے کی طرف چلو جس کی تین شاخیں

لَّا ظَلِیْلٍ وَّ لَا یُغْنِیْ مِنَ اللَّهَبِؕ Open ayah 77:31 in the Quran reader

نہ ٹھنڈی چھاؤں اور نہ لپٹ سے بچاؤ

(77:30) ظل ذی ثلث شعب : ظل۔ ضح (دھوپ) کی ضد ہے۔ ہر اس جگہ کو جہاں دھوپ نہ پہنچی ہو ظل کہتے ہیں۔ اور کبھی ہر اس شے کو جو ڈھانپنے والی ہو ظل کہہ دیتے ہیں۔ جمہور اہل تفسیر نے لکھا ہے ظل سے مراد یہاں جہنم کا دھواں ہے۔ بعض نے کہا ہے کہ ظل سے مراد سایہ ہے۔ علامہ پانی پتی (رح) لکھتے ہیں کہ :۔ یہ بھی کہا جاسکتا ہے کہ آیت میں ظل سے مراد خود جہنم کی آگ ہے۔ شعب۔ شعبۃ کی جمع ہے بمعنی شاخیں۔ ثلث شعب تین شاخوں والا سایہ ذی مضاف ثلث شعب مضاف الیہ۔ مضاف مضاف الیہ مل کر صفت ظل موصوف۔ یہ اول کلام کی تاکید ہے یا اس سے بدل ہے۔ چلو اس سایہ کی طرف جو کہ تین شاخوں والا ہے۔
Ayah 77:32

اِنَّهَا تَرْمِیْ بِشَرَرٍ كَالْقَصْرِۚ Open ayah 77:32 in the Quran reader

اس سے (آگ کی) اتنی اتنی بڑی چنگاری اڑتی ہیں جیسے محل

(77:32) انھا ترمی بشرر کالقصر : انھا میں ضمیر واحد مؤنث غائب ظل کی طرف راجع ہے بشرطیکہ ظل سے مراد جہنم لیا جائے۔ ورنہ اس کا مرجع مذکور نہیں ہے۔ گو رفتار کلام سے یہی معلوم ہو رہا ہے کہ مرجع جہنم ہے۔ ترمی : مضارع کا صیغہ واحد مؤنث غائب رمی (باب ضرب) مصدر سے وہ پھینکتی ہے۔ وہ پھینکے گی۔ شرر : شررۃ کی جمع۔ چنگاریاں۔ شرارے۔ کالقصر : ک تشبیہ کیلئے۔ القصر بمعنی پتھر کا مکان۔ قلعہ۔ ایک گاؤں۔ وہ (جہنم کی آگ) بڑے بڑے شرارے پھینک رہی ہوگی جیسے محل ہوں۔
Ayah 77:33

كَاَنَّهٗ جِمٰلَتٌ صُفْرٌؕ Open ayah 77:33 in the Quran reader

گویا زرد رنگ کے اونٹ ہیں

(77:33) کانہ جملت صفت : کاف تشبیہ کا۔ انہ میں ہ ضمیر واحد مذکر غائب کا مرجع قصر ہے یا شرر ہے۔ جملت (موصوف) جمع ہے جعل کی بمعنی اونٹ۔ صفر (صفت) زرد۔ صفرۃ سے جس کے معنی زردی کے ہوتے ہیں۔ بروزن فعل صفت مشبہ کا صیغہ ہے۔ اصفر صفراء صفر۔ راغب نے لکھا ہے :۔ چونکہ زردی سیاہی سے (یا وہ قریب ہوتی ہے اس لئے کبھی صفرۃ کی تعبیر سوداء (سیاہی) سے بھی کی جاتی ہے۔ چناچہ حسن بصری (رح) نے ارشاد الٰہی صفراء فاقع لونھا (2:69) میں صفراء کی تفسیر سوداء (سیاہ رنگ والی) سے کی ہے۔ (المفردات) حدیث شریف میں آیا ہے کہ :۔ جہنم کی آگ کی چنگاریاں تارکول کی طرح سیاہ ہوں گی۔ اونٹ کے رنگ کی سیاہی زردی مائل ہوتی ہے۔ اس لئے عرب اونٹ کے رنگ کو صفر کہتے ہیں۔ قصر کے ساتھ تشبیہ مقدار کی بڑھائی میں تھی۔ اور جملت صفر کے ساتھ تشبیہ رنگ، کثرت تسلسل، باہم اختلاط اور سرعت حرکت میں ہے۔
Ayah 77:34

وَیْلٌ یَّوْمَئِذٍ لِّلْمُكَذِّبِیْنَ Open ayah 77:34 in the Quran reader

اس دن جھٹلانے والوں کی خرابی ہے

(77:34) ویل یومئذ للمکذبین : دوزخ کی عذاب کی تکذیب کرنے والوں کے لئے ہلاکت ہے۔
Ayah 77:35

هٰذَا یَوْمُ لَا یَنْطِقُوْنَۙ Open ayah 77:35 in the Quran reader

یہ وہ دن ہے کہ (لوگ) لب تک نہ ہلا سکیں گے

(77:35) ھذا یوم لا ینطقون : ھذا مبتداء یوم لا ینطقون اس کی خبر۔ یہ وہ دن ہوگا جس میں وہ نہ بول سکیں گے۔ لا ینطقون مضارع منی جمع مذکر غائب۔ نطق (باب ضرب) مصدر بمعنی بولنا۔ وہ نہیں بول سکیں گے۔ وہ نہیں بولتے ہیں۔
Ayahs 77:36–37

وَ لَا یُؤْذَنُ لَهُمْ فَیَعْتَذِرُوْنَ Open ayah 77:36 in the Quran reader

اور نہ ان کو اجازت دی جائے گی کہ عذر کرسکیں

وَیْلٌ یَّوْمَئِذٍ لِّلْمُكَذِّبِیْنَ Open ayah 77:37 in the Quran reader

اس دن جھٹلانے والوں کی خرابی ہے

(77:36) ولا یؤذن لہم فیعتذرون : ولا یؤذن کا عطف لا ینطقون پر ہے۔ یعنی عذر پیش کرنے کی ان کو اجازت نہیں دی جائے گی کہ وہ معذرت کرسکیں ۔ فیعتذرون کا عطف لا یؤذن پر ہے۔ یعنی نہ ان کو اجازت ملے گی نہ وہ معذرت کریں گے۔ فیعتذرون : لا یؤذن لہم کی نفی کو جواب ہی نہیں ہے۔ یعنی عدم معذرت کی وجہ عدم اذن نہیں ہے ورنہ یہ وہم پیدا ہوسکتا ہے کہ :۔ چونکہ ان کی معذرت پیش کرنے کی اجازت نہیں ہوگی اس لئے معذرت پیش نہ کرسکیں گے حقیقت میں ان کے پاس عذر نہ ہوگا۔ اگر اجازت اس کی مل جائے تو پیش کرسکیں۔ (تفسیر مظہری) لیکن قیامت کے روز ان کے لبوں کو بند کردیا جائے گا۔ اور ان کو کسی قسم کا عذر بہانہ پیش کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ (ضیاء القرآن) عذر پیش کرنے کا موقعہ نہ دینا یا اس کی اجازت نہ دینے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ صفائی کا موقع دئیے بغیر ان کے خلاف فیصلہ صادر کردیا جائے گا۔ بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ ان کا جرم اس طرح قطعی طور پر ناقابل انکار حد تک ثابت کردیا جائے گا کہ وہ اپنی معذرت میں کچھ نہ کہہ سکیں گے یہ ایسا ہی ہے جیسے ہم کہتے ہیں کہ میں نے اس کو بولنے کا موقع ہی نہیں دیا یا میں نے اس کی زبان بند کردی تو اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ میں نے اس پر ایسی حجت تمام کی کہ اس کے لئے زبان کھولنے یا کچھ بولنے کا موقع باقی نہ رہا۔ (تفہیم القرآن) بولنے کی اجازت بھی اس لئے نہ ہوگی کہ کوئی عذر ہی موجودد نہ ہوگا۔ جسے وہ پیش کرسکیں ۔ (تفسیر ماجدی) لا یؤذن۔ مضارع منفی مجہول جمع مذکر غائب اذن (باب سمع) مصدر سے۔ (ان کو ) اجازت نہیں دی جائے گی۔ فیعتذرون ۔تعقیب کا ہے یعتذرون، مضارع جمع مذکر غائب اعتذار (افتعال) مصدر سے کہ وہ معذرت کریں۔ وہ معذرت کرتے ہیں۔
Ayah 77:38

هٰذَا یَوْمُ الْفَصْلِ١ۚ جَمَعْنٰكُمْ وَ الْاَوَّلِیْنَ Open ayah 77:38 in the Quran reader

یہی فیصلے کا دن ہے (جس میں) ہم نے تمکو اور پہلے لوگوں کو جمع کیا ہے

(77:38) ھذا یوم الفصل : ھذا مبتدائ۔ یوم الفصل اس کی خبر۔ ھذا ای یوم القیامۃ۔ یوم الفصل مضاف مضاف الیہ۔ فیصلہ کا دن۔ یعنی اہل جنت اور اہل جہنم کے الگ الگ کردینے کا دن۔ (نیز ملاحظہ ہو آیت نمبر 13 متذکرۃ الصدر) ۔ جمعنکم والاولین۔ یہ ھذا کی خبر ثانی ہے۔ علامہ پانی پتی (رح) لکھتے ہیں :۔ ” یہ ھذا کی دوسری خبر ہے یا یوم الفصل کی کہ اجتماعی ہے اور ضمیر محذوف ہے۔ یعنی اس دن ہم نے جمع کیا تم کو۔ یا یوم الفصل ہونے کی علت ہے، یعنی یہ فیصلہ کا دن اس لئے ہے کہ ہم نے تم سب کو جمع کیا ہے۔ یا فصل کی تاکید اور بیان ہے “۔
Ayah 77:39

فَاِنْ كَانَ لَكُمْ كَیْدٌ فَكِیْدُوْنِ Open ayah 77:39 in the Quran reader

اگر تم کو کوئی داؤ آتا ہو تو مجھ سے کرلو

(77:39) فان کان لکم کید فکیدون ۔ فان کان لکم کید جملہ شرط ہے۔ فکیدون : اس کا جواب ہے۔ کید (باب ضرب) مصدر ہے۔ بمعنی مکرو فریب کرنا۔ تدبیر کرنا۔ مکرو فریب اور خفیہ تدبیر کے معنی بھی دیتا ہے۔ الکید کے معنی حیلہ جوئی کے ہیں یہ اچھے معنوں میں مستعمل ہوتا ہے اور برے معنوں میں بھی۔ مگر عام طور پر برے معنوں میں استعمال ہوتا ہے۔ اچھے معنوں میں استعمال کی مثال :۔ جیسے کذلک کدنا لیوسف (12:76) اس طرح ہم نے یوسف کے لئے تدبیر کردی۔ یہاں آیت زیر غور میں بمعنی تدبیر، حیلہ، مکر، داؤ ہے۔ کیدوا : فعل امر کا صیغہ جمع مذکر حاضر ہے۔ ن وقایہ ی ضمیر واحد متکلم محذوف ہے ۔ ترجمہ ہوگا :۔ پس اگر تمہارے پاس کوئی داؤ ہے تو میرے خلاف استعمال کرو۔
Ayah 77:40

وَیْلٌ یَّوْمَئِذٍ لِّلْمُكَذِّبِیْنَ۠ Open ayah 77:40 in the Quran reader

اس دن جھٹلانے والوں کی خرابی ہے

(77:40) ویل یومئذ للمکذیبن۔ عذاب کی تکذیب کرنے والوں کے لئے اس روز تباہی ہوگی۔