77. Surah Al-Mursalaat

المرسلاتThe Emissaries · 50 ayahsآسان قرآن

تعارف

تعارف

یہاں سے قرآن کریم کے آخر تک زیادہ تر مکی سورتیں ہیں۔ تقریباً ان سب سورتوں کا مرکزی موضوع اسلام کے بنیادی عقائد توحید، رسالت اور آخرت کا اثبات، جنت و دوزخ کے حالات اور اسلام کی تبلیغ کے لیے حضور نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ہدایات اور تسلی دینا ہے۔ چونکہ یہ پچھلی سورتوں کے مقابلے میں مختصر سورتیں ہیں، اس لیے ان سب کے الگ الگ تعارف کی ضرورت نہیں ہے۔ البتہ جس سورت میں ضرورت محسوس ہوگی، انشاء اللہ وہاں تعارف عرض کردیا جائے گا۔

Ayah 77:1

وَ الْمُرْسَلٰتِ عُرْفًاۙ Open ayah 77:1 in the Quran reader

قسم ہے ان (ہواؤں) کی جو ایک کے بعد ایک بھیجی جاتی ہیں۔

Ayah 77:2

فَالْعٰصِفٰتِ عَصْفًاۙ Open ayah 77:2 in the Quran reader

پھر جو آندھی بن کر زور سے چلتی ہیں۔

Ayahs 77:3–5

وَّ النّٰشِرٰتِ نَشْرًاۙ Open ayah 77:3 in the Quran reader

اور جو (بادلوں کو) خوب اچھی طرح پھیلا دیتی ہیں۔ (1)

فَالْفٰرِقٰتِ فَرْقًاۙ Open ayah 77:4 in the Quran reader

پھر قسم ہے ان (فرشتوں) کی جو حق اور باطل کو الگ الگ کردیتے ہیں۔

فَالْمُلْقِیٰتِ ذِكْرًاۙ Open ayah 77:5 in the Quran reader

پھر نصیحت کی باتیں نازل کرتے ہیں۔

1: اس دنیا میں جو ہوائیں چلتی ہیں، ان میں سے کچھ تو ایسی ہوتی ہیں جو انسان کو فائدہ پہنچاتی اور اس کے لیے زندگی کا سامان مہیا کرتی ہیں، اور کچھ ایسی ہوتی ہیں جو آندھی طوفان بن کر انسان کے لیے نقصان کا باعث ہوتی ہیں۔ اسی طرح فرشتے جو اللہ تعالیٰ کا کلام لے کر انسانوں کے پاس آتے ہیں، وہ نیک لوگوں کے لیے خوشخبری اور برے لوگوں کے لیے ڈرانے کا سامان لے کر آتے ہیں۔ اس لیے پہلی تین آیتوں میں ہواؤں کی قسم کھائی گئی ہے، اور دوسری تین آیتوں میں فرشتوں کی۔
Ayah 77:6

عُذْرًا اَوْ نُذْرًاۙ Open ayah 77:6 in the Quran reader

جو یا تو لوگوں کے لیے معافی مانگنے کا سبب بنتی ہیں یا ڈرانے کا۔ (2)

2: یعنی نیک لوگوں کو اس کلام کے ذریعے گناہوں سے معافی کی دعوت دی جاتی ہے، اور برے لوگوں کو ڈرایا جاتا ہے۔
Ayahs 77:7–10

اِنَّمَا تُوْعَدُوْنَ لَوَاقِعٌؕ Open ayah 77:7 in the Quran reader

یقینا وہ واقعہ ضرور پیش آکر رہے گا جس کا تم سے وعدہ کیا جارہا ہے۔ (3)

فَاِذَا النُّجُوْمُ طُمِسَتْۙ Open ayah 77:8 in the Quran reader

چنانچہ (وہ واقعہ اس وقت ہوگا) جب ستارے بجھا دیے جائیں گے۔

وَ اِذَا السَّمَآءُ فُرِجَتْۙ Open ayah 77:9 in the Quran reader

اور جب آسمان کو چیر دیا جائے گا۔

وَ اِذَا الْجِبَالُ نُسِفَتْۙ Open ayah 77:10 in the Quran reader

اور جب پہاڑ ریزہ ریزہ کردئے جائیں گے۔

3: اس سے مراد قیامت کا دن ہے۔
Ayah 77:11

وَ اِذَا الرُّسُلُ اُقِّتَتْؕ Open ayah 77:11 in the Quran reader

اور جب پیغمبروں کے جمع ہونے کا وقت آجائے گا۔ (4)

4: اللہ تعالیٰ نے آخرت کا ایک وقت مقرر فرمایا ہے ہوا ہے جس میں تمام پیغمبر جمع ہو کر اپنی اپنی امت کے بارے میں گواہی دیں گے، یہاں وہی وقت مراد ہے۔
Ayahs 77:12–16

لِاَیِّ یَوْمٍ اُجِّلَتْؕ Open ayah 77:12 in the Quran reader

(کوئی پوچھے کہ) اس معاملے کو کس دن کے لیے ملتوی کیا گیا ہے ؟ (5)

لِیَوْمِ الْفَصْلِۚ Open ayah 77:13 in the Quran reader

(تو جواب یہ ہے کہ) فیصلے کے دن کے لیے۔

وَ مَاۤ اَدْرٰىكَ مَا یَوْمُ الْفَصْلِؕ Open ayah 77:14 in the Quran reader

اور تمہیں کیا معلوم کہ فیصلے کا دن کیا چیز ہے ؟

وَیْلٌ یَّوْمَئِذٍ لِّلْمُكَذِّبِیْنَ Open ayah 77:15 in the Quran reader

بڑی خرابی ہوگی اس دن ایسے لوگوں کی جو حق کو جھٹلاتے ہیں۔

اَلَمْ نُهْلِكِ الْاَوَّلِیْنَؕ Open ayah 77:16 in the Quran reader

کیا ہم نے پہلے لوگوں کو ہلاک نہیں کیا ؟

5: یہ کافروں کا وہی سوال ہے جو وہ اکثر کیا کرتے تھے کہ اگر عذاب وثواب ہونا ہے تو ابھی کیوں نہیں ہوجاتا، دیر کیا ہے ؟
Ayahs 77:17–20

ثُمَّ نُتْبِعُهُمُ الْاٰخِرِیْنَ Open ayah 77:17 in the Quran reader

پھر انہی کے پیچھے بعد والوں کو بھی چلتا کردیں گے۔ (6)

كَذٰلِكَ نَفْعَلُ بِالْمُجْرِمِیْنَ Open ayah 77:18 in the Quran reader

ایسا ہی سلوک ہم مجرموں کے ساتھ کیا کرتے ہیں۔

وَیْلٌ یَّوْمَئِذٍ لِّلْمُكَذِّبِیْنَ Open ayah 77:19 in the Quran reader

بڑی خرابی ہوگی اس دن ایسے لوگوں کی جو حق کو جھٹلاتے ہیں۔

اَلَمْ نَخْلُقْكُّمْ مِّنْ مَّآءٍ مَّهِیْنٍۙ Open ayah 77:20 in the Quran reader

کیا ہم نے تمہیں ایک حقیر پانی سے پیدا نہیں کیا ؟

6: یعنی جس طرح پچھلے زمانے کے کافر ہلاک ہوئے، عرب کے یہ کافر جو آنحضرت ﷺ کو جھٹلا رہے ہیں یہ بھی ہلاک ہوں گے۔
Ayahs 77:21–22

فَجَعَلْنٰهُ فِیْ قَرَارٍ مَّكِیْنٍۙ Open ayah 77:21 in the Quran reader

پھر ہم نے اسے ایک مضبوط قرار کی جگہ میں رکھا۔ (7)

اِلٰى قَدَرٍ مَّعْلُوْمٍۙ Open ayah 77:22 in the Quran reader

مقررہ وقت تک

7: اس سے مراد ماں کا پیٹ ہے۔
Ayahs 77:23–29

فَقَدَرْنَا١ۖۗ فَنِعْمَ الْقٰدِرُوْنَ Open ayah 77:23 in the Quran reader

پھر ہم نے توازن پیدا کیا، چنانچہ اچھا توازن پیدا کرنے والے ہم ہیں۔ (8)

وَیْلٌ یَّوْمَئِذٍ لِّلْمُكَذِّبِیْنَ Open ayah 77:24 in the Quran reader

بڑی خرابی ہوگی اس دن ایسے لوگوں کی جو حق کو جھٹلاتے ہیں۔

اَلَمْ نَجْعَلِ الْاَرْضَ كِفَاتًاۙ Open ayah 77:25 in the Quran reader

کیا ہم نے زمین کو ایسا نہیں بنایا کہ وہ سمیٹ کر رکھنے والی ہے۔

اَحْیَآءً وَّ اَمْوَاتًاۙ Open ayah 77:26 in the Quran reader

زندوں کو بھی اور مردوں کو بھی ؟

وَّ جَعَلْنَا فِیْهَا رَوَاسِیَ شٰمِخٰتٍ وَّ اَسْقَیْنٰكُمْ مَّآءً فُرَاتًاؕ Open ayah 77:27 in the Quran reader

اور ہم نے اس میں گڑھے ہوئے اونچے اونچے پہاڑ پیدا کیے، اور تمہیں میٹھے پانی سے سیراب کرنے کا انتظام کیا۔

وَیْلٌ یَّوْمَئِذٍ لِّلْمُكَذِّبِیْنَ Open ayah 77:28 in the Quran reader

بڑی خرابی ہوگی اس دن ایسے لوگوں کی جو حق کو جھٹلاتے ہیں۔

اِنْطَلِقُوْۤا اِلٰى مَا كُنْتُمْ بِهٖ تُكَذِّبُوْنَۚ Open ayah 77:29 in the Quran reader

(ان سے کہا جائے گا کہ) چلو اب اسی چیز کی طرف جسے تم جھٹلایا کرتے تھے۔

8: یعنی انسان کو ہم نے صرف پیدا ہی نہیں کیا، بلکہ اس کی بناوٹ میں ایسا بہترین توازن رکھا ہے جو ہمارے سوا کوئی قائم نہیں رکھ سکتا۔ انسان کے جسم کے مختلف حصوں پر جتنا غور کیا جائے، یہ حقیقت اتنی ہی زیادہ واضح ہوجاتی ہے۔
Ayahs 77:30–32

اِنْطَلِقُوْۤا اِلٰى ظِلٍّ ذِیْ ثَلٰثِ شُعَبٍۙ Open ayah 77:30 in the Quran reader

چلو اس سائبان کی طرف جو تین شاخوں والا ہے۔ (9)

لَّا ظَلِیْلٍ وَّ لَا یُغْنِیْ مِنَ اللَّهَبِؕ Open ayah 77:31 in the Quran reader

جس میں نہ تو (ٹھنڈک والا) سایہ ہے، اور نہ وہ آگ کی لپیٹ سے بچا سکتا ہے۔

اِنَّهَا تَرْمِیْ بِشَرَرٍ كَالْقَصْرِۚ Open ayah 77:32 in the Quran reader

وہ آگ تو محل جیسے بڑے بڑے شعلے پھینکے گی۔

9: اس سے مراد دوزخ کی آگ کا دھواں ہے جو سائبان کی طرح بلند ہوگا، اور تین شاخوں میں تقسیم ہوجائے گا۔