Ayah 77:1والمرسلات عرفا ... ذکرا .
مقاتل کے نزدیک ان پانچوں سے مراد ملائکہ ہیں۔ المرسلٰت وہ ملائکہ جن کو امر و نہی (احکام تشریعی) دے کر بھیجا جاتا ہے۔ مسروق نے حضرت ابن مسعود کا بھی یہی قول نقل کیا ہے۔ اس مطلب پر عرفًا مفعول لہ ہوگا (یعنی ارسال کی علت) یہ بھی احتمال ہے کہ عرفًا حال ہو ‘ اس وقت عرفًا کا معنی ہوگا پیہم۔ اس کا مآخذ عرف الفرس (گھوڑا پیہم دوڑا) ہوگا۔ مراد یہ ہے کہ ان ملائکہ کی قسم جن کو پیہم احکام دے کر بھیجا جاتا ہے۔
Ayah 77:2فالعٰصفٰت عصفًا۔ اور وہ عصر تک حکم کی تعمیل میں تیزی کے ساتھ چلتے ہیں۔ عصف الریاح۔ آندھی چلنا۔
Ayah 77:3والنّٰشرات نشرًا اور اللہ کے احکام کو زمین پر پھیلاتے ہیں۔ مراد یہ ہے کہ اللہ کی طرف سے کتابیں اتارتے اور پھیلاتے ہیں اور ان احکام کے ذریعہ سے ان مردہ نفوس کو جو جہالت کی وجہ سے مرچکے ہوتے ہیں ‘ زندہ کردیتے ہیں۔
Ayah 77:4فالفٰرقٰت فرقًا۔ اور حق و باطل میں تفریق کردیتے ہیں۔
Ayah 77:5فالملقیٰت ذکرًا اور انبیاء کے دلوں میں وحی کا القاء کرتے ہیں یا مؤمنوں کے دلوں میں ذکر خدا سے یقین پیدا کرتے ہیں۔
مجاہد و قتادہ نے کہا (پوری آیت میں) ہوائیں مراد ہیں۔ المرسلٰت عرفًا۔ یعنی ان ہواؤں کی قسم جو پیہم چلائی جاتی ہیں۔ بعض اقوال میں عرفًا کا معنی کثیر بھی آیا ہے (یعنی وہ ہوائیں جو بکثرت چلائی جاتی ہیں) العٰصفٰت عصفًا تیز چلنے والیاں۔ الناشرات نشرًا۔ بادلوں کو فضاء میں اٹھا کر لانے والیاں۔ الفارقٰت فرقًا۔ بادلوں کو دبا کر نچوڑنے والیاں یا بارش کے بعد ابر کو پراگندہ کردینے والیاں۔ فالملقیٰت ذکرًا۔ دلوں میں یاد خدا پیدا کرنے والیاں۔ ہوش مند جب ہوا کی رفتار دیکھتا ہے اور اس کی اٹھان کا مشاہدہ کرتا ہے تو اللہ کا ذکر کرتا اور اس کے کمال قدرت کا اعتراف کرتا ہے ‘ لوگوں کے ناامید ہوجانے کے بعد بارش کی نعمت کا شکر ادا کرتا ہے ‘ اسی طرح ہوائیں ذکر الٰہی کا سبب بن جاتی ہیں۔
یہ بھی احتمال ہے کہ آیات قرآن مراد ہوں۔ آیات قرآن ہر امر معروف کے ساتھ رسول اللہ ﷺ کے پاس بھیجی گئی۔ العاصفات گزشتہ کتابوں اور ملتوں کو ان آیات نے منسوخ کردیا ‘ گویا اڑا دیا۔ الناشرات۔ مشرق اور مغرب میں ہدایت کے آثار پھیلائے۔ الفارقات۔ حق و باطل میں امتیاز کردیا۔ الملقیات۔ اللہ کی یاد کل جہان میں پیدا کردی۔
یا نفوس انبیاء مراد ہیں جن کو مخلوق کی ہدایت و راہنمائی اور احکام پہنچانے کے لیے بھیجا گیا۔ العاصفات ‘ نفوس انبیاء نے امتثال مامورات اور اجتناب ممنوعات میں جلدی کی۔ الناشرات اور ہدایت کو پھیلایا۔ الفارقات اور حق کو باطل سے جدا کیا۔ فالملقیات اور اللہ کی یاد امت کے دلوں میں اور زبانوں پر پیدا کردی۔
Ayah 77:6عذرا او نذرا . یہ دونوں لفظ ذال کے سکون کے ساتھ مصدر ہیں۔ عُذْرٌ بمعنی معذرت اور نُذْرٌ بمعنی انذار ‘
ڈرانا اور ذال کے ضمّہ کے ساتھ جمع کے صیغے ہیں عذرٌ‘ عذیر کی جمع اور نذرٌ‘ نذیر کی جمع عذیر اور نذیر یا تو بمعنی مصدر ہیں ‘ اوّل بمعنی معذرت اور دوئم بمعنی انذار یا بمعنی فاعل ہیں۔ عذیر بمعنی عاذر ‘ عذر پیش کرنے والا اور نذیر بمعنی منذرٌ ڈرانے والا ‘ اگر مصدر کہا جائے تو (ارسال عطف ‘ انشر ‘ فرق اور القاء ذکر کی) علت اور غرض کا بیان ہوگا یعنی مذکورہ (پانچوں) فعل اس غرض کی وجہ سے ہوتے ہیں کہ اہل ایمان اپنے گناہوں کو مٹانے کا عذر پیش کریں اور اہل کفر کو خوف پیدا ہو ‘ اگر مذکورہ بالا آیات میں المرسلات وغیرہ سے ہوائیں مراد ہوں تو (ان کا مسلمانوں کے لیے درس معذرت ہونا تو ظاہر ہے البتہ) کافروں کے لیے سبب خوف بننے کی یہ صورت ہوگی کہ کافر ستاروں کی وجہ سے بارش ہونے کا عقیدہ رکھتے ہیں ‘ اس لیے بارش لانے والی ہوائیں اس بداعتقادی کی وجہ سے ان کے لیے پیام عذاب ہوتی ہیں۔ اگر ذکر سے وحی مراد ہو تو عُذْرًا اَوْ نُذْرًا کا نصب بدلیت کی وجہ سے ہوگا اور آیات قرآن مراد ہوں ‘ تو دونوں حال ہونے کی وجہ سے منصوب ہوں گے۔
Ayah 77:7انما تو عدون لواقع . یہ جواب قسم ہے یعنی جس قیامت یا پاداش عمل کا تم سے وعدہ کیا جا رہا ہے ‘ وہ ضرور آئے گا ‘
بلاشک آئے گا۔
Ayah 77:8فاذا النجوم طمست . جب ستارے سیاہ کردیئے جائیں گے ‘ ان کو بےنور کردیا جائے گا۔ یہ جملہ شرطیہ ہے
جواب محذوف ہے۔ تو اس روز اہل جنت اور اہل دوزخ کو جدا جدا کردیا جائے گا۔
Ayah 77:9واذا السماء فرجت . جب آسمان پھاڑ دیئے جائیں گے ‘ ان میں شگاف ہوجائیں گے۔
Ayah 77:10واذا الجبال نسفت . اور پہاڑوں کو ان کی جگہ سے اکھاڑ دیا جائے گا۔
Ayah 77:11واذا الرسل اقتت . ابو عمر کی روایت میں وُقِّتَتْ آیا ہے اُقِّتَتْ کی اصل بھی وُقِّتَتْ تھی۔ یعنی پیغمبروں کو اپنی
اپنی امتوں پر شہادت دینے اور یکجا ہونے کے لیے ظاہر کیا جائے گا (اور قبروں سے باہر لایا جائے گا۔ )
Ayah 77:12لای یوم اجلت . لِاَیِّ یَوْمٍ کا تعلق اُجِّلَتْ سے ہے۔ یہ استفہام (نامعلوم چیز کو معلوم کرنے کے لیے نہیں
ہے بلکہ) مجازاً تعجب اور روز قیامت کی ہولناکی ظاہر کرنے کے لیے ہے۔ یعنی مذکورہ حوادث میں تاخیر کیوں ہے اور ان کے واقع ہونے کا کونسا وقت مقرر کیا گیا ہے۔
Ayah 77:13لیوم الفصل . لِاَیِّ یُوْمٍ سے بدل ہے۔ یعنی حوادث مذکورہ کی تاخیر و تاجیل فیصلہ کے دن کے لیے ہے۔
Ayah 77:14وما ادراک ما یوم الفصل . فعل تعجب اظہار تعجب کے لیے ہے یہ تعجب بالائے تعجب یوم الفصل کی عظمت کو
ظاہر کرنے کیلئے ہے۔ مطلب یہ ہے کہ یوم الفصل عظیم الشان چیز ہے تم کو اس کی حقیقت معلوم نہیں ‘ نہ اس کی مثل کوئی دن تم نے دیکھا۔
Ayah 77:15ویل . ویل مصدر ہے۔ اصل میں اس کا معنی ہے تباہی اور خرابی پیدا ہوجانا۔ یہ جملہ فعلیہ تھا اور ویلاً مفعول مطلق
ہونے کی بناء پر منصوب تھا اور فعل محذوف تھا ‘ مفعول کی بجائے ویل کو بصورت مبتداء مرفوع لایا گیا تاکہ تباہی اور خرابی کے دو ام پر دلالت ہوجائے۔ (کیونکہ فعل سے عدول کر کے جملہ اسمیہ کو ذکر کرنا ثبات و دوام فعل پر دلالت کرتا ہے) یہ جملہ بددعائیہ ہے۔
حضرت ابو سعید ؓ خدری کی روایت ہے ‘ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : ویل جہنم میں ایک و ادی ہے ‘ کافر اس کے اندر چالیس برس تک تک تک پہنچے بغیر لڑھکتا چلا جائے گا۔ احمد ‘ ترمذی ‘ ابن جریر ‘ ابن ابی حاتم ‘ حاکم ‘ بیہقی ‘ ابن ابی الدنیا ‘ ہناد ‘ حاکم نے اس حدیث کو صحیح کہا ہے۔ حضرت ابن مسعود ؓ نے فرمایا : ویل جہنم کے اندر ایک وادی ہے جس میں دوزخیوں کا کچ لہو بہتا ہوگا۔ اللہ نے مکذبین کے لیے اس کو مقرر فرمایا ہے۔ (بیہقی و ابن منذر) حضرت نعمان بن بشیر کی روایت سے بھی ابن ابی حاتم نے ایسی ہی حدیث نقل کی ہے۔ عطاء بن یسار نے فرمایا : ویل جہنم کے کچ لہو سے بھری ہوئی ایک وادی ہے۔ اگر پہاڑ بھی اس میں چھوڑ دیئے جائیں تو اس کی گرمی سے پگھل جائیں۔
(بیہقی ‘ ابن جریر ‘ ابن مبارک)
حضرت عثمان بن عفان کی روایت ہے ‘ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ویل دوزخ میں ایک پہاڑ ہے ‘ ابن جریر ‘ بزار نے ضعیف سند سے بروایت حضرت سعد بن ابی وقاص بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : دوزخ میں ایک پتھر ہے جس کو ویل کہا جاتا ہے۔ اس پر اہل عرافت (علم غیب کا مدعی اور غیب کی خبریں دینے والا ایک خاص گروہ ‘ عرب میں اہل عرافت کہلاتا تھا گویا عرافت ایک قسم کی کہانت تھی) چڑھیں گے ‘ اتریں گے۔
یومئذ للمکذبین . مذکورۂ بالا حوادث کے دن ان لوگوں کے لیے ویل ہوگا جو روز فیصلہ کی تکذیب کرتے ہیں۔
Ayah 77:16الم نھلک الاولین . کیا ہم نے عذاب سے گزشتہ زمانہ میں قیامت کی تکذیب کرنے والوں کو ہلاک نہیں کردیا
جیسے قوم نوح ‘ عاد ‘ ثمود وغیرہ۔ یہ استفہام تقریری ہے (یعنی ضرور ہلاک کردیا) ۔
Ayah 77:17ثم نتبعھم الاخرین . الاٰخرین سے مراد ہیں مکہ کے کافر ‘ جو تکذیب انبیاء کے راستہ پر کفار سلف کی طرح چلتے
تھے۔ یعنی پھر ان کفار سلف کے پیچھے ان دوسرے کافروں کو چلائیں گے (ان کو بھی ان کی طرح عذاب سے ہلاک کریں گے) ۔
Ayah 77:18کذلک نفعل بالمجرمین . یعنی مجرموں کا ہم اسی طرح ستیاناس کردیتے ہیں۔
Ayah 77:19ویل یومئذ للمکذبین . اللہ کی وعید کی تکذیب کرنے والوں کے لیے اس روز ویل ہے۔
Ayah 77:20الم نخلقکم من ماء مھین . استفہام تقریری ہے۔ مھین سے مراد ہے ‘ حقیر ‘ گندہ یعنی نطفہ۔
Ayah 77:21فجعلنہ فی قرار مکین . قابل استقرار گڑھا یعنی رحم۔ اس جملہ کا عطف الم نخلقکم کے مضمون پر
ہے اور فجعلنٰہ میںتفسیری ہے۔ تعقیبی نہیں ہے (یعنی جملہ سابقہ کی تفصیل اور تشریح اس جملہ میں ہے ‘ ایسا نہیں ہے کہ فعل تخلیق کے بعد رحم میں استقرار نطفہ ہوتا ہے) اور اگر فؔ کو تعقیب کے لیے کہا جائے تو دونوں جملوں کی ترتیب معکوس ہوگی (یعنی استقرار نطفہ پہلے ‘ پھر تخلیق) ۔
Ayah 77:22الی قدر معلوم . یعنی ہم نے اس کو رحم میں رکھا ‘ اتنے وقت تک جس کی مقدار عرفاً (عام لوگوں کو) معلوم ہے۔ کم
سے کم چھ ماہ اور زیادہ سے زیادہ دو سال ‘ یا معلوم سے مراد ہے ‘ اللہ کو معلوم ہونا۔ یعنی اس وقت تک اسکو رحم میں رکھا جسکی مقدار اللہ کو معلوم ہے۔
Ayah 77:23فقدرنا . نافع اور کسائی کی روایت میں فَقَدَّرْنَا ہے۔ یعنی ہم نے ماں کے پیٹ میں رہنے کا ‘ وقت
پیدائش کا ‘ پیدا ہونے کے بعد اعمال زندگی ‘ مدت زندگی اور رزق کا اور (آخرت میں) نیک بخت اور بدنصیب ہونے کا ایک اندازہ مقرر کردیا۔ حضرت ابن مسعود ؓ کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : تم میں (ہر) ایک کا تخلیقی قوام ماں کے پیٹ کے اندر چالیس روز تک (بصورتِ ) نطفہ رہتا ہے ‘ پھر اتنی ہی مدت میں بستہ خون ہوتا ہے ‘ پھر اتنی ہی مدت میں گوشت کا لوتھڑا ہوتا ہے ‘ پھر اللہ اس کے پاس فرشتہ کو چار باتوں کے لیے بھیجتا ہے ‘ فرشتہ اس کا (آئندہ) عمل اور مدت زندگی اور رزق اور شقی یا سعید ہونا لکھتا ہے ‘ پھر اس میں جان پھونکتا ہے۔ پس قسم ہے خدا کی جس کے سوا دوسرا کوئی معبود نہیں کہ تم میں سے بعض لوگ جنت والوں کے کام کرتے ہیں ‘ یہاں تک کہ ان کے اور جنت کے درمیان ایک بانہہ کا فاصلہ رہ جاتا ہے مگر لکھا ہوا غالب آتا ہے اور وہ دوزخیوں کا عمل کرتے ہیں اور دوزخ میں چلے جاتے ہیں۔ بخاری و مسلم۔ نافع اور کسائی کے علاوہ دوسروں نے فَقَدَرَنَا پڑھا ہے۔ یعنی ہم اس کو ہست کرنے ‘ نیست کرنے اور دوبارہ پیدا کرنے پر قادر ہیں۔
فنعم القادرون . یعنی ہر چیز پر ہم اچھے قادر ہیں ‘ ممکن ہے کہ قادر بمعنی مقدر ہو (یعنی ہم اچھا اندازہ کرنے والے ہیں)
Ayah 77:24ویل یومئذ للمکذبین . ہماری قدرت کی تکذیب کرنے والوں کے لیے ‘ یعنی کافروں کے لیے ویل ہے یا ہماری
تقدیر کا انکار کرنے والوں کے لیے ویل ہے تقدیر کا منکر (اسلام میں) فرقۂ قدریہ ہے جو امت اسلامی کا مجوسی ہے۔
Ayah 77:25الم نجعل الارض کفاتا . کِفَاتٌ یا صیغۂ صفت ہے یعنی سمیٹے والا ‘ جمع کرنے والا یا مصدر ہے اور زمین کو
کفات بطور مبالغہ کہا جاتا ہے۔ یا کافِتٌ کی جمع ہے جیسے صیام ‘ صَاءِمٌ کی جمع ہے یا کَفْتٌ کی جمع ہے اور کَفْتٌ کا معنی ہے پورا کرنا۔ اگر کفات کو جمع کیا جائے تو زمین کو کفات قرار دینا۔ زمین کے ٹکڑوں کے لحاظ سے ہوگا یعنی زمین کے قطعات کفات ہیں۔
Ayah 77:26احیاء وامواتا . مفعول محذوف ہے یعنی زندہ اور بےجان انسانوں کو۔ یہ اس صورت میں ہوگا کہ کفات کو صفت کا
صیغہ قرار دیا جائے ورنہ فعل محذوف ہوگا یعنی زمین جمع رکھتی اور سمیٹتی ہے۔ کچھ لوگوں کو اپنی سطح پر جو اپنے گھروں میں اور مکانوں میں ہوتے ہیں اور کچھ مردوں کو اپنے اندر۔ فراء نے کہا : مفعول (الناس) چونکہ معلوم تھا اس لیے حذف کردیا گیا۔ یہ بھی احتمال ہے کہ احیاءً اور امواتًا مفعول ہو۔ ان دونوں کی تنوین ان کی عظمت شان پر دلالت کر رہی ہے (اور اگر تنوین تبعیض ہو تو نکرہ لانے کی یہ وجہ ہوگی کہ) زندہ ‘ مردہ انسان ‘ دوسرے زندہ مردہ حیوانوں میں سے بعض ہیں۔ یہ بھی احتمال ہے کہ احیاءً و امواتًا ‘ نَجْعَلُ کا مفعول دوئم ہو اور کفاتًا ان کی حالت کا بیان ہو۔ ذوالحال کے نکرہ ہونے کی وجہ سے حال کو مقدم کردیا گیا۔ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ الارض یا کفاتًا سے احیاءً و امواتًا حال ہو۔ اس وقت احیاءً سے مراد ہوگی ‘ زمین سے پیدا ہونے والی چیز اور امواتًا سے مراد ہوگی وہ چیز جس کی نمو و نشو زمین سے نہیں ہوتی۔
Ayah 77:27و جعلنا فیھا رواسی شمخت . زمین میں ہم نے اونچے پہاڑ بنائے جو زمین سے ابھرے ہوئے ہیں۔
واسقینکم ماء فراتا . صاف شیریں پانی۔
Ayah 77:28ویل یومئذ للمکذبین . ان نعمتوں کی تکذیب کرنے والوں کے لیے اس روز ویل ہے۔ مقاتل نے کہا
امور مذکورہ حشر و قیامت سے زیادہ عجیب ہیں۔
Ayah 77:29انطلقوا الی ما کنتم بہ تکذبون . یہ جملہ مستانفہ ہے ایک (فرضی) سوال کا جواب ہے (سوال یہ ہو
سکتا تھا کہ) اس روز ان کے ساتھ کیا کیا جائے گا۔ اس جواب دیا ‘ ان سے کہا جائے گا کہ دنیا میں آتش جہنم کے تم قائل نہ تھے ‘ اب اس کی طرف چلو۔
Ayah 77:30انطلقوا الی ظل ذی ثلث شعب . یہ اوّل کلام کی تاکید یا اس سے بدل ہے۔ اہل تفسیر نے کہا کہ ظل
سے مراد ہے جہنم کا دھواں۔ بیضاوی وغیرہ نے کہا : بڑا دھواں جو اونچا اٹھتا اور پیچ دار ہوتا ہے۔ دخان جہنم کی تین شاخیں قرار دینے کی وجوہ بیضاوی وغیرہ نے لکھی ہیں جو ہم کو پسند نہیں ‘ ہمارے نزدیک تین شاخیں بنانے کی پسندیدہ وجہ یہ ہے کہ جہنم میں صرف تین قسم کے آدمی داخل ہوں گے : 1) وہ کافر جنہوں نے صریحی الفاظ کے ساتھ پیغمبروں کی تکذیب کی جیسے کفار نے کہا تھا : افترٰی علی اللہ کذبًا . 2) وہ بدعتی جن کے اقوال ظاہر نصوص قطعیہ کے خلاف ہیں اور وہ اجماع کے خلاف نصوص کی غلط تاویلیں کرتے ہیں ‘ ان کے کلام سے آیات کا انکار اور پیغمبروں کی تکذیب اقتضاءً ثابت ہوتی ہیں جیسے مجسمہ ‘ قدریہ ‘ رافضی ‘ خارجی اور مرجیہ کے فرقے۔ مثلاً مجسمہ آیت وجوہ یومئذ ناضرۃ کی تکذیب کرتے ہیں اور ان تمام آیات کو نہیں مانتے جن میں اعمال کے تولنے کا یا پُل صراط وغیرہ کا تذکرہ ہے اور رافضی و خارجی ان متواتر المعنی احادیث کے منکر ہیں جو حضرت ابوبکر ‘ حضرت عمر ‘ حضرت عثمان اور حضرت علی ؓ کی مدح میں آئی ہیں ‘ 3) نفسانی خواہشات کی پیروی کرنے والے (مسلمان) جو صغیرہ و کبیرہ گناہ کرتے اور فرائض کو ترک کرتے ہیں۔ یہی تینوں امور دخان جہنم کی تثلیث کے اسباب بننے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
بغوی نے کہا : بعض علماء کا قول ہے کہ دوزخ سے ایک گردن برآمد ہوگی جو تین شاخوں پر تقسیم ہوجائے گی۔ 1 : نور ہوگا جو مؤمنوں کے سروں پر آکر ٹھہر جائے گا۔ 2 : دخان ہوگا جو منافقوں کے سروں پر آکر ٹھہر جائے گا۔ 3 : بھڑکتے شعلے ہوں گے جو کافروں کے سروں پر آکر ٹھہر جائیں گے۔ میں کہتا ہوں یہ قول ضرور مرفوع ہوگا کیونکہ صرف رائے کو اس کا درک نہیں ہوسکتا۔ اس قول کی تشریح یہ ہے کہ آتش جہنم کی سہ گانہ اقسام میں پہلی قسم نور ہوگی۔ اس کو نور کہنے کی وجہ یہ ہے کہ یہ دوسری دونوں قسموں سے کم تاریک ہوگا ورنہ دوزخ کی آگ میں نور ہونے کا معنی ہی کیا ہوسکتا ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : ہزار برس تک دوزخ کی آگ بھڑکائی جائے گی یہاں تک کہ وہ سرخ ہوگئی۔ پھر ہزار برس تک بھڑکائی گئی یہاں تک کہ وہ سیاہ ہوگئی ‘ اب وہ سیاہ تاریک ہے۔ یہ حدیث حضرت ابوہریرہ ؓ کی روایت سے ترمذی اور بیہقی نے بیان کی ہے۔ دخان جہنم کی یہی ہلکی ظلمت والی قسم گناہگار مسلمانوں کے سروں کے اوپر آکر ٹھہر جائے گی ‘ دوسری قسم دخان ہے اس میں آتشی اجزاء کی کثرت اور تاریکی کی شدت ہوگی۔ یہ منافقوں کے سروں پر آکر ٹھہر جائے گی۔ اس جگہ منافقوں سے مراد ہیں وہ بدعتی جو ایمان کا تو دعویٰ رکھتے ہیں مگر کفر اور تکذیب انبیاء ان کے قول کے لیے لازم ہے۔ وہ منافق مراد نہیں ہیں جو زبانوں سے ایمان کے قائل ہیں اور دلوں میں ان کے ایمان نہیں ہے۔ بظاہر مؤمن ‘ بباطن کافر ‘ یہ تو علانیہ کفر کرنے والوں سے بھی زیادہ سخت ہیں اور ان کی جگہ تو دوزخ کے سب سے نچلے طبقہ میں ہے۔ تیسری قسم بھڑکتے شعلوں کی ہوگی۔ اس قسم میں سوزش اور التہاب (خالص) ہوگا۔ یہ کافروں کے سروں پر آکر ٹھہر جائیں گے۔ بدعتیوں کو منافق کہنے کی وجہ سورة بقرہ کی تفسیر میں بیان کی جا چکی ہے اور اللہ نے جو منافقوں کی مثال دی ہے ‘ اس کی بدعتیوں پر مطابقت کا ذکر بھی ہوچکا ہے۔
یہ بھی کہا جاسکتا ہے کہ آیت میں ظل سے مراد خود جہنم کی آگ ہے۔ آگ کے تاریک اور سیاہ ہونے کی وجہ سے مجازاً اس کو ظل کہہ دیا کیونکہ سایہ میں کچھ تاریکی ہوتی ہی ہے ‘ پس تین شاخوں والی آگ کی طرف چلنے کا مطلب یہ ہوا کہ اس آتش جہنم کی طرف چلو جس میں پہنچانے والے تین راستے ہیں : 1) انبیاء کی صراحتاً تکذیب ‘ 2) انبیاء کی لزومی تکذیب (اوّل کفر التزامی اور دوسرا کفر لزومی ہے) 3) گناہوں کا ارتکاب۔ آیت میں کافروں کے لیے امر استہزائی ہے جیسے آیات : ذق انک انت العزیز الکریم میں اور بشرہ بعذاب الیم میں خطاب استہزائی ہے۔
Ayah 77:31لا ظلیل . یہ ظل کی صفت ہے یعنی وہ سایہ عرش اور جنت کے سایوں کی طرح (فرحت بخش) نہیں۔
ولا یغنی من اللھب . وہ جہنم کے شعلوں کو دفع نہیں کرے گا ‘ یا تو یہ جملہ محذوف موصوف کی صفت ہے یعنی : ولا
ظل یغنی من اللّھب یا ظلیل پر اس کا عطف ہے جیسے فالق الاصباح پر و جعل الیل کا عطف۔ اس وقت یہ ظل مذکور کی تیسری صفت ہوگی۔ بہرحال ظل کے لفظ سے وہم پیدا ہوتا تھا کہ شاید وہ گرمی سے کچھ محفوظ رکھ لے اور دوزخ کی لپٹ سے بچا لے۔ اس وہم کا ازالہ اس آیت سے ہوگیا۔
Ayah 77:32انھا . یہ ضمیر ظل کی طرف راجع ہے بشرطیکہ ظل سے مراد نار جہنم ہو۔ ورنہ اس کا مرجع مذکور نہیں مگر رفتار کلام سے معلوم ہو رہا ہے یعنی جہنم۔
ترمی بشرر . چنگاریاں پھینکے گی۔ دوزخ کی لپٹ کو دور نہ کرنے کی وجہ کا بیان ہے۔ شرر ‘ شررۃ کی جمع ہے۔ چنگاریاں۔
کالقصر . ہر چنگاری قصر کی طرح بڑی ہوگی۔ قصر ‘ پتھر کا مکان یا ایک گاؤں یا قلعہ۔ (قاموس) اس صورت میں
قصر مفرد ہوگا۔ بعض نے اس کو قَصْرَۃٌ کی جمع کہا ہے اور قَصْرَۃٌ کا معنی ہے کھجور کے درخت کی جڑ یا موٹا درخت۔
Ayah 77:33کانہ جملت . جمالات جمال کی جمع ہے اور جمال جمل کی۔
صفر . صُفْر ‘ اَصْفر کی جمع ہے ‘ چنگاریوں میں آگ ہوگی ‘ اس لیے زرد ہوں گی۔ بعض علماء نے صفر کا
ترجمہ سُوْدٌ یعنی سیاہ کیا ہے۔ جیسا کہ حدیث میں آیا ہے کہ جہنم کی آگ کی چنگاریاں تارکول کی طرح سیاہ ہوں گی۔ اونٹ کے رنگ کی سیاہی زردی مائل ہوتی ہے اس لیے عرب اونٹ کے رنگ کو صفر کہتے ہیں۔ قصر کے ساتھ تشبیہ مقدار کی بڑائی میں تھی اور جمالات صفر کے ساتھ تشبیہ رنگ ‘ کثرت تسلسل ‘ باہم اختلاط اور سرعت حرکت میں ہے۔
Ayah 77:34ویل یومئذ للمکذبین . دوزخ اور عذاب کی تکذیب کرنے والوں کیلئے اس روز ویل ہوگی۔
Ayah 77:35ھذا یوم لا ینطقون . یعنی کافر کوئی ایسا کلام نہ کرسکیں گے جو ان کے لیے مفید ہو یا دہشت اور حیرت کی وجہ
سے بالکل نہ بول سکیں گے ‘ لیکن نہ بول سکنابعض مقامات میں ہوگا ‘ بعض مقامات میں کافر بولیں گے۔
Ayah 77:36ولا یوذن لھم فیعتذرون . لا ینطقون پر عطف ہے یعنی عذر پیش کرنے کی ان کو اجازت نہیں دی جائے
گی کہ وہ معذرت کرسکیں۔ فیعتذرون کا عطف لا یؤذن پر ہے ‘ یعنی نہ ان کو اجازت ملے گی ‘ نہ وہ معذرت ہی کریں گے۔ فیعتذرون ‘ لا یؤذن لھم کی نفی کا جواب نہیں ہے یعنی عدم معذرت کی وجہ عدم اذن نہیں ‘ ورنہ یہ وہم پیدا ہوسکتا ہے کہ چونکہ ان کو معذرت پیش کرنے کی اجازت نہیں ہوگی ‘ اسلئے معذرت پیش نہ کرسکیں گے۔ حقیقت میں انکے پاس عذر نہ ہوگا کہ اگر اسکی اجازت مل جائے تو پیش کرسکیں۔
Ayah 77:37ویل یومئذ للمکذبین . جو لوگ اللہ کے انعامات اور احسانات کے منکر ہیں اور اپنے منعم و محسن سے روگرداں ہیں ‘
ان کے لیے اس روز ویل ہوگی۔
Ayah 77:38ھذا یوم الفصل . یعنی اہل جنت اور اہل جہنم کے الگ الگ کردینے کا یہ دن ہے۔
جمعنکم والاولین . یہ ھٰذا کی دوسری خبر ہے یا یوم الفصل کی کہ اجتماعی ہے اور ضمیر محذوف ہے یعنی اس دن میں
ہم نے تم کو جمع کیا ‘ الخ یا یوم الفصل ہونے کی علت ہے یعنی یہ فیصلہ کا دن اس وجہ سے ہے کہ ہم نے تم سب کو جمع کیا ہے یا فصل کی تاکید اور بیان ہے۔
Ayah 77:39فان کان لکم کید فکیدون . اگر عذاب کو دفع کرنے کی تمہاری پاس کوئی تدبیر ہو تو اب کرو ‘ جیسے دنیا میں اہل
ایمان کے مقابلہ میں کرتے تھے اور کہتے تھے کہ کیا تم میں سے دس دس آدمی بھی ایک ایک کارندۂ جہنم کو پکڑ لینے سے عاجز ہیں۔ کیدون میں یاء محذوف ہے ‘ امر صرف زجر اور تعجیز کے لیے ہے (یعنی مخاطب کا عجز ظاہر کرنا مقصود ہے) ۔
Ayah 77:40ویل یومئذ للمکذبین . عذاب کی تکذیب کرنے والوں کے لیے اس روز ویل ہوگی ‘ کیونکہ عذاب سے
اپنے آپ کو بچانے کی کوئی تدبیر ان کو نصیب نہیں ہوگی۔